Al-Israa 17:19

Al-Israa · from ayah 19

17:19

وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰی لَهَا سَعْیَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا ۟وَمَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعۡيَهَا وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰۤئِكَ كَانَ سَعۡيُهُمۡ مَّشۡكُوۡرًا

اور جو شخص آخرت کا خواستگار ہوا اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But whoever desires the Hereafter and exerts the effort due to it while he is a believer - it is those whose effort is ever appreciated [by Allah].

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:19

اور جو آخرت کا خواہشمند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے، اور ہو وہ مومن، تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو شخص آخرت کا خواستگار ہوا اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جس کا اراده آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لئے ہونی چاہیئے، وه کرتا بھی ہو اور وه باایمان بھی ہو، پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدردانی کی جائے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو شخص آخرت (کا فائدہ) چاہے اور اس کے لیے ویسی ہی کوشش کرے جیسی اس کے لیے کرنی چاہے، جبکہ وہ مومن بھی ہو، تو ایسے لوگوں کی کوشش کی پوری قدر دانی کی جائے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے اور ہو ایمان والا تو انہیں کی کوشش ٹھکانے لگی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو شخص آخرت کا خواہش مند ہوا اور اس نے اس کے لئے اس کے لائق کوشش کی اور وہ مومن (بھی) ہے تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش مقبولیت پائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جس نے آخرت کا ارادہ کیا اور اس کے لیے کوشش کی، جو اس کے لائق کوشش ہے، جبکہ وہ مومن ہو تو یہی لوگ ہیں جن کی کوشش ہمیشہ سے قدر کی ہوئی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرے اور اس کے لئے اپنی مقدور بھر کوشش بھی کرے اور مومن بھی ہو تو ایسے لوگوں کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو آخرت کا طالب بنتا ہے اور اس کے شایانِ شان کوشش بھی کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو درحقیقت یہی لوگ ہیں جن کی سعی مقبول ہوگی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اس کے برعکس) جو کوئی آخرت کا طلب گار ہوگا، اور اس کے لئے وہ ایسی کوشش بھی کرے گا جیسی کوشش کہ اس کے لئے کرنی چاہیے، بشرطیکہ وہ ایماندار بھی ہو، تو ایسے لوگوں کی کوشش مقبول ہوگی،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو کوئی آخرت کی نیت رکھے گا اور اس کے لئے کوشش بھی اس کے لائق کرے گا درآنحالیکہ وہ مومن بھی ہو سو ایسے لوگوں کی کوشش مقبول ہوگی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو کوئی آخرت کا طلب گار ہو اور اس کے لیے اس کے شایان شان کوشش کرے اور وہ مؤمن بھی ہو تو یہی لوگ ہوں گے جن کی کوشش کی قدر افزائی کی جائے گی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو شحض آخرت کا خواستگار ہو اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی ضروری ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But he who desires the Hereafter and strives for it in the manner he should, and is a true believer, his striving will come to fruition.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And whoever opts for the Hereafter and makes efforts for it as due, while he is a believer, then, the effort of such people is appreciated!

— Muhammad Taqi Usmani

And whoever opts for the Hereafter and makes efforts for it as due, while he is a believer, then, the effort of such people is appreciated!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And whoever desires the Hereafter and strives for it, with the necessary effort due for it while he is a believer, then such are the ones whose striving shall be appreciated, (rewarded by Allah).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And whoso desireth the Hereafter and striveth for it with the effort necessary, being a believer; for such, their effort findeth favour (with their Lord).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But whoever desires the Hereafter and exerts the effort due to it while he is a believer - it is those whose effort is ever appreciated [by Allah].

— Saheeh International

The effort of one who faithfully strives hard for the (happiness) of the life to come will be appreciated (by God).

— Muhammad Sarwar

And whoever desires the hereafter and strives for it as he ought to strive and he is a believer; (as for) these, their striving shall surely be accepted.

— Muhammad Habib Shakir

And whosoever intendeth the Hereafter and striveth therefor with due striving, while he is a believer, then those: their striving shall be appreciated.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who do wish for the (things of) the Hereafter, and strive therefor with all due striving, and have Faith,- they are the ones whose striving is acceptable (to Allah).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–19

طالب دنیا کی چاہت کچھ ضروری نہیں کہ دنیا کی ہر ایک چاہت پوری ہو، جس کا جو ارادہ اللہ پورا کرنا چاہے کر دے لیکن ہاں ایسے لوگ آخرت میں خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ یہ تو وہاں جہنم کے گڑھے میں گھرے ہوئے ہوں گے نہایت برے حال میں ذلت و خواری میں ہوں گے۔ کیونکہ یہاں انہوں نے یہی کیا تھا، فانی کو باقی پر دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تھی اس لئے وہاں رحمت الہٰی سے دور ہیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کے پاس اپنی گرہ کی عقل بالکل نہ ہو۔ ہاں جو صحیح طریقے سے طالب دار آخرت میں کام آنے والی نیکیاں سنت کے مطابق کرتا رہے اور اس کے دل میں بھی ایمان تصدیق اور یقین ہو عذاب ثواب کے وعدے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 21 یعنی اس کے کام کی قدر کی جائے گی اور جتنی اور جیسی کوشش بھی اس نے آخرت کی کامیابی کے لیے کی ہوگی اس کا پھل وہ ضرور پائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–21

