فاقہ اور انسان
یہ خطاب ہر ایک مکلف سے ہے۔ آپ کی تمام امت کو حق تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو ذلیل ہوجاؤ گے اللہ کی مدد ہٹ جائے گی۔ جس کی عبادت کرو گے اسی کے سپرد کر دئے جاؤ گے اور یہ ظاہر ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان کا مالک نہیں وہ واحد لا شریک ہے۔ مسند احمد میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جسے فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اسے بند کروانا چاہے اس کا فاقہ بند نہ ہوگا اور جو اللہ سے اس کی بابت دعا کرے اللہ اس کے پاس تونگری بھیج دے گا یا تو جلدی یا دیر سے۔ یہ حدیث ابو داؤد و ترمذی میں ہے۔ ترمذی ؒ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 24
دوسرا ترجمہ اس فقرے کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور خدا نہ گھڑ لے، یا کسی اور کو خدا نہ قرار دے لے۔
Read the full tafseer →ربط آیات
سابقہ آیات میں قبول اعمال کے لئے چند شرائط کا بیان آیا ہے جن میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ عمل مقبول وہی ہوسکتا ہے جو ایمان کے ساتھ ہو اور شریعت وسنت کے مطابق ہو ان آیات میں ایسے ہی خاص خاص اعمال کی ہدایت کی گئی ہے جو شریعت کے بتلائے ہوئے احکام ہیں ان کے تعمیل آخرت کی فلاح اور ان کی خلاف ورزی آخرت کی ہلاکت کا سبب ہے اور چونکہ شرائط مذکورہ میں سب سے اہم شرط ایمان کی ہے اس لئے سب سے پہلا حکم بھی توحید کا بیان فرمایا اس کے بعد حقوق العباد سے متعلقہ احکام ہیں۔
خلاصہ تفسیر
حکم اول توحید لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ (اے مخاطب) اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود مت تجویز کر (یعنی شرک نہ…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 22 تا 39:۔ وپر آپ نے دیکھا کہ آیت 9 میں یہ فرما کر کہ اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ۔۔۔ الایۃ (یہ قرآن اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سیدھا ہے) کلام کا رخ بعض دوسری متعلق باتوں کی طرف مڑ گیا تھا۔ اب پھر کلام اپنے اصل سلسلہ سے مربوط ہوگیا اور قرآن خدا تک پہنچنے کے جس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے اس کی وضاحت شروع ہوگئی۔ یہی راستہ فطرت اور عقل کا سیدھا راستہ ہے اور یہی اس عدل و احسان کی زندگی کو جود میں لاتا ہے جو خدا کو پسند ہے اور جس پر صالح معاشرہ اور صالح تمدن کی بنیاد ہے۔ یہاں سورة نحل کی آیت 90 ذہن میں پھر تازہ کرلیجیے جس میں قرآن کے اوامر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
21۔ 1 تاہم دنیا کی چیزیں کسی کو کم، کسی کو زیادہ ملتی ہیں، اللہ تعالیٰ اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق یہ روزی تقسیم فرماتا ہے۔ تاہم آخرت میں درجات کا یہ تفاضل زیادہ واضح اور نمایاں ہوگا اور وہ اس طرح کہ اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر جہنم میں جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
12: آیت نمبر 19 میں فرمایا گیا تھا کہ آخرت کی بھلائی حاصل کرنے کے لیے بندے کو ویسی ہی کوشش کرنی ہے جیسی کرنی چاہیے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی طرف اشارہ تھا۔ اب یہاں سے ایسے کچھ احکام کی تفصیل بیان فرمائی جا رہی ہے جس کو سب سے پہلے توحید کے حکم سے شروع کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا۔ اس کے بعد کچھ احکام حقوق العباد سے متعلق بیان کیے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →اس سورت کے پہلے سبق میں عمل و مکافات عمل کے اصولوں اور ہدایت و ضلالت کے قوانین اور کسب اور حساب کی ذمہ داریوں کو کائناتی اصولوں اور طبعی قوانین اور گردش لیل و نہار سے مربوط کیا گیا تھا۔ اس سبق میں انسانی طرز عمل ، اخلاق وآداب اور انفرادی اخلاق اور اجتماعی طرز عمل اور قوانین کو اسلامی نظریہ حیات کے اساسی اصول و عقائد یعنی توحید الٰہی کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ چناچہ تمام انفرادی اور اجتماعی روابط کی اساس یہی عقیدہ توحید ہے ، جو ایک مضبوط رسی ہے۔ اور یہی ایک خاندان اور ایک سو سائٹی کی اجتماعی زندگی کی اساس اور رابطہ ہے۔
درس سابق میں کہا گیا تھا کہ یہ قرآن بالکل ایک سیدھی راہ کی طرف ہدایت اور…
Read the full tafseer →4 یعنی شرک ایسی ظاہر البطلان چیز ہے جس کے اختیار کرنے پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے، بلکہ دنیا کے ہر عقلمند کے نزدیک تم مذموم و ملزم ٹھہرو گے۔ چناچہ آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ جن مذاہب میں شرک صریح کی تعلیم تھی وہ بھی دانش مندوں کی سوسائٹی میں جگہ حاصل کرنے کے لیے اپنی ترمیم و اصلاح کر کے آہستہ آہستہ توحید کی طرف قدم اٹھا رہے ہیں۔ ہر ایک عاقل یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ اشرف المخلوقات انسان کے لیے یہ چیز سخت ذلت و رسوائی کی موجب ہے کہ اپنے سے کمتر یا کسی عاجز مخلوق کے سامنے سربسجود ہوجائے۔ خصوصاً ان چیزوں کے سامنے دست سوال دراز کرے جو خود اسی کی تراشی ہوئی ہیں۔ جو آدمی خدا کو چھوڑ کر…
Read the full tafseer →آیت 22 لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا
آئندہ دو رکوع اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں تورات کے احکام عشرہ Ten Commandments کو قرآنی اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کے نزدیک ان احکام کے اندر تورات کی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ ان احکام کا خلاصہ ہم سورة الانعام کے آخری حصے میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ یہاں پر وہی باتیں ذرا تفصیل سے بیان ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →22 شرک کی مذمت اور مشرکوں کی حسرت :۔ اس آیت میں شرک، مشرکوں اور ان کے معبودوں کی ایک نئے انداز میں مذمت بیان کی گئی ہے۔ جو یہ ہے کہ دنیا میں جتنے معبودوں سے حاجت روائی یا مشکل کشائی کی دعا یا آرزو کی جاتی ہے وہ یا تو بےجان ہیں یا جاندار۔ بےجان تو بالکل بےدست و پا اور انسان کے خود تراشیدہ ہیں۔ وہ تو خود انسانوں کے محتاج ہیں وہ ان کی کیا مدد کرسکتے ہیں اور جو جاندار ہیں وہ اللہ کے مطیع فرمان اور اس کے آگے مجبور محض ہیں۔ لہذا تمہاری مدد کرنا ان کے بس سے باہر ہے۔ اب جو شخص ان سے توقعات تو بڑی بڑی وابستہ کیے بیٹھا ہو۔ لیکن مصیبت کے وقت ان کے معبود ان کی کچھ بھی مدد نہ کرسکیں تو اس کی یاس و حسرت کا…
Read the full tafseer →33۔ شرک کی ایک نمایاں قباحت اس دنیا میں تو یہ نظر آتی ہے کہ انسان توحید سے کٹ کر بالکل بےسہارے اور بےیارومدد گار رہ جاتا ہے۔ اور آخرت میں بھی بےکسی اور بےبسی متشکل ہو کر خود مشرک کے سامنے آجاتی ہے۔ (آیت) ” فتقعد “۔ قعود سے یہاں مراد جسم کی وہ وضع وہیئت نہیں جو کھڑے ہونے یا لیٹنے سے متمایز ہے بلکہ جیسے اردو محاورہ میں ” بیٹھ رہنے سے “ مراد صرف ناخوشگوار حالت میں پڑے رہ جانے سے ہوتی ہے جیسے ان فقروں میں ” صدمہ تو بہت ہوا لیکن کرتے کیا روپیٹ کر بیٹھ رہے “” تھک کر بیٹھ رہے۔ “ اسی طرح عربی محاورہ میں بھی قعود کسی بری حالت کے مستمر ہوجانے کے موقع پر آتا ہے۔ معناہ المکث اے متمکث فی الناس مذموما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
