Al-Ikhlaas 112:3

Al-Ikhlaas · from ayah 3

112:3

لَمْ یَلِدْ ۙ۬— وَلَمْ یُوْلَدْ ۟ۙلَمۡ يَلِدۡ ۙ وَلَمۡ يُوۡلَدۡ

نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا

— Fateh Muhammad Jalandhari

He neither begets nor is born,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 37 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ikhlaas

All translations of 112:3

نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا

— مولانا فتح محمد جالندہری

نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا

— مولانا محمد جوناگڑہی

نہ اس کی کوئی اولاد ہے، اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

نہ وہ کسی کا باپ اور نہ کسی کا بیٹا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے

— مولانا اسحاق مدنی

نہ اس کے کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ کسی سے جنا گیا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

He neither begot any nor was He begotten,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He neither begot anyone, nor was he begotten.

— Muhammad Taqi Usmani

He neither begot anyone, nor was he begotten.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"He begets not, nor was He begotten."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He neither begets nor is born,

— Saheeh International

He neither begets nor was He begotten.

— Muhammad Sarwar

He begets not, nor is He begotten.

— Muhammad Habib Shakir

He begetteth not, nor Was He begotten.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 112:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

اپنی حکمت و تدبر میں وحدہ لا شریک ٭٭ اس کے نازل ہونے کی وجہ پہلے بیان ہوچکی ہے، حضرت عکرمہ رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے ہم حضرت عزیز کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور نصرانی کہتے تھے ہم حضرت مسیح کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور مجوسی کہتے تھے ہم سورج چاند کی پرستش کرتے ہیں اور مشرک کہتے تھے ہم بت پرست ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری کہ اے نبی تم کہہ دو کہ ہمارا معبود تو اللہ تعالیٰ ہے جو واحد اور احد ہے جس جیسا کوئی نہیں جس کا کوئی وزیر نہیں جس کا کوئی شریک نہیں جس کا کوئی ہمسر نہیں جس کا کوئی ہم جنس نہیں جس کا برابر اور کوئی نہیں جس کے سوا کسی میں الوہیت نہیں۔ اس لفظ کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الاخلاص 5 مشرکین نے ہر زمانے میں خدائی کا یہ تصور اختیار کیا ہے کہ انسانوں کی طرح خداؤں کی بھی کوئی جنس ہے جس کے بہت سے افراد ہیں، اور ان میں شادی بیاہ اور توالد و تناسل کا سلسلہ چلتا ہے۔ اس جاہلانہ تصور سے انہوں نے اللہ رب العالمین کو بھی پاک اور بالا تر نہیں سمجھا اور اس کے لیے بھی اولاد تجویز کی۔ چناچہ اہل عرب کا یہ عقیدہ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ انبیاء (علیہم السلام) کی امتیں بھی اس جہالت سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ ان کے ہاں بھی کسی بزرگ انسان کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دینے کا عقیدہ پیدا ہوگیا۔ ان مختلف توہمات میں دو قسم کے تصورات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لم یلد، ولم یولد، یہ ان لوگوں کا جواب ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے نسب نامہ کا سوال کیا تھا کہ اس کو مخلوقق پر قیاس نہیں کیا جاسکتا جو تو الدوتناسل کے ذریعہ وجود میں آتی ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے نہ کوئی اس کی الاد۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نصاریٰ کی گمراہی اور ان کا اعتراف: نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی کا جنا ہوا۔ یہ بات اگرچہ لفظ ’اَحَدٌ‘ کے اندر بھی، جیسا کہ ہم نے اس کی وضاحت کی ہے۔ موجود تھی اور وہ عاقلوں کے لیے کافی ہے لیکن جو چیزیں قوموں کے لیے مزلہ قدم ہوتی ہیں ان کو قرآن نے مختلف اسلوبوں سے اس طرح واضح کر دیا ہے کہ کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ یہ مسئلہ بھی انہی مسائل میں سے ہے۔ دیویوں اور دیوتاؤں کی شادیوں اور ان کے اولاد و احفاد کی جو تفصیلات ہمیں یونانیوں اور ہندوؤں کی دیو مالا (MYTHOLOGY) میں ملتی ہیں اسی سے ملتی جلتی مزعومات ہمیں ان قوموں کے اندر بھی ملتی ہیں جو قرآن کی اول مخاطب تھیں۔ مشرکین عرب فرشتوں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

