گناہ اور استغفار
اس سے مراد وہ لوگ ہیں، جن سے جلدی میں اپنے ماں باپ کے ساتھ کوئی ایسی بات ہوجاتی ہے جسے وہ اپنے نزدیک عیب کی اور گناہ کی بات نہیں سمجھتے ہیں چونکہ ان کی نیت بخیر ہوتی ہے، اس لیے اللہ ان پر رحمت کرتا ہے جو ماں باپ کا فرمانبردار نمازی ہو اس کی خطائیں اللہ کے ہاں معاف ہیں۔ کہتے ہیں کہ اوابین وہ لوگ ہیں جو مغرب عشا کی درمیان نوافل پڑھیں۔ بعض کہتے ہیں جو صبح کی نماز ادا کرتے رہیں جو ہر گناہ کے بعد توبہ کرلیا کریں۔ جو جلدی سے بھلائی کی طرف لوٹ آیا کریں۔ تنہائی میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے خلوص دل سے استغفار کرلیا کریں۔ عبید کہتے ہیں جو برابر ہر مجلس سے اٹھتے ہوئے یہ دعا پڑھ لیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 27
اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے بعد انسانوں میں سب سے مقدم حق والدین کا ہے۔ اولاد کو والدین کا مطیع، خدمت گزار اور ادب شناس ہونا چاہیے۔ معاشرے کا اجتماعی اخلاق ایسا ہونا چاہیے جو اولاد کو والدین سے بےنیاز بنانے والا نہ ہو بلکہ ان کا احسان مند اور ان کے احترام کا پابند بنائے، اور بڑھاپے میں اسی طرح ان کی خدمت کرنا سکھائے جس طرح بچپن میں وہ اس کی پرورش اور ناز برداری کرچکے ہیں۔ یہ آیت بھی صرف ایک اخلاقی سفارش نہیں ہے بلکہ اسی کی بنیاد پر بعد میں والدین کے وہ شرعی حقوق و اختیارات مقرر کیے گئے جن کی تفصیلات ہم کو حدیث اور فقہ میں ملتی ہیں۔ نیز اسلامی معاشرے کی…
Read the full tafseer →مذکورہ آیات میں سے آخری آیت رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ میں اس دل تنگی کو رفع فرما دیا گیا ہے جو والدین کے ادب و تعظیم کے متعلقہ احکام مذکورہ سے اولاد کے دل میں پیدا ہو سکتی ہے کہ والدین کے ساتھ ہر وقت رہنا ہے ان کے اور اپنے حالات بھی ہر وقت یکساں نہیں ہوتے کسی وقت زبان سے کوئی ایسا کلمہ نکل گیا جو مذکور الصدر آداب کے خلاف ہو تو اس پر جہنم کی وعید ہے اس طرح گناہ سے بچنا سخت مشکل ہوگا اس آیت میں اس شبہ اور اس سے دل تنگی کو دور کرنے کے لئے فرمایا کہ بغیر ارادہ بےادبی کے کبھی کسی پریشانی یا غفلت سے کوئی کلمہ صادر ہوجائے اور پھر اس سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ دلوں کے حال سے واقف…
Read the full tafseer →رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ غَفُوْرًا۔
والدین کے لیے دلی محبت اور کامل سعادت مندی : بڑھاپے والدین کی خدمت و محبت اس طرح کرنا جس طرح قرآن نے ہدایت فرمائی ہے کوئی آسان بازی نہیں ہے۔ اس میں صرف ظاہری اطاعت ہی مطلوب نہیں ہے بلکہ پاکیزہ قلبی جذبۂ محبت اور دلی لگاؤ بھی مطلوب ہے۔ اس کی اس مشکل کی وجہ سے قرآن نے یہ وضاحت بھی فرمادی کہ اصل مطلوب دلی محبت اور کامل سعادت مندی ہے۔ اگر یہ چیز موجود ہے تو خدا دلوں کے حال سے خوب واقف ہے۔ اس کے ہوتے اگر کوئی چھوٹی موٹی اتفاقیہ کوتاہی صادر ہوگئی تو اس کی تلافی توبہ اور رجوع الی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
24۔ 1 پرندہ جب اپنے بچوں کو اپنے سایہء شفقت میں لیتا ہے تو ان کے لئے اپنے بازو پست کردیتا ہے، یعنی تو بھی والدین کے ساتھ اسی طرح اچھا اور پر شفقت معاملہ کرنا اور ان کی اسی طرح کفالت کر جس طرح انہوں نے بچپن میں تیری کی۔ یا یہ معنی ہیں کہ جب پرندہ اڑنے اور بلند ہونے کا ارادہ کرتا ہے تو اپنے بازو پھیلا لیتا ہے اور جب نیچے اترتا ہے تو بازؤں کو پست کرلیتا ہے۔ اس اعتبار سے بازوؤں کے پست کرنے کے معنی، والدین کے سامنے تواضع اور عاجزی کا اظہار کرنے کے ہوں گے۔
Read the full tafseer →13: مطلب یہ ہے کہ اگر تم ایمان رکھتے ہو، اور مجموعی حیثیت سے نیکی کے کام کرنے کی کوشش کرتے ہو، پھر بشری تقاضوں سے کوئی غلطی ہوجاتی ہے، اور تم اس پر توبہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے رجوع کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیں گے۔
