Al-Israa 17:23

Al-Israa · from ayah 23

17:23

وَقَضٰی رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا ؕ— اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا ۟وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا‌ ؕ اِمَّا يَـبۡلُغَنَّ عِنۡدَكَ الۡكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوۡ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوۡلًا كَرِيۡمًا‏

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And your Lord has decreed that you not worship except Him, and to parents, good treatment. Whether one or both of them reach old age [while] with you, say not to them [so much as], "uff," and do not repel them but speak to them a noble word.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:23

تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ: تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو، مگر صرف اُس کی والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو اگر تمہارے پاس اُن میں سے کوئی ایک، یا دونوں، بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑک کر جواب دو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہارے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو، اور نہ انہیں جھڑکو۔ بلکہ ان سے عزت کے ساتھ بات کیا کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پُوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں، نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ”اُف“ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر کبھی تیرے پاس دونوں میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ ہی جائیں تو ان دونوں کو اف مت کہہ اور نہ انھیں جھڑک اور ان سے بہت کرم والی بات کہہ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ کے پروردگار نے فیصلہ کردیا ہے کہ : تم اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ بہتر سلوک کرو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو انھیں اف تک نہ کہو، نہ ہی انھیں جھڑکو اور ان سے بات کرو تو ادب سے کرو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تیرے رب کا فیصلہ یہ ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نہایت اچھا سلوک کرو۔ اگر وہ تیرے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں، ان میں سے ایک یا دونوں، تو نہ ان کو اف کہو اور نہ ان کو جھڑکو اور ان سے شریفانہ بات کہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تمہارا رب یہ فیصلہ کرچکا کہ تم نے بندگی نہیں کرنی مگر اسی کی، اور اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے، اگر تمہارے سامنے ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے، یا دونوں، تو تم انھیں اف بھی نہ کہنا، اور انھیں جھڑکنا بھی نہیں، اور ان سے بات بھی پورے احترام سے کرنا،

— مولانا اسحاق مدنی

اور تیرے پروردگار نے حکم دے رکھا ہے کہ بجز اسی (ایک رب) کے اور کسی کی پرستش نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک رکھنا۔ اگر وہ تیرے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں ان دونوں میں سے ایک یا وہ دونوں تو تو ان ان سے ہوں بھی نہ کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے ادب کے ساتھ بات چیت کرنا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور فیصلہ کردیا ہے آپ کے رب نے کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اس کے اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اگر پہنچ جائیں تمہارے پاس بڑھاپے کو ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تو انہیں اف تک مت کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے بات کرو نرمی کے ساتھ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تمہارے رب نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان کے ساتھ بات ادب کے ساتھ کرنا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Your Lord has decreed: (i) Do not worship any but Him; (ii) Be good to your parents; and should both or any one of them attain old age with you, do not say to them even "fie" neither chide them, but speak to them with respect,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Your Lord has decreed that you worship none but Him, and do good to parents. If any one of them or both of them reach old age, do not say to them: uff (a word or expression of anger or contempt) and do not scold them, and address them with respectful words,

— Muhammad Taqi Usmani

Your Lord has decreed that you worship none but Him, and do good to parents. If any one of them or both of them reach old age, do not say to them: uff (a word or expression of anger or contempt) and do not scold them, and address them with respectful words,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And your Lord has Qada [decreed] that you worship none but Him. And that you be dutiful to your parents. If one of them or both of them attain old age in your life, say not to them a word of disrespect, nor reprimand them but address them in terms of honor.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thy Lord hath decreed, that ye worship none save Him, and (that ye show) kindness to parents. If one of them or both of them attain old age with thee, say not "Fie" unto them nor repulse them, but speak unto them a gracious word.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And your Lord has decreed that you not worship except Him, and to parents, good treatment. Whether one or both of them reach old age [while] with you, say not to them [so much as], "uff," and do not repel them but speak to them a noble word.

— Saheeh International

Your Lord has ordained that you must not worship anything other than Him and that you must be kind to your parents. If either or both of your parents should become advanced in age, do not express to them words which show your slightest disappointment. Never yell at them but always speak to them with kindness.

— Muhammad Sarwar

And your Lord has commanded that you shall not serve (any) but Him, and goodness to your parents. If either or both of them reach old age with you, say not to them (so much as) "Ugh" nor chide them, and speak to them a generous word.

— Muhammad Habib Shakir

And thy Lord hath decreed that ye shall Worship none but Him, and unto parents shew kindness; and if either of them or both of them attain old age with thee, Say not unto them: pooh: And browbeat them not, and Speak unto them a respectful speech.

