Explained with ayahs 26–28
ماں باپ سے حسن سلوک کی تاکید
ماں باپ سے پھر جو زیادہ قریب ہو اور جو زیادہ قریب ہو، اور حدیث میں ہے جو اپنے رزق کی اور اپنی عمر کی ترقی چاہتا ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہئے۔ بزاز میں ہے اس آیت کے اترتے ہی رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ کو بلا کر فدک عطا فرمایا۔ اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ اور واقعہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لئے کہ یہ آیت مکیہ ہے اور اس وقت تک باغ فدک حضور ﷺ کے قبضے میں نہ تھا۔ r007ھ میں خیبر فتح ہوا تب باغ آپ کے قبضے میں آیا پس یہ قصہ اس پر پورا نہیں اترتا۔ مساکین اور مسافرین کی پوری تفسیر سورة برات میں گزر چکی ہے یہاں دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ خرچ کا حکم کر کے پھر اسراف سے منع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 27
اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے بعد انسانوں میں سب سے مقدم حق والدین کا ہے۔ اولاد کو والدین کا مطیع، خدمت گزار اور ادب شناس ہونا چاہیے۔ معاشرے کا اجتماعی اخلاق ایسا ہونا چاہیے جو اولاد کو والدین سے بےنیاز بنانے والا نہ ہو بلکہ ان کا احسان مند اور ان کے احترام کا پابند بنائے، اور بڑھاپے میں اسی طرح ان کی خدمت کرنا سکھائے جس طرح بچپن میں وہ اس کی پرورش اور ناز برداری کرچکے ہیں۔ یہ آیت بھی صرف ایک اخلاقی سفارش نہیں ہے بلکہ اسی کی بنیاد پر بعد میں والدین کے وہ شرعی حقوق و اختیارات مقرر کیے گئے جن کی تفصیلات ہم کو حدیث اور فقہ میں ملتی ہیں۔ نیز اسلامی معاشرے کی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(ان دونوں آیتوں میں حقوق العباد کے متعلق دو مزید حکم مذکور ہیں اول والدین کے علاوہ دوسرے رشتہ داروں اور عام مسلمانوں کے حقوق دوسرے خرچ کرنے میں فضول خرچی کی ممانعت مختصر تفسیر یہ ہے) اور قرابت دار کو اس کا حق (مالی و غیر مالی) دیتے رہنا اور محتاج و مسافر کو بھی (ان کے حقوق) دیتے رہنا اور (مال کو) بےموقع مت اڑانا بیشک بےموقع مال اڑانے والے شیطان کے بھائی بند ہیں (یعنی اس کے مشابہ ہوتے ہیں) اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے (کہ حق تعالیٰ نے اس کو دولت عقل کی دی اس نے اس دولت عقل کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں خرچ کیا اس طرح فضول خرچی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے دولت مال کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
تفسیر آیات 26 تا 27: وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا۔ اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا۔
قرابت دار، مسکین اور مسافر کا حق : عدل اور احسان کے حکم کے بعد قرآنی اوامر کی تیسری اساسی چیز ایتائے ذی القربی یعنی عزیزوں اور قرابت داروں کی خدمت ہے۔ اب یہ اس کا بیان ہورہا ہے۔ فرمایا کہ قرابت دار، مسکین اور مسافر کو اس کا حق دو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر صاحب مال کے مال میں اس کے قرابت داروں، مسکینوں اور مسافروں کا بھی حق ہے۔ یہاں لفظ " حق " کا استعمال اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →26۔ 1 قرآن کریم کے ان الفاظ سے معلوم ہوا کہ غریب رشتہ داروں، مساکین اور ضرورت مند مسافروں کی امداد کر کے، ان پر احسان نہیں جتلانا چاہیے کیونکہ یہ ان پر احسان نہیں ہے، بلکہ مال کا وہ حق ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اصحاب مال کے مالوں میں مذکورہ ضرورت مندوں کا رکھا ہے، اگر صاحب مال یہ حق ادا نہیں کرے گا تو عند اللہ مجرم ہوگا۔ گویا یہ حق کی ادائیگی ہے، نہ کہ کسی پر احسان علاوہ ازیں رشتے داروں کے پہلے ذکر سے ان کی اولیت اور اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔ رشتے داروں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے ساتھ حسن سلوک کو، صلہ رحمی کہا جاتا ہے، جس کی اسلام میں بڑی تاکید ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
