Al-Israa 17:18

Al-Israa · from ayah 18

17:18

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ— یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا ۟مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡعَاجِلَةَ عَجَّلۡنَا لَهٗ فِيۡهَا مَا نَشَآءُ لِمَنۡ نُّرِيۡدُ ثُمَّ جَعَلۡنَا لَهٗ جَهَنَّمَ‌ۚ يَصۡلٰٮهَا مَذۡمُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا

جو شخص دنیا (کی آسودگی) کا خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں۔ پھر اس کے لئے جہنم کو (ٹھکانا) مقرر کر رکھا ہے۔ جس میں وہ نفرین سن کر اور (درگاہ خدا سے) راندہ ہو کر داخل ہوگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Whoever should desire the immediate - We hasten for him from it what We will to whom We intend. Then We have made for him Hell, which he will [enter to] burn, censured and banished.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:18

جو کوئی عاجلہ کا خواہشمند ہو، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں، پھر اس کے مقسوم میں جہنم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ملامت زدہ اور رحمت سے محروم ہو کر

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو شخص دنیا (کی آسودگی) کا خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں۔ پھر اس کے لئے جہنم کو (ٹھکانا) مقرر کر رکھا ہے۔ جس میں وہ نفرین سن کر اور (درگاہ خدا سے) راندہ ہو کر داخل ہوگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس کا اراده صرف اس جلدی والی دنیا (فوری فائده) کا ہی ہو اسے ہم یہاں جس قدر جس کے لئے چاہیں سردست دیتے ہیں بالﺂخر اس کے لئے ہم جہنم مقرر کردیتے ہیں جہاں وه برے حالوں دھتکارا ہوا داخل ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو شخص دنیا کے فوری فائدے ہی چاہتا ہے تو ہم جس کے لیے چاہتے ہیں جتنا چاہتے ہیں، اسے یہیں پر جلدی دے دیتے ہیں، پھر اس کے لیے ہم نے جہنم رکھ چھوڑی ہے جس میں وہ ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو یہ جلدی والی چاہے ہم اسے اس میں جلد دے دیں جو چاہیں جسے چاہیں پھر اس کے لیے جہنم کردیں کہ اس میں جائے مذمت کیا ہوا دھکے کھاتا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو کوئی صرف دنیا کی خوشحالی (کی صورت میں اپنی محنت کا جلدی بدلہ) چاہتا ہے تو ہم اسی دنیا میں جسے چاہتے ہیں جتنا چاہتے ہیں جلدی دے دیتے ہیں پھر ہم نے اس کے لئے دوزخ بنا دی ہے جس میں وہ ملامت سنتا ہوا (رب کی رحمت سے) دھتکارا ہوا داخل ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو شخص اس جلدی والی (دنیا) کا ارادہ رکھتا ہو ہم اس کو اس میں جلدی دے دیں گے جو چاہیں گے، جس کے لیے چاہیں گے، پھر ہم نے اس کے لیے جہنم بنا رکھی ہے، اس میں داخل ہوگا، مذمت کیا ہوا، دھتکارا ہوا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو شخص دنیا چاہتا ہے تو ہم جس شخص کو اور جتنا چاہیں ، دنیا میں ہی دے دیتے ہیں پھر ہم نے جہنم اس کے مقدر کردی ہے جس میں وہ بدحال اور دھتکارا ہوا بن کر داخل ہوگا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو دنیا ہی کا طالب بنتا ہے ہم اس کے لیے اسی میں جس قدر چاہتے ہیں، جس کے لیے چاہتے ہیں، آگے بڑھا دیتے ہیں۔ پھر ہم نے اس کے لیے جہنم رکھ چھوڑی ہے جس میں وہ خوار اور راندہ ہو کر داخل ہوگا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو کوئی (صرف) دنیا ہی چاہتا ہے، ہم اس کو یہیں دے دیتے ہیں جو کچھ ہمیں دینا ہوتا ہے، جس کو دینا ہوتا ہے، پھر جہنم ہی کو اس کا مقسوم بنا دیتے ہیں، جس میں اسے داخل ہونا ہوگا بدحال اور خوار ہو کر،

— مولانا اسحاق مدنی

جو کوئی دنیا کی نیت رکھے گا ہم اس کو دنیا میں سے جتنا چاہیں گے جس کے واسطے چاہیں گے فورا ہی دے دیں گے پھر ہم اس کے لئے جہنم رکھیں گے اس میں وہ بدحال اور راندہ ہو کر داخل ہوگا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو کوئی عاجلہ کا طلب گار بنتا ہے ہم اس کو جلدی دے دیتے ہیں اس میں سے جو کچھ ہم چاہتے ہیں جس کے لیے چاہتے ہیں پھر ہم مقرر کردیتے ہیں اس کے لیے جہنم وہ داخل ہوگا اس میں ملامت زدہ دھتکارا ہوا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو شخص دنیا کی (آسودگی) چاہے تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں۔ پھر اس کے لیے جہنم کا ٹھکانا مقرر کر رکھا ہے جس میں وہ بدحال اور دھتکارہ ہوا داخل کیا جائے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

If anyone desires immediate benefits, We hasten to grant whatever benefits We will in the present life to whomsoever We please, but thereafter We decree for him Hell wherein he shall burn, condemned and rejected.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whoever opts for the immediate (benefits from) life herein, We give him, right here in this life, as much as We will, to whomever We intend. Then We assign Jahannam for him where he shall enter condemned, discarded.

