وَلَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ ۟۠وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Nor is there to Him any equivalent."
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 37 of juzع
وَلَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ ۟۠وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Nor is there to Him any equivalent."
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 37 of juzع
Read the whole surah · Surah Al-Ikhlaas
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں
اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے
اور اس کے جوڑ کا کوئی نہیں۔
اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی
اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے،
اور نہ کبھی کوئی ایک اس کے برابر کا ہے۔
اور اس کا ہمسر کوئی نہیں۔
اور نہ کوئی اس کا کفو۔
اور نہ کوئی اس کا (مساوی و) ہمسر ہے
اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے۔
اور کوئی بھی اس کا کفو نہیں ہے۔
اور کوئی اسکا ہمسر نہیں
and none is comparable to Him.”
And equal to Him has never been any one.
And equal to Him has never been any one.
"And there is none comparable to Him."
And there is none comparable unto Him.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Nor is there to Him any equivalent."
There is no one equal to Him.
And none is like Him.
And there hath never been co-equal with Him anyone.
And there is none like unto Him.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–4
اپنی حکمت و تدبر میں وحدہ لا شریک ٭٭ اس کے نازل ہونے کی وجہ پہلے بیان ہوچکی ہے، حضرت عکرمہ رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے ہم حضرت عزیز کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور نصرانی کہتے تھے ہم حضرت مسیح کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور مجوسی کہتے تھے ہم سورج چاند کی پرستش کرتے ہیں اور مشرک کہتے تھے ہم بت پرست ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری کہ اے نبی تم کہہ دو کہ ہمارا معبود تو اللہ تعالیٰ ہے جو واحد اور احد ہے جس جیسا کوئی نہیں جس کا کوئی وزیر نہیں جس کا کوئی شریک نہیں جس کا کوئی ہمسر نہیں جس کا کوئی ہم جنس نہیں جس کا برابر اور کوئی نہیں جس کے سوا کسی میں الوہیت نہیں۔ اس لفظ کا…
Read the full tafseer →سورة الاخلاص 6 اصل میں لفظ کُفُو استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں نظیر، مشابہ، مماثل، ہم رتبہ، مساوی، نکاح کے معاملہ میں کفو کا لفظ ہماری زبان میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ لڑکا اور لڑکی معاشرتی حیثیت سے برابر کی جوڑ ہوں۔ پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ساری کائنات میں کوئی نہیں ہے، نہ کبھی تھا، نہ کبھی ہوسکتا ہے، جو اللہ کے مانند، یا اس کا ہم مرتبہ ہو، یا جو اپنی صفات، افعال اور اختیارات میں اس سے کسی درجہ میں بھی مشابہت رکھتا ہو۔
Read the full tafseer →ولم یکن لہ کفوا احد، کفو کے لفظی معنے مثل اور مماثل کے ہیں، معنے یہ ہیں کہ نہ کوئی اس کا مثل ہے نہ کوئی اس سے مشاکلت اور مشابہت رکھتا ہے۔ سورة اخلاص میں مکمل توحید اور ہر طرح کے شرک کی نفی ہے۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک سمجھنے والے منکرین توحید کی دنیا میں مختلف اقسام ہوئی ہیں۔ سورة اخلاص نے ہر طرح کے مشرکانہ خیالات کی نفی کر کے مکمل توحید کا سب دیا ہے کیونکہ منکرین توحید میں ایک گروہ تو خود اللہ کے وجود ہی کا منکر ہے بعض وجود کے توقائل ہیں مگر وجوب وجود کے منکر ہیں بعض دونوں کے قائل ہیں مگر کمال صفات کے منکر ہیں۔ بعض یہ سب کچھ مانتے ہیں، مگر پھر عبادت میں غیر اللہ کو شریک ٹھہراتے ہیں، ان سب کے…