— Abdul Majid Daryabadi

Thy Lord hath decreed that ye worship none but Him, and that ye be kind to parents. Whether one or both of them attain old age in thy life, say not to them a word of contempt, nor repel them, but address them in terms of honour.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–24

اٹل فیصلے محکم حکم یہاں قضی معنی میں حکم فرمانے کے ہے تاکیدی حکم الہٰی جو کبھی ٹلنے والا نہیں یہی ہے کہ عبادت اللہ ہی کی ہو اور والدین کی اطاعت میں سرمو فرق نہ آئے۔ ابی ابن کعب، ابن مسعود اور ضحاک بن مزاحم کی قرأت میں قضی کے بدلے وصی ہے۔ یہ دونوں حکم ایک ساتھ جیسے یہاں ہیں ایسے ہی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ 14؀) 31۔ لقمان :14) میرا شکر کر اور اپنے ماں باپ کا بھی احسان مند رہ۔ خصوصا ان کے بڑھاپے کے زمانے میں ان کا پورا ادب کرنا، کوئی بری بات زبان سے نہ نکلنا یہاں تک کے ان کے سامنے ہوں بھی نہ کرنا، نہ کوئی ایسا کام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 23–24

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 25 یہاں وہ بڑے بڑے بنیادی اصول پیش کیے جا رہے ہیں جن پر اسلام پوری انسانی زندگی کے نظام کی عمارت قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ گویا نبی ﷺ کی دعوت کا منشور ہے جسے مکی دور کے خاتمے اور آنے والے مدنی دور کے نقطہ آغاز پر پیش کیا گیا، تاکہ دنیا بھر کو معلوم ہوجائے کہ اس نئے اسلامی معاشرے اور ریاست کی بنیاد کن فکری، اخلاقی، تمدنی، معاشی اور قانونی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ اس موقع پر سورة انعام کے رکوع 19 اور اس کے حواشی پر بھی ایک نگاہ ڈال لینا مفید ہوگا۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 26 اس کا مطلب صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی پرستش اور پوجا نہ کرو، بلکہ یہ بھی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل والدین کے ادب و احترام اور اطاعت کی بڑی اہمیت امام قرطبی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں حق تعالیٰ نے والدین کے ادب و احترام اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو اپنی عبادت کے ساتھ ملا کر واجب فرمایا ہے جیسا کہ سورة لقمان میں اپنے لشکر کے ساتھ والدین کے شکر کو ملا کر لازم فرمایا ہے اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ (یعنی میرا شکر ادا کر اور اپنے والدین کا بھی) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ جل شانہ کی عبادت کے بعد والدین کی اطاعت سب سے اہم اور اللہ تعالیٰ کے شکر کی طرح والدین کا شکر گذار ہونا واجب ہے صحیح بخاری کی یہ حدیث بھی اسی پر شاہد ہے جس میں ہے کہ رسول کریم ﷺ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۭ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا۔ کدا کے بعد سب سے بڑا حق والدین کا : یعنی یہ خدا ہی کا کام ہے کہ وہ یہ بتائے کہ اس کے حقوق میں کوئی شریک ہے یا نہیں ہے سو اس کا فیصلہ یہ ہے کہ اس کے سوا تم کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ خدا کے بعد سب سے بڑا حق ہوسکتا ہے تو والدین کا اپنی اولاد پر ہوسکتا ہے اس لیے کہ ان کی پیدائش اور پرورش و پرداخت کا وہ ذریعہ بنتے ہیں لیکن ان کا حق بھی اللہ نے یہ نہیں قرار دیا کہ وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

23۔ 1 اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد دوسرے نمبر پر والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے، جس سے والدین کی اطاعت، ان کی خدمت اور ان کے ادب و احترام کی اہمیت واضح ہے۔ گویا ربوبیت الٰہی کے تقاضوں کے ساتھ اطاعت والدین کے تقاضوں کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ احادیث میں بھی اس کی اہمیت اور تاکید کو خوب واضح کردیا گیا ہے، پھر بڑھاپے میں بطور خاص ان کے سامنے ' ہوں ' تک کہنے اور ان کو ڈانٹنے ڈپٹنے سے منع کیا ہے، کیونکہ بڑھاپے میں والدین تو کمزور، بےبس اور لا چار ہوتے ہیں، جب کہ اولاد جوان اور وسائل معاش پر قابض ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں جوانی کے دیوانے جذبات اور بڑھاپے کے سرد و گرم تجربات…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–24

