Al-Israa 17:21

Al-Israa · from ayah 21

17:21

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰی بَعْضٍ ؕ— وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِیْلًا ۟اُنْظُرۡ كَيۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ‌ ؕ وَلَـلۡاٰخِرَةُ اَكۡبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكۡبَرُ تَفۡضِيۡلًا

دیکھو ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے۔ اور آخرت درجوں میں (دنیا سے) بہت برتر اور برتری میں کہیں بڑھ کر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Look how We have favored [in provision] some of them over others. But the Hereafter is greater in degrees [of difference] and greater in distinction.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:21

مگر دیکھ لو، دنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے، اور آخرت میں اُس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے، اور اس کی فضیلت اور بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

دیکھو ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے۔ اور آخرت درجوں میں (دنیا سے) بہت برتر اور برتری میں کہیں بڑھ کر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

دیکھ لے کہ ان میں ایک کو ایک پر ہم نے کس طرح فضیلت دے رکھی ہے اور آخرت تو درجوں میں اور بھی بڑھ کر ہے اور فضیلت کے اعتبار سے بھی بہت بڑی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

دیکھو ہم نے کس طرح ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے۔ اور یقین رکھو کہ آخرت درجات کے اعتبار سے بہت بڑی ہے، اور فضیلت کے اعتبار سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

دیکھو ہم نے ان میں ایک کو ایک پر کیسی بڑائی دی اور بیشک آخرت درجوں میں سب سے بڑی اور فضل میں سب سے اعلیٰ ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

دیکھئے ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر کس طرح فضیلت دے رکھی ہے، اور یقینًا آخرت (دنیا کے مقابلہ میں) درجات کے لحاظ سے (بھی) بہت بڑی ہے اور فضیلت کے لحاظ سے (بھی) بہت بڑی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

دیکھ ہم نے ان کے بعض کو بعض پر کس طرح فضیلت دی ہے اور یقینا آخرت درجوں میں بہت بڑی اور فضیلت دینے میں کہیں بڑی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

دیکھو ! ہم نے کیسے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہوئی ہے اور آخرت میں (دوسری قسم کے یعنی آخرت چاہنے والوں کے) درجات زیادہ اور فضیلت بھی بڑی ہوگی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

دیکھو ہم نے ان کے ایک کو دوسرے پر کس طرح فضیلت دے رکھی ہے اور آخرت درجات اور فضیلت کے اعتبار سے کہیں بڑھ کر ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

دیکھو (دنیا میں) ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر کس طرح فضیلت دے رکھی ہے، اور آخرت تو یقیناً اپنے درجات کے اعتبار سے بھی اس سے کہیں بڑی ہے، اور اس کی فضیلت بھی اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہوگی،

— مولانا اسحاق مدنی

تو دیکھ ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے اور آخرت یقیناً بہت بڑی ہے درجات کے اعتبار سے بھی اور بہت بڑی ہے فضیلت کے اعتبار سے بھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

دیکھو کیسے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے لیکن آخرت کی زندگی درجات اور فضیلت میں اس سے بہت بڑھ کر ہوگی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

دیکھو ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے۔ اور آخرت درجوں میں دنیا سے بہت برتر اور بہتری میں کہیں بڑھ کر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

See, how We have exalted some above others in this world, and in the Life to Come they will have higher ranks and greater degrees of excellence over others.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

See how We made some of them excel some others (in this world) and, of course, the Hereafter is much higher in ranks and much greater in degrees of merit.

— Muhammad Taqi Usmani

See how We made some of them excel some others (in this world) and, of course, the Hereafter is much higher in ranks and much greater in degrees of merit.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

See how We prefer one above another (in this world), and verily, the Hereafter will be greater in degrees and greater in preferment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

See how We prefer one of them above another, and verily the Hereafter will be greater in degrees and greater in preferment.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Look how We have favored [in provision] some of them over others. But the Hereafter is greater in degrees [of difference] and greater in distinction.

— Saheeh International

Consider how We have given preference to some people above others, yet the life to come has more honor and respect.

— Muhammad Sarwar

See how We have made some of them to excel others, and certainly the hereafter is much superior in respect of excellence.

— Muhammad Habib Shakir

Behold thou! how We have preferred some of them over some others; and surely: the Hereafter is greater in degrees and greater in preferment.

— Abdul Majid Daryabadi

See how We have bestowed more on some than on others; but verily the Hereafter is more in rank and gradation and more in excellence.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–21

