بلا تحقیق فیصلہ نہ کرو
یعنی جس بات کا علم نہ ہو اس میں زبان نہ ہلاؤ۔ بغیر علم کے کسی کی عیب جوئی اور بہتان بازی نہ کرو۔ جھوٹی شہادتیں نہ دیتے پھرو۔ بن دیکھے نہ کہہ دیا کرو کہ میں نے دیکھا، نہ بےسنے سننا بیان کرو، نہ بےعلمی پر اپنا جاننا بیان کرو۔ کیونکہ ان تمام باتوں کی جواب دہی اللہ کے ہاں ہوگی۔ غرض وہم خیال اور گمان کے طور پر کچھ کہنا منع ہو رہا ہے۔ جیسے فرمان قرآن ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ 12) 49۔ الحجرات :12) ، کہ زیادہ گمان سے بچو، بعض گمان گناہ ہیں۔ حدیث میں ہے گمان سے بچو، گمان بدترین جھوٹی بات ہے۔ ابو داؤد کی حدیث میں ہے انسان کا یہ…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 42
اس دفعہ کا منشاء یہ ہے کہ لوگ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں وہم و گمان کے بجائے ”علم“ کی پیروی کریں۔ اسلامی معاشرے میں اس منشاء کی ترجمانی وسیع پیمانے پر اخلاق میں، قانون میں، سیاست اور انتظام ملکی میں، علوم و فنون اور نظام تعلیم میں، غرض ہر شعبہ حیات میں کی گئی اور ان بیشمار خرابیوں سے فکر و عمل کو محفوظ کردیا گیا جو علم کے بجائے گمان کی پیروی کرنے سے انسانی زندگی میں رونما ہوتی ہیں۔ اخلاق میں ہدایت کی گئی کہ بدگمانی سے بچو اور کسی شخص یا گروہ پر بلا تحقیق کوئی الزام نہ لگاؤ۔ قانون میں مستقل اصول طے کردیا گیا کہ محض شبہے پر کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور جس بات کی تجھ کو تحقیق نہ ہو اس پر عمل مت کیا کرو (کیونکہ) کان اور آنکھ اور دل ہر شخص سے ان سب کی (قیامت کے دن) پوچھ ہوگی (کہ آنکھ اور کان کا استعمال کس کس کام میں کیا وہ کام اچھے تھے یا برے اور بےدلیل بات کا خیال دل میں کیوں جمایا) اور زمین پر اتراتا ہوا مت چل (کیونکہ) تو (اس زمین پر زور سے پاؤں رکھ کر) نہ زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ (اپنے بدن کو تان کر) پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتا ہے (پھر اترانا عبث) یہ سارے (مذکورہ) برے کام تیرے رب کے نزدیک (بالکل) ناپسند ہیں۔
معارف و مسائل
ان آیات میں دو حکم بارھواں اور تیرھواں عام معاشرت سے متعلق ہیں بارھویں حکم میں بغیر تحقیق کے کسی بات…
Read the full tafseer →وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۭ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْــــُٔــوْلًا۔
" قفوتہ، قفوت اثرہ کے معنی ہیں میں اس کے پیچھے لگایا ہولیا۔ لَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ، یعنی جس چیز کے بارے میں تمہیں قابل اطمینان علم نہیں ہے اس کے پیچھے نہ ہولیا کرو اور محض اٹکل اور گمان کی بنا پر کسی کے بارے میں کوئی بات نہ لے اڑو۔
قذف اور تہمت وغیرہ کی ممانعت : یہ قذف اور تہمت وغیرہ کی قسم کی ساری باتوں کی ممانعت ہے۔ قرآن جو معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے اس کی بنیاد حسن ظن اور اعتماد پر ہے اس وجہ سے کسی کے باب میں کوئی ایسی بات زبان سے نہیں…
Read the full tafseer →36۔ 1 فَفَا یَقْفُوْ کے معنی ہیں پیچھے لگنا، یعنی جس چیز کا علم نہیں، اس کے پیچھے مت لگو، یعنی بدگمانی مت کرو، کسی کی ٹوہ میں مت رہو، اسی طرح جس چیز کا علم نہیں، اس پر عمل مت کرو۔
36۔ 2 یعنی جس چیز کے پیچھے تم پڑو گے اس کے متعلق کان سے سوال ہوگا کہ کیا اس نے سنا تھا، آنکھ سے سوال ہوگا کیا اس نے دیکھا تھا اور دل سے سوال ہوگا کیا اس نے جانا تھا ؟ کیونکہ یہی تینوں علم کا ذریعہ ہیں۔ یعنی ان اعضا کو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن قوت گویائی عطا فرمائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا۔
Read the full tafseer →20: مثلاً جب تک کسی شخص کے بارے میں شرعی دلیل سے کوئی جرم یا گناہ ثابت نہ ہوجائے، اس وقت تک صرف شبہ کی بنیاد پر نہ اس کے خلاف سزا کی کاروائی جائز ہے، اور نہ دل میں یہ یقین کرلینا جائز ہے کہ واقعی اس نے جرم یا گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ اس آیت کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جن باتوں کا نہ یقینی علم حاصل ہے اور نہ ایسے علم پر دنیا اور آخرت کا کوئی کام موقوف ہے بلا وجہ ایسی چیزوں کی تحقیق اور جستجو میں پڑنا بھی جائز نہیں ہے۔