آیت نمبر 11 تا 22
ترجمہ : اور انسان جب تنگ دل ہوجاتا ہے تو اپنے اہل و عیال کیلئے اسی طرح بد دعاء کرتا ہے جس طرح وہ ان کیلئے دعاء خیر کرتا ہے اور ہر انسان اپنے لئے بددعاء کرنے میں جلد باز اور نا عاقبت اندیش واقع ہوا ہے اور ہم نے رات اور دن کو ہماری قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں بنایا، تو ہم نے رات کی نشانی کی تاریک بنایا یعنی ہم نے اسکے نور کو ظلمت سے مٹا دیا، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو اور (آیۃ اللیل) میں اضافت بیانیہ ہے، اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا، یعنی ایسی کہ اس میں روشنی کی وجہ سے نظر آسکے، تاکہ تم کسب کے ذریعہ اس میں اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو، اور تاکہ تم انکے ذریعہ سالوں…
Read the full tafseer →لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا : اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود مت تجویز کرو
ورنہ بدحال ‘ بےمددگار ہو کر بیٹھ رہو گے خطاب اگرچہ رسول اللہ ﷺ : کو ہے مگر مراد خطاب امت ہے (کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق تو احتمال شرک کیا ہی نہیں جاسکتا تھا) یا ہر شخص مخاطب ہے یعنی اے انسان تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔
فَتَقْعُدَیعنی تو ہوجائے گا ‘ قعود کا معنی اس جگہ ہوجانا ہے ایک محاورہ ہے شَحَذَ الشَّفْرَۃَ حَتّٰی قَعَدَتْ کَاَنَّہَا حَرْبَۃٌ اس نے دھار کو تیز کیا یہاں تک کہ وہ چھوٹے برچھے کی طرح ہوگئی۔ یا فَتَقْعُدَسے مراد ہے عاجز ہوجاؤ گے (عاجز ہو کر بیٹھ…
Read the full tafseer →(22) اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود تجویز کر ورنہ صاحب ملامت ہوجائے گا کہ خود ہی اپنے آپ کو ملامت کرے گا اور پروردگار حقیقی تجھ کو ذلیل کر دے گا۔
Read the full tafseer →فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۔۔ : ”مَّخْذُوْلًا“ وہ ہے جس کی مدد وہ چھوڑ دے جس سے اسے مدد کی امید ہو۔ اس آیت میں تمام اعمال کی بنیاد شرک سے پاک ہونا بیان فرمائی گئی ہے۔ بظاہر مخاطب نبی کریم ﷺ ہیں، مگر درحقیقت ہر انسان اس کا مخاطب ہے، کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ سے شرک کا صدور کیسے ہوسکتا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ بالفرض اگر اللہ کے ساتھ شریک بنانے کا فعل رسول اللہ ﷺ سے بھی سرزد ہوجائے تو پھر آپ کی بھی کوئی تعریف کرنے والا ہوگا نہ کوئی مدد کرنے والا، بلکہ ہر ایک مذمت ہی کرے گا۔ دیکھیے سورة زمر (64 تا 67) ، حج (31) ، مائدہ (72) اور نساء (116)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
آیت نمبر 20 تا 22
قولہ تعالیٰ : کلا نمدھٰؤلآء وھولآء من عطآء ربک تو یہ جان لے کہ وہ مومنوں اور کافروں سبھی کو رزق دیتا ہے۔ وماکان عطآء ربک محظورًا یعنی آپ کے رب کی عطا کسی کے لئے ممنوع اور بند نہیں ہے : محظور یہ حظر یحظر حظرا وحظارًا سے ماخوذ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انظر کیف فضلنا بعضھم علیٰ بعضٍ دیکھو ! ہم نے رزق اور عمل میں بعض کو بعض ہر کیسے فضیلت دی، پس ان میں سے تنگ دست بھی ہیں اور خوشحال ودولتمند بھی (اسی طرح عمل کے اعتبار سے کچھ کمزور ہیں اور کچھ اعلیٰ ۔ ) وللاٰخرۃ اکبردرجٰت واکبر تفضیلاً یعنی مومنوں کے لئے آخرت باعتبار دو وجہوں کے سب سے بڑی اور باعتبار قضل وکرم کے سب سے اعلیٰ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مذموما “ سے مراد ہے ملامت کیا ہوا۔