14: قرآن کریم نے یہاں ”تبذیر“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ عام طور سے تبذیر اور اسراف دونوں کا ترجمہ فضول خرچی سے کیا جاتا ہے۔ لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ اگر جائز کام میں خرچ کیا جائے۔ لیکن ضرورت یا اعتدال سے زیادہ خرچ کیا جائے تو وہ اسراف ہے اور اگر مال کو ناجائز اور گناہ کے کام میں خرچ کیا جائے تو وہ تبذیر ہے اسی لیے یہاں ترجمہ ”بیہودہ کاموں میں مال اڑانے“ سے کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
اسلام نے اقرباء ، مساکین اور مسافروں کے لئے لوگوں کے ذمہ ایک حق مقرر کیا ہے اور یہ حق ان مدات میں انفاق کے ذریعہ پورا کیا جاسکتا ہے۔ نیز ان مدات پر خرچ محض خیرات اور مہربانی ہی نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے جو ہر مسلمان کی گردن پر لازم ہے۔ اور اس حق کو فریضہ قرار دینے کے بعد اسے اسلامی عقیدہ توحید اور اسلامی عبادت اور بندگی کے ساتھ منسلک کرکے اسے عبادت قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایسا حق اور فریضہ ہے جس سے مکلف صرف ادائیگی کے بعد ہی بری المذمہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس مد میں خرچ کرنے والا تو اپنا فریضہ ادا کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن دوسری جانب سے اس کے اور مستفید کے درمیان محبت بھی پیدا ہوگی۔
اس کے بعد قرآن…
Read the full tafseer →9 یعنی قرابت والوں کے مالی و اخلاقی ہر قسم کے حقوق ادا کرو۔ محتاج و مسافر کی خبر گیری رکھو اور خدا کا دیا ہوا مال فضول بےموقع مت اڑاؤ۔ فضول خرچی یہ ہے کہ معاصی اور لغویات میں خرچ کیا جائے یا مباحات میں بےسوچے سمجھے اتنا خرچ کر دے جو آگے چل کر تفویت حقوق اور ارتکاب حرام کا سبب بنے۔
Read the full tafseer →آیت 26 وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا
تبذیر کے معنی بلاضرورت مال اڑانے کے ہیں اور یہ اسراف سے بڑا جرم ہے۔ اسراف تو یہ ہے کہ کسی ضرورت میں ضرورت سے زائد خرچ کیا جائے۔ مثلاً کھانا کھانا ایک ضرورت ہے اور یہ ضرورت دو روٹیوں اور تھوڑے سے سالن سے بخوبی پوری ہوجاتی ہے مگر اسی ضرورت کے لیے اگر کئی کئی کھانوں پر مشتمل دستر خوان سجا دیے جائیں تو یہ اسراف ہے۔ اسی طرح کپڑا انسان کی ضرورت ہے جس کے لیے ایک دو جوڑے کافی ہیں۔ اب اگر الماریوں کی الماریاں طرح طرح کے جوڑوں سوٹوں اور پوشاکوں سے بھری پڑی رہیں تو یہ اسراف کے زمرے میں آئے گا۔ اسراف کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
29 رشتہ داروں کے حقوق کی تفصیل کے لیے سورة نساء کی پہلی آیت کا حاشیہ نمبر 3 ملاحظہ فرمائیے۔
30 فقراء اور مساکین کا ہر صاحب مال کے مال میں حق ہوتا ہے اور اس کی اہمیت اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں زکوٰۃ کی تقسیم کے لئے آٹھ مدات بیان فرمائیں تو دوسرے نمبر پر فقراء و مساکین کا ذکر فرمایا۔ ہر صاحب مال پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے خاندان کے فقراء و مساکین پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی خرچ کرے۔
31 مسافروں کے حقوق کے لیے دیکھئے سورة نساء کی آیت نمبر 36 (حاشیہ نمبر 67)
32 اسراف اور تبذیر میں فرق :۔ اسراف اور تبذیر میں فرق یہ ہے کہ اسراف ضرورت کے کاموں میں ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے کو کہتے ہیں…
Read the full tafseer →39۔ اسلام نفس جمع مال وکسب مال کا مانع نہیں، البتہ پہلے تو وہ کسب مال کے لئے شرائط جائز و حلال کی قید لگاتا ہے اور پھر صرف مال کے قاعدے مقرر کرتا ہے کہ مال و دولت پر تو عزیزوں کے، مسکینوں کے، نادار مسافروں، پردیسیوں کے حق میں قائم ہیں یہ انہیں کے کام میں آنے کی چیزیں ہیں۔ (آیت) ” حقہ “۔ حق کا لفظ مالی وغیرمالی ہر قسم کے حقوق پر شامل ہے لیکن یہاں ذکر حقوق مالی ہی کا ہورہا ہے، حق کے لفظ نے یہ بھی بتادیا کہ عزیزوں، مسکینوں وغیرہ کی اعانت واجب ہے، ان کا حق ہے کہ وہ مالداروں سے اعانت طلب کریں اور مالداروں پر لازمی ہے کہ ان پر احسان رکھ کر نہیں اپنا فرض سمجھ کر ان کی اعانت کریں، یہ معنی ہیں صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت نمبر 23 تا 30