Read the full tafseer →خدا کا صحیح تصور: ’کُفُوٌ‘ کے معنی ہم سر، ذات، برادری کے ہیں۔ یعنی کوئی اس کے جوڑ کا نہیں۔ سب مخلوق وہ خالق، سب محتاج وہ غنی، سب فانی اور وہ تنہا باقی۔ اس سورہ میں جو مثبت و منفی صفات اللہ تعالیٰ کی مذکور ہوئی ہیں ان سب کو سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ کا تصور ذہن میں آراستہ کیجیے تو بالاجمال وہ تصور یہ ہوگا کہ وہ ازلی و ابدی ہے۔ جب کچھ نہیں تو وہ تھا اور جب کچھ نہیں ہو گا تب بھی وہ ہو گا۔ وہ اپنی ذات میں کامل اور بالکل بے نیاز ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے، سب اس کے محتاج ہیں۔ وہ سب کے لیے سہارا اور سب کے لیے پناہ ہے۔ ہر چیز اس کے حکم سے وجود میں آتی ہے اور اسی کے حکم سے فنا ہوتی ہے۔ نہ وہ کسی کا…
Read the full tafseer →4۔ 1 اس کی ذات میں اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں۔ (لیس کمثلہ شئی) حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " انسان مجھے گالی دیتا ہے یعنی میرے لیے اولاد ثابت کرتا ہے، حالانکہ میں ایک ہوں بےنیاز ہوں، میں نے کسی کو جنا ہے نہ کسی سے پیدا ہوا ہوں اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے (صحیح بخاری) اس سورت میں ان کا بھی رد ہوگیا جو متعدد خداؤں کے قائل ہیں اور جو اللہ کے لیے اولاد ثابت کرتے ہیں اور جو اس کو دوسروں کا شریک گردانتے ہیں اور ان کا بھی جو سرے سے وجود باری تعالیٰ ہی کے قائل نہیں۔
Read the full tafseer →5: یعنی کوئی نہیں ہے جو کسی معاملے میں اس کی برابری یا ہمسری کرسکے۔ اس سورة کی ان چار مختصر آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی توحید کو انتہائی جامع انداز میں بیان فرمایا گیا ہے، پہلی آیت میں ان کی تردید ہے جو ایک سے زیادہ خداؤں کے قائل ہیں، دوسری آیت میں ان کی تردید ہے جو اللہ تعالیٰ کو ماننے کے باوجود کسی اور کو اپنا مشکل کشا، کار ساز یا حاجت روا قرار دیتے ہیں، تیسری آیت میں ان کی تردید ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد مانتے ہیں، اور چوتھی آیت میں ان لوگوں کا ردّ کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی کسی بھی صفت میں کسی اور کی برابری کے قائل ہیں مثلاً بعض مجوسیوں کا کہنا یہ تھا کہ روشنی کا خالق کوئی اور ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
قل ................ احد (1:112) ” کہو ، وہ اللہ ہے یکتا “۔ احد کا لفظ واحد سے زیادہ گہرا ہے کیونکہ احمد ، واحد کے مفہوم پر مزید اضافہ کرتا ہے ، کہ اس کے ساتھ اور کوئی چیز حقیقتاً موجود نہیں ہے اور اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے یعنی وہ یکتا ہے۔ ” احد “ میں وجوء کی احدیت کا اظہار ہے ، یعنی اس کی حقیقت کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس کے سوا اور کوئی حقیقی وجود نہیں ہے۔ اللہ کے سوا جس قدر موجودات ہیں وہ اپنا وجوء اللہ سے اخذ کرتی ہیں اور وہ اپنی حقیقت اللہ کی حقیقت سے لیتی ہیں۔ وہ فاعلیت میں بھی یکتا ہے لہٰذا اللہ کے سوا اس پوری کائنات میں کوئی اور موثر اور کوئی اور فاعل نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ایک نظریہ…
Read the full tafseer →9 جب اس کے جوڑ کا کوئی نہیں تو جورُو یا بیٹا کہاں سے ہو۔ اس جملہ میں ان اقوام کا رد ہوگیا جو اللہ کی کسی صفت میں کسی مخلوق کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض گستاخ تو اس سے بڑھ کر صفات دوسروں میں ثابت کردیتے ہیں۔ یہود کی کتابیں اٹھا کر دیکھو ایک دنگل میں خدا کی کشتی یعقوب (علیہ السلام) سے ہو رہی ہے، اور یعقوب (علیہ السلام) خدا کو پچھاڑ دیتے ہیں۔ (العیاذ باللہ) (كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ ۭ اِنْ يَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا) 18 ۔ الکہف :105) انی اسالک یا اللّٰہ الواحد الاحدا لصمد الذی لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد ان تغفرلی ذنوبی انک انت الغفور الرحیم۔
Read the full tafseer →آیت 4 { وَلَمْ یَکُنْ لَّـہٗ کُفُوًا اَ حَدٌ۔ } ”اور کوئی بھی اس کا کفو نہیں ہے۔“ کُفْو کے معنی ہم سر کے ہیں ‘ جو قدرت ‘ علم ‘ حکمت اور دیگر صفات میں ہم پلہ اور ہم پایہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا نہ تو کوئی ہم پلہ اور برابری کرنے والا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی ضد ‘ ند ‘ مثل ‘ مثال ‘ مثیل وغیرہ ہے۔