بدعت اور خود رائی کا عمل کتنا ہی اچھا نظر آئے مقبول نہیں اس آیت میں سعی وعمل کے ساتھ لفظ سَعْيَهَا بڑھا کر یہ بتلا دیا گیا ہے کہ ہر عمل اور ہر کوشش نہ مفید ہوتی ہے نہ عند اللہ مقبول بلکہ عمل وسعی وہی معتبر ہے جو مقصد (آخرت) کے مناسب ہو اور مناسب ہونا یا نہ ہونا یہ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم ﷺ کے بیان سے ہی معلوم ہوسکتا ہے اس لئے جو نیک اعمال خود رائی اور من گھڑت طریقوں سے کئے جاتے ہیں جنمیں بدعات کی عام رسوم شامل ہیں وہ دیکھنے میں کتنے ہی بھلے اور مفید نظر آئیں مگر آخرت کے لئے سعی مناسب نہیں اس لئے نہ وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہیں اور نہ آخرت میں کار آمد۔ اور تفسیر روح المعانی نے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا۔ اصل فائز المرام گروہ : یہ آخرت کے طلبگاروں اور اصل فائز المرام گروہ کا بیان ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ آخرت کے طالب بنتے ہیں اور اس کے شایان شان کوشش بھی کرتے ہیں اور ان کے سینے ایمان سے بھی منور ہیں، درحقیقت یہی لوگ ہیں جن کی سعی عنداللہ مقبول ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ اس دنیا میں سے بھی جو کچھ ان کے لیے مقدر ہے پاتے ہیں اور آخرت تو ان کی کامیابی کا گھر ہے ہی۔ اس آیت میں بھی وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ کے الفاظ خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت صرف تمنا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر دانی کے لئے تین چیزیں یہاں بیان کی گئی ہیں، 1۔ ارادہ آخرت، یعنی اخلاص اور اللہ کی رضا جوئی 2۔ ایسی کوشش جو اس کے لائق ہو، یعنی سنت کے مطابق، 3۔ ایمان کیونکہ اس کے بغیر تو کوئی عمل بھی قابل توجہ نہیں۔ یعنی قبولیت عمل کے لئے ایمان کے ساتھ اخلاص اور سنت نبوی کے مطابق ہونا ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–19

9: یہ اس شخص کا ذکر ہے جس نے اپنی زندگی کا مقصد ہی دنیا کی بہتری کو بنا رکھا ہے اور آخرت پر یا تو ایمان نہیں، یا اس کی کوئی فکر نہیں، نیز اس قسم میں وہ شخص بھی داخل ہے جو کوئی نیکی کا کام دنیا کی دولت یا شہرت حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے نہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو دنیا کے یہ فوائد ملنے کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے، نہ اس بات کی گارنٹی ہے کہ جتنے فائدے وہ چاہ رہے ہیں وہ سب مل جائیں، البتہ ان میں سے جن کو ہم مناسب سمجھتے ہیں دنیا میں دے دیتے ہیں، مگر آخرت میں ان کا انجام جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ومن اراد الاخرۃ وسعی لھا سعیھا وھو مومن فاولئک کان سعیھم مشکورا (71 : 91) ” اور جو آخرت کا خواہش مند ہو اور اس کے لئے سعی کرے جیسی کہ اس کے لئے سعی کرنی چاہیے اور وہ وہ مومن تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی “۔ پس جو لوگ آخرت چاہتے ہیں ضروری ہے کہ اس کے لئے سعی بھی کریں۔ اس کی ذمہ داریاں ادا کریں۔ اور اسکے تقاضے پورے کریں اور یہ تمام جدوجہد ایمان کے بعد ہو ، ظاہر ہے کہ ایمان محض خواہش اور تمنا کا نام نہیں ہے ، بلکہ ایمان یہ ہے کہ وہ دل میں بیٹھ جائے اور عمل صالح اس کی تصدیق کرے۔ یہاں یہ بات درست ہے کہ آخرت کے لئے سعی کرنے کے نتیجے میں انسان دنیا کے مفاد اور سہولتوں اور لذتوں سے یکدم محروم نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی جس کے دل میں ایمان و یقین موجود ہو اور نیک نیتی سے خدا کی خوشنودی اور ثواب اخروی کی خاطر پیغمبر کے بتلائے ہوئے راستہ پر عملی دوڑ دھوپ کرے۔ اس کی کوشش ہرگز ضائع ہونے والی نہیں۔ یقینا بارگاہ احدیت میں حسن قبول سے سرفراز ہو کر رہے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19 وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ یعنی اس کی یہ طلب صرف زبانی دعویٰ تک محدود نہ ہو بلکہ حصول آخرت کے لیے وہ ٹھوس اور حقیقی کوشش بھی کرے جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اہل ایمان میں سے ہو کیونکہ ایمان کے بغیر اللہ کے ہاں بڑی سے بڑی نیکی بھی قابل قبول نہیں ہے۔ فَاُولٰۗىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! یہ آیت ہم میں سے ہر ایک کے لیے لٹمس ٹیسٹ ہے۔ اس ٹیسٹ کی مدد سے ہر شخص ٹھیک سے معلوم کرسکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے کس موڑ پر کس حیثیت سے کھڑ ا ہے ؟ چناچہ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 1 اس کے مقابلہ میں جو شخص اخروی اجر اور نجات کو ملحوظ رکھ کر اپنی زندگی بسر کرے اور اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان بھی رکھتا ہو۔ اسے یقیناً آخرت میں اس کے نیک اعمال کا اجر ملے گا، دوزخ کے عذاب سے بچ جائے گا اور دنیا بھی اتنی ضرور مل جائے گی جتنی اس کے مقدر میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ (اللہ کے ہاں اور ایسوں کو اجر پورا مل کررہے گا) بہ خلاف آیت ماقبل کے یہاں وعدہ مطلق اور قطعی صورت میں ہے طالب عقبی کو (جو حقیقۃ طالب مولی ہی ہوتا ہے) اسے ایمان اور سعی حسن عمل کے بعد جزائے کامل یقیناً ملے گی۔ (آیت) ” من ارادالاخرۃ “۔ یعنی جو اپنا مطمح نظر اس مکمل وپایدار زندگی کو بنائے رکھے اور اپنے عمل سے مقصود اسی کو رکھے۔ گویا قبول کی پہلی شرط تصحیح نیت ہوئی۔ (آیت) ” وسعی لھا سعیھا “۔ محض تمنا ہرگز کافی نہیں۔ جب انسان نیکی حاصل کرنا چاہے تو لازم ہے کہ عملا بھی اس کی طرف قدم بڑھائے، محض آرزو و تمنا کا درجہ قطعا ناکافی ہے۔ اور عمل بھی اپنے ظن وتخمین سے نہیں یا اپنی ہوائے نفس کے ماتحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–22