حق دار کو حق دیا جاتا ہے یعنی ان دونوں قسم کے لوگوں کو ایک وہ جن کا مطلب صرف دنیا ہے دوسرے وہ جو طالب آخرت ہیں دونوں قسم کے لوگوں کو ہم بڑھاتے رہتے ہیں جس میں بھی وہ ہیں، یہ تیرے رب کی عطا ہے، وہ ایسا متصرف اور حاکم ہے جو کبھی ظلم نہیں کرتا۔ مستحق سعادت کو سعادت اور مستحق شقاوت کو شقاوت دے دیتا ہے۔ اس کے احکام کوئی رد نہیں کرسکتا، اس کے روکے ہوئے کو کوئی دے نہیں سکتا اس کے ارادوں کو کوئی ڈال نہیں سکتا۔ تیرے رب کی نعمتیں عام ہیں، نہ کسی کے روکے رکیں، نہ کسی کے ہٹائے ہیٹیں وہ نہ کم ہوتی ہیں نہ گھٹتی ہیں۔ دیکھ لو کہ دنیا میں ہم نے انسانوں کے کیسے مختلف درجے رکھے ہیں ان میں امیر بھی ہیں، فقیر بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 23 یعنی دنیا ہی میں یہ فرق نمایاں ہوجاتا ہے کہ آخرت کے طلبگار دنیا پرست لوگوں پر فضیلت رکھتے ہیں۔ یہ فضیلت اس اعتبار سے نہیں ہے کہ ان کے کھانے اور لباس اور مکان اور سواریاں اور تمدن و تہذیب کے ٹھاٹھ ان سے کچھ بڑھ کر ہیں۔ بلکہ اس اعتبار سے ہے کہ یہ جو کچھ بھی پاتے ہیں صداقت، دیانت اور امانت کے ساتھ پاتے ہیں، اور وہ جو کچھ پا رہے ہیں ظلم سے، بےایمانیوں سے، اور طرح طرح کی حرام خوریوں سے پا رہے ہیں۔ پھر ان کو جو کچھ ملتا ہے وہ اعتدال کے ساتھ خرچ ہوتا ہے، اس میں سے حق داروں کے حقوق ادا ہوتے ہیں، اس میں سائل اور محروم کا حصہ بھی نکلتا ہے، اور اس میں سے خدا کی خوشنودی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–21

بدعت اور خود رائی کا عمل کتنا ہی اچھا نظر آئے مقبول نہیں اس آیت میں سعی وعمل کے ساتھ لفظ سَعْيَهَا بڑھا کر یہ بتلا دیا گیا ہے کہ ہر عمل اور ہر کوشش نہ مفید ہوتی ہے نہ عند اللہ مقبول بلکہ عمل وسعی وہی معتبر ہے جو مقصد (آخرت) کے مناسب ہو اور مناسب ہونا یا نہ ہونا یہ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم ﷺ کے بیان سے ہی معلوم ہوسکتا ہے اس لئے جو نیک اعمال خود رائی اور من گھڑت طریقوں سے کئے جاتے ہیں جنمیں بدعات کی عام رسوم شامل ہیں وہ دیکھنے میں کتنے ہی بھلے اور مفید نظر آئیں مگر آخرت کے لئے سعی مناسب نہیں اس لئے نہ وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہیں اور نہ آخرت میں کار آمد۔ اور تفسیر روح المعانی نے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا۔ یعنی دیکھ لو یہ حقیقت اپنی جگہ پر بالکل واضح ہے کہ خدا ہی نے جس کو چاہا ہے زیادہ دیا ہے اور جس کو چاہا ہے کم دیا ہے یہ انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ جتنا چاہے حاصل کرلے۔ اسی طرح آخرت میں بھی تمام اختیار خد اہی کے ہاتھ میں ہوگا، وہی جس کو چاہے گا عزت دے گا اور جس کو چاہے گا ذلت دے گا، کسی دوسرے کو وہاں یہ زور و اثر حاصل نہیں ہوگا کہ وہ اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہوسکے۔ یہ آخرت اپنے درجات و مراتب کے لحاظ سے اس دنیا کے درجات و مراتب کے لحاظ سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہوگی تو جس کو کوشش…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 21–22

21۔ 1 تاہم دنیا کی چیزیں کسی کو کم، کسی کو زیادہ ملتی ہیں، اللہ تعالیٰ اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق یہ روزی تقسیم فرماتا ہے۔ تاہم آخرت میں درجات کا یہ تفاضل زیادہ واضح اور نمایاں ہوگا اور وہ اس طرح کہ اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر جہنم میں جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

11: یعنی دنیا میں کسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت زیادہ رزق عطا فرمایا ہے، اور کسی کو کم، البتہ جس چیز کے لئے انسان کو پوری کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے فوائد ہیں کیونکہ وہ دنیا کے فوائد کے مقابلے میں بدرجہا زیادہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

