بد دعا اور انسان
یعنی انسان کبھی کبھی گیر اور ناامید ہو کر اپنی سخت غلطی سے خود اپنے لئے برائی کی دعا مانگنے لگتا ہے۔ کبھی اپنے مال واولاد کے لئے بد دعا کرنے لگتا ہے کبھی موت کی، کبھی ہلاکت کی، کبھی بردباری اور لعنت کی۔ لیکن اس کا اللہ اس پر خود اس سے بھی زیادہ مہربان ہے ادھر وہ دعا کرے ادھر وہ قبول فرما لے تو ابھی ہلاک ہوجائے۔ حدیث میں بھی ہے کہ اپنی جان و مال کے لئے دعا نہ کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قبولیت کی ساعت میں کوئی ایسا بد کلمہ زبان سے نکل جائے۔ اس کی وجہ صرف انسان کی اضطرابی حالت اور اس کی جلد بازی ہے۔ یہ ہے ہی جلد باز۔ حضرت سلمان فارسی اور حضرت ابن عباس ؓ نے اس موقعہ پر حضرت آدم ؑ کا…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 12
یہ جواب ہے کفار مکہ کی ان احمقانہ باتوں کا جو وہ بار بار نبی ﷺ سے کہتے تھے کہ بس آؤ وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈرایا کرتے ہو۔ اوپر کے بیان کے بعد معا یہ فقرہ ارشاد فرمانے کے غرض اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ بیوقوفو ! خیر مانگنے کے بجائے عذاب مانگتے ہو ؟ تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے خدا کا عذاب جب کسی قوم پر آتا ہے تو اس کی کیا گت بنتی ہے ؟
اس کے ساتھ اس فقرے میں ایک لطیف تنبیہ مسلمانوں کے لیے بھی تھی جو کفار کے ظلم و ستم اور ان کی ہٹ دھرمیوں سے تنگ آکر کبھی کبھی ان کے حق میں نزول عذاب کی دعا کرنے لگتے تھے، حالانکہ ابھی انہی کفار میں بہت سے وہ لوگ موجود تھے جو آگے چل کر ایمان…
Read the full tafseer →شاید اسی مناسبت سے مذکورہ آیات میں سے آخری آیت میں یہ ذکر فرمایا ہے کہ انسان تو بعض اوقات جلد بازی میں اپنے لئے ایسی دعا مانگ لیتا ہے جو اس کے لئے تباہی و بربادی کا سبب ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کی ایسی دعا کو قبول فرما لیں تو یہ برباد ہوجائے مگر اللہ تعالیٰ اکثر ایسی دعاؤں کو فورا قبول نہیں فرماتا یہاں تک کہ خود انسان سمجھ لیتا ہے کہ میری یہ درخواست غلط اور میرے لئے سخت مضر تھی اور آیت کے آخری جملہ میں انسان کی ایک طبعی کمزوری کو بطور ضابطہ کے بھی ذکر فرمایا کہ انسان اپنی طبیعت سے ہی جلد باز واقع ہوا ہے سرسری نفع نقصان پر نظر رکھتا ہے انجام بینی اور عاقبت اندیشی میں کوتاہی کرتا ہے فوری راحت چاہے…
Read the full tafseer →وَيَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بِالْخَيْرِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا۔
یہ حالت انہی مخالفین قرآن کی بیان ہوئی جو اس پر ایمان لانے کے بجائے کسی نشانی عذاب کا مطالبہ کررہے تھے۔ یہ مطالبہ چونکہ نہایت احمقانہ اور خود ان کے حق میں نہایت مہلک تھا اس وجہ سے بات ان سے منہ پھیر کر عام الفاظ میں بانداز تاسف فرما دی گئی کہ ان سان کا عجیب حال ہے کہ جس سرگرمی کے ساتھ اس کو خیر کا طالب ہونا چاہیے اس سرگرمی کے ساتھ وہ اپنے لیے آفت اور تباہی کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ مہلت جو ان لوگوں کو ملی ہوئی اس سے فائدہ اٹھانے اور اپنی زندگی کو بنانے سنوارنے کے بجائے یہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد اس عذاب ہی…
Read the full tafseer →11۔ 1 انسان چونکہ جلد باز اور بےحوصلہ ہے اس لیے جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو اپنی ہلاکت کے لیے اسی طرح بد دعا کرتا ہے جس طرح بھلائی کے لیے اپنے رب سے دعائیں کرتا ہے یہ تو رب کا فضل و کرم ہے کہ وہ اس کی بد دعاؤں کو قبول نہیں کرتا یہی مضمون (وَلَوْ يُعَجِّلُ اللّٰهُ للنَّاس الشَّرَّ اسْتِعْجَالَھُمْ بالْخَيْرِ لَقُضِيَ اِلَيْهِمْ اَجَلُھُمْ ۭ فَنَذَرُ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ) 10۔ یونس :11) میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →6: کافر لوگ آنحضرت ﷺ سے جو کہا کرتے تھے کہ اگر ہمیں ہمارے کفر پر عذاب ہونا ہے تو ابھی فوراً کیوں نہیں ہوجاتا ؟ یہ ان کی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ جلد بازی میں عذاب کی برائی کو اس طرح مانگ رہے ہیں جیسے وہ کوئی اچھی چیز ہو۔