— Muhammad Taqi Usmani

Whoever opts for the immediate (benefits from) life herein, We give him, right here in this life, as much as We will, to whomever We intend. Then We assign Jahannam for him where he shall enter condemned, discarded.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Whoever desires the quick-passing (transitory enjoyment of this world), We readily grant him what We will for whom We like. Then, afterwards, We have appointed for him Hell; he will burn therein disgraced and rejected.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Whoso desireth that (life) which hasteneth away, We hasten for him therein what We will for whom We please. And afterward We have appointed for him hell; he will endure the heat thereof, condemned, rejected.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Whoever should desire the immediate - We hasten for him from it what We will to whom We intend. Then We have made for him Hell, which he will [enter to] burn, censured and banished.

— Saheeh International

Whoever desires (only) the enjoyment of this life will receive it if We want it to be so. Then We will make Hell his reward wherein he will suffer, despised and driven away from Our mercy.

— Muhammad Sarwar

Whoever desires this present life, We hasten to him therein what We please for whomsoever We desire, then We assign to him the hell; he shall enter it despised, driven away.

— Muhammad Habib Shakir

- Whosoever intendeth the quick Passing world, We hasten to him therein whatsoever We please unto whomsoever We intend; thereafter We shall appoint for him Hell wherein he shall roast, reproved, rejected.

— Abdul Majid Daryabadi

If any do wish for the transitory things (of this life), We readily grant them - such things as We will, to such person as We will: in the end have We provided Hell for them: they will burn therein, disgraced and rejected.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–19

طالب دنیا کی چاہت کچھ ضروری نہیں کہ دنیا کی ہر ایک چاہت پوری ہو، جس کا جو ارادہ اللہ پورا کرنا چاہے کر دے لیکن ہاں ایسے لوگ آخرت میں خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ یہ تو وہاں جہنم کے گڑھے میں گھرے ہوئے ہوں گے نہایت برے حال میں ذلت و خواری میں ہوں گے۔ کیونکہ یہاں انہوں نے یہی کیا تھا، فانی کو باقی پر دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تھی اس لئے وہاں رحمت الہٰی سے دور ہیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کے پاس اپنی گرہ کی عقل بالکل نہ ہو۔ ہاں جو صحیح طریقے سے طالب دار آخرت میں کام آنے والی نیکیاں سنت کے مطابق کرتا رہے اور اس کے دل میں بھی ایمان تصدیق اور یقین ہو عذاب ثواب کے وعدے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 19 عاجلہ کے لغوی معنی ہیں جلدی ملنے والی چیز۔ اور اصطلاحا قرآن مجید اس لفظ کو دنیا کے لیے استعمال کرتا ہے جس کے فائدے اور نتائج اسی زندگی میں حاصل ہوجاتے ہیں۔ اس کے مقابلے کی اصطلاح ”آخرت“ ہے جس کے فوائد اور نتائج کو موت کے بعد دوسری زندگی تک مؤخر کردیا گیا ہے۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 20 مطلب یہ ہے کہ جو شخص آخرت کو نہیں مانتا، یا آخرت تک صبر کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اپنی کوششوں کا مقصود صرف دنیا اور اس کی کامیابیوں اور خوشحالیوں ہی کو بناتا ہے، اسے جو کچھ بھی ملے گا بس دنیا میں مل جائے گا۔ آخرت میں وہ کچھ نہیں پاسکتا۔ اور بات صرف یہیں تک نہ رہے گی کہ اسے کوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر جو شخص (اپنے نیک اعمال سے صرف) دنیا (کے نفع) کی نیت رکھے گا (خواہ اس لئے کہ وہ آخرت کا منکر ہے یا اس لئے کہ آخرت سے غافل ہے) ہم ایسے شخص کو دنیا ہی میں جتنا چاہیں گے (پھر یہ بھی سب کے لیے نہیں) بلکہ جس کے واسطے چاہیں گے فی الحال ہی دیدیں گے (یعنی دنیا ہی میں کچھ جزاء مل جاوے گی) پھر (آخرت میں خاک نہ ملے گا بلکہ وہاں) ہم اس کے لئے جہنم تجویز کردیں گے وہ اس میں بدحال راندہ (درگاہ) ہو کر داخل ہوگا اور جو شخص (اپنے اعمال میں) آخرت (کے ثواب) کی نیت رکھے گا اور اس کے لئے جیسی کوشش کرنی چاہئے ویسی ہی کوشش بھی کرے گا (مطلب یہ ہے کہ ہر کوشش بھی مفید نہیں بلکہ کوشش صرف وہی مفید ہے جو شریعت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا۔ " عاجلۃ " آخرت کا مقابل لفظ ہے یعنی یہ دنیا اور اس کا نفع عاجل۔ امہال کے باب میں سنت الٰہی : یہ امہال کے باب میں سنت الٰہی بیان ہورہی ہے کہ جو لوگ آخرت کو یک قلم نظر انداز کرکے صرف اسی دنیا اور اس کے نفع عاجل کے طلب گار بنتے ہیں خدا ان کو بھی محروم نہیں کرتا بلکہ ان میں سے بھی جس کے لیے چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ البتہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ ایسے لوگوں کا حصہ آخرت میں صرف جہنم ہے جس میں وہ مذموم ومطرود ہو کر داخل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18۔ 1 یعنی دنیا کے ہر طالب کو دنیا نہیں ملتی، صرف اسی کو ملتی ہے جس کو ہم چاہیں، پھر اس کو بھی اتنی دنیا نہیں جتنی وہ چاہتا ہے بلکہ اتنی ہی ملتی ہے جتنی ہم اس کے لئے فیصلہ کریں۔ لیکن اس دنیا طلبی کا نتیجہ جہنم کا دائمی عذاب اور اس کی رسوائی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–19

