Explained with ayahs 23–24
اٹل فیصلے محکم حکم
یہاں قضی معنی میں حکم فرمانے کے ہے تاکیدی حکم الہٰی جو کبھی ٹلنے والا نہیں یہی ہے کہ عبادت اللہ ہی کی ہو اور والدین کی اطاعت میں سرمو فرق نہ آئے۔ ابی ابن کعب، ابن مسعود اور ضحاک بن مزاحم کی قرأت میں قضی کے بدلے وصی ہے۔ یہ دونوں حکم ایک ساتھ جیسے یہاں ہیں ایسے ہی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ 14) 31۔ لقمان :14) میرا شکر کر اور اپنے ماں باپ کا بھی احسان مند رہ۔ خصوصا ان کے بڑھاپے کے زمانے میں ان کا پورا ادب کرنا، کوئی بری بات زبان سے نہ نکلنا یہاں تک کے ان کے سامنے ہوں بھی نہ کرنا، نہ کوئی ایسا کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 25
یہاں وہ بڑے بڑے بنیادی اصول پیش کیے جا رہے ہیں جن پر اسلام پوری انسانی زندگی کے نظام کی عمارت قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ گویا نبی ﷺ کی دعوت کا منشور ہے جسے مکی دور کے خاتمے اور آنے والے مدنی دور کے نقطہ آغاز پر پیش کیا گیا، تاکہ دنیا بھر کو معلوم ہوجائے کہ اس نئے اسلامی معاشرے اور ریاست کی بنیاد کن فکری، اخلاقی، تمدنی، معاشی اور قانونی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ اس موقع پر سورة انعام کے رکوع 19 اور اس کے حواشی پر بھی ایک نگاہ ڈال لینا مفید ہوگا۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 26
اس کا مطلب صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی پرستش اور پوجا نہ کرو، بلکہ یہ بھی ہے کہ…
Read the full tafseer →چوتھا حکم (آیت) وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاح الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ جس کا حاصل یہ ہے کہ ان کے سامنے اپنے آپ کو عاجز و ذلیل آدمی کی صورت میں پیش کرے جیسے غلام آقا کے سامنے جناح کے معنی بازو کے ہیں لفظی معنی یہ ہیں کہ والدین کے لئے اپنے بازو عاجزی اور ذلت کے ساتھ جھکائے آخر میں من الرحمۃ کے لفظ سے ایک تو اس پر متنبہ کیا کہ والدین کے ساتھ یہ معاملہ محض دکھاوے کا نہ ہو بلکہ قلبی رحمت وعزت کی بنیاد پر ہو دوسرے شاید اشارہ اس طرف بھی ہے کہ والدین کے سامنے ذلت کے ساتھ پیش آنا حقیقی عزت کا مقدمہ ہے کیونکہ یہ واقعی ذلت نہیں بلکہ اس کا سبب شفقت و رحمت ہے۔
پانچواں حکم وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا ہے جس کا…
Read the full tafseer →وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا۔
والدین کا حق فرمانبرداری و خدمت : " ذل " کے معنی اطاعت و فرمانبرداری کے ہیں۔ اس کے لیے " جناح " کے استعارے میں یہ تلمیح مضمر ہے کہ تمہارے والدین نے تمہارے بچپن میں تمہیں اس طرح اپنے بازوؤں کے نیچے چھپائے رکھا جس طرح پرندہ اپنے بچے کو اپنے پروں کے نیچے چھپائے رکھتا ہے۔ اس کا حق یہ ہے کہ انکے بڑھاپے میں تم بھی انہیں اپنی اطاعت و محبت کے بازؤں کے نیچے چھپائے رکھو۔ اس اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ " من الرحمۃ " کی قید اس کے منبع اور محرک کا پتہ دیتی ہے کہ یہ اطاعت و فرماں برداری تمام تر مہر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
24۔ 1 پرندہ جب اپنے بچوں کو اپنے سایہء شفقت میں لیتا ہے تو ان کے لئے اپنے بازو پست کردیتا ہے، یعنی تو بھی والدین کے ساتھ اسی طرح اچھا اور پر شفقت معاملہ کرنا اور ان کی اسی طرح کفالت کر جس طرح انہوں نے بچپن میں تیری کی۔ یا یہ معنی ہیں کہ جب پرندہ اڑنے اور بلند ہونے کا ارادہ کرتا ہے تو اپنے بازو پھیلا لیتا ہے اور جب نیچے اترتا ہے تو بازؤں کو پست کرلیتا ہے۔ اس اعتبار سے بازوؤں کے پست کرنے کے معنی، والدین کے سامنے تواضع اور عاجزی کا اظہار کرنے کے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
12: آیت نمبر 19 میں فرمایا گیا تھا کہ آخرت کی بھلائی حاصل کرنے کے لیے بندے کو ویسی ہی کوشش کرنی ہے جیسی کرنی چاہیے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی طرف اشارہ تھا۔ اب یہاں سے ایسے کچھ احکام کی تفصیل بیان فرمائی جا رہی ہے جس کو سب سے پہلے توحید کے حکم سے شروع کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا۔ اس کے بعد کچھ احکام حقوق العباد سے متعلق بیان کیے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ (71 : 42) ” اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو “۔ یہاں نہایت ہی نرم اور شفاف انداز بیان اختیار کیا گیا ہے انداز بیان کے اندر اطاعت اور بندگی اور وفا شعاری کو مجسم کردیا گیا ہے یعنی اس طرح بچھ جائو اور اس قدر برخوداری اختیار کرو کہ گویا ” جھکنا “ ایک مجسم پرندے کی شکل میں کھڑا ہے اور اس کے پر ہیں اور اس نے اپنے پر بھی بچھا رکھے ہیں۔