4: یہ ان لوگوں کی تردید ہے جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے، یا حضرت عیسیٰ یا حضرت عزیر (علیہما السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

قل ................ احد (1:112) ” کہو ، وہ اللہ ہے یکتا “۔ احد کا لفظ واحد سے زیادہ گہرا ہے کیونکہ احمد ، واحد کے مفہوم پر مزید اضافہ کرتا ہے ، کہ اس کے ساتھ اور کوئی چیز حقیقتاً موجود نہیں ہے اور اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے یعنی وہ یکتا ہے۔ ” احد “ میں وجوء کی احدیت کا اظہار ہے ، یعنی اس کی حقیقت کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس کے سوا اور کوئی حقیقی وجود نہیں ہے۔ اللہ کے سوا جس قدر موجودات ہیں وہ اپنا وجوء اللہ سے اخذ کرتی ہیں اور وہ اپنی حقیقت اللہ کی حقیقت سے لیتی ہیں۔ وہ فاعلیت میں بھی یکتا ہے لہٰذا اللہ کے سوا اس پوری کائنات میں کوئی اور موثر اور کوئی اور فاعل نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ایک نظریہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی نہ کوئی اس کی اولاد، نہ وہ کسی کی اولاد، اس میں ان لوگوں کا رد ہوا جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کو یا حضرت عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں۔ نیز جو لوگ مسیح (علیہ السلام) کو یا کسی بشر کو خدا مانتے ہیں ان کی تردید " لم یولد " میں کردی گئی۔ یعنی خدا کی شان یہ ہے کہ اس کو کسی نے جنا نہ ہو۔ اور ظاہر ہے حضرت مسیح (علیہ السلام) ایک پاکباز عورت کے پیٹ سے پیدا ہوئے۔ پھر وہ خدا کس طرح ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3{ لَمْ یَلِدْ لا وَلَمْ یُوْلَدْ۔ } ”نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔“ یعنی نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔ یہ نکتہ سورة الجن میں بایں الفاظ واضح فرمایا گیا : { مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّلَا وَلَدًا۔ } ”اس نے اپنے لیے نہ کوئی بیوی اختیار کی ہے اور نہ کوئی اولاد“۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور یہودیوں کے بعض فرقے حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا مانتے تھے۔ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتاتے تھے۔ اس آیت میں ایسے تمام عقائد باطلہ کی نفی کردی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 اللہ کی اولاد قرار دینے والے فرقے :۔ انسان نے جب بھی اپنے طور پر اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق سوچا ہے تو اسے انسانی سطح پر لا کر ہی سوچا ہے اور چونکہ انسان اولاد کا خواہشمند ہوتا ہے۔ اس لیے انسان نے اللہ کی بھی اولاد قرار دے دی۔ حالانکہ جو چیز پیدا ہوتی ہے اس کا مرنا اور فنا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور جو چیز مرنے والی یا فنا ہونے والی ہو وہ کبھی خدا نہیں ہوسکتی۔ نیز انسان کو اولاد کی خواہش اور ضرورت اس لیے ہوتی ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی قائم مقام بنے اور اس کی میراث سنبھالے جبکہ اللہ کو ایسی باتوں کی کوئی احتیاج نہیں۔ وہ حی لایموت ہے، اسی خیال سے عیسائیوں نے سیدنا عیسیٰ کو اور یہود نے سیدنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ مسیحیوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ خدا صاحب اولاد ہے، اور بہت سے مشرکوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ان کے فلاں فلاں دیوتا خدا زادے ہیں، قرآن شرک کی ہر ممکن اور چلی ہوئی صورت کی تردید کرتا جا رہا ہے، مشرک جاہلیوں کے یہی سمجھ میں نہیں آتا تھا، کہ خدا بغیر سلسلہ نسب کے کیسے ہوسکتا ہے ؟ آیت اسی تخیل پر ضرب لگا رہی ہے۔ عن ابی بن کعب ؓ ان المشرکین قالوا لرسول اللہ ﷺ انسب لنا ربک فانزل اللہ تعالیٰ ھذہ السورۃ (معالم)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 3–4