ترجمہ : اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی بندگی نہ کرنا، اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا اس طریقہ پر کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں (اَحْدُھما، یَبْلُغَنَّ ) کا فاعل ہے اور ایک قراءت میں یَبْلُغان ہے، (اس صورت میں) احدھما، یَبْلُغان کے الف سے بدل ہوگا، تو تم ان سے، اُف، تک نہ کہنا، (اُفٍّ ) فاء کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ یا تنوین اور بغیر تنوین مصدر ہے، معنی میں تَبًّا اور قُبْحًا کے ہے، (یعنی تیرا ناس ہو اور برا ہو) اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے احترام کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، اور نرمی اور…
Read the full tafseer →وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ : اور اپنے قرابت داروں کو ان کا حق دو ۔ کنبہ پروری حسن معاشرت ‘ اچھا سلوک اور بھلائی ان کے ساتھ کرو۔ اکثر اہل تفسیر نے یہی مطلب بیان کیا ہے 1 ۔
امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا مال دار پر لازم ہے اس قرابت دار محرم کا خرچ جو نادار بچہ ہو یا نادار بالغ عورت ہو ‘ یا اپاہج یا نابینا نادار مرد ہو اس سے حفظ جان وابستہ ہے اور حفظ حیات ہی اصل بِر اور صلۂ رحمی ہے سورة بقرہ کی آیت وعلی الوارث مثل ذلک کی تفسیر میں ہم نے اس مسئلہ کی تنقیح کردی ہے۔
بغوی نے حضرت علی ؓ بن حسین ؓ (امام زین العابدین) کا قول نقل کیا ہے کہ قربیٰ سے مراد رسول اللہ ﷺ : کی قرابت ہے (یعنی رسول اللہ ﷺ کے…
Read the full tafseer →(26) یہ آیت مبارکہ حضرت سعدبن ابی وقاص ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور قرابت دار کو اس کا حق دیتے رہنا اللہ تعالیٰ نے قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم فرمایا ہے اور اسی طرح محتاج کے ساتھ بھی حسن سلوک کرتے رہنا اور نیز مسافر کا بھی احترام کرتے رہنا اور مسافر کا حق تین دن تک ہے اور اپنے مال کو حقوق اللہ کے علاوہ اور دوسری جگہ پر مت خرچ کرنا اگرچہ ایک کوڑی ہی کیوں نہ ہو یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں قطعا مت خرچ کرنا۔
شان نزول : (آیت) ”۔ وات ذا القربی“۔ (الخ)
طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی قرابت دار کو اس کا حق…
Read the full tafseer →وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ۔۔ : قرابت والے سے مراد قریبی رشتے دار ہیں، ماں کی طرف سے ہوں یا باپ کی طرف سے، محرم ہوں یا غیر محرم۔ ان کو پہلے اس لیے رکھا کہ ان کو دینے میں دو اجر ہیں، ایک صلہ رحمی کا اور دوسرا صدقے کا۔ ان کا حق یہ ہے کہ ہر صورت ان سے میل جول اور تعلق قائم رکھا جائے، انھیں دین کی دعوت جاری رکھی جائے، ان کی خوشی اور غم میں شرکت کی جائے۔ جب بھی انھیں مدد کی ضرورت ہو مال و جان سے ان کی مدد کی جائے۔ مسکین اور ابن السبیل (مسافر) کی تفسیر سورة توبہ (60) میں دیکھیں۔
وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا : ”تَبْذِيْرًا“ ”بَذْرٌ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی بیج ہے، یعنی بیج کی طرح بکھیرنا۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
آیت نمبر 26 تا 27
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : واٰت ذا القربیٰ حقہ یعنی رشتہ دار کو اس کا حق اسی طرح دیا کرو جیسے تم والدین کے حق کی رعایت کرتے ہو اور صلہ رحمی کرو، پھر مسکین اور مسافر پر بھی صدقہ کرو، اور قول باری تعالیٰ : واٰت ذالقربیٰ حقہ کے بارے میں علی بن حسین نے کہا ہے : اس سے مراد حضور نبی مکرم ﷺ کے رشتہ دار ہیں، آپ ﷺ نے انہیں ان کے حقوق بیت المال سے دینے کا حکم فرمایا ہے، یعنی غزوہ اور مال غنیمت میں سے ذوالقربیٰ کے حصہ سے (ان کا حق ادا کرو) اور یہ خطاب والیوں یا ان کے قائم مقام حاکموں کو ہوسکتا ہے۔ اور اس آیت میں صلہ رحمی، حاجت کو پورا کرنے، ضرورت کے وقت مال کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
