Explained with ayahs 13–14
انسان کے اعمال
اوپر کی آیتوں میں زمانے کا ذکر کیا جس میں انسان کے اعمال ہوتے ہیں اب یہاں فرمایا ہے کہ اس کا جو عمل ہوتا ہے بھلا ہو یا برا وہ اس پر چپک جاتا ہے بدلہ ملے گا۔ نیکی کا نیک۔ بدی کا بد۔ خواہ وہ کتنی ہی کم مقدار میں کیوں نہ ہو ؟ جیسے فرمان ہے ذرہ برابر کی خیر اور اتنی ہی شر ہر شر ہر شخص قیامت کے دن دیکھ لے گا۔ اور جیسے فرمان ہے دائیں اور بائیں جانب وہ بیٹھے ہوئے ہیں جو بات منہ سے نکلے وہ اسی وقت لکھ لیتے ہیں۔ اور جگہ ہے آیت (وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ 10 ۙ) 82۔ الإنفطار :10) تم پر نگہبان ہیں جو بزرگ ہیں اور لکھنے والے ہیں۔ تمہارے ہر ہر فعل سے باخبر ہیں۔ اور آیت میں ہے تمہیں صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 14
یعنی ہر انسان کی نیک بختی و بدبختی، اور اس کے انجام کی بھلائی اور برائی کے اسباب و وجوہ خود اس کی اپنی ذات ہی میں موجود ہیں۔ اپنے اوصاف، اپنی سیرت و کردار، اور اپنی قوت تمیز اور قوت فیصلہ و انتخاب کے استعمال سے وہ خود ہی اپنے آپ کو سعادت کا مستحق بھی بناتا ہے اور شفاف کا مستحق بھی۔ نادان لوگ اپنی قسمت کے شگون باہر لیتے پھرتے ہیں اور ہمیشہ خارجی اسباب ہی کو اپنی بدبختی کا ذمہ دار ٹھیراتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا پروانہ خیر و شر ان کے اپنے گلے کا ہار ہے۔ وہ اپنے گریبان میں منہ ڈالیں تو دیکھ لیں کہ جس چیز نے ان کو بگاڑ اور تباہی کے راستے پر ڈالا اور آخرکار خائب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
نامہ اعمال گلے کا ہار ہونے کا مطلب
یہ ہے کہ انسان کسی جگہ کسی حال میں رہے اس کا صحیفہ عمل اس کے ساتھ رہتا ہے اس کا عمل لکھا جاتا رہتا ہے جب وہ مرتا ہے تو بند کر کے رکھدیا جاتا ہے پھر قیامت کے روز یہ صحیفہ عمل ہر ایک کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا کہ خود پڑھ کر خود ہی اپنے دل میں فیصلہ کرلے کہ وہ مستحق ثواب ہے یا مستحق عذاب حضرت قتادہ سے منقول ہے کہ اس روز بےپڑھا آدمی بھی نامہ اعمال پڑھ لے گا اس موقع پر اصبہانی نے بروایت حضرت ابوامامہ ؓ یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز بعض لوگوں کا نامہ اعمال جب ان کے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ دیکھے گا کہ اس کے بعض اعمال صالحہ اس میں لکھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
تفسیر آیات 13۔ 14:۔ وَكُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰۗىِٕرَهٗ فِيْ عُنُقِهٖ ۭ وَنُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا۔ اِقْرَاْ كِتٰبَكَ ۭ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا۔
" طائر " کا مفہوم : طائر کے اصل معنی تو پرندے کے ہیں لیکن اہل عرب پرندوں سے چونکہ فال لیتے تھے اور اپنے زعم کے مطابق ان سے قسمت بھی معلوم کرتے تھے اس وجہ سے یہ لفظ قسمت، حظ اور نصیبہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ یہ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو تنبیہ ہے کہ اگر یہ جلدی اپنے مزعومہ شرکاء و شفعا کے بل پر مچائے ہوئے ہیں تو انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم نے ہر انسان کا نصیبہ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13۔ 1 طَائِر کے معنی پرندے کے ہیں اور عُنُق کے معنی گردن کے۔ امام ابن کثیر نے طائر سے مراد انسان کے عمل کے لئے ہیں۔ فِیْ عُنُقِہِ کا مطلب ہے، اس کے اچھے یا برے عمل، جس پر اس کو اچھی یا بری جزا دی جائے گی، گلے کے ہار کی طرح اس کے ساتھ ہوں گے۔ یعنی اس کا ہر عمل لکھا جا رہا ہے، اللہ کے ہاں اس کا پورا ریکارڈ محفوظ ہوگا۔ قیامت والے دن اس کے مطابق اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اور امام شوکانی نے طائر سے مراد انسان کی قسمت لی ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے مطابق پہلے سے لکھ دی ہے، جسے سعادت مند اور اللہ کا مطیع ہونا تھا وہ اللہ کو معلوم تھا اور جسے نافرمان ہونا تھا، وہ بھی اس کے علم میں تھا، یہی قسمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