وقل رب ارحمھما کما زبینی صغیرنا (71 : 42) ” اور دعا کیا کرو ، پروردگار ، ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا “۔ خوشگوار یادیں ہیں۔ محبت کی یادیں بچپن کی یادیں اور ماں اور باپ کی محبت…
Read the full tafseer →7 یعنی جب میں بالکل کمزور و ناتواں تھا انہوں نے میری تربیت میں خون پسینہ ایک کردیا۔ اپنے خیال کے موافق میرے لیے ہر ایک راحت و خوبی کی فکر کی۔ ہزارہا آفات و حوادث سے بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ بارہا میری خاطر اپنی جان جوکھوں میں ڈالی، آج ان کی ضعیفی کا وقت آیا ہے، جو کچھ میری قدرت میں ہے ان کی خدمت و تعظیم کرتا ہوں۔ لیکن پورا حق ادا نہیں کرسکتا۔ اس لیے تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس بڑھاپے میں اور موت کے بعد ان پر نظر رحمت فرما۔
Read the full tafseer →آیت 24 وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاح الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ
جب بھی اپنے والدین کے سامنے آؤ تو تمہاری چال ڈھال اور گفتگو کے انداز سے عاجزی و انکساری اور ادب و احترام کا اظہار ہونا چاہیے۔
وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا
اللہ تعالیٰ کے حضور ہر وقت ان کے لیے دعا گو رہنا چاہیے کہ اے اللہ جب میں ضعیف کمزور اور محتاج تھا تو انہوں نے میری غذا میرے آرام اور میری دوسری ضروریات کا انتظام کیا۔ میری تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھا اور میرے لیے اپنے آرام و آرائش کو قربان کیا۔ اب میں تو ان کے ان احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا۔ اس لیے میں تجھی سے درخواست کرتا ہوں کہ تو ان پر رحم فرما اور اپنی…
Read the full tafseer →27 والدین سے بہتر سلوک کیسا ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ متصل والدین کا کیوں ذکر فرمایا ؟:۔ یعنی والدین سے تمہارا سلوک ایسا ہونا چاہیے جیسے غلام کا اپنے آقا سے ہوتا ہے۔ ان سے ادب و انکساری سے پیش آؤ اور ساتھ ہی ساتھ ان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے رحمت و مغفرت کی دعا بھی کرتے رہو۔ کیونکہ وہی تمہاری پرورش و تربیت کا سبب بنے تھے۔ یہیں سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کے ساتھ ہی متصلاً والدین سے بہتر سلوک کا ذکر کیوں فرمایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر چیز کا پروردگار تو رب کائنات ہے۔ جس نے زمین بنائی، ہوا، پانی، سورج، چاند وغیرہ پیدا کئے۔ پھر بارش برسائی اور پھر انسان…
Read the full tafseer →36۔ خدمت والدین کے سلسلہ میں محض سلبی ہدایات یا نواہی کافی نہیں۔ ایجابی اوامر بھی مل رہے ہیں۔ (آیت) ” قل لھما قولا کریما “۔ تو ابھی آہی چکا ہے۔ اب دوہدایتیں اور ملیں۔ (آیت) ” واخفض لھما جناح الذل “۔ محاورۂ زبان کے اعتبار سے اس فقرہ سے والدین کے ساتھ انتہائی فروتنی اختیار کرنے کی تاکید نکل آئی۔ ھو مجاز لان الذل لیس لہ جناح ولا یوصف بذلک ولکنہ ارادالمبالغۃ فی التذلل والتواضع (جصاص) مبالغۃ فی التذلل والتواضع لھما (کشاف) والمقصود منہ المبالغۃ فی التواضع (کبیر) (آیت) ” قل۔۔۔ صغیرا “۔ یہاں کس حکمت کے ساتھ جوان تندرست وتنومند اولاد کو خود اس کے بچپن کی بےکسی وبے بسی یاد دلادی گئی۔ قدرۃ یہاں پہنچ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت نمبر 23 تا 30
ترجمہ : اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی بندگی نہ کرنا، اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا اس طریقہ پر کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں (اَحْدُھما، یَبْلُغَنَّ ) کا فاعل ہے اور ایک قراءت میں یَبْلُغان ہے، (اس صورت میں) احدھما، یَبْلُغان کے الف سے بدل ہوگا، تو تم ان سے، اُف، تک نہ کہنا، (اُفٍّ ) فاء کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ یا تنوین اور بغیر تنوین مصدر ہے، معنی میں تَبًّا اور قُبْحًا کے ہے، (یعنی تیرا ناس ہو اور برا ہو) اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے احترام کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، اور نرمی اور…