1:۔ بخاری نے تاریخ میں ابن منذر نے اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے (آیت) ” وات ذا القربی “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا اور اس بار کی تعلیم دی ہے کہ کس طرح کرے جب انسان کے پاس مال ہو اور کس طرح کرنا چاہئے جب مال نہ ہو اور فرمایا۔ (آیت) ” واما تعرضن عنہم البتغاء رحمۃ من ربک ترجوھا “ یعنی رشتہ دار واعزہ اگر تجھ سے سوال کریں اور تیرے پاس کوئی چیز نہ ہو تو اگر تجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق ملنے کا انتظار ہو۔ (آیت) ” فقل لہم قولا میسورا “ تو انشاء اللہ کہہ کر ان سے وعدہ کرلو سفیان نے فرمایا اور نبی کریم ﷺ سے وعدہ بھی ایک قرضہ ہے۔
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم…
Read the full tafseer →[وَاٰتِ : اور تو دے ] [ذَا الْقُرْبٰى: قرابت والے کو ] [حَقَّهٗ : اس کا حق ] [وَالْمِسْكِيْنَ : اور مسکین کو ] [وَابْنَ السَّبِيْلِ : اور مسافر کو ] [وَلَا تُبَذِّرْ : اور تو بےجا مال مت اڑا ] [تَبْذِيْرًا : جیسا بےجا مال اڑانا ہے ]
Read the full tafseer →رشتہ داروں، مسکینوں، مسافروں پر خرچ کرنے اور میانہ روی اختیار کرنے کا حکم، فضول خرچی کی ممانعت
گزشتہ آیات میں ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم فرمایا اس حسن سلوک میں مال خرچ کرنا بھی آتا ہے اب ان آیات میں والدین کے علاوہ دوسرے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے اور مسکین اور مسافر کو دینے کا حکم فرمایا، ذوی القربیٰ یعنی رشتہ داروں کو صلہ رحمی کے طور پر تو دینا ہی چاہیے کبھی کبھی رشتہ داروں پر مال خرچ کرنا واجب بھی ہوجاتا ہے جس کی تفصیلات کتب فقہ میں مذکور ہیں رشتہ داروں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرنے کی فضیلت سورة بقرہ کی آیت کریمہ (لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ ) کے ذیل میں گزر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–38
تفصیل اعمال آخرت و احکام ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ .... الیٰ .... کل ذلک سیۂ عند ربک مکروھا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آخرت کی سعی اور اس کی جدوجہد کا بیان تھا کہ جو آخرت کے لیے سعی کرے گا ہم اسے آخرت کی نعمتیں عطا کریں گے اب ان آیات میں ان اعمال کی تفصیل فرماتے ہیں کہ جن کے ذریعہ انسان آخرت کی نعمتیں حاصل کرسکے اور ان احکام کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ انسان ہدایت حاصل کرسکے اور آخرت کی سعی اور جدوجہد کا ذریعہ یہ اعمال ہیں اور ان احکامات کو توحید ہی سے شروع کیا اور توحید ہی پر ختم کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام گناہوں میں شرک بڑے درجہ کا گناہ ہے اور درمیان میں زیادہ تر…
Read the full tafseer →26:۔ والدین کے علاوہ باقی تمام رشتہ داروں پر بھی احسان کرو۔ صلہ رحمی کرو اگر وہ محتاج ہوں تو ان کی مالی امداد کرو۔ غریبوں اور مسکینوں پر صدقہ کرو، اگر کوئی مسافر بحالت سفر تمہاری اعانت کا مستحق ہو تو اس سے ہمدردی کرو اور اس کی ضرورت پوری کرو۔ ” ولا تبذر تبذیرا “ اور فضول اور بیجا خرچ نہ کرو بلکہ جائز مصارف میں خرچ کرو اس سے اجر ملے گا اور ناجائز مصارف میں خرچ کرنے سے عذاب ہوگا۔ تبذیر یہ ہے کہ مال ایسے مصرف میں خرچ کیا جائے جہاں خرچ کرنا شرعا جائز نہ ہو۔ مثلا شرک و بدعت کی اشاعت میں، رقص و سرود، شراب و کباب، عیاشی سینما بینی ایسے کاموں میں خرچ کرنا تبذیر میں داخل ہے۔ سئل عن ابن مسعود عن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی جن اصولوں پر گزارنے کی تلقین فرمائی ہے ، ان میں سے پہلے دو اصول گذشتہ درس میں بیان ہوچکے ہیں یعنی عبادت صرف اللہ کی اور والدین سے حسن سلوک ، اب آج کے درس میں تیسرا اور چوتھا اصول آرہا ہے تیسرا اصول اللہ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ قرابتداروں ، مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرو ۔ اور چوتھا یہ کہ فضول خرچی سے اجتناب کرو۔