21: اگر شرعی دلیل کے بغیر کوئی شخص دوسرے کے بارے میں یقین کر کے بیٹھ جائے کہ اس نے فلاں گناہ کا ارتکاب کیا ہے تو یہ دل کا گناہ ہے اور اس سے آخرت میں باز پرس ہوگی۔
Read the full tafseer →ان چند الفاظ میں انسانی دل و دماغ کے لئے ایک بہترین منہاج عمل اور طریق کار وضع کردیا گیا ہے اور یہ ایک سائنسی انداز جسے دوسرے لوگوں نے حال ہی میں معلوم کیا ہے۔ اسلام نے اس میں قلب کی درستی ، خدا ترسی اور سائنس میں حکمت خداوندی پر غور کا جوڑ لگا کر ایک خشک علم کے مقابلے میں اسے مزید مقدس اور بامعنی بنا دیا ہے۔ یہ اسلام اور قرآن کی خصوصیات ہے۔
قرآن کریم یہ حکم دیتا ہے کہ ہر معاملے میں کوئی فیصلہ کرنے سے قبل پوری تحقیق کرو ، معاملے کو پایہ ثبوت تک پہنچائو ، یہ اسلام کا نہایت ہی باریک طریق کار ہے۔ جب دل و دماغ اس منہاج پر گامزن ہوجائیں۔ تو پھرو ہم و گمان کے لئے کوئی گنجائش نہیں رہتی اور معاملات ،…
Read the full tafseer →5 یعنی بےتحقیق بات زبان سے مت نکال، نہ اس کی اندھا دھند پیروی کر۔ آدمی کو چاہیے کہ کان، آنکھ اور دل و دماغ سے کام لے کر اور بقدر کفایت تحقیق کر کے کوئی بات منہ سے نکالے یا عمل میں لائے۔ سنی سنائی باتوں پر بےسوچے سمجھے یوں ہی اٹکل پچو سے کوئی قطعی حکم نہ لگائے یا عملدرآمد شروع نہ کرے۔ اس میں جھوٹی شہادت دینا، غلط تہمتیں لگانا، بےتحقیق چیزیں سن کر کسی کے درپے آزار ہونا یا بغض و عداوت قائم کرلینا، باپ دادا کی تقلید یا رسم و رواج کی پابندی میں خلاف شرع اور ناحق باتوں کی حمایت کرنا، ان دیکھی یا ان سنی چیزوں کو دیکھی یا سنی ہوئی بتلانا۔ غیر معلوم اشیاء کی نسبت دعویٰ کرنا کہ میں جانتا ہوں یہ سب…
Read the full tafseer →آیت 36 وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ
بحیثیت اشرف المخلوقات انسان کا طرز عمل خالص علم پر مبنی ہونا چاہیے۔ اسے زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے کسی عمل یا نظریے کی بنیاد توہمات پر رکھے یا ایسی معلومات کو لائق اعتناء سمجھے جن کی کوئی علمی سند نہ ہو۔ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود انسانی علم کی بنیاد اور اس کا منبع کیا ہے ؟ اس سلسلے میں ہم جانتے ہیں کہ بنیادی طور پر انسانی علم کی دو اقسام ہیں۔ ایک اکتسابی علم acquired knowledge اور دوسرا الہامی علم revealed knowledge۔ اکتسابی علم کی بنیاد وہی علم الاسماء ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو سکھایا تھا اور جس کا ذکر ہم سورة البقرۃ کے چوتھے رکوع میں…
Read the full tafseer →6 4 ہر قول اور فعل کی تحقیق ضروری ہے بدظنی سے پرہیز :۔ شریعت کی ایک بہت بڑی اصل یہ ہے کہ ہر شخص سے حسن ظن رکھنا چاہیے تاآنکہ اس کی کوئی بددیانتی یا غلط حرکت کھل کر سامنے نہ آجائے۔ اسی مضمون کو ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا ۭ اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ 12) 49 ۔ الحجرات :12) (یعنی بسا اوقات محض گمان سے بات کہہ دینا گناہ ہوتا ہے) اور صحیح حدیث میں ہے کہ کفی بالمرء کذبا ان یحدث بماسمع (یعنی کسی شخص کے جھوٹا…
Read the full tafseer →55۔ (قیامت کے دن) یعنی ہر ہر شخص سے سوالاس کا ہوگا کہ کان سے سننے کا، آنکھ سے دیکھنے کا، دل سے سوچنے سمجھنے یقین کرنے کا کام جائز اور صحیح موقعوں پر کتنا لیا، اور ناجائز اور غلط موقعوں پر کتنا ! احساس ذمہ داری کی تعلیم ہر ہر فرد کو اس سے بہتر اور کہاں ملے گی ؟ اس پر آج عمل ہونے لگے تو شخصی اور قومی، انفرادی واجتماعی دونوں قسم کے کتنے جھگڑے قصے آج دنیا سے مٹ جائیں ! (آیت) ” ولا تقف مالیس لک بہ علم “۔ یعنی بلاتحقیق ہر سنی سنائی بات کے پیچھے نہ ہولیا کرو البتہ مختلف مسائل کی تحقیق کے درجہ مختلف ہوتے ہیں اور ہر مسئلہ کے متناسب فقہاء اصولیین نے کہا ہے کہ قطعیات میں دلائل بھی قطعی ہونے چاہئیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیت نمبر 31 تا 40