Read the full tafseer →اس سے قبل کہ مزید احکام و ہدایات دی جائیں اور اخلاق و قوانین بنائے جائیں یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان کے ہر قول اور ہر فعل سے اللہ خبردار ہے۔ اور اس کا دروازہ کھلا ہے۔ ہر گناہ گار کسی بھی وقت توبہ کرکے واپس آسکتا ہے۔ جب تک کسی انسان میں اسلاح کا مادہ موجود ہے ، وہ توبہ کرکے واپس آسکتا ہے۔ ” اواب “ اس شخص کو کہتے ہیں کہ جب اس سے کوئی قصور سرزد ہوجائے تو وہ جلدی اللہ کی طرف لوٹ آئے اور توبہ و استغفار کرے۔
والدین کے بعد اب قریبی رشتہ داروں کے بارے میں ہدایات دی جاتی ہیں اور رشتہ داروں کے ساتھ مساکین اور مسافر بھی شامل کردئیے جاتے ہیں۔ قریبی رشتہ داروں کے علاوہ انسانی روابط کے زمرے میں مساکین اور…
Read the full tafseer →8 یعنی والدین کی تعظیم اور ان کے سامنے تواضع و فروتنی صمیم قلب سے ہونی چاہیے۔ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ کون کیسے دل سے ماں باپ کی خدمت کرتا ہے۔ اگر فی الواقع تم دل سے نیک اور سعادت مند ہو گے اور خدا کی طرف رجوع ہو کر اخلاص و حق شناسی کے ساتھ ان کی خدمت کرو گے تو وہ تمہاری کوتاہیوں اور خطاؤں سے درگزر فرمائے گا۔ فرض کرو اگر کسی وقت باوجود نیک نیتی کے تنگ دلی یا تنگ مزاجی سے کوئی فروگزاشت ہوگئی، پھر توجہ و رجوع کیا تو اللہ بخشنے والا ہے۔
(تنبیہ) والدین کی فرمانبرداری کن چیزوں میں ہے اور کن میں نہیں ؟ اس کی تفصیل کتب فقہ وغیرہ میں دیکھنا چاہیے۔ روح المعانی میں بھی اس پر مفید و مبسوط کلام کیا ہے۔…
Read the full tafseer →آیت 25 رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ غَفُوْرًا
بوڑھے والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم پر کماحقہ عمل کرنا آسان کام نہیں۔ بڑھاپے میں انسان پر ”ارذل عمر“ کا مرحلہ بھی آتا ہے جس کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں : لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَـيْــــًٔـا النحل : 70۔ ایسی کیفیت میں کبھی بچوں کی سی عادتیں لوٹ آتی ہیں اور ان کی بہت سی باتیں ناقابل عمل اور اکثر احکام ناقابل تعمیل ہوتے ہیں۔ کہیں انہیں سمجھانا بھی پڑتا ہے اور کبھی روکنے ٹوکنے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ ان سب مراحل میں کوشش کے باوجود کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ہو ہی جاتی…
Read the full tafseer →28 یعنی جو لوگ نیک نیتی سے اپنے والدین کی خدمت یا ان سے بہتر سلوک کرتے ہیں اللہ انھیں بھی خوب جانتا ہے اور جو لوگ محض لوگوں کی باتوں سے بچنے کی خاطر والدین کی خدمت کرتے ہیں انھیں بھی خوب جانتا ہے اور اللہ کی بخشش اور رحمت تو ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کے فرمانبردار بن کر والدین سے حسن سلوک کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →37۔ (اس لئے محض ظاہری اور لفظی تعظیم پر اکتفانہ کرنا بلکہ دل سے بھی ان کی توقیر وتعظیم اور ادب ولحاظ میں لگے رہنا) اللہ اللہ خدمت والدین و اطاعت والدین کے باب میں قرآن مجید کو کس درجہ اہتمام منظور ہے۔
38۔ (اس لئے اگر اتفاقی طور سے کبھی کوئی بات تم سے ان کے مرتبہ کے منافی صادر ہوجائے تو معا نادم ہو کر اس کی تلافی کرو) (آیت) ” صلحین “۔ یعنی نیکی اور حسن سلوک کا ارادہ رکھنے والے، ہماری زبان ہی موقع کیلئے ہے۔ اے قاصدین الصلاح والبر دون العقوق والفساد (روح) قاصدین الصلاح والبر (کشاف) (آیت) ” اوابین “۔ یعنی وہ لوگ جو غلطی یا لغزش صادر ہوجانے کے بعد حق تعالیٰ کی طرف توبہ و استغفار کے ساتھ رجوع کریں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت نمبر 23 تا 30