(3) (قرابتداروں کا حق)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وات ذالقربی حقہ “۔ اور قرابت والے کو اس کا حق دے دو ، والدین کے حق کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرابتداروں کے حق کو فائق رکھا ہے ، قرابتداروں میں قریبی عزیز بھی ہیں ، جیسے بھائی ، بہن ،…
Read the full tafseer →وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا 26
قربی
وفي النّسبة نحو : وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبى[ النساء/ 8] ، وقال : الْوالِدانِ وَالْأَقْرَبُونَ
[ النساء/ 7] ، وقال : وَلَوْ كانَ ذا قُرْبى [ فاطر/ 18] ، وَلِذِي الْقُرْبى [ الأنفال/ 41] ، وَالْجارِ ذِي الْقُرْبى [ النساء/ 36] ، يَتِيماً ذا مَقْرَبَةٍ [ البلد/ 15]
اور مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ عنقریب آنے والی ہے یا اس کا وقت دور ہے ۔ اور قرب نسبی کے متعلق فرمایا : وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبى[ النساء/ 8] اور جب میراث کی تقسیم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
ترکیب : الامخفف ان لایھ تفسیر ہے قضی کی وبالوالدین معطوف ہے الاتعبدوا پر ای قضی بالوالدین تقدیرہ و بان تحسنوا بالوالدین احسانا، امایبلغن اما ان ماتھا ان شرطیہ مازائدہ تاکید کے لیے یبلغن فعل شرط فلا تقل جواب۔ اُف اسم الفعل الذی ھوالتضجرو ھو مبنی علی الکسر لالتفاء الساکنین وتنوینہ فی قرأۃ نافع وحفص للتنکیر و من فتح طلب التخفیف مثل رب و من اتبع و من لم ینوں اراد التعریف۔ جناح الذل بالضم ضد العزو بالکسر ضدالصعوبۃ ھوالانقیاد وجعل للذل جناحاً کمافی قول لبید۔
وغداۃ ریحٍ قد کشفت وقرۃٍ
اذا اصبحت بیدالشمال زمامہا
للشمال یدوللقرۃ رمام
تفسیر : دارِآخرت کی سعی کا مجملاً ذکر ہوا ہے اب یہاں اس کی تفصیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
وَآتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَلاَ تُبَذِّرْتَبْذِیْرًا۔ اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ ط وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 26۔ 27)
(اور تم قرابت دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی، اور مال کو اللے تللے نہ اڑائو۔ اللے تللے اڑا دینے والے شیطانوں کے بھائی ہوتے ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔ )
اہلِ قرابت کے حقوق
اللہ تعالیٰ کے حق عبادت اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کے بعد تیسرا حق ذوی القربیٰ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح عقیدہ توحید مسلمانوں میں ایک معنوی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
فہم القرآن
ربط کلام : والدین کی خدمت کے بعد عزیز و اقرباء اور کمزور لوگوں کی خدمت کا حکم۔
والدین کے احترام و اکرام اور ان کی خدمت کا حکم دیتے ہوئے ان کی شان اور مرتبہ کے پیش نظر احسان کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جس میں ہر قسم کا تعاون اور نیکی شامل ہے۔ لیکن رشتہ داروں پر خرچ کرنے کے لیے حق کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس میں ایک قسم کی تاکید کے ساتھ یہ باور کروایا گیا ہے کہ رشتہ داری کے حوالے سے تمہارے مال میں ان کا حق ہے جو تمہیں ادا کرنا چاہیے۔ رشتہ داروں کے بعد مسکین اور مسافر پر خرچ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ فضول خرچی سے بچو کیونکہ فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے ساتھی ہیں۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ…
Read the full tafseer →قرابت دار کا حق :