12: آیت نمبر 19 میں فرمایا گیا تھا کہ آخرت کی بھلائی حاصل کرنے کے لیے بندے کو ویسی ہی کوشش کرنی ہے جیسی کرنی چاہیے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی طرف اشارہ تھا۔ اب یہاں سے ایسے کچھ احکام کی تفصیل بیان فرمائی جا رہی ہے جس کو سب سے پہلے توحید کے حکم سے شروع کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا۔ اس کے بعد کچھ احکام حقوق العباد سے متعلق بیان کیے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ ” تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ : تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو ، مگر صرف اس کی “۔ شرک کے بعد اب یہ حکم بھی دے دیا کہ بندگی بھی صرف اللہ کی کرو ، اور یہ حکم فیصلے کی صورت میں دیا گیا ہے۔ یعنی جس طرح فیصلہ ایک حتمی امر ہوتا ہے اور اس کی تعمیل ضروری ہوتی ہے ، اسی طرح اس حکم کی تعمیل بھی ضروری ہے۔ لفظ قضی سے حکم کو مزید تاکیدی کردیا گیا ، اس کے علاوہ نفی اور استثنی بذات خود ایک تاکیدی اور حصری انداز ہے کہ یہی کچھ ہو اور اس کے سوا کچھ نہ ہو۔ چناچہ انداز بیان کے اندر تاکید مزید کا طریقہ اختیار کیا گیا کیونکہ توحید فی العقیدہ اور توحید فی العبادۃ نہایت ہی اساسی مسائل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 خدا تو حقیقۃً بچہ کو وجود عطا فرماتا ہے، والدین اس کی ایجاد کا ظاہری ذریعہ ہیں۔ اس لیے کئی آیتوں میں خدا تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ والدین کے حقوق ذکر کیے گئے۔ حدیث میں آیا ہے کہ وہ شخص خاک میں مل گیا جس نے اپنے والدین کو پایا اور ان کی خدمت کر کے جنت حاصل نہ کی۔ " ایک حدیث میں فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ والدین کے ساتھ بھلائی کرنا یہ ہے کہ زندگی میں ان کی جان و مال سے خدمت اور دل سے تعظیم و محبت کرے۔ مرنے کے بعد ان کا جنازہ پڑھے، ان کے لیے دعاء و استغفار کرے۔ ان کے عہد تامقدور پورے کرے، ان کے دوستوں کے ساتھ تعظیم و حسن سلوک سے اور ان کے اقارب کے ساتھ صلہ رحمي سے پیش آئے وغیرہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 23 وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا اللہ کے حقوق کے فوراً بعد والدین کے حقوق ادا کرنے کی تاکید اس سے پہلے ہم سورة البقرۃ کی آیت 83 اور سورة النساء کی آیت 36 میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ اس کے بعد سورة لقمان کی آیت 14 میں یہی حکم چوتھی مرتبہ آئے گا۔ فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا اگر کبھی والدین کی بات کو ٹالنا بھی پڑجائے تو حکمت اور نرمی کے ساتھ ایسا کیا جائے۔ عقل اور منطق کے بل پر سینہ تان کر یوں جواب نہ دیا جائے کہ ان کا دل دکھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

23 اسلامی معاشرہ کے لئے چودہ بنیادی احکام تورات کی تعلیم کا خلاصہ :۔ اس آیت سے لے کر آگے پندرہ سولہ آیات میں ایسے بنیادی اصول و احکام بیان کیے جارہے ہیں جو ایک اسلامی معاشرہ کی تعمیر کے لیے بنیاد کا کام دیتے ہیں۔ اور جن پر مستقبل قریب میں ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جانے والی تھی۔ گویا یہ اسلامی ریاست کا دستور اساسی تھا جس کا مکہ کی آخری زندگی میں ہی اعلان کردیا گیا تھا کہ اس نئی ریاست کی بنیاد کن کن نظری، اخلاقی، معاشرتی، معاشی اور قانونی اصولوں پر رکھی جائے گی اور سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تورات کی ساری تعلیم کا خلاصہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بیان فرما دیا ہے۔ 24 توحید کا فیصلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

34۔ ماں باپ کی خدمت کرتے رہنا شریعت اسلامی کے اہم ترین واجبات میں سے ہے۔ تہذیب فرنگ کی طرح شریعت اسلامی کا یہ فتوی نہیں کہ لڑکا جب عاقل وبالغ اور صاحب اختیار ہوجائے تو بیوی کے ساتھ اپنا الگ گھر بار کرلے اور بوڑھے ماں باپ سے تعلق اگر رکھے بھی تو محض دور کا اور ضابطہ کا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” وبالوالدین احسانا “۔ یہ فقرہ جس میں خدمت والدین کا حکم ہے اس کا عطف اس فقرہ پر جس میں توحید اور منع شرک کا حکم ہے خود اس امر پر ایک دلیل ہے کہ شریعت میں خدمت والدین کا درجہ کتنا اہم وبلند ہے۔ بین اللہ تعالیٰ بھذہ الایۃ تاکید حق الابوین الامر بالاحسان الیھما الی الامر بالتوحید (جصاص) آیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–30