9: یہ اس شخص کا ذکر ہے جس نے اپنی زندگی کا مقصد ہی دنیا کی بہتری کو بنا رکھا ہے اور آخرت پر یا تو ایمان نہیں، یا اس کی کوئی فکر نہیں، نیز اس قسم میں وہ شخص بھی داخل ہے جو کوئی نیکی کا کام دنیا کی دولت یا شہرت حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے نہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو دنیا کے یہ فوائد ملنے کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے، نہ اس بات کی گارنٹی ہے کہ جتنے فائدے وہ چاہ رہے ہیں وہ سب مل جائیں، البتہ ان میں سے جن کو ہم مناسب سمجھتے ہیں دنیا میں دے دیتے ہیں، مگر آخرت میں ان کا انجام جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

من کان یرید لعاجلۃ عجلنا لہ فیھا ما نشاء لمن نریدثم جعلنا لہ جھنم یصلھا مذموما مدحورا (71 : 81) ” جو کوئی (اس دنیا میں) جلدی حاصل ہونے والے فائدوں کا خواہش مند ہو ، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں ، پھر اس کے مقسو میں جہنم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ، ملامت زدہ اور رحمت سے محروم ہو کر “۔ مذموم اور ملامت زدہ اس لئے کہ اس نے یہی کمائی کی اور رحمت سے محروم یوں کہ وہ عذاب میں مبتلا ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی ضروری نہیں کہ ہر عاشق دنیا کو فوراً ہلاک کردیا جائے، نہیں۔ ہم ان لوگوں میں سے جو صرف متاع دنیا کے لیے سرگرداں ہیں جس کو چاہیں اور جس قدر چاہیں اپنی حکمت و مصلحت کے موافق دنیا کا سامان دے دیتے ہیں تاکہ ان کی جدوجہد اور فانی نیکیوں کا فانی پھل مل جائے اور اگر آخری سعادت مقدر نہیں تو شقاوت کا پیمانہ پوری طرح لبریز ہو کر نہایت ذلت و رسوائی کے ساتھ دوزخ کے ابدی جیل خانہ میں دھکیل دیے جائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18 مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ یہاں پر ”دنیا“ کی بجائے ”عاجلہ“ کا لفظ آیا ہے۔ یہ دونوں الفاظ مؤنث ہیں۔ ”ادنیٰ“ قریب کی چیز کو کہا جاتا ہے اس کی مونث ”دنیا“ ہے جبکہ ”عاجل“ کے معنی جلدی والی چیز کے ہیں اور اس کی مؤنث ”عاجلہ“ ہے۔ یہ دنیا نقد کا سودا ہے یہاں پر راحت بھی فوراً آسودگی دیتی ہے اور اس کی تکلیف بھی فوری طور پر خود کو محسوس کراتی ہے۔ اسی لیے اسے ”عاجلہ“ کہا گیا ہے۔ عاجلہ کے مقابلے میں آیت زیر نظر میں ”آخرت“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو کہ قرآن حکیم میں اکثر ”دنیا“ کے مقابلے میں بھی آتا ہے۔ دنیا یا عاجلہ کے مقابلے میں آخرت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 1 یعنی جو شخص دنیا ہی کا ہو رہے اور جو کام کرے صرف دنیا کا مال و دولت کمانے یا دوسرے مفادات کے لیے کرے تو ایسے شخص کو بھی دنیا اتنی ہی ملتی ہے جتنی اللہ کو منظور ہو۔ اس سے بڑھ کر نہیں۔ اور چونکہ ایسا شخص آخرت پر یقین ہی نہیں رکھتا لہذا وہ یقیناً دنیا کمانے میں جائز اور ناجائز طریقوں میں کوئی امتیاز روا نہ رکھے گا لہذا آخرت میں اسے دوزخ کی سزا بھگتنا ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

29۔ آیت کے اندر بڑی عبرت کا مضمون بیان ہوا ہے آج دنیا میں کثرت سے ایسے لوگ ہیں کہ اپنے مختلف منصوبوں میں کامیاب پاکر اپنے برسرحق اور مقبول سمجھنے لگتے ہیں اور بجائے اس کے کہ ضمیر کی خلش محسوس کریں اپنی ہر کامیابی کے ساتھ اور زیادہ غافل مطمئن اور بےفکر ہوجاتے ہیں۔ کوئی رشوت لے لے کر اپنی حرص پوری کررہا ہے کوئی سود لے لے کر اپنا خزانہ جمع کررہا ہے اور چونکہ دولت کھٹا کھٹ چلی آرہی ہے اپنے حال پر اور زیادہ نازاں ہوتا جاتا ہے۔ اور اپنے عمل پر احتساب ونظر ثانی کی ضرورت ہی سرے سے نہیں سمجھتا۔ آیت میں بتایا ہے کہ یہ فوری کامیابی مطلق صورت میں ہرگز خوش ہونے والی چیز نہیں دیکھنا تو یہ چاہیے کہ غایت عمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–22