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فتقعد مذموما “ ورنہ اللہ کی سزا میں ملوم ہوجاوگے (آیت) ” مخذولا “ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب میں (بےیارومددگار ہوجاؤ گے )
Read the full tafseer →[لَا تَجْعَلْ : تو مت بنا ] [مَعَ اللّٰهِ : اللہ کے ساتھ ] [اِلٰـهًا اٰخَرَ : کوئی دوسرا الٰہ ] [فَتَقْعُدَ : ورنہ تو بیٹھ رہے گا ] [مَذْمُوْمًا : مذمت کیا ہوا ] [مَّخْذُوْلًا : بےبس کیا ہوا ]
Read the full tafseer →آخر میں شرک اور اصحاب شرک کی مذمت فرمائی اور توحید اختیار کرنے اور توحید پر جمنے کا حکم فرمایا، ارشاد ہے (لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ ) (اے مخاطب تو اللہ کے ساتھ کسی کو بھی معبود مت بنا) (فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا) (ورنہ تو اس حال میں بیٹھ رہے گا کہ تو مذموم ہوگا اور مخذول ہوگا) یعنی قیامت کے دن بدحال لوگوں میں شمار ہوگا اور وہاں کوئی یار و مددگار نہ ہوگا توحید کو چھوڑنے کی وجہ سے وہاں کی عاجزی، بےبسی اور بےکسی اور بدحالی سامنے آجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–22
بیان سعادت و شقاوت و ہدایت و ضلالت وطالبین دنیا و طالبین آخرت
قال اللہ تعالیٰ : وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ .... الیٰ .... فتقعد مذموما مخذولا۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ لیل و نہار اس کی قدرت کا کرشمہ ہیں اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ اسی طرح سمجھ لو کہ سعادت و شقاوت اور ہدایت و ضلالت سب اسی کی قدرت کے کرشمے ہیں جس طرح ظاہری نور اور ظلمت اس کے اختیار میں ہے اسی طرح باطنی نور اور ظلمت بھی اسی کے اختیار میں ہے اور سب مقدر ہوچکی ہے جن کا ظہور قیامت کے دن ہوگا پھر یہ بتلایا کہ جنہوں نے انبیاء و رسل کا مقابلہ کیا وہ ہلاک اور برباد ہوئے لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ ان نستیوں کو دیکھ کر جن پر…
Read the full tafseer →21:۔ جواب شہبہ اور ترغیب الی الاخرہ کے بعد دعوی توحید کا اعادہ کیا گیا۔ خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے اور مراد ساری مخلوق ہے یا خطاب ہر سامع سے ہے بقاعدہ خطاب خاص و مراد عام۔ قرآن مجید میں بہت سی جگہوں میں ایسا ہے۔ والخطاب فی لا تجعل للسامع غیر الرسول وقال الطبری وگیرہ الخطاب لمحمد ﷺ ولمراد لجمیع الخلق (بحر ج 6 ص 22) ۔ ” فتقعد مذموما مخذولا “ تخویف دنیوی یا اخریوی ہے اور یہ نہی کا جواب ہے یعنی اگر تو اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا کارساز اور حاجت روا بنائے گا تو دنیا میں ذلت کے ساتھ کس مپرسی کی زندگی گذارے گا اور جن کو تو نے اپنے مددگار سمجھا ہے وہ تیری مدد نہیں کرسکیں گے (کشاف) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے قوموں کو ہلاکت کا فلسفہ بیان فرمایا کہ پہلے ہم ان کی طرف رسول بھیج کر حجت تمام کرتے ہیں ، پھر جب بستی کو ہلاک کرنا مقصود ہوتا ہے ان کی طرف اپنا حکم بھیجتے ہیں ، جب وہ احکام الہی کا انکار کرتے ہیں تو ان پر بات ثابت ہوجاتی ہے تو وہ ہلاک دیے جاتے ہیں ، اللہ نے بطور مثال فرمایا کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کے بعد بہت سی قوموں کو ہلاک کیا ، وہ کفر ، شرک اور معاصی کا شکار ہوچکے تھے ، انبیاء کرام کی تکذیب کرتے تھے ان کے اس فسق کی وجہ سے اللہ نے انہیں سزا دی فرمایا تمہیں سابقہ اقوام کے حالات سے عبرت حاصل کرنی چاہئے ،
(دنیا طلبی)
اللہ تعالیٰ کا عام قانون یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا 22ۧ
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم،