آیت نمبر 23 تا 30 ترجمہ : اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی بندگی نہ کرنا، اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا اس طریقہ پر کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں (اَحْدُھما، یَبْلُغَنَّ ) کا فاعل ہے اور ایک قراءت میں یَبْلُغان ہے، (اس صورت میں) احدھما، یَبْلُغان کے الف سے بدل ہوگا، تو تم ان سے، اُف، تک نہ کہنا، (اُفٍّ ) فاء کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ یا تنوین اور بغیر تنوین مصدر ہے، معنی میں تَبًّا اور قُبْحًا کے ہے، (یعنی تیرا ناس ہو اور برا ہو) اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے احترام کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، اور نرمی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا : اور تیرے رب نے قطعی حکم 1 ؂ دے دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی پوجا مت کرو اور ماں باپ کے ساتھ خوب اچھا سلوک کرو۔ قضاء یعنی قطعی حکم۔ حضرت ابن عباس ؓ ‘ قتادہ ‘ حسن اور ربیع بن انس نے اس جگہ یہی ترجمہ کیا ہے۔ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا اس لئے حکم دیا کہ ظاہری اسباب کے تحت ماں باپ ہی اولاد کے وجود اور زندگی کی علت ہیں۔ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا : اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(23) تیرے معبود برحق نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ اسی معبود برحق کی توحید کے قائل ہوجاؤ اور تم اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو اگر وہ تیرے پاس ہوں اور ان میں سے ایک یا دونوں کے دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو اس وقت بھی ان کے ساتھ قطعا کوئی نازیبا اور ادب کے خلاف گفتگو مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے ادب کے خلاف گفتگو مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے خوب نرمی کے ساتھ گفتگو کرنا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ : پچھلی آیت میں شرک سے منع فرمانے کے بعد صرف اپنی عبادت کی تاکید کے لیے لفظ ”قَضٰى“ استعمال فرمایا، جس میں انتہائی تاکید پائی جاتی ہے، کیونکہ فیصلہ قطعی ہوتا ہے اور وہ بدلا نہیں جاتا، چناچہ فرمایا ”قَضٰى“ یعنی قطعی حکم اور فیصلہ کردیا ہے کہ اس کے سو اکسی کی عبادت نہ کرو، یعنی صرف اس کے بندے بن کر رہو، غیبی قوتوں کا مالک صرف اس کو سمجھ کر اس سے مانگو۔ انتہائی درجے کی محبت اور خوف کے ساتھ انتہائی عاجزی صرف اس کے لیے اختیار کرو۔ تمہارے دل، زبان اور جسم کے ہر حصے کا اس طرح کا ہر فعل مثلاً قیام، سجدہ، رکوع اور قربانی بلکہ پوری زندگی ایسی عاجزی کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–24

آیت نمبر 23 تا 24 اس میں سولہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ قضیٰ اس کا معنی ہے امر (تیرے رب نے حکم دیا) ، الزم (اس نے لازم کیا) اور اوجب (اس نے واجب کیا) حضرت عباس، حسن اور قتادہ ؓ نے کہا ہے : یہ قضا حکم نہیں ہے بلکہ یہ قضا امر ہے۔ اور مصحف حضرت ابن مسعود میں ووصی ہے اور یہی آپ کے اصحاب کی قرات ہے اور حضرت ابن عباس ؓ کی بھی اور حضرت علی ؓ کی قرات ہے، اور اسی طرح ابی کعب ؓ کے نزدیک ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا : بلاشبہ ووصی ربک ہے پس دو واؤں میں سے ایک کو قاف سے بدل دیا اور اسے وقضٰی ربک پڑھا گیا کیونکہ اگر یہ قضا (حکم) ہوتا تو پھر کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور حکم عدولی نہ کرتا۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 23–25

1:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر اور ابن انباری نے مصاحف میں سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ نے (آیت) ” وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ واو مل گیا صاد کے ساتھ حالانکہ تم اس کو پڑھتے ہو (آیت) ” وقضی ربک “ (اصل میں ووصی تھا) (ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا) 2:۔ ابوعبید، ابن منیع، ابن منذر اور ابن مردویہ نے میمون بن مہران کے طریق سے ابن عباس ؓ سے فرمایا کہا اللہ تعالیٰ نے یہ حرف نازل فرمایا تمہارے نبی کریم ﷺ کی زبان پر (آیت) ” وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ “ نازل فرمائی دو واؤ میں سے ایک واؤ صاد کے ساتھ مل گئی مگر لوگوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَقَضٰى: اور فیصلہ کیا ] [رَبُّكَ : تیرے رب نے ] [اَلَّا تَعْبُدُوْٓا : کہ تم لوگ بندگی مت کرو ] [اِلَّآ : مگر ] [اِيَّاهُ : اس کی ہی ] [وَبِالْوَالِدَيْنِ : اور والدین کے ساتھ ] [اِحْسَانا : حسن سلوک کرنے کا ] [اِمَا : جب کبھی بھی ] [يَبْلُغَنَّ : پہنچ جائیں ] [عِنْدَكَ : تیرے پاس ] [الْكِبَرَ : بڑھاپے کو ] [اَحَدُهُمَآ : دونوں کا ایک ] [اَوْ : یا ] [كِلٰـهُمَا : دونوں کے دونوں ] [فَلَا تَـقُلْ : تو تو مت کہہ ] [لَّهُمَآ : ان دونوں سے ] [اُفٍّ : اف (بھی)] [وَّلَا تَنْهَرْ : اور تو مت جھڑک ] [هُمَا : ان دونوں کو ] [وَقُلْ : اور تو کہہ ] [لَّهُمَا : ان دونوں سے ] [قَوْلًا كَرِيْمًا : شریفانہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

والدین کے ساتھ حسن سلوک اور شفقت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم اس آیت کریمہ میں حق سبحانہ و تعالیٰ نے اول تو یہ حکم فرمایا کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو، انبیاء ( علیہ السلام) کی تمام شرائع کا سب سے بڑا یہی حکم ہے اور اس حکم کی تعمیل کرانے کے لیے اللہ جل شانہ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو بھیجا، اور کتابیں نازل فرمائیں اور صحیفے اتارے اللہ جل شانہ کو عقیدہ سے ایک ماننا اور صرف اسی کی عبادت کرنا اور کسی بھی چیز کو اس کی ذات وصفات اور تعظیم و عبادت میں شریک نہ کرنا خداوند قدوس کا سب سے بڑا حکم ہے۔ دوم : یہ فرمایا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو، اللہ جل شانہ خالق ہے، اسی نے سب کو وجود بخشا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–38

