Al-Israa 17:12

Al-Israa · from ayah 12

17:12

وَجَعَلْنَا الَّیْلَ وَالنَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَجَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ ؕ— وَكُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا ۟وَجَعَلۡنَا الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ اٰيَتَيۡنِ‌ فَمَحَوۡنَاۤ اٰيَةَ الَّيۡلِ وَجَعَلۡنَاۤ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبۡصِرَةً لِّتَبۡتَغُوۡا فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَلِتَعۡلَمُوۡا عَدَدَ السِّنِيۡنَ وَالۡحِسَابَ‌ؕ وَكُلَّ شَىۡءٍ فَصَّلۡنٰهُ تَفۡصِيۡلًا‏

اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور دن کی نشانی کو روشن۔ تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل (یعنی) روزی تلاش کرو اور برسوں کا شمار اور حساب جانو۔ اور ہم نے ہر چیز کو (بخوبی) تفصیل کردی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have made the night and day two signs, and We erased the sign of the night and made the sign of the day visible that you may seek bounty from your Lord and may know the number of years and the account [of time]. And everything We have set out in detail.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:12

دیکھو، ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے رات کی نشانی کو ہم نے بے نور بنایا، اور دن کی نشانی کو روشن کر دیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کر سکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کر سکو اِسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کر کے رکھا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور دن کی نشانی کو روشن۔ تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل (یعنی) روزی تلاش کرو اور برسوں کا شمار اور حساب جانو۔ اور ہم نے ہر چیز کو (بخوبی) تفصیل کردی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے رات اور دن کو اپنی قدرت کی نشانیاں بنائی ہیں، رات کی نشانی کو تو ہم نے بےنور کردیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن بنایا ہے تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کر سکو اور اس لئے بھی کہ برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرسکو اور ہر ہر چیز کو ہم نے خوب تفصیل سے بیان فرما دیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیوں کے طور پر پیدا کیا ہے۔ پھر رات کی نشانی کو تو اندھیری بنادیا، اور دن کی نشانی کو روشن کردیا، تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو۔ اور تاکہ تمہیں سالوں کی گنتی اور (مہینوں کا) حساب معلوم ہوسکے۔ اور ہم نے ہر چیز کو الگ الگ واضح کردیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا تو رات کی نشانی مٹی ہوئی رکھی اور دن کی نشانیاں دکھانے والی کہ اپنے کا فضل تلاش کرو اور برسوں کی گنتی اور حساب جانو اور ہم نے ہر چیز خوب جدا جدا ظاہر فرمادی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے رات اور دن کو (اپنی قدرت کی) دو نشانیاں بنایا پھر ہم نے رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا تاکہ تم اپنے رب کا فضل (رزق) تلاش کر سکو اور تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو، اور ہم نے ہر چیز کو پوری تفصیل سے واضح کر دیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا، پھر ہم نے رات کی نشانی کو مٹادیا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا، تاکہ تم اپنے رب کا کچھ فضل تلاش کرو اور تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرو۔ اور ہر چیز، ہم نے اسے کھول کر بیان کیا ہے، خوب کھول کر بیان کرنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(دیکھو) ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو تو ہم نے تاریک بنایا اور دن کی نشانی کو روشن تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرسکو اور اس لیے بھی کہ تم ماہ و سال کی گنتی معلوم کرسکو اور ہم نے ہر چیز کو تفصیل سے بیان کردیا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا، سو ہم نے رات کی نشانی تو دھندلی کردی اور ہم نے دن کی نشانی کو روش بنایا تاکہ تم اپنے رب کے فضل کے لیے کوشش کرو اور تاکہ تم سالوں کی تعداد اور حساب معلوم کرسکو اور ہم نے ہر چیز کی پوری پوری تفصیل کردی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے بنایا رات اور دن کو (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) دو عظیم الشان نشانیاں، پھر رات کی نشانی کو تو ہم نے دھندلا (اور مدہم) رکھا، اور دن کی نشانی کو روشن بنادیا تاکہ تم لوگ تلاش کرسکو اپنے رب کا فضل، اور تاکہ تم لوگ معلوم کرسکو سالوں کی گنتی اور حساب، اور ہر چیز کو ہم نے بیان کردیا پوری تفصیل سے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنا رکھا ہے۔ سو ہم نے رات والی نشانی کو تو دھندلا بنایا اور ہم نے دن والی نشانی کو روشن کردیا تاکہ اپنے پروردگار کی روزی تلاش کرو اور تاکہ برسوں کا شمار اور (دوسرے) حساب معلوم کرلیا کرو اور ہر (ضروری) شے کو ہم نے خوب تفصیل سے بیان کردیا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے بنایا رات اور دن کو دو نشانیاں تو تاریک کردیا ہم نے رات کی نشانی کو اور روشن بنا دیا ہم نے دن کی نشانی کو تاکہ تم تلاش کرو اپنے رب کا فضل اور تاکہ تم جان لو سالوں کی گنتی اور (نظام الاوقات کا) حساب اور ہرچیز کو ہم نے کھول کھول کر بیان کردیا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو تاریکی بنایا اور دن کی نشانی کو روشن۔ تاکہ تم اپنے رب کا فضل، یعنی روزی تلاش کرو اور برسوں کا شمار اور حساب جانو۔ اور ہم نے ہر چیز کی خوب وضاحت کردی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We have made night and day as two signs. We made the sign of the night devoid of light, and made the sign of the day radiant that you may seek the bounty of your Lord and know the computation of years and numbers. Thus We have expounded everything in detail to keep everything distinct from the other.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We have made the night and the day two signs, then We made the sign of night marked by darkness and the sign of day bright, so that you may seek grace from your Lord, and that you may know how to number the years and how to compute, and We have expounded everything in detail.