8: انجام کو گلے سے چمٹانے کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کے تمام اعمال ہر لمحے لکھے جارہے ہیں جو اسکے اچھے یا برے انجام کی نشان دہی کرتے ہیں، اور جب قیامت آئے گی تو یہ سارا اعمال نامہ اسکے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا جسے وہ خود پڑھ سکے گا، حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ جو شخص دنیا میں ان پڑھ تھا قیامت کے دن اسے بھی اپنا اعمال نامہ پڑھنے کی صلاحیت دے دی جائے گی۔
Read the full tafseer →وکل انسان الزمنہ ئرہ فی عنقہ انخرج لہ یوم القیمۃ کتبا یلقہ منشور (31) اقراء اکتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا (41) (71 : 31۔ 41) ” ہر انسان کا شگون ہم نے اس کے اپنے گلے میں لٹکا رکھا ہے ، اور قیامت کے روز ہم ایک نوشتہ اس کے لئے نکالیں گے جسے وہ کھلی کتاب کی طرح پائے گا پڑھ اپنا نامہ اعمال ، آج اپنا حساب لگانے کے لئے تو خود ہی کافی ہے “۔ انسان کا شگون اس کا عمل ہے ، جو اس کی قسمت میں لکھا ہے۔ اس سے مراد خود انسان کا کسب وعمل ہے اور اس کے گلے میں لٹکانے سے مراد یہ ہے کہ انسان سے اس کا شگون یعنی اعمال کبھی جدا نہیں ہوتے۔ یہ قرآن کریم کا انداز ہے کہ قرآن کریم معافی و مفاہیم کو بھی ایک مجسم شکل میں…
Read the full tafseer →2 یعنی شومئی قسمت اور زشتیٔ اعمال اس کے گلے کا ہار ہے۔ بری قسمت کے ساتھ برے عمل ہیں کہ چھوٹ نہیں سکتے۔ وہ ہی نظر آئیں قیامت میں۔
Read the full tafseer →آیت 13 وَكُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰۗىِٕرَهٗ فِيْ عُنُقِهٖ
”طاءِر“ کا لفظ عربی میں عام طور پر شگون نحوست اور بد قسمتی کے لیے بولا جاتا ہے لیکن یہاں پر خوش بختی اور بد بختی دونوں ہی مراد ہیں۔ یعنی کسی انسان کا جو بھی مقسوم و مقدور ہے زندگی میں اچھا برا جو کچھ بھی اسے ملنا ہے جیسے بھی اچھے برے حالات اسے پیش آنے ہیں اس سب کچھ کے بارے میں اس کا جو کھاتہ ”اُمّ الکتاب“ میں موجود ہے اس کا حاصل اس کی گردن میں چپکا دیا گیا ہے۔ گردن میں چپکانے کے الفاظ کا استعمال محاورۃً بھی ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی کچھ مادی حقیقت بھی ہو۔ یعنی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی گردن میں کسی gland کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
3 1 انسان کا اعمال نامہ اس کے وجود کے اندر ہے :۔ طائر کا لغوی معنی پرندہ ہے اور دوسرا معنی شومئی قسمت ہے۔ مگر اس سے مراد انسان کا اعمال نامہ لیا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کی بدبختی یا نیک بختی کا ریکارڈ باہر کی دنیا میں نہیں بلکہ وہ خود انسان کے اندر موجود ہے۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا : (بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ 14ۙ ) 75 ۔ القیامة :14) بلکہ انسان اپنے آپ پر خود ہی دلیل ہے۔ اگرچہ (اپنی بےقصوری کے لیے بہانے پیش کرے) اور اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ ہر انسان کے ساتھ دائیں اور بائیں دو فرشتے ہر وقت موجود رہتے ہیں جو اس کا ایک ایک چھوٹا بڑا…
Read the full tafseer →22۔ یعنی ہر شخص کا عمل نیک ہو یا بد، ہر حال میں ہم نے اس کے ساتھ بطور جزء غیر منفک کے لازم کردیا ہے۔ (آیت) ” طیئرہ “۔ ہر مکلف انسان کے افعال اختیاری مراد ہیں۔ اے عملہ الصادر منہ باختیارہ (روح) سمی الخیر والشر بالطائر تسمیۃ للشیء باسم لازمہ (کبیر) (آیت) ” الزمنہ فی عنقہ “۔ محاورہ عرب میں شدت لزوم اور کمال ربط کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ تصور لشدۃ اللزوم و کمال الارتباط (روح) ۔
23۔ یہ نامہ اعمال جو اس وقت تک عالم غیب میں فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہوگا، حشر میں کھول کر ہر بندہ کے سامنے پیش کیا کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
آیت نمبر 11 تا 22