” مگر دیکھ لو ، دنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے۔ اور آخرت میں اس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے ، اور اس کی فضیلت اور بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی “۔ اس لئے اگر کوئی حقیقی طور پر بلند مرتبہ چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اس عظیم اور سچی تفاوت و امتیاز کے لئے جدوجہد کرے جو آخرت میں ہوگی ، جس کا میدان وسیع اور جہاں کسی جگہ کوئی تنگی اور کمی نہیں ہے۔ اور وہ اس قدر وسیع ہے کہ اس کی حدود سے صرف اللہ ہی خبردار ہے اور جو لوگ مقام امتیاز میں باہم مقابلہ کرنا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ مقام آخرت کے لئے مقابلہ کریں۔ دنیائے دنی کے حقیر اور قلیل ساز و سامان کے لئے کیا بھاگنا !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی دنیاوی زندگی میں مال، دولت، عزت، حکومت، اولاد وغیرہ کے اعتبار سے ایک کو دوسرے پر کسی قدر فضیلت ہے۔ اسی پر قیاس کرلو کہ آخرت میں تفاوت اعمال و احوال کے لحاظ سے کس قدر فرق مراتب ہوگا۔ چناچہ نصوص سے ثابت ہے کہ درجات جنت اور درجات جہنم بیحد متفاوت ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ جنت کے درجوں کے درمیان زمین و آسمان کا تفاوت ہوگا، نیچے والے اوپر والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے ہم زمین پر کھڑے ہو کر افق میں کوئی ستارہ دیکھتے ہیں۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ جنت کے یہ درجات انہی کو مل سکتے ہیں جو آخرت کے لیے اس کے لائق دوڑ دھوپ کریں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21 اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بعض لوگوں کو مال و اسباب ذہنی و جسمانی صلاحیتوں شکل و صورت اور مقام و مرتبے میں بعض دوسروں پر فضیلت دے رکھی ہے۔ یہ اس کی مرضی اور مشیت کا معاملہ ہے۔ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا دنیا میں تو درجات و فضائل جیسے بھی ہوں جتنے بھی ہوں محدود ہی ہوں گے مگر آخرت کی نعمتیں اور نوازشیں ایسی لامحدود اور لامتناہی ہوں گی کہ ان کا موازنہ و مقابلہ دنیا کی کسی چیز سے ممکن ہی نہیں ہوگا۔ یہاں ایک شخص بیس پچیس سال کٹیا میں رہ لے گا اور ایک دوسرا شخص اتنا ہی عرصہ محل میں رہ لے گا تو کیا فرق واقع…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

21 سیرت و کردار کی فضیلت ہی اصل فضیلت ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی :۔ یہ فضیلت مال و دولت کے لحاظ سے بھی ہوسکتی ہے اور سیرت و کردار کے لحاظ سے بھی مال و دولت کے لحاظ سے جو فضیلت ملتی ہے اس کی قدر و قیمت اگر کچھ ہوسکتی ہے تو دنیا کے طلب گاروں کی نظروں میں ہی ہوسکتی ہے۔ بلکہ بسا اوقات ان کی نظروں میں بھی نہیں ہوتی۔ لیکن سیرت و کردار کے لحاظ سے جو فضیلت ملتی ہے وہی سچی اور لازوال فضیلت اور عزت ہوتی ہے اور یہ فضیلت صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو آخرت کے طلبگار ہوں، اللہ سے ڈرنے والے ہوں اس کے فرمانبردار ہوں۔ کسی کو دھوکا فریب نہ دیتے ہوں، ہر ایک کے حقوق کا خیال رکھتے ہوں۔ ایسے لوگوں کی فضیلت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

32۔ (سواصل اہتمام اور پورا اہتمام اسی آخرت کا چاہیے) (آیت) ” وللاخرۃ اکبر درجت “۔ جس آخرت میں یہ مرتبہ عطا ہوں گے، وہ مخصوص ہے مومنین مقبولین کیلئے۔ آیت میں اشارہ اسی جانب ہے کہ دنیا میں جو فرق مراتب ومدارج تمہارے لئے محسوس ومشاہد ہے وہ تو اس قدر ہے تو آخرت میں باہمی فرق درجات تو اس سے ہزاروں گنا نمایاں ہوگا ! (آیت) ” فضلنا بعضھم علی بعض “۔ یہ ایک دوسرے کی فضیلت انعامات دنیوی کے لحاظ سے ہے۔ مال، جاہ، کمالات وغیرہ۔ (آیت) ” انظر “۔ سبق لینے کی نیت سے دیکھو۔ انظر بعین الاعتبار (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–22

آیت نمبر 11 تا 22 ترجمہ : اور انسان جب تنگ دل ہوجاتا ہے تو اپنے اہل و عیال کیلئے اسی طرح بد دعاء کرتا ہے جس طرح وہ ان کیلئے دعاء خیر کرتا ہے اور ہر انسان اپنے لئے بددعاء کرنے میں جلد باز اور نا عاقبت اندیش واقع ہوا ہے اور ہم نے رات اور دن کو ہماری قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں بنایا، تو ہم نے رات کی نشانی کی تاریک بنایا یعنی ہم نے اسکے نور کو ظلمت سے مٹا دیا، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو اور (آیۃ اللیل) میں اضافت بیانیہ ہے، اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا، یعنی ایسی کہ اس میں روشنی کی وجہ سے نظر آسکے، تاکہ تم کسب کے ذریعہ اس میں اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو، اور تاکہ تم انکے ذریعہ سالوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ : دیکھو ہم نے (دنیا میں) بعض کو بعض پر (رزق و حسن و صحت وغیرہ کے لحاظ سے) کس طرح فوقیت عطا کی ہے۔ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا : اور البتہ آخرت مراتب کے اعتبار سے بہت بڑی ہے اور فضیلت کے اعتبار سے بھی بہت بڑی ہے یعنی آخرت میں فرق مراتب دنیوی تفاوت سے بہت بڑا ہے ‘ جنت و دوزخ کے درمیان فرق عظیم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(21) اور اے محمد ﷺ آپ دیکھ لیجے کہ مال و دولت خرم وحشم میں ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دی ہے اور آخرت میں مومنین کے لیے بہت انعامات ہیں اور آخرت درجات اور فضائل کے اعتبار سے بہت بلند ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ۔۔ : یعنی دنیا میں سب لوگ رزق، حسن، ذہانت، قوت، اقتدار، غرض کسی چیز میں ایک جیسے نہیں، خواہ مومن ہوں یا کافر، یہ چیزیں مومن کے پاس بھی ہوسکتی ہیں اور کافر کے پاس بھی۔ مگر یہ دنیائے فانی ساری کی ساری بھی اللہ کے ہاں کوئی قیمت نہیں رکھتی۔ سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَا سَقَی کَافِرًا مِنْھَا شَرْبَۃَ مَاءٍ) [ ترمذی، الزھد، باب ما جاء في ھوان الدنیا علی اللّٰہ عزوجل : 2320، صححہ الألباني ] ”اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–22

