Al-Israa 17:20

Al-Israa · from ayah 20

17:20

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَهٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ ؕ— وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا ۟كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۤءِ وَهٰٓؤُلَاۤءِ مِنۡ عَطَآءِ رَبِّكَ‌ ؕ وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحۡظُوۡرًا

ہم اُن کو اور ان کو سب کو تمہارے پروردگار کی بخشش سے مدد دیتے ہیں۔ اور تمہارے پروردگار کی بخشش (کسی سے) رکی ہوئی نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

To each [category] We extend - to these and to those - from the gift of your Lord. And never has the gift of your Lord been restricted.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:20

اِن کو بھی اور اُن کو بھی، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیے جا رہے ہیں، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے، اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم اُن کو اور ان کو سب کو تمہارے پروردگار کی بخشش سے مدد دیتے ہیں۔ اور تمہارے پروردگار کی بخشش (کسی سے) رکی ہوئی نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہر ایک کو ہم بہم پہنچائے جاتے ہیں انہیں بھی اور ا نہیں بھی تیرے پروردگار کے انعامات میں سے۔ تیرے پروردگار کی بخشش رکی ہوئی نہیں ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) جہاں تک (دنیا میں) تمہارے رب کی عطا کا تعلق ہے ہم ان کو بھی اس سے نوازتے ہیں، اور ان کو بھی اور (دنیا میں) تمہارے رب کی عطا کسی کے لیے بند نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم سب کو مدد دیتے ہیں اُن کو بھی اور اُن کو بھی، تمہارے رب کی عطا سے اور تمہارے رب کی عطا پر روک نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہم ہر ایک کی مدد کرتے ہیں ان (طالبانِ دنیا) کی بھی اور ان (طالبانِ آخرت) کی بھی (اے حبیبِ مکرّم! یہ سب کچھ) آپ کے رب کی عطا سے ہے، اور آپ کے رب کی عطا (کسی کے لئے) ممنوع اور بند نہیں ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہم ہر ایک کی مدد کرتے ہیں، ان کی اور ان کی بھی، تیرے رب کی بخشش سے اور تیرے رب کی بخشش کبھی بند کی ہوئی نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم ہر طرح کے لوگوں کی مدد کرتے ہیں خواہ یہ ہوں یا وہ ہوں اور یہ بات آپ کے پروردگار کا عطیہ ہے اور آپ کے پروردگار کا یہ عطیہ (کسی پر) بند نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہر تیرے پروردگار کی بخشش سے ہر ایک کی مدد کرتے ہیں، ان کی بھی اور ان کی بھی۔ اور تیرے رب کی بخشش کسی پر بند نہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(رہی دنیا تو اس میں) ہم (اپنی پروردگاری اور بخشش سے) ہر فریق کو مدد دئیے جا رہے ہیں، ان کو بھی اور ان کو بھی، اور تمہارے رب کی بخشش (ان دونوں میں سے کسی فریق پر بھی) بند نہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

ہم ہر ایک کی امداد کرتے ہیں ان میں سے بھی اور ان میں سے بھی آپ کے پروردگار کی بخشش میں سے اور آپ کے پروردگار کی بخشش (کسی پر) بند نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم سب کو مدد پہنچائے جا رہے ہیں ان کو بھی اور ان کو بھی آپ کے رب کی عطا سے اور آپ کے رب کی عطا رکی ہوئی نہیں ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم ان کو اور ان سب کو تمہارے رب کی بخشش سے مدد دیتے ہیں اور تمہارے رب کی بخشش کسی سے رکی ہوئی نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

To all of these as well as those We shall provide the wherewithal of this life in the present world by dint of your Lord's Bounty; and from none shall the Bounty of your Lord be withheld.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

To all of them - both these and those - We extend the grants of your Lord. And the grant of your Lord is not barred (for anyone).

— Muhammad Taqi Usmani

To all of them - both these and those - We extend the grants of your Lord. And the grant of your Lord is not barred (for anyone).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

On each these as well as those We bestow from the bounties of your Lord. And the bounties of your Lord can never be forbidden.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Each do We supply, both these and those, from the bounty of thy Lord. And the bounty of thy Lord can never be walled up.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

To each [category] We extend - to these and to those - from the gift of your Lord. And never has the gift of your Lord been restricted.

— Saheeh International

Each group will receive its share of your Lord's generosity. Your Lord's generosity is not limited.

— Muhammad Sarwar

All do We aid-- these as well as those-- out of the bounty of your Lord, and the bounty of your Lord is not confined.

— Muhammad Habib Shakir

To each--these and those--We extend of the bestowment of thy Lord; and the bestowment of thy Lord is never restrained.