ترجمہ : اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی بندگی نہ کرنا، اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا اس طریقہ پر کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں (اَحْدُھما، یَبْلُغَنَّ ) کا فاعل ہے اور ایک قراءت میں یَبْلُغان ہے، (اس صورت میں) احدھما، یَبْلُغان کے الف سے بدل ہوگا، تو تم ان سے، اُف، تک نہ کہنا، (اُفٍّ ) فاء کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ یا تنوین اور بغیر تنوین مصدر ہے، معنی میں تَبًّا اور قُبْحًا کے ہے، (یعنی تیرا ناس ہو اور برا ہو) اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے احترام کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، اور نرمی اور…
Read the full tafseer →ۭرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ : جو کچھ تمہارے دلوں میں ہوتا ہے ‘ تمہارا رب اس کو خوب جانتا ہے یعنی ماں باپ کی فرماں برداری کی نیت اور تعظیم کے اندرونی خیال سے اللہ خوب واقف ہے یہ اس بات پر تنبیہ ہے کہ دلوں میں بھی ماں باپ سے نفرت اور بوجھ کا خیال نہ آنا چاہئے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ والدین کی فرماں برداری کے معاملے میں تمہاری نیتوں کو اللہ خوب جانتا ہے اگر ثواب کی امید پر اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں فرمانبرداری کرو گے تو اللہ اس کا اجر دے گا اور اگر کسی دنیوی لالچ کی وجہ سے فرماں برداری کرو گے تو اس کا نتیجہ نیت کے موافق ہوگا۔
اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ…
Read the full tafseer →(25) تمہارا رب دل کی باتوں کو خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کا ادب واحترام کرنے کا کیا جذبہ ہے اگر تم حقیقت میں اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے ہو تو وہ گناہوں سے توبہ کرنے والوں کی خطا معاف کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ۔۔ : ان الفاظ میں والدین کے لیے دل میں شفقت و رحمت نہ رکھنے پر وعید بھی ہے اور ایسی صالح اولاد کے لیے تسلی بھی جن کے والدین کسی جائز وجہ کے بغیر ہی ناراض رہتے ہوں اور اولاد کی ہر قسم کی کوشش کے باوجود کسی طرح خوش نہ ہوتے ہوں، تو فرمایا کہ اگر تم نیک ہو اور تمہارے دل میں والدین کے لیے شفقت و رحمت موجود ہے تو ایسے رجوع کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ بیحد بخشنے والا ہے۔ بعض اہل علم نے یہ معنی بیان فرمایا کہ اگر تم سے خدمت میں کوتاہی ہوگئی یا کوئی زیادتی ہوگئی، پھر تم نے رجوع کیا اور توبہ کرلی تو اللہ معاف فرما دے گا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 25
قولہ تعالیٰ : ربکم اعلم بمافی نفوسکم تمہارا رب بہتر جانتا ہے جو کچھ والدین کے ساتھ رحم و مہربانی کرنے اور ان پر شفقت کرنے کے اعتقاد میں سے تمہارے دلوں میں ہے یا اس کے علاوہ نافرمانی یا محض ریاکاری کے لئے ظاہر اً ان سے نیکی اور احسان کرنے میں سے (جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے) ، اور ابن جبیر نے کہا ہے : مراد وہ جلدبازی ہے جو تیزی میں ہوجاتی ہے، جیسا کہ بغیر ارادہ کے تیزی سے کوئی کام ہوجانا اور پھسل جانا، یہ آدمی سے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکتی ہے، اور اس سے کسی تکلیف کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ان تکونواصٰلحین یعنی اگر تم والدین کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
1:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر اور ابن انباری نے مصاحف میں سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ نے (آیت) ” وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ واو مل گیا صاد کے ساتھ حالانکہ تم اس کو پڑھتے ہو (آیت) ” وقضی ربک “ (اصل میں ووصی تھا)
(ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا)