آیت نمبر 20 تا 22 قولہ تعالیٰ : کلا نمدھٰؤلآء وھولآء من عطآء ربک تو یہ جان لے کہ وہ مومنوں اور کافروں سبھی کو رزق دیتا ہے۔ وماکان عطآء ربک محظورًا یعنی آپ کے رب کی عطا کسی کے لئے ممنوع اور بند نہیں ہے : محظور یہ حظر یحظر حظرا وحظارًا سے ماخوذ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انظر کیف فضلنا بعضھم علیٰ بعضٍ دیکھو ! ہم نے رزق اور عمل میں بعض کو بعض ہر کیسے فضیلت دی، پس ان میں سے تنگ دست بھی ہیں اور خوشحال ودولتمند بھی (اسی طرح عمل کے اعتبار سے کچھ کمزور ہیں اور کچھ اعلیٰ ۔ ) وللاٰخرۃ اکبردرجٰت واکبر تفضیلاً یعنی مومنوں کے لئے آخرت باعتبار دو وجہوں کے سب سے بڑی اور باعتبار قضل وکرم کے سب سے اعلیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 18–21

1:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کان یرید العاجلۃ “ یعنی جو شخص اپنے عمل سے دنیا کا ارادہ کرتا ہے۔ (آیت) ” عجلنا لہ فیھا مانشآء لمن نرید “ تو ہم جس کے لئے چاہتے ہیں۔ اسے دنیا جلدی عطا فرمادیتے ہیں۔ 2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” عجلنا لہ فیھا مانشآء لمن نرید “ سے مراد ہے کہ جس شخص کا ارادہ اس کی رغبت اور اس کی طلب اور اس کی نیت صرف دنیا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جتنا چاہتے ہیں اس کو (اعمال کا بدلہ) دنیا ہی میں عطا فرما دیتے ہیں پھر اس کو جہنم کی طرف جانے پر مجبور کرے گا (آیت) ” یصلھا مذموما “ یعنی وہ اللہ کی سزا میں داخل ہوگا “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انظُرْ : آپ ﷺ دیکھیں ] [كَيْفَ : کیسے ] [فَضَّلْنَا : ہم نے فضیلت دی ] [بَعْضَهُمْ : ان کے بعض کو ] [عَلٰي بَعْضٍ : بعض پر ] [وَلَلْاٰخِرَةُ : اور یقینا آخرت ] [اَكْبَرُ : سب سے بڑی ہے ] [دَرَجٰتٍ : درجوں کے لحاظ سے ] [وَّاَكْبَرُ : اور سب سے بڑی ہے ] [تَفْضِيْلًا : فضیلت دینے کے لحاظ سے ] نوٹ۔ 3: آیت نمبر۔ 21 کو اگر آیت۔ 19 کے تناظر میں پڑھا جائے تو بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ آخرت کے لئے کوشش کرنا مطلوب بھی ہے اور محمود بھی۔ جنت میں داخلہ کا پروانہ مل جانا ہی ایک عظیم کامیابی ہے۔ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی۔ اس کے آگے پھر جنت کی سوسائٹی میں Status یعنی درجات کا مسئلہ بھی ہے۔ اس کی طرف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (اُنْظُرْ کَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ) (آپ دیکھ لیجیے ہم نے بعض کو بعض پر کیسی فضیلت دی) یہ دنیاوی فضیلت ہے اس میں مومن اور کافر کی کوئی قید نہیں ہے، بہت سے کافروں کے پاس مال زیادہ ہے اور بہت سے مومنین کے پاس کم ہے۔ (وَ لَلْاٰخِرَۃُاَکْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَکْبَرُ تَفْضِیْلًا) (اور بلاشبہ آخرت درجات کے اعتبار سے بڑی چیز ہے اور فضیلت کے اعتبار سے بھی) اس میں یہ بتایا ہے کہ آخرت کے لیے فکر مند ہونا چاہیے اور وہاں کے درجات حاصل ہونے کے لیے ایمان سے اور اعمال صالحہ سے متصف ہوں اہل دنیا کی دنیا پر نظر نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–22