Read the full tafseer →وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاح الذُّلِّ : اور دونوں کے لئے اپنی عاجزی کے بازو بچھا دو ۔ یعنی ان کے سامنے عاجزی
اور تواضع کا اظہار کرو ‘ حضرت عروہ بن زبیر نے یہ مطلب بیان کیا کہ ان سے نرمی کرو۔ جس چیز کو وہ چاہتے ہیں اس سے ممانعت نہ کرو۔
مِنَ الرَّحْمَةِ : انتہائی رحم کی وجہ سے یعنی یہ خیال کرو کہ تم کل ان کے انتہائی محتاج تھے آج وہ تمہارے محتاج ہوگئے اس بات کا خیال کرو اور ان پر ترس کھاؤ۔
وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا : (اور ان کے لئے دعا کرو) اور کہو اے میرے رب
ان پر رحمت فرما ‘ جیسے انہوں نے مجھ کو میرے بچپن میں پالا پرورش کیا تھا ‘ یعنی ان پر اپنی لازوال رحمت نازل فرما…
Read the full tafseer →(24) اور اللہ کے سامنے اور نرمی سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور اگر وہ مسلمان ہوں تو ان کے لیے دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرمائیے جیسا انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی۔
Read the full tafseer →وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاح الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ : ”جَنَاحَ“ پرندے کے پر کو کہتے ہیں اور بازو کو بھی۔ مطلب یہ کہ جس طرح پرندہ اپنے بچوں کے اوپر اپنے پر جھکا کر انھیں اپنی آغوش میں لے کر ہر سرد و گرم سے محفوظ کرلیتا ہے اس طرح تو بھی رحم کی بنا پر تواضع کے بازو ان پر جھکا دے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد کے حقوق کی والدین کے حقوق کی طرح تاکید نہیں فرمائی، کیونکہ اولاد کے لیے ماں باپ کے دل میں قدرتی طور پر شفقت و محبت موجود ہوتی ہے۔ ہاں جو ظلم وہ اولاد پر کرتے تھے اس سے منع فرمایا۔ اس کا ذکر آگے اسی سورت کی آیت (31) میں آ رہا ہے۔
وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
آیت نمبر 23 تا 24
اس میں سولہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قضیٰ اس کا معنی ہے امر (تیرے رب نے حکم دیا) ، الزم (اس نے لازم کیا) اور اوجب (اس نے واجب کیا) حضرت عباس، حسن اور قتادہ ؓ نے کہا ہے : یہ قضا حکم نہیں ہے بلکہ یہ قضا امر ہے۔ اور مصحف حضرت ابن مسعود میں ووصی ہے اور یہی آپ کے اصحاب کی قرات ہے اور حضرت ابن عباس ؓ کی بھی اور حضرت علی ؓ کی قرات ہے، اور اسی طرح ابی کعب ؓ کے نزدیک ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا : بلاشبہ ووصی ربک ہے پس دو واؤں میں سے ایک کو قاف سے بدل دیا اور اسے وقضٰی ربک پڑھا گیا کیونکہ اگر یہ قضا (حکم) ہوتا تو پھر کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور حکم عدولی نہ کرتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
1:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر اور ابن انباری نے مصاحف میں سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ نے (آیت) ” وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ واو مل گیا صاد کے ساتھ حالانکہ تم اس کو پڑھتے ہو (آیت) ” وقضی ربک “ (اصل میں ووصی تھا)
(ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا)
2:۔ ابوعبید، ابن منیع، ابن منذر اور ابن مردویہ نے میمون بن مہران کے طریق سے ابن عباس ؓ سے فرمایا کہا اللہ تعالیٰ نے یہ حرف نازل فرمایا تمہارے نبی کریم ﷺ کی زبان پر (آیت) ” وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ “ نازل فرمائی دو واؤ میں سے ایک واؤ صاد کے ساتھ مل گئی مگر لوگوں…
Read the full tafseer →[وَاخْفِضْ : اور تو بچھا ] [لَهُمَا : دونوں کے لئے ] [جَنَاحَ الذُّلِ : تابعداری کا پہلو ] [مِنَ الرَّحْمَةِ : رحمت سے ] [وَقُلْ : اور تو کہہ ] [رَّبِ : اے میرے رب ] [ارْحَمْهُمَا : تو رحم کر دونوں پر ] [كَمَا : جیسے کہ ] [رَبَّيٰنِيْ : ان دونوں نے تربیت کی میری ] [صَغِيْرًا : چھوٹا ہوتے ہوئے (یعنی بچپن میں)]
نوٹ۔ 1: معارف القرآن کی جلد۔ 5 کے صفحات۔ 451 تا 457 میں والدین کے حقوق پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ ہم اس کے چند اقتباسات ذیل میں نقل کر رہے ہیں۔