لم یلد ولم یولد یہ ان لوگوں کا جواب ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے نسب نامہ کا سوال کیا تھا کہ اس کو مخلوق پر قیاس نہیں کیا جاسکتا جو توالد و تناسل کے ذریعہ وجود میں آتی ہے، نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد۔ ولم یکن لہ کفواً احد، کفو کے لفظی معنی مثل اور مماثل کے ہیں، معنی یہ ہے کہ نہ کوئی اس کا مثل ہے اور نہ ہی کوئی اس سے مشاکلت و مشابہت رکھتا ہے۔ (معارف) سورة اخلاص میں مکمل توحید اور ہر طرح کے شرک کی نفی ہے : اللہ کے ساتھ کسی کو شریک سمجکھنے والے، منکرین توحید کی دنیا میں مختلف اقسام ہوئی ہیں، سورة اخلاص نے ہر قسم کے مشرکانہ خیالات کی نفی کر کے مکمل توحید کا سبق دیا ہے، چناچہ منرین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لم یلد . مشرکوں نے کہا تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ‘ یہودی قائل تھے کہ عزیر کا باپ خدا ہے ‘ عیسائی کہتے تھے کہ مسیح اللہ کا بیٹا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ اللہ کسی کا والد نہیں کیونکہ اس کا کوئی ہم جنس نہیں ‘ نہ اس کو کسی مددگار کی ضرورت ہے ‘ نہ کوئی اس کا قائم مقام ہے ‘ اس کو کسی کی حاجت ہی نہیں ‘ نہ اس پر فنا آسکتی ہے۔ اللہ کا والد ہونا اگرچہ دوامی ہے (وہ ہر زمانہ میں والدیت سے پاک تھا اور ہے اور رہے گا) لیکن آیت میں ماضی کا صیغہ کافروں کے قول کی تردید میں فرمایا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کے بعد والا فقرہ ماضی ہے (اس کا ماضی ہونا ضروری ہے ورنہ بےمعنی ہوجائے گا) اس کی رعایت سے اس جگہ ماضی کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) قریش نے رسول اکرم ﷺ سے کہا کہ اپنے اللہ کے بارے میں کچھ بیان کرو کہ وہ سونے کا ہے یا چاندی کا اس پر یہ سورت نازل ہوئی کہ قریش سے فرما دیجیے اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے۔ اور وہ ایسا سردار ہے کہ سب اس کے محتاج ہیں یا یہ کہ وہ کھانے پینے سے بےنیاز ہے یا یہ کہ اس کا پیٹ نہیں، یا یہ مطلب ہے کہ اس کی ذات ہر قسم کے عیبوں سے پاک ہے یا یہ کہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور سب کو کافی ہے اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے کہ وراثت میں ملک ملا ہو اور نہ کوئی بادشاہت میں، یا یہ کہ صفات میں اس کے برابر ہے۔ شان نزول : سورة اخلاص ترمذی، حاکم اور ابن خزیمہ نے ابوالعالیہ کے طریق سے محمد…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) لم یلد، ولم یولد :”نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ کسی نے اس کو جنا“ اس آیت میں نصرانیوں کا رد ہے جو عیسیٰ ؑ کا بیٹا مانتے ہیں، یہودیوں کا رد ہے جو عزیز ؑ کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں، مشرکین عرب کا رد ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں مانتے ہیں، فلاسفہ کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ عقول عشرہ اللہ سے نکلی ہیں اور اب کائنات کا نظام وہ چلا رہی ہیں، ہندوؤں کا رد ہے جو کروڑوں کی تعداد میں مخلوق کو خدا مانتے ہیں اور ان مسلمان کہلانے والوں کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اور ائمہ اہل بیت اللہ تعالیٰ کے ذاتی نور سے پیدا ہوئے ہیں۔ (2) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے لئے اولاد کی نفی کے بہت سے دلائل بیان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یہاں پھر انسان نے ٹھو کر کھائی کہ خدا کو اپنے اوپر قیاس کر کے اس کے لیے اولاد تجویز کر بیٹھا حالانکہ یہ بات عقلاً بھی غلط ہے اور نقلاً بھی۔ عقلاً اس لیے غلط ہے کہ کسی کو خدا کا بیٹا ماننے کی صورت میں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ خدا کا جزء ہے کیونکہ بیٹا باپ کا جزء ہوتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ خدائی قابل تجزیہ اور قابل تقسیم ہے نیز اس سے لازم آئے گا کہ اس کی کوئی بیوی ہو اور کسی کی بیوی اس کی ہم جنس ہی ہو سکتی ہے لہٰذا ماننا پڑے گا کہ خدا کی بھی جنس ہے۔ ظاہر ہے اس سے زیادہ گھٹیا او لغو تصور خدا کے بارے میں اور کیا ہو سکتا ہے مگر اس صریح خلاف عقل تصور کو اہل مذاہب نے محض جذبات…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1۔ احمد و بخاری فی تاریخہ والترمذی وابن جریر وابن خزیمہ وابن خاتم فی السنۃ والبغوی فی معجمہ وابن المنذر نے العظمہ والحاکم وصححہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین نے نبی اکرم ﷺ سے کہا یا محمد ! ہمارے لیے اپنے رب کا نسب بیان کیجیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی آیت قل ہو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد کہہ دو وہ اللہ ایک ہے اللہ بےنیاز ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اس لیے کہ کوئی چیز پیدا نہیں کی جائے گی مگر وہ عنقریب مرجائے گی اور کوئی چیز نہیں مرے گی مگر عنقریب اس کا وارث بنایا جائے گا۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ کو نہ موت آئے گی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَمْ يَلِدْ : اس نے جنا ہی نہیں ][ ڏ وَلَمْ يُوْلَدْ : اور نہ ہی وہ جنا گیا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ لَمْ يَلِدْ 1ۙ۬ وَ لَمْ يُوْلَدْۙ003﴾ (نہ وہ کسی کی اولاد ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے) اس میں ان لوگوں کا جواب ہوگیا جنہوں نے کہا تھا کہ اپنے ر ب کا نسب بیان کریں اس میں واضح طور پر بتادیا کہ کسی خاندان کی طرف اس کی نسبت نہیں ہے والد اور مولود میں مشابہت ومجانست ہوتی ہے وہ تو بالکل تنہا ہے ہر اعتبار سے واحد اور متوحد ہے وہ کسی کی اولاد ہو یہ بھی محال ہے اور اس کے کوئی اولاد ہو یہ بھی ناممکن ہے۔ سورة ٴ مریم میں ارشاد فرمایا : ﴿وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ0088 لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْـًٔا اِدًّاۙ0089 تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