بیان سعادت و شقاوت و ہدایت و ضلالت وطالبین دنیا و طالبین آخرت قال اللہ تعالیٰ : وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ .... الیٰ .... فتقعد مذموما مخذولا۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ لیل و نہار اس کی قدرت کا کرشمہ ہیں اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ اسی طرح سمجھ لو کہ سعادت و شقاوت اور ہدایت و ضلالت سب اسی کی قدرت کے کرشمے ہیں جس طرح ظاہری نور اور ظلمت اس کے اختیار میں ہے اسی طرح باطنی نور اور ظلمت بھی اسی کے اختیار میں ہے اور سب مقدر ہوچکی ہے جن کا ظہور قیامت کے دن ہوگا پھر یہ بتلایا کہ جنہوں نے انبیاء و رسل کا مقابلہ کیا وہ ہلاک اور برباد ہوئے لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ ان نستیوں کو دیکھ کر جن پر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

20:۔ یہ آخرت کی ترغیب ہے۔ جواب شبہ کے بعد آخرت کے لیے کوشش کرنے کی ترغیب فرمائی۔ دنیا میں مومن و کافر کے درمیان مال و دولت کے اعتبار سے بہت تفاوت تفاضل ہے مگر یہ کچھ معتبر نہیں اصل فضیلت کا مدار تو درجات آخرت پر ہے اور درجات آخرت اعمال صالحہ سے متعلق ہیں اس لیے اعمال صالحہ کے ذریعہ درجات آخرت حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ دنیا میں کافر اگرچہ اکثر اوقات مومن سے کثرت دولت میں بازی لے جاتا ہے لیکن درجات آخرت مومن کے ساتھ مختص ہیں اور کافر ان سے محروم ہوگا۔ المراد ان الاخرۃ اعظم واشف من الدنیا والمعنی ان المومنین یدخلون الجنۃ والکافرین یدخلون النار فیظہر فضل امومنین علی الکافرین (کبیر ج 5 ص 567) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–22

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے قوموں کو ہلاکت کا فلسفہ بیان فرمایا کہ پہلے ہم ان کی طرف رسول بھیج کر حجت تمام کرتے ہیں ، پھر جب بستی کو ہلاک کرنا مقصود ہوتا ہے ان کی طرف اپنا حکم بھیجتے ہیں ، جب وہ احکام الہی کا انکار کرتے ہیں تو ان پر بات ثابت ہوجاتی ہے تو وہ ہلاک دیے جاتے ہیں ، اللہ نے بطور مثال فرمایا کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کے بعد بہت سی قوموں کو ہلاک کیا ، وہ کفر ، شرک اور معاصی کا شکار ہوچکے تھے ، انبیاء کرام کی تکذیب کرتے تھے ان کے اس فسق کی وجہ سے اللہ نے انہیں سزا دی فرمایا تمہیں سابقہ اقوام کے حالات سے عبرت حاصل کرنی چاہئے ، (دنیا طلبی) اللہ تعالیٰ کا عام قانون یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا 21؀ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، ( ن ظ ر )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–22

ترکیب : من مبتداء اور یہ شرط ہے اور عجلنا اس کا جواب لمن یرید بدل ہے من سے باعادہ جار یصلہا حال ہے جہنم سے یا ضمیر لہ سے مذمومًا حال ہے فاعل یصلی سے جو ضمیر ہے اور اسی طرح مدحورا ھولاء ہؤلاء بدل ہے کلا سے وحرہ حرہ طردہ من باب خضع، محظورا 3 ؎ ممنوعا یقال حظرہ یحظرہ حظرا منعہ۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا ہم خبیر وبصیر ہیں ہر ایک کی نیت جانتے اور اس کے ظاہر حال کو دیکھتے ہیں اس کے بعد دنیا میں جو کچھ لوگ کر رہے ہیں اور جس جس چیز پر مر رہے ہیں اس کا بیان اور انجام فرماتا ہے تاکہ خبیر وبصیر ہونے کی تصریح ہوجائے۔ دنیا میں دو قسم کے آدمی ہیں ایک وہ کہ جن کا دارآخرت پر یقین نہیں اور جو کچھ ہے بھی تو اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اُنْظُرْکَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط وَلَـلْاٰخِرَۃُ اَکْبَرُدَرَجٰتٍ وَّاَکْبَرُ تَفْضِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 21) (دیکھو ہم نے ان کے ایک کو دوسرے پر کس طرح فضیلت دے رکھی ہے اور آخرت درجات اور فضیلت کے اعتبار سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ) اونچ نیچ میں حکمت اس آیت کریمہ میں ہر غور و فکر کرنے والے کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ تم دنیا میں بسنے والے انسانوں کو دیکھو رزق میں، عزت میں، عہدہ و منصب میں، شکل و صورت میں، طاقت اور قوت میں کس طرح ایک کو دوسرے پر برتری حاصل ہے۔ بظاہر انسان یہ چاہتا ہے کہ سب انسان برابر ہونے چاہئیں، لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ انسانوں کا ہر لحاظ سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے ہاں سب سے زیادہ مرتبے والے انبیاء ہیں اور وہی اللہ تعالیٰ کی عطاؤں کے سب سے بڑھ کر حق دار ہیں۔ جنہیں دنیا میں بھی عظمت و فضیلت سے نوازا گیا۔ یہی اصول درجہ بدرجہ عام لوگوں میں کارفرما ہے۔ تمام انبیاء ( علیہ السلام) خاندان نبوت کے افراد اور گلدستۂ رسالت کے پھول ہیں۔ انبیاء (علیہ السلام) کے درمیان مراتب کا تفاوت سمجھنے کے لیے طلبہ کی ایک کلاس کو سامنے رکھیں۔ استاد کی نظر میں تمام طلبہ عزیز ہوتے ہیں اور ہونے چاہییں۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ ہر طالب علم ایک دوسرے پر سبقت لے جائے۔ اس کے باوجود پوری کلاس میں مجموعی طور پر ایک ہی طالب علم قابلیت اور لیاقت کے اعتبار سے سب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دنیا میں درجے ہم نے دیئے : 21: اُنْظُرْ کَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ (آپ دیکھ لیجئے کہ ہم نے ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دی) انظرؔ تم عبرت کی نگاہ سے دیکھو کیف فَضَّلْنَا الایۃ کس طرح ہم نے مال وجاہ کشادگی و کمال میں ایک دوسرے پر فضلیت دے رکھی ہے۔ آخرت پھر آخرت ہے : وَلَلْاٰخِرَۃُ اَکْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَکْبَرُتَفْضِیْلًا (اور البتہ آخرت درجوں کے اعتبار سے بھی بہت بڑی اور فضیلت کے اعتبار سے بھی بہت بڑی ہے) روایت میں وارد ہے کہ کچھ اشراف اپنے متعلق لوگوں کے ساتھ عمرفاروق ؓ کے دروازے پر جمع ہوئے۔ بلالو صہیب ؓ کو اجازت مل گئی ابو سفیان ؓ کو اس بات سے گرانی ہوئی تو سہیل بن عمرو ؓ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21۔” انظر “ اے محمد ! ( ﷺ) ” کیف فضلنا بعضھم علی بعض “ رزق میں عمل صالح میں ، بعض اس میں ہم سے جلدی طلب کرتے ہیں اور بعض آخرت میں طلب کرتے ہیں ۔ ” وللاخرۃ اکبر درجات واکبر تفضیلا ً “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 20–21