— Abdul Majid Daryabadi

Of the bounties of thy Lord We bestow freely on all- These as well as those: The bounties of thy Lord are not closed (to anyone).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–21

حق دار کو حق دیا جاتا ہے یعنی ان دونوں قسم کے لوگوں کو ایک وہ جن کا مطلب صرف دنیا ہے دوسرے وہ جو طالب آخرت ہیں دونوں قسم کے لوگوں کو ہم بڑھاتے رہتے ہیں جس میں بھی وہ ہیں، یہ تیرے رب کی عطا ہے، وہ ایسا متصرف اور حاکم ہے جو کبھی ظلم نہیں کرتا۔ مستحق سعادت کو سعادت اور مستحق شقاوت کو شقاوت دے دیتا ہے۔ اس کے احکام کوئی رد نہیں کرسکتا، اس کے روکے ہوئے کو کوئی دے نہیں سکتا اس کے ارادوں کو کوئی ڈال نہیں سکتا۔ تیرے رب کی نعمتیں عام ہیں، نہ کسی کے روکے رکیں، نہ کسی کے ہٹائے ہیٹیں وہ نہ کم ہوتی ہیں نہ گھٹتی ہیں۔ دیکھ لو کہ دنیا میں ہم نے انسانوں کے کیسے مختلف درجے رکھے ہیں ان میں امیر بھی ہیں، فقیر بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 22 یعنی دنیا میں رزق اور سامان زندگی دنیا پرستوں کو بھی مل رہا ہے اور آخرت کے طلبگاروں کو بھی عطیہ اللہ ہی کا ہے، کسی اور کا نہیں ہے۔ نہ دنیا پرستوں میں یہ طاقت ہے کہ آخرت کے طلبگاروں کو رزق سے محروم کردیں، اور نہ آخرت کے طلب گار ہی یہ قدرت رکھتے ہیں کہ دنیا پرستوں تک اللہ کی نعمت نہ پہنچنے دیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–21

بدعت اور خود رائی کا عمل کتنا ہی اچھا نظر آئے مقبول نہیں اس آیت میں سعی وعمل کے ساتھ لفظ سَعْيَهَا بڑھا کر یہ بتلا دیا گیا ہے کہ ہر عمل اور ہر کوشش نہ مفید ہوتی ہے نہ عند اللہ مقبول بلکہ عمل وسعی وہی معتبر ہے جو مقصد (آخرت) کے مناسب ہو اور مناسب ہونا یا نہ ہونا یہ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم ﷺ کے بیان سے ہی معلوم ہوسکتا ہے اس لئے جو نیک اعمال خود رائی اور من گھڑت طریقوں سے کئے جاتے ہیں جنمیں بدعات کی عام رسوم شامل ہیں وہ دیکھنے میں کتنے ہی بھلے اور مفید نظر آئیں مگر آخرت کے لئے سعی مناسب نہیں اس لئے نہ وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہیں اور نہ آخرت میں کار آمد۔ اور تفسیر روح المعانی نے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ۭ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا۔ رب کی عطاء بخشش عام ہے : لفظ " کل " جب مختلف جماعتوں کے ذکر کے بعد اس طرح آئے جس طرح یہاں آیا ہے تو وہ معرفہ کے حکم میں ہوجاتا ہے۔ یعنی اس سے وہ جماعتیں مراد ہوتی ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے رب کی عطاء و بخشش کا دروازہ مذکورہ دونوں گروہوں میں سے کسی پر بھی بند نہیں۔ جو لوگ آخرت سے بالکل بےپروا رات دن دنیا ہی کی طلب میں سرگرم ہیں، ان کو بھی خدا اس دنیا میں سے جو کچھ ان کے لیے مقدر کررکھا ہے، دیتا ہے۔ یہ نہیں کرتا کہ ان کی خدا فراموشی اور آخرت فراموشی کے جرم میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

20۔ 1 یعنی دنیا کا رزق اور اس کی آسائشیں ہم بلا تفریق مومن اور کافر، طالب دنیا اور طالب آخرت سب کو دیتے ہیں۔ اللہ کی نعمتیں کسی سے بھی روکی نہیں جاتیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

10: یہاں عطا سے مراد دنیا کا رزق ہے یعنی مومن و کافر اور متقی اور فاسق ہر شخص کو دنیا میں اللہ تعالیٰ رزق عطا فرماتے ہیں، یہ رزق کسی پر بند نہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