Read the full tafseer →یہ اس لئے کہ وہ معاملات کے انجام سے بالکل بیخبر ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ کسی کام کو اچھا سمجھ کر کرتا ہے اور درحقیقت وہ شر ہوتا ہے اور اس کے کے گزرنے میں وہ بہت جلدی کرتا ہے ، بعض اوقات وہ کسی کام کو شر سمجھ کر کرتا ہے لیکن وہ خیر ہوتا ہے۔ غرض انسان کسی بھی کام کے عواقب و نتائج کو کنٹرول نہیں کرسکتا۔ جبکہ قرآن کریم جو ہدایت دیتا ہے وہ نہایت ہی سیدھی ، نہایت ہی دھیمی اور پروقار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی رہنمائی والی راہ جدا ہے اور انسان کی خود طے کردہ راہ جدا ہے۔ اور ان دونوں کے اندر بہت بڑا فرق ہے۔
سابقہ آیات میں چند معجزانہ اشارات تھے۔ حضور اکرم ﷺ کے واقعہ معراج اور اس کے اندر پائے جانے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
5 یعنی قرآن تو لوگوں کو سب سے بڑی بھلائی کی طرف بلاتا، اجر کبیر کی بشارتیں سناتا اور بدی کے مہلک نتائج سے آگاہ کرتا ہے۔ لیکن حضرت انسان کا حال یہ ہے کہ وہ سب کچھ سننے کے بعد بھی اپنے لیے برائی کو اسی اشتیاق و الحاح سے طلب کرتا ہے جس طرح کوئی بھلائی مانگتا ہو، یا جیسے بھلائی طلب کرنا چاہیے۔ وہ انجام کی طرف سے آنکھیں بند کر کے بڑی تیزی کے ساتھ گناہوں اور برائیوں کی طرف لپکتا ہے بلکہ بعض بدبخت تو صاف لفظوں میں زبان سے کہہ اٹھتے ہیں۔ (اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ) 8 ۔ الانفال :32)…
Read the full tafseer →آیت 11 وَيَدْعُ الْاِنْسَان بالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بالْخَيْرِ
یعنی انسان اللہ سے دعا کر رہا ہوتا ہے کہ اے اللہ ! میرے لیے یوں کر دے یوں کر دے۔ حالانکہ اسے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ جو کچھ وہ اپنے لیے مانگ رہا ہے وہ اس کے لیے مفید ہے یا مضر۔ اس طرح انسان اپنے لیے اکثر وہ کچھ مانگ لیتا ہے جو اس کے لیے الٹا نقصان دہ ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ میں فرمایا گیا ہے : عَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ”ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ممکن ہے…
Read the full tafseer →0 1 انسان کی جلد باز طبیعت اور اس کا نقصان :۔ اس آیت میں انسان کی اس فطرت کو بیان کیا گیا ہے کہ جب اسے کوئی سانحہ پیش آتا ہے تو فوراً بد دعا دینا شروع کردیتا ہے خواہ وہ بددعا اس کے دشمنوں کے حق میں ہو یا اس کے اپنے حق میں ہو یا اپنی اولاد وغیرہ کے حق میں ہو۔ پھر وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی یہ بددعا جلد قبول ہوجائے۔ حالانکہ بعد میں خود اسے احساس ہوجاتا ہے کہ اگر اس کی بددعا قبول ہوجاتی تو اس کا اسے کتنا زیادہ نقصان پہنچ سکتا تھا جیسا کہ ابو جہل نے اپنے حق میں بددعا کی تھی کہ اے اللہ ! اگر یہ نبی اور یہ قرآن برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔ اسی طرح مسلمان بھی کفار مکہ سے سختیاں برداشت کرنے…
Read the full tafseer →19۔ ( اور اپنے انجام پر غور نہ کرنے والا) (آیت) ” یدع الانسان “۔ یہاں الانسان سے مراد ایک خاص قسم کا انسان یعنی کافر انسان ہے۔ والمراد بالانسان الجنس اسند الیہ حال بعض افرادہ وھو الکافر والیہ یشیر کلام ابن عباس ؓ (روح) (آیت) ” یدع۔۔ بالخیر “۔ جن چیزوں کا لازمی نتیجہ عذاب الہی میں مبتلا ہونا ہے ان کی تمنا کرتے رہنا، اپنے کو عذاب یا برائی کی دعوت ہی دنیا ہے۔ (آیت) ” کان الانسان عجولا “۔ اس کے ماتحت وہ انسان نہیں آتے جنہوں نے اپنے اتباع شریعت سے مہذب ومزین کرلیا ہے۔ اس ذرا سے فقرہ میں گمراہ و باطل پرست انسان کی ساری ذہینت کی تشریح آگئی، ہر معصیت ہر فسق، ہر کفر کی طرف لے جانے والی چیز انسان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