اعلان توحید خداوندی و تقدیس وتنزیہ از مماثلت ومشابہت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل ھو اللہ احد ......... الی .......... کفوا احد “۔ حق تعالیٰ شانہ کی معرفت اسکی شان ربوبیت ہی سے حاصل ہوسکتی ہے جو انسان کی فطرت میں ابتداء آفرینش اور روز اول سے ودیعت رکھ دی گئی، اور عہد الست میں اولاد آدم کو اسی عنوان سے مخاطب فرمایا گیا تھا (آیت) ” الست بربکم “۔ سب نے جواب دیا تھا ” بلی “ تو رب کی معرفت انسان کے خمیر اور اسکی فطرت میں ودیعت رکھی ہوئی تھی، اس لئے قرآنی مضامین کی ابتداء اسی وصف کیساتھ حمد وثناء سے فرمائی گئی (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “۔ اور ظاہر ہے کہ مقصد اس معرفت کا تقاضا یا اس کا نتیجہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 3–4

4:۔ ” لم یلد “ اس سے کوئی پیدا نہیں ہوا، اس کا کوئی ولد اور نائب نہیں یعنی اس نے اختیارات کسی کے حوالے نہیں کر رکھے۔ ” ولم یولد “ وہ حادث نہیں کہ کسی سے پیدا ہوا ہو وہ ازلی ہے۔ ” ولم یکن لہ کفوا احد “ پہلے سب پر اللہ کی برتری اور عظمت کا ذکر تھا اب یہاں ہمسر کی نفی کی گئی ہے کہ اس سے کسی کا برتر ہونا تو درکنار ساری کائنات میں اس کے برابر بھی کوئی نہیں۔ اس ساری کائنات میں اس کے سوا کوئی الٰہ، کارساز، حاجت روا اور دعا و پکار کے لائق نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الاخلاص ہے ، اخلصا کا مطلب دل کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے لئے خاص کرنا ہے گویا یہ انسانوں کے قلوب کو اللہ کی توحید کے لئے مختص کرنے والی سورة ہے اس میں خدا کی توحید کا ذکر ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چار آیات ، پندرہ الفاظ اور اڑتالیس حروف ہیں۔ یہ چھوٹی سورة ہے۔ خلاصہ قرآن سورۃ والتین کے بعد والی چھوٹی چھوٹی سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کا خلاصہ بیان فرما دیا ہے۔ لمبی سورتوں میں جو باتیں بڑی تفصیل اور دلائل اور مثالوں کے ساتھ واضح کی گئی ہیں وہی باتیں ان چھوٹی چھوٹی سورتوں میں بالکل مختصر طریقے سے دو ، دوچار چار جملوں میں بیان کی گئی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَمْ يَلِدْ۝ 0ۥۙ وَلَمْ يُوْلَدْ۝ 3 ۙ «لَمْ» وَ «لَمْ» نفي للماضي وإن کان يدخل علی الفعل المستقبل، ويدخل عليه ألف الاستفهام للتّقریر . نحو : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] ، أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی [ الضحی/ 6] ( لم ( حرف ) لم ۔ کے بعد اگرچہ فعل مستقبل آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے وہ اسے ماضی منفی بنادیتا ہے ۔ اور اس پر ہمزہ استفہام تقریر کے لئے آنا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] کیا ہم نے لڑکپن میں تمہاری پرورش نہیں کی تھی ۔ ولد الوَلَدُ : المَوْلُودُ. يقال للواحد والجمع والصّغير والکبير . قال اللہ تعالی: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب ¦ ھو الضمیر للشان اللہ مبتدء احد خبرہ والجملۃ للضمیر وھومرجعہ۔ ویمن ان یرجع الضمیر الی المذکور وھو الرب وعلی ھذا التقدیر ھو مبتدء اللہ احد الجملۃ خبرہ ویمکن ان یکون اللہ خبراول احد خبرثان و یجوز ان یکون اللہ بدلا من ھوا ویجوزان یکون احد خبرمبتدء محذوف۔ والفرق بین احدو واحد مشہور۔ اللہ مبتدء الصمد خبرہ لم یلد ھذہ الجملۃ وکذاما بعدھا تفسیر للصمد۔ ولم یکن اسمہ احد وفی الخبر وجہاں احد ہما کفوا ولہ امامتعلق بکان اوحال من کفوا والثانی الخبر لہ وکفوا حال من احد ای ولم یکن لہ احد کفوا فلما قدم النکرۃ نصبھا علی الحال۔ تفسیر ¦ یہ سورة جمہور کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی ہے اور عطا و عکرمہ و جابر و…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