1 ۔ امام قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ادب و احترام اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو اپنی عبادت کے ساتھ ملا…
Read the full tafseer →ششم : ارشاد فرمایا (وَ اخْفِضْ لَھُمَا جَنَاح الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ ) (یعنی ماں باپ کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا) اس کی تفسیر میں حضرت عروہ نے فرمایا کہ تو ان کے سامنے ایسی روش اختیار کر کہ ان کی جو دلی رغبت ہو اس کو پورا ہونے میں تیری وجہ سے فرق نہ آئے، اور حضرت عطاء بن ابی رباح نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ ماں باپ سے بات کرتے وقت نیچے اوپر ہاتھ مت اٹھانا (جیسے برابر والوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے اٹھاتے ہیں) اور حضرت زہیر بن محمد نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ ماں باپ اگر تجھے گالیاں دیں اور برا بھلا کہیں تو تو جواب میں یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت فرمائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–38
تفصیل اعمال آخرت و احکام ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ .... الیٰ .... کل ذلک سیۂ عند ربک مکروھا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آخرت کی سعی اور اس کی جدوجہد کا بیان تھا کہ جو آخرت کے لیے سعی کرے گا ہم اسے آخرت کی نعمتیں عطا کریں گے اب ان آیات میں ان اعمال کی تفصیل فرماتے ہیں کہ جن کے ذریعہ انسان آخرت کی نعمتیں حاصل کرسکے اور ان احکام کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ انسان ہدایت حاصل کرسکے اور آخرت کی سعی اور جدوجہد کا ذریعہ یہ اعمال ہیں اور ان احکامات کو توحید ہی سے شروع کیا اور توحید ہی پر ختم کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام گناہوں میں شرک بڑے درجہ کا گناہ ہے اور درمیان میں زیادہ تر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
22:۔ ” و قضی ربک “ تا ” عند ربک مکروھا “ (رکوع 4) ۔ چونک معجزہ اسراء کے بعد انکار توحید پر عذاب الٰہی آنے والا تھا اس لیے اب یہاں دفع عذاب کے لیے امور ثلاثہ کا ذکر کیا گیا یعنی شرک نہ کرو، احسان کرو اور طلم نہ کرو۔ ” وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ “ میں امر اول کا ذکر ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کی عبادت اور پکار میں کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ۔ یہ دلائل ماقبل کا ثمرہ بھی ہے یعنی مزکورہ بالا دلائل عقل و نقل اور وحی سے ثابت ہوگیا کہ کارساز اور متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا اس کے سوا کسی نبی مرسل، کسی ملک مقرب اور کسی ولی کامل کے لیے کسی قسم کی عبادت بجا نہ لاؤ اور نہ اس کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ربط آیات :
دیگر مکی سورتوں کی طرح سورة بنی اسرائیل میں بنیادی طور پر چار بنیادی باتیں بیان کی گئی ہیں یعنی قرآن پاکی صداقت وحقانیت ، توحید باری تعالیٰ ، رسالت اور وقوع قیامت ، ان مضامین کے علاوہ سورة ہذا کی ابتدائی آیت میں معراج کا واقعہ بیان ہوا ہے ، چونکہ یہ سورة واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی ، اس لیے اس میں آگے چل کر ہجرت کے متعلق بھی ذکر آتا ہے ، توحید باری تعالیٰ کا تذکرہ گذشتہ آیت میں بھی آچکا ہے ، (آیت) ” لاتجعل مع اللہ الھا اخر “ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ بناؤ اب یہاں سے شروع کرکے پورے دو رکوع میں سورة کا مرکزی مضمون بیان ہو رہا ہے ، اللہ تعالیٰ نے یہاں پر پندرہ…
Read the full tafseer →وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا 24ۭ
خفض
الخَفْض : ضدّ الرّفع، والخَفْض الدّعة والسّير اللّيّن وقوله عزّ وجلّ : وَاخْفِضْ لَهُما جَناحَ الذُّلِ
[ الإسراء/ 24] ، فهو حثّ علی تليين الجانب والانقیاد، كأنّه ضدّ قوله : أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ [ النمل/ 31] ، وفي صفة القیامة : خافِضَةٌ رافِعَةٌ [ الواقعة/ 3] ، أي : تضع قوما وترفع آخرین، فخافضة إشارة إلى قوله : ثُمَّ رَدَدْناهُ أَسْفَلَ سافِلِينَ [ التین/ 5] .