آیت نمبر 11 تا 22 ترجمہ : اور انسان جب تنگ دل ہوجاتا ہے تو اپنے اہل و عیال کیلئے اسی طرح بد دعاء کرتا ہے جس طرح وہ ان کیلئے دعاء خیر کرتا ہے اور ہر انسان اپنے لئے بددعاء کرنے میں جلد باز اور نا عاقبت اندیش واقع ہوا ہے اور ہم نے رات اور دن کو ہماری قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں بنایا، تو ہم نے رات کی نشانی کی تاریک بنایا یعنی ہم نے اسکے نور کو ظلمت سے مٹا دیا، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو اور (آیۃ اللیل) میں اضافت بیانیہ ہے، اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا، یعنی ایسی کہ اس میں روشنی کی وجہ سے نظر آسکے، تاکہ تم کسب کے ذریعہ اس میں اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو، اور تاکہ تم انکے ذریعہ سالوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ : جس کا مقصد (محض) دنیا ہوتی ہے تو ہم دنیا کے اندر جس کو مناسب سمجھتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں فوراً (یعنی دنیا ہی میں) دے دیتے ہیں۔ ما نشائجتنا ہم چاہتے ہیں اس کا پورا مطلوب یا کچھ مطلوب دے دیتے ہیں یہ ضروری نہیں کہ ہر تمنا پوری پوری دے دی جائے۔ لِمَنْ نُّرِیدُجس کو چاہتے ہیں۔ یہ اس لئے فرمایا کہ ہر شخص کا سوال اور تمنا تو پوری نہیں کی جاتی۔ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا : پھر (آخرت میں) ہم نے اس کے لئے جہنم مقرر کردیا ہے جس کی آگ میں وہ داخل ہوگا ‘ ایسی حالت میں کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(18) جو شخص اپنے ان نیک اعمال سے جو کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیے ہیں، دنیا کی نیت رکھے گا اور آخرت کا منکر ہوگا تو ہم ایسے شخص کو دنیا میں جتنا چاہیں گے جس کے واسطے چاہیں گے فی الحال دے دیں گے پھر اس کو آخرت میں بالکل بھی نہ دیں گے بلکہ جہنم اس کے لیے واجب کریں گے جو بدحال اور ہر ایک نیک کام کے ثواب سے محروم ہو کر داخل ہوگا یہ آیت مرثد بن ثمامہ کے بارے نازل ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ۔۔ : صاحب کشاف نے فرمایا، وہ شخص جس کا مقصود جلدی حاصل ہونے والی (یعنی دنیا) ہو اور اس کے سوا اس کا کچھ مقصد نہ ہو، جیسا کہ کفار اور اکثر فاسقوں کا حال ہے تو ہم دنیا کے فوائد میں سے جس قدر چاہتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں عطا فرما دیتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں دو قیدیں لگا دیں، ایک یہ کہ ہم دنیا کی وہ چیز اتنی دیتے ہیں جتنی ہم چاہتے ہیں، دوسری قید یہ کہ صرف اسے دیتے ہیں جس کا ہم ارادہ کرتے ہیں۔ اور واقعی ایسا ہی ہے، آپ ان میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ جتنی بھی تمنا رکھیں انھیں اس کا کچھ حصہ ہی ملتا ہے اور بعض اوقات کچھ بھی نہیں ملتا، سو ان کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–18

آیت نمبر 17 قولہ تعالیٰ : وکم اھلکنا من القرون من بعد نوحٍ یعنی کتنی قومیں ہیں جنہوں نے کفر کیا اور ان پر ہلاکت و بربادی آئی۔ (اللہ تعالیٰ ) کفار مکہ کو ڈرارہا ہے اور قرن کے بارے میں سورة الانعام میں کلام گزرچکی ہے۔ والحمد للہ۔ وکفیٰ بربک بذنوب عبادہٖ خبیرًا بصیرًا، خبیرًا یعنی آپکا رب اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے والا ہے۔ بصیرًا (اور) انکے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 18–21

1:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کان یرید العاجلۃ “ یعنی جو شخص اپنے عمل سے دنیا کا ارادہ کرتا ہے۔ (آیت) ” عجلنا لہ فیھا مانشآء لمن نرید “ تو ہم جس کے لئے چاہتے ہیں۔ اسے دنیا جلدی عطا فرمادیتے ہیں۔ 2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” عجلنا لہ فیھا مانشآء لمن نرید “ سے مراد ہے کہ جس شخص کا ارادہ اس کی رغبت اور اس کی طلب اور اس کی نیت صرف دنیا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جتنا چاہتے ہیں اس کو (اعمال کا بدلہ) دنیا ہی میں عطا فرما دیتے ہیں پھر اس کو جہنم کی طرف جانے پر مجبور کرے گا (آیت) ” یصلھا مذموما “ یعنی وہ اللہ کی سزا میں داخل ہوگا “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مَنْ : جو ] [كَان يُرِيْدُ : چاہتا رہتا ہے ] [الْعَاجِلَةَ : دنیا کو ] [عَجَّــلْنَا : تو ہم جلدی کردیتے ہیں ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [فِيْهَا : اس (دنیا) میں ] [مَا : وہ (چیز) جو ] [نَشَاۗءُ : ہم چاہتے ہیں ] [لِمَنْ : اس کے لئے جس کے لئے ] [نُّرِيْدُ : ہم چاہتے ہیں ] [ثُمَّ : پھر ] [جَعَلْنَا : ہم بناتے ہیں ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [جَهَنَّمَ : جہنم ] [يَصْلٰىهَا : وہ گرے گا اس میں ] [مَذْمُوْمًا : مذمت کیا ہوا ] [مَّدْحُوْرًا : کھدیرا ہوا ہوتے ہوئے ] نوٹ۔ 1: اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر ناراض ہوتا ہے اور اس کو عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا ہے تو اس کی ابتدائی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس قوم کے حاکم ایسے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

طالب دنیا کو تھوڑی سی دنیا دے دی جاتی ہے اور آخرت میں اس کے لیے جہنم ہے اہل ایمان کے اعمال کی قدردانی ہوگی ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی دادو دہش اور عطاء و نوازش کا تذکرہ فرمایا ہے جو دنیا اور آخرت میں بندوں پر ہوتی ہے اور اس بارے میں جو تکوینی قانون ہے اس کا تذکرہ فرمایا ہے، اول دنیا کے طلب گاروں کا تذکرہ فرمایا کہ جو شخص اپنے اعمال کے ذریعے دنیا ہی کو چاہتا ہے اس کو دنیا کا کچھ حصہ دے دیا جاتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر طالب دنیا کو اس کی مراد مل جائے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو چاہے وہ سب مل جائے اسی کو فرمایا ہے (عَجَّلْنَالَہٗ فِیْھَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ) کہ ہم ایسے شخص کے لیے اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–22