ترجمہ : اور تم اپنی اولاد کو افلاس کے خوف سے زندہ درگور کرکے قتل نہ کرو ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی، اور بالشبہ ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو (یہ تعبیر) تم زنا نہ کرو کی تعبیر سے زیادہ بلیغ ہے، بلاشبہ وہ بہت برا فعل ہے اور نہایت برارستہ ہے اور قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلوماً قتل کیا گیا تو ہم نے اس کے وارث کو قاتل سے قصاص کے مطابق کا حق عطا کیا ہے تو اس کو قتل میں (حد شرع) سے تجاوز نہ کرنا چاہیے بایں طور کہ غیر قاتل کو قتل کرے یا اس آلہ کے علاوہ سے قتل کتے کہ جس کے ذریعہ قتل کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ اور جس چیز کا تم کو علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ چلو۔ قَفَا یَقْفُوْکسی کے نشان قدم پر چلنا اتباع کرنا ‘ قافیہ اسی سے بنا ہے۔ علم نہ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جس بات کا تم کو حسی علم بھی نہ ہو اور کوئی نقلی حکم بھی نہ ہو اور نہ کوئی عقلی قطعی دلیل ہو ‘ ایسی چیز کی پیروی نہ کرو۔
ایک شبہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ظنی دلیل کی روشنی میں عمل کرنا جائز نہیں (یعنی خبر آحاد اور قیاس سے چونکہ یقینی علم حاصل نہیں ہوتا صرف گمان غالب اور راجح خیال پیدا ہوجاتا ہے اس لئے نہ قیاسی احکام پر چلنا جائز ہے نہ ان اوامرو نواہی پر جو احادیث غیر متواترہ سے مستفاد ہو رہے…
Read the full tafseer →(36) اور جب تک کسی بات کی تحقیق نہ ہو اور اس کو صحیح طور پر دیکھی اور سنی نہ ہو تو مت بیان کرو، کیوں کہ کانوں سے جن باتوں کو سنا ہے اور آنکھوں سے جن کو دیکھا ہے اور دل میں جن باتوں کی تمنا کی ہے قیامت کے دن ہر ایک شخص سے ان کے متعلق باز پرس ہوگی۔
Read the full tafseer →وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ :”وَلَا تَــقْفُ“ ”قَفَا یَقْفُوْ“ (ن) سے نہی کا صیغہ ہے، جس کا معنی پیچھے چلنا ہے۔ ”قَفَوْتُ أَثَرَ فُلاَنٍ“ ”میں فلاں کے نقش قدم پر چلا۔“ ”قَفَا“ گردن کے پچھلے حصے (گدی) کو کہتے ہیں، قافیہ ہر شعر کے آخر میں آنے والا لفظ۔ رسول اللہ ﷺ کا ایک مبارک نام ”اَلْمُقَفِّيْ“ بھی ہے، یعنی سب سے پیچھے آنے والا۔ (مستدرک حاکم : 4185) یعنی جس قول یا فعل کے درست ہونے کا علم یعنی یقین نہ ہو اس کا پیچھا مت کرو، مطلب یہ کہ نہ خود اس پر عمل کرو نہ آگے کسی کو بتاؤ۔ علم وہ ہے جس کا یقین ہو، صرف گمان کے پیچھے چلنا منع ہے، کیونکہ گمان علم نہیں ہوتا، فرمایا : (وَمَا لَهُمْ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 36
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : ولا تقف یعنی پیروی نہ کرو اس کی جسے تم جانتے نہیں اور نہ وہ مقصود اور مراد ہوسکتی ہے۔ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : تو نہ کہہ میں نے دیکھا ہے حالانکہ تو نے نہیں دیکھا، اور میں نے سنا ہے حالانکہ تو نے نہیں سنا، اور میں جانتا ہوں حالانکہ تو نہیں جانتا : اور یہی حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : تو اس چیز کے سبب کسی کی مذمت نہ کر جس کے بارے تیرے پاس علم نہیں ہے : اور یہ بھی حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ اور حضرت محمد بن حنیفہ ؓ نے کہا ہے : یہ چھوٹے آدمی کا شہادت دینا ہے۔ اور قتبی نے کہا ہے : اس کا معنی ہے ظن اور وہم…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تقف “ سے مراد ہے تو مت کہہ
2:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تقف مالیس لک بی علم “ سے مراد ہے کہ تو کسی پر ایسا بہتان نہ لگا اس بات کا جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں۔
3:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن الحنفیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تقف مالیس لک بی علم “ سے مراد ہے جھوٹی گواہی۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” ولا تقف مالیس لک بی علم “ کے بارے میں روایت کیا گیا کہ یہ (حکم) جھوٹ کے بارے میں ہے جس دن یہ آیت نازل ہوئی جھوٹ کے بارے میں کوئی حد موجود نہ تھی بلاشبہ اس کے بارے…