Read the full tafseer →5 کفو کا لغوی مفہوم :۔ کُفُوًا : کفاء کپڑے کے اس ٹکڑے کو کہتے ہیں جو اس جیسے دوسرے ٹکڑے سے ملا کر خیمہ کی پچھلی طرف ڈال دیا جاتا ہے اور کفو اور کُفٰی بمعنی ہم پایہ، ہم پلہ، مرتبہ و منزلت میں ایک دوسرے کے برابر ہونا۔ اس کے مقابلہ اور جوڑ یا ٹکر کا ہونا۔ کفو کا لفظ عموماً میدان جنگ میں دعوت مبارزت کے وقت یا نکاح اور رشتہ کے وقت بولا جاتا ہے۔ فلان کفولفلان یعنی فلاں شخص فلاں کے جوڑ کا یا مدمقابل یا ہمسر ہے۔ رشتہ کے وقت بھی فریقین یہ دیکھتے ہیں کہ دوسرے فریق کی معاشی، معاشرتی اور تمدنی حالت اس جیسی ہے یا نہیں ؟ بس یہی کفو کا مفہوم ہے۔ اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی ذات کے متعلق طرح…
Read the full tafseer →4۔ (جیسا کہ مشرکین نے دیوتاؤں کی برادری بنا کر فرض کر رکھا ہے) بابل (کلدانیہ) مصر، ہند، ایران، یونان، جملہ ملکوں کے مذاہب شر کی وجاہلی میں یہ پایا جاتا ہے کہ دیوتاؤں کی باہم جیسے ایک برادری ہوتی ہے، اور پھر ان کا رشتہ معبود اعظم کے ساتھ ہوتا ہے، آیت اس تخیل ہی پر ضرب لگاتی ہے۔ غرض یہ کہ سورت شرک کی ہر متعارف بلکہ ہر ممکن صورت کی تردید کرتی ہے، اور خوب فرمایا ہے صاحب تفسیر کبیر نے، کہ جس طرح سورة الکوثر شان رسالت میں جامع ہے، اسی طرح سورة الاخلاص شان توحید میں جامع ہے۔ سورت کا نام سورة الاخلاص ہے۔ اور حدیت میں آیا ہے کہ یہ سورت ایک ثلث قرآن ہے۔ ! اور اس میں کیا شبہ ہے کہ توحید ذاتی، توحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
لم یلد ولم یولد یہ ان لوگوں کا جواب ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے نسب نامہ کا سوال کیا تھا کہ اس کو مخلوق پر قیاس نہیں کیا جاسکتا جو توالد و تناسل کے ذریعہ وجود میں آتی ہے، نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد۔ ولم یکن لہ کفواً احد، کفو کے لفظی معنی مثل اور مماثل کے ہیں، معنی یہ ہے کہ نہ کوئی اس کا مثل ہے اور نہ ہی کوئی اس سے مشاکلت و مشابہت رکھتا ہے۔ (معارف) سورة اخلاص میں مکمل توحید اور ہر طرح کے شرک کی نفی ہے : اللہ کے ساتھ کسی کو شریک سمجکھنے والے، منکرین توحید کی دنیا میں مختلف اقسام ہوئی ہیں، سورة اخلاص نے ہر قسم کے مشرکانہ خیالات کی نفی کر کے مکمل توحید کا سبق دیا ہے، چناچہ منرین…
Read the full tafseer →ولم یکن لہ کفوا احد . اور اس کا کوئی مثل نہیں ہے۔ کفوًا ‘ لم یکن کی خبر ہے اور احدٌ اس کا اسم ہے لہٗ کا تعلق کفوًا سے ہے۔ اللہ کی تنزیہ اور اللہ کے مثل کی نفی مقصود تھی اس لیے کفوًا پر لہٗ (متعلق) کو مقدم کردیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مقطع آیات کا لحاظ کرتے ہوئے لہٗ کو مقدم ذکر کیا گیا ہو۔ تینوں جملوں کو ترتیب وار عطف کے ساتھ بیان کیا کیونکہ ہر قسم کے مثل کی نفی کرنی مقصود تھی (بیٹا یا باپ یا کوئی غیر ‘ ہی مثل ہوتا ہے جب تینوں کی نفی کردی تو ہر قسم کے مثل کی نفی ہوگئی) گویا تینوں جملے ایک جملہ کی طرح ہوگئے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی مرفوع حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آدم کا بیٹا مجھے جھوٹا قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1۔ 4) قریش نے رسول اکرم ﷺ سے کہا کہ اپنے اللہ کے بارے میں کچھ بیان کرو کہ وہ سونے کا ہے یا چاندی کا اس پر یہ سورت نازل ہوئی کہ قریش سے فرما دیجیے اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے۔ اور وہ ایسا سردار ہے کہ سب اس کے محتاج ہیں یا یہ کہ وہ کھانے پینے سے بےنیاز ہے یا یہ کہ اس کا پیٹ نہیں، یا یہ مطلب ہے کہ اس کی ذات ہر قسم کے عیبوں سے پاک ہے یا یہ کہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور سب کو کافی ہے اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے کہ وراثت میں ملک ملا ہو اور نہ کوئی بادشاہت میں، یا یہ کہ صفات میں اس کے برابر ہے۔ شان نزول : سورة اخلاص ترمذی، حاکم اور ابن خزیمہ نے ابوالعالیہ کے طریق سے محمد…