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
ترکیب : من مبتداء اور یہ شرط ہے اور عجلنا اس کا جواب لمن یرید بدل ہے من سے باعادہ جار یصلہا حال ہے جہنم سے یا ضمیر لہ سے مذمومًا حال ہے فاعل یصلی سے جو ضمیر ہے اور اسی طرح مدحورا ھولاء ہؤلاء بدل ہے کلا سے وحرہ حرہ طردہ من باب خضع، محظورا 3 ؎ ممنوعا یقال حظرہ یحظرہ حظرا منعہ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا ہم خبیر وبصیر ہیں ہر ایک کی نیت جانتے اور اس کے ظاہر حال کو دیکھتے ہیں اس کے بعد دنیا میں جو کچھ لوگ کر رہے ہیں اور جس جس چیز پر مر رہے ہیں اس کا بیان اور انجام فرماتا ہے تاکہ خبیر وبصیر ہونے کی تصریح ہوجائے۔ دنیا میں دو قسم کے آدمی ہیں ایک وہ کہ جن کا دارآخرت پر یقین نہیں اور جو کچھ ہے بھی تو اس…
Read the full tafseer →لاَ تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَفَـتَقْـعُدَ مَذْ مُوْمًا مَّخْذُوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 22)
(اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو شریک نہ کر، ورنہ تو سزاوار مذمت اور بےیارومددگار ہو کر رہ جائے گا۔ )
اس آیت کریمہ میں واحد کے خطاب سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید نبی کریم ﷺ کو خطاب کیا گیا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں، عربی زبان میں بعض دفعہ واحد کا خطاب جمع کے لیے بھی آتا ہے، لیکن اگر اس تصور کو بھی قبول کرلیا جائے کہ خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے تو تب بھی یہ خطاب اس لحاظ سے آپ ﷺ کو ہے کہ آپ ﷺ نوعِ انسانی کے امام ہیں۔ آپ ﷺ کو خطاب فرما کر پوری نوع انسانی کو متوجہ کرنا مقصود ہے کیونکہ ساری نوع…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس خطاب کا آغاز اس سورت کی آیت 2 سے ہوا۔ جس میں بنی اسرائیل کے حوالے سے تمام انسانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو حاجت روا اور مشکل کشا نہ سمجھیں۔ خطاب کا اختتام بھی اسی بات پر ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا اور عبادت کے لائق نہیں سمجھنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کا حقیقی نام ” اللہ “ ہے۔ اس نام کا متبادل ” اِلٰہ “ ہے۔ جو متبادل نام ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا اسم صفت بھی ہے۔ یہ نام اللہ تعالیٰ کی اکثر صفات کی ترجمانی کرتا ہے۔ ہر دور کا مشرک اللہ تعالیٰ کو خالق، رازق اور مالک تسلیم کرتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو بلا شرکت…
Read the full tafseer →اللہ کے ساتھ اور معبود مت بنائو یہ اللہ کا فیصلہ ہے
22: لَاتَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ (اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود مت تجویز کرو) اس میں اگرچہ خطاب نبی اکرم ﷺ کو ہے مگر مراد اس سے آپ کی امت ہے۔ فََتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا (ورنہ تو بدحال اور بےیارو مددگار ہو کر بیٹھ رہے گا) اے مخاطب تو اپنے نفس کیلئے ذلت و رسوائی دونوں کو جمع کرنے والا ہوگا۔ نمبر 2۔ ذلت آمیز سلوک کیا ہوا اور معاونت سے محروم ہوگا کیونکہ اَلْخُذْ لَانَیہ نصرت و معاونت کی ضد ہے اس کی دلیل یہ ارشاد الہٰی ہے۔ ان ینصرکم اللّٰہ فلا غالب لکم وان یخذلکم فمن ذا الذی ینصرکم من بعدہٖ ] آل عمران : 160[ اس آیت میں خُذْلَان…
Read the full tafseer →22۔” لا تعجل مع اللہ الھا اخر “ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن مراد اس سے دوسرے لوگ ہیں یا مخاطب ہر شخص ہے ۔ اے انسان ! تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔ ” فتقعد مذموما ً مخذولا ً “ مذموما ً بغیر تعریف کے اور محذولا ً امداد سے محروم۔