آیت نمبر 11 تا 22
ترجمہ : اور انسان جب تنگ دل ہوجاتا ہے تو اپنے اہل و عیال کیلئے اسی طرح بد دعاء کرتا ہے جس طرح وہ ان کیلئے دعاء خیر کرتا ہے اور ہر انسان اپنے لئے بددعاء کرنے میں جلد باز اور نا عاقبت اندیش واقع ہوا ہے اور ہم نے رات اور دن کو ہماری قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں بنایا، تو ہم نے رات کی نشانی کی تاریک بنایا یعنی ہم نے اسکے نور کو ظلمت سے مٹا دیا، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو اور (آیۃ اللیل) میں اضافت بیانیہ ہے، اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا، یعنی ایسی کہ اس میں روشنی کی وجہ سے نظر آسکے، تاکہ تم کسب کے ذریعہ اس میں اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو، اور تاکہ تم انکے ذریعہ سالوں…
Read the full tafseer →وَيَدْعُ الْاِنْسَان بالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بالْخَيْر اور (بعض) آدمی برائی (یعنی عذاب) کی ایسی درخواست کرتا ہے
جس طرح بھلائی کی درخواست۔ شر کی دعا کرنے سے مراد یہ ہے کہ غصہ میں اپنے لئے اپنے اہل و عیال اور مال کے لئے بددعا کرتا ہے یا یہ مراد ہے کہ بعض چیزوں کو اپنے لئے اچھا سمجھتے ہوئے ان کو حاصل کرنے کی اللہ سے دعا کرتا ہے ‘ حالانکہ وہ چیزیں اس کے لئے بری ہوتی ہیں۔
خیر کی دعا کرنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ دنیا اور دین کی بھلائی کے لئے اور عذاب آخرت سے محفوظ رہنے کے لئے دعا کرتا ہے۔ پس اسی طرح وہ شر کا بھی طلبگار ہوتا ہے۔ اگر اللہ اس کی بددعا قبول فرما لے تو یقیناً وہ تباہ ہوجائے مگر اللہ اپنی…
Read the full tafseer →(11) اور نضر بن حارث کافر اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لیے برائی اور تکالیف کی ایسی درخواست کرتا ہے جیسا کہ عافیت اور رحمت کی درخواست کی جاتی ہے اور یہ نضر عذاب کا بہت ہی جلدی مطالبہ کررہا ہے۔
Read the full tafseer →وَيَدْعُ الْاِنْسَان بالشَّرِّ : ”يَدْعُ“ اصل میں ”یَدْعُوْ“ تھا، مگر مصحف عثمانی کے خط میں اسے پڑھنے کے مطابق لکھ دیا گیا، کیونکہ یہ واؤ پڑھنے میں نہیں آتی، جیسا کہ : (سَـنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ) [ العلق : 18 ] میں بھی واؤ نہیں لکھی گئی، اسی لیے مسلمانوں نے اسی مصحف کے خط کی حفاظت کرتے ہوئے واؤ نہیں لکھی۔ فراء نے فرمایا کہ اگر یہ واؤ کے ساتھ لکھا جائے تو بھی درست ہوگا۔ (ابن عاشور)
دُعَاۗءَهٗ بالْخَيْرِ یہ ”کَدُعَاءِہِ بالْخَیْرِ“ تھا، کاف حذف کرنے سے منصوب ہوگیا۔ مفعول مطلق کا بھی یہی معنی ہے، یعنی انسان بعض اوقات غصے میں یا اکتا کر اپنے لیے یا اپنے اہل و عیال کے لیے اللہ تعالیٰ سے بد دعائیں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 11
قولہ تعالیٰ : ویدع الانسان بالشر دعآءہ بالخیر حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا ہے : یہ آدمی کا اپنی ذات اور اپنی اولاد کے خلاف غصے اور تنگی کی حالت میں دعا کرنا ہے ایسی شے کے بارے جس کے قبول ہونے کو وہ پسند نہیں کرتا کہ اے اللہ ! اسے ہلاک کردے وغیرہ دعآءہ بالخیرجیسا کہ وہ اپنے رب سے یہ دعا کرتا ہے کہ وہ اس کو عافیت عطا فرمائے پس اگر اللہ تعالیٰ شر اور برائی کے بارے اس کی دعا اس کے اپنے خلاف قبول کرلے تو وہ ہلاک ہوجائے لیکن وہ اپنے فضل کے ساتھ اس کے لئے اسے قبول نہیں کرتا۔ اس کی نظیریہ ہے : ولو یعجل اللہ للناس الشراستعجالھم بالخیر (یونس :11) (اور اگر جلد بازی کرتا اللہ تعالیٰ لوگوں کو…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویدع الانسان بالشر دعآء بالخیر “ سے مراد ہے انسان کا یہ کہنا (جیسے وہ بدعا کرتے ہوئے کہتا ہے) اے اللہ اس پر لعنت فرما اور اس پر غضب فرما۔