Read the full tafseer →(1) ولم یکن لہ کفوا احد :”کفوا“ ہم مثل، جوڑ، جو برابر کا ہو۔”قل ھو اللہ احد“ کہنے سے اولاد اور کفو کی خود بخود نفی ہوجاتی ہے مگر ان کو پھر لاگ بھی ذکر فرمایا، جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت (98) :(من کان عدواً للہ وملئکتہ ورسلہ و جبرئیل ومیکال فان اللہ عدو للکفرین) (وہ شخص اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو بلاشبہ اللہ سب کافروں کا دشمن ہے) میں ملائکہ میں شامل ہونے کے باوجود جبریل اور میکائیل کو الگ ذکر فرمایا ہے۔ اس کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ دوبارہ ذکر کر کے اس کی طرف خاص توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہ اس سے مزید وضاحت اور تفصیل ہوجاتی ہے۔ ممکن ہے…
Read the full tafseer →مشرکین نے ہر زمانے میں خدائی کا یہ تصور اختیار کیا ہے کہ انسانوں کی طرح خداؤں کی بھی کوئی جنس ہے جس کے بہت سے افراد ہیں، اور ان میں شادی بیاہ اور توالد و تناسل کا سلسلہ چلتا ہے۔ اس جاہلانہ تصور سے انہوں نے اللہ رب العالمین کو بھی پاک اور بالا تر نہیں سمجھا اور اس کے لیے بھی اولاد تجویز کی۔ چناچہ اہل عرب کا یہ عقیدہ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ انبیاء (علیہم السلام) کی امتیں بھی اس جہالت سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ ان کے ہاں بھی کسی بزرگ انسان کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دینے کا عقیدہ پیدا ہوگیا۔ ان مختلف توہمات میں دو قسم کے تصورات ہمیشہ خلط ملط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ احمد و بخاری فی تاریخہ والترمذی وابن جریر وابن خزیمہ وابن خاتم فی السنۃ والبغوی فی معجمہ وابن المنذر نے العظمہ والحاکم وصححہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین نے نبی اکرم ﷺ سے کہا یا محمد ! ہمارے لیے اپنے رب کا نسب بیان کیجیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی آیت قل ہو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد کہہ دو وہ اللہ ایک ہے اللہ بےنیاز ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اس لیے کہ کوئی چیز پیدا نہیں کی جائے گی مگر وہ عنقریب مرجائے گی اور کوئی چیز نہیں مرے گی مگر عنقریب اس کا وارث بنایا جائے گا۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ کو نہ موت آئے گی…
Read the full tafseer →[وَلَمْ يَكُنْ : اور ہوا ہی نہیں ][ لَهٗ كُفُوًا : اس کا مماثل (اس کے جیسا)][ اَحَدٌ: کوئی ایک بھی ] کء [کَفْاً : (ف) لَوٹنا۔ اعتدال سے متجاوز ہونا۔] [ مُکافَئَۃً : (مفاعلہ) برابری کرنا۔ ہم پلہ ہونے کی کوشش کرنا۔] کُفُوًا بربری والا۔ ہم پلہ۔ مماثل۔ آیت 112:4 ۔ ] (آیت۔ 4) لَمْ یَکُنْ کا اسم اَحَدٌ ہے اس لیے یہ حالت رفع میں ہے۔ اور یَکُنْ کی خبر ہونے کی وجہ سے کُفُوًا حالت نصب میں ہے۔ سادہ جملہ یوں ہوسکتا ہے وَلَمْ یَکُنْ اَحَدٌ کُفُوًا لَّہٗ ۔
Read the full tafseer →حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لوگ آپس میں برابر یہ سوال کرتے رہیں گے کہ یہ ساری مخلوق اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی۔ اللہ کو کس نے پیدا کیا جب لوگ ایسا سوال کریں تو یوں کہو ﴿اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ002 لَمْ يَلِدْ 1ۙ۬ وَ لَمْ يُوْلَدْۙ003 وَ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ (رح) 004﴾۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ برابر آپس میں یہ سوال کرتے رہیں گے کہ یہ مخلوق ہے اس کو اللہ نے پیدا فرمایا۔ اللہ کو کس نے پیدا کیا، جب کوئی شخص اپنے اندر یہ بات محسوس کرے تو یوں کہ دے : آمنت باللہ ورسلہ کہ میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اعلان توحید خداوندی و تقدیس وتنزیہ از مماثلت ومشابہت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل ھو اللہ احد ......... الی .......... کفوا احد “۔ حق تعالیٰ شانہ کی معرفت اسکی شان ربوبیت ہی سے حاصل ہوسکتی ہے جو انسان کی فطرت میں ابتداء آفرینش اور روز اول سے ودیعت رکھ دی گئی، اور عہد الست میں اولاد آدم کو اسی عنوان سے مخاطب فرمایا گیا تھا (آیت) ” الست بربکم “۔ سب نے جواب دیا تھا ” بلی “ تو رب کی معرفت انسان کے خمیر اور اسکی فطرت میں ودیعت رکھی ہوئی تھی، اس لئے قرآنی مضامین کی ابتداء اسی وصف کیساتھ حمد وثناء سے فرمائی گئی (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “۔ اور ظاہر ہے کہ مقصد اس معرفت کا تقاضا یا اس کا نتیجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
4:۔ ” لم یلد “ اس سے کوئی پیدا نہیں ہوا، اس کا کوئی ولد اور نائب نہیں یعنی اس نے اختیارات کسی کے حوالے نہیں کر رکھے۔ ” ولم یولد “ وہ حادث نہیں کہ کسی سے پیدا ہوا ہو وہ ازلی ہے۔ ” ولم یکن لہ کفوا احد “ پہلے سب پر اللہ کی برتری اور عظمت کا ذکر تھا اب یہاں ہمسر کی نفی کی گئی ہے کہ اس سے کسی کا برتر ہونا تو درکنار ساری کائنات میں اس کے برابر بھی کوئی نہیں۔ اس ساری کائنات میں اس کے سوا کوئی الٰہ، کارساز، حاجت روا اور دعا و پکار کے لائق نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة الاخلاص ہے ، اخلصا کا مطلب دل کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے لئے خاص کرنا ہے گویا یہ انسانوں کے قلوب کو اللہ کی توحید کے لئے مختص کرنے والی سورة ہے اس میں خدا کی توحید کا ذکر ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چار آیات ، پندرہ الفاظ اور اڑتالیس حروف ہیں۔ یہ چھوٹی سورة ہے۔ خلاصہ قرآن سورۃ والتین کے بعد والی چھوٹی چھوٹی سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کا خلاصہ بیان فرما دیا ہے۔ لمبی سورتوں میں جو باتیں بڑی تفصیل اور دلائل اور مثالوں کے ساتھ واضح کی گئی ہیں وہی باتیں ان چھوٹی چھوٹی سورتوں میں بالکل مختصر طریقے سے دو ، دوچار چار جملوں میں بیان کی گئی…
Read the full tafseer →وَلَمْ يَكُنْ لَّہٗ كُفُوًا اَحَدٌ 4 ۧ كفؤ الكُفْءُ : في المنزلة والقدر، ومنه : الْكِفَاءُ لشقّة تنصح بالأخری، فيجلّل بها مؤخّر البیت . يقال : فلان کفء لفلان في المناکحة، أو في المحاربة، ونحو ذلك . قال تعالی: وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُواً أَحَدٌ [ الإخلاص/ 4] ومنه : الْمُكَافَأَةُ. أي : المساواة والمقابلة في الفعل، وفلان كُفْؤٌ لک في المضادّة، والْإِكْفَاءُ : قلب الشیء كأنه إزالة المساواة، ومنه : الْإِكْفَاءُ في الشّعر ومُكْفَأُ الوجه، أي : کا سد اللّون وكَفِيئُهُ ، ويقال لنتاج الإبل ليست تامّة : كَفْأَةٌ وجعل فلان إبله كَفْأَتَيْنِ : إذا لقح کلّ سنة قطعة منها . ( کء ) الکفئ کے معنی مرتبہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب ¦ ھو الضمیر للشان اللہ مبتدء احد خبرہ والجملۃ للضمیر وھومرجعہ۔ ویمن ان یرجع الضمیر الی المذکور وھو الرب وعلی ھذا التقدیر ھو مبتدء اللہ احد الجملۃ خبرہ ویمکن ان یکون اللہ خبراول احد خبرثان و یجوز ان یکون اللہ بدلا من ھوا ویجوزان یکون احد خبرمبتدء محذوف۔ والفرق بین احدو واحد مشہور۔ اللہ مبتدء الصمد خبرہ لم یلد ھذہ الجملۃ وکذاما بعدھا تفسیر للصمد۔ ولم یکن اسمہ احد وفی الخبر وجہاں احد ہما کفوا ولہ امامتعلق بکان اوحال من کفوا والثانی الخبر لہ وکفوا حال من احد ای ولم یکن لہ احد کفوا فلما قدم النکرۃ نصبھا علی الحال۔ تفسیر ¦ یہ سورة جمہور کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی ہے اور عطا و عکرمہ و جابر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
قُلْ کا مفہوم سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ کہہ دیجیے یعنی اعلان کردیجیے اور جو سوالات آپ سے کیے جارہے ہیں ان کے جواب میں یہ سورة ان کو پڑھ کر سنا دیجیے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد قریش میں سب سے زیادہ جس موضوع پر بحث ہوتی تھی وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کی وحدانیت تھی۔ کیونکہ حضور ﷺ اپنی دعوت میں سب سے زیادہ زور اسی مرکزی مضمون پر دیتے تھے۔ اگرچہ رسالت اور معاد بھی ہر مجلس کا موضوع تھے، لیکن ان کی حیثیت ضمنی مباحث کی تھی، توحید کا مسئلہ سب سے اہم تھا۔ دنیا کا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی بات پر گرما گرمی ہوتی اور وہ ہر مجلس کا موضوع بن جاتی اور بات بحث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
” لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ “ نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے یہودیوں کی ہرزہ سرائی : یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو ” اللہ “ کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیارات اپنے بیٹے عزیر (علیہ السلام) کو دے رکھے ہیں : (وَ قَالَتِ الْیَہُوْدُ عُزَیْرُ نِ ابْنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ذٰلِکَ قَوْلُہُمْ بِاَفْوَاہِہِمْ یُضَاہِءُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ قٰتَلَہُمُ اللّٰہُ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ ) (التوبہ : 30) ” اور یہودیوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ ان کی…
Read the full tafseer →4 : وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ (اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے) اس کا کوئی مماثل نہیں۔ قریش مکہ کا سوال : قریش مکہ نے تو آپ سے سوال کیا اپنے رب کی صفات بیان کرو تو آپ کو یہ سورت وحی کی گئی جو کہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر مشتمل ہے۔ ھوا للہؔ سے اشارہ فرمایا کہ وہ اشیاء کا خالق اور نئے سرے سے ایجاد کرنے والا ہے۔ اور اس کے ضمن میں اس کا یہ وصف بیان کردیا کہ وہ قادر عالم ہے۔ کیونکہ تخلیق قدرت و علم کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ یہ سلسلہ تخلیق انتہائی احکام اور اتساق و انتظام سے ہوسکتا ہے۔ اور اس میں اس کی صفت حیات بھی بیان کردی کہ وہ زندہ ہے کیونکہ جو قدرت و علم کی صفات سے متصف ہوگا اس کے لئے…
Read the full tafseer →4 ولم یکن لہ کفوا احد “ حمزہ اور اسماعیل رحمہما اللہ نے ” کفوا “ فاء کے سکون کے ساتھ مہموز پڑھا ہے اور حفص نے عاصم سے فاء کے پیش کے ساتھ بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے فاء کے پیش کے ساتھ مہموز پڑھا ہے اور یہ تمام صحیح لغات ہیں اور اس کا معنی مثل یعنی وہ ایک ہے اور کہا گیا ہے یہ تقدیم و تاخیر پر ہے اس کا مجاز کوئی اس کا مثل نہیں ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں مشرکین عرب نے کہا فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور یہود نے کہا عزیر (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے کہا مسیح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کی تکذیب کی اور اپنی ذات سے ولادت اور مثل کی نفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ مسند امام احمد ترمذی تاریخ بخاری ابن خزیمہ مستدرک حاکم مسند ابو یعلیٰ میں ابی بن کعب اور جابر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ سے اللہ تعالیٰ کی صفت پوچھی تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی۔ اس شان نزول کی روایتوں میں بعضی روایتوں کی سند معتبر ہے اور باقی روایتوں کی تقویت ان معتبر اسناد کی روایتوں سے ہوجاتی ہے یہود حضرت عزیز کو اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا اور عرب کے مشرک لوگ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اس لئے ان سب کو جھٹلایا اور فرمایا کیا اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ کھانے پینے ‘ بی بی بچے کسی چیز کا وہ حاجت مند نہیں ہے وہ سب چیز کا پیدا…
Read the full tafseer →(وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ) اس کے اسما میں نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں کوئی اس کا ہم سر ہے اس کی ذات بابرکت اور بہت بلند ہے یہ سورة کریمہ توحید اسما وصفات پر مشتمل ہے۔