Read the full tafseer →[وَلَا تَــقْفُ : اور تو پیچھے مت پڑ ] [مَا : اس کے ] [لَيْسَ لَكَ : نہیں ہے تیرے لئے (یعنی تیرے پاس)] [بِهٖ : جس کا ] [عِلْمٌ: کوئی علم ] [ان : یقینا ] [السَّمْعَ : سماعت ] [وَالْبَصَرَ : اور بصارت ] [وَالْفُؤَادَ : اور دل (یعنی نفقّہ)] [كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ : ان کے سب ہیں (کہ)] [كَان : ہے ] [عَنْهُ : اس (ہر ایک) کے بارے میں ] [مَسْــــُٔــوْلًا : پوچھا جانے والا ]
ترکیب : (آیت۔ 36) اَلسَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ ، یہ سب اِنَّ کے اسم ہیں۔ اس کے آگے پورا جملہ کُلُّ اُولٍّگکَ کَانَ عَنْہُ مَسَئُوْلًا۔ اِنَّ کی خبر ہے۔ اس جملہ میں کُلُّ اُولٍّگکَ مرکب اضافی کَانَ کا اسم ہے جبکہ مَسْئُوْلًا…
Read the full tafseer →جس بات کا پتہ نہیں اس کے پیچھے پڑنے اور زمین پر اتراتے ہوئے چلنے سے ممانعت
یہ تین آیات ہیں پہلی آیت میں اس بات پر تنبیہ فرمائی کہ جس بات کا علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو، اس کی جامعیت بہت سے اعمال کو شامل ہے اس نصیحت پر دھیان نہ دینے کی وجہ سے جو اعمال صادر ہوتے ہیں معاشرہ میں جو بدمزگی پیدا ہوتی ہے اور ایک دوسرے کی آبرو ریزی ہوجاتی ہے مختصر الفاظ میں ان سب کی ممانعت آگئی، غلط حدیثیں بیان کرنا خود حدیثیں وضع کرنا جھوٹے راویوں سے حدیثیں لینا اور انہیں آگے بڑھانا کسی بھی شخص کے بارے میں محض اٹکل سے یا سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کچھ کہہ دینا تہمت رکھ دینا یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو دینی اعتبار سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–38
تفصیل اعمال آخرت و احکام ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ .... الیٰ .... کل ذلک سیۂ عند ربک مکروھا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آخرت کی سعی اور اس کی جدوجہد کا بیان تھا کہ جو آخرت کے لیے سعی کرے گا ہم اسے آخرت کی نعمتیں عطا کریں گے اب ان آیات میں ان اعمال کی تفصیل فرماتے ہیں کہ جن کے ذریعہ انسان آخرت کی نعمتیں حاصل کرسکے اور ان احکام کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ انسان ہدایت حاصل کرسکے اور آخرت کی سعی اور جدوجہد کا ذریعہ یہ اعمال ہیں اور ان احکامات کو توحید ہی سے شروع کیا اور توحید ہی پر ختم کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام گناہوں میں شرک بڑے درجہ کا گناہ ہے اور درمیان میں زیادہ تر…
Read the full tafseer →36:۔ یہ چھٹا ظلم ہے جس چیز کے بارے میں پورا علم نہ ہو اس میں محض ظن وتخمین پر عمل نہ کرو اور بلا تحقیق کسی مسلمان کو تکلیف نہ دو اور محض سنی سنائی باتوں پر اعتماد کر کے کسی کو نشانہ ظلم نہ بناؤ۔ وقال القتبی لا تتبع الحدس والظنون (قرطبی ج 10 ص 357) جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” اجتنبوا کثیر امن الظن ان بعض الظن اثم “ (حجرات رکوع 2) ۔ آدمی کو چاہئے کہ بلا تحقیق کوئی بات نہ کرے اللہ تعالیٰ نے دل و دماغ، آنکھیں اور کان دئیے ہیں ان سے کام لینا چاہئے۔ سوچ بچار اور غور و فکر کے بعد کوئی قدم اٹھانا چاہئے۔ ان سنی یا ان دیکھی باتوں کو سنی یا دیکھی بنانا یا جس کا علم نہ ہو اس کو جاننے کا دعوی کرنا یہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
(14) (تحقیق کی ضرورت)
اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام کے سلسلے میں اب تک تیرہ اصول بیان کیے جا چکے ہیں اب چودھواں اصول یہ ہے (آیت) ” ولا تقف مالیس لک بہ علم “۔ جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑو ، مطلب یہ ہے کہ بلا تحقیق کسی چیز کو نہ دل میں جگہ دو ، نہ زبان سے نکالو اور نہ اس پر عمل کرو حضور ﷺ کا فرمان (1) (مسلم ص 8 ج 1 (فیاض) ہے ’ کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع “۔ کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بلاتحقیق آگے چلا دے ، مثلا یہ ہے کہ کوئی شخص بغیر تحقیق کیے گواہی دے دے ، کسی پر تہمت لگا دے ، بغیر تحقیق کسی سے نفرت وعداوت رکھے یا ایذا پہنچائے ،…