— Muhammad Taqi Usmani

We have made the night and the day two signs, then We made the sign of night marked by darkness and the sign of day bright, so that you may seek grace from your Lord, and that you may know how to number the years and how to compute, and We have expounded everything in detail.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We have appointed the night and the day as two Ayat (signs). Then, We have obliterated the sign of the night (with darkness) while We have made the sign of the day illuminating, that you may seek bounty from your Lord, and that you may know the number of the years and to count (periods of time). And We have explained everything (in detail) with full explanation.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We appoint the night and the day two portents. Then We make dark the portent of the night, and We make the portent of the day sight-giving, that ye may seek bounty from your Lord, and that ye may know the computation of the years, and the reckoning; and everything have We expounded with a clear expounding.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have made the night and day two signs, and We erased the sign of the night and made the sign of the day visible that you may seek bounty from your Lord and may know the number of years and the account [of time]. And everything We have set out in detail.

— Saheeh International

We have made the day and night each as evidence (of Our existence). The night is invisible and the day is visible so that you may seek favors from your Lord and determine the number of years and mark the passing of time. For everything We have given a detailed explanation.

— Muhammad Sarwar

And We have made the night and the day two signs, then We have made the sign of the night to pass away and We have made the sign of the day manifest, so that you may seek grace from your Lord, and that you might know the numbering of years and the reckoning; and We have explained everything with distinctness.

— Muhammad Habib Shakir

And We have appointed the night and the day as two signs; then We blurred the sign of the night and made the sign of the day illuminating that ye may seek grace from Your Lord, and that ye may know the number of the years and the reckoning; and everything We have detailed in full details.

— Abdul Majid Daryabadi

We have made the Night and the Day as two (of Our) Signs: the Sign of the Night have We obscured, while the Sign of the Day We have made to enlighten you; that ye may seek bounty from your Lord, and that ye may know the number and count of the years: all things have We explained in detail.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

دن اور رات کے فوائد اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے دو کا یہاں بیان فرماتا ہے کہ دن رات اس نے الگ الگ طرح کے بنائے۔ رات آرام کے لئے دن تلاش معاش کیلئے۔ کہ اس میں کام کاج کرو صنعت و حرفت کرو سیر و سفر کرو۔ رات دن کے اختلاف سے دنوں کی، جمعوں کی، مہینوں کی، برسوں کی گنتی معلوم کرسکو تاکہ لین دین میں، معاملات میں، قرض میں، مدت میں، عبادت کے کاموں میں سہولت اور پہچان ہوجائے۔ اگر ایک وقت رہتا تو بڑی مشکل ہوجاتی سچ ہے اگر اللہ چاہتا تو ہمیشہ رات ہی رات رکھتا کوئی اتنی قدرت نہیں رکھتا کہ دن کر دے اور اگر وہ ہمیشہ رات ہی رات رکھتا کوئی اتنی قدرت نہیں رکھتا کہ دن کر دے اور اگر وہ ہمیشہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 13 مطلب یہ ہے کہ اختلافات سے گھبرا کر یکسانی ویک رنگی کے لیے بےچین نہ ہو۔ اس دنیا کا تو سارا کارخانہ ہی اختلاف اور امتیاز اور تنوع کی بدولت چل رہا ہے۔ مثال کے طور پر تمہارے سامنے نمایاں ترین نشانیاں یہ رات اور دن ہیں جو روز تم پر طاری ہوتے رہتے ہیں۔ دیکھوں کہ ان کے اختلافات میں کتنی عظیم الشان مصلحتیں موجود ہیں۔ اگر تم پر دائما ایک ہی حالت طاری رہتی تو کیا یہ ہنگامہ وجود چل سکتا تھا ؟ پس جس طرح تم دیکھ رہے ہو کہ عالم طبیعیات میں فرق و اختلاف اور امتیاز کے ساتھ بیشمار مصلحتیں وابستہ ہیں، اسی طرح انسانی مزاجوں اور خیالات اور رحجانات میں بھی جو فرق و امتیاز پایا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر ہم نے رات اور دن کو (اپنی قدرت کی) دو نشانیاں بنایا سو رات کی نشانی (یعنی خود رات) کو ہم نے دھندلا بنادیا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا (کہ اس میں سب چیزیں بےتکلف دکھائی دیں) تاکہ (دن میں) اپنے رب کی روزی تلاش کرو اور (رات اور دن کی آمدو رفت اور دونوں کے رنگ میں امتیاز کہ ایک روشن دوسرا اندھیرا ہے اور دونوں کی مقداروں میں اختلاف سے) برسوں کا شمار اور (دوسرے چھوٹے چھوٹے) حساب معلوم کرلو (جیسا کہ سورة یونس کے پہلے رکوع میں بیان ہوا ہے) اور ہم نے ہر چیز کو خوب تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے (لوح محفوظ میں تو تمام کائنات کی مکمل تفصیل بغیر کسی استثناء کے ہے اور قرآن کریم میں تفصیل بقدر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَجَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارَ اٰيَـتَيْنِ فَمَــحَوْنَآ اٰيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَآ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِيْلًا۔ اس آیت کے پہلے ٹکڑے میں " فمحونا ایۃ الیل " کے بعد " مظلمۃ لتستریحوا " یا اس کے ہم معنی الفاظ حذف ہیں جن پر بعد کے الفاظ مبصرۃ لتبتغوا فضلا من ربکم روشنی ڈال رہے ہیں۔ یعنی ہم نے شب کو تاریک بنایا تاکہ تم اس میں راحت حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس میں خدا کے رزق و فضل کے طالب بنو۔ عذاب کی نشانی کے طالبوں کے لیے آفاقی نشانیاں : یہ عذاب کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12۔ 1 یعنی رات کو بےنور یعنی تاریک کردیا تاکہ تم آرام کرسکو اور تمہاری دن بھر کی تھکاوٹ دور ہوجائے اور دن کو روشن بنایا تاکہ کسب معاش کے ذریعے سے تم رب کا فضل تلاش کرو۔ علاوہ ازیں رات اور دن کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح ہفتوں، مہینوں اور برسوں کا شمار اور حساب تم کرسکو، اس حساب کے بھی بیشمار فوائد ہیں۔ اگر رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات نہ آتی بلکہ ہمیشہ رات ہی رات یا دن ہی دن رہتا تو تمہیں آرام اور سکون کا یا کاروبار کرنے کا موقع نہ ملتا اور اسی طرح مہینوں اور سالوں کا حساب بھی ممکن نہ رہتا۔ 12۔ 2 یعنی انسان کے لئے دین اور دنیا کی ضروری باتیں سب کھول کر ہم نے بیان کردی ہیں تاکہ ان سے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