کلا نمد ھولاء وھولاء من عطاء ربک و ما کان عطاء ربک محظورا (71 : 2) ” ان کو بھی اور ان کو بھی ، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیے جا رہے ہیں ، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے “۔ لیکن زمین کے اندر ، اس دنیا میں بھی لوگوں کے درمیان حسب و درجات ، حسب وسائل اور حسب اسباب اور حسب میلانات و رحجانات اور مطابق سعی وجہد فرق مراتب ملحوظ ہے۔ کیونکہ دنیا کا دائرہ بھی محدود ہے ، اور یہ کرہ ارض بھی محدود ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں آخرت وسیع ہے۔ وہاں کی وسعتیں لامحدود ہیں۔ عالم آخرت ! اس کے کیا کہنے ، اس کے مقابلے میں یہ پوری دنیا ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی حق تعالیٰ اپنی حکمت و مصلحت کے موافق بعض طالبین دنیا کو دنیا اور تمام طالبین آخرت کو آخرت عطا فرماتا ہے۔ اس کی عطا میں کوئی مانع و مزاحم نہیں ہوسکتا۔ یا یہ مطلب ہے کہ طالب دنیا ہو یا طالب آخرت دنیاوی امداد سے دونوں کو حسب مصلحت حصہ پہنچتا ہے۔ محض کفر و عصیان کی وجہ سے دنیاوی بخشش کے دروازے بند نہیں کردیے جاتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 20 كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ یہ دنیا چونکہ دار الامتحان ہے اس لیے جب تک انسان یہاں موجود ہیں ان میں سے کوئی مجرم ہو یا اطاعت گزار ہر ایک کی بنیادی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نوازش ہے جس میں سے وہ اپنے نافرمانوں اور دشمنوں کو بھی نواز رہا ہے۔ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا دنیا میں اللہ تعالیٰ کی یہ عطا اور بخشش عام ہے۔ اس میں دوست اور دشمن کے امتیاز کی بنیاد پر کوئی قدغن یا روک ٹوک نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 کوئی دوسرے کا رزق روک نہیں سکتا :۔ کیونکہ دنیوی مال و دولت اللہ کی بخشش ہے۔ جو اس دنیادار کو بھی ملتی ہے جو صرف اسی کے لیے کوشاں رہتا ہے اور آخرت کے طلبگار کو بھی ملتی ہے جتنی اس کے مقدر میں ہوتی ہے۔ دنیا کے طلبگار کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ آخرت کے طلبگار کی روزی بند کردے اور نہ ہی آخرت کے طلبگار کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ دنیا کے طلب گار کی روزی بند کردے۔ یہ زمین اور دوسرے ذرائع پیداوار تو اللہ نے پہلے سے ہی پیدا کردیئے ہیں جن سے ہر شخص خواہ وہ دنیا کا طلبگار ہو یا آخرت کا اپنے ارادہ اور اپنی بساط کے مطابق یکساں فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر اسے ملتا اتنا ہی ہے جتنا اس کے مقدر میں ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

31۔ یہاں یہ قانون بیان ہوا ہے کہ نیک وبد، سعید وشقی، مقبول ومردود تکوینی طور پر خزانہ غیب سے سب ہی مدد پاتے رہتے ہیں، چناچہ یہ تو روز کا مشاہدہ ہے کہ ہوا اور پانی اور سورج کی گرمی اور چاند کی ٹھنڈک اور روشنی اور حیوانی ونباتی موجودات سے جس طرح مومن نفع اٹھا سکتے ہیں اسی طرح شدید منکرین بھی نفع اٹھا رہے ہیں۔ (آیت) ” کلا “۔ یعنی ہر دو فریق۔ اے کل واحد من الفریقین (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–22

آیت نمبر 11 تا 22 ترجمہ : اور انسان جب تنگ دل ہوجاتا ہے تو اپنے اہل و عیال کیلئے اسی طرح بد دعاء کرتا ہے جس طرح وہ ان کیلئے دعاء خیر کرتا ہے اور ہر انسان اپنے لئے بددعاء کرنے میں جلد باز اور نا عاقبت اندیش واقع ہوا ہے اور ہم نے رات اور دن کو ہماری قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں بنایا، تو ہم نے رات کی نشانی کی تاریک بنایا یعنی ہم نے اسکے نور کو ظلمت سے مٹا دیا، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو اور (آیۃ اللیل) میں اضافت بیانیہ ہے، اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا، یعنی ایسی کہ اس میں روشنی کی وجہ سے نظر آسکے، تاکہ تم کسب کے ذریعہ اس میں اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو، اور تاکہ تم انکے ذریعہ سالوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ : آپ کے رب کی یعنی اپنی عطاء سے ہم ہر فریق کی امداد کرتے ہیں ان کی بھی اور ان کی بھی۔ یعنی مذکورۂ بالا دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کو اس فریق کو بھی اور اس فریق کو بھی ہم آپ کے رب کی عطا سے پیہم مدد دیتے ہیں۔ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا : اور آپ کے رب کی دین (دنیا میں کسی مؤمن یا کافر سے) روکی نہیں گئی ہے۔ (مطلب یہ ہے کہ جو آپ کا رب ہے وہی سب کا رب ہے کافر کا بھی مؤمن کا بھی کوئی فریق اس کی دین سے محروم نہیں ہے۔ مترجم) ہٰؤُلآَءِ وَہُوٰلاَءِ کُلاًّسے بدل ہے اور کلاًّمیں تنوین مضاف الیہ کے عوض لائی گئی ہے۔ اور عطاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(20) آپ کے رب کی عطا میں تم ہم اہل اطاعت کی بھی امداد کرتے ہیں اور اہل معصیت کو بھی مال و دولت دیتے ہیں اور آپ کے رب کی یہ عطا نیک وبد سے بند نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ۔۔ : ”مَحْظُوْرًا“ ”حَظَرَ یَحْظُرُ“ (ن) سے اسم مفعول ہے، بمعنی روکنا، یعنی ہم مومن و کافر، نیک و بد ہر ایک کو رزق اور دنیا کی نعمتوں سے نوازتے ہیں، ایسا نہیں کہ گناہ یا کفر کی وجہ سے اس کا رزق بند کردیں، کیونکہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، نیکی یا بدی کی وجہ سے رزق بند کرنے سے یہ مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ ہاں ! اللہ کی تقدیر کے مطابق مومن کا رزق کم یا زیادہ ہوسکتا ہے اور کافر کا بھی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–22