( خض )
الخفض ۔ یہ رفع کی ضد ہے اور خفض کے معنی نرم رفتاری اور سکون و راحت بھی آتے ہیں اور آیت کریمہ : وَاخْفِضْ لَهُما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
ترکیب : الامخفف ان لایھ تفسیر ہے قضی کی وبالوالدین معطوف ہے الاتعبدوا پر ای قضی بالوالدین تقدیرہ و بان تحسنوا بالوالدین احسانا، امایبلغن اما ان ماتھا ان شرطیہ مازائدہ تاکید کے لیے یبلغن فعل شرط فلا تقل جواب۔ اُف اسم الفعل الذی ھوالتضجرو ھو مبنی علی الکسر لالتفاء الساکنین وتنوینہ فی قرأۃ نافع وحفص للتنکیر و من فتح طلب التخفیف مثل رب و من اتبع و من لم ینوں اراد التعریف۔ جناح الذل بالضم ضد العزو بالکسر ضدالصعوبۃ ھوالانقیاد وجعل للذل جناحاً کمافی قول لبید۔
وغداۃ ریحٍ قد کشفت وقرۃٍ
اذا اصبحت بیدالشمال زمامہا
للشمال یدوللقرۃ رمام
تفسیر : دارِآخرت کی سعی کا مجملاً ذکر ہوا ہے اب یہاں اس کی تفصیل…
Read the full tafseer →قرآن کریم نے اولاد کو جو والدین کی اطاعت اور خدمت کرنے کا حکم دیا ہے اس میں یہ قید بھی لگائی ہے کہ :
وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ ۔ (بنی اسرائیل : 23)
(والدین کے سامنے فرمانبرداری کے بازو محبت سے جھکائے رکھو۔ )
یعنی تم اپنے والدین کی خدمت ایک بوجھ سمجھ کر مت کرنا، بلکہ تمہاری فرمانبرداری کے بازو رحمت اور محبت سے ان کے سامنے پھیلے رہنے چاہئیں۔ یعنی جس طرح ماں باپ اپنی اولاد کو بوجھ سمجھ کر نہیں پالتے، بلکہ نہایت محبت اور پیار سے پالتے ہیں، بالکل اسی جذبے کے ساتھ اولاد کو بھی اپنے ماں باپ کی دیکھ بھال کرنی چاہیے اور اگر وہ ایسے ہی جذبے سے اپنے ماں باپ کی دیکھ بھال کریں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی توحید اور عبادت کے بعد والدین کا احترام اور تابعداری کرنے کا حکم۔
البقرۃ آیت 83 کی تفسیر کرتے ہوئے عرض کیا ہے : ہر دور میں دین کے بنیادی ارکان و احکام ایک اور ان کی ترتیب بھی ایک جیسی ہی رہی ہے۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنا ہے۔ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اللہ کے حق کے بعد والدین کی تابعداری اور ان کے ساتھ احسان کرنا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ رب اور خالق ہے لیکن اس نے اپنی تخلیق اور ربوبیت کا ذریعہ والدین کو بنایا ہے۔ اس لیے اپنی ذات کے بعد اس نے اس مقدس رشتہ کو تقدیس و تکریم دیتے ہوئے ہدایات فرمائیں کہ اولاد کو چاہیے کہ اپنے والدین کے ساتھ ہر…
Read the full tafseer →24: وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ (اور ان کے سامنے انکساری کے ساتھ) ان کے لئے تو اپنے بازو کو جھکا دے جیسا دوسرے مقام پر فرمایا واخفض جنا حک للمؤمنین ] الحجر : 88[
نکتہ : جناح کی اضافت اَلذُّل کی طرف اسی طرح ہے جیسا کہ حاتم کی اضافت جود کی طرف کی جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے تو ان کے لئے اپنے عاجز بازو کو جھکا۔ مِنَ الرَّحْمَۃِ (مہربانی سے جھکے رہنا) ان پر بہت شفقت کرتے ہوئے اور بڑھاپے کی وجہ سے ان کے ساتھ مہربانی برتتے ہوئے اور اس وجہ سے کہ آج وہ اس کے محتاج بنے بیٹھے ہیں جو کل مخلوقات میں سب سے زیادہ انکا محتاج تھا۔
قول زجاج (رح) : آیت کا معنی یہ ہے کہ تو ان سے نرم پہلو برت اس حال میں کہ…
Read the full tafseer →تفسیر 24۔” واخفض لھا جناح الذل “ اور ان کے لیے عاجزی کے ساتھ اپنے بازو بچھا دو ۔ عروۃ بن زبیر کا قول ہے کہ ان سے نرمی کرو جس چیز کو وہ چاہتے ہیں اس سے ممانعت نہ کرو۔” من الرحمۃ “ اس سے مراد شفقت ہے۔” وقل رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا ً “ جب وہ دونوں مسلمان ہوں ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ اس فرمان سے منسوخ ہے۔” ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا اللمشرکین۔
اللہ تعالیٰ کی خوشنودی باپ کی خوشنودی میں ہے