7: یعنی دن اور رات کا ایک دوسرے کے بعد تسلسل کے ساتھ آنا اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت و حکمت کی نشانی ہے، رات کے وقت اندھیرا چھا جاتا ہے، تاکہ لوگ اس میں آرام کرسکیں اور دن کے وقت روشنی ہوتی ہے تاکہ لوگ اپنا روز گار تلاش کرسکیں، جس کو قرآن کریم“ اللہ کا فضل ”سے تعبیر کرتا ہے اور رات اور دن کے بدلنے ہی سے تاریخوں کا تعین ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وہ قوانین قدرت جو رات و دن کو کنٹرول کرتے ہیں ، انہی کے ساتھ انسان کے کسب اور جدوجہد کا تعلق بھی ہے۔ رات اور دن کی بنیاد پر سالوں کا حساب ہوتا ہے ، انہی کے ساتھ انسانی کسب و عمل بھی منسلک ہے۔ وہ اچھائی کرے یا برائی کرے اس پر جزاء و سزا مرتب ہوگی۔ اسی کے ساتھ ہدایت و ضلالت بھی مربوط ہے۔ اور تمام امور میں انفرادی ذمہ داری کا اصول کارفرما ہے ، کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔ اسی پر یہ اصول بھی طے ہوا ہے کہ اللہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک رسول نہ بھیج دے۔ اور اسی سے یہ اصول بھی مربوط ہے کہ جب اللہ کسی بستی کو ہلاک کرتا ہے تو تب کرتا ہے کہ اس کے مترفین اس نسبتی میں فسق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 رات کا اندھیرا، دن کا اجالا، دونوں میں سے کبھی اس کا کبھی اس کا چھوٹا بڑا ہونا، پھر رات میں چاند کی آہستہ آہستہ گھٹنے بڑھنے والی ٹھنڈی اور دھیمی چاندنی، دن میں آفتاب عالمتاب کی تیز اور گرم روشنی، یہ سب خداوند قدوس کی قدرت کاملہ کے نمونے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کا مستقل نظام علیحدہ ہے جس کے ساتھ سینکڑوں فوائد اور مصالح وابستہ ہیں۔ اور سب کا مجموعی نظام الگ ہے جو شروع سے اب تک نہایت مضبوط و محکم قوانین کے ماتحت چل رہا ہے۔ 7 رات کا نمونہ تاریک اور مٹا ہوا ہے، چاند کی روشنی سورج کے اعتبار سے دھیمی اور دھندلی ہوتی ہے بلکہ خود جرم قمر بھی دیکھنے والے کو داغ دار نظر آتا ہے۔ 8 یعنی دن کے وقت سورج کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12 وَجَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارَ اٰيَـتَيْنِ فَمَــحَوْنَآ اٰيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَآ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ دن کو روشن بنایا تاکہ اس کی روشنی میں تم لوگ آسانی سے کسب معاش کے لیے دوڑ دھوپ کرسکو۔ وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِيْلًا یہ دن اور رات کا الٹ پھیر ہی ہے جو نظام الاوقات کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے اور دنوں سے ہفتے مہینے اور پھر سال بنتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 1 ہر رات کا ذکر سے پہلے۔ دن کا شمار شام سے اگلی شام تک تدریج وامھال کا قانون فطری ہے۔ دن اور رات کے فائدے :۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں کہیں دن اور رات کا ذکر فرمایا تو پہلے رات کا ہی ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فطری تقویم یہی ہے کہ دن (24 گھنٹے) کا شمار ایک شام یا غروب آفتاب سے لے کر دوسرے دن کے غروب آفتاب تک ہو۔ دن خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے، راتیں لمبی ہو رہی ہوں یا چھوٹی یہ مدت ہمیشہ اور ہر موسم میں برابر 24 گھنٹے) ہی رہے گی اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ دن، رات کے آنے جانے میں نہ رات کی تاریکی یکدم آتی ہے اور نہ ہی دن اپنی پوری روشنی اور پوری تمازت کے ساتھ یکدم نمودار ہوتا ہے بلکہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

20۔ (اپنی قدرت، صنعت و حکمت کی) حکمت وعرفان کی نظر سے دیکھا جائے تو رات اور دن کے طلوع و غروب میں ان کی مسلسل پابندیوں میں حکمتوں اور صنعتوں کی ایک دنیا پوشیدہ نظر آئے گی، بدبخت قوموں نے الٹا انہیں بھی دیوی دیوتا، مان کر ان کی پرستش شروع کردی ، 21۔ (اس کتاب عزیز و حکیم کے اندر) محونا، جعلنا۔ دن جیسا کہ وہ ہے اور رات جیسی کہ وہ ہے، ان کی ترتیب، ترکیب سب کچھ اللہ ہی کی کاری گری کا ثمرہ ہے، یہ نہیں کہ یہ محض بخت واتفاق سے خود بخود وجود میں آگئے ہوں یا کسی دیوی دیوتا نے انہیں خلعت وجود سے مشرف کیا ہو، (آیت) ” لتبتغوا۔ والتعلموا “۔ سورج ہو کہ چاند، دن ہو کہ رات، سب کی خلقت کی غایت انسان کی خدمت ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–22