بیان سعادت و شقاوت و ہدایت و ضلالت وطالبین دنیا و طالبین آخرت قال اللہ تعالیٰ : وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ .... الیٰ .... فتقعد مذموما مخذولا۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ لیل و نہار اس کی قدرت کا کرشمہ ہیں اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ اسی طرح سمجھ لو کہ سعادت و شقاوت اور ہدایت و ضلالت سب اسی کی قدرت کے کرشمے ہیں جس طرح ظاہری نور اور ظلمت اس کے اختیار میں ہے اسی طرح باطنی نور اور ظلمت بھی اسی کے اختیار میں ہے اور سب مقدر ہوچکی ہے جن کا ظہور قیامت کے دن ہوگا پھر یہ بتلایا کہ جنہوں نے انبیاء و رسل کا مقابلہ کیا وہ ہلاک اور برباد ہوئے لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ ان نستیوں کو دیکھ کر جن پر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 18–19

18:۔ یہ مشرکین کے ایک شبہہ کا جواب ہے۔ شبہ یہ تھا کہ اگر یہ مسئلہ توحید حق ہوتا تو دنیا میں اللہ تعالیٰ ہمیں مال و دولت اور یہ انواع و اقسام رزق کیوں دیتا حالانکہ ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ جواب فرمایا کہ دنیا میں ہم عطاء اور داد و دہش کا دروازہ کسی پر بند نہیں کرتے۔ دنیا میں روزی سب کو دیتے ہیں خواہ فرمانبردار ہوں خواہ نافرمان۔ ہاں جو شخص آخرت پر دنیا کو ترجیح دے اور دنیا کا طالب اور خواہشمند ہو تو ہم اس کو دنیا میں دولت دیدیتے ہیں لیکن آخرت میں ذلت، رحمت خدا سے محرومی اور عذاب جہنم کے سوا اس کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔ ” ومن اراد الاخرۃ “ بشارت اخروی۔ لیکن جو لوگ آخرت کے متلاشی ہیں اور تلاش…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–22

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے قوموں کو ہلاکت کا فلسفہ بیان فرمایا کہ پہلے ہم ان کی طرف رسول بھیج کر حجت تمام کرتے ہیں ، پھر جب بستی کو ہلاک کرنا مقصود ہوتا ہے ان کی طرف اپنا حکم بھیجتے ہیں ، جب وہ احکام الہی کا انکار کرتے ہیں تو ان پر بات ثابت ہوجاتی ہے تو وہ ہلاک دیے جاتے ہیں ، اللہ نے بطور مثال فرمایا کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کے بعد بہت سی قوموں کو ہلاک کیا ، وہ کفر ، شرک اور معاصی کا شکار ہوچکے تھے ، انبیاء کرام کی تکذیب کرتے تھے ان کے اس فسق کی وجہ سے اللہ نے انہیں سزا دی فرمایا تمہیں سابقہ اقوام کے حالات سے عبرت حاصل کرنی چاہئے ، (دنیا طلبی) اللہ تعالیٰ کا عام قانون یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا 18؀ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–22

ترکیب : من مبتداء اور یہ شرط ہے اور عجلنا اس کا جواب لمن یرید بدل ہے من سے باعادہ جار یصلہا حال ہے جہنم سے یا ضمیر لہ سے مذمومًا حال ہے فاعل یصلی سے جو ضمیر ہے اور اسی طرح مدحورا ھولاء ہؤلاء بدل ہے کلا سے وحرہ حرہ طردہ من باب خضع، محظورا 3 ؎ ممنوعا یقال حظرہ یحظرہ حظرا منعہ۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا ہم خبیر وبصیر ہیں ہر ایک کی نیت جانتے اور اس کے ظاہر حال کو دیکھتے ہیں اس کے بعد دنیا میں جو کچھ لوگ کر رہے ہیں اور جس جس چیز پر مر رہے ہیں اس کا بیان اور انجام فرماتا ہے تاکہ خبیر وبصیر ہونے کی تصریح ہوجائے۔ دنیا میں دو قسم کے آدمی ہیں ایک وہ کہ جن کا دارآخرت پر یقین نہیں اور جو کچھ ہے بھی تو اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَنْ کَانَ یُرِیْدُالْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ فِیْھَا مَانَشَآئُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَہٗ جَھَنَّمَ ج یَصْلٰـھَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 18) (جو دنیا ہی کا طالب بنتا ہے ہم اس کے لیے اسی میں جس قدر چاہتے ہیں جس کے لیے چاہتے ہیں آگے بڑھا دیتے ہیں، پھر ہم نے اس کے لیے جہنم رکھ چھوڑی ہے جس میں وہ خوار اور راندہ ہو کر داخل ہوگا۔ ) اعمال کے متعلق سنت الٰہی گزشتہ آیات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کی دنیا اور آخرت کی کامیابی کا دارومدار ایمان و عمل پر ہے۔ یہاں نہ حسب و نسب کام آتا ہے اور نہ کوئی دوسرا سہارا ساتھ دیتا ہے۔ ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–20