2:۔ عبدبن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے الحسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویدع الانسان بالشر دعآء بالخیر “ سے مراد ہے انسان کی بدعا اپنی اولاد پر اپنی بیوی پر کہ جب ان میں سے کوئی غصہ ہوتا ہے تو اس پر بددعا کرتا ہے اپنے آپ کو گالیاں دیتا ہے اپنی بیوی کو اپنے مال کو اور اپنی اولاد کو گالیاں دیتا ہے اگر اللہ تعالیٰ (اس کی بددعا کے مطابق) عطاء فرما دیں تو اس پر شاق گزرتا ہے اسی لئے اس سے منع کیا گیا پھر…
Read the full tafseer →[وَيَدْعُ : اور دعوت دیتا ہے ] [الْانسَان : انسان ] [بِالشَّرِّ : برائی کو ] [دُعَاۗءَهٗ : (جیسے) اس کا دعوت دینا ہو ] [بِالْخَيْرِ : بھلائی کو ] [وَكَان : اور ہے ] [الْانسَان : انسان ] [عَجولًا : بہت جلد باز ]
ترکیب : (آیت۔ 11) یَدْعُ مضارع مجزوم نہیں ہے بلکہ یہ مضارع معروف یَدْعُوْ ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص املاء ہے کہ اس کو یہاں یَدْعُ لکھا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →انسان اپنے لیے برائی کی بددعا کرتا ہے، اس کے مزاج میں جلد بازی ہے
اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ انسان اپنے لیے برائی کی دعا کی ہے اور جس طرح خیر کی دعا کرتا ہے اسی انداز میں شر کی دعا کر بیٹھتا ہے۔
تفسیر درمنثور (ص 166 ج 4) میں حضرت حسن سے اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے نقل کیا ہے کہ جب انسان کو غصہ آتا ہے تو اپنی جان کو اور اپنی بیوی کو اور اپنے مال کو اور اپنی اولاد کو برے الفاظ میں یاد کرتا ہے پھر اگر اس کی بددعا کے مطابق اللہ تعالیٰ اس پر تکلیف بھیج دے تو ناگوار معلوم ہوتا ہے پھر خیر کی دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے خیر عطا فرما دیتا ہے، حضرت مجاہد سے بھی یہی بات نقل کی ہے، حقیقت میں انسان…
Read the full tafseer →انسان کی جلد بازی اور ناعاقبت اندیشی
قال اللہ تعالیٰ : ویدع الانسان بالشر دعاءہ بالخیر وکان الانسان عجولا۔
(ربط) اس آیت میں یہ بات بیان فرماتے ہیں کہ انسان جلد باز اور ناعاقبت اندیش ہے کہ غصہ میں آکر اپنی برائی کی دعا مانگنے لگتا ہے اپنے نفع و نقصان کو خوب نہیں سمجھتا۔ اس لیے ہماری نازل کردہ کتاب سے روگردانی کرتا ہے اور ہمارے احکام کی پیروی سے انحراف کرتا ہے انسان جلد باز ہے عاجلہ (دنیا) پر فریفتہ ہے اور آخرت کی پرواہ نہیں کرتا انسان کو چاہئے کہ راہ مستقیم کی ہدایت کی دعا مانگے اور توفیق خداوندی کی درخواست کرے چناچہ فرماتے ہیں۔
اور انسان بےصبری کی وجہ سے اپنی ذات پر یا اپنی اولاد پر دعاء بد…
Read the full tafseer →13:۔ شکوی ہے، معجزہ اسراء دکھایا گیا تاکہ مشرکین مسئلہ توحید مان لیں ورنہ اللہ کا عذاب آئے گا مگر وہ کیسے احمق اور عجلت پسند ہیں کہ مسئلہ ماننے کے بجائے الٹا کہتے ہیں لاؤ ناں وہ عذاب۔ اس میں دیر کیوں ہو رہی ہے۔ دعاءہ منصوب بنزع الخافض ای کدعاء ہ۔ انسان سے کافر انسان مراد ہے کہ وہ نادانی سے اللہ کا عذاب اس طرح مانگتا ہے جس طرح اللہ کی رحمت مانگنی چاہیے جیسا کہ نضر بن حارث کے بارے میں ابن عباس ؓ سے منقول ہے اس نے کیا تھا کہ اے اللہ اگر یہ قرآن، مسئلہ توحید اور محمد ﷺ سچے ہیں تو ہم پر عذاب نازل کر کے ہلاک کردے۔ عن ابن عباس ؓ ھو النضر بن الحارث قال اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عند الایۃ فاجیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ربط آیات :
سورة ہذا کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے معراج جیسی عظیم نعمت کا ذکر کیا جو اس نے اپنے مقرب بندے اور آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ پر کی ، پھر اللہ نے یہ احسان بھی جتلا یا کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی ، پھر حضرت نوح (علیہ السلام) کی شکر گزاری ہی کا ذکر کیا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کے ساتھ کشتی میں سوار ہونے والوں کو نجات دی ، اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں اور ناشکر گزاروں پر آنے والے مصائب وآلام کا تذکرہ بھی اشارۃ کیا ، نوح (علیہ السلام) کی قوم انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مخالفت ، کفر وشرک پر اصرار اور قیامت کے انکار کی وجہ سے ہلاک کی…