تفصیل اعمال آخرت و احکام ہدایت قال اللہ تعالیٰ : وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ .... الیٰ .... کل ذلک سیۂ عند ربک مکروھا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں آخرت کی سعی اور اس کی جدوجہد کا بیان تھا کہ جو آخرت کے لیے سعی کرے گا ہم اسے آخرت کی نعمتیں عطا کریں گے اب ان آیات میں ان اعمال کی تفصیل فرماتے ہیں کہ جن کے ذریعہ انسان آخرت کی نعمتیں حاصل کرسکے اور ان احکام کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ انسان ہدایت حاصل کرسکے اور آخرت کی سعی اور جدوجہد کا ذریعہ یہ اعمال ہیں اور ان احکامات کو توحید ہی سے شروع کیا اور توحید ہی پر ختم کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام گناہوں میں شرک بڑے درجہ کا گناہ ہے اور درمیان میں زیادہ تر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–24

22:۔ ” و قضی ربک “ تا ” عند ربک مکروھا “ (رکوع 4) ۔ چونک معجزہ اسراء کے بعد انکار توحید پر عذاب الٰہی آنے والا تھا اس لیے اب یہاں دفع عذاب کے لیے امور ثلاثہ کا ذکر کیا گیا یعنی شرک نہ کرو، احسان کرو اور طلم نہ کرو۔ ” وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ “ میں امر اول کا ذکر ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کی عبادت اور پکار میں کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ۔ یہ دلائل ماقبل کا ثمرہ بھی ہے یعنی مزکورہ بالا دلائل عقل و نقل اور وحی سے ثابت ہوگیا کہ کارساز اور متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا اس کے سوا کسی نبی مرسل، کسی ملک مقرب اور کسی ولی کامل کے لیے کسی قسم کی عبادت بجا نہ لاؤ اور نہ اس کے سوا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–25

ربط آیات : دیگر مکی سورتوں کی طرح سورة بنی اسرائیل میں بنیادی طور پر چار بنیادی باتیں بیان کی گئی ہیں یعنی قرآن پاکی صداقت وحقانیت ، توحید باری تعالیٰ ، رسالت اور وقوع قیامت ، ان مضامین کے علاوہ سورة ہذا کی ابتدائی آیت میں معراج کا واقعہ بیان ہوا ہے ، چونکہ یہ سورة واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی ، اس لیے اس میں آگے چل کر ہجرت کے متعلق بھی ذکر آتا ہے ، توحید باری تعالیٰ کا تذکرہ گذشتہ آیت میں بھی آچکا ہے ، (آیت) ” لاتجعل مع اللہ الھا اخر “ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ بناؤ اب یہاں سے شروع کرکے پورے دو رکوع میں سورة کا مرکزی مضمون بیان ہو رہا ہے ، اللہ تعالیٰ نے یہاں پر پندرہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۭ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا 23؀ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 23–30

ترکیب : الامخفف ان لایھ تفسیر ہے قضی کی وبالوالدین معطوف ہے الاتعبدوا پر ای قضی بالوالدین تقدیرہ و بان تحسنوا بالوالدین احسانا، امایبلغن اما ان ماتھا ان شرطیہ مازائدہ تاکید کے لیے یبلغن فعل شرط فلا تقل جواب۔ اُف اسم الفعل الذی ھوالتضجرو ھو مبنی علی الکسر لالتفاء الساکنین وتنوینہ فی قرأۃ نافع وحفص للتنکیر و من فتح طلب التخفیف مثل رب و من اتبع و من لم ینوں اراد التعریف۔ جناح الذل بالضم ضد العزو بالکسر ضدالصعوبۃ ھوالانقیاد وجعل للذل جناحاً کمافی قول لبید۔ وغداۃ ریحٍ قد کشفت وقرۃٍ اذا اصبحت بیدالشمال زمامہا للشمال یدوللقرۃ رمام تفسیر : دارِآخرت کی سعی کا مجملاً ذکر ہوا ہے اب یہاں اس کی تفصیل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا ط اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُھُمَآ اَوْکِلٰـہُمَا فَلاَ تَقُلْ لَّـہُمَآ اُفٍّ وَّلاَ تَنْھَرْھُمَا وَقُلْ لَّـھُمَا قَوْلاً کَرِیْمًا۔ وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰـنِیْ صَغِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 23۔ 24) ( اور تیرے رب کا فیصلہ یہ ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو، اور ماں باپ کے ساتھ نہایت اچھا سلوک کرو، اگر وہ تیرے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں ان میں سے ایک یا دونوں تو نہ ان کو اُف کہو اور نہ ان کو جھڑکو، اور ان سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–25