قُلْ کا مفہوم سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ کہہ دیجیے یعنی اعلان کردیجیے اور جو سوالات آپ سے کیے جارہے ہیں ان کے جواب میں یہ سورة ان کو پڑھ کر سنا دیجیے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد قریش میں سب سے زیادہ جس موضوع پر بحث ہوتی تھی وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کی وحدانیت تھی۔ کیونکہ حضور ﷺ اپنی دعوت میں سب سے زیادہ زور اسی مرکزی مضمون پر دیتے تھے۔ اگرچہ رسالت اور معاد بھی ہر مجلس کا موضوع تھے، لیکن ان کی حیثیت ضمنی مباحث کی تھی، توحید کا مسئلہ سب سے اہم تھا۔ دنیا کا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی بات پر گرما گرمی ہوتی اور وہ ہر مجلس کا موضوع بن جاتی اور بات بحث…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–4

” لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ “ نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے یہودیوں کی ہرزہ سرائی : یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو ” اللہ “ کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیارات اپنے بیٹے عزیر (علیہ السلام) کو دے رکھے ہیں : (وَ قَالَتِ الْیَہُوْدُ عُزَیْرُ نِ ابْنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ذٰلِکَ قَوْلُہُمْ بِاَفْوَاہِہِمْ یُضَاہِءُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ قٰتَلَہُمُ اللّٰہُ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ ) (التوبہ : 30) ” اور یہودیوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ ان کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

3 : لَمْ یَلِدْ (اس کے اولاد نہیں) کیونکہ اس کا کوئی ہم جنس نہیں یہاں تک کہ اس کی جنس میں سے بیوی ہو اور پھر تو الد کا سلسلہ ہو۔ اس معنی پر دلالت اس ارشاد میں ہورہی ہے۔ اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ ] الانعام : 101[ وَلَمْ یُوْلَدْ (اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے) کیونکہ ہر مولود محدث اور جسم ہے اور اس کی ذات تو قدیم ازلی ابدی ہے۔ اس کے وجود کی ابتداء نہیں۔ اسلئے کہ اگر وہ قدیم نہ ہوتا تو حادث ہوتا کیونکہ اس کے درمیان واسطہ نہیں۔ اور اگر حادث ہوتا تو ایک محدث کا محتاج ہوگا اسی طرح دوسرے اور تیسرے، چوتھے کا یہ تسلسل تک پہنچے گا جو کہ باطل ہے۔ اور وہ جسم بھی نہیں کیونکہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ مسند امام احمد ترمذی تاریخ بخاری ابن خزیمہ مستدرک حاکم مسند ابو یعلیٰ میں ابی بن کعب اور جابر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ سے اللہ تعالیٰ کی صفت پوچھی تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی۔ اس شان نزول کی روایتوں میں بعضی روایتوں کی سند معتبر ہے اور باقی روایتوں کی تقویت ان معتبر اسناد کی روایتوں سے ہوجاتی ہے یہود حضرت عزیز کو اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا اور عرب کے مشرک لوگ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اس لئے ان سب کو جھٹلایا اور فرمایا کیا اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ کھانے پینے ‘ بی بی بچے کسی چیز کا وہ حاجت مند نہیں ہے وہ سب چیز کا پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 2–3