آیت نمبر 11 تا 22 ترجمہ : اور انسان جب تنگ دل ہوجاتا ہے تو اپنے اہل و عیال کیلئے اسی طرح بد دعاء کرتا ہے جس طرح وہ ان کیلئے دعاء خیر کرتا ہے اور ہر انسان اپنے لئے بددعاء کرنے میں جلد باز اور نا عاقبت اندیش واقع ہوا ہے اور ہم نے رات اور دن کو ہماری قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں بنایا، تو ہم نے رات کی نشانی کی تاریک بنایا یعنی ہم نے اسکے نور کو ظلمت سے مٹا دیا، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو اور (آیۃ اللیل) میں اضافت بیانیہ ہے، اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا، یعنی ایسی کہ اس میں روشنی کی وجہ سے نظر آسکے، تاکہ تم کسب کے ذریعہ اس میں اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو، اور تاکہ تم انکے ذریعہ سالوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَجَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارَ اٰيَـتَيْنِ : اور ہم نے رات اور دن دو نشانیاں بنائی ہیں۔ شب و روز کا تعاقب اور ترتیب کے ساتھ آنا جانا قادر و حکیم کی ذات پر دلالت کر رہا ہے۔ (یہ نشانیاں ہیں قادر کی قدرت اور حکیم کی حکمت کی) فَمَــحَوْنَآ اٰيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَآ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً سو رات کی نشانی کو تو ہم نے دھندلا بنایا ہے اور دن کی نشانی کو روشن بنایا ہے۔ یعنی ہم نے رات کو تاریک اور دن کو روشن بنایا۔ بعض علماء کا قول ہے کہ دو نشانیوں سے مراد ہیں چاند اور سورج ‘ یعنی رات اور دن کو ہم نے دو نشانیوں والا بنایا۔ یا رات اور دن کے درمیان دو نشانیاں بنا دیں پھر رات کی نشانی یعنی چاند…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(12) اور ہم نے چاند اور سورج کو اپنی قدرت کی دو نشانیاں بنائیں سو ہم نے رات کی نشانی یعنی چاند کی روشنی کو دھندلابنایا اور سورج کو خوب روشن بنایا تاکہ تم دن میں دنیا وآخرت کماؤ اور تاکہ چاند کی کمی اور زیادتی سے برسوں، مہینوں اور دنوں کا حساب معلوم کرلو اور ہم نے حلال و حرام اور اوامرو نواہی میں سے ہر ایک چیز کو قرآن کریم میں خوب تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَجَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارَ اٰيَـتَيْنِ : ان دونوں کو نشانیاں اس لیے قرار دیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے وجود کا، اس کی کمال کاریگری اور قدرت کا اور اس اکیلے کے عبادت کا حق دار ہونے کا پتا چلتا ہے۔ رات اور دن کو بطور دلیل اور نعمت کے قرآن نے متعدد مقامات پر بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة حم السجدہ (37) ، یٰسٓ (37) ، یونس (6) ، آل عمران (190) ، بقرہ (164) ، فرقان (62) ، سورة زمر (5) اور دیگر آیات۔ فَمَــحَوْنَآ اٰيَةَ الَّيْلِ۔۔ : ”مَحَا یَمْحُوْ مَحْوًا“ (ن) کسی چیز کا نشان ختم کردینا، مٹا دینا، یعنی رات اور دن جس طرح نشانیاں ہیں اسی طرح ان کا وجود اور ان کا کم یا زیادہ ہوتے ہوئے مسلسل روزانہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 12 قولہ تعالیٰ : وجعلنا الیل والنھار اٰیتین یعنی ہم نے رات اور دن کو اپنی وحدانیت، وجود اور اپنے کمال علم وقدرت پر دو علامتیں اور نشایناں بنایا۔ اور ان دونوں میں علامت اور نشانی یہ ہے : ان دونوں میں سے ہر ایک کا وہاں سے آنا جسے کوئی نہیں جانتا اور اس کی طرف واپس لوٹنا ہے جسے کوئی نہیں جانتا۔ اور دونوں میں سے ایک کا دوسرے کے مقابلے میں کم اور زیادہ ہونا اور پھر اس کا برعکس ہوجانا، یہ بھی علامت اور نشانی ہے۔ اور اسی طرح دن کا روشن ہونا اور رات کا تاریک ہونا بھی ہے۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ فمحونآ اٰیۃ الیل اور یہ نہیں فرمایا : فمحونااللیل (ہم نے رات کو مٹا دیا) پس جب آیت (نشانی) کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–14

1:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے سند ہی کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کے عرش سے دو سورج پیدا فرمائے اور اللہ تعالیٰ کے سابق علم میں تھا کہ ایک سورج کو باقی رکھنا ہے پس اس نے اس دنیا اور جو کچھ اس کے مغرب اور مشرق کے درمیان ہے اس کی مثل پیدا فرمایا اور جو کچھ اس کے علم سابق میں تھا کہ اسے مٹانا ہے اور جلد بنانا ہے تو اس نے اس کو سورج سے کم پیدا فرمایا لیکن آسمان میں انتہائی بلند ہونے اور زمین سے زیادہ دور ہونے کی وجہ سے چھوٹا دیکھائی دیتا ہے اگر سورج کو اسی طرح رکھا جاتا جیسے کہ اسکو پیلی مرتبہ پیدا فرمایا تھا تو رات کو دن میں سے نہ پہچانا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنایا ] [الَّيْلَ : رات کو ] [وَالنَّهَارَ : اور دن کو ] [اٰيَـتَيْنِ : دو نشانیاں ] [فَمَــحَوْنَآ : پھر ہم نے مٹایا ] [اٰيَةَ الَّيْلِ : رات کی نشانی کو ] [وَجَعَلْنَآ : اور ہم نے بنایا ] [اٰيَةَ النَّهَارِ : دن کی نشانی کو ] [مُبْصِرَةً : دیکھنے والی ] [لِتَبْتَغُوْا : تاکہ تم لوگ تلاش کرو ] [فَضْلًا : کچھ فضل ] [مِّنْ رَّبِكُمْ : اپنے رب سے ] [وَلِتَعْلَمُوْا : اور تاکہ تم لوگ جان لو ] [عَدَدَ السِّنِيْنَ : برسوں کی گنتی کو ] [وَالْحِسَابَ : اور حساب کو ] [وَكُلَّ شَيْءٍ : اور ہر ایک چیز کو !] [فَصَّلْنٰهُ : ہم نے تفصیل سے بتایا اس کو ] [تَفْصِيْلًا : جیسے کھول…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس آیت کریمہ میں رات اور دن کو دو نشانیاں بتایا ہے رات بھی اللہ کی قدرت کی نشانی ہے اور دن بھی ان دونوں کا آگے پیچھے آنا کم اور زیادہ ہونا یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے جاننے کے لیے بہت بڑی نشانیاں ہیں۔ انسان عقل سے کام لے غور و فکر کرے تو ان دونوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرسکتا ہے سورة فرقان میں ارشاد ہے (وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَ اَوْ اَرَادَ شُکُوْرًا) (اور وہ وہی ہے جس نے بنا دیا رات و دن کو آگے پیچھے آنے والا اس شخص کے لیے جو نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ کرے یا شکر گزار ہونے کا ارادہ کرے۔ ) رات اور دن کا وجود میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ذکر نعمائے دنیویہ قال اللہ تعالیٰ : وجعلنا الیل والنھار ایتین .... الیٰ .... فصلنہ تفصیلا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں انسان پر اخروی نعمتوں کا ذکر تھا کہ ان کی ہدایت کے لئے کتب الٰہیہ کو نازل کیا اور انبیاء کو مبعوث کیا اب ان آیات میں دنیوی نعمتوں کا ذکر فرماتے ہیں رات اور دن کا پیدا کرنا انسان کے لیے آسائش کا باعث ہے ہر ایک سے جدا جدا فوائد حاصل ہوتے ہیں اور قسم قم کے یہ فوائد خدا تعالیٰ کی نعمتیں بھی ہیں اور اس کی قدرت کے کرشمے بھی ہیں اور اس کی الوہیت اور وحدانیت کے دلائل بھی ہیں اور اشارہ اس طرف بھی ہے کہ انسان کا کبھی ہدایت کی طرف اور کبھی ضلالت کی طرف منتقل ہونا ایسا ہے جیسا کہ یہ عالم کبھی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

14:۔ یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے۔ ہم نے رات اور دن کو اپنی وحدانیت اور کمال قدرت کے لیے دلیل بنایا۔ رات دن کو ایک دوسرے سے اس طرح ممتاز کیا کہ رات میں سورج نہیں ہوتا اور دن کو سورج چمکتا ہے تاکہ تم دن کے اجالے میں اپنا کاروبار جاری رکھ سکو اور رات دن کی آمد و رفت سے سالوں کی گنتی اور اپنے معاملات کا حساب کتاب کھ سکو۔ یہ رات دن کا نظام ہمارے اپنے قبضہ و تصرف میں ہے جو ہماری قدرت کاملہ اور وحدانیت کی واضح دلیل ہے۔ ای علامتین علی وحدانیتنا ووجودنا و کمال علمنا وقدرتنا (قرطبی ج 10 ص 237) یہ تمام چیزیں ہم ہی نے تمہارے نفع کے لیے پیدا کی ہیں ہمارے سوا کوئی اور خالق نہیں۔ ” ھل من خالق غیر اللہ “…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–15

ربط آیات : گذشتہ درس میں قرآن پاک کی ہدایت اور راہنمائی کا ذکر ہوا کہ یہ سب سے سیدھے راستے اور سب سے درست ملت کی طرف راہنمائی کرتا ہے ، یہ قرآن اہل ایمان کو بشارت دیتا ہے اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کو عذاب کی وعید سناتا ہے پھر فرمایا انسان جلد بازی میں آکر شر کی دعا کرتے ہیں حالانکہ یہ ان کے لیے مناسب نہیں ، آج کے درس میں اللہ نے اپنی پہچان ، توحید اور وقوع قیامت کے سلسلے میں اپنی قدرت کی نشانیوں کو بیان کیا ہے ، اگر ان میں تھوڑا سا بھی غور کیا جائے تو انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت تامہ کو سمجھ سکتا ہے ، انہی نشانیوں سے قیامت پر یقین بھی پختہ ہو سکتا ہے ۔ (لیل ونہار کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارَ اٰيَـتَيْنِ فَمَــحَوْنَآ اٰيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَآ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِيْلًا 12؀ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–12

ترکیب : للتی ای للحالۃ اوالطریقۃ التی ہے اقوم الحالات اوالطرق۔ یہ یہدی کا مفعول ثانی ہے ان ای بان مفعول یبشر کا یا اس کی تفسیر۔ دعاء ہ ای یدعوا بالشر دعاء مثل دعائیہ بالخیر والمصدر رمضاف الی الفاعل والتقدیر یطلب الشرفالباء للحال اوبمعنی السبب وکل شیئٍ فصلنا محذوف کا مفعول ہے جس کی تفسیر یہ فصلنا کر رہا ہے اور حال بھی ہے، کل انسان کا۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا وآتینا موسیٰ الکتاب کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت دی تھی اس کے بعد حصیرًا تک تورات کے اوپر عمل نہ کرنے سے جو کچھ بنی اسرائیل پر دینی و دنیاوی مصیبتیں آئیں ان کا ذکر فرمایا کہ بطور پیشین گوئی کہ ان کو مطلع کردیا تھا کہ تم ایسا کرو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَجَعَلْنَا الَّیْلَ وَالنَّھَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَـآ اٰیَۃَ الَّیْلِ وَجَعَلْنَـآ اٰیَۃَ النَّھَارِ مُبْصِرَۃً لِّـتَبْتَغُـوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عدَدَالسِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ ط وَکُلَّ شَیْ ئٍ قَصَّلْنٰـہُ تَفْصِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 12) (ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا، سو ہم نے رات کی نشانی دھندلی کردی اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا تاکہ تم اپنے رب کے فضل کے لیے کوشش کرو، اور تاکہ تم سالوں کی تعداد اور حساب معلوم کرسکو اور ہم نے ہر چیز کی پوری پوری تفصیل کردی ہے۔ ) ہدایت کے حصول کے لیے یہ نشانیاں کافی ہیں آیتِ کریمہ کی تالیف و ترکیب پر غور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–12