ترجمہ : اور انسان جب تنگ دل ہوجاتا ہے تو اپنے اہل و عیال کیلئے اسی طرح بد دعاء کرتا ہے جس طرح وہ ان کیلئے دعاء خیر کرتا ہے اور ہر انسان اپنے لئے بددعاء کرنے میں جلد باز اور نا عاقبت اندیش واقع ہوا ہے اور ہم نے رات اور دن کو ہماری قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں بنایا، تو ہم نے رات کی نشانی کی تاریک بنایا یعنی ہم نے اسکے نور کو ظلمت سے مٹا دیا، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو اور (آیۃ اللیل) میں اضافت بیانیہ ہے، اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا، یعنی ایسی کہ اس میں روشنی کی وجہ سے نظر آسکے، تاکہ تم کسب کے ذریعہ اس میں اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو، اور تاکہ تم انکے ذریعہ سالوں…
Read the full tafseer →وَكُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰۗىِٕرَهٗ فِيْ عُنُقِهٖ : اور ہم نے ہر انسان کا عمل اس کے گلے کا ہار کر کے رکھا ہے۔
یعنی انسان کا عمل اور مقدر انسان کے ساتھ رہتا ہے انسان جہاں کہیں ہو امر مقدر اس سے جدا نہیں ہوسکتا۔ (حضرت ابن عباس ؓ کلبی اور مقاتل نے کہا نیکی ہو یا بدی اچھائی ہو یا برائی انسان کے ساتھ رہے گی یہاں تک کہ اس سے ہر خیر و شر کی حساب فہمی ہوگی۔ حسن نے کہا طائر سے مراد ہے برکت و نحوست۔ اہل حقیقت کہتے ہیں طائر وہ امر تقدیری ہے جس کا فیصلہ کردیا گیا ہے کہ آدمی وہ ضرور کرے گا اور اس کا نتیجہ ضرور حاصل کرے گا۔ خواہ خوش نصیبی ہو یا بدبختی۔
جانور پرندہ ہو یا چرندہ عرب اس کے نکلنے سے اچھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(13۔ 14) اور ہم نے ہر ایک انسان کا عمل یعنی قبر میں منکر ونکیر کو سوال و جواب کا دفتر اس کی گردن کا ہار کر رکھا ہے یا یہ کہ اس کی نیکی وبدی اس کا نفع ونقصان اور شقاوت وسعادت اس کے ساتھ لازم ہے اور پھر قیامت کے دن ہم اس کا نامہ اعمال اس کے دیکھنے کے لیے سامنے کردیں گے جس میں نیکیاں اور برائیاں سب واضح ہوں گی اور وہ ان کو دیکھ لے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے، آج تو خود اپنے اعمال کا آپ ہی محاسب کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
وَكُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ۔۔ : ”طَاءِرٌ“ کا لفظی معنی اڑنے والا ہے۔ مراد کسی بھی چیز کا وہ جز ہے جو انسان کے حصے میں آئے، گویا وہ اڑ کر اس کے پاس آتا ہے۔ شگون لینے یا قرعہ ڈالنے کی صورت میں اس کے حق میں نکلنے والا نتیجہ خواہ اچھا ہو یا برا۔ انسان کے حصے میں آنے والی چیز یا اس کا عمل جو اس نے کرنا ہے اور اس کا رزق جو اسے ملنا ہے، سب پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل وتمیز دے کر یہ اختیار دیا ہے کہ وہ سیدھے راستے پر چلے یا غلط راستے پر، نیک عمل کرے یا بد، پھر بھی اس نے جو کچھ کرنا ہے، خواہ اس کے اختیار میں ہے، جیسے نیکی یا بدی اور خواہ اس کے اختیار میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت نمبر 13 تا 14
قولہ تعالیٰ : وکل انسانٍ الزمنٰہ طٰئرہ فی عنقہٖ زجاج نے کہا ہے : عنق (گردن) کا ذکر لزوم (لازم ہونا) سے عبارت ہے جیسا کہ گردن کے لئے قلادہ (ہار) کا لازم ہونا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : طٰٓئرہ یعنی اس کا عمل اور جو اس پر خیر وشر میں سے مقدر ہے، اور وہ اسے لازم ہوتا ہے جہاں وہ ہو۔ اور مقاتل (رح) نے کہا ہے : اس کی نیکی اور اس کی برائی اس کے ساتھ ہوگی۔ اس کا عمل اور اس کا رزق (اس کے ساتھ لازم ہے) اور انہی سے مروی ہے : کوئی بچہ نہیں جو پیدا ہوتا ہے مگر اس کی گردن میں ایک کاغذ ہوتا ہے جس میں اس کا شقی (بدبخت ہونا) یا سیعد (سعاد تمند ہونا) لکھا ہوتا ہے۔ اور حسن نے کہا ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
1:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے سند ہی کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کے عرش سے دو سورج پیدا فرمائے اور اللہ تعالیٰ کے سابق علم میں تھا کہ ایک سورج کو باقی رکھنا ہے پس اس نے اس دنیا اور جو کچھ اس کے مغرب اور مشرق کے درمیان ہے اس کی مثل پیدا فرمایا اور جو کچھ اس کے علم سابق میں تھا کہ اسے مٹانا ہے اور جلد بنانا ہے تو اس نے اس کو سورج سے کم پیدا فرمایا لیکن آسمان میں انتہائی بلند ہونے اور زمین سے زیادہ دور ہونے کی وجہ سے چھوٹا دیکھائی دیتا ہے اگر سورج کو اسی طرح رکھا جاتا جیسے کہ اسکو پیلی مرتبہ پیدا فرمایا تھا تو رات کو دن میں سے نہ پہچانا…