آیت نمبر 11 تا 22 ترجمہ : اور انسان جب تنگ دل ہوجاتا ہے تو اپنے اہل و عیال کیلئے اسی طرح بد دعاء کرتا ہے جس طرح وہ ان کیلئے دعاء خیر کرتا ہے اور ہر انسان اپنے لئے بددعاء کرنے میں جلد باز اور نا عاقبت اندیش واقع ہوا ہے اور ہم نے رات اور دن کو ہماری قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں بنایا، تو ہم نے رات کی نشانی کی تاریک بنایا یعنی ہم نے اسکے نور کو ظلمت سے مٹا دیا، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو اور (آیۃ اللیل) میں اضافت بیانیہ ہے، اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا، یعنی ایسی کہ اس میں روشنی کی وجہ سے نظر آسکے، تاکہ تم کسب کے ذریعہ اس میں اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو، اور تاکہ تم انکے ذریعہ سالوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ : اور جو آخرت کا طلبگار ہوگا اور ایمان دار ہونے کی حالت میں آخرت کے لئے اس کے مناسب کوشش کرے گا۔ آخرت کے لئے مناسب کوشش کرنے سے مراد ہے اوامرو نواہی کی پابندی۔ صرف تمنا کرنا یا خود اپنے دماغ کے تراشیدہ ذرائع کو موجب تقرب خیال کر کے حصول تقرب کی کوشش کرنا کافی نہیں ہے (بلکہ آخرت کے لئے جیسی کوشش ہونی چاہئے ویسی کوشش اگر کوئی مؤمن کرے گا اور آخرت کا طلبگار ہوگا) ایمان سے مراد بھی خالص ایمان ہے جس میں نہ کسی قسم کی تکذیب کی آمیزش ہو نہ شرک کا شائبہ۔ فَاُولٰۗىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا : سو ایسے لوگوں کی یہ کوشش مقبول…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(19) اور جو شخص اپنے ان مفروضہ اعمال صالحہ میں جنت کی نیت رکھے گا اور جنت کے لیے جیسے اعمال کرنے چاہیں ویسے ہی عمل کرے گا بشرطیکہ وہ مومن مخلص بھی ہو تو اس کا یہ عمل اللہ کے نزدیک مقبول ہوگا یہ آیت حضرت بلال ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ۔۔ : اس آیت میں عمل کی قبولیت کی تین شرطیں بیان ہوئی ہیں، جن میں بنیادی شرط ”وَهُوَ مُؤْمِنٌ“ یعنی ایمان ہے، یہ بات بہت سی آیات میں بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے سورة نساء (124) ، نحل (97) اور مومن (40) وغیرہ۔ کافر کے نیک اعمال قیامت کے دن بےکار ہوں گے۔ دیکھیے سورة ابراہیم (18) ، فرقان (23) اور نور (39) وغیرہ۔ کیونکہ کافر کی نیکیوں کا بدلہ دنیا ہی میں اسے دے دیا جاتا ہے۔ دیکھیے ہود (15، 16) ، شوریٰ (20) احقاف (20) وغیرہ۔ کافر کی نیکیوں کی مثال صدقہ، صلہ رحمی، مہمان نوازی اور مظلوموں کی مدد وغیرہ ہے۔ دوسری شرط اخلاص ہے، جو ”اَرَادَ الْاٰخِرَةَ“ سے ظاہر ہے اور تیسری شرط آخرت کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 18 تا 19 قولہ تعالیٰ : من کان یرید العاجلۃ مراد دنیا ہے، اور مراد الدار العاجلۃ (یعنی جو لوگ طلبگار ہیں صرف دار دنیا کے) تو اس میں منعوت کو نعت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ عجلنا لہ فیھا مانشآء لمن نرید یعنی ہم اس میں سے اسے عطا نہیں کرتے مگر جو ہم چاہتے ہیں پھر ہم اس کے عمل کے مطابق اس کا مواخذہ کریں گے، اور اس کا انجام جہنم میں داخل ہوتا ہے۔ مذموماً مدحورًا اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بھگایا ہوا اور دور کیا ہوا ہوگا اور یہ فاسق منافقون کی صفت ہے، اور ان ریا کاری اور دکھاوا کرنے والوں کی جو اندر کینہ چھپا کر ظاہر داری کرتے ہیں، وہ اسلام اور اطاعت کا لبادہ اوڑھتے ہیں تاکہ وہ جلدی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 18–21

1:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کان یرید العاجلۃ “ یعنی جو شخص اپنے عمل سے دنیا کا ارادہ کرتا ہے۔ (آیت) ” عجلنا لہ فیھا مانشآء لمن نرید “ تو ہم جس کے لئے چاہتے ہیں۔ اسے دنیا جلدی عطا فرمادیتے ہیں۔ 2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” عجلنا لہ فیھا مانشآء لمن نرید “ سے مراد ہے کہ جس شخص کا ارادہ اس کی رغبت اور اس کی طلب اور اس کی نیت صرف دنیا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جتنا چاہتے ہیں اس کو (اعمال کا بدلہ) دنیا ہی میں عطا فرما دیتے ہیں پھر اس کو جہنم کی طرف جانے پر مجبور کرے گا (آیت) ” یصلھا مذموما “ یعنی وہ اللہ کی سزا میں داخل ہوگا “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَنْ : اور جو ] [اَرَادَ : چاہتا ہے ] [الْاٰخِرَةَ : آخرت کو ] [وَسَعٰى: اور وہ بھاگ دوڑ کرتا ہے ] [لَهَا : اس کے لئے ] [سَعْيَهَا : جیسا اس کی بھاگ دوڑ کا حق ہے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [هُوَ : وہ ] [مُؤْمِنٌ: ایمان لانے والا ہے ] [فَاُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ہیں ] [كَان سَعْيُهُمْ : جن کی بھاگ دوڑ ہے ] [مَّشْكُوْرًا : قدر کی ہوئی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد آخرت کے طلبگاروں کا تذکرہ فرمایا (وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ وَ سَعٰی لَھَا سَعْیَھَا وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓءِکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَّشْکُوْرًا) (اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرے اور اس کے لیے کوشش کرے جیسے کوشش کرنی چاہیے، اور وہ مومن ہو سو یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدردانی ہوگی۔ ) اس آیت کریمہ میں یہ بتایا کہ جو شخص آخرت کا طالب ہو اور اس کے لیے کوشش کرے تو اس کی یہ سعی مقبول ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی محنت اور کوشش کی قدر کی جائے گی یعنی اس کی محنت اور سعی کا ثواب دیا جائے گا اس میں تین شرطیں بیان فرمائیں اول یہ کہ آخرت کا طلبگار ہو یعنی نیت صحیح ہو خالص آخرت کے ثواب کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–22

بیان سعادت و شقاوت و ہدایت و ضلالت وطالبین دنیا و طالبین آخرت قال اللہ تعالیٰ : وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ .... الیٰ .... فتقعد مذموما مخذولا۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ لیل و نہار اس کی قدرت کا کرشمہ ہیں اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ اسی طرح سمجھ لو کہ سعادت و شقاوت اور ہدایت و ضلالت سب اسی کی قدرت کے کرشمے ہیں جس طرح ظاہری نور اور ظلمت اس کے اختیار میں ہے اسی طرح باطنی نور اور ظلمت بھی اسی کے اختیار میں ہے اور سب مقدر ہوچکی ہے جن کا ظہور قیامت کے دن ہوگا پھر یہ بتلایا کہ جنہوں نے انبیاء و رسل کا مقابلہ کیا وہ ہلاک اور برباد ہوئے لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ ان نستیوں کو دیکھ کر جن پر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 18–19