فہم القرآن ربط کلام : انسان کے لیے قرآن مجید ہدایت اور خوشخبری ہے۔ مگر ہدایت کے لیے کچھ محنت کرنا پڑتی ہے۔ لیکن انسان اس محنت سے جی چراتے ہوئے دنیا کے عارضی فائدے کے لیے جلد بازی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ انسان اپنی جلد باز طبیعت کی وجہ سے اکثر اوقات یہ نہیں سوچتا کہ دنیا کے جس فائدے کی خاطر آخرت کی دائمی خیر کو فراموش کر رہا ہوں۔ وہ اس کے لیے کس قدر نقصان کا سودا ہے کیونکہ انسان جلد باز ہے۔ اس لیے انسان خیر کے لیے محنت کرنے کی بجائے شر کی طرف جلد راغب ہوتا ہے۔ جس بنا پر اچھے نتیجے اور خیر کا انتظار کرنے کی بجائے وہ شر کا متلاشی بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ دنیا کی معمولی تکلیف سے پریشان ہو کر اپنے لیے شر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قدرت کی دو نشانیاں : 12: وَجَعَلْنَا الَّیْلَ وَالنَّھَارَ ٰایَتَیْنِ فَمَحَوْنَآ اٰیَۃَ الَّیْلِ وَجَعَلْنَآ ٰایَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً (اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور دن کی نشانی کو روشن) یعنی دن اور رات قدرت کی دو نشانیاں ہیں۔ آیت کی اضافت لیل و نہار کی تبیین و وضاحت کیلئے ہوگی جیسا کہ عدد کی اضافت معدود کی طرف کردی جائے۔ مطلب یہ ہے پس ہم نے مٹا دیا یعنی دھندلا بنادیا اس نشانی کو جو کہ رات ہے اور دن والی نشانی کو دیکھنے والا بنادیا۔ نمبر 2۔ رات و دن کے نیر کو دونشانیاں بنایا۔ اس سے مراد سورج و چاند ہیں۔ اور محونا ٰایۃ اللَّیْل سے چاند مراد ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

12۔” وجعلنا اللیل والنھار آیتین “ یعنی دو نشانیاں ایسی بنائی ہیں جو اس کے وجود اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں اور اس کی قدرت پر بھی دال ہیں ۔ ” فمحونا آیۃ اللیل ‘ ‘ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی چمک کے ستر حصے بنائے اور چاند کی روشنی کے بھی اتنے ہی اجزاء قائم کیے ۔ پھر چاند کی روشنی کے 49 حصے سورج کی روشنی کے ساتھ شامل کردیئے۔ یہاں تک کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنا پر چاند کے چہرے پر تین بار پھیر دیا تو اس کی چمک دمک جاتی رہی ، صرف روشنی رہ گئی ۔ ابن الکوا نے حضرت علی ؓ سے اس داغ کے متعلق دریافت کیا جو چاند کے اندر ہے ، یہ روشنی کو مٹانے کا نشان ہے۔ ”…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

12:۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنی دونوں نشانیوں رات و دن کا ذکر کیا کہ یہ دونوں دو نشانیاں جدا جدا ہیں ایک ان میں سے تاریک ہے دوسری روشن ہے اور ہر ایک دوسری کے پیچھے اس طرح لگاتار آتی جاتی رہتی ہے کہ کبھی کسی کا دورہ ختم نہیں ہوتا ان میں وہ عجائبات قدرت رکھے ہیں جن کے جاننے اور سمجھنے کی قدرت انسان کو نہیں ہے اور بےشبہ دونوں اللہ کی ہستی کی دلیلیں ہیں پھر یہ ذکر فرمایا کہ ہم نے رات کی نشانی کو اندھیرا کردیا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا پھر اس کے بعد اللہ پاک نے اپنے بندوں پر اس بات کا احسان جتلایا کہ یہ دن و رات اور چاند وسورج کا پیدا کرنا تمہارے نفع کے واسطے ہے اور رات نہ ہوتی تو تم آرام کب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر 12 (وجعلنا الیل والنھار ایتین) ، ، اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا۔ ، ، یعنی یہ دن رات اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور بےپایاں رحمت پر دلالت کرتے ہیں، نیز یہ کہ صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ (فمحونا ایتہ الیل) ، ، پھر مٹا دیا ہم نے رات کی نشانی کو، ، یعنی ہم نے رات کو تاریک بنایا تاکہ لوگ اس میں سکون اور راحت حاصل کریں۔ (وجعلنا ایتہ النھار مبصرۃ) ، ، اور بنایا دن کی نشانی کو دکھلانے والی، ، یعنی روشن (لتبتغو فضلاً من ربکم) ، ، تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ ، ، اپنی معاش، اپنی صنعت و حرفت، اپنی تجارت اور اپنے سفر میں اللہ کا فضل تلاش کرو۔ (لتعلمو) ، ، اور تاکہ تم جان لو، ، رات…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (فمحونا ایۃ اللیل رات کی نشانی کو ہم نے نور بنادیا) یعنی ہم نے اسے اس طرح کردیا کہ وہ بےنور ہوگئی جس طرح کتاب کے لئے ہوئے الفاظ بےنور ہوتے ہیں، فقرے میں بلاغت اپنے انتہا کر پہنچی ہوئی ہے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ ” ہم نے رات کی نشانی یعنی اس تاریکی کو مٹا دینا جو چاند کے اندر ہے۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