Read the full tafseer →[وَكُلَّ انسَان : اور ہر ایک انسان کو !] [اَلْزَمْنٰهُ : ہم نے چپکا دی اس سے ] [طٰۗىِٕرَهٗ : اس کی شامت عمل ] [فِيْ عُنُقِهٖ : اس کی گردن میں ] [وَنُخْرِجُ : اور ہم نکالیں گے ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [كِتٰبًا : ایک ایسی کتاب ] [يَّلْقٰىهُ : وہ ملے گا (یعنی پائے گا) جس کو ] [مَنْشُوْرًا : کھولی ہوئی ]
ن ش ر
(ن) نَشْرًا کسی چیز کو بکھیرنا۔ پھیلانا۔ وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَہٗ (اور وہ پھیلاتا ہے اپنی رحمت کو) 42:28 ۔
نُشُوْرًا جی اٹھنا۔ دوبارہ زندہ ہونا۔ دوبارہ اٹھنا۔ کَذٰلِکَ النُّشُوْرُ (اس طرح دوبارہ زندہ ہونا ہے) 35:9 ۔
نَاشِرٌ اسم الفاعل ہے۔ پھیلانے والا۔…
Read the full tafseer →ان آیات میں بتایا ہے کہ انسان کا عمل ہی اسے نفع نقصان دے گا جیسے عمل کرے گا قیامت کے دن سامنے آجائیں گے فرشتے جو دنیا میں انسانوں کے اعمال لکھتے ہیں انسان ان اعمال کو کتابی صورت میں دیکھ لے گا۔ اچھے عمل والوں کا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دے دیا جائے گا اور برے اعمال والوں کا اعمال نامہ پشت کے پیچھے سے اور بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، چونکہ ہر ایک کے اعمال کا بدلہ ملے گا اور انکار بھی کوئی فائدہ نہ دے گا اور ہر ایک کے اعمال کا نتیجہ لازمی طور پر سامنے آہی جائے گا اس لیے اسے (اَلْزَمْنٰہُ طٰٓءِرَہٗ فِیْ عُنُقِہٖ ) سے تعبیر فرمایا۔ جس کا ترجمہ بعض اکابر نے یوں کیا ہے کہ ہم نے ہر انسان کا عمل اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–22
بیان سعادت و شقاوت و ہدایت و ضلالت وطالبین دنیا و طالبین آخرت
قال اللہ تعالیٰ : وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ .... الیٰ .... فتقعد مذموما مخذولا۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ لیل و نہار اس کی قدرت کا کرشمہ ہیں اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ اسی طرح سمجھ لو کہ سعادت و شقاوت اور ہدایت و ضلالت سب اسی کی قدرت کے کرشمے ہیں جس طرح ظاہری نور اور ظلمت اس کے اختیار میں ہے اسی طرح باطنی نور اور ظلمت بھی اسی کے اختیار میں ہے اور سب مقدر ہوچکی ہے جن کا ظہور قیامت کے دن ہوگا پھر یہ بتلایا کہ جنہوں نے انبیاء و رسل کا مقابلہ کیا وہ ہلاک اور برباد ہوئے لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ ان نستیوں کو دیکھ کر جن پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
15:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” طائرہ “ اعمالنامہ قیامت کے دن ہر شخص خود ہی اپنا اعمالنامہ پڑھے گا اور خود ہی اپنی نیکیوں اور برائیوں کا حساب کرلے گا۔ ” من اھتدی الخ “ جو شخص دنیا میں راہ ہدایت اختیار کرتا ہے اس کا فائدہ اسی کو پہنچے گا اور جس نے گمراہی اختیار کی اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا اور کوئی شخص کسی دوسرے کے جرم میں نہیں پکڑا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ربط آیات :
گذشتہ درس میں قرآن پاک کی ہدایت اور راہنمائی کا ذکر ہوا کہ یہ سب سے سیدھے راستے اور سب سے درست ملت کی طرف راہنمائی کرتا ہے ، یہ قرآن اہل ایمان کو بشارت دیتا ہے اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کو عذاب کی وعید سناتا ہے پھر فرمایا انسان جلد بازی میں آکر شر کی دعا کرتے ہیں حالانکہ یہ ان کے لیے مناسب نہیں ، آج کے درس میں اللہ نے اپنی پہچان ، توحید اور وقوع قیامت کے سلسلے میں اپنی قدرت کی نشانیوں کو بیان کیا ہے ، اگر ان میں تھوڑا سا بھی غور کیا جائے تو انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت تامہ کو سمجھ سکتا ہے ، انہی نشانیوں سے قیامت پر یقین بھی پختہ ہو سکتا ہے ۔
(لیل ونہار کا…