Read the full tafseer →6 ۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی ہمسر نہیں، سبحانہ وتعالی : سو ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے، کیونکہ وہ خالق ومالک اور سب سے برتر وبالا اور وراء الوراء ہے، جبکہ اس کے سوا باقی سب اس کی مخلوق اور مملوک ہے، تو پھر اس کا کوئی ہمسر کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ سو وہ مخلوق کی مشابہت کے ہر شائبہ سے پاک ہے، سبحانہ وتعالی کہ اس کی صفت و شان ہے، فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّمِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا ۚ يَذْرَؤُكُمْ فِيْهِ ۭ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ (الشوری 11 پ 25) پس وہ ہر شائبہ شرک اور مشابہت مخلوق سے پاک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اللہ وحدہ لا شریک لہ تشریح :۔ اصل میں یہ چھوٹی سی سورت اس رب ذوالجلال ' مالک کون و مکان حي القیوم، رب العلیٰ کی تعریف بیان کر رہی ہے۔ جو ہم انسانوں کی عقل سے باہر ہے۔ انسانی عقل اس کا احاطہ کرنے سے بالکل قاصر ہے۔ مگر رسول اللہ ﷺ سے اہل مکہ یہی سوال کرتے تھے کہ '' اچھا بتاؤ تو تمہارا اللہ ہے کیسا ' جس کی تم عبادت کرتے ہو ''؟ تو اللہ نے اس کے جواب میں سورة الاخلاص نازل فرمائی۔ اور قصہ ہی تمام کردیا کہ بیٹھے سوچتے رہو۔ بتا دیا کہ بس وہ اپنی ذات ' اوصاف ' شکل ' کمالات اور مرتبہ میں ایسا بلند وبالا اور بےمثال ہے کہ کسی چیز کی مشابہت سے تم اس کو پہچان نہیں سکتے کیونکہ وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة الاخلاص۔ آیات 1 تا 3۔ اسرار ومعارف۔ کہہ دیجئے کہ اللہ وہ ذات ہے جو تمام کمالات کا جامع اور تمام نقائص سے پاک ہے اس جیسا کوئی دوسرا نہیں جس کی سب مخلوق محتاج ہے مگر وہ کسی کا محتاج نہیں اسے مخلوق پر قیاس تک نہیں کیا جاسکتا کہ نہ وہ کسی کی اولاد ہے نہ کوئی اس کی وہ ایسا نہیں جو نسب سے وجو دمیں آئے نہ کوئی اس کا مثل ہے نہ اس سے مشابہہ ہے اس کے ساتھ کسی طرح بھی ذات یا صفات میں کسی کو شریک نہیں کیا جاسکتا۔
Read the full tafseer →(112:4) ولم یکن لہ کفوا احد اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ واؤ عاطفہ۔ لم یکن مضارع معروف نفی جحد بلم۔ فعل ناقص۔ احد اسم کان اور اس کی خبر کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) یہ کفوا کان کی خبر ہے اور لہ متعلق کان ہے۔ (2) لہ کان کی خبر ہے اور کفوا حال ہے۔ احد سے ای ولم یکن لہ احد کفوا۔ مرتبہ میں برابر۔ مساوی القدر۔ فضائل اس سورة کے بیشمار ہیں خدا تعالیٰ ہم سب کو نصیب میں فرمائے۔ امین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4 احد : ایک ، الصمد : بےنیاز۔ کسی کا محتاج نہیں ، لم یلد : اس نے کسی کو نہیں جنا ، لم یولد : نہ کسی نے اس کو جنا، کفوا : برابر ، احد : کوئی ایک تشریح : آیت نمبر 1 تا 4 سورة زخرف ، سورة عنکبوت، مومنون ، سورة یونس ، سورة بنی اسرائیل اور قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور کفار سے یہ سوال کیا ہے کہ بتائو زمین وآسمان کا مالک کون ہے ؟ چاند اور سورج کس کے حکم سے چل رہے ہیں ؟ وہ کون ہے جو بلندیوں سے پانی برسا کر مردہ زمین میں ایک نئی زندگی پیدا کردیتا ہے ؟ عرش عظیم کا مالک و مختار کون ہے ؟ کائنات میں ہر چیز کس کے حکم سے چل رہی ہے ؟ وہ کون سی ذات ہے جس کے…
Read the full tafseer →توحیدکابیان۔ شان نزول : کفار عرب نے نبی ﷺ سے اللہ رب العزت کے متعلق طرح طرح کے سوال کیے۔ کوئی کہتا کہ اللہ کا نسب کیا ہے کوئی کہتا تھا کہ وہ سونے کا ہے یا چاندی کا، یالو ہے کا، لکڑی کا، کس چیز کا، کسی نے کہا وہ کیا کھاتا ہے کیا پیتا ہے ربوبیت اس نے کس سے ورثہ میں پائی ، اور اس کا کون وارث ہوگا، ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی کہ اور اپنی ذات وصفات کا بیان فرماکرمعرفت کی راہ واضح کی، اور جاہلانہ خیالات واوھام کی تاریکیوں کو جن میں وہ لوگ گرفتار تھے اپنی ذات وصفات کے انور کے بیان سے مضمحل کردیا۔