25۔ رات ودن کی دو عظیم نشانیوں میں سامان عبرت و بصیرت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور رات اور دن کو ہم نے دو عظیم الشان نشانیاں بنایا “ اپنی قدرت و عنایت اور رحمت وحکمت کی۔ سو ذرا دیکھو تو سہی کہ ہماری قدرت کے یہ دونوں مظہر تمہارے لئے کتنے کتنے عظیم الشان فوائد ومصالح اپنے پہلو میں لئے ہوئے کس قدر باقاعدگی و باریکی اور کتنی عمدگی و پابندی سے آتے جاتے اور دنیا کو طرح طرح سے فیضیاب کرتے ہیں ؟ پس کیا کہنے اس وحدہ لاشریک کی اس بےپایاں قدرت اور بےنہایت رحمت اور حکمت کے کہ اس نے ہماری طرف سے کسی اپیل اور درخواست کے بغیر محض اپنی رحمت و عنایت سے ادلتے بدلتے شب وروز کے اس حیرت انگیز سلسلے کو ہمارے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–12

باعث ہدایت کتاب اور انسانی فطرت تشریح : اللہ تعالیٰ فصاحت و بلاغت بھرے انداز میں فرما رہے ہیں کہ قرآن رحمت ہے، برکت ہے، کیونکہ اس میں بہترین زندگی گزارنے کے وہ تمام اصول بتا دیے گئے ہیں جو انسان کو اجر عظیم کا حق دار بنائیں گے اور ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جو ایمان نہیں لاتے وہ بچ نہ سکیں گے ان کو درد ناک عذاب ضرور دیا جائے گا۔ پھر انسانی فطرت کا ذکر اس طرح کیا کہ انسان بڑا جلد باز ہے، جیسے بھلائیوں کے لیے دعائیں کرتا ہے اسی طرح تکلیف پہنچنے پر بےصبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لیے بددعا کرنے لگتا ہے یہ تو اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ وہ انسان کی اس حماقت کو سمجھتے ہوئے اس کی بددعا قبول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–22

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف تو آخر لوگ کیوں کفر کرتے ہیں جبکہ نہ تو اس سے دنیا میں سکون ملتا ہے اور نہ آخرت کے ۔ (جلد بازی کے فیصلے) انعام کی امید ، تو یہ انسانی مزاج کی جلد بازی ہے اور اس کا یہ حال دار دنیا میں بھی تو ظاہر ہے کہ بعض اوقات جلد بازی میں فیصلہ کرکے ایسی دعا مانگ لیتا ہے جو دنیا میں ہی اس کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے جیسے انہیں دنوں نظر بن حارث نے اسلام کی مخالفت میں بیت اللہ میں دعا کی جو قرآن میں مذکور ہے ترجمہ یہ ہے ” یا اللہ اگر یہ اسلام حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب بھیج دے “ اور اللہ جل جلالہ کی شان اس کے فورا بعد بدر میں تباہ ہوئے ، احد میں مار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 نمونے اس لحاظ سے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے وجود اور کاریگری کا پتا چلتا ہے رات دن کو بطور دلیل اور نعمت کے قرآن نے متعدد مقامات پر بیان فرمایا ہے۔6 یعنی اگر رات دن نہ ہوتے تو ہمیشہ ایک جیسا موسم رہتا اور سال اور مہینوں کا کچھ پتا نہ چلتا اور نہ حساب رکھا جاسکتا۔ پس اس میں دینی اور دنیوی دونوں قسم کے فوائد مضمر ہیں۔ (راز) شاہ صاحب لکھتے ہیں : گھبرانے سے فائد انہیں ہر چیز کا وقت اور انداز ہ مقرر ہے جیسے رات اور دن کسی کے گھبرانے اور دعا سے رات کم نہیں ہوجاتی، اپنے وقت پر آپ صبح ہوجاتی ہے۔ (موضح)7 یعنی ہر وہ چیز جس پر تمہاری دنیا و آخرت میں فلاح کا انحصار ہے اسے ہم نے کھول کر بیان کردیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:12) محونا ماضی جمع متکلم۔ محر مصدر۔ باب نصر۔ ہم نے مٹا دی۔ ہم مٹا دیتے ہیں۔ ناقص واوی ہے لیکن ناقص یائی بھی آیا ہے۔ ابواب ضرب وسمع سے اور اس کا معنی بھی یہی ہے مٹانا۔ اثر زائل کرنا۔ محو کا اگرچہ اصل معنی مٹا دینا اور اثر زائل کرنے کے ہیں۔ لیکن یہاں اس سے مراد مدہم کردینا۔ یا دھندلا دینا ہے۔ فمحونا ایۃ الیل۔ ہم نے مدہم کردیا رات کی نشانی کو۔ یا دھند لابنا دیا رات والی نشانی کو۔ یعنی رات کو دن کے مقابلہ میں تاریک رکھا۔ اگر رات جزوی طور پر یا کلی طور پر چاندنی ہو تو بھی دن کے مقابلہ میں تاریک ہے اور یہ تاریکی عدم مشغولیت کے لئے ہے تا کہ رات کے وقت انسان آرام کرے جیسا کہ اور جگہ فرمایا ھو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–15