2:۔ ابوعبید، ابن منیع، ابن منذر اور ابن مردویہ نے میمون بن مہران کے طریق سے ابن عباس ؓ سے فرمایا کہا اللہ تعالیٰ نے یہ حرف نازل فرمایا تمہارے نبی کریم ﷺ کی زبان پر (آیت) ” وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ “ نازل فرمائی دو واؤ میں سے ایک واؤ صاد کے ساتھ مل گئی مگر لوگوں…
Read the full tafseer →[رَبُّكُمْ : تم لوگوں کا رب ] [اَعْلَمُ : سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] [بِمَا : اس کو جو ] [فِيْ نُفُوْسِكُمْ : تمہاری طبیعتوں میں ہے ] [ان : اگر ] [تَكُوْنُوْا : تم لوگ ہو گے ] [صٰلِحِيْنَ : نیک ] [فَانهٗ : تو بیشک ] [كَان : وہ ہے ] [لِلْاَوَّابِيْنَ : بار بار رجوع کرنے والوں کے لئے ] [غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ]
Read the full tafseer →یہ جو فرمایا کہ (رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِکُمْ ) (الایۃ) درمنثور میں اس کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت سعید بن جبیر ؓ سے نقل کیا ہے کہ اگر اولاد کی جانب سے ماں باپ کے حقوق میں غفلت سے کوتاہی ہوجائے اور دل سے فرمانبردار ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور توبہ کرے اللہ تعالیٰ رجوع کرنے والوں کو معاف فرمانے والا ہے۔
ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ سب کاموں میں اللہ جل شانہ کو کون سا کام زیادہ پیارا ہے ؟ آپ نے فرمایا بروقت نماز پڑھنا (جو اس کا وقت مستحب ہے) میں نے عرض کیا اس کے بعد کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–38
تفصیل اعمال آخرت و احکام ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ .... الیٰ .... کل ذلک سیۂ عند ربک مکروھا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آخرت کی سعی اور اس کی جدوجہد کا بیان تھا کہ جو آخرت کے لیے سعی کرے گا ہم اسے آخرت کی نعمتیں عطا کریں گے اب ان آیات میں ان اعمال کی تفصیل فرماتے ہیں کہ جن کے ذریعہ انسان آخرت کی نعمتیں حاصل کرسکے اور ان احکام کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ انسان ہدایت حاصل کرسکے اور آخرت کی سعی اور جدوجہد کا ذریعہ یہ اعمال ہیں اور ان احکامات کو توحید ہی سے شروع کیا اور توحید ہی پر ختم کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام گناہوں میں شرک بڑے درجہ کا گناہ ہے اور درمیان میں زیادہ تر…
Read the full tafseer →25:۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے بھید جانتا ہے۔ جو شخص اخلاص اور صدق نیت سے والدین کے حقوق ادا کرتا ہے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو شخص محض ریاکاری کے لیے یا بعض دنیوی منافع کی خاطر ایسا کر رہا ہے اس کی نیت بھی اس سے پوشیدہ نہیں۔ اگر تم صدق نیت سے اور دلی محبت و احترام سے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو گے تو اللہ تعالیٰ ایسے نیک دل اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں اور ہر کام میں اس کی رضامندی ڈھونڈنے والوں کی تقصیروں اور غیر ارادہ لغزشوں کو معاف کرنے والا ہے ایک شخص نیک نیتی سے والدین کے حقوق ادا کرتا ہے اگر غلطی سے نادانستہ اس سے اداء حقوق میں کوئی کوتاہی ہوگئی تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔ غفورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ربط آیات :
دیگر مکی سورتوں کی طرح سورة بنی اسرائیل میں بنیادی طور پر چار بنیادی باتیں بیان کی گئی ہیں یعنی قرآن پاکی صداقت وحقانیت ، توحید باری تعالیٰ ، رسالت اور وقوع قیامت ، ان مضامین کے علاوہ سورة ہذا کی ابتدائی آیت میں معراج کا واقعہ بیان ہوا ہے ، چونکہ یہ سورة واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی ، اس لیے اس میں آگے چل کر ہجرت کے متعلق بھی ذکر آتا ہے ، توحید باری تعالیٰ کا تذکرہ گذشتہ آیت میں بھی آچکا ہے ، (آیت) ” لاتجعل مع اللہ الھا اخر “ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ بناؤ اب یہاں سے شروع کرکے پورے دو رکوع میں سورة کا مرکزی مضمون بیان ہو رہا ہے ، اللہ تعالیٰ نے یہاں پر پندرہ…