(اَللّٰهُ الصَّمَدُ ) اللہ بےنیاز ہے۔ یعنی تمام حوائج میں مقصود وہی ہے عالم بالا اور عالم سفلی کے رہنے والے سب اس کے انتہائی محتاج ہیں اسی سے اپنی حاجتوں کا سوال کرتے ہیں اپنے اہم امور میں اسی کی طرف راغب ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اوصاف میں کامل ہے وہ علیم ہے جو اپنے علم میں کامل ہے حلیم ہے جو اپنے حلم میں کامل اور رحیم ہے جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ اس طرح وہ اپنے تمام اوصاف میں کامل ہے یہ اس کا کمال ہے کہ (لَمْ يَلِدْ ڏ وَلَمْ يُوْلَدْ ) اس نے کسی کو جنم دیا ہے نہ اسے کسی نے جنم دیا ہے کیونکہ وہ کامل طور پر غنی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

4 ۔ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں، سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی کوئی اولاد نہیں کیونکہ اولاد کے لیے تجانس ضروری ہوتا ہے اور اس وحدہ لا شریک کا کوئی ہم جنس ہے ہی نہیں کہ وہ خالق واجب الوجود اور زلی اور ابدی ہے، جبکہ اس کے سوا باقی تمام مخلوق ممکن الوجود مسوق باعدم اور فانی ہے، نیز اولاد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بیوی ہو، اور اس کی کوئی بیوی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے، وہ ایسے تمام رشتوں اور اس طرح کے تمام تصورات و علامات سے پاک اور برتر وبالا ہے، سبحانہ و تعالی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں فرمایا گیا بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَكُنْ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

اللہ وحدہ لا شریک لہ تشریح :۔ اصل میں یہ چھوٹی سی سورت اس رب ذوالجلال ' مالک کون و مکان حي القیوم، رب العلیٰ کی تعریف بیان کر رہی ہے۔ جو ہم انسانوں کی عقل سے باہر ہے۔ انسانی عقل اس کا احاطہ کرنے سے بالکل قاصر ہے۔ مگر رسول اللہ ﷺ سے اہل مکہ یہی سوال کرتے تھے کہ '' اچھا بتاؤ تو تمہارا اللہ ہے کیسا ' جس کی تم عبادت کرتے ہو ''؟ تو اللہ نے اس کے جواب میں سورة الاخلاص نازل فرمائی۔ اور قصہ ہی تمام کردیا کہ بیٹھے سوچتے رہو۔ بتا دیا کہ بس وہ اپنی ذات ' اوصاف ' شکل ' کمالات اور مرتبہ میں ایسا بلند وبالا اور بےمثال ہے کہ کسی چیز کی مشابہت سے تم اس کو پہچان نہیں سکتے کیونکہ وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–4

سورة الاخلاص۔ آیات 1 تا 3۔ اسرار ومعارف۔ کہہ دیجئے کہ اللہ وہ ذات ہے جو تمام کمالات کا جامع اور تمام نقائص سے پاک ہے اس جیسا کوئی دوسرا نہیں جس کی سب مخلوق محتاج ہے مگر وہ کسی کا محتاج نہیں اسے مخلوق پر قیاس تک نہیں کیا جاسکتا کہ نہ وہ کسی کی اولاد ہے نہ کوئی اس کی وہ ایسا نہیں جو نسب سے وجو دمیں آئے نہ کوئی اس کا مثل ہے نہ اس سے مشابہہ ہے اس کے ساتھ کسی طرح بھی ذات یا صفات میں کسی کو شریک نہیں کیا جاسکتا۔

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 10 اس سے نصاریٰ کا رد ہوا جو حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا بناتے ہیں اور مشرکین عرب کا بھی رد ہوا جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں رکھا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(112:3) لم یلد ولم یولد مضارع معروف نفی جحد بلم اور مضارع مجہول نفی جحد کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ولادۃ (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی جننا یہ دونوں جملے الصمد کی تفسیر ہیں۔ یعنی الصمد وہ ہے جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ اس کو کسی نے جنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–4