فہم القرآن ربط کلام : اقوام کی تباہی میں بنیادی عنصر ان کی جلد بازی ہوا کرتا ہے۔ جس کی بناء پر وہ اصول کے مقابلے میں وقتی مفاد، صالح کردار کے مقابلہ میں دنیا کی لذّات، سہولیات اور آخرت کے بدلے دنیا کو ترجیح دیتے ہیں۔ جس بناء پر دنیا میں ذلت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں۔ یہاں دنیا دار کو جلد باز قرار دینے کے بعد اس کا انجام ذکر کیا جا رہا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص دنیا کے لیے جلد بازی کرتا ہے۔ ہم جس قدر چاہتے ہیں اسے دنیا دے دیتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ہم نے جہنم تیار کی ہے۔ جس میں اسے ذلّت و پھٹکار کے ساتھ داخل کیا جائے گا۔ اس کے مقابلے میں جس شخص نے آخرت کو پسند کیا اور اس کے لیے کوشش کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دنیا چاہنے والے کو دینا : 18: مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَعَجَّلْنَا لَہٗ فِیْھَا مَانَشَآ ئُ (جو شخص دنیا کا خواہش مند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں) نہ وہ جو چاہتا ہے۔ لِمَنْ نُّرِیْدُ یہ لہؔ کا بدل ہے حرف جار کو دوبارہ لایا گیا ہے۔ یہ بدل البعض ہے۔ ضمیر کا مرجع منؔ ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے من کانت العاجلۃ ھمہ ولم یرد غیرھا کالکفرۃ تفضلنا علیہ من منافعھا بما نشاء لمن نرید جس کا مقصد جلدی ملنے والی چیز (دنیا) ہو اور اس کے علاوہ وہ کسی چیز کا طالب نہ ہو جیسا کہ کفار تو ہم دنیا کی منفعتیں جتنی چاہتے ہیں اور جو چاہتے ہیں اس کو دے دیتے ہیں۔ آیت میں اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18۔” من کان یرید العاجلۃ “ جس کا مقصد دنیا کا حصول ہوتا ہے ہم اس کو دنیا سے دے دیتے جتنا ہم چاہتے ہیں ۔ ” عجلنا لہ فیھا ما نشاء “ ہم اس کو کشادہ کردیتے ہیں یا اس کو تنگ کردیتے ہیں ۔ ” لم نرید “ جس کے ہلاک کرنے کا ہم ارادہ کرتے ہیں ۔ ” ثم جعلنا لہ “ آخرت میں ” جھنم یصلاھا “ اس کو دوزخ میں داخل کردیں گے۔” مذموما مدحورا ً “ یعنی دھتکارا ہوا دور کیا ہوا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

18:۔ حاصل اس آیت اور اس کے آگے کی آیت کا یہی ہے کہ جو شخص فقط دنیا میں پھنس کر دین سے بالکل غافل ہوجاتا ہے اس کو دنیا کچھ زیادہ نہیں ملتی بلکہ اسی قدر ملتی ہے جو اس کے نصیب میں خدا نے لکھی ہے اور جو لوگ دین کے خواہشمند ہیں ان کے اعمال کے قبول ہونے کے لیے آیت میں تین شرطیں ہیں ایک تو آدمی پورا ایماندار ہو کا جس مطلب یہ ہے کہ جو باتیں شریعت میں ایمان لانے کی ہیں ان میں بدعقیدہ نہ ہو دوسرے اس کا عمل آخرت کے ثواب کی غرض سے ہو اس عمل میں دنیا کا دکھاوا اور ریاکاری نہ ہو تیسرے دل کی کوشش سے وہ عمل کیا جاوے اوپرے دل سے رسم کے طور پر نہ کیا جاؤ کے یہ منافقوں کے عمل کی نشانی ہے معتبر سند سے ترمذی میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–21

آیت نمبر 17 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے۔ (من کان یرید العاجلتہ) ، ، جو شخص دنیا کا خواہش مند ہو۔ ، ، یعنی جو کوئی ختم اور زائل ہوجانے والی دنیا چاہتا ہے وہ اس کے لئے عمل اور کوشش کرتا ہے، اس کی ابتدایا انتہا کو فراموش کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ جلدی سے دنیا کے وہ ٹکڑے اور اس کا مال و متاع اسے عطا کردیتا ہے، جسے وہ چاہتا تھا اور اس کا ارادہ رکھتا تھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا۔ مگر یہ متاع دنیا فائدہ دینے والی ہے نہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ پھر آخرت میں اس کے لئے (جھنمہ یصلھا) ، ، جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا، ، یعنی اس کے عذاب میں ڈالا جائے گا۔ (مذموماً مدحوراً…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 18–19

خد ا اپنی مرضی سے جتنا چاہے طالبان دنیا کو نوازتا ہے قول باری ہے (من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیھا مانشاء لمن نرید جو عاجلہ کا خواہشمند ہو اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں) عاجلہ سے مراد دنیا ہے جس طرح یہ قول باری ہے (کلا بل تحبون العاجلۃ وتذرون الاخرۃ) ہرگز ایسا نہیں، اصل یہ ہے کہ تم دنیا سے تو محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑے ہوئے ہو) اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ جس شخص کی ساری تگ و دو دنیا کی طلب تک محدود ہو اور اس کے دل میں آخرت کی نہ کوئی فکر ہو اور نہ چاہت اسے یہیں جتنا وہ چاہے مل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں سے دینے کو دو باتوں کے ساتھ معلق کردیا ہے۔ ایک پر یہ قول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–19