Read the full tafseer →رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ غَفُوْرًا 25
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
ترکیب : الامخفف ان لایھ تفسیر ہے قضی کی وبالوالدین معطوف ہے الاتعبدوا پر ای قضی بالوالدین تقدیرہ و بان تحسنوا بالوالدین احسانا، امایبلغن اما ان ماتھا ان شرطیہ مازائدہ تاکید کے لیے یبلغن فعل شرط فلا تقل جواب۔ اُف اسم الفعل الذی ھوالتضجرو ھو مبنی علی الکسر لالتفاء الساکنین وتنوینہ فی قرأۃ نافع وحفص للتنکیر و من فتح طلب التخفیف مثل رب و من اتبع و من لم ینوں اراد التعریف۔ جناح الذل بالضم ضد العزو بالکسر ضدالصعوبۃ ھوالانقیاد وجعل للذل جناحاً کمافی قول لبید۔
وغداۃ ریحٍ قد کشفت وقرۃٍ
اذا اصبحت بیدالشمال زمامہا
للشمال یدوللقرۃ رمام
تفسیر : دارِآخرت کی سعی کا مجملاً ذکر ہوا ہے اب یہاں اس کی تفصیل…
Read the full tafseer →رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِکُمْ ط اِنْ تَکُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّہٗ کَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 25)
(تمھارا رب خوب واقف ہے اس سے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اگر تم نیک رہو گے تو وہ رجوع کرنے والوں کو بڑا بخشنے والا ہے۔ )
والدین کی خدمت کی انتہائی تاکید کے بعد بھی پروردگار نے اس آیت میں مزید ایک بات کی طرف توجہ دلائی ہے، وہ یہ کہ اگر تم والدین کی خدمت اوپرے دل سے کرتے رہے، محض یہ سمجھ کر کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور یا لوگوں کو خوش کرنے کے لیے، لیکن تمہارا دل اس میں شریک نہیں تھا تو یاد رکھو یہ خدمت اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول نہیں ہوگی۔ اس کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی توحید اور عبادت کے بعد والدین کا احترام اور تابعداری کرنے کا حکم۔
البقرۃ آیت 83 کی تفسیر کرتے ہوئے عرض کیا ہے : ہر دور میں دین کے بنیادی ارکان و احکام ایک اور ان کی ترتیب بھی ایک جیسی ہی رہی ہے۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنا ہے۔ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اللہ کے حق کے بعد والدین کی تابعداری اور ان کے ساتھ احسان کرنا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ رب اور خالق ہے لیکن اس نے اپنی تخلیق اور ربوبیت کا ذریعہ والدین کو بنایا ہے۔ اس لیے اپنی ذات کے بعد اس نے اس مقدس رشتہ کو تقدیس و تکریم دیتے ہوئے ہدایات فرمائیں کہ اولاد کو چاہیے کہ اپنے والدین کے ساتھ ہر…
Read the full tafseer →25: رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِکُمْ اِنْ تَکُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّہٗ کَانَ لِلْاَوَّ ا بِیْنَ غَفُوْرًا۔ (تمہارا رب تمہارے باطن کو خوب جانتا ہے) جو تمہارے دلوں میں والدین کے ساتھ نیکی کا ارادہ اور ان کی خدمت میں خوشی اور عظمت چھپی ہوتی ہے۔
اِنْ تَکُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ : (اگر تم سعادت مند ہو) یعنی درستی اور احسان کا قصد کرنے والے ہو۔ پھر غصہ کی حالت میں تم سے کوئی زیادتی ہوجائے اور سینے کی تنگی کے وقت تنگ دلی صادر ہو جو ان کی ایذاء کا باعث بن جائے پھر تم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرلو اور استغفار کر لوفَاِنَّہٗ کَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا (تو وہ توبہ کرنے والوں کی خطا معاف…