18:۔ یہ مشرکین کے ایک شبہہ کا جواب ہے۔ شبہ یہ تھا کہ اگر یہ مسئلہ توحید حق ہوتا تو دنیا میں اللہ تعالیٰ ہمیں مال و دولت اور یہ انواع و اقسام رزق کیوں دیتا حالانکہ ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ جواب فرمایا کہ دنیا میں ہم عطاء اور داد و دہش کا دروازہ کسی پر بند نہیں کرتے۔ دنیا میں روزی سب کو دیتے ہیں خواہ فرمانبردار ہوں خواہ نافرمان۔ ہاں جو شخص آخرت پر دنیا کو ترجیح دے اور دنیا کا طالب اور خواہشمند ہو تو ہم اس کو دنیا میں دولت دیدیتے ہیں لیکن آخرت میں ذلت، رحمت خدا سے محرومی اور عذاب جہنم کے سوا اس کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔ ” ومن اراد الاخرۃ “ بشارت اخروی۔ لیکن جو لوگ آخرت کے متلاشی ہیں اور تلاش…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–22

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے قوموں کو ہلاکت کا فلسفہ بیان فرمایا کہ پہلے ہم ان کی طرف رسول بھیج کر حجت تمام کرتے ہیں ، پھر جب بستی کو ہلاک کرنا مقصود ہوتا ہے ان کی طرف اپنا حکم بھیجتے ہیں ، جب وہ احکام الہی کا انکار کرتے ہیں تو ان پر بات ثابت ہوجاتی ہے تو وہ ہلاک دیے جاتے ہیں ، اللہ نے بطور مثال فرمایا کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کے بعد بہت سی قوموں کو ہلاک کیا ، وہ کفر ، شرک اور معاصی کا شکار ہوچکے تھے ، انبیاء کرام کی تکذیب کرتے تھے ان کے اس فسق کی وجہ سے اللہ نے انہیں سزا دی فرمایا تمہیں سابقہ اقوام کے حالات سے عبرت حاصل کرنی چاہئے ، (دنیا طلبی) اللہ تعالیٰ کا عام قانون یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا 19؀ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–22

ترکیب : من مبتداء اور یہ شرط ہے اور عجلنا اس کا جواب لمن یرید بدل ہے من سے باعادہ جار یصلہا حال ہے جہنم سے یا ضمیر لہ سے مذمومًا حال ہے فاعل یصلی سے جو ضمیر ہے اور اسی طرح مدحورا ھولاء ہؤلاء بدل ہے کلا سے وحرہ حرہ طردہ من باب خضع، محظورا 3 ؎ ممنوعا یقال حظرہ یحظرہ حظرا منعہ۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا ہم خبیر وبصیر ہیں ہر ایک کی نیت جانتے اور اس کے ظاہر حال کو دیکھتے ہیں اس کے بعد دنیا میں جو کچھ لوگ کر رہے ہیں اور جس جس چیز پر مر رہے ہیں اس کا بیان اور انجام فرماتا ہے تاکہ خبیر وبصیر ہونے کی تصریح ہوجائے۔ دنیا میں دو قسم کے آدمی ہیں ایک وہ کہ جن کا دارآخرت پر یقین نہیں اور جو کچھ ہے بھی تو اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَنْ اَرَادَالْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَھَا سَعْیَھَا وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُوْلٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَّشْکُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 19) (اور جو شخص آخرت کا طلبگار ہوتا ہے اور اس کے لیے پوری طرح جدوجہد کرتا ہے درآنحالیکہ وہ مومن بھی ہو، پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہوگی۔ ) دنیا کے طلبگار کے مقابلے میں اب آخرت کے طلبگار کی بات ہورہی ہے کہ جو شخص آخرت کا طلبگار ہوگا یعنی وہ زندگی کا وہ رویہ اختیار کرے گا جو اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور اس کی آخری کتاب میں دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے تجویز کیا گیا ہے اور وہ پورے اخلاص کے ساتھ اسے اختیار کرے گا اور پیش نظر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہوگی۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–20