Read the full tafseer →22:۔ اس آیت میں اگرچہ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا مگر اللہ کے احکام امت کے لوگوں کو اللہ کے رسول کی معرفت پہنچتے ہیں اس لیے حقیقت میں ہر ایک نسان اس خطاب میں داخل ہے اور ہر انسان کو یہ حکم سنایا گیا کہ خدا کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ ٹھہراؤ اگر کسی نے اس وحدہ ‘ لاشریک کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ اس جرم کے باعث سے ملامت میں پڑے گا اور کوئی اس کا حامی و مددگار نہ ہوگا اور اللہ پاک کبھی اس کی مدد نہ کرے گا بلکہ اسی معبود باطل کے سپرد اس شخص کو کرے گا جو کسی قسم کے نفع وضرر کا مالک نہیں ہے کیونکہ ہر طرح کا فائدہ ونقصان خدا کے ہاتھ میں ہے اور سارے جہاں میں اسی وحدہ ‘ لاشریک کا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 22
یعنی، یہ اعتقاد نہ رکھ کر مخلوق میں سے کوئی ہستی کسی قسم کی عبادت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا کیونکہ شرک مذمت اور خذ لان کو دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں نے شرک سے روکا ہے اور مشرک کی سخت مذمت کی ہے اور اسے اس شرک کی بنا پر انتہائی مذموم ناموں سے موسوم اور قبیح اوصاف سے موصوف کیا ہے۔ جو اس شرک کا مرتکب ہے، وہ بدترین اوصاف اور قبیح ترین صفات سے متصف ہے۔ وہ جتنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو ترک کرتا ہے، اس کے مطابق اللہ تعالیٰ اس کے دینی اور دنیاوی معاملات میں اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اس سے علیحدہ ہوجاتا ہے۔ پس جو کوئی اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
دنیا میں سامان زیست مومن و کافر سب کو نصیب ہے
قول باری ہے (کلا نمد ھولآء وھو لاء من عطاء ربک ان کو بھی اور انکو بھی، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیئے جا رہے ہیں یہ تیرے رب کا عطیہ ہے) دنیا کے خواہشمند اور آخرت کے طلبگار کا ذکر پہلے گزر چکا اور ان میں سے ہر ایک کو اپنے ارادہ اور قصد کے نتیجے میں جو کچھ ملنے والا ہے اس کا حکم بھی بیان ہوگیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بتایا کہ دنیا میں اس کی نعمتیں نیکو کار اور بدکار دونوں تک پھیلی ہوئی ہیں البتہ آخرت میں یہ نعمتیں صرف نیکو کاروں کے لئے مخصوص ہوں گی ۔ آپ نہیں دیکھتے کہ شمس و قمر ، ارض و سماء اور ان کے فوائد، آب و ہوا ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
46۔ فوز آخرت سے سرفرازی کی اساس عقیدہ توحید :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور (خبردار ! ) اللہ کے ساتھ کوئی معبود کبھی نہ بنانا “ کیونکہ معبود برحق اور کارساز حقیقی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ اس سے جب منہ موڑ لیا۔ والعیاذ باللہ۔ تو پھر بدحالی اور بیکسی کے سوا اور رہ ہی کیا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو جس کسی نے بھی اسکے ساتھ کوئی اور فرضی اور خود ساختہ معبود ٹھہرا لیا اس نے بڑے ہی سنگین اور ہولناک جرم کا ارتکاب کیا۔۔ والعیاذ باللہ۔ سو قرآن کریم جس طریق اقوام اور صراط مسقیم کی دعوت دینا ہے اس کی اولین اساس اور بنیادی دفعہ یہ ہے کہ خداوند قدوس کے ساتھ اور کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
دنیا کی خواہش اور آخرت کی طلب