Read the full tafseer →وَكُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰۗىِٕرَهٗ فِيْ عُنُقِهٖ ۭ وَنُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا 13
نوس
النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب،
قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1]
( ن و س ) الناس ۔
بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ترکیب : یلقاہ جملہ کتابا کی صفت جو حال ہے مفعول محذوف سے وھوضمیر الطائر یا مفعول ہے امرنا جواب ہے اذاکا۔ کم اس جگہ خبر یہ ہے محل نصب میں اھلکنا سے بربک میں ب زائدہ ہے جیسا کہ بنفسک میں اور جس طرح حسیبًا تمیز ہے من نفسک کی اسی طرح خبیرًا بصیرًا تقدیم خبیرًا کی اس کے متعلق کے تقدم سے ہے۔ قال القراء انما یجوزا دخال الباء فی المرفوع اذایذم اویمدح بہ صاحبہ مثل کفاک بہ واکرم بہ رجلا ولایقال قام باخیک و انت ترید قام اخوک۔
تفسیر : ہر شے کی تفصیل کے بعد انسان کی آنے والی حالت کا بیان کرنا اس دعوے کی دلیل بیان کردینا ہے کیونکہ یہ ایک بڑی اہم بات ہے جو کتب سابقہ میں بھی نہ تھی اس لیے فرماتا ہے وکل انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
وَکُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰـہُ طَآئِرَہٗ فِیْ عُنُقِہٖ ط وَنُخْرِِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتٰبـًا یَّلْقٰـہُ مَنْشُوْرًا۔ اِقْرَاْ کِتٰـبَکَ ط کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 13۔ 14)
(اور ہم نے ہر انسان کا نصیبہ اس کے گلے کے ساتھ باندھ دیا ہے اور ہم قیامت کے روز اس کے لیے ایک رجسٹر نکالیں گے جس کو وہ بالکل کھلا ہوا پائے گا۔ لو پڑھ لو اپنا اعمال نامہ، آج تم خود ہی اپنا حساب کرلینے کے لیے کافی ہو۔ )
انسانوں کی فلاح و خسران کا مدار حُسنِ کردار پر ہے
عربی زبان میں طائر کا لفظ پرندہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، لیکن اہل عرب دوسری مشرک قوموں کی طرح چونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فہم القرآن
ربط کلام : زندگی میں انسان جو کچھ کرتا اور کماتا ہے۔ وہمٹ نہیں جاتا بلکہ اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور اس میں چھوٹے سے چھوٹا کیا ہوا عمل اس کے نامہ اعمال میں درج ہو رہا ہوتا ہے۔
انسان کو برائی اور شر کے بارے میں جلد بازی سے روکنے کے لیے یہ بتلایا جا رہا ہے کہ اے انسان جو کچھ تو رات کی تاریکیوں اور دن کے اجالوں میں کرتا ہے۔ وہ رائیگاں نہیں جاتا بلکہ ہم اس کو ہر انسان کے گلے میں لٹکائے دیتے ہیں۔ قیامت کے دن اسے ہم ایک کتاب یعنی اعمال نامہ کی شکل میں تیرے سامنے لا کر تجھے اسے پڑھنے کا حکم دیں گے۔ جسے تو اپنے سامنے بالکل عیاں پائے گا۔ تجھے حکم ہوگا اس اعمال نامے کو پڑھ لے جو تجھے…
Read the full tafseer →ہر انسان اپنا عمل ساتھ لئے پھرتا ہے جو قیامت کو ظاہر ہوگا :
13: وَکُلَّّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰہُ طٰٓئِرَہٗ (اور ہم نے ہر انسان کے اعمال) طائر سے عمل مراد ہے۔ فِیْ عُنُقِہٖ (اس کے گلے میں لٹکا دیے ہیں) یعنی اس کا عمل اس کو اس طرح لازم پکڑنے والا ہے جیسے ہار گلے کیلئے نمبر 2۔ گردن کا طوق بنادیں گے جو اس سے جدا نہ ہوگا۔ وَنُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتٰبًا یَّلْقٰہُ مَنْشُوْرًا (اور قیامت کے روز (وہ) کتاب اسے نکال دکھائیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا)
نحو : یلقاہ یہ کتاب کی صفت ہے۔
قراءت : شامی نے یُلَقَّاہُ منشورًایہ یلقاہ سے حال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لپٹا ہوا نہ ہوگا کہ اس کو آسانی سے پڑھا…
Read the full tafseer →کل انسان الزمناہ طائرہ کی مختلف تفاسیر
تفسیر 13۔” وکل انسان الزمناہ طائرہ فی عنقہ “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ انسان کا عمل اور مقدر انسان کے ساتھ رہتا ہے، انسان جہاں کہیں بھی ہوا مر مقدراس سے جدا نہیں ہوسکتا ۔ کلبی اور مقاتل کا بیان ہے کہ خیر ہو یا شر ، اس کے ساتھ ہمیشہ رہے گا تا کہ اس کے ذریعے اس کا محاسبہ کیا جائے۔ حسن کا قول ہے کہ طائر سے مراد برکت و نحوست ۔ مجاہد کا قول ہے کہ جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے اس کے گلے میں ایک پرچہ ڈالا جاتا ہے جس میں سعید یا شقی لکھا ہوتا ہے۔