26: وَاٰتِ ذَاالْقُرْبٰی (اور دو اپنے قرابت والے کو) جو تیرا قریبی ہو حَقَّہٗ ( اس کا حق) اس وقت خرچ کرنا جبکہ محرم مساکین ہوں۔ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ (مساکین اور مسافر) یعنی ان کو زکوٰۃ میں سے انکا حق دو ۔ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا ( اور تم فضول خرچی نہ کرو) اسراف نہ کرو۔ نمبر 2۔ ایک قول یہ ہے کہ تبذیر مال کو ایسے مقام پر خرچ کرنا جو حلال نہ ہو اور نہ خرچ کا مقام ہو۔ مجاہد (رح) کہتے ہیں اگر کسی نے ایک مُدْ غلط مقام پر خرچ کیا تو وہ بھی تبذیر میں شامل ہے۔ کسی آدمی نے خیر میں بہت مال خرچ کیا تو اس کے دوست نے کہا اسراف میں خیر نہیں تو اس نے برجستہ جواب دیا خیر…
Read the full tafseer →تفسیر 26۔” وآت ذا القربیٰ حقہ “ اس سے مراد صلہ رحمی ہے اور اس سے مراد قرابت داری ہے ، اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ حضرت علی بن حسین ؓ کا قول ہے کہ قربیٰ سے مراد رسول اللہ ﷺ کی قرابت ہے۔ ” والمسکین وابن السبیل ولا تبذر تبذیرا ً “ یعنی اپنے مال کو نافرمانی کے معاملے میں خرچ نہ کرو۔ مجاہد کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص اپنا سارا مال حق کے راستے میں خرچ کر دے تو اس کو تبذیر نہیں کہا جائے گا ۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے تبذیر کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ حق کے علاوہ راستے میں مال خرچ کرنا ۔ شعبہ کا قول ہے کہ میں محمد اسحاق کے ساتھ کوفہ کے راستے میں جا رہا تھا، سر راہ ایک دیوار چونے اور پختہ اینٹوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
23۔ 27:۔ سب سے بڑھ کر تو آدمی پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو پیدا کیا ہے پھر جب ماں کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو اس کی ہر طرح کی پرورش اور تربیت دنیا میں ماں باپ کے سبب سے ہوتی ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کے حق کے ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور ماں باپ کا دنیوی حق یہ ذکر فرمایا ہے کہ ان کے ساتھ ان بڑھاپے میں حسن سلوک سے پیش آوے اور دینی حق یہ فرمایا ان کے لیے دعا خیر کرتا رہے اگر ماں باپ کفر کی حالت میں مرجاویں اور اولاد مسلمان ہو تو ایسے ماں باپ کے لیے دعائے مغفرت بموجب آیت (ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
آیت نمبر 26
(وات ذالقربیٰ حقہ) ، ، اور دے رشتے دار کو اس کا حق ، ، یعنی رشتہ دار کو واجب و مسنون حسن سلوک اور اکرام و تکریم میں سے اس کا حق ادا کرو اور یہ حق احوال، زبان و مکان، ضرورت اور عدم ضرورت اور اقارب میں تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتا ہے۔ (والمسکین) ، ، اور مسکین کو، ، یعنی زکوٰۃ وغیرہ میں سے مسکین کو اس کا حق ادا کرو تاکہ اس کی مسکینی دور ہوجائے۔ (وابن السمیل) ، ، اور مسافر کو ، ، اس سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے۔ جو اپنے شہر سے دور پھنس کر رہ گیا ہو۔ (ولا تبذیر تبذیراً ) ، ، اور بےجامت اڑا، ، پس مال اس طریقے سے عطا کیا جائے کہ عطا کرنے والے کو نقصان پہنچے نہ اس مقدار سے زئا دہو جو دی…
Read the full tafseer →رشتہ داروں کے حق کو ادا کیا جائے
قول باری ہے (وات ذالقربی حقہ اور رشتہ دار کو اس کا حق دو ) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں جس حق کا ذکر ہے وہ مجمل ہے اور اسے بیان و تفصیل کی ضرور ت ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (وفی امرالھم حق للسائل والحزوم ان کے اموال میں سائل اور محروم کا بھی حق ہوتا ہے) اسی طرح حضور ﷺ کا ارشاد ہے (امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوالا الہ الا اللہ فاذا قالوھا عصموا منی دماء ھم دامرالھم الابحقھا مجھے حکم ملا ہے کہ جب تک لوگ کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کرلیں اس وقت تک میں ا ن کے خلاف برسر پیکار ہوں لیکن جب وہ اس کلمہ کا اقرار کرلیں گے تو وہ میرے ہاتھوں سے اپنی جان و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