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4 احد : ایک ، الصمد : بےنیاز۔ کسی کا محتاج نہیں ، لم یلد : اس نے کسی کو نہیں جنا ، لم یولد : نہ کسی نے اس کو جنا، کفوا : برابر ، احد : کوئی ایک تشریح : آیت نمبر 1 تا 4 سورة زخرف ، سورة عنکبوت، مومنون ، سورة یونس ، سورة بنی اسرائیل اور قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور کفار سے یہ سوال کیا ہے کہ بتائو زمین وآسمان کا مالک کون ہے ؟ چاند اور سورج کس کے حکم سے چل رہے ہیں ؟ وہ کون ہے جو بلندیوں سے پانی برسا کر مردہ زمین میں ایک نئی زندگی پیدا کردیتا ہے ؟ عرش عظیم کا مالک و مختار کون ہے ؟ کائنات میں ہر چیز کس کے حکم سے چل رہی ہے ؟ وہ کون سی ذات ہے جس کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–3

(ف 1) اس سورت کی بہت سی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں اس کو تہائی قران کے برابر فرمایا گیا ہے یعنی تین مرتبہ اس کو پڑھاجائے تو پورے قرآن کی تلاوت کا ثواب ملے۔ ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے اس سورت سے بہت محبت ہے فرمایا اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کرے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–4

ف 1: احد کا اطلاق جب اس طریق سے ہو تو اس کے معنی بجزذات صمدیت کے اور کچھ نہیں ہوتے ۔ غرض یہ ہے کہ اس کی ذات ہر نوع کے تکثروتعدد سے پاک ہے ۔ حل لغات :۔ الصمد ۔ ایسی بےنیاز اور بلند ذات جس کی بےنیازی بربنائے ممدوحیت ہو کفوا ۔ برابر ۔ ہم جنس ۔ مانند ۔ ہمتا

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اس آیت میں ان لوگوں کا رد ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں جیسے یہود اور نصاریٰ اور مشرکوں کی وہ جماعت جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے ہیں اولاد میں احتیاج بھی ہے اور واجب الوجود ہونے کے بھی منافی ہے جب اپنے وجود میں محتاج ہو باپ کا تو واجب الوجود کہاں رہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 3۔ کمال ذات یہ کہ واجب الوجود ہے اور کمال صفات یہ کہ علم وقدرت وغیرہ اس کے قدیم اور محیط ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 2–3

نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے 3 جب سے انسان نے اس دنیا میں قدم رکھ اس وقت سے لیکر آج تک یہ چیز مشترک چلی آرہی ہے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی جلالت ، قہارت اور کسی چیز کا محتاج نہ ہونا اور ہر طرح سے بےنیاز ہونا مانا گیا اور تسلیم کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ایسی ایسی خرافات باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی گئی ہیں اور اس وقت بھی منسوب کی جاتی ہیں کہ سن کر انسان دنگ رہ جاتا ہے شاید ہی دنیا میں کوئی ایسی قوم گزری ہو جس نے اللہ رب ذو الجلال والاکرام کی طرف اس طرح کی باتیں تسلیم نہ کی ہوں کسی نے اللہ کی طرف اولاد منسوب کی ہے اور کسی نے کسی کا بیٹا قرار دیا ہے اور کسی نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Allah is Above having Children and Procreating Verse [ 112:3] لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (He neither begot anyone, nor was begotten.) This verse responds to those who had questioned about the ancestry of Allah. There is no analogy between Allah, the Creator, and His creation. While His creation comes into being through the biological process of procreation, Allah Himself has no children, nor is He the child of anyone.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 The polytheists in every age have adopted the concept that like men, gods also belong to a species, which has many members and they also get married, beget and are begotten. They did not even regard Allah, Lord of the universe, as supreme and above this concept of ignorance, and even proposed children for Him. Thus, the Arabian belief as stated in the Qur'an was that they regarded the angels as daughters of Allah. The Prophetic communities too could not remain immune from this creed of paganism. They too adopted the creed of holding one saintly person or another as son of God. Two kinds of…

Read the full tafseer →