ابو عبیدہ اور قتیمی کا قول ہے کہ طائر سے اس جگہ نصیب مراد ہے۔ اچھا ہو یا برا جیسا کہ عرب کا قول ہے کہ ” طار سھم فلان بکذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13۔ 14:۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نامہ اعمال کو اڑنے والے جانوروں سے مشابہت دے کر طائر اس لیے فرمایا کہ قیامت کے دن کئی پیشیاں بندوں کی اللہ تعالیٰ کے روبرو ہوں گی پہلی دو پیشیوں میں اللہ تعالیٰ ان کو ان کے گناہ یاد دلاتا رہے گا اور لوگ طرح طرح کے عذر کرتے رہیں گے تیسری دفعہ نامہ اعمال کے کاغذوں کو پر دار جانوروں کی طرح اڑا دینے کا حکم ہوجائے گا وہ نامہ اعمال اڑکر دائیں اور بائیں ہاتھوں میں جیسے جس کے عمل ہونگے آجاویں گے ترمذی اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ نامہ اعمال کے اڑا دیئے جانے کا ذکر صراحت سے آیا ہے 1 ؎۔ اور ماں کے پیٹ میں جب آدمی کا پتلا بنتا ہے روح کے پھونکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت نمبر 13
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے عدل کامل کے بارے میں خبر ہے، نیز یہ کہ ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے گلے میں لٹکا ہوا ہے، یعنی بندہ جو اچھایا برا کام سر انجام دیتا ہے وہ اسی کے ساتھ لازم ہوتا ہے وہ کسی دوسرے کی طرف متعدی نہیں ہوتا اور کسی دوسرے کے عمل کا حساب اس سے لیا جائے گا نہ اس کا حساب کسی اور سے لیا جائے گا۔ (ونخرج لہ یوم القیمتہ کتباً یلقہ منشوراً ) ، ، اور نکال دکھائیں گے ہم اس کو قیامت کے دن ایک کتاب، وہ دیکھے گا اس کو کھلی ہوئی، ، اس کتاب میں اس کے تمام اچھے اور برے، چھوٹے اور بڑے تمام اعمال موجود ہوں گے اس سے کہا جائے گا : (اقراء کتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیباً ) ، ، پڑھ لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
قول باری ہے (وکل انسان الزمناہ طائرۃ فی عنقہ ہر انسان کا شگون ہم نے اس کے اپنے گلے میں لٹکا رکھا ہے) ایک قول کے مطابق طائر سے مراد ایک انسان کے اپنے عمال خیر و شر میں جس طرح عربوں کا دستور تھا کہ اگر پرندہ دائیں جانب سے آ جاتا تو اسے بربرکت سمجھتے اور نیک شگون قرار دیتے جبکہ بائیں جانب سے آنے والے پرندے کو نحوست قرار دیتے اور اس سے بدشگونی لیتے۔ اس بناء پر طائر کو خیر و شر کے لئے اسم قرار دیا گیا اور ان دونوں کے ذکر کی بجائے صرف پرندے کے ذکر پر اکتفا کیا گیا اس لئے کہ یہ لفظ دونوں باتوں پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ ہر انسان کا شگون اس کے گلے میں اس طرح آویزاں ہے جس طرح طوق اس…
Read the full tafseer →30۔ ہر انسان کا شگون خود اس کے اپنے گلے میں :۔
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ہر انسان کا شگون خود اس کے اپنے گلے میں ہے۔ پس ہر انسان کی سعادت یا نحوست دراصل اس کے اپنے عمل و کردار ہی سے وابستہ ہے نہ کہ اس خارج سے۔ اور وہ گلے کے ہار کی طرح اس سے لٹکی اور چمٹی رہے گی۔ یہاں تک کہ اس کو اپنے آخری انجام تک پہنچا دے گی۔ پس انسان کو اپنا شگون باہر سے دیکھنے اور تلاش کرنے کی بجائے خود اپنے عمل میں دیکھنا چاہیے۔ (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، المراغی اور محاسن وغیرہ) ۔ اور اپنی مصیبت ومشکل کا الزام دوسروں کو دینے اور ان کا ذمہ دار انکو ٹھہرانے کی بجائے خود اپنے اوپر نظر رکھنی چاہیے۔ اور اپنی اصلاح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
اعمال نامہ اور قیامت کا دن
تشریح : ان آیات میں اس سائنسی نکتہ کو بڑے ہی عام الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے کہ ہمارے کائناتی نظام میں اس قدر مضبوط اور معقول نظام ریکارڈنگ اور فلم کا رکھا ہوا ہے کہ ہر شخص اس نظام کے احاطہ کے اندر ہے۔ ہر شخص کی کہی ہوئی بات کیا ہوا عمل اور نیت سب کچھ ایک خود کار عمل کے ذریعے ایسے ہی تیار ہو رہا ہے، جیسے کہ انسان کے اعمال کی تختی ہر وقت اس کے گلے میں لٹک رہی ہو۔ اور پھر وہ تختی اللہ کی اتنی سخت حفاظت میں جمع ہوجاتی ہے کہ قیامت کے دن وہ اپنے اعمال کی تختی خود دیکھ لے گا۔ یہ اس لیے کہ اللہ نے رسول بھیج دیے جس شخص نے اپنی عقل، فہم اور ارادہ سے نیک راہ اختیار کی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