حضرت ابو الدرداء ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، باپ جنت کا وسطیٰ دروازہ ہے ۔ اگر تم چاہو تو اس کی نگہداشت کردیا کھودو ۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
23۔ 27:۔ سب سے بڑھ کر تو آدمی پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو پیدا کیا ہے پھر جب ماں کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو اس کی ہر طرح کی پرورش اور تربیت دنیا میں ماں باپ کے سبب سے ہوتی ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کے حق کے ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور ماں باپ کا دنیوی حق یہ ذکر فرمایا ہے کہ ان کے ساتھ ان بڑھاپے میں حسن سلوک سے پیش آوے اور دینی حق یہ فرمایا ان کے لیے دعا خیر کرتا رہے اگر ماں باپ کفر کی حالت میں مرجاویں اور اولاد مسلمان ہو تو ایسے ماں باپ کے لیے دعائے مغفرت بموجب آیت (ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
آیت نمبر 23
اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک سے منع کرنے کے بعد توحید کا حکم دیا ہے، چناچہ فرمایا : (وقضیٰ ربک) ، ، آپ کے رب نے (دینی) فیصلہ کردیا، ور شرعی حکم دے دیا ہے۔ (الا تعبدو) ، ، کہ تم عبادت نہ کرو۔ ، ، یعنی زمین اور آسمان کے رہنے والوں، زندوں یا مردوں میں سے کسی کی عبادت نہ کرو۔ (الا ایاہ) ، ، مگر صرف اس کی، ، کیونکہ وہ واحد اور یکتا، فرد اور بےنیاز ہے۔ جو ہر صفت کمال کا مالک ہے۔ اس کی ہر صفت کامل ترین ہے اور مخلوق میں کوئی ہستی اس کی کسی صفت میں کسی بھی پہلو سے مشابہت نہیں کرسکتی وہ منعم ہے ظاہری اور باطنی نعمتوں سے وہی نوازتا ہے وہی تمام تکالیف کو دور کرتا ہے، وہ خالق رازق اور تمام امور…
Read the full tafseer →قول باری ہے (واخضض لھما جناح الذل من الرحمۃ اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے بھک کر رہو) اس کی تفسیر میں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے۔ جس چیز کے وہ خواہشمند ہوں ان سے وہ چیز نہ روکو۔ “ ہشام نے حسن بصری سے نقل کیا ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ والدین کے ساتھ نیکی کا کیا مفہوم ہے۔ حسن نے جواب میں فرمایا۔” جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ان کے لئے خرچ کر ڈالو اور ان کے حکموں کی فرمانبرداری کرو بشرطیکہ کوئی حکم خدا کی نافرمانی کو مستلزم نہ ہو۔ “ عمرو بن عثما ن نے واصل بن سانب سے آیت زیر بحث کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ ” اپنا ہاتھ بھی ان کے سامنے نہ جھاڑو۔ “ عروہ بن الزبیر کا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
46۔ فوز آخرت سے سرفرازی کی اساس عقیدہ توحید :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور (خبردار ! ) اللہ کے ساتھ کوئی معبود کبھی نہ بنانا “ کیونکہ معبود برحق اور کارساز حقیقی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ اس سے جب منہ موڑ لیا۔ والعیاذ باللہ۔ تو پھر بدحالی اور بیکسی کے سوا اور رہ ہی کیا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو جس کسی نے بھی اسکے ساتھ کوئی اور فرضی اور خود ساختہ معبود ٹھہرا لیا اس نے بڑے ہی سنگین اور ہولناک جرم کا ارتکاب کیا۔۔ والعیاذ باللہ۔ سو قرآن کریم جس طریق اقوام اور صراط مسقیم کی دعوت دینا ہے اس کی اولین اساس اور بنیادی دفعہ یہ ہے کہ خداوند قدوس کے ساتھ اور کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–39
بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول
تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
(رکوع نمبر 3)
اسرار و معارف
حقوق اللہ میں سب سے مقدم توحید ہے کہ جس نے توحید باری کو ہی کھو دیا اور عقیدہ درست نہ رکھا وہ بھلا اور کیا اطاعت کرسکے گا اور حقوق العباد میں سب سے پہلا والدین کا ہے کہ تیرے پروردگار نے یہ طے فرما دیا کہ اس کی ذات کے علاوہ کسی کی عبادت مت کر اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو ،
(ماں باپ کے حقوق)