آیت نمبر 20 تا 22 قولہ تعالیٰ : کلا نمدھٰؤلآء وھولآء من عطآء ربک تو یہ جان لے کہ وہ مومنوں اور کافروں سبھی کو رزق دیتا ہے۔ وماکان عطآء ربک محظورًا یعنی آپ کے رب کی عطا کسی کے لئے ممنوع اور بند نہیں ہے : محظور یہ حظر یحظر حظرا وحظارًا سے ماخوذ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انظر کیف فضلنا بعضھم علیٰ بعضٍ دیکھو ! ہم نے رزق اور عمل میں بعض کو بعض ہر کیسے فضیلت دی، پس ان میں سے تنگ دست بھی ہیں اور خوشحال ودولتمند بھی (اسی طرح عمل کے اعتبار سے کچھ کمزور ہیں اور کچھ اعلیٰ ۔ ) وللاٰخرۃ اکبردرجٰت واکبر تفضیلاً یعنی مومنوں کے لئے آخرت باعتبار دو وجہوں کے سب سے بڑی اور باعتبار قضل وکرم کے سب سے اعلیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 18–21

1:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کان یرید العاجلۃ “ یعنی جو شخص اپنے عمل سے دنیا کا ارادہ کرتا ہے۔ (آیت) ” عجلنا لہ فیھا مانشآء لمن نرید “ تو ہم جس کے لئے چاہتے ہیں۔ اسے دنیا جلدی عطا فرمادیتے ہیں۔ 2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” عجلنا لہ فیھا مانشآء لمن نرید “ سے مراد ہے کہ جس شخص کا ارادہ اس کی رغبت اور اس کی طلب اور اس کی نیت صرف دنیا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جتنا چاہتے ہیں اس کو (اعمال کا بدلہ) دنیا ہی میں عطا فرما دیتے ہیں پھر اس کو جہنم کی طرف جانے پر مجبور کرے گا (آیت) ” یصلھا مذموما “ یعنی وہ اللہ کی سزا میں داخل ہوگا “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كُلًّا : سب کی ] [نُّمِدُّ : ہم مدد کرتے ہیں ] [هٰٓؤُلَاۗءِ : ان کی (بھی)] [وَهٰٓؤُلَاۗءِ : اور ان کی (بھی)] [مِنْ عَطَاۗءِ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کے عطیہ سے ] [وَمَا كَان : اور نہیں ہے ] [عَطَاۗءُ رَبِكَ : آپ ؐ کے رب کا عطیہ ] [مَحْظُوْرًا : روکا ہوا ] ح ظ ر [حَظْرًا : (ض) ] منع کرنا۔ روک لینا۔ مَحْظُوْرٌ اسم المفعول ہے۔ منع کیا ہوا۔ روکا ہوا۔ آیت زیر مطالعہ۔ 20 ۔ (افتعال) اِحْتِظَارًا اہتمام سے روکنا۔ باڑہ بنانا۔ مُحْتَظِرٌ اسم الفاعل ہے۔ روکنے والا۔ باڑہ بنانے والا۔ کَھَثِیْمِ الْمُحْتَظِرِ (باڑہ بنانے والے کی خشک ٹہنی کی مانند) 54:31 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اسی کو فرمایا (کُلًّانُّمِدُّ ھآؤُلَآءِ وَ ھٰٓؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّکَ وَ مَا کَانَ عَطَآءُ رَبِّکَ مَحْظُوْرًا) (اور ہم آپ کے رب کی بخشش سے ہر ایک کو دیتے ہیں ان کو بھی اور ان کو بھی، اور آپ کے رب کی بخشش روکی نہیں ہے) مقبولین کو بھی نعمتیں دی جاتی ہیں اور غیر مقبولین کو بھی، اور دنیا میں اللہ کی رحمت کسی سے روکی ہوئی نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–22

بیان سعادت و شقاوت و ہدایت و ضلالت وطالبین دنیا و طالبین آخرت قال اللہ تعالیٰ : وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ .... الیٰ .... فتقعد مذموما مخذولا۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ لیل و نہار اس کی قدرت کا کرشمہ ہیں اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ اسی طرح سمجھ لو کہ سعادت و شقاوت اور ہدایت و ضلالت سب اسی کی قدرت کے کرشمے ہیں جس طرح ظاہری نور اور ظلمت اس کے اختیار میں ہے اسی طرح باطنی نور اور ظلمت بھی اسی کے اختیار میں ہے اور سب مقدر ہوچکی ہے جن کا ظہور قیامت کے دن ہوگا پھر یہ بتلایا کہ جنہوں نے انبیاء و رسل کا مقابلہ کیا وہ ہلاک اور برباد ہوئے لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ ان نستیوں کو دیکھ کر جن پر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

19:۔ طالبان دنیا ہوں یا طالبانِ آخرت اللہ کے رزق سے سب اپنا اپنا حصہ پائیں گے دنیا میں رزق سے کوئی بھی محروم نہیں رکھا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–22