Read the full tafseer →وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۭ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْــــُٔــوْلًا 36
وقف
يقال : وَقَفْتُ القومَ أَقِفُهُمْ وَقْفاً ، ووَاقَفُوهُمْ وُقُوفاً. قال تعالی: وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْؤُلُونَ
[ الصافات/ 24] ومنه استعیر : وَقَفْتُ الدّارَ : إذا سبّلتها، والوَقْفُ : سوارٌ من عاج، وحمارٌ مُوَقَّفٌ بأرساغه مثلُ الوَقْفِ من البیاض، کقولهم : فرس مُحجَّل : إذا کان به مثلُ الحَجَل، ومَوْقِفُ الإنسانِ حيث يَقِفُ ، والمُوَاقَفَةُ : أن يَقِفَ كلُّ واحد أمره علی ما يَقِفُهُ عليه صاحبه، والوَقِيفَةُ : الوحشيّة التي يلجئها الصائد إلى أن تَقِفَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
نواں حکم : مال یتیم سے بچنا ولاتقربوامال الیتیم مگر جائز طریقہ سے لینا درست ہے۔ مزدوری میں، تجارت میں، اجرت نگرانی میں اگر محتاج ہو۔
دسواں حکم : و اوفوا بالعہد ہے عہد جس سے کرو اس پر قائم رہو۔ وہ عہد ہی غلط ہیں جن کو شرع نے معتبر نہیں رکھا یعنی معصیت پر عہد کرنا۔
گیارہواں حکم : و اوفو الکیل کہ ناپ تول کرلیتے دیتے وقت کم زیادہ نہ کرو۔ معاملات میں دغابازی نہ کرو۔
بارہواں حکم : و لا تقف اس کے معنی میں مفسرین کے چند اقوال ہیں۔ (1) اس میں ان باطل خیالات کی پیروی سے ممانعت ہے جو عوام میں غلطی سے مشہور ہوجاتے ہیں۔ (2) محمد بن حنفیہ (رح) سے منقول ہے کہ اس کے معنی جھوٹی گواہی کے ہیں۔
Read the full tafseer →وَلاَ تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ط اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَا وَالْفُئَوا دَکُلُّ اُوْلٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْـْٔوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 36)
(اور اس کے درپے نہ ہوا کرو جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو کیونکہ کان، آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک چیز کی پرسش ہونی ہے۔ )
ظن و گمان کی بجائے علم کی پیروی کی ہدایت
” اس دفعہ کا منشا یہ ہے کہ لوگ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں وہم و گمان کی بجائے علم کی پیروی کریں۔ اسلامی معاشرے میں اس منشاء کی ترجمانی وسیع پیمانے پر اخلاق میں ‘ قانون میں ‘ سیاست اور انتظام ملکی میں ‘ علوم و فنون اور نظام تعلیم میں ‘ غرض ہر شعبہ حیات میں کی گئی۔ اور ان…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : معاملات میں درستگی کا حکم دینے کے بعد بات چیت، اخلاق اور خیالات میں پاکیزگی کا حکم دیا ہے۔
دانش مندی اور حقیقی دینداری کا تقاضا ہے کہ مسلمان ان باتوں اور کاموں کے پیچھے نہ پڑے۔ جس سے آدمی کے اخلاق اور دین میں نقص واقع ہو۔ اس نقصان سے مسلمان کو بچانے کے لیے یہ حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے کان، آنکھیں اور دل مسؤل ٹھہرائے گئے ہیں۔ اس لیے مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ دانستہ طور پر اپنے کانوں سے وہ بات سننے کی کوشش نہ کرے جس بات میں شریعت کی خلاف ورزی پائی جا رہی ہو۔ اپنی آنکھوں کو ان چیزوں سے پھیرلے جن کو دیکھنے سے روکا گیا ہے۔ ہر شخص کو یہ حقیقت دل میں بٹھا لینی…
Read the full tafseer →جھوٹی گواہی مت دو :
36: وَلَا تَقْفُ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ (اور جس چیز کا تم کو علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ چلو) یعنی اس کی اتباع نہ کرو جس کو تم جانتے ہی نہیں۔ یعنی اس طرح نہ کہو رَاَیْتُ وَ سَمِعْتُ حالانکہ تم نے نہ دیکھا ہے نہ سنا ہے۔ ابن حنفیہ (رح) کہتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جھوٹ کی گواہی نہ دو ۔ اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کسی کے متعلق ایسی بات مت کہو جو تم اس کے متعلق نہیں جانتے۔