تو آخر لوگ کیوں کفر کرتے ہیں جبکہ نہ تو اس سے دنیا میں سکون ملتا ہے اور نہ آخرت کے ۔
(جلد بازی کے فیصلے)
انعام کی امید ، تو یہ انسانی مزاج کی جلد بازی ہے اور اس کا یہ حال دار دنیا میں بھی تو ظاہر ہے کہ بعض اوقات جلد بازی میں فیصلہ کرکے ایسی دعا مانگ لیتا ہے جو دنیا میں ہی اس کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے جیسے انہیں دنوں نظر بن حارث نے اسلام کی مخالفت میں بیت اللہ میں دعا کی جو قرآن میں مذکور ہے ترجمہ یہ ہے ” یا اللہ اگر یہ اسلام حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب بھیج دے “ اور اللہ جل جلالہ کی شان اس کے فورا بعد بدر میں تباہ ہوئے ، احد میں مار…
Read the full tafseer →ف 8 یہاں ” عنق “ کا لفظ لزوم سے کنایہ ہے مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کے عمل اچھے ہوں یا برے کم ہوں یا زیادہ ہم نے محفوظ کردیئے ہیں جو کبھی ضائع نہیں ہوسکتے (رازی)9 مراد ہے انسان کا اپنا اعمالنامہ
Read the full tafseer →(17:13) وکل انسان الزمنہ۔ ہم نے ہر انسان کے لئے لازم کردیا ہے ۔ ہم نے اس کے لئے لگا دیا ہے۔ الزمنا۔ ماضی جمع متکلم۔ الزام سے ہُ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع کل انسان ہے۔
طئرہ۔ ہر وہ پروں والا جانور جو فضا میں حرکت کرتا ہے اسے طائر کہتے ہیں۔ طار یطیر طیر وطیران وطیرورۃ پرندہ کا اڑنا۔ طائر کی جمع طیر ہے۔ جیسے راکب کی جمع رکب ہے۔ پرندے کے اڑنے کے معنی میں طار یطیر کا اکثر استعمال ہوا ہے مثلاً ولا طائر یطیر بجناحیہ (6:38) اور نہیں ہے کوئی پرندہ جو اپنے دونوں پروں سے اڑتا ہے (مگر یہ کہ وہ سب تمہاری ہی طرح کے گروہ ہیں) الطیر وتطیرفلان۔ اس کے اصل معنی تو کسی پرندہ سے شگون لینے کے ہیں پھر یہ ہر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
لغات القرآن آیت 11 تا 15
یدع دعا کرتا ہے۔ پکارتا ہے۔ عجولاً بہت جلد باز۔ محونا ہم نے مٹا دیا۔ مبصرۃ روشن ، دکھانے والی السنین (سن) سال، کئی سال۔ الزمنا ہم نے لٹکا دیا۔ ہم چمٹا دیا۔ طائرۃ پرندہ، اس کی قسمت، شگون۔ عنق گردن۔ منشور کھلا ہوا۔ حسیب حساب دینے والا ۔ وازرۃ بوجھ۔ معذبین عذاب دینے والے۔ حتی نبعت جب تک ہم بھیج نہ دیں۔ رسول پیغام بر، بھیجا ہوا۔
تشریح : آیت نمبر 11 تا 15
اللہ جو اس کائنات کا خلاق ومالک ہے اس نے اپنی قدرت سے اس کے نظام کو اس طرح ترتیب دے رکھا ہے کہ ہر چیز اپنی جگہ نہایت احسن طریقے پر چل رہی ہے۔ یہ نظام نہ تو کسی جلد بازی کا نتیجہ ہے نہ اس میں کوئی فیصلہ عجلت اور جلد بازی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
نامہ اعمال کا ذکر
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نامہ اعمال کو اڑنے والے جانوروں سے مشابہت دے کر طائر اس لئے فرمایا کہ قیامت کے دن کئی پیشیاں بندوں کی اللہ تعالیٰ کے روبرو ہوں گی۔ پہلی دو پیشیوں میں اللہ تعالیٰ ان کو ان کے گناہ یاد دلاتا رہے گا اور لوگ طرح طرح کے عذر کرتے رہیں گے۔ تیسری دفعہ نامہ اعمال کے کاغذوں کو پر دار جانوروں کی طرح اڑا دینے کا حکم ہوجاوے گا۔ وہ نامہ اعمال اڑ کر دائیں اور بائیں ہاتھوں میں جیسے کے عمل ہوں گے آجائیں گے۔ بچہ کے پیدا ہونے کے بعد فرشتہ ہر ایک شخص کے عمل لکھتا رہتا ہے۔ مر جانے کے بعد نیک عمل نیک صورت بن کر اور بد عمل بد صورت بن کر قبر میں اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
[15] یعنی انسان کسی جگہ اور کسی حال میں رہے اس کا نامہء اعمال اس کے ساتھ رہتا ہے جس میں اس کا ہر عمل، نیک ہو یا بد، لکھا جاتا رہتا ہے اور جب وہ مرتا ہے تو بند کر کے رکھ دیا جاتا ہے۔ پھر قیامت کے دن ہر انسان کا نامہء اعمال اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
نامہ اعمال ہر شخص کے اندر موجود ہے : !