جس طرح کتاب اللہ میں والدین سے حسن سلوک کا حکم ہے اسی طرح حدیث شریف میں اس کے بےپناہ فضائل ارشاد ہوئے ہیں ، بلکہ یہاں تک ارشاد ہے کہ والدین تیری جنت یا دوزخ ہیں یعنی ان کی اطاعت میں جنت اور بےادبی میں دوزخ ہے اور یہ بھی ارشاد ہے کہ سب گناہوں کی سزا مؤخر ہو سکتی ہے مگر والدین…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی نہایت عاجزی اور تواضح سے ان کی خدمت بجالاتا رہ۔5 اور پال پوس کر اتنا بڑا کیا، ماں باپ کی خدمت اور ان سے نیک سلوک کرنے کی تاکید میں بہت سی احادیث بھی ثابت ہیں۔ مثلاً حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے عرض کیا، میری خدمت اور حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟ فرمایا : ” تیری ماں، تیری ماں، تیری ماں، پھر فرمایا : تیرا باپ اور پھر تیرا رشتہ دار جو تجھ سے زیادہ قریب ہے۔ (بخاری مسلم) نیز ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے تین مرتبہ فرمایا : اس شخص کی ناک خاک آلود ہو (یعنی وہ ذلیل ہو کر رہے) صحابہ نے پوچھا کس کی ؟ اے اللہ کے رسول ؟ فرمایا ” جس نے اپنے ماں باپ دونوں کو یا…
Read the full tafseer →(17:24) اخفض۔ خفض مصدر سے۔ باب ضرب۔ تو جھکا دے۔ تو نرمی اختیار کر۔
جناح الذل۔ مضاف مضاف الیہ۔ تواضع اور انکسار کے پر ۔ جناح بازو۔ اجنحۃ جمع۔ پرندہ کا پر۔ کسی شے کی جانب اور پہلو۔ بازو اور ہاتھ کے معنی میں بھی آتا ہے مثلاً ولا طائر یطیر بجناحیہ (6:38) اور نہ کوئی پرندہ کہ اڑتا ہے اپنے دو پروں سے، اور واضمم یدک الی جناحک (20:22) اور ملالے اپنا ہاتھ اپنے پہلو سے اور واضمم الیک جناحک من الرھب (28:32) اور خوف (دفع کرنے) کے واسطے اپنا بازو پھر اپنے سے ملا لینا۔ واخفض لہما جناح الذل من الرحمۃ۔ اور ان دونوں کے لئے ذلت کا بازو مہربانی سے بچھا دے۔
ذلت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک ذلت انسان کو گراتی ہے۔ دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 25
قضیٰ فیصلہ کردیا، حکم دیا۔ ایاہ اسی کا۔ احسان نیکی، حسن سلوک۔ یبلغن وہ پہنچ جائیں۔ الکبر بڑھاپا۔ کلاھما وہ دونوں۔ لاتقل تم مت کہو۔ لاتنھر نہ ڈانٹو، نہ جھڑکو۔ اخفض جھکا دے۔ جناح بازو۔ الذل عاجزی، انکساری۔ ربینی مجھے پرورش کیا، پالا۔ صغیر چھوٹا پن، بچپن۔ نفوس دل ، جانیں۔ اوابین لوٹنے والے، رجوع کرنے الے۔ غفور بخشنے والا، معاف کرنے والا۔
تشریح : آیت نمبر 23 تا 25
اس سورت میں معراج النبی ﷺ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور ان پر عذاب الٰہی اور چند انتہائی ضروری بنیادی باتوں کے بعد آنے والے دورکوعوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے ساتھ ساتھ آدمی کے والدین، اعزاء و اقرباء سے…
Read the full tafseer →اس آیت سے ثابت ہوا کہ مسلمان کے لئے رحمت ومغفرت کی دعا جائز ہے اور اسے فائدہ پہنچانے والی ہے۔ مردوں کے ایصال ثواب میں بھی ان کے لئے دعا رحمت ہوتی ہے۔ لہٰذا اس کے لئے اصل یہ آیت ہے والدین اگر کافر ہوں تو ان کے لئے ہدایت وایمان کی دعا کرے اور یہی ان کے حق میں رحمت ہے۔ اگر مومن ہیں تو یہ دعا کرے :" یارب انہیں جنت میں پہنچا " حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشی ماں باپ کی رضامندی کے ساتھ ہے اور ماں باپ کا فرمانبردار نہنمی نہ ہوگا اور ان کا نافرمان کچھ بھی عمل کرے گرفتار عذاب ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ والدین کی نافرمانی سے بچو، اس لئے کہ جنت کی خوشبو ہزار برس کی راہ تک آتی ہے اور نافرمان وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
[20] یعنی ان کی کوئی بات کتنی ہی ناگوار گزرے مگر حرف شکایت زبان پر نہ لاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