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے قوموں کو ہلاکت کا فلسفہ بیان فرمایا کہ پہلے ہم ان کی طرف رسول بھیج کر حجت تمام کرتے ہیں ، پھر جب بستی کو ہلاک کرنا مقصود ہوتا ہے ان کی طرف اپنا حکم بھیجتے ہیں ، جب وہ احکام الہی کا انکار کرتے ہیں تو ان پر بات ثابت ہوجاتی ہے تو وہ ہلاک دیے جاتے ہیں ، اللہ نے بطور مثال فرمایا کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کے بعد بہت سی قوموں کو ہلاک کیا ، وہ کفر ، شرک اور معاصی کا شکار ہوچکے تھے ، انبیاء کرام کی تکذیب کرتے تھے ان کے اس فسق کی وجہ سے اللہ نے انہیں سزا دی فرمایا تمہیں سابقہ اقوام کے حالات سے عبرت حاصل کرنی چاہئے ، (دنیا طلبی) اللہ تعالیٰ کا عام قانون یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ۭ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا 20؀ مد أصل المَدّ : الجرّ ، ومنه : المُدّة للوقت الممتدّ ، ومِدَّةُ الجرحِ ، ومَدَّ النّهرُ ، ومَدَّهُ نهرٌ آخر، ومَدَدْتُ عيني إلى كذا . قال تعالی: وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] . ومَدَدْتُهُ في غيّه، ومَدَدْتُ الإبلَ : سقیتها المَدِيدَ ، وهو بزر ودقیق يخلطان بماء، وأَمْدَدْتُ الجیشَ بِمَدَدٍ ، والإنسانَ بطعامٍ. قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] . ( م د د ) المد کے اصل معنی ( لمبائی میں ) کهينچنا اور بڑھانے کے ہیں اسی سے عرصہ دراز کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–22

ترکیب : من مبتداء اور یہ شرط ہے اور عجلنا اس کا جواب لمن یرید بدل ہے من سے باعادہ جار یصلہا حال ہے جہنم سے یا ضمیر لہ سے مذمومًا حال ہے فاعل یصلی سے جو ضمیر ہے اور اسی طرح مدحورا ھولاء ہؤلاء بدل ہے کلا سے وحرہ حرہ طردہ من باب خضع، محظورا 3 ؎ ممنوعا یقال حظرہ یحظرہ حظرا منعہ۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا ہم خبیر وبصیر ہیں ہر ایک کی نیت جانتے اور اس کے ظاہر حال کو دیکھتے ہیں اس کے بعد دنیا میں جو کچھ لوگ کر رہے ہیں اور جس جس چیز پر مر رہے ہیں اس کا بیان اور انجام فرماتا ہے تاکہ خبیر وبصیر ہونے کی تصریح ہوجائے۔ دنیا میں دو قسم کے آدمی ہیں ایک وہ کہ جن کا دارآخرت پر یقین نہیں اور جو کچھ ہے بھی تو اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

کُلاًّ نُّمِدُّھٰٓؤْلَآئِ وَھٰٓؤْلَآئِ مِنْ عَطَـآئِ رَبِّکَ ط وَمَا کَانَ عَطَـآئُ رَبِّکَ مَحْظُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 20) (ہر ایک کی ہم امداد کرتے ہیں، ان کی بھی اور ان کی بھی، آپ ﷺ کے رب کی بخششوں سے اور آپ ﷺ کے رب کی بخشش کسی پر بند نہیں۔ ) کافر اور مومن سب کو رزق اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس آیت کریمہ کا سب سے پہلا لفظ ” کُلاًّ “ کے بارے میں یہ جان لینا چاہیے کہ جب اس سے پہلے مختلف جماعتوں کا ذکر آئے جیسے یہاں آیا ہے تو یہ معرفہ کے حکم میں ہوجاتا ہے۔ یعنی اس سے وہ ساری جماعتیں مراد ہوتی ہیں جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے۔ گزشتہ آیتوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ طالب دنیا اور طالب آخرت کا ذکر آیا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–20