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی توحید اور عبادت کے بعد والدین کا احترام اور تابعداری کرنے کا حکم۔ البقرۃ آیت 83 کی تفسیر کرتے ہوئے عرض کیا ہے : ہر دور میں دین کے بنیادی ارکان و احکام ایک اور ان کی ترتیب بھی ایک جیسی ہی رہی ہے۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنا ہے۔ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اللہ کے حق کے بعد والدین کی تابعداری اور ان کے ساتھ احسان کرنا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ رب اور خالق ہے لیکن اس نے اپنی تخلیق اور ربوبیت کا ذریعہ والدین کو بنایا ہے۔ اس لیے اپنی ذات کے بعد اس نے اس مقدس رشتہ کو تقدیس و تکریم دیتے ہوئے ہدایات فرمائیں کہ اولاد کو چاہیے کہ اپنے والدین کے ساتھ ہر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

والدین کے ساتھ حسن سلوک : 23: وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُ وْا اِلَّا اِیَّاہُ (اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ سوائے اس کے کسی کی عبادت مت کرو) قضٰی کا معنی ہے قطعی حکم دینا۔ الا تعبدواؔ میں اَنْ مفسرہ ہے لاتعبدوا نہی ہے۔ نمبر 2۔ یہاں باءؔ محذوف ہے۔ بِاَلَّا تَعْبُدُوْا تیرے رب نے اپنی ہی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا (اور تم ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو) نمبر 1۔ احسانًا یہ فعل محذوف اَحْسِنُوْا کا مفعول ہے۔ ای بالوالدین احسانا نمبر 2۔ باءؔ کے ماتحت ای بان تحسنوا بالوالدین احسانا اور والدین کے ساتھ تم احسان کرنا۔ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ (اگر تیرے پاس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23۔” وقضی ربک “ اور آپ کے رب ین حکم دیا ۔ ابن عباس ؓ ، قتادہ ، حسن کا قول ہے کہ ربیع بن انس نے فرمایا تمہارے رب نے تمہارے اوپر واجب کیا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ تمہارے رب نے وصیت کی ۔ ضحاک بن مزاحم سے حکایت کی ہے کہ انہوں نے اس کو پڑھا ہے۔” ووصی ربک “ اور انہوں نے کہا کہ وائو کے صاد ذکر کیا ، وائو کو قاف سے بدل دیا ۔ ” الا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا ً “ والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ۔ ” اما یبلغن عندک الکبر “ حمزہ اور کسائی نے الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” احدھما اوکلاھما “ یہ جملہ مستأئفہ ہے۔” م عمواو صموا کثیرا ً منھم “ اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ”…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–27

23۔ 27:۔ سب سے بڑھ کر تو آدمی پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو پیدا کیا ہے پھر جب ماں کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو اس کی ہر طرح کی پرورش اور تربیت دنیا میں ماں باپ کے سبب سے ہوتی ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کے حق کے ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور ماں باپ کا دنیوی حق یہ ذکر فرمایا ہے کہ ان کے ساتھ ان بڑھاپے میں حسن سلوک سے پیش آوے اور دینی حق یہ فرمایا ان کے لیے دعا خیر کرتا رہے اگر ماں باپ کفر کی حالت میں مرجاویں اور اولاد مسلمان ہو تو ایسے ماں باپ کے لیے دعائے مغفرت بموجب آیت (ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–24

آیت نمبر 23 اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک سے منع کرنے کے بعد توحید کا حکم دیا ہے، چناچہ فرمایا : (وقضیٰ ربک) ، ، آپ کے رب نے (دینی) فیصلہ کردیا، ور شرعی حکم دے دیا ہے۔ (الا تعبدو) ، ، کہ تم عبادت نہ کرو۔ ، ، یعنی زمین اور آسمان کے رہنے والوں، زندوں یا مردوں میں سے کسی کی عبادت نہ کرو۔ (الا ایاہ) ، ، مگر صرف اس کی، ، کیونکہ وہ واحد اور یکتا، فرد اور بےنیاز ہے۔ جو ہر صفت کمال کا مالک ہے۔ اس کی ہر صفت کامل ترین ہے اور مخلوق میں کوئی ہستی اس کی کسی صفت میں کسی بھی پہلو سے مشابہت نہیں کرسکتی وہ منعم ہے ظاہری اور باطنی نعمتوں سے وہی نوازتا ہے وہی تمام تکالیف کو دور کرتا ہے، وہ خالق رازق اور تمام امور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان قول باری ہے (وقصی ربک الا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احساناً تمہارے رب نے فیصلہ دیا ہے کہ تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو۔ مگر صرف اس کی اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو) قول باری (اقضی ربک) کے معنی ہیں ” امر ربک تمہارے رب نے حکم دیا ہے ) اسی طرح تمہارے رب نے والدین کے ساتھ نیک سلوک کا حکم دیا ہے۔ “ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں۔ ” و اوصی بالوالدین احساناً (اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی ہے۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ دونوں ہم معنی ہیں اس لئے کہ وصیت کے معنی بھی امر اور حکم کے ہیں۔ اللہ نے اپنی کتاب میں والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کی متعدد مقامات پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 22–24