Read the full tafseer →وَيَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بِالْخَيْرِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا 11
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ترکیب : للتی ای للحالۃ اوالطریقۃ التی ہے اقوم الحالات اوالطرق۔ یہ یہدی کا مفعول ثانی ہے ان ای بان مفعول یبشر کا یا اس کی تفسیر۔ دعاء ہ ای یدعوا بالشر دعاء مثل دعائیہ بالخیر والمصدر رمضاف الی الفاعل والتقدیر یطلب الشرفالباء للحال اوبمعنی السبب وکل شیئٍ فصلنا محذوف کا مفعول ہے جس کی تفسیر یہ فصلنا کر رہا ہے اور حال بھی ہے، کل انسان کا۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا وآتینا موسیٰ الکتاب کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت دی تھی اس کے بعد حصیرًا تک تورات کے اوپر عمل نہ کرنے سے جو کچھ بنی اسرائیل پر دینی و دنیاوی مصیبتیں آئیں ان کا ذکر فرمایا کہ بطور پیشین گوئی کہ ان کو مطلع کردیا تھا کہ تم ایسا کرو…
Read the full tafseer →وَیَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّدُعَآء ہٗ بِالْخَیْرِ ط وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلاً ۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 11)
(اور انسان برائی کا اس طرح طالب بنتا ہے جس طرح اس کو بھلائی کا طالب بننا چاہیے، اور انسان بڑا ہی جلد باز ہے۔ )
مخالفین کا طرز عمل
روئے سخن قرآن کریم کے مخالفین کی طرف ہے جن کا طریقہ یہ تھا کہ بجائے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے یا اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کے وہ اپنے خبث باطن کے اظہار یا آنحضرت ﷺ کو زچ کرنے کے لیے بار بار عذاب کا مطالبہ کرتے۔ نبی کریم ﷺ ازراہِ ہمدردی و غمخواری جب انھیں یہ سمجھاتے کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین کو مذاق مت سمجھو، اسی دین سے تمہاری زندگی وابستہ ہے، اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
فہم القرآن
ربط کلام : انسان کے لیے قرآن مجید ہدایت اور خوشخبری ہے۔ مگر ہدایت کے لیے کچھ محنت کرنا پڑتی ہے۔ لیکن انسان اس محنت سے جی چراتے ہوئے دنیا کے عارضی فائدے کے لیے جلد بازی کا مظاہرہ کرتا ہے۔
انسان اپنی جلد باز طبیعت کی وجہ سے اکثر اوقات یہ نہیں سوچتا کہ دنیا کے جس فائدے کی خاطر آخرت کی دائمی خیر کو فراموش کر رہا ہوں۔ وہ اس کے لیے کس قدر نقصان کا سودا ہے کیونکہ انسان جلد باز ہے۔ اس لیے انسان خیر کے لیے محنت کرنے کی بجائے شر کی طرف جلد راغب ہوتا ہے۔ جس بنا پر اچھے نتیجے اور خیر کا انتظار کرنے کی بجائے وہ شر کا متلاشی بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ دنیا کی معمولی تکلیف سے پریشان ہو کر اپنے لیے شر…
Read the full tafseer →انسان بددعا میں جلد باز ہے :
1 1: وَیَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآ ئَ ہٗ بِالْخَیْر (انسان جس طرح (جلدی) سے بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے) تکلیف کے موقعہ پر ناراض ہو کر اپنے نفس اور اہل و عیال اور مال واولاد کیلئے بدعاء کرتا ہے جیسا کہ ان کیلئے خیر کی دعا کرتا ہے۔ نمبر 2۔ جلد ملنے والے نفع کا طالب ہے۔ اگرچہ وہ نفع قلیل مقدار میں ہو۔ اس نقصان کے بدلے میں جو بدیر آنے والا ہو اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا ہو۔ وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا (اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے ہر وہ چیز جو اس کے دل میں آتی ہے اس کو جلد طلب کرتا ہے صابر کی طرح اس میں انتظار نہیں کرتا۔ نمبر 2۔ انسان سے کافر…