فہم القرآن ربط کلام : اقوام کی تباہی میں بنیادی عنصر ان کی جلد بازی ہوا کرتا ہے۔ جس کی بناء پر وہ اصول کے مقابلے میں وقتی مفاد، صالح کردار کے مقابلہ میں دنیا کی لذّات، سہولیات اور آخرت کے بدلے دنیا کو ترجیح دیتے ہیں۔ جس بناء پر دنیا میں ذلت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں۔ یہاں دنیا دار کو جلد باز قرار دینے کے بعد اس کا انجام ذکر کیا جا رہا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص دنیا کے لیے جلد بازی کرتا ہے۔ ہم جس قدر چاہتے ہیں اسے دنیا دے دیتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ہم نے جہنم تیار کی ہے۔ جس میں اسے ذلّت و پھٹکار کے ساتھ داخل کیا جائے گا۔ اس کے مقابلے میں جس شخص نے آخرت کو پسند کیا اور اس کے لیے کوشش کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آخرت کے لئے مومن کی محنت قابل قدر ہے : 19: وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَھَا سَعْیَھَا ( اور جو شخص آخرت کی نیت کرے گا اور اس کے لئے جیسی کوشش کرنی چاہیے ویسی ہی کوشش کرے گا) سعیہاؔ یہ سعیٰ کا مفعول بہٖ ہے۔ ایسی کوشش جس کوشش کرنے کا اس کو حق ہے۔ اور کفایت والے اعمال صالحہ۔ وَھُوَ مُؤْمِنٌ (بشرطیکہ وہ شخص مومن بھی ہو) وہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ اور وعیدوں کی تصدیق کرنے والا بھی ہو۔ فَاُولٰٓپکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَّشْکُوْرًا (پس ایسے لوگوں کی یہ کوشش مقبول ہوگی) ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول اور قابل ثواب ہے۔ قول بعض سلف : جس کو تین چیزیں میسر نہ ہوں اس کا عمل نفع بخش نہیں نمبر 1۔ پختہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19۔” ومن ارادہ الاخرۃ وسعی لھا سعیھا “ ان کے عمل جیسا عمل کرے گا ۔” وھو مومن فاولئک کان سعیھم مشکوراً بمعنی مقبول ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

19۔ اوپر کی آیت میں یہ مذکور تھا کہ دنیا میں یہ کفار جو نیکیاں کرتے ہیں اور اس سے طلب خیر کا ارادہ کرتے ہیں ہم اپنی مرضی کے موافق جتنا چاہتے ہیں دنیا میں اس کا بدلہ ان کو دیتے ہیں اور اس آیت میں فرمایا جو شخص اپنے نیک عمل بخیال آخرت کے کرتا ہے اس کے لیے کامل کوشش جی توڑ کر کرتا ہے اور پھر وہ شخص بذات خود خدا اور رسول پر ایمان بھی رکھتا ہے تو اس کی سعی عند اللہ مشکور ہوگی یہ تو اوپر بیان کردیا گیا ہے کہ سعی کے مشکور ہونے کے لیے تین شرطیں ہیں ایک تو ارادہ دار آخرت کے ثواب کا ‘ دوسری کوشش کامل ‘ تیسری خود اس شخص کا مومن ہونا کیونکہ عمل صالح اس شخص کا مقبول ہوتا ہے جو صاحب ایمان اور متقی ہو حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–21

آیت نمبر 17 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے۔ (من کان یرید العاجلتہ) ، ، جو شخص دنیا کا خواہش مند ہو۔ ، ، یعنی جو کوئی ختم اور زائل ہوجانے والی دنیا چاہتا ہے وہ اس کے لئے عمل اور کوشش کرتا ہے، اس کی ابتدایا انتہا کو فراموش کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ جلدی سے دنیا کے وہ ٹکڑے اور اس کا مال و متاع اسے عطا کردیتا ہے، جسے وہ چاہتا تھا اور اس کا ارادہ رکھتا تھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا۔ مگر یہ متاع دنیا فائدہ دینے والی ہے نہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ پھر آخرت میں اس کے لئے (جھنمہ یصلھا) ، ، جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا، ، یعنی اس کے عذاب میں ڈالا جائے گا۔ (مذموماً مدحوراً…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 18–19

خد ا اپنی مرضی سے جتنا چاہے طالبان دنیا کو نوازتا ہے قول باری ہے (من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیھا مانشاء لمن نرید جو عاجلہ کا خواہشمند ہو اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں) عاجلہ سے مراد دنیا ہے جس طرح یہ قول باری ہے (کلا بل تحبون العاجلۃ وتذرون الاخرۃ) ہرگز ایسا نہیں، اصل یہ ہے کہ تم دنیا سے تو محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑے ہوئے ہو) اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ جس شخص کی ساری تگ و دو دنیا کی طلب تک محدود ہو اور اس کے دل میں آخرت کی نہ کوئی فکر ہو اور نہ چاہت اسے یہیں جتنا وہ چاہے مل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں سے دینے کو دو باتوں کے ساتھ معلق کردیا ہے۔ ایک پر یہ قول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–19

39۔ طالب دنیا کے لئے صرف دنیا اور وہ بھی مقدر کے مطابق :۔ سو طالب دنیا کو بھی اتنا ہی ملتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے اور بس۔ پس طالب دنیا کو بھی دنیا اتنی نہیں ملتی جتنی وہ چاہتا ہے۔ بلکہ صرف اسی قدر ملتی ہے جتنا کہ ہم چاہتے ہیں۔ اور اس کو وہی کچھ ملتا ہے اور اسی قدر ملتا ہے جتنا اور جس قدر ہمیں دینا منظور ہوتا ہے اپنی حکمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق۔ سو ابنائے دنیا کی یہ بڑی غلط فہمی ہے کہ ہم جو کچھ چاہیں حاصل کرسکتے ہیں۔ اس ارشاد ربانی میں (عاجلہ) کا لفظ آخرت کے بالمقابل استعمال فرمایا گیا ہے۔ سو اس سے مراد یہ دنیائے فانی اور اس کا نفع عاجل ہے۔ سو اس ارشاد سے امہال کے بارے میں سنت الہی کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 18–22