Read the full tafseer →[4] اصل میں لفظ '' کفو '' استعمال ہوا ہے جس کے لفظی معنی مثل اور مماثل کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ نہ کوئی اس کا مثل ہے نہ کوئی اس سے مشاکلت اور مشابہت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 1: احد کا اطلاق جب اس طریق سے ہو تو اس کے معنی بجزذات صمدیت کے اور کچھ نہیں ہوتے ۔ غرض یہ ہے کہ اس کی ذات ہر نوع کے تکثروتعدد سے پاک ہے ۔ حل لغات :۔ الصمد ۔ ایسی بےنیاز اور بلند ذات جس کی بےنیازی بربنائے ممدوحیت ہو کفوا ۔ برابر ۔ ہم جنس ۔ مانند ۔ ہمتا
Read the full tafseer →(4) اور نہ کوئی اس کا ہمسر اور نہ کوئی اس کے جوڑ کا۔ یعنی جب اس کے کوئی جوڑ کا نہیں تو نہ جورو اور نہ بیٹا اس میں رد ہوگیا ان لوگوں کا جو خدا کی صفات میں کسی دوسرے کو شریک یا اس کا ہمسر سمجھتے ہیں غرض توحید کے بارے میں یہ سورت ایسی جامع ہے کہ جس کی تفسیر اور جس کے نکات ولطائف بیان کرنے کے لئے دفتر کے دفتر چاہئیں اگر کسی کو شوق ہو تو کتب تفسیر کا مطالعہ کریں۔ حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے سورة اخلاص سچے اعتقاد سے پڑھی گویا اس نے ثلث قرآن پڑھا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر کہا یارسول اللہ ﷺ میں اس سورت کو محبوب رکھتا ہوں…
Read the full tafseer →ف 4۔ منکرین توحید کئی قسم ہیں، منکر وجود، منکر وجوب، منکر کمال صفات، مشرک فی العبادات، ان سب کا ابطال۔ اللہ احد میں ہوگیا۔ مشرک فی الاستعانت، اس کا ابطال اللہ الصمد میں ہوگیا۔ پس جملہ اولی مضمون ایاک نعبد اور جملہ ثانیہ میں ایاک نستعین کا داخل ہوگیا۔ مدعی ابناء و بنات اس کا ابطال لم یلد ہوگیا، معتقد الوہیت بعضے بشر و جنات اس کا ابطال لم یولد میں ہوگیا، یعنی یہ لوگ مولود ہیں حق تعالیٰ مولود نہیں، کیونکہ مستلزم حدوث ہے معتقد مماثلت جیسے مجوس کہ یزداں اور اہرمن کے قائل ہیں، اس کا ابطال لم یکن لہ کفوا احد میں ہوگا۔
Read the full tafseer →اور اس کی صفات میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں 4 (کفر) کا اصل مادہ کا ہے اور اس مادہ کا صرف یہ ایک ہی لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے اور کوئی لفظ اس مادہ کا قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا اور (کفرا) ہمسر کو کہتے ہیں جو برابر کا ہو ، کسی ایک صفت میں یا ساری صفات میں اور جس کو ہماری زبان میں ہم پلہ (Equal) کے لفظ سے زیادہ تر یاد کیا جاتا ہے اور ہم پایہ بھی بولا جاتا ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ اس جہان میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو کسی پہلو ، کسی جہت ، کسی طرف سے اور کسی انداز سے اللہ تعالیٰ کی ہمسری کا دعویٰ کرسکے خواہ کوئی ہو ، کون ہو اور کیسا ہو۔ کیونکہ سب اس کے بندے اور مخلوق ہیں اور مخلوق اور…
Read the full tafseer →Verse [ 4] وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ (And equal to Him has never been any one.) The word kufuwan, as used in the original, means an 'example', a 'similar thing', 'one equal in rank and position'. Thus this verse means that there is no one in the entire universe, nor ever was, nor ever can be, who is similar to Allah, or equal in rank with Him, or resembling Him in His attributes, works and powers in any degree whatsoever. Surah Al-Ikhlas: A Comprehensive Concept of Allah's Oneness and a complete Negation of Shirk There were many types of people who denied the Divine Oneness, and set…
Read the full tafseer →6 The word kufu' as used in the original means an example, a similar thing, the one equal in rank and position. In the matter of marriage, kufu' means that the boy and the girl should match each other socially. Thus, the verse means that there is no one in the entire universe, nor ever was, nor ever can be, who is similar to Allah, or equal in rank with Him, or resembling Him in His attributes, works and powers in any degree whatever.
Read the full tafseer →