53۔ بےجا خرچ کرنے کی ممانعت :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور بےجا خرچ نہیں کرنا “۔ یعنی مال کو اس کی معصیت و نافرمانی میں نہیں صرف کرنا کہ یہ اسراف ہے جبکہ نیکی میں جتنا بھی خرچ کیا جائے وہ اسراف نہیں۔ چناچہ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ تبذیر واسراف ناحق میں خرچ کرنا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی سارا مال بھی راہ حق میں خرچ کرلے تو اسراف نہیں کہلائے گا۔ اور اگر غیر حق میں ایک مد بھی خرچ کرے گا تو وہ اسراف اور تبذیر کہلائے گا۔ (ابن کثیر وغیرہ ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو رشتہ داروں مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دینے کی تعلیم و تلقین کے ساتھ اس کی بھی ہدایت فرما دی گئی کہ مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–39
بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول
تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
(رکوع نمبر 3)
اسرار و معارف
حقوق اللہ میں سب سے مقدم توحید ہے کہ جس نے توحید باری کو ہی کھو دیا اور عقیدہ درست نہ رکھا وہ بھلا اور کیا اطاعت کرسکے گا اور حقوق العباد میں سب سے پہلا والدین کا ہے کہ تیرے پروردگار نے یہ طے فرما دیا کہ اس کی ذات کے علاوہ کسی کی عبادت مت کر اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو ،
(ماں باپ کے حقوق)
جس طرح کتاب اللہ میں والدین سے حسن سلوک کا حکم ہے اسی طرح حدیث شریف میں اس کے بےپناہ فضائل ارشاد ہوئے ہیں ، بلکہ یہاں تک ارشاد ہے کہ والدین تیری جنت یا دوزخ ہیں یعنی ان کی اطاعت میں جنت اور بےادبی میں دوزخ ہے اور یہ بھی ارشاد ہے کہ سب گناہوں کی سزا مؤخر ہو سکتی ہے مگر والدین…
Read the full tafseer →ف 7 بےجا اڑانے سے مراد یہ ہے کہ ناجائز کاموں میں خرچ کیا جائے (چاہے ایک پیسہ ہی ہو) یا جائز کاموں میں بےسوچے سمجھے اتنا خرچ کیا جائے جو حقداروں کے حقوق ضائع کرنے اور حرام کا ارتکاب کرنے کا سبب بنے۔
Read the full tafseer →(17:26) ات۔ ایتاء سے۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو دے۔
لا تبذر۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تبذیر (تفعیل) سے تو فضول خرچی نہ کر۔ تبذیرامصدر کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 30
ات دو ، ادا کرو۔ ذی القربی رشتے دار۔ لاتبذر فضول خرچی نہ کرو۔ اخوان بھائی۔ کفور ناشکرا، ناقدرا۔ تعرض نہ تو منہ پھیرے گا۔ ابتغاء تلاش کرنے کو۔ ترجوا تو امید رکھتا ہے۔ قول میسور نرم اور آسان بات۔ مغلولۃ بندھا ہوا۔ عنق گردن۔ لاتبسط نہ کھول۔ ملوم ملامت زدہ۔ محصور تھکا ہارا۔ یقدر اندازے سے دیتا ہے۔ تنگ کردیتا ہے۔ بصیر دیکھنے والا۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا 30
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے چار بنیادی اصول ارشاد فرمائے ہیں۔
1- اپنے ضرورت مند رشتہ داروں، محتاجوں اور مسافروں کے حقوق ادا کرنا۔
2- فضول خرچی سے بچنا کیونکہ فضول خرچی کرنے والا شخص اس شیطان کا بھائی ہے جو اللہ کا…
Read the full tafseer →اب ماں باپ کے حق کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اور رشتہ داروں کا حق اور محتاج اور مسافروں کا حق ذکر فرمایا کہ ماں باپ کے بعد بہن کا حق ہے، پھر بھائی کا پھر درجہ بدرجہ اور رشتہ داروں کا حق ہے انسان کو چاہیے کہ ان کے خدمت کرے۔ لیکن فضول خرچی نہ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
[21] یعنی رشتہ داروں اور مسکینوں کی اعانت واجب ہے۔ ان کا حق ہے کہ وہ مالداروں سے اعانت طلب کریں اور مالداروں پر لازم ہے کہ ان پر احسان رکھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر ان کی اعانت کریں۔ مسکین کے بعد ابن السبیل یعنی مسافر کا حق ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ مسافر صرف مسافر ہونے کی بنا پر حقدار بنتا ہے اس امر میں شبہ نہیں ہے کہ حالت سفر بجائے خود ایسی چیز ہے جو عام حالات میں آدمی کو دوسروں کا محتاج بنا دیتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