(ف 2) (آیت) ” الزمنہ طیرہ فی عنقہ “۔ سے مقصود یہ ہے کہ نامہ اعمال ہر شخص کے اندر حتمی طور پر موجود ہے اتمام اعمال لوح قلب پر مرنسم ہیں ، تمام نقوش دماغ میں ثبت ہیں ، جب ضرورت ہوگی ، یہی نقوش ابھر آئیں گے ، اور اعمال روشن طور پر ہمارے سامنے آجائیں گے اور کہا جائے گا ، جو کچھ تم نے دنیا میں کیا ہے ، یہاں صاف صاف پڑھ لو ، صحیفہ اعمال کھلا ہے ۔
انسانی دماغ کی صنعت کاریاں عجیب ہیں ، اس میں بعض ایسے مخفی زاوے موجود ہیں ، جن میں ہمارے اعمال کا پورا پورا ریکارڈ محفوظ رہتا ہے ، قیامت کے دن نگاہوں میں تیزی پیدا ہوجائے گی ، اور ہم خود ان نقوش کا مطالعہ کرسکیں گے ،…
Read the full tafseer →- 13 اور ہم نے ہر انسان کی برائی اور بھلائی کو اس کی گردن کے ساتھ وابستہ کر رکھا ہے خواہ یہ برے بھلے اعمال ہوں یا شقاوت وسعادت ہو اور ہم قیامت کے دن انسان کا نامہ اعمال اس کے لئے نکال کر رکھ دیں گے جس کو وہ کھلا ہوا پائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے۔” عملہ وما قدر علیہ “ ‘ مطلب یہ ہے کہ اس کے اعمال جو وہ اپنے اختیار سے کرنے والا ہے اور اس کا مقدر اور اس کی قسمت گلے میں لٹکی ہوئی ہے۔ بعض حضرات نے فقط قسمت اور بعض نے فقط اعمال لئے، مفسرین کے چند اقوال میں سے ہم نے بعض قول کو اختیار کرلیا ہے۔
خلاصہ :- یہ ہے کہ انسان جو آئندہ عمل کرنے والا ہے اور جو باتیں اس کو پیش آنے والی ہیں سب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ف 6۔ یعنی ہر شخص کا عمل اس کے ساتھ لازم ہے۔
Read the full tafseer →ہر انسان کا عمل اس کے گلے کا ہار ہے جو بطور جزغیر منفک کے لازم ہے ۔
17۔ نزول قرآن کے وقت پیروان مذاہب کا عالم گیر اعتقاد یہ تھا کہ جزا محض اللہ رب العزت کی خوشنودی اور اس کے قہر وغضب کا نتیجہ ہے اعمال کے نتائج کو اس میں داخل نہیں ۔ الوہیت اور شاہیت کا نشانہ تمام مذہبی تصورات کی طرح اس معاملے میں بھی گمراہی فکر کا موجب ہوا تھا لوگ دیکھتے تھے کہ ایک مطلق العنان بادشاہ کبھی خوش ہو کر انعام واکرام دینے لگتا ہے کبھی بگڑ کر سزائیں دینے لگتا ہے اس لئے خیال کرتے تھے کہ اللہ رب العزت کا بھی ایسا ہی حال ہے وہ کبھی ہم سے خوش ہوجاتا ہے کبھی غیظ وغضب میں آجاتا ہے طرح طرح کی قربانیوں اور چڑھادوں کی رسم اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
The sense of the book of deeds tied to the neck
It means that one's book of deed stays with the doer no matter where or in whatever condition one is. What he or she does continues to get recorded there. When death comes, the 'book' is closed and set aside safely. After that, when comes the Last Day, the Day of Judgment, this book of deeds will be placed in everyone's hand in order that he would himself read it and also decide himself whether he is deserving of reward or deserving of punishment. It has been reported from Qatadah (رح) that it will be a day when even an illiterate person will be…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
14.“We have fastened his fate to his neck”: therefore one does not need to take omens from a bird. This is to remove the superstition of the disbelievers who used to take omens from birds etc. as if to say: The causes and consequences of good fortune or bad fate exist in man’s own person. He merits good fortune because of his own good conduct and good judgment, and likewise, suffers the consequences of evil fate by the lack of these. This was necessitated because foolish people always try to attribute their misfortunes to external causes, when in fact our fate depends on our own deeds, good…
Read the full tafseer →