نکتہ : جن لوگوں نے اس سے اجتہاد کے باطل ہونے پر استدلال کیا ہے وہ درست نہیں۔ کیونکہ اجتہاد علم کی ایک قسم ہے اور یہاں جس کی تردید ہے اس کے لئے مالیس لک بہ علم کے الفاظ موجود ہیں۔
سورة الممتحنہ آیت نمبر 10…
Read the full tafseer →36۔” ولا تفف ما لیس لک بہ علم “ قتادہ نے اس کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ تم بغیر دیکھے یہ نہ کہو کہ میں نے دیکھا اور بغیر سنے یہ نہ کہو میں نے سنا اور یہ نہ کہو کہ میں جانتا ہوں بغیر جاننے کے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ آیت کی مراد یہ ہے کہ جس چیز کا تم کو قطعی علم نہ ہو اس کے بارے میں تم کسی کو متہم نہ کرو۔ قتیبی کا قول ہے کہ اٹکل اور گمان کے پیچھے مت چلو ، جس کو لغت میں کہتے ہیں کہ کسی کے اثر کے پیچھے نہ چلو ۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ ” قفوت فلانا اقفوہ وقفیتہ واقفیتہ “ یہ اس وقت بولا جاتا ہے کہ جب کوئی کسی کے نشان قدم پر چلے ۔ قتیبی کا قول ہے کہ یہ قفو سے ماخوذ اس کا یہ ہے کہ کسی کو کسی کام پر لگانا ۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–40
32۔ 40:۔ اوپر کی آیتوں سے حق العباد کا ذکر چلا آتا ہے مثلا ماں باپ کا حق اولاد کو سمجھنا اور اولاد کا حق ماں باپ کو سمجھنا رشتہ داروں کا حق رشتہ داروں کو جاننا ایک کی ماں بہن بی بی سے دوسرا بدکاری کرے یا ایک کو دوسرا جان سے مار ڈالے یا ایک شخص اپنی اولاد اور مال چھوڑ کر مرجائے اور جس رشتہ دار کی پرورش میں وہ یتیم اولاد آوے وہ اس یتیم کا مال کھا اڑا دیوے یہ سب باتیں خدا کا گناہ ہونے کے سوا حق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزیں ہیں اس واسطے اللہ تعالیٰ نے حق العباد کے ذکر کے سلسلہ میں زنا قتل بےتصرف مال یتیم خلاف عہد کم تولنے اور کم ناپنے اور جھوٹی شہادت اور اترانے کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا دیا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 36
یعنی اس چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہیں بلکہ تم جو کچھ کہتے یا کرتے ہو، اس کے بارے میں پوری تحقیق کرلیا کرو اور یہ خیال نہ کرو کہ تمہارا قول و فعل یوں ہی ختم ہوجائے گا، تمہیں اس کا کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہوگا۔ (ان السمع والبصر والفواد کل اولئیک کانا عنہ مسؤلاً ) ، ، بیشک کان، آنکھ اور دل ان سب کی اس سے پوچھ ہوگی ، ، پس جو بندہ یہ جانتا ہے کہ اس سے اس کے قول و فعل کے بارے میں پوچھا جائے گا اور اس بارے میں اسے جواب دہی کرنی ہوگی کہ اس نے اپنے ان اعضاء کو کہاں کہاں استعمال کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔۔۔ اس پر لازم ہے کہ وہ اس سوال کا جواب تیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
لاتقف کی تشریح
قول باری ہے (لا تقف مالیس لک بہ علم۔ کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو) کسی نشان کا پیچھا کرنا ” القفوا “ کہلاتا ہے۔ جبکہ اس کا کوئی علم نہ ہو اور نہ ہی اس بارے میں کوئی بصیرت کہ یہ نشان کہاں جا کر اختتام پذیر ہوگا۔ اسی سے قافۃ کا لفظ بنا ہے جس کے معنی قیاذ شناس کے ہیں۔ یہ قائف کی جمع ہے۔ عرب کے اندر ایسے لوگ بھی تھے جو قدموں کے نشانات کا کھوج لگاتے تھے۔ (ہمارے ہاں عرف عام میں انہیں کھوجی کہا جاتا ہے) اور ایسے بھی تھے جو نسب کے سلسلہ میں قیاذ شناسی کا کام کرت ی تھے یعنی ایک شخص کے جسمانی اعضاء دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ اس کا تعلق فلاں نسب سے ہے۔ تاہم عربوں کے…
Read the full tafseer →68۔ بغیر علم کے کسی چیز کے پیچھے لگنے کی ممانعت :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم کسی ایسی بات کے پیچھے مت پڑاکرو جس کا تمہیں علم نہ ہو “۔ پس کسی ایسی چیز کے بارے میں جو تم نے دیکھی نہیں مت کہو کہ میں نے دیکھی ہے۔ اور جو سنی نہ ہو اس کے بارے میں مت کہو میں نے سنی ہے۔ قالہ قتادہ۔ (ابن کثیر المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ پس جس چیز کے بارے میں تم کو تحقیق نہ ہو ایسے مت کہا کرو وہ اس طرح ہے۔ اور جس چیز کے بارے میں تم کو صحیح علم نہ اس کی گواہی مت دیا کرو۔ (المعارف وغیرہ) سو علم کے بغیر یونہی محض ظن و گمان کی بناء پر کسی کے پیچھے لگنا اور اس بناء پر کسی کے بارے میں کوئی رائے قائم کرلینا یا حکم لگا دینا سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–39
بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول
تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب اگلا حکم اولاد کے ساتھ تعلق کا ارشاد ہوا کہ لوگ اولاد کو قتل کردیتے خصوصا بیٹیوں کو اور یہ رواج عہد جاہلیت میں بڑے فخر کی بات سمجھا جاتا تھا اس پر ارشاد ہوا کہ اللہ جل جلالہ سب کا رازق ہے ، اولاد دیتا ہے تو اسے بغیر رزق کے دنیا میں پیدا نہیں کرتا بلکہ انہیں بھی رزق دیتا جیسے خود تمہیں دیتا ہے اور ان کا قتل تو بہت بڑا گناہ ہے ۔
(ضبط تولید)
آج کے دور کا یہ مسئلہ کہ آبادی میں اضافہ روکنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر ضبط تولید کو رواج دیا جا رہا ہے بھی بہت ہی گناہ اگرچہ یہ قتل اولاد نہ بھی ہو تو گناہ تو بہت بڑا ہے کہ اس کا سبب بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ ضروریات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ف 11 یعنی بےتحقیق کسی بات کی اندھا دھند پیروی نہ کر اس میں جھوٹی گواہی غلط تہمت سنی سنائی باتوں پر کسی کی برائی کرنا سب شامل ہیں۔ نیز اس سے معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کی دلیل کے ہوتے ہوئے کسی کی شخص رائے اور قیاس پر عمل کرنا ممنوع ہوگا۔ (ت ن)12 اللہ تعالیٰ انہیں گویائی دے گا اور وہ آدمی کے خلاف گواہی دیں گے۔ (فعلت :23-2)
Read the full tafseer →(17:36) لا تقف۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ جس شے کا تجھے علم نہیں تو اس کے پیچھے نہ پڑ۔ تو اس کے درپے مت ہو۔ قفو (باب نصر) سے۔ جس کے معنی اصل میں تو کسی کے پیچھے چلنے اور درپے ہونے کے ہیں۔ اور اسی لئے اتباع اور پیروی کرنے کے معنی میں آتا ہے (یعنی اپنے کان ۔ آنکھ اور دل کا مکمل اور صحیح استعمال کرنے کے بعد فیصلہ کر) ۔ القفا کے معنی گدی کے ہیں اور قفوتہ کے معنی کسی کی گردن پر مارنا اور کسی کے پیچھے چلنا کے ہیں۔
کل اولئک۔ یہ سب کے سب۔ اولئک کا اشارہ مجموعاً السمع والبصر والفؤاد کی طرف ہے۔ اور عنہ کا اشارہ فرداً فرداً ان کی طرف ہے ای کل واحد منھا کان مسئولا عنہ۔ ان میں سے ہر ایک کے متعلق پوچھ گچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 39
لاتقف پیچھے نہ پڑو۔ لیس نہیں ہے۔ الفواد دل۔ لاتمش نہ چل۔ مرح اکڑنا، اترانا۔ لن تخرق تو ہرگز نہ پھاڑ دے گا۔ لن تبلغ تو ہرگز نہ پہنچے گا۔ الجبال پہاڑ، (پہاڑوں) ۔ طول بلندی، لمبائی۔ مکروہ ناپسندیدہ۔ تلقی ڈالا جائے گا۔ مدحور ہر رحمت سے محروم کیا ہوا۔
تشریح : آیت نمبر 36 تا 39
سورۃ الاسراء کے تیسرے اور چوتھے رکوع کی پندرہ آیات میں بہت سے نیک کام کرنے اور بہت سی برائیوں سے بچنے کے احکامات ارشاد فرمائے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلہ میں چند اور بنیادی خرابیوں کی طرف متوجہ فرمایا جا رہا ہے کہ ہر مومن کی بدگمانی بدظنی، غرور وتکبر اور بےجا ضد سے بچنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ باتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
حقوق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزوں کا ذکر اور کامیاب زندگی کا جامع اصول
ان ا آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ زنا کو فحش اور برا راستہ کہا ہے۔ اس کی وجوہ ظاہر ہیں، اول تو اس میں اختلاط نسب ہے دوسرے جو بچہ اس بری صورت سے پیدا ہوا اس کے نفقہ کا کون ذمہ دار ہوگا اور بعض وقت جانیں بھی جاتی رہتی ہیں۔ عورت سے مقصود صرف شہوت رانی نہیں بلکہ اصلی مطلب یہ ہے کہ باہم مل کر خانہ داری میں ایک دوسرے کا معین (مدد گار) ہو بیماری میں بڑھاپے میں ایک دوسرے کا ساتھ دے، زنا میں یہ بات ممکن نہیں ، زنا کو قطعی حرام ٹھہرایا۔ یہاں تک کہ تاکید کی کہ اس کے پاس جانے کی بھی ممانعت کردی۔ (1) پھر فرمایا کہ جس قتل کا کرنا شریعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