Read the full tafseer →11۔” ویدع الانسان “ یہاں لفظوں میں وائو کو حذف کردیا گیا ۔ دو ساکن جمع ہوگئے ، وائو ساکن اور لام تو پہلے ساکن کو حذف کردیا ، جیسا کہ اس آیت میں ہے۔” سندع الزبانیۃ “ اور اسی طرح خط سے ہم نے اس کو حذف کردیا ۔” یدعوا الانسان “ سے مراد اپنے مال اپنی اولاد اور اپنے نفس کے لیے دعا کرتا ہے۔ ” بالشر “ اور کبھی انسان غصہ سے یہ بددعائیں اپنی زبان سے نکالنا شروع کردیتا ہے کہ اے اللہ ان پر لعنت کر اور ان کو ہلاک کر اور ان جیسی باتیں۔” دعاء بالخیر “ اپنے رب سے دعا کرتا ہے کہ اللہ نے اس کو نعمت اور عافیت بخشی ہے۔ اگر اس کی اپنی نفس کے لیے جو دعائیں کرتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کو قبول کر دے تو وہ ہلاک…
Read the full tafseer →11:۔ اس آیت میں اللہ پاک نے انسان کی جلدی وشتابی کرنے کا بیان فرمایا کہ اکثر لوگ تنگ ہو کر جس طرح اپنے لیے اچھی دعائیں خدا سے مانگا کرتے ہیں اسی طرح اپنی جان ومال اور اولاد کے لیے بددعا بھی کرنے لگتے ہیں اور خداوند جل وعلا سے اس بات کے خواستگار ہوتے ہیں کہ وہ اس بددعا کو جلدی قبول کرلے مگر اللہ پاک کے فضل کو دیکھئے کہ وہ بددعا انسان کے حق میں قبول نہیں کرتا شاذونادر کبھی ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ انسان جیسی فال بد اپنے لیے منہ سے نکالتا ہے ویسا طہور میں آجاتا ہے مگر ہر وقت انسان کی بددعا قبول کی جائے تو کہیں ان کا پتہ بھی نہ لگے اور لطف یہ ہے کہ اس بددعا کرنے کے بعد پھر یہ بھی کہنے لگتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 11
یہ انسان کی جہالت اور عجلت پسندی ہے کہ وہ غیظ و غضب کے وقت اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے بد دعا کرنے میں جلدی کرتا ہے جس طرح اچھی دعا کرنے میں جلدی کرتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ وہ اس کی اچھی دعا کو تو قبول کرلیتا ہے اور بد دعا کو قبول نہیں کرتا۔ (آیت) (یونس : 11/10) ، ، اگر اللہ ان کے ساتھ برا معاملہ کرنے میں اتنی ہی جلدی کرتا جیسے کہ وہ جلدی خیر مانگتے ہیں تو ان کی مدت مقررہ کے خاتمے کا فیصلہ کردیا جاتا۔ ، ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
قول باری ہے (وان اساتم فلھا) اور اگر تم نے برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لئے برائی ثابت ہوئی) ایک قول کے مطابق فلھا بمعنی فالیھا ہے جس طرح کہا جاتا ہے ” احسن الی نفسہ اس نے اپنے ساتھ بھلائی کی) یا اساء الی انفسہ (اس نے اپنے ساتھ برائی کی) حرف اضافت جب معنی کے لحاظ سے متقارب ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوجاتے ہیں۔ قول باری ہے (بان ربک اوحی لھا اس لئے کہ تمہارے پروردگار کا حکم اسے یہی ہوگا) معنی کے لحاظ سے (اوحی لھا) اوحی الیھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
22۔ ایمان سے محروم لوگوں کیلئے بڑا درناک عذاب والعیاذ باللہ :۔
سو اس سے ایمان سے محروم لوگوں کے بڑی ہی درد ناک عذاب کی تصریح فرما دی گئی، چناچہ ارشاد فرمایا گیا ” اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کیلئے ہم نے بڑا درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے “۔ اتنا بڑا اور اس قدر ہولناک کہ نہ تو یہاں اس کا ادراک کسی کے بس میں ہے اور نہ ہی الفاظ و تعبیرات سے اس کا احاطہ ممکن ہے۔ والیعاذ باللہ العظیم۔ اور یہ طبعی نتیجہ اور لازمی اثر ہوگا ایسے لوگوں نے اپنے ظاہر وباطن کو ملوث کر رکھا تھا، اور یہ زندگی بھر نور حق و ہدایت کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوئے تھے۔ جس کے باعث وہ کفر وباطل کی اس ہولناک میل میں لتھڑے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
باعث ہدایت کتاب اور انسانی فطرت
تشریح : اللہ تعالیٰ فصاحت و بلاغت بھرے انداز میں فرما رہے ہیں کہ قرآن رحمت ہے، برکت ہے، کیونکہ اس میں بہترین زندگی گزارنے کے وہ تمام اصول بتا دیے گئے ہیں جو انسان کو اجر عظیم کا حق دار بنائیں گے اور ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جو ایمان نہیں لاتے وہ بچ نہ سکیں گے ان کو درد ناک عذاب ضرور دیا جائے گا۔ پھر انسانی فطرت کا ذکر اس طرح کیا کہ انسان بڑا جلد باز ہے، جیسے بھلائیوں کے لیے دعائیں کرتا ہے اسی طرح تکلیف پہنچنے پر بےصبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لیے بددعا کرنے لگتا ہے یہ تو اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ وہ انسان کی اس حماقت کو سمجھتے ہوئے اس کی بددعا قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