تشریح : دعا کا یہ انداز کہ صرف دنیا کی بھلائیاں مانگی جائیں اچھا نہیں اس سے دنیا کی محبت کا اظہار ہوتا ہے اور صرف دنیا کی ہی بھلائیاں ملیں گی جو بالکل نقصان کا سودا ہے کیونکہ آخرت کی بھلائیاں بہت بلند درجہ رکھتی ہیں۔ اور جو آخرت کی بھلائیاں مانگے اس کو آخرت کی بھلائیاں مل جاتی ہیں اور دنیا کی بھی مل جاتی ہیں مگر ایسا بندہ زیادہ فائدہ میں رہتا ہے۔ اللہ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں، اس لیے اس سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں مانگنی چاہییں، مگر شرط یہ ہے کہ دعا میں خلوص اور ایمان شامل ہو۔ کفر و شرک تو ویسے ہی جہنم کی طرف لے جانے والے ہیں صرف دعا سے بچ نہیں سکتے۔ اس لیے دعا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
تو آخر لوگ کیوں کفر کرتے ہیں جبکہ نہ تو اس سے دنیا میں سکون ملتا ہے اور نہ آخرت کے ۔
(جلد بازی کے فیصلے)
انعام کی امید ، تو یہ انسانی مزاج کی جلد بازی ہے اور اس کا یہ حال دار دنیا میں بھی تو ظاہر ہے کہ بعض اوقات جلد بازی میں فیصلہ کرکے ایسی دعا مانگ لیتا ہے جو دنیا میں ہی اس کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے جیسے انہیں دنوں نظر بن حارث نے اسلام کی مخالفت میں بیت اللہ میں دعا کی جو قرآن میں مذکور ہے ترجمہ یہ ہے ” یا اللہ اگر یہ اسلام حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب بھیج دے “ اور اللہ جل جلالہ کی شان اس کے فورا بعد بدر میں تباہ ہوئے ، احد میں مار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 15 بظاہر خطاب تو آنحضرت کو ہے لیکن مراد آپ کی امت کو سمجھاتا ہے کہ شرک معاف نہیں ہوگا اور ہر مشرک اللہ کے ہاں ذلیل و خوار ہوگا۔16 یعنی قطعی حکم دیا اور فیصلہ کردیا ہے۔17 یا اس کے سوا کسی کے بندے بن کر نہ رہو۔ اسلام میں عبادت کا مفہوم پوجا کا بھی ہے اور بندگی کا بھی۔
1 ماں باپ چاہے بوڑھے ہوں یا جوان، ہرحال میں ان کا ادب کرنا اور ان سے نرمی سے بات کرنا فرض اور انہیں جھڑکنا گناہ ہے۔ مگر چونکہ بڑھاپے میں خدمت کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اور مزاج میں چڑ چڑا پن پیدا ہوجاتا ہے بلکہ بسا اوقات زیادہ بڑھاپے کی وجہ سے ہوش و حواس بھی ٹھکانے نہیں رہتے اس لئے خاص طور پر بڑھاپے کا ذکر فرمای اگیا۔2 جو اکتاہٹ…
Read the full tafseer →(17:22) فتقعد۔ ورنہ تو بیٹھ رہے گا (قعود (بیٹھے رہنا) سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ مخذولا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ منصوب۔ خذل وخذلان مصدر۔ بےمدد چھوڑا ہوا خذل یخذل (باب نصر) بےمدد چھوڑنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 22
العاجلۃ جلد ملنے والی، (دنیا کا عیش و آرام) ۔ یصلی وہ ڈالے گا، داخل کریگا۔ مذموم ملامت زدہ، بےحال۔ مدحور رحمت سے دور ، دھوکا دیا گیا ہے۔ مشکور مقبول ، کامیابی ۔ نمد ہم دیتے ہیں۔ محظور روکی گئی۔ انظر دیکھو۔ فضلنا ہم نے بڑائی دی۔ تفضیل بڑائی ، فضیلت ، تقعد تو بیٹھے گا۔ مخذول بےکس، ذلیل ۔
تشریح آیت نمبر 18 تا 22
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر چیز انسان کے لئے بنائی ہے جس سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس نے سورج کی چمک چاند کی ٹھنڈک ہوائیں، فضائیں، شجر و حجر ہر چیز کو انسانی ضرورت کے لئے بنایا ہے اور ہر انسان اس سے فائدہ حاصل کرتا ہے خواہ وہ اللہ کا فرماں بردار وہ یا نافرمان۔ ان…
Read the full tafseer →اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ خدا کے ساتھ دوسرے کو شریک نہ بنانا۔ یہ خطاب عام ہے اگر ایسا کرو گے تو دوزخ میں جانا پڑے گا اور نہایت خرابی و محرومی کے ساتھ جاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