دنیا کی خواہش اور آخرت کی طلب تشریح : دعا کا یہ انداز کہ صرف دنیا کی بھلائیاں مانگی جائیں اچھا نہیں اس سے دنیا کی محبت کا اظہار ہوتا ہے اور صرف دنیا کی ہی بھلائیاں ملیں گی جو بالکل نقصان کا سودا ہے کیونکہ آخرت کی بھلائیاں بہت بلند درجہ رکھتی ہیں۔ اور جو آخرت کی بھلائیاں مانگے اس کو آخرت کی بھلائیاں مل جاتی ہیں اور دنیا کی بھی مل جاتی ہیں مگر ایسا بندہ زیادہ فائدہ میں رہتا ہے۔ اللہ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں، اس لیے اس سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں مانگنی چاہییں، مگر شرط یہ ہے کہ دعا میں خلوص اور ایمان شامل ہو۔ کفر و شرک تو ویسے ہی جہنم کی طرف لے جانے والے ہیں صرف دعا سے بچ نہیں سکتے۔ اس لیے دعا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–22

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف تو آخر لوگ کیوں کفر کرتے ہیں جبکہ نہ تو اس سے دنیا میں سکون ملتا ہے اور نہ آخرت کے ۔ (جلد بازی کے فیصلے) انعام کی امید ، تو یہ انسانی مزاج کی جلد بازی ہے اور اس کا یہ حال دار دنیا میں بھی تو ظاہر ہے کہ بعض اوقات جلد بازی میں فیصلہ کرکے ایسی دعا مانگ لیتا ہے جو دنیا میں ہی اس کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے جیسے انہیں دنوں نظر بن حارث نے اسلام کی مخالفت میں بیت اللہ میں دعا کی جو قرآن میں مذکور ہے ترجمہ یہ ہے ” یا اللہ اگر یہ اسلام حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب بھیج دے “ اور اللہ جل جلالہ کی شان اس کے فورا بعد بدر میں تباہ ہوئے ، احد میں مار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یعنی وہ اس کا پھل ضرور پائے گا اور ان کے اعمال کا کئی گنا بدر دیا جائے گا حدیث میں ہے : الحسنہ بعشر امثالھا الی سبع مائۃ ضعف کہ نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک ملے گا۔ “ ہوسکتا ہے کہ ” مشکوراً “ سے اسی طرف اشارہ ہو

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 18–22

لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 22 العاجلۃ جلد ملنے والی، (دنیا کا عیش و آرام) ۔ یصلی وہ ڈالے گا، داخل کریگا۔ مذموم ملامت زدہ، بےحال۔ مدحور رحمت سے دور ، دھوکا دیا گیا ہے۔ مشکور مقبول ، کامیابی ۔ نمد ہم دیتے ہیں۔ محظور روکی گئی۔ انظر دیکھو۔ فضلنا ہم نے بڑائی دی۔ تفضیل بڑائی ، فضیلت ، تقعد تو بیٹھے گا۔ مخذول بےکس، ذلیل ۔ تشریح آیت نمبر 18 تا 22 اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر چیز انسان کے لئے بنائی ہے جس سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس نے سورج کی چمک چاند کی ٹھنڈک ہوائیں، فضائیں، شجر و حجر ہر چیز کو انسانی ضرورت کے لئے بنایا ہے اور ہر انسان اس سے فائدہ حاصل کرتا ہے خواہ وہ اللہ کا فرماں بردار وہ یا نافرمان۔ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت میں دینداروں کی کیفیت بیان فرمائی ہے کہ جو آخرت کی نمنا رکھتا ہے اور آخرت کے واسطے کوشش کرتا ہے اور ایمان بھی اس کو حاصل ہے۔ پس یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہوگی۔ مقبولیت کے لئے تین شرطیں ہیں : (1) اول طلب آخرت۔ (2) دوم اعمال نیک۔ (3) سوم ثبوت ایمان یعنی مومن کا ہونا کیونکہ عمل صالح اس شخص کا مقبول ہوتا ہے جو صاحب ایمان و متقی ہو تو یہ خدا کا مقرب بندہ بنے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[17] اس آیت سے معلوم ہوا کہ عمل کی مقبولیت کے لئے چار شرطیں ہیں۔ پہلی شرط طالب آخرت ہونا یعنی خالص ثواب آخرت کی نیت جس میں اغراض نفسانی شامل نہ ہوں۔ دوسری شرط اس نیت کے لئے عمل اور کوشش کرنا۔ صرف نیت و ارادہ سے کام نہیں ہوتا جب تک اس کے لئے عمل نہ کرے۔ تیسری شرط تصحیح عمل یعنی سعی و عمل کا شریعت و سنت کے مطابق ہونا اور چوتھی شرط جو سب سے زیادہ اہم ہے وہ تصحیح عقیدہ یعنی ایمان ہے۔ ان شرائط کے بغیر کوئی عمل اللہ کے ہاں مقبول نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–19