(ف 1) ان آیتوں میں وہ چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ، توحید کا اور والدین کی اطاعت اور آداب کا ، اس لئے کہ ان دونوں میں ایک قسم کی نسبت اور مشابہت کا ، والدین کی پرورش ، ان کی شفقت و محبت ربوبیت کبری سے مشابہ ہے ، جو شخص والدین کا اطاعت شعار ہے وہ ربوبیت کبری کا بھی پہچان سکے گا ، جس کا نام توحید ہے ، اور جو والدین کا مطیع وفرمانبردار نہیں ، جو عارضی ربوبیت سے غافل ہے ، وہ اصلی رب کا بطریق اولی منکر ہوگا ، یعنی جو خدا پرست ہے ، وہ حقوق انسانی کی نگہداشت کرسکے گا ، اور جس کے دل میں اللہ کا ڈر نہیں ، وہ انسانی فرائض کو کیونکر محسوس کرسکتا ہے ؟ جو انسان کا شکر گزار نہیں ، وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں…
Read the full tafseer →-24 اور ان کے سامنے تواضح اور عاجزی اور انکساری کے باز و شفقت اور نیاز مندی سے جھکائے رکھیو اور ان کے حق میں یوں دعا کیا کر کہ اے میرے پروردگار تو ان دونوں پر رحمت فرما جیسا انہوں نے مجھ کو بچپنے میں پالا اور پرورش کیا ہے۔ یعنی ان کی خدمت میں لگا رہ اور ان کے ساتھ پوری انکساری اور شفقت و مہربانی کا سلوک کر اور ان کے لئے دعا بھی کیا کر دعا میں بچپنے کی بات یاد دلائی تاکہ ماں باپ کے اس سلوک کا خیال آجائے جو وہ پرورش کی غرض سے چھوٹی اولاد کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔
سبحان اللہ ! کیا انداز تعلیم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ف 1۔ ارحمھما میں جو دعا کے لئے فرمایا ہے، ظاہر امر ندب و استحباب کے لئے ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ وجوب کے لئے، لیکن عمر بھر میں ایک بار دعا کرنے سے بھی واجب ادا ہوجائے گا۔ اور بدلائل شرعیہ یہ دعا کرنا متقید ہے ایمان ابوین کے ساتھ۔ البتہ اگر حالت کفر میں زندہ ہوں اور دعائے رحمت بمعنی دعائے ہدایت کی جاوے تو جائز ہے۔
Read the full tafseer →والدین کے لئے تواضع و انکساری کے بازو جھکا دو اور ان کے لئے دعا کرو :
31۔ بڑھاپے کے عوارضات کے بعد اس بات کا ذکر فرمانا کہ (آیت) ” واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ “۔ ان کے آگے محبت ومہربانی کے ساتھ عاجزی کا سر جھکائے رکھو۔ اپنے اندر بہت بڑا مفہوم رکھتا ہے جس سے والدین کے ساتھ انتہائی فروتنی اختیار کرنے کی تاکید نکلتی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ والدین خواہ کتنے ہی بوڑھے اور بڑھاپے کے باعث اگر چڑچڑے پن کا شکار ہوجائیں تو اولاد کے لئے باعث آزمائش ہیں اور آزمائش امتحان کو کہتے ہیں اور امتحان سے کامیابی اور ناکامی بھی معروف بات ہے اور جس طرح ایک کامیابی کئی کامیابیوں کا باعث بنتی ہے اسی طرح ایک ناکامی…
Read the full tafseer →4. Submit yourself before them in humility out of compassion - (وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ ). This is the fourth instruction. The word: جناح (janah) in the text literally means 'wings' or 'sides of arms' lending the sense that one should stand in a stance of submission and humility as a mark of respect for parents. The addition of the expression: مِنَ الرَّحْمَةِ (out of com-passion) at the end of the sentence is there to warn that this stance of grace should not be a mere show-off, instead, it should be adopted on the strong foundation of genuine, heartfelt respect…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
25. In the succeeding verses, those main basic principles have been put forward on which Islam desires to build the entire structure of human life. These form the manifesto of the invitation of the Prophet (peace be upon him) declared by him at the end of the Makki stage of his mission, and the eve of the new stage at Al-Madinah so that it should be known to all that the new Islamic society and state were going to be built on such and such ideological, moral, cultural economic and legal principles. (Please also refer to (Ayats 151-153 and E.Ns thereof of Surah Al-Anaam).
26. This commandment…
Read the full tafseer →