[19] مطلب یہ ہے کہ دنیا میں اکثر کفار مومنین سے زیادہ دولت و ثروت رکھتے ہیں کیونکہ اللہ کی نظر میں یہ چیزیں قابل وقعت نہیں، اصل چیز آخرت ہے جو مقبولین بارگاہ کے ساتھ خاص ہے۔ وہ درجات کے اعتبار سے بھی بڑی ہے اور فضیلت کے اعتبار سے بھی۔ اس لئے مومن کی نظر آخرت پر رہنی چاہئے اور اسی کے لئے اہتمام کرنا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
نیکی اور برائی دونوں کے لئے یکسان مواقع موجود ہیں :
(ف 1) اللہ نے دنیا میں دو قسم کے گروہ پیدا کئے ہیں ، ایک وہ ہے جس کا نصب العین دین کی بھلائیوں کو حاصل کرنا ہے ، جو اپنی تمام قوتوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتا ہے ، جس کا مقصد حیات گلشن اسلام کی آبیاری ہے ، اور دوسرا وہ ہے جو دن رات دنیا طلبی میں مصروف رہتا ہے ، جس کی تگ ودو محض نفس کی خواہشات تک محدود ہے ، اور آخرت سے بےپروا اور غافل ہے ۔
اللہ اس گروہ کو جو طالب حق ہے ، دیندار ہے ، پاکبازی اور تدبن کی توفیق عنایت فرماتا ہے ، اور ان کی مشکلات میں راہنمائی فرماتا ہے ، اور وہ جو صرف جیفہ دنیا کا گرویدہ ہے ، جس کی کوتاہ ہمتی اسے دنیا کی…
Read the full tafseer →-22 اے مخاطب تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو تجویز نہ کر اور نہ کسی دوسرے کو مقرر کر ورنہ مذمت کیا گیا اور بےکس و بےیارو مددگار ہو کر بیٹھ رہے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو برحق ہے اس کے ساتھ کوئی اور معبود قرار دینے پر تم کو الاہنا بھی ملے گا اور الزام بھی دیا جائے گا اور تم قابل نفریں قرار پائو گے اور تم بےکس اور بےیارو مددگار ہو کر رہ جائو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ف 5۔ یعنی مقبولین کی۔
6۔ یعنی غیر مقبولین کے۔
Read the full tafseer →اللہ کے ساتھ کسی کو معبود تصور کرنا بےیارو مددگار ہونا ہے :
28۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب فرما کر آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کو حکم دیا جارہا ہے کہ دنیا اور عقبی کی سرخروئی اور رستگاری کے لئے اللہ تعالیٰ کی توحید پر کامل یقین ضروری ہے اگر کسی اور کو اس کی ذات کی طرح قدیم مان لیا جائے اور کسی دوسرے کے متعلق بھی یہ تسلیم کیا جائے کہ اس کی صفات بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کی طرح ذاتی اور قدیم ہیں تو وہ جان لے کہ اسنے اپنی بربادی کا سامان فراہم کرلیا کیونکہ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت سے محروم ہوگیا اور اس سے زیادہ بدنصیب کون ہوگا جو اللہ رب العزت کی نگاہ رحمت سے محروم ہوگیا وہ کون ہے جو اس کی…
Read the full tafseer →Sequence
Previous verses mentioned some conditions attached to the acceptance of deeds. One of the conditions required that no deed is accepted unless it comes with 'Iman (faith, belief) and is in accordance with Shari` ah (Law) and Sunnah (sayings and deeds of the Prophet ﷺ). In the present verses, instructions regarding some of such deeds have been given. These are rules set by the Shari'ah of Islam. Their compliance brings success in the Hereafter and their contravention, ruin. And since the most important of these conditions is that of 'Iman, therefore, the very first injunction given…
Read the full tafseer →24. Or it can be rendered like this: Do not invent another deity besides Allah, or do not set up another as a deity beside Allah.
Read the full tafseer →