46۔ فوز آخرت سے سرفرازی کی اساس عقیدہ توحید :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور (خبردار ! ) اللہ کے ساتھ کوئی معبود کبھی نہ بنانا “ کیونکہ معبود برحق اور کارساز حقیقی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ اس سے جب منہ موڑ لیا۔ والعیاذ باللہ۔ تو پھر بدحالی اور بیکسی کے سوا اور رہ ہی کیا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو جس کسی نے بھی اسکے ساتھ کوئی اور فرضی اور خود ساختہ معبود ٹھہرا لیا اس نے بڑے ہی سنگین اور ہولناک جرم کا ارتکاب کیا۔۔ والعیاذ باللہ۔ سو قرآن کریم جس طریق اقوام اور صراط مسقیم کی دعوت دینا ہے اس کی اولین اساس اور بنیادی دفعہ یہ ہے کہ خداوند قدوس کے ساتھ اور کسی کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–39

بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–30

(رکوع نمبر 3) اسرار و معارف حقوق اللہ میں سب سے مقدم توحید ہے کہ جس نے توحید باری کو ہی کھو دیا اور عقیدہ درست نہ رکھا وہ بھلا اور کیا اطاعت کرسکے گا اور حقوق العباد میں سب سے پہلا والدین کا ہے کہ تیرے پروردگار نے یہ طے فرما دیا کہ اس کی ذات کے علاوہ کسی کی عبادت مت کر اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو ، (ماں باپ کے حقوق) جس طرح کتاب اللہ میں والدین سے حسن سلوک کا حکم ہے اسی طرح حدیث شریف میں اس کے بےپناہ فضائل ارشاد ہوئے ہیں ، بلکہ یہاں تک ارشاد ہے کہ والدین تیری جنت یا دوزخ ہیں یعنی ان کی اطاعت میں جنت اور بےادبی میں دوزخ ہے اور یہ بھی ارشاد ہے کہ سب گناہوں کی سزا مؤخر ہو سکتی ہے مگر والدین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 22–23

ف 15 بظاہر خطاب تو آنحضرت کو ہے لیکن مراد آپ کی امت کو سمجھاتا ہے کہ شرک معاف نہیں ہوگا اور ہر مشرک اللہ کے ہاں ذلیل و خوار ہوگا۔16 یعنی قطعی حکم دیا اور فیصلہ کردیا ہے۔17 یا اس کے سوا کسی کے بندے بن کر نہ رہو۔ اسلام میں عبادت کا مفہوم پوجا کا بھی ہے اور بندگی کا بھی۔ 1 ماں باپ چاہے بوڑھے ہوں یا جوان، ہرحال میں ان کا ادب کرنا اور ان سے نرمی سے بات کرنا فرض اور انہیں جھڑکنا گناہ ہے۔ مگر چونکہ بڑھاپے میں خدمت کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اور مزاج میں چڑ چڑا پن پیدا ہوجاتا ہے بلکہ بسا اوقات زیادہ بڑھاپے کی وجہ سے ہوش و حواس بھی ٹھکانے نہیں رہتے اس لئے خاص طور پر بڑھاپے کا ذکر فرمای اگیا۔2 جو اکتاہٹ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:23) قضی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ قضاء وقضاء مصدر۔ قضا قولی ہو یا عملی۔ بشری ہو یا الٰہی۔ بہرحال اس میں فیصلہ کردینا یا فیصلہ کرلینا۔ کسی بات کے متعلق ارادہ کرلینا۔ حکم دینا۔ یا عمل کو ختم کردینا۔ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ صلہ یا سیاق کی مناسبت سے اس کے مختلف معانی ہیں۔ حکم دینا۔ پورا کرنا۔ عزم کرنا۔ فیصلہ کرنا۔ مقدر کرنا۔ مقرر کرنا۔ قضی حاجتہ ضرورت پوری کرنا اور اس سے فارغ ہونا قضی وطرہ اپنی حاجت پوری کرلی۔ اپنی مراد پالی۔ قضی زید منھا وطرا۔ (33:37) زید کا دل اس عورت سے بھر گیا۔ یعنی بےتعلق ہوگیا۔ اس نے طلاق دے دی) قضی نجہ مرجانا۔ کنایۃً موت مراد ہے اصل استعمال منت پوری کرنا کے لئے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–25