تو آخر لوگ کیوں کفر کرتے ہیں جبکہ نہ تو اس سے دنیا میں سکون ملتا ہے اور نہ آخرت کے ۔
(جلد بازی کے فیصلے)
انعام کی امید ، تو یہ انسانی مزاج کی جلد بازی ہے اور اس کا یہ حال دار دنیا میں بھی تو ظاہر ہے کہ بعض اوقات جلد بازی میں فیصلہ کرکے ایسی دعا مانگ لیتا ہے جو دنیا میں ہی اس کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے جیسے انہیں دنوں نظر بن حارث نے اسلام کی مخالفت میں بیت اللہ میں دعا کی جو قرآن میں مذکور ہے ترجمہ یہ ہے ” یا اللہ اگر یہ اسلام حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب بھیج دے “ اور اللہ جل جلالہ کی شان اس کے فورا بعد بدر میں تباہ ہوئے ، احد میں مار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 3 یعنی اپنے لئے یا اپنی اولاد اور گھر والوں کیلئے
4 اس لئے جو منہ میں آتا ہے اپنے رب سے مانگن یلگتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا اس پر بڑا فضل و کرم ہے جو اس کی بد دعا کو فوراً قبول نہیں کرتا اور اگر کہیں قبول کرے تو تو وہ تباہ و برباد ہوجائے۔ (رازی)
Read the full tafseer →(17:11) یدع۔ مضارع واحد مذکر غائب دعاء سے باب نصر وہ دعا مانگتا ہے وہ دعا کرتا ہے۔
دعاء ہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا دعا کرنا۔ اس کا دعا مانگنا ای کد عائہ بالخیر۔ اپنی بھلائی کی دعا کی طرح۔ یعنی جس طرح اس کو اپنی بھلائی کی دعا کرنی چاہیے بلا تامل اسی طرح وہ اپنی برائی کے لئے بھی دعا کردیتا ہے (نتائج سے لاپرواہی کرتے ہوئے)
آیت 10 ۔ میں بالوضاحت ارشاد فرمایا گیا کہ مؤمنین صالحین کے لئے اجرکبیر (یعنی جنت ) ہے اور منکرین وکافرین کے لئے عذاب الیم (دوزخ) ہے۔ لیکن بعض لوگ یعنی کافر سزا و عذاب کے لئے بھی یوں بار بار دعائیں کرتے ہیں جیسے وہ جزایا رحمت کے لئے کر رہے ہوں۔ مثلاً کفار مکہ کہ وہ اپنے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
لغات القرآن آیت 11 تا 15
یدع دعا کرتا ہے۔ پکارتا ہے۔ عجولاً بہت جلد باز۔ محونا ہم نے مٹا دیا۔ مبصرۃ روشن ، دکھانے والی السنین (سن) سال، کئی سال۔ الزمنا ہم نے لٹکا دیا۔ ہم چمٹا دیا۔ طائرۃ پرندہ، اس کی قسمت، شگون۔ عنق گردن۔ منشور کھلا ہوا۔ حسیب حساب دینے والا ۔ وازرۃ بوجھ۔ معذبین عذاب دینے والے۔ حتی نبعت جب تک ہم بھیج نہ دیں۔ رسول پیغام بر، بھیجا ہوا۔
تشریح : آیت نمبر 11 تا 15
اللہ جو اس کائنات کا خلاق ومالک ہے اس نے اپنی قدرت سے اس کے نظام کو اس طرح ترتیب دے رکھا ہے کہ ہر چیز اپنی جگہ نہایت احسن طریقے پر چل رہی ہے۔ یہ نظام نہ تو کسی جلد بازی کا نتیجہ ہے نہ اس میں کوئی فیصلہ عجلت اور جلد بازی…
Read the full tafseer →غصہ میں آ کر بددعا کرنا منع ہے
اس آیت میں اللہ پاک نے انسان کو جلدی کرنے کا بیان فرمایا کہ اکثر انسان اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے اور اپنے مال کے لئے اور اپنی اولاد کے لئے غصہ میں آن کر ان سب کو کو ستا ہے اور ان کے لئے بددعائیں کرتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کی یہ بددعا قبول کرلے تو وہ شخص یا اس کے اہل و عیال ومال ہلاک ہوجائیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اس کو قبول نہیں فرماتا۔ مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان کو غصہ کی حالت میں ہر طرح کی بددعا کرنے سے بچنا چاہیے۔
Read the full tafseer →[12] نبی ﷺ کفار کو عذاب الٰہی سے ڈرایا کرتے تو وہ عذاب کے لئے جلدی مچاتے اور کہتے کہ لے آؤ وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو۔ یہاں اسی کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