فہم القرآن ربط کلام : اقوام کی تباہی میں بنیادی عنصر ان کی جلد بازی ہوا کرتا ہے۔ جس کی بناء پر وہ اصول کے مقابلے میں وقتی مفاد، صالح کردار کے مقابلہ میں دنیا کی لذّات، سہولیات اور آخرت کے بدلے دنیا کو ترجیح دیتے ہیں۔ جس بناء پر دنیا میں ذلت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں۔ یہاں دنیا دار کو جلد باز قرار دینے کے بعد اس کا انجام ذکر کیا جا رہا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص دنیا کے لیے جلد بازی کرتا ہے۔ ہم جس قدر چاہتے ہیں اسے دنیا دے دیتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ہم نے جہنم تیار کی ہے۔ جس میں اسے ذلّت و پھٹکار کے ساتھ داخل کیا جائے گا۔ اس کے مقابلے میں جس شخص نے آخرت کو پسند کیا اور اس کے لیے کوشش کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عطیہ رزق ہر ایک کو : 20: کُلًّا نُّمِدُّ ھٰٓؤُلَآ ئِ وَھٰٓؤُلَآ ئِ مِنْ عَطَآ ئِ رَبِّکَ وَمَاکَانَ عَطَآ ئُ رَبِّکَ مَحْظُوْرً (اور آپ کے رب کی عطا میں سے تو ہم ان کی بھی امداد کرتے ہیں اور ان کی بھی اور آپ کے رب کی عطا بند نہیں) کُلًّا فریقین میں سے ہر ایک۔ تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہے۔ یہ نُمِدُّ ھَؤُلَائِ ؔ کی وجہ سے منصوب ہے ھٰؤُلَائِ یہ کُلاًّ کا بدل ہے۔ ای نُمِدُّ ھٰؤُلَائِ پہلے ھٰؤُلَائِ سے دنیا پرست اور دوسرے ھٰؤُلَائِ سے طالبین آخرت مراد ہیں۔ مِنْ عَطَآ ئِ رَبِّکَ تیرے رب کا عطیہ جو اس نے عنایت کر رکھا ہے۔ مِنْؔ کا تعلق نُمِدُّسے ہے۔ اَلْعَطَاء دی جانے والی چیز کا نام ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 20۔” کلا نمد ھو لاء و ھولاء “ ہم ان دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کو اور اس فریق کو بھی جو دنیا کا اردہ کرتا ہے اور آخرت کا ارادہ کرے۔” من عطاء ربک “ امن دونوں فریقوں کو رزق دیا جاتا ہے ، پھر ان میں سے ہر ایک فی الحال بھی اس کا خلیفہ بنایا ہے۔ ” وما کان عطاء ربک “ تمہارے رب کی طرف سے رزق ” محظوراً “ اپنے بندوں سے روکتے ہیں عطاء سے مراد ہے دنیا کے اندر عطا کرنا اور کفار کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 20–21

20۔ 21:۔ اوپر کی آیتوں میں اس بات کا بیان تھا کہ جو شخص اپنے عمل سے دنیا کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا مل جاتی ہے اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے تو اسے آخرت ملتی ہے اب یہ فرمایا کہ ان دونوں گروہ میں سے کوئی بھی سب پر اللہ پاک اپنی بخشش کیے جاتا ہے جو شخص جس بات کا مستحق ہے وہ اسے عطا کرتا ہے اس کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں ہے کوئی چاہے کہ خداوند جل شانہ کی بخشش کو روک دے تو وہ کسی کے روکے نہیں رک سکتی کافر و مومن سب کا وہ رازق ہے پھر آنحضرت ﷺ کو خطاب فرمایا کہ دیکھو اللہ نے کس طرح دنیا میں لوگوں کو پیدا کیا ہے ایک پر ایک کو بزرگی دی ہے کسی کو تونگر کسی کو محتاج بنایا کوئی بادشاہ ہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–21

آیت نمبر 17 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے۔ (من کان یرید العاجلتہ) ، ، جو شخص دنیا کا خواہش مند ہو۔ ، ، یعنی جو کوئی ختم اور زائل ہوجانے والی دنیا چاہتا ہے وہ اس کے لئے عمل اور کوشش کرتا ہے، اس کی ابتدایا انتہا کو فراموش کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ جلدی سے دنیا کے وہ ٹکڑے اور اس کا مال و متاع اسے عطا کردیتا ہے، جسے وہ چاہتا تھا اور اس کا ارادہ رکھتا تھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا۔ مگر یہ متاع دنیا فائدہ دینے والی ہے نہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ پھر آخرت میں اس کے لئے (جھنمہ یصلھا) ، ، جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا، ، یعنی اس کے عذاب میں ڈالا جائے گا۔ (مذموماً مدحوراً…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 20–22

دنیا میں سامان زیست مومن و کافر سب کو نصیب ہے قول باری ہے (کلا نمد ھولآء وھو لاء من عطاء ربک ان کو بھی اور انکو بھی، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیئے جا رہے ہیں یہ تیرے رب کا عطیہ ہے) دنیا کے خواہشمند اور آخرت کے طلبگار کا ذکر پہلے گزر چکا اور ان میں سے ہر ایک کو اپنے ارادہ اور قصد کے نتیجے میں جو کچھ ملنے والا ہے اس کا حکم بھی بیان ہوگیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بتایا کہ دنیا میں اس کی نعمتیں نیکو کار اور بدکار دونوں تک پھیلی ہوئی ہیں البتہ آخرت میں یہ نعمتیں صرف نیکو کاروں کے لئے مخصوص ہوں گی ۔ آپ نہیں دیکھتے کہ شمس و قمر ، ارض و سماء اور ان کے فوائد، آب و ہوا ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

42۔ اللہ تعالیٰ کی دنیاوی عطاو بخشش سب کے لئے عام :۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ” تمہارے رب کی دنیاوی عطاء وبخشش سب ہی کیلئے ہے “۔ یعنی ایمان والوں کو بھی اور کفر والوں کو بھی۔ فرماں برداروں کو بھی اور نافرمانوں کو بھی، اطاعت شعاروں کو بھی اور باغیوں اور سرکشوں کو بھی۔ کہ دنیا دے اس دار فانی کے دارالامتحان ہونے کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا کے اس دار غرور میں دنیائے فانی کے متاع قلیل کا حصہ ہر کسی کو اس کی محنت و مشقت کے مطابق ملتا رہے۔ کہ وہ رب غفور و رحیم سب ہی کا خالق ومالک اور رب العالمین ہے۔ اور اس کی ربوبیت عامہ کا تقاضہ یہی ہے کہ ضروریات زندگی مومن و کافر سب ہی کو ملتی اور برابر ملتی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 18–22