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 25 قضیٰ فیصلہ کردیا، حکم دیا۔ ایاہ اسی کا۔ احسان نیکی، حسن سلوک۔ یبلغن وہ پہنچ جائیں۔ الکبر بڑھاپا۔ کلاھما وہ دونوں۔ لاتقل تم مت کہو۔ لاتنھر نہ ڈانٹو، نہ جھڑکو۔ اخفض جھکا دے۔ جناح بازو۔ الذل عاجزی، انکساری۔ ربینی مجھے پرورش کیا، پالا۔ صغیر چھوٹا پن، بچپن۔ نفوس دل ، جانیں۔ اوابین لوٹنے والے، رجوع کرنے الے۔ غفور بخشنے والا، معاف کرنے والا۔ تشریح : آیت نمبر 23 تا 25 اس سورت میں معراج النبی ﷺ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور ان پر عذاب الٰہی اور چند انتہائی ضروری بنیادی باتوں کے بعد آنے والے دورکوعوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے ساتھ ساتھ آدمی کے والدین، اعزاء و اقرباء سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ان تمام آیتون کا مطلب یہ ہے کہ سب سے بڑھ کر تو آدمی پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو پیدا کیا اور بیشمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ پھر آخرت میں بھی اسی سے امید ہے۔ اللہ کے بعد دنیا میں انسان کے وجود کا مجازی سبب اور منعم اور محسن ماں باپ ہیں۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کے حق کے ادا کرنے کی تاکید فرمائی کہ ماں باپ کے ساتھ احسان کرو۔ احسان کا لفظ ایسا وسیع المعنی ہے کہ اس میں سب کچھ آگیا مگر اس کی کسی قدر تشریح بھی فرما دی ہے کہ تیری زندگی میں تیرے ماں باپ یا دونوں میں سے ایک بوڑھے ہوجائیں، پس ایسے وقت میں ان کا زیادہ لحاظ کرنا چاہیے اور ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–25

[20] یعنی ان کی کوئی بات کتنی ہی ناگوار گزرے مگر حرف شکایت زبان پر نہ لاؤ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–26

(ف 1) ان آیتوں میں وہ چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ، توحید کا اور والدین کی اطاعت اور آداب کا ، اس لئے کہ ان دونوں میں ایک قسم کی نسبت اور مشابہت کا ، والدین کی پرورش ، ان کی شفقت و محبت ربوبیت کبری سے مشابہ ہے ، جو شخص والدین کا اطاعت شعار ہے وہ ربوبیت کبری کا بھی پہچان سکے گا ، جس کا نام توحید ہے ، اور جو والدین کا مطیع وفرمانبردار نہیں ، جو عارضی ربوبیت سے غافل ہے ، وہ اصلی رب کا بطریق اولی منکر ہوگا ، یعنی جو خدا پرست ہے ، وہ حقوق انسانی کی نگہداشت کرسکے گا ، اور جس کے دل میں اللہ کا ڈر نہیں ، وہ انسانی فرائض کو کیونکر محسوس کرسکتا ہے ؟ جو انسان کا شکر گزار نہیں ، وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-23 اور اے مخاطب تیرے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ بجز اس معبود برحق کے کسی کی پوجا نہ کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو اور اگر ان میں سے ایک یا دونوں کے دونوں تیرے پاس اور تیرے سامنے پڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اس وقت بھی ان کو ہوں تک نہ کہہ اور نہ ان کو جھڑک اور ان سے جو بات کہہ نہایت نرمی اور ادب سے کہہ۔ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرا معبود بنانے کو منع فرمایا۔ اس آیت میں اسی کی تاکید فرمائی کہ سوائے معبود برحق کے کسی دوسرے کی عبادت نہ کرو عبادت انتہائی تذلل کو کہتے ہیں۔ اس عبادت کا وہی مستحق ہے جو نہایت عظمت کا مالک ہو اور یہ ظاہر ہے کہ انتہائی عظمت کا وہی مالک ہے لہٰذا…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

منشور اسلامی کی اصل اول کا اعلان عام : 29۔ ” اور تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو مگر صرف اس کی “ عبادت کے معنی عام طور پر وہ چند مخصوص اعمال سمجھے جاتے ہیں جن کو انسان اللہ کی عظمت اور کبریائی کے لئے بارگاہ صمدی میں بجا لاتا ہے لیکن یہ عبادت کا نہایت تنگ مفہوم ہے اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے انسانوں پر جو حقیقت ظاہر فرمائی اس کا اصل جوہر یہ نہیں ہے کہ گزشتہ مذاہب کی عبادت کے طریقوں کی بجائے اسلام میں عبادت کے دوسرے طریقے مقرر کردیئے گئے بلکہ یہ ہے کہ انسانوں کو بتایا گاہ کہ عبادت کی حقیقت اور غایت کیا ہے ؟ اور ساتھ ہی عبادت کے گزشتہ ناقص…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary It is very important to respect and obey parents Imam al-Qurtubi says that, in this verse (23), Allah Ta` ala has made it necessary (wajib) to respect and treat parents well by combining it with the command to worship Him. This is similar to what has been said in Surah Luqman where the inevitable need to thank Him has been combined with the need to thank one's parents: أَنِ اشْكُرْ‌ لِي وَلِوَالِدَيْكَ (Be grateful to Me, and to your parents - 31:14). This proves that, after the obligation of worshipping the most exalted Allah, obeying parents is most important and being grateful…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–24

25. In the succeeding verses, those main basic principles have been put forward on which Islam desires to build the entire structure of human life. These form the manifesto of the invitation of the Prophet (peace be upon him) declared by him at the end of the Makki stage of his mission, and the eve of the new stage at Al-Madinah so that it should be known to all that the new Islamic society and state were going to be built on such and such ideological, moral, cultural economic and legal principles. (Please also refer to (Ayats 151-153 and E.Ns thereof of Surah Al-Anaam). 26. This commandment…

Read the full tafseer →