[32] یعنی بلا تحقیق ہر سنی سنائی بات کے پیچھے نہ ہو لیا کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
حرمت نفس اور دیگر اخلاقی نصائح :
(ف 1) ان تمام اخلاق وآداب کو اللہ تعالیٰ نے حکمت سے تعبیر کیا ہے یعنی بہترین دانائی یہ ہے ، کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھا جائے ، جو شخص اللہ اور اس کے بندوں کو نہیں پہچانتا ، وہ بیوقوف اور بےعقل ہے ۔
اس سے قبل والدین کی اطاعت ، توحید ، عزیزوں اور قرابت داروں کے متعلق حسن سلوک کی تلقین کی تھی ، اسراف وتبذیر سے روکا تھا ، میانہ روی اور اقتصاد پر ابھارا تھا عربوں کو قتل اولاد کے فعل شفیع سے یہ کہہ کر روکا تھا کہ رزق کا ذمہ دار اللہ ہے جب اس نے پیدا کیا ہے ، تو وہ اس کے لئے رزق کا سامان بھی پیدا کر دے گا تم محض بھول اور افلاس کی وجہ سے ان کی موت نہ…
Read the full tafseer →-36 اور اے مخاطب جس بات کی تجھ کو صحیح تحقیق نہ ہو اس کے پیچھے خواہ قولاً خواہ فعلاً نہ ہو لیا کر کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں ہر ایک شخص سے باز پرس ہوگی۔
یعنی جب تک کسی چیز کی تحقیق نہ کرلو اس پر عمل نہ کرو اور اس کو زبان سے نہ کالو اس نہی میں تمام امور داخل ہوگئے۔ جھوٹی تہمت جھوٹی شہادت محض سنی سنائی باتوں پر کسی سے بغض و عداوت یا محض باپ دادا کی رسوم کفر یہ اور شرکیہ اختیار کرلینا۔ کیونکہ کان سے بھی سوال ہوگا کہ تم نے ان سے کیا کیا سنا اور آنکھوں سے بھی سوال ہوگا کہ تم نے ان سے کیا کیا دیکھا اور دل سے بھی سوال ہوگا کہ تم نے اس میں کس کی محبت اور کس کی عبادت رکھی۔ غرض انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
ف 3۔ اس لئے بےتحقیق بات پر وثوق کر کے اس پر عملدر آمد مت کر۔
Read the full tafseer →بےسوچے سمجھے کسی کے پیچھے مت چلتے رہو علم کی یہ شان نہیں ہے ۔
47۔ یہ منشور اسلامی کی بارہویں شق بیان کی گئی ہے اور کتنے واضح اور کھلے الفاظ میں ہدایت دی گئی ہے کہ ” جس چیز کا تم کو علم نہ ہو اس کے پیچھے مت چلو۔ “ اس جملہ نے تقلید شخصی اور آباء و اجداد کی پیروی کو بیخ وبن سے اکھار کر رکھ دیا ، کسی فرد یا قوم کو جب من حیث العقل اور نقل دعوت دی جائے اور وہ شخص یا قوم عقل ونقل کا جواب اس طرح دے کہ ” آج تک ہمارے آباء و اجداد نے یہ بات نہیں کہی اور ہم نے کسی اور سے یہ بات نہیں سنی کیا یہی شخص ہے جس کی سمجھ میں یہ بات آئی ‘ آج تک جتنے لوگ گزرے ہیں ان میں بڑے بڑے سمجھ دار اور عقل وفکر والے تھے کیا وہ…
Read the full tafseer →Commentary
Two injunctions in these verses, the twelfth and the thirteenth, relate to mores of common social living. The twelfth injunction forbids doing something without having become certain about it.
At this stage, we should not lose sight of the fact that certainty has different degrees. There is a degree of certainty that reaches the level of perfect certitude, a state that leaves no room of even the slightest doubt contrary to it. Then, it could descend to the degree of strong likelihood - even though, there does exist the probability of a contrary aspect. Simi-larly, divine…
Read the full tafseer →42. The meanings of“Do not follow that of which you have no knowledge”are very comprehensive. It demands that both in individual and collective life, one should not follow mere guess work and presumption instead of knowledge. This instruction covers all aspects of Islamic life, moral, legal, political, administrative and applies to science, arts and education. It has thus saved the society from numerous evils which are produced in human life by following guesswork instead of knowledge. The Islamic moral code demands: Guard against suspicion and do not accuse any individual or group without…
Read the full tafseer →