Read the full tafseer →25۔” ربکم اعلم بما فی نفوسکم “ والدین کی فرمانبرداری کی نیت اور تعظیم کے اندرونی خیال سے اللہ خوب واقف ہے۔” ان تکونوا صالحین “ والدین کے ساتھ کوئی خطاء ہوجانے کے بعد ان کے ساتھ نیکی کا ارادہ کھے یا توبہ کرلے تو وہ اس آیت کے حکم میں نہیں ہوگا ۔” فانہ کان للاوابین “ اس نافرمانی کے بعد ” غفورا ً “ بخشنے والا ہے۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ اس آیت میں وہ لوگ مراد ہیں جس سے بےسوچے بلا ارادہ اچانک ماں باپ سے کوئی بےادبی ، بد سلوکی ہوجائے اور نیت ان کی نیکی ہو تو اس کی پکڑ نہیں گی۔
سعید بن مسیب کا قول ہے کہ اداب وہ شخص ہے جو گناہ کرنے کے بعد توبہ کرلے ، پھر گناہ کرے اور توبہ کرلے اور پھر گناہ کرے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
23۔ 27:۔ سب سے بڑھ کر تو آدمی پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو پیدا کیا ہے پھر جب ماں کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو اس کی ہر طرح کی پرورش اور تربیت دنیا میں ماں باپ کے سبب سے ہوتی ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کے حق کے ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور ماں باپ کا دنیوی حق یہ ذکر فرمایا ہے کہ ان کے ساتھ ان بڑھاپے میں حسن سلوک سے پیش آوے اور دینی حق یہ فرمایا ان کے لیے دعا خیر کرتا رہے اگر ماں باپ کفر کی حالت میں مرجاویں اور اولاد مسلمان ہو تو ایسے ماں باپ کے لیے دعائے مغفرت بموجب آیت (ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو…
Read the full tafseer →آیت نمبر 25
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے اچھے اور برے چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ تمہارے اعمال اور ابدان کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور ان کے اندر چھپے ہوئے خیر و شر پر نظر رکھتا ہے۔ (ان تکونو صالحین) ، ، اگر تم نیک ہو گے، ، یعنی اگر تمہارے ارادے اور مقاصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے دائرے میں اور تمہاری رغبت صرف انہی امور پر مرتکز رہے جو اللہ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور تمہارے دلوں میں غیر اللہ کے ارادے براجمان نہ ہوں۔ (فانہ کانا لاوابین) ، ، تو وہ رجوع کرنے والوں کو۔ ، ، یعنی وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والوں کے لئے (غفوراً ) ، ، بخشنے والا ہے۔ ، ، پس اللہ تعالیٰ جس کے دل…
Read the full tafseer →اوابین کی تشریح
قول باری ہے (فانہ کان للاوابین غفوراً وہ ایسے سب لوگوں کو درگزر کرنے والا ہے جو اپنے قصور پر متنبہ ہو کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں) سعید بن المسیب کا قول ہے کہ اواب اس شخص کو کہتے ہیں جو بار بار توبہ کرتا ہے اور اگر اس سے کوئی نافرمانی ہوجاتی ہے تو فوراً توبہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ سعید بن جبیر اور مجاہد کا قول ہے کہ اواب وہ شخص ہے جو اپنے گناہ سے توبہ کے ذریعے رجوع کرے منصور نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ اداب اس شخص کو کہتے ہیں جو تنہائی میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے اللہ سے بخشش کا طلبگار ہوجائے۔ قتادہ نے قاسم بن عوف الشیبانی سے اور انہوں نے حضرت زید بن ارقم سے روایت کی ہے کہ…
Read the full tafseer →52۔ سچی توبہ کرنے والوں کیلئے بخشش کا مژدہ جانفزا :۔
سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف ان کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ” بیشک تمہارا رب سچی توبہ کرنے والوں کیلئے بڑا ہی بخشنے والا ہے “ سو گناہ جتنے اور جیسے بھی ہوں سچی توبہ پر وہ اپنے کرم سے سب بخش دے گا۔ پس راستہ صحیح ہو اور نیت درست ہو تو پھر اس کی طرف سے رحمت و عنایت اور مغفرت وبخشش ہی کی توقع رکھی جائے اور ہمیشہ اور ہر حال میں صدق دل سے اس کی طرف رجوع کیا جائے۔ پس معیصت و سرکشی کی راہ کو ترک کر کے توبہ وانابت الی اللہ کی راہ کو اپنانے والوں کیلئے رحمت ہی رحمت ہے۔ سو جو صدق دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے رہیں گے اور اپنی لغزشوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–39
بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول
تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
(رکوع نمبر 3)
اسرار و معارف
حقوق اللہ میں سب سے مقدم توحید ہے کہ جس نے توحید باری کو ہی کھو دیا اور عقیدہ درست نہ رکھا وہ بھلا اور کیا اطاعت کرسکے گا اور حقوق العباد میں سب سے پہلا والدین کا ہے کہ تیرے پروردگار نے یہ طے فرما دیا کہ اس کی ذات کے علاوہ کسی کی عبادت مت کر اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو ،
(ماں باپ کے حقوق)
جس طرح کتاب اللہ میں والدین سے حسن سلوک کا حکم ہے اسی طرح حدیث شریف میں اس کے بےپناہ فضائل ارشاد ہوئے ہیں ، بلکہ یہاں تک ارشاد ہے کہ والدین تیری جنت یا دوزخ ہیں یعنی ان کی اطاعت میں جنت اور بےادبی میں دوزخ ہے اور یہ بھی ارشاد ہے کہ سب گناہوں کی سزا مؤخر ہو سکتی ہے مگر والدین…
Read the full tafseer →ف 6 مگر تم سے ان کی اطاعت اور خدمت میں کوئی قصور ہوگیا جس سے تم نے توبہ کرلی۔
Read the full tafseer →(17:25) اوابین۔ اواب۔ بہت رجوع ہونے والا۔ اوب سے جس کے معنی رجوع ہونے کے ہیں۔ مبالغہ کا صیغہ بروزن فعال یہاں اپنے تمام اقوال و افعال ۔ حرکات و سکنات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونا اور اس کا مطیع ہونا مراد ہے۔ اوابین۔ اواب کی جمع ہے بہت رجوع کرنے والے۔ یعنی وہ جو گناہ سے توبہ کی طرف اور برائیوں سے اچھائیوں کی طرف رجوع کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 25
قضیٰ فیصلہ کردیا، حکم دیا۔ ایاہ اسی کا۔ احسان نیکی، حسن سلوک۔ یبلغن وہ پہنچ جائیں۔ الکبر بڑھاپا۔ کلاھما وہ دونوں۔ لاتقل تم مت کہو۔ لاتنھر نہ ڈانٹو، نہ جھڑکو۔ اخفض جھکا دے۔ جناح بازو۔ الذل عاجزی، انکساری۔ ربینی مجھے پرورش کیا، پالا۔ صغیر چھوٹا پن، بچپن۔ نفوس دل ، جانیں۔ اوابین لوٹنے والے، رجوع کرنے الے۔ غفور بخشنے والا، معاف کرنے والا۔
تشریح : آیت نمبر 23 تا 25
اس سورت میں معراج النبی ﷺ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور ان پر عذاب الٰہی اور چند انتہائی ضروری بنیادی باتوں کے بعد آنے والے دورکوعوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے ساتھ ساتھ آدمی کے والدین، اعزاء و اقرباء سے…
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اولاد کے دل میں تو ماں باپ کا ادب ہوگا، لیکن بغیر دلی ارادہ کے ماں باپ کی شان کے خلاف کوئی بات اولاد کی زبان سے نکل جاوے گی اور پھر اس کا پچھتاوا ہوگا اور توبہ کرے گا تو اللہ ایسی بول کو بخش دے گا کیونکہ اللہ کی نظر ہمیشہ انسان کے دلی ارادہ پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
[20] یعنی ان کی کوئی بات کتنی ہی ناگوار گزرے مگر حرف شکایت زبان پر نہ لاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
(ف 1) ان آیتوں میں وہ چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ، توحید کا اور والدین کی اطاعت اور آداب کا ، اس لئے کہ ان دونوں میں ایک قسم کی نسبت اور مشابہت کا ، والدین کی پرورش ، ان کی شفقت و محبت ربوبیت کبری سے مشابہ ہے ، جو شخص والدین کا اطاعت شعار ہے وہ ربوبیت کبری کا بھی پہچان سکے گا ، جس کا نام توحید ہے ، اور جو والدین کا مطیع وفرمانبردار نہیں ، جو عارضی ربوبیت سے غافل ہے ، وہ اصلی رب کا بطریق اولی منکر ہوگا ، یعنی جو خدا پرست ہے ، وہ حقوق انسانی کی نگہداشت کرسکے گا ، اور جس کے دل میں اللہ کا ڈر نہیں ، وہ انسانی فرائض کو کیونکر محسوس کرسکتا ہے ؟ جو انسان کا شکر گزار نہیں ، وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں…