(ف 1) یعنی قرآن حکیم جس مسلک کی دعوت دیتا ہے وہ قدیم ہے عقل و دانش کے قرین اور موافق ہے ، سعادت انسانی کی تمام راہیں اس میں مذکور ہیں ، انسانی بقاء و دوام کا راز اس میں مضمر ہے ، اس کی تعلیمات ایسی ہیں جو سب کے لئے قابل عمل ہیں ، سب کے لئے مفید ہیں اس کی تعلیم چھوٹے بڑے سب کے لئے یکساں قابل عمل ہے یہ شک وشبہ سے بالا ہے ، مگر بشارت و خوشخبری ان کے لئے ہے جو مومن ہیں ، جن کے دلوں میں ایمان وتیقن کا اجالا ہے ، متعصب نہیں ، اور جو آنکھوں اور دلوں کو ہمیشہ کھلا رکھتے ہیں ۔
حل لغات :
حصیرا : حصر کے معنی احاملہ کرنے اور تنگی کرنے کے ہیں واحصروھم ۔ الی ضیقوا ، علیہم یہاں قید خانہ اور تکلیف ومقام کے…
Read the full tafseer →- 1 1 اور انسان شر کی اور برائی کی دعا بھی اسی طرح کرتا ہے جس طرح خیر کی اور بھلائی کی دعا کرتا ہے اور انسان بہت جلد باز واقع ہے۔ یعنی بھلائی کی دعا میں جس طرح قبولیت دعا کا تقاضا کرتا ہے اسی طرح شر کی دعا کو بھی چاہتا ہے جلد قبول ہوجائے اگر تاخیر ہوجائے تو بگڑتا اور بدگمانی کرتا ہے۔
شر کی دعا کا مطلب یہ ہے جیسے کفار کا عذاب مانگنا یا جیسے حوادثات سے تنگ آ کر موت مانگنا یا نادانستہ طور پر کسی دعا پر اصرار کرنا اور اس کی قبولیت کا تقاضا کرنا مگر حضرت حق کے علم میں اس دعا کی قبولیت میں جو نقصان اور خرابیاں پیدا ہونیوالی ہیں وہ موجود ہیں اور وہ ان برائیوں کو جانتا ہے لیکن جاہل انسان مانگے جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ف 4۔ چناچہ حضور کے وقت میں انہوں نے آپ کی مخالفت کی، پھر قتل اور قید اور ذلیل ہوئے۔
Read the full tafseer →انسانی کمزوری کہ وہ بعض اوقات خیر وشر میں امتیاز نہیں کرسکتا :
(الانسان) اس جگہ خاص قسم کا انسان ہے جس کو اسلام کی زبان میں ’ کافر “ کہا جاتا ہے ، زیر نظر آیت میں ایسے انسان کی اس کمزوری کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ وہ خیر وشر میں امتیاز نہیں کرتا اور بسا اوقات شر کا اسی طرح طالب ہوجاتا ہے جس طرح اس کو خیر کا خواستگار ہونا چاہئے ، یہ حالت اسے کیوں پیش آتی ہے ؟ اس لئے کہ اس کی طیبعت میں جلدبازی ہے یعنی ایسی خواہشیں ہیں جو فورا پورا ہونا چاہتی ہیں اور جب وہ اس پر چھا جاتی ہیں تو ایک لمحہ کے لئے بھی وہ صبر وانتظار نہیں کرسکتیں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اچھائی کی طلب گاری کرتے ہوئے برائیوں کا…
Read the full tafseer →Perhaps, it is based on this congruity that it was said in verse 11 that man would, on occasions, pray for something in a haste, something that spells out destruction for him. If Allah Ta` ala were to answer such a prayer, he would be ruined. But, Allah Ta’ ala does not answer such prayers instantly until man himself comes to realize that his prayer was made in error and that it was fatal for him. Then, in the last sentence of this very verse, a natural weakness of man has been mentioned in the form of a standing rule - that man is, by nature, haste-prone. He keeps his sight trained on…
Read the full tafseer →12. This is in answer to the foolish demands of the disbelievers of Makkah who repeatedly demanded from the Prophet (peace be upon him) to bring about that torment with which he threatened them. It is closely connected with the preceding verse, as if to say: O foolish people instead of asking goodness you demand the torment. Can’t you realize the sufferings of the community which was visited by God’s torment?
It also contains a subtle warning to those Muslims who prayed for punishment for those disbelievers who persecuted them and rejected the message obdurately; there were still among those…
Read the full tafseer →