لغات القرآن آیت 11 تا 15 یدع دعا کرتا ہے۔ پکارتا ہے۔ عجولاً بہت جلد باز۔ محونا ہم نے مٹا دیا۔ مبصرۃ روشن ، دکھانے والی السنین (سن) سال، کئی سال۔ الزمنا ہم نے لٹکا دیا۔ ہم چمٹا دیا۔ طائرۃ پرندہ، اس کی قسمت، شگون۔ عنق گردن۔ منشور کھلا ہوا۔ حسیب حساب دینے والا ۔ وازرۃ بوجھ۔ معذبین عذاب دینے والے۔ حتی نبعت جب تک ہم بھیج نہ دیں۔ رسول پیغام بر، بھیجا ہوا۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 15 اللہ جو اس کائنات کا خلاق ومالک ہے اس نے اپنی قدرت سے اس کے نظام کو اس طرح ترتیب دے رکھا ہے کہ ہر چیز اپنی جگہ نہایت احسن طریقے پر چل رہی ہے۔ یہ نظام نہ تو کسی جلد بازی کا نتیجہ ہے نہ اس میں کوئی فیصلہ عجلت اور جلد بازی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں آیت میں اللہ پاک نے دو نشانیوں رات ودن کا ذکر فرمایا کہ یہ دونوں نشانیاں جدا جدا ہیں۔ ہر ایک دوسرے کے پیچھے اسی طرح لگاتار آتا جاتا رہتا ہے کہ کھبی کسی کا دور ختم نہیں ہوتا۔ یہاں یہ اشارہ ہے کہ اگر عہد موسیٰ علی اسلام ختم ہوگیا تو عہد محمدی ﷺ قائم ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔ اسی طرح احکام توریت کا منسوخ ہونا اور احکام قرآن کا نافذ ہونا کچھ حیرت نہیں۔ پھر فرمایا کہ ایک نشانی مٹا کر دوسری نشانی کے ظاہر کرنے میں بہت فوائد ہیں۔ دن میں آدمی ہر قسم کے کاروبار کرتا ہے اور رات کو تھکے ماندے گھروں میں آکر چین سے سوتے ہیں، اور ان ہی دونوں کے دورے سے رات ودن کا ظہور ہوتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[13] یعنی تلاش معاش میں مشغول رہو جس کی صورتیں بیشمار ہیں۔ [14] یعنی ہر وہ چیز جو انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) یعنی دن رات میں ان کی تبدیلی و تفسیر میں غور وفکر کرنے والے کے لئے نشان ہیں ، جس طرح رات اور دن دونوں مخلوقات کے لئے یکساں مفید ہیں اسی طرح عبرت ونصیحت کے لئے ایمان وکفر کا باقی رہنا ضروری ہے ، کیونکہ جب تک کفر کی تاریکی اور سیاہی موجود نہ ہو ، ایمان کی روشنی کس طرح ظاہر ہو سکتی ہے ۔ (آیت) ” وکل شیء فصلنہ تفصیلا “۔ سے مقصود یہ ہے کہ قرآن حکیم نے ہدایت وابتداء کے تمام وسائل سے بحث کی ہے ، اور وہ تمام چیزیں بیان کردی ہیں ، جن کی ہمیں بطور ذرائع راہنمائی کے حاجت ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 12 اور ہم نے رات اور دن کو اپنی قدرت کی دو نشانیاں بنایا اور مقرر کیا ہے پھر ہم نے رات کی نشانی کو رات ہی ہے مٹا دیا اور ماند کردیا اور تاریک کردیا اور دن کی نشانی کو جو دن ہی ہے روشن بنایا دیکھنے کو تاکہ اپنے رب کی روزی کو تلاش کرو اور نیز اس لئے کو تم برسوں کی گنتی اور مختلف قسم کے حساب معلوم کرسکو اور ہم نے ہر چیز کو مفصل اور خوب تفصیل کے ساتھ بیان کردیا۔ یعنی رات دن میں فرق رکھا رات کو تاریک اور دن کو روشن بنایا اور ان سے جو فوائد مرتب ہوتے ہیں رات دن کا باری باری آنا۔ چھوٹا بڑا ہونا۔ غرض ہر کام کی مصلحت نمایاں ہے دن میں عام طور سے ہر شخص روزی کماتا ہے اور رات کو آرام یا خفیہ امور انجام…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ خواہ لوح محفوظ میں، پس کل شیء عام ہے، اور یا قرآن میں، پس کل سی سے مراد ضروری ہے، اول صورت میں مطلب یہ ہے کہ لوح محفوظ میں ہر شے کا جدا جدا وقت معین لکھا ہے اور دوسری صورت میں یہ کہ دیکھو قرآن میں کیسے مفید مضامین ہدایت آگئیں شبہات میں موجب تسکین مذکور ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رات اور دن نشانات الہی میں سے دو نشانیاں ہیں : 15۔ یہ دن اور رات کیا ہیں ؟ نشانات الہی میں سے دو نشانیاں ہی تو ہیں ۔ حکمت وعرفان کی نظر سے دیکھا جائے تو رات اور دن کے طلوع و غروب میں ‘ ان کی مسلسل پابندیوں میں حکمتوں اور صنعتوں کی ایک دنیا پوشیدہ نظر آئے گی ، قرآن کریم نے تسکین حیات کے مختلف پہلوؤں پر جابجا توجہ دلائی ہے ازاں جملہ کائنات خلقت کے مناظر واشیاء کا اختلاف وتنوع ہے ۔ انسانی طبیعت کا خاصہ ہے کہ یکسانی سے اکتاتی ہے اور تبدیلی وتنوع میں خوشگواری کی کیفیت محسوس کرتی ہے ۔ پس اگر کائنات ہستی میں محض یسانی دیک رنگی ہی ہوتی تو یہ دلچسپی اور خوش گواری پیدا نہ ہو سکتی جو اس کے ہر گوشہ میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary In the verses cited above, first it was declared that the alternation of night and day was a sign of the most perfect power of Allah Ta` ala. Then it was said that there was great wisdom in the making of the night dark and the day, bright. As for the wise consideration behind the making of the night dark, it was not mentioned at this place. It has, however, been mentioned in other verses that the darkness of the night is appropriate and conducive to sleep and rest. The divine arrangement is such that humans and animals go to sleep in the darkness of that very night. In fact, the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13. Allah invites man to study the wisdom that underlies variety in the world and not get confused and long for monotonous uniformity. In fact, the whole system is based on variety, distinctiveness and diversity in things. For the sake of illustration let us take the case of the signs of day and night: You see these opposite things daily in your life. If you just consider the underlying wisdom, you will find that without this variety there would have been hardly any activity in the world. Likewise great wisdom lies in the creation of the people with different temperaments, thoughts and…

Read the full tafseer →