20۔ 21:۔ اوپر کی آیتوں میں اس بات کا بیان تھا کہ جو شخص اپنے عمل سے دنیا کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا مل جاتی ہے اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے تو اسے آخرت ملتی ہے اب یہ فرمایا کہ ان دونوں گروہ میں سے کوئی بھی سب پر اللہ پاک اپنی بخشش کیے جاتا ہے جو شخص جس بات کا مستحق ہے وہ اسے عطا کرتا ہے اس کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں ہے کوئی چاہے کہ خداوند جل شانہ کی بخشش کو روک دے تو وہ کسی کے روکے نہیں رک سکتی کافر و مومن سب کا وہ رازق ہے پھر آنحضرت ﷺ کو خطاب فرمایا کہ دیکھو اللہ نے کس طرح دنیا میں لوگوں کو پیدا کیا ہے ایک پر ایک کو بزرگی دی ہے کسی کو تونگر کسی کو محتاج بنایا کوئی بادشاہ ہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–21

آیت نمبر 17 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے۔ (من کان یرید العاجلتہ) ، ، جو شخص دنیا کا خواہش مند ہو۔ ، ، یعنی جو کوئی ختم اور زائل ہوجانے والی دنیا چاہتا ہے وہ اس کے لئے عمل اور کوشش کرتا ہے، اس کی ابتدایا انتہا کو فراموش کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ جلدی سے دنیا کے وہ ٹکڑے اور اس کا مال و متاع اسے عطا کردیتا ہے، جسے وہ چاہتا تھا اور اس کا ارادہ رکھتا تھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا۔ مگر یہ متاع دنیا فائدہ دینے والی ہے نہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ پھر آخرت میں اس کے لئے (جھنمہ یصلھا) ، ، جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا، ، یعنی اس کے عذاب میں ڈالا جائے گا۔ (مذموماً مدحوراً…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 20–22

دنیا میں سامان زیست مومن و کافر سب کو نصیب ہے قول باری ہے (کلا نمد ھولآء وھو لاء من عطاء ربک ان کو بھی اور انکو بھی، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیئے جا رہے ہیں یہ تیرے رب کا عطیہ ہے) دنیا کے خواہشمند اور آخرت کے طلبگار کا ذکر پہلے گزر چکا اور ان میں سے ہر ایک کو اپنے ارادہ اور قصد کے نتیجے میں جو کچھ ملنے والا ہے اس کا حکم بھی بیان ہوگیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بتایا کہ دنیا میں اس کی نعمتیں نیکو کار اور بدکار دونوں تک پھیلی ہوئی ہیں البتہ آخرت میں یہ نعمتیں صرف نیکو کاروں کے لئے مخصوص ہوں گی ۔ آپ نہیں دیکھتے کہ شمس و قمر ، ارض و سماء اور ان کے فوائد، آب و ہوا ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