دنیا کی خواہش اور آخرت کی طلب تشریح : دعا کا یہ انداز کہ صرف دنیا کی بھلائیاں مانگی جائیں اچھا نہیں اس سے دنیا کی محبت کا اظہار ہوتا ہے اور صرف دنیا کی ہی بھلائیاں ملیں گی جو بالکل نقصان کا سودا ہے کیونکہ آخرت کی بھلائیاں بہت بلند درجہ رکھتی ہیں۔ اور جو آخرت کی بھلائیاں مانگے اس کو آخرت کی بھلائیاں مل جاتی ہیں اور دنیا کی بھی مل جاتی ہیں مگر ایسا بندہ زیادہ فائدہ میں رہتا ہے۔ اللہ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں، اس لیے اس سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں مانگنی چاہییں، مگر شرط یہ ہے کہ دعا میں خلوص اور ایمان شامل ہو۔ کفر و شرک تو ویسے ہی جہنم کی طرف لے جانے والے ہیں صرف دعا سے بچ نہیں سکتے۔ اس لیے دعا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–22

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف تو آخر لوگ کیوں کفر کرتے ہیں جبکہ نہ تو اس سے دنیا میں سکون ملتا ہے اور نہ آخرت کے ۔ (جلد بازی کے فیصلے) انعام کی امید ، تو یہ انسانی مزاج کی جلد بازی ہے اور اس کا یہ حال دار دنیا میں بھی تو ظاہر ہے کہ بعض اوقات جلد بازی میں فیصلہ کرکے ایسی دعا مانگ لیتا ہے جو دنیا میں ہی اس کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے جیسے انہیں دنوں نظر بن حارث نے اسلام کی مخالفت میں بیت اللہ میں دعا کی جو قرآن میں مذکور ہے ترجمہ یہ ہے ” یا اللہ اگر یہ اسلام حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب بھیج دے “ اور اللہ جل جلالہ کی شان اس کے فورا بعد بدر میں تباہ ہوئے ، احد میں مار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

(قرطبی)12 دونوں کو رزق اور دنیا کی نعمتوں سے نوازتے ہیں۔ ایسا نہیں کرتے کہ کسی کی معصیت کی وجہ سے اس کا رزق بند کردیں۔ کیونکہ اس دارالعمل میں ہر ایک کے ساتھ مساوی سلوک کرنا ضروری ہے تاکہ کسی کے لئے عذر باقی نہ رہے اور ہر ایک کو اس کی صلاحیت کے مطابق دنیا کا سامان میسر ہوجائے۔ (رازی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:20) کلا۔ میں تنوین عوض کی ہے اصل میں کل الفریقین مضاف الیہ کو حذف کردیا گیا ہے اور اس کے عوض کلا پر تنوین آگئی۔ اس کی اور مثالیں وکل فی فلک یسبحون (36:40) اور سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں۔ اور وکلا جعلنا صالحین (21:73) اور سب کو ہم نے نیک بخت بنایا۔ مضاف مضاف الیہ کی صورتیں۔ (1) جمع معرف باللام کی طرف کل کا مضاف ہونا۔ جیسے کل القوم پوری قوم۔ (2) جمع معرف باللام کی ضمیر کی طرف مضاف ہونا۔ جیسے فسجد الملئکۃ کلہم اجمعون۔ (15:20) تو فرشتے سب کے سب سجدہ میں گرپڑے۔ (3) نکرہ مفردہ کی طرف مضاف ہونا۔ جیسے وکل انسان الزمنہ (17:13) اور ہم نے ہر انسان (کے اعمال کو بصورت کتاب) اس کے گلے میں لٹکا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 18–22

لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 22 العاجلۃ جلد ملنے والی، (دنیا کا عیش و آرام) ۔ یصلی وہ ڈالے گا، داخل کریگا۔ مذموم ملامت زدہ، بےحال۔ مدحور رحمت سے دور ، دھوکا دیا گیا ہے۔ مشکور مقبول ، کامیابی ۔ نمد ہم دیتے ہیں۔ محظور روکی گئی۔ انظر دیکھو۔ فضلنا ہم نے بڑائی دی۔ تفضیل بڑائی ، فضیلت ، تقعد تو بیٹھے گا۔ مخذول بےکس، ذلیل ۔ تشریح آیت نمبر 18 تا 22 اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر چیز انسان کے لئے بنائی ہے جس سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس نے سورج کی چمک چاند کی ٹھنڈک ہوائیں، فضائیں، شجر و حجر ہر چیز کو انسانی ضرورت کے لئے بنایا ہے اور ہر انسان اس سے فائدہ حاصل کرتا ہے خواہ وہ اللہ کا فرماں بردار وہ یا نافرمان۔ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–21