39۔ طالب دنیا کے لئے صرف دنیا اور وہ بھی مقدر کے مطابق :۔ سو طالب دنیا کو بھی اتنا ہی ملتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے اور بس۔ پس طالب دنیا کو بھی دنیا اتنی نہیں ملتی جتنی وہ چاہتا ہے۔ بلکہ صرف اسی قدر ملتی ہے جتنا کہ ہم چاہتے ہیں۔ اور اس کو وہی کچھ ملتا ہے اور اسی قدر ملتا ہے جتنا اور جس قدر ہمیں دینا منظور ہوتا ہے اپنی حکمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق۔ سو ابنائے دنیا کی یہ بڑی غلط فہمی ہے کہ ہم جو کچھ چاہیں حاصل کرسکتے ہیں۔ اس ارشاد ربانی میں (عاجلہ) کا لفظ آخرت کے بالمقابل استعمال فرمایا گیا ہے۔ سو اس سے مراد یہ دنیائے فانی اور اس کا نفع عاجل ہے۔ سو اس ارشاد سے امہال کے بارے میں سنت الہی کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 18–22

دنیا کی خواہش اور آخرت کی طلب تشریح : دعا کا یہ انداز کہ صرف دنیا کی بھلائیاں مانگی جائیں اچھا نہیں اس سے دنیا کی محبت کا اظہار ہوتا ہے اور صرف دنیا کی ہی بھلائیاں ملیں گی جو بالکل نقصان کا سودا ہے کیونکہ آخرت کی بھلائیاں بہت بلند درجہ رکھتی ہیں۔ اور جو آخرت کی بھلائیاں مانگے اس کو آخرت کی بھلائیاں مل جاتی ہیں اور دنیا کی بھی مل جاتی ہیں مگر ایسا بندہ زیادہ فائدہ میں رہتا ہے۔ اللہ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں، اس لیے اس سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں مانگنی چاہییں، مگر شرط یہ ہے کہ دعا میں خلوص اور ایمان شامل ہو۔ کفر و شرک تو ویسے ہی جہنم کی طرف لے جانے والے ہیں صرف دعا سے بچ نہیں سکتے۔ اس لیے دعا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–22

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف تو آخر لوگ کیوں کفر کرتے ہیں جبکہ نہ تو اس سے دنیا میں سکون ملتا ہے اور نہ آخرت کے ۔ (جلد بازی کے فیصلے) انعام کی امید ، تو یہ انسانی مزاج کی جلد بازی ہے اور اس کا یہ حال دار دنیا میں بھی تو ظاہر ہے کہ بعض اوقات جلد بازی میں فیصلہ کرکے ایسی دعا مانگ لیتا ہے جو دنیا میں ہی اس کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے جیسے انہیں دنوں نظر بن حارث نے اسلام کی مخالفت میں بیت اللہ میں دعا کی جو قرآن میں مذکور ہے ترجمہ یہ ہے ” یا اللہ اگر یہ اسلام حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب بھیج دے “ اور اللہ جل جلالہ کی شان اس کے فورا بعد بدر میں تباہ ہوئے ، احد میں مار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی وہ نیک اعمال محض اس لئے کرتا ہو کہ اسے دنیا کا فائدہ اور اسی کی خوشحالی حاصل ہو جیسے منافق یا ریا کار9 یعنی اس کا مقصد پورا کردیتے ہیں مگر اتنا نہیں جتنا وہ خود چاہتا ہے بلکہ جتنا ہم چاہتے ہیں۔ پہلے گزر چکا ہے کہ سورة ہود کی آیت نوف الیھم اعمالھم اس آیت کے ساتھ مقید ہے۔ (ہود :15)10 آخرت میں ان کے عمل کسی طرح بھی قبول نہیں کئے جائیں گے۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:18 ) العاجلۃ۔ جلد ملنے والی۔ دنیا اور دنیا کی آسودگی مراد ہے عجل۔ عجلۃ سے اسم فاعل واحد مؤنث ہے۔ العاجلۃ صفت ہے اس کا موصوف الدار محذوف ہے العاجلۃ سے مراد دار دنیا ہے۔ عجلناہم نے جلدی کی۔ تعجیل (تعفعیل) مصدر سے۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ عجلنا لہ۔ ہم اس کو جلدی دیدیتے ہیں فیھا۔ ای فی تلک الدار العاجلۃ۔ ای فی الدنیا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الدار العاجلۃ۔ یعنی دار دنیا ہے۔ یصلھا۔ مضارع واحد مذکر غائب وہ داخل ہوگا۔ صلی یصلی (باب فتح) باب سمعمصدر صلی ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جہنم کی طرف راجع ہے۔ یصلھا وہ اس (جہنم) میں داخل ہوگا۔ مذموما۔ اسم مفعول ۔ مذمت کیا ہوا۔ ذم یذم (نصر) ذم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 18–22

لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 22 العاجلۃ جلد ملنے والی، (دنیا کا عیش و آرام) ۔ یصلی وہ ڈالے گا، داخل کریگا۔ مذموم ملامت زدہ، بےحال۔ مدحور رحمت سے دور ، دھوکا دیا گیا ہے۔ مشکور مقبول ، کامیابی ۔ نمد ہم دیتے ہیں۔ محظور روکی گئی۔ انظر دیکھو۔ فضلنا ہم نے بڑائی دی۔ تفضیل بڑائی ، فضیلت ، تقعد تو بیٹھے گا۔ مخذول بےکس، ذلیل ۔ تشریح آیت نمبر 18 تا 22 اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر چیز انسان کے لئے بنائی ہے جس سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس نے سورج کی چمک چاند کی ٹھنڈک ہوائیں، فضائیں، شجر و حجر ہر چیز کو انسانی ضرورت کے لئے بنایا ہے اور ہر انسان اس سے فائدہ حاصل کرتا ہے خواہ وہ اللہ کا فرماں بردار وہ یا نافرمان۔ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