44۔ دنیا میں لوگوں کیلئے ایک دوسرے پر فضیلت و فوقیت :۔ سو دنیا میں بعض کو بعض پر فوقیت و فضیلت بخشی گئی اور اس میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ کوئی غریب تر۔ اور کوئی امر۔ کوئی امیر تر۔ کوئی محروم۔ اور کوئی محروم تر وغیرہ وغیرہ۔ سو انسان قادر مطلق اور مختیار کل نہیں کہ جو چاہے کرے۔ ہم جو چاہتے ہیں وہی ہوتا ہے۔ اور جیسے چاہتے ہیں ویسے ہی ہوتا ہے۔ اور ہماری یہ مشیت نہایت حکمت اور رحمت و عنایت پر مبنی ہوتی ہے۔ سو اس تفاوت درجات سے تمہارے درمیان باہمی روابط و تعاون کی طرح طرح کی صورتیں نکلتی ہیں۔ اور تم ایک دوسرے کے کام آتے اور کام لیتے ہو جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (ورفعنا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 18–22

دنیا کی خواہش اور آخرت کی طلب تشریح : دعا کا یہ انداز کہ صرف دنیا کی بھلائیاں مانگی جائیں اچھا نہیں اس سے دنیا کی محبت کا اظہار ہوتا ہے اور صرف دنیا کی ہی بھلائیاں ملیں گی جو بالکل نقصان کا سودا ہے کیونکہ آخرت کی بھلائیاں بہت بلند درجہ رکھتی ہیں۔ اور جو آخرت کی بھلائیاں مانگے اس کو آخرت کی بھلائیاں مل جاتی ہیں اور دنیا کی بھی مل جاتی ہیں مگر ایسا بندہ زیادہ فائدہ میں رہتا ہے۔ اللہ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں، اس لیے اس سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں مانگنی چاہییں، مگر شرط یہ ہے کہ دعا میں خلوص اور ایمان شامل ہو۔ کفر و شرک تو ویسے ہی جہنم کی طرف لے جانے والے ہیں صرف دعا سے بچ نہیں سکتے۔ اس لیے دعا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–22

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف تو آخر لوگ کیوں کفر کرتے ہیں جبکہ نہ تو اس سے دنیا میں سکون ملتا ہے اور نہ آخرت کے ۔ (جلد بازی کے فیصلے) انعام کی امید ، تو یہ انسانی مزاج کی جلد بازی ہے اور اس کا یہ حال دار دنیا میں بھی تو ظاہر ہے کہ بعض اوقات جلد بازی میں فیصلہ کرکے ایسی دعا مانگ لیتا ہے جو دنیا میں ہی اس کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے جیسے انہیں دنوں نظر بن حارث نے اسلام کی مخالفت میں بیت اللہ میں دعا کی جو قرآن میں مذکور ہے ترجمہ یہ ہے ” یا اللہ اگر یہ اسلام حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب بھیج دے “ اور اللہ جل جلالہ کی شان اس کے فورا بعد بدر میں تباہ ہوئے ، احد میں مار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 13 یعنی کوئی مالدار ہے اور کوئی نادار اور اس میں کافر و مومن کی کوئی تمیز نہیں ہے۔ (نیز دیکھیے سورة انعام :165 زخروف 32) یہ خطاب آنحضرت سے یا ہر اس شخص سے ہے جو عقل سمجھ اور غور نہ فکر کی صلاحیت رکھتا ہے۔14 یعنی یہاں دنیا میں فضیلت کو آخروی تفاضیل سے کچھ بھی نہیں ہے۔ جیسے فرمایا : اصحاب الجنۃ یومئذ خیر مستقرار بلند مراتب والے بھی اہل علیین کو اتنا نچا دیکھیں گے جیسے تم افق میں غروب ہونے والے تارے کو دیکھتے ہو (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:21) فضلنا۔ ماضی، جمع متکلم۔ ہم نے فضیلت دی ۔ (دنیاوی سازوسامان) کے عطا کرنے میں) ۔ وللاخرۃ اکبر درجت واکبر تفضیلا۔ لیکن باعتبار درجات وباعتبار فضل و کرم کے آخرت سب سے بڑھ کر ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 18–22

لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 22 العاجلۃ جلد ملنے والی، (دنیا کا عیش و آرام) ۔ یصلی وہ ڈالے گا، داخل کریگا۔ مذموم ملامت زدہ، بےحال۔ مدحور رحمت سے دور ، دھوکا دیا گیا ہے۔ مشکور مقبول ، کامیابی ۔ نمد ہم دیتے ہیں۔ محظور روکی گئی۔ انظر دیکھو۔ فضلنا ہم نے بڑائی دی۔ تفضیل بڑائی ، فضیلت ، تقعد تو بیٹھے گا۔ مخذول بےکس، ذلیل ۔ تشریح آیت نمبر 18 تا 22 اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر چیز انسان کے لئے بنائی ہے جس سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس نے سورج کی چمک چاند کی ٹھنڈک ہوائیں، فضائیں، شجر و حجر ہر چیز کو انسانی ضرورت کے لئے بنایا ہے اور ہر انسان اس سے فائدہ حاصل کرتا ہے خواہ وہ اللہ کا فرماں بردار وہ یا نافرمان۔ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–21