دنیا میں ایک پر کو ایک بزرگی، آخرت میں فضیلت اس آیت میں فرمایا کہ ان دونوں گرہوں میں سے کوئی بھی ہو سب پر اللہ پاک اپنی بخشش کئے جاتا ہے۔ جو شخص جس بات کا مستحق ہے وہ اسے عطا کرتا ہے اس کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں ہے، کوئی چاہے کہ خداوند تعالیٰ کی بخشش کو روک دے، تو وہ کسی کے روکے نہیں رک سکتی، کافر ومومن سب کا وہ رازق ہے۔ پھر فرمایا کہ دیکھو اللہ نے کسی طرح دنیا میں لوگوں کو بزرگی دی ہے۔ کسی کو فقیر، کسی کو بادشاہ، کسی کو تندرست ، کسی کو بیمار ، کوئی عقلمند، کوئی دیوانہ غرضیکہ اس میں بھی خدا کی حکمت پوشیدہ ہے۔ پھر فرمایا کہ آخرت کے درجات وہ اعلیٰ درجے کی بات ہے اور اس میں بڑی فضیلت ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[18] یہاں یہ قانون بیان ہوا ہے کہ نیک و بد، مومن و کافر سب کو کارخانہ ربوبیت کا فیضان مل رہا ہے۔ لہذا کفار کو دنیا کی نعمتیں حاصل ہونا ان کے اعمال کی مقبولیت کی علامت نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–22

نیکی اور برائی دونوں کے لئے یکسان مواقع موجود ہیں : (ف 1) اللہ نے دنیا میں دو قسم کے گروہ پیدا کئے ہیں ، ایک وہ ہے جس کا نصب العین دین کی بھلائیوں کو حاصل کرنا ہے ، جو اپنی تمام قوتوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتا ہے ، جس کا مقصد حیات گلشن اسلام کی آبیاری ہے ، اور دوسرا وہ ہے جو دن رات دنیا طلبی میں مصروف رہتا ہے ، جس کی تگ ودو محض نفس کی خواہشات تک محدود ہے ، اور آخرت سے بےپروا اور غافل ہے ۔ اللہ اس گروہ کو جو طالب حق ہے ، دیندار ہے ، پاکبازی اور تدبن کی توفیق عنایت فرماتا ہے ، اور ان کی مشکلات میں راہنمائی فرماتا ہے ، اور وہ جو صرف جیفہ دنیا کا گرویدہ ہے ، جس کی کوتاہ ہمتی اسے دنیا کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-20 ہم دونوں قسم کے فریضوں میں سے ہر ایک کی مدد کرتے ہیں ان کی بھی مدد اور ان کی بھی آپ کے پروردگار کی بخشش سے اور آپ کے رب کی یہ بخشش اور عطا کسی پر بند نہیں ہے۔ یعنی اے پیغمبر ! ہم آپ کے پروردگار کی عطا میں سے ان مقبولین کی بھی امداد کرتے ہیں اور ان غیر مقبولین کی بھی امداد کرتے ہیں اور یہ واقعہی ہے کہ آپ کے پروردگار کی عطا کسی پر رو کی نہیں گئی ہے۔ خلاصہ ! یہ کہ دنیا کا کسی کے پاس زیادہ ہونا اور دنیا زیادہ مل جانے کو قبولیت اور عدم قبولیت میں کوئی دخل نہیں ہے اکثر کفار مومنین سے زیادہ مال دار اور سرمایہ دار ہوتے ہیں۔ سرمایہ کی بہتات صداقت کی دلیل نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

طلب وسعی پر انحصار ہے ورنہ ہم تو ہر ایک کی مدد کرتے ہی رہتے ہیں ۔ 26۔ اس آیت میں قانون تکوینی کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنے قانون کے مطابق دنیوی نعمتوں کا دروازہ کسی پر بھی بند نہیں کرتے ہر آدمی کی طلب وسعی پر منحصر ہے جو شخص صرف دنیا کا طالب ہے اس کو صرف دنیا اور جو شخص آخرت کی طلب رکھتا ہے اس کو اس کے حصہ کی دنیا بھی اور آخرت بھی ضرور ملتی ہے ، ہماری دنیا کی عطا کسی پر بھی بند نہیں کی گئی کیونکہ یہ ہمارے قانون تکوینی کے خلاف ہے اور قانون کے خلاف ہم کبھی نہیں کرتے ، کوئی مومن ہو یا کافر مطیع ہو یا نافرمان سعید ہو یا شقی سب کے لئے ہمارے قانون کا دروازہ کھلا ہے اور اس قانون کے تحت جو چیزیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–21

A self-opinionated deed and an act of religious innovation, no matter how appealing, is not acceptable In this verse (19), by adding the word: سَعْيَهَا (as due), it has been made explicit that every deed and every effort is not necessarily beneficial or acceptable with Allah. Instead, the only deed or effort credible is that which is appropriate to the essential objective (of the Hereafter). And whether or not it is appropriate can only be found out from the statement of Allah Ta’ ala and His Messenger ﷺ . Therefore, even well meaning efforts made by insisting on bland personal opinion and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

22. Allah gives the provisions of this world both to those who strive for this world and to those who strive for the Hereafter, but it is the gift of Allah alone and not of anyone else. It does not lie in the power of the worshipers of the world to deprive the seekers after the Hereafter of these provisions, nor have the seekers after the Hereafter any power to withhold these provisions from the worshipers of the world.

Read the full tafseer →