(ف 1) ان آیتوں میں وہ چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ، توحید کا اور والدین کی اطاعت اور آداب کا ، اس لئے کہ ان دونوں میں ایک قسم کی نسبت اور مشابہت کا ، والدین کی پرورش ، ان کی شفقت و محبت ربوبیت کبری سے مشابہ ہے ، جو شخص والدین کا اطاعت شعار ہے وہ ربوبیت کبری کا بھی پہچان سکے گا ، جس کا نام توحید ہے ، اور جو والدین کا مطیع وفرمانبردار نہیں ، جو عارضی ربوبیت سے غافل ہے ، وہ اصلی رب کا بطریق اولی منکر ہوگا ، یعنی جو خدا پرست ہے ، وہ حقوق انسانی کی نگہداشت کرسکے گا ، اور جس کے دل میں اللہ کا ڈر نہیں ، وہ انسانی فرائض کو کیونکر محسوس کرسکتا ہے ؟ جو انسان کا شکر گزار نہیں ، وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں…
Read the full tafseer →-26 اور ناتے والوں کو اس کا حق دیا کرو اور مسکین اور مسافر کو بھی دیا کر اور مال کو بےموقع نہ اڑایا کر۔ یعنی قرابت دار کا حق مالی ہو یا غیر مالی جو حق بھی ہو اس کو ادا کرنا چاہئے اور مسکین اور مسافر کو بھی دیتے رہو اور بےموقعہ نہ اڑائو یعنی غیر شرعی مراسم میں اور محض شہرت کی غرض سے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی بےجگہ خرچ کر کے خراب نہ کر۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ف 1۔ ارحمھما میں جو دعا کے لئے فرمایا ہے، ظاہر امر ندب و استحباب کے لئے ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ وجوب کے لئے، لیکن عمر بھر میں ایک بار دعا کرنے سے بھی واجب ادا ہوجائے گا۔ اور بدلائل شرعیہ یہ دعا کرنا متقید ہے ایمان ابوین کے ساتھ۔ البتہ اگر حالت کفر میں زندہ ہوں اور دعائے رحمت بمعنی دعائے ہدایت کی جاوے تو جائز ہے۔
Read the full tafseer →ذی القربی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا وہ ذوی الفروض ہوں یا ذوی الارحام :
33۔ گزشتہ آیتوں میں منشور اسلامی کی دو اہم شقوں کو بیان کیا تھا زیر نظر آیت میں چار مزید اہم شقوں کا بیان ہے جن میں سب سے پہلے ذی القربی کے حقوق ہیں اور اس کے بعد ” مساکین “ اور اس کے بعد ” مسافروں “ کے حقوق کے ادا کرنے کی تلقین ہے اور آخر میں بےمحل مال خرچ کرنے سے روکا گیا ہے ۔ اس جگہ الترتیب ان کو ذرا تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے ۔
ماں باپ ‘ اولاد اور زن وشوہر کے بعددرجہ بدرجہ دوسرے اہل قرابت کا حق ہے عربوں کے محاورہ میں اس کا نام ” صلہ رحم “ ہے ۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی اخلاقی تعلیم میں صلہ رحم اور حقوق قرابت کی اہمیت دنیا کے…
Read the full tafseer →Commentary
On fulfilling the rights of relatives vigilantly
Previous verses were devoted to teachings about the rights of parents and how they should be duly respected. In the present verses, the rights of common relatives have been taken up with the guideline that a relative should be given his or her right. The least degree in which this could be done is to share with them the graces of good social living and treat them well. And if they are needy, helping them financially - in accordance with one's personal capacity - is also included therein. From this verse, at least this much stands…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
27. This verse enjoins that after Allah’s right, the greatest of all the human rights is the right of parents. Therefore, the children should obey and serve and respect their parents. The collective morality of society should make it incumbent on children to be grateful and respectful to their parents, they should serve them as they nursed and brought them up in their childhood. Above all, this verse is not merely a moral recommendation but is the basis of the rights and powers of parents the details of which we find in the Books of Hadith and Fiqh. Moreover, respectful behavior and obedience…
Read the full tafseer →