دنیا دار اور دین دار کا ذکر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں پھنس کر دین سے بلکل غافل ہوجاتا ہے اس کو دنیا کچھ زیادہ نہیں ملتی بلکہ اسی قدر ملتی ہے جو اس کے نصیب میں خدا نے لکھی ہے۔ اور جو شخص دین کا طلب گار رہتا ہے، اس کا دل ہمیشہ غنی رہتا ہے اور بقدر ضرورت دنیا بھی بلا طلب اس کو ملا کرتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ دنیا کی خوشحالی کے نشہ میں عقبیٰ کے منکر ہیں قیامت کے دن ایسے لوگوں کو دوزخ میں جھونک دیا جاوے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–18

[16] یعنی جب کسی قوم کی شدت کفر و سرکشی کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو اس کا فنا کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے تو پہلے کسی رسول کے ذریعے سے اسے ایمان و اطاعت احکام کا حکم دیا جاتا ہے اور سب سے پہلے اس قوم کے امراو اغنیاء اس حکم کو توڑتے ہیں۔ یعنی نافرمانی خوشحال لوگوں سے شروع ہوتی ہے پھر عوام ان کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ اور کیونکہ اللہ بندوں کا اور ان کے افعال کا خالق ہے یعنی بندے برا بھلا جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ ہی نے ان کو کرنے کی قدرت دی ہے اس لئے فرمایا کہ ہم خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ نافرمانی کرنے لگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–19

(ف 1) اسلامی قانون مکافات یہ ہے ، کہ ہر شخص بجائے خود اپنے اعمال کا ذمہ دار ہیں ، اس لئے تناسخ غلط ہے ، اور ہدیہ وکفارہ بھی صحیح نہیں ، ہر شخص اپنے اعمال کا جواب وہ ہے کوئی شخص کسی کے کام میں نہیں آسکے گا ۔ (آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔ سے مراد یہ ہے کہ عذاب کے لئے تکذیب کی ضرورت ہے ، اور تکذیب کے لئے پیغام کی حاجت ہے ، اس لئے ضرور ہے کہ عذاب سے قبل اتمام حجت ہوچکے ، تاکہ انہیں یہ کہنے کا موقعہ نہ ملے کہ ہم نے اعمال صالحہ کے لئے مقدور بھر کوشش کی تھی اور ہمیں ناحق عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے ۔ یہ یاد رہے ، کہ عذاب سے مراد تمام تکالیف نہیں ، نہ عادی مصائب مقصود ہیں ، بلکہ عذاب وہ ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 18 جو شخص عاجلہ یعنی دنیا ہی چاہتا ہے اور دار دنیا ہی کا طلب گار ہے تم ہم اس کو دنیا میں جتنا چاہتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں جلد اور فی الحال دے دیتے ہیں پھر ہم اس کے لئے جہنم مقرر کردیتے ہیں اس جہنم میں وہ برا سن کر اور بدحال دراندئہ درگاہ ہو کر داخل ہوگا۔ عاجلہ فرمایا دنیا کو چونکہ انسان پہلے دنیا ہی میں آتا ہے لہٰذا جو شخص دنیا ہی کا طلب گار ہوتا ہے تو وہ بھی ہر شخص کو نہیں ملتی بلکہ جس کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اس کو دے دیتا ہے اور یہ بھی نہیں کہ جتنی وہ چاہے اتنی ہی دے دے بلکہ جس قدر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اتنی دیتا ہے لیکن آخرت سے محروم کردیا جاتا ہے اور وہاں جہنم میں ملوم و مدحور بنا کر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–18

ف 2۔ جیسے عاد وثمود وغیرہ اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ہلاک ہونا مشہور و معروف ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو شخص دنیا کی زندگی کے لئے کوشش کرے اس کو دنیا ہی دی جائے گی : 24۔ قانون الہی کی مزید وضاحت فرما دی کہ یاد رکھو نتائج عمل کے لحاظ سے انسان کے دو گروہ ہوگئے ہیں ایک وہ ہے جس کی ساری طلب دنیا کی چند روزہ زندگی ہی کے لئے ہے دوسرا وہ ہے جو یقین رکھتا ہے کہ اس زندگی کے بعد بھی ایک زندگی ہے اس لئے اس دوسری زندگی کی سعادت کا بھی طالب ہے جہاں تک دنیا کی زندگی کا تعلق ہے ہمارا قانون یہ ہے کہ دونوں کے آگے یکساں طریقہ پر دنیوی نتائج کا دروازہ کھول دیا ہے اور سب کو کارخانہ ربوبیت کا فیضان مل رہا ہے انہیں بھی جو صرف دنیا کے ہو رہے ہیں انہیں بھی جو آخرت کے بھی طالب ہوئے جہاں تک آخرت کی سعادتوں کا تعلق ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Two behavior models of human beings appear in the cited verses side by side. As for those who elect to go for the readily available benefits out of their life in this world, and the punishment that comes in its wake, the words used were: مَّن كَانَ يُرِ‌يدُ الْعَاجِلَةَ (Whoever opts for the immediate life herein - 18). These words signify continuity and permanence meaning that this punishment of Hell will materialize only when one's actions are all the time motivated by material interests only, having practically no concern for the Hereafter. And as for 'those who desire to have…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

19. The Arabic word ajilah literally means something which can be had immediately, but the Quran employs it as a term for“this world”which yields its advantages and results in this worldly life. Its antonym is Akhirat (Hereafter) which will yield its advantages and results after death in the life of the next world. 20. The person who does not believe in the life of the Hereafter deserves Hell, because he strives only for the successes and good things of this world and his endeavors are confined to material objects. Consequently, such a person becomes a mere worshiper of this world and adopts…

Read the full tafseer →