(ف 1) اسلامی قانون مکافات یہ ہے ، کہ ہر شخص بجائے خود اپنے اعمال کا ذمہ دار ہیں ، اس لئے تناسخ غلط ہے ، اور ہدیہ وکفارہ بھی صحیح نہیں ، ہر شخص اپنے اعمال کا جواب وہ ہے کوئی شخص کسی کے کام میں نہیں آسکے گا ۔ (آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔ سے مراد یہ ہے کہ عذاب کے لئے تکذیب کی ضرورت ہے ، اور تکذیب کے لئے پیغام کی حاجت ہے ، اس لئے ضرور ہے کہ عذاب سے قبل اتمام حجت ہوچکے ، تاکہ انہیں یہ کہنے کا موقعہ نہ ملے کہ ہم نے اعمال صالحہ کے لئے مقدور بھر کوشش کی تھی اور ہمیں ناحق عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے ۔ یہ یاد رہے ، کہ عذاب سے مراد تمام تکالیف نہیں ، نہ عادی مصائب مقصود ہیں ، بلکہ عذاب وہ ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 19 اور جو شخص آخرت اور دار آخرت چاہتا ہے اور آخرت کے لئے جیسی سعی اور کوشش کرنی چاہئے وہ کوشش بھی کرتا ہے درآنحالیکہ وہ مومن بھی ہو تو یہی لوگ ہیں جن کی سعی اور کوشش مقبول و مشکور ہوگی۔ یعنی عمل میں نیت ٹھیک ہو اور عمل بھی شریعت کے موافق ہو اور اعتقاد بھی درست اور صحیح ہو تو سمجھ لو کہ اس کی محنت ٹھکانے لگی اور اس کی کوشش نیگ لگ گئی دو خیال کے لوگوں کا بیان فرمایا ایک وہ جن کے ہر عمل میں دنیا مطلوب ہو اور ریا کاری اور شہرت اور دنیوی نفع مقصود ہو۔ دوسر سے وہ لوگ جن کا ہر عمل مخلصانہ ہو صحیح ہو اور مقصد عمل سے آخرت ہو اور اعتقاد صحیح ہو اور تمام دوڑ دھوپ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے ہو تو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ مطلب یہ کہ وہ عمل قواعد شرعیہ کے موافق کیا، کیونکہ آخرت کے لئے وہی سعی کرنا چاہئے جس کا امر ہوا ہو، بخلاف ان اعمال کے جو ہوائے انسانی کے موافق ہوں کہ وہ مقبول نہیں غرض شرع کے موافق عمل کیا۔ 4۔ غرض قبول سعی یعنی عمل کی تین شرطیں ہوئیں۔ 1 تصحیح نیت جس پر اراد الاخرة دال ہے۔ 2، تصحیح عمل حسب شرع جس پر سعیھا جس پر دال ہے۔ 3، تصحیح عقیدہ جس پر مومن دال ہے۔ پس شرائط قبول کے یہ ہیں اور بدون اس کے غیر مقبول۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آخرت میں قبول ہونے والی کوشش ہی کامیاب کوشش کہی جاسکتی ہے : 25۔ طالب دنیا کا انجام بیان کرنے کے بعد اب طالب آخرت کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جو حقیقتا طالب الہی ہے فرمایا اس کو ایمان اور سعی حسن عمل کے بعد جزائے کامل یقینا ملے گی اور اس کی کوئی نیکی فراموش نہیں کی جائے گی بلکہ راہ حق میں جو قدم بھی اس نے اٹھایا ہوگا جو عمل بھی اس نے کیا ہوگا اسے ضرور قبول بخشا جائے گا ، رہی یہ بات کہ طالب آخرت جو حقیقتا طالب اہی ہو اس کی پہچان کیا ہے ؟ زیر نظر آیت میں اس کی شناخت کی تین علامتیں بیان کی گئی ہیں : 1۔ (من اراد الاخرۃ) کہ ہر عمل سے اس کا اصل مقصد آخرت کی سرخروئی ہو کوئی بھی صرف دنیوی مقصد اس کا اعمال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–21

A self-opinionated deed and an act of religious innovation, no matter how appealing, is not acceptable In this verse (19), by adding the word: سَعْيَهَا (as due), it has been made explicit that every deed and every effort is not necessarily beneficial or acceptable with Allah. Instead, the only deed or effort credible is that which is appropriate to the essential objective (of the Hereafter). And whether or not it is appropriate can only be found out from the statement of Allah Ta’ ala and His Messenger ﷺ . Therefore, even well meaning efforts made by insisting on bland personal opinion and…

Read the full tafseer →