Read the full tafseer →-25 لوگو ! تمہارا پروردگار ان باتوں کو خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہیں۔ اگر تم نیک ہو گے اور تم اپنی نیت اور اپنے مقصد کو درست رکھو گے تو وہ توبہ کے ساتھ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والاے۔ یعنی ظاہری توقیر و تعظیم نہیں بلکہ دلوں میں بھی ان کی خدمت ان کا ادب اور ان کی اطاعت کا ارادہ رکھنا اور باوجود اس نیک ارادے اور صالح قصد کے پھر بھی کوئی کوتاہی اور قصور ہوجائے گا اور تم توبہ کرو گے اور ہماری طرف رجوع کرو گے تو بلاشبہ وہ ایسے سعادت مندوں کے لئے غفور ہے اور ان کی کوتاہیوں کو بخشنے والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کبھی دل میں آئے کہ بوڑھے ماں باپ سے یہ معاملہ نبھانا مشکل ہے تو فرما دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ف 1۔ ارحمھما میں جو دعا کے لئے فرمایا ہے، ظاہر امر ندب و استحباب کے لئے ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ وجوب کے لئے، لیکن عمر بھر میں ایک بار دعا کرنے سے بھی واجب ادا ہوجائے گا۔ اور بدلائل شرعیہ یہ دعا کرنا متقید ہے ایمان ابوین کے ساتھ۔ البتہ اگر حالت کفر میں زندہ ہوں اور دعائے رحمت بمعنی دعائے ہدایت کی جاوے تو جائز ہے۔
Read the full tafseer →دلوں کی حالت کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے نیکو کار ہی بخشش کے مستحق ہیں :
32۔ بعض اوقات انسان کی ظاہری حالت اور دلی کیفیت میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے اور جو اس کی زبان پر ہوتا ہے وہ یقینا دل میں نہیں ہوتا اور جو دل میں پوشیدہ ہوتا ہے اس کو زبان پر نہیں لاتا ۔ اس لئے زیر نظر آیت میں اس کی وضاحت فرما دی کہ اصل بات تو وہ ہے جو دل کی گہرائیوں میں چھپی ہے اور کسی شخص کے لد کی گہرائی کتنی ہی کیوں نہ ہو وہ اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں اس لئے وضاحت فرما دی کہ تمہارے دلوں میں اپنے والدین کے لئے اطاعت وفرمانبرداری کے جو جذبات ہیں یا ان سے دل ہی دل میں جو نفرت اور تھکاوٹ یا اکتاہٹ تم محسوس کرتے ہو تمہارا…
Read the full tafseer →In the last verse quoted above: رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ (Your Lord knows best what is in your hearts - 25), any possible scruple that remains in the hearts of children as to how they were going to comply satisfactorily with divine injunctions relating to consistent observance of etiquette and respect due to parents. They have to live with parents all the time. Then, living conditions of the parties vary. They do not stay the same all the time. May be, on some such occasion, they happen to utter something, something that turns out to be against the norms of due etiquette,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
27. This verse enjoins that after Allah’s right, the greatest of all the human rights is the right of parents. Therefore, the children should obey and serve and respect their parents. The collective morality of society should make it incumbent on children to be grateful and respectful to their parents, they should serve them as they nursed and brought them up in their childhood. Above all, this verse is not merely a moral recommendation but is the basis of the rights and powers of parents the details of which we find in the Books of Hadith and Fiqh. Moreover, respectful behavior and obedience…
Read the full tafseer →