دنیا میں ایک پر کو ایک بزرگی، آخرت میں فضیلت اس آیت میں فرمایا کہ ان دونوں گرہوں میں سے کوئی بھی ہو سب پر اللہ پاک اپنی بخشش کئے جاتا ہے۔ جو شخص جس بات کا مستحق ہے وہ اسے عطا کرتا ہے اس کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں ہے، کوئی چاہے کہ خداوند تعالیٰ کی بخشش کو روک دے، تو وہ کسی کے روکے نہیں رک سکتی، کافر ومومن سب کا وہ رازق ہے۔ پھر فرمایا کہ دیکھو اللہ نے کسی طرح دنیا میں لوگوں کو بزرگی دی ہے۔ کسی کو فقیر، کسی کو بادشاہ، کسی کو تندرست ، کسی کو بیمار ، کوئی عقلمند، کوئی دیوانہ غرضیکہ اس میں بھی خدا کی حکمت پوشیدہ ہے۔ پھر فرمایا کہ آخرت کے درجات وہ اعلیٰ درجے کی بات ہے اور اس میں بڑی فضیلت ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–22

[19] مطلب یہ ہے کہ دنیا میں اکثر کفار مومنین سے زیادہ دولت و ثروت رکھتے ہیں کیونکہ اللہ کی نظر میں یہ چیزیں قابل وقعت نہیں، اصل چیز آخرت ہے جو مقبولین بارگاہ کے ساتھ خاص ہے۔ وہ درجات کے اعتبار سے بھی بڑی ہے اور فضیلت کے اعتبار سے بھی۔ اس لئے مومن کی نظر آخرت پر رہنی چاہئے اور اسی کے لئے اہتمام کرنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–22

نیکی اور برائی دونوں کے لئے یکسان مواقع موجود ہیں : (ف 1) اللہ نے دنیا میں دو قسم کے گروہ پیدا کئے ہیں ، ایک وہ ہے جس کا نصب العین دین کی بھلائیوں کو حاصل کرنا ہے ، جو اپنی تمام قوتوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتا ہے ، جس کا مقصد حیات گلشن اسلام کی آبیاری ہے ، اور دوسرا وہ ہے جو دن رات دنیا طلبی میں مصروف رہتا ہے ، جس کی تگ ودو محض نفس کی خواہشات تک محدود ہے ، اور آخرت سے بےپروا اور غافل ہے ۔ اللہ اس گروہ کو جو طالب حق ہے ، دیندار ہے ، پاکبازی اور تدبن کی توفیق عنایت فرماتا ہے ، اور ان کی مشکلات میں راہنمائی فرماتا ہے ، اور وہ جو صرف جیفہ دنیا کا گرویدہ ہے ، جس کی کوتاہ ہمتی اسے دنیا کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

21 اے پیغمبر آپ دیکھ لیجیے ہم نے اس عطا دنیوی میں کس طرح بعض لوگوں کو بعض پر فضیلت اور برتری دے رکھی ہے اور یقینا آخرت درجوں کے اعتبار سے بھی بہت بلند ہے اور فضیلت کے اعتبار سے بھی بڑی ہے۔ یعنی یہاں کا ایک دوسرے پر تفوق اور یہاں کی ایک دوسرے پر برتری ناقابل توجہ اور ناقابل استدلال ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دنیوی زندگی میں دیک دوسرے پر فضیلت ہے تو آخرت کی فضیلت تو اصل فضیلت ہے : 27۔ دنیاوی مراتب میں بعض کو جو بعض پر فضیلت دی جاتی ہے وہ تو محسوس ومشاہد ہے اگرچہ وہ دنیوی زندگی ہی کی طرح عارضی اور فانی ہے لیکن اگر ذرا غور کرلیا جائے تو آخرت کی فضیلت کا بھی اس دنیا کی زندگی میں پتہ چلایا جاسکتا ہے دونوں قسم کے لوگوں کی زندگیاں اس کی وضاحت پیش کر رہی ہیں اور قابل یادداشت بات یہ ہے کہ آخرت کی فضیلت ہی دراصل اور حقیقی فضیلت ہے ، خیال رہے کہ یہ فضیلت اس اعتبار سے نہیں ہے ان لوگوں کے کھانے پینے ‘ پہننے اور رہنے سہنے کے ٹھاٹھ باٹھ ان سے کچھ بڑھ کر ہیں بلکہ یہ فضیلت اس اعتبار سے ہے کہ یہ جو کچھ پاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–21

A self-opinionated deed and an act of religious innovation, no matter how appealing, is not acceptable In this verse (19), by adding the word: سَعْيَهَا (as due), it has been made explicit that every deed and every effort is not necessarily beneficial or acceptable with Allah. Instead, the only deed or effort credible is that which is appropriate to the essential objective (of the Hereafter). And whether or not it is appropriate can only be found out from the statement of Allah Ta’ ala and His Messenger ﷺ . Therefore, even well meaning efforts made by insisting on bland personal opinion and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23. This is to show that the seekers of the Hereafter have been exalted over the worshipers of the world even in this worldly life. However, this exaltation is not in regards to the good things of this world, rich food and dresses, palatial dwellings, luxurious means of travelling and other grand things. They enjoy that true honor, love and goodwill which is denied to the tyrants and the rich people in spite of the fact that they may be indigent. This is because whatever the seekers of the Hereafter get in this world, it is earned in righteous and honest ways, while the worshipers of the…

Read the full tafseer →