112. Surah Al-Ikhlaas

الإخلاصSincerity · 4 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 112:1

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader

کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) الله (ہے) ایک ہے

قل ھو اللہ احد . ھو ضمیر شان مبتدا ہے اور آئندہ جملہ اس کی خبر ہے۔ اس صورت میں مرجع کی ضرورت نہیں یا ھو ضمیر ہے اور اس رب کی طرف راجع جس کے اوصاف سوال کرنے والوں نے پوچھے تھے۔ یعنی اے محمد ! ﷺ کہہدو کہ میرے رب کے اوصاف جو تم پوچھتے ہو تو وہ اللہ ایک ہے۔ احدٌ اللہ سے بدل ہے یا ھو کی دوسری خبر ہے۔ احد اصل میں وحد تھا۔ وحد اور واحد دونوں ہم معنی ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی قراءت میں ھو اللہ احد تک لَوَاحِدٌ آیا ہے۔ حضرت عمر ؓ کی قراءت بھی یہی ہے۔ اگر ھُو کو ضمیر شان اور اللہ کو مبتداء اور احد کو خبر کہا جائے تو کلام کی صحت ظاہری معنی پر مبنی نہیں ہے کیونکہ اللہ جزئی حقیقی کا نام ہے اور جزئی حقیقی میں احتمال ہی نہیں ہوتا کہ چند اشخاص پر اس کا اطلاق ہو سکے۔ جیسے زید (ابتداء وضع میں) عَلَم ہے اور کلی عمومی نہیں۔ پس اس کے بعد احدٌ کہنا غیر مفید ہے۔ 1 ؂ لہٰذا ضروری ہے کہ لفظ اللہ سے ایک ایسی عمومی ذات مراد لی جائے جو معبود کُل ہونے کی مستحق ہو اور کسی کے معبود ہونے کا استحقاق صرف اسی کو ہوسکتا ہے جس نے اس کو نیست سے ہست کیا ہو اور لوازم ہستی عطا کیے ہوں اور کسی کو عطاء وجود وہی کرسکتا ہے جس کا اپنا وجود خود بخود ہو اور ضروری ہو اور اس کی صفات کاملہ ہوں ‘ موجبات نقص وزوال کا تحقق اس میں ناممکن ہو ‘ ممکنات سے اس کی ذات وصفات بالکل الگ ہوں ‘ ممکنات کی صفات و ذات کا اس میں شائبہ بھی نہ ہو (کیونکہ اگر ممکن کی صفات کا کوئی شائبہ اس میں ہوگا تو نقصان وزوال کا موجب ہوگا) جس کا خود اپنا وجود نہ ہو وہ دوسروں کو وجود کیسے دے سکتا ہے ‘ دوسروں کو عطاء وجود تو ذاتی وجود پر متفرع ہے ‘ ممکنات میں سے کوئی چیز ہو جو ہر ہو یا عرض یا انسان کا کوئی عمل کسی کی ہستی بھی نیستی سے نکل کر نہیں آسکتی ‘ جب تک ہست کرنے والے کی اپنی ہستی نہ ہو اور نقص وزوال سے پاک نہ ہو۔ پس معبود مطلق وہی ہے جو واجب الوجود ہے ‘ جس کی صفات کاملہ ہیں ‘ جو ہر نقص وزوال سے پاک ہے۔ پس وہی واحد ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس تشریح پر کلام ضرور مفید ہوجائے گا (اور اللہ احد میں حمل اولی غیر مفید نہ رہے گا) مگر جواب ‘ سوال کے مطابق نہ ہوگا کیونکہ کافروں نے اللہ کی توحید یا تعدد کے متعلق سوال نہیں کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ بلند آہنگی کے ساتھ توحید کی تو دعوت دے ہی رہے تھے اور لا الٰہ الاّ اللہ پکار ہی رہے تھے۔ اصل سوال تو خدا کی ذاتی حقیقت سے متعلق تھا ‘ انہوں نے تو یہ کہا تھا کہ محمد جس رب نے تم کو بھیجا ہے ‘ اس کے اوصاف بیان کرو کہ وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ‘ لوہے کا ہے یا لکڑی کا۔ اگر ھُو ضمیر کا مرجع اس رب کو قرار دیا جائے جو سو ال کرنے والوں کے سوال میں مذکور تھا تب بھی جواب سوال کے مطابق نہیں ہو سکے گا۔ کثرت اور وحدت کا سوال ہی نہیں ہے بلکہ رسول بنا کر بھیجنے والے خدا کی حقیقت ترکیبیہ کا سوال ہے ‘ لہٰذا۔ دونوں صورتوں میں احد سے مراد یہ ہوگی کہ وہ ہر طرح کے ترکیب ‘ اجزائی تقوم ‘ تعدد ‘ نیز ترکب کے تمام لوازم یعنی جسمانیت ‘ ہیئت ‘ وضع اور تخیر سے پاک ہے ‘ نہ اپنی حقیقت میں کسی چیز کے ساتھ شریک ہے ‘ نہ کسی صفت کمال میں کوئی چیز اس کے مشابہ ہے ‘ جب ذات وصفات میں اس کی طرح کوئی نہیں تو لامحالہ نہ کوئی اس کی نظیر ہے ‘ نہ ضد ‘ نہ مثل۔ اسی لیے صوفیہ صافیہ نے کہا ہے کہ اللہ کی احدیت ذات وصفات کا تقاضا ہے کہ وجود میں اس کا کوئی شریک نہ ہو ‘ وجود تمام صفات کی جڑ ہے اور حیات تمام صفات کا مبداء ‘ علم ‘ قدرت ‘ ارادہ ‘ کلام ‘ سمع ‘ بصر اور تکوین حیات پر مبنی ہیں 1 ؂ اور حیات وجود کی فرع ہے یعنی وجود مصدری کی (گویا) ایک انتزاعی امر ہے (جس کا مبدء انتزاع وجود ہے) اسی لیے صوفیہ نے لا الٰہ الاّ اللہ کا معنی لاموجود الا اللہ بیان کیا ہے کیونکہ واقع میں موجود حقیقی سوائے خدا کے کوئی نہیں۔ تمام ممکنات کا وجود ‘ واقعی نفس الامری اور حقیقی وجود کے سایہ کی طرح ہے (بےاصل ‘ باطل ‘ بےحقیقت) یہی حال تمام صفات کا ہے (کہ صفات الٰہیہ اصلی ہیں اور صفات ممکن ان کا سایہ اور پرتو) اللہ نے فرمایا ہے : ذلک بان اللہ ھو الحق وان ما یدعون من دونہ ھو الباطل۔ یعنی اللہ ہی ثابت موجودِ حق اور اصلی ہے اور جس کو وہ پکارتے ہیں وہ واقع میں ‘ ہیچ ہے ‘ کچھ بھی نہیں۔ دوسری آیت ہے : کل شی ءٍ ھالکٌ الاَّ وجھہ۔ (ہر چیز زوال پذیر اور بےحقیقت ہے سو ائے ذاتِ الٰہیہ کے) پس ممکن کی صفات اللہ کی صفات کے ساتھ صرف نام میں شریک ہیں ‘ اشتراک حقیقی نہیں ہے۔ جو شخص کلام صوفیہ کی حقیقت کو نہ سمجھ سکتا ہو اس کو (اوّل) ان کے دامن سے وابستہ ہونا چاہیے تاکہ اس پر حق کا انکشاف ہوجائے ‘ کیا رب کی توحید ‘ وجود ربوبیت کیلئے یہ کافی نہیں کہ وہ ہر چیز کا علم حضوری رکھتا ہے۔ درحقیقت یہ لوگ رب کی پیشی میں جانے کی طرف سے شک میں پڑے ہیں ‘ خوب سن لو کہ اللہ (یعنی اسکی قدرت اور علم) ہر چیز کو محیط ہے۔ ایک ہی جملہ میں ذات اور تمام صفات کی طرف اشارہ کردیا۔ لفظ قل میں نبوت اور تبلیغ کی جانب اشارہ ہے اور اسی آیت کا اعجاز نبوت کی شہادت دے رہا ہے۔ پس جملہ قل ھو اللہ احد بڑی بڑی ضخیم کتابوں سے بےنیاز بنانے کے لیے کافی ہے۔ باقی رہی یہ تحقیق کہ اللہ کی صفات ‘ ذات کی عین ہیں یا غیر ذات تو اس سے کوئی دینی غرض وابستہ نہیں۔ یہ فلسفی مباحث ہیں اور ان سے بحث کرنا ہی تباہ کن ہے۔ اللہ نے فرمایا : یسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی وما اوتیتیم من العلم الا قلیلا۔ جب انسان کو روح کی حقیقت کا علم نہیں دیا گیا حالانکہ روح مخلوق ہے تو خالق کی ذات وصفات کا علم اسے کیسے حاصل ہوسکتا ہے ‘ ا اسکے علم سے عاجز رہنا ہی علم ہے اور اس میں کدوکاش کرنا شرک ہے ‘ وہاں تک رسائی کا راستہ صرف معیت ہے اور کوئی نہیں۔ حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ ہم قدر کے متعلق باہم بحث کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ برآمد ہوگئے۔ فوراً اتنے غصہ میں آگئے کہ چہرۂ مبارک سرخ ہوگیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انار کے دانے توڑ کر چہرے پر مل دیئے گئے ہیں اور فرمایا : کیا تم کو یہی حکم دیا گیا ہے ‘ کیا اسی لیے مجھے تمہارے پاس بھیجا گیا ہے۔ تم سے پہلے لوگوں نے جب اس بات میں بحثیں کیں تو نتیجہ سوائے تباہی کے کچھ نہیں نکلا۔ میں تم کو لازمی حکم دیتا ہے کہ اس بحث میں نہ پڑو۔ (رواہ الترمذی) ابن ماجہ نے ایسی ہی حدیث بروایت عمرو بن شعیب از شعیب بیان کی ہے۔
Ayah 112:2

اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader

معبود برحق جو بےنیاز ہے

اللہ الصمد . حضرت ابن عباس ‘ حسن بصری اور سعید بن جبیر نے کہا : صمد کا معنی ہے نڈر ‘ یعنی جس کو کوئی خوف نہ ہو۔ ابن جریر ؓ نے حضرت بریدہ کا بھی یہی قول نقل کیا ہے اور میرے خیال میں یہ قول مرفوعاً بیان کیا ہے ‘ ممکن ہے کہ مجازاً ایسی ذات مراد لی جائے جو عقل و فہم کی رسائی اور وہم کے ادراک سے بالا ہو۔ شعبی نے کہا : صمد وہ ہے جو کھائے نہ پئے۔ بعض علماء نے کہا : اس لفظ کی تشریح آئندہ کلام ہے۔ ابو العالیہ نے حضرت ابی بن کعب کا یہی قول بیان کیا ہے۔ ابو الوائل شقیق بن سلمہ نے کہا : صمد وہ سردار ہے جس کی سیادت چوٹی پر پہنچ گئی ہو ‘ یعنی جس کی عیادت بہمہ وجوہ کامل ہو۔ ابو طلحہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول یہی آیا ہے۔ سعید بن جبیر (رح) نے کہا : صمد وہ ہے جو اپنے تمام صفات اور افعال میں کامل ہو۔ بعض کا قول ہے صمد وہ ہے جو ہر حاجت کا مقصود ہو (یعنی ہر کام کے لیے اسی کی طرف رجوع کیا جائے) بعض نے کہا : صمد وہ سردار ہے کہ جو کچھ مانگا جائے تو اسی سے مانگا جائے اور مصیبت میں فریاد کی جائے تو اسی سے کی جائے ‘ ہر کام کے لیے اسی کا قصد کیا جائے۔ صَمَدْتُہٗ یعنی میں نے اس کا قصد کیا ‘ عربی محاورہ ہے۔ قتادہ نے کہا : مخلوق کے فناء ہونے کے بعد باقی رہنے والا صمد ہے۔ عکرمہ ؓ نے کہا : صمد وہ ہے جس سے بالا کوئی نہ ہو۔ یہی قول حضرت علی ؓ کی طرف منسوب ہے۔ ربیع نے کہا : صمد وہ ہے جس پر کوئی مصیبت نہ آسکے۔ مقاتل بن حبان ؓ نے کہا : صمد کا معنی ہے بےعیب۔ میرے نزدیک صمد کا حقیقی معنی ہے مقصود۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ صمد کا معنی ہے قصد کرنا اور صمد میم کے فتحہ کے ساتھ سردار کو کہتے ہیں کیونکہ (ہر کام کے لیے اس کی رعایا اس کا ہی قصد کرتی ہے ‘ وہ مقصود ہوتا ہے) الصمد کا الف لام بتارہا ہے کہ وہ صمدیت کی چوٹی پر پہنچا ہوا ہے ‘ یوں تو لوگ فساد فہم اور حقیق الیقین کے راستہ پر نہ چلنے کی وجہ سے دنیا اور دنیا کی چیزوں کو بھی اپنا مقصود بنا لیتے ہیں (مگر کوئی چیز بھی واقع میں مقصود ہونے کے قابل نہیں ‘ اصل مقصود اللہ ہی ہے) اقوال مذکورہ بالا میں لفظ صمد کی جتنی تشریحات آئی ہیں وہ صمد کے اصل معنی (مقصود) کے لوازم ہیں (یعنی سلف نے لفظ صمد کی تشریح باللوازم کی ہے اصل معنی نہیں بیان کیے ہیں) کیونکہ مقصود مطلق وہی ہوسکتا ہے جس کے سب محتاج ہوں اور وہ کسی کام میں کسی کا محتاج نہ ہو ‘ لامحالہ اس کے اندر تمام کمالات ہوں گے اور ہر طرح کی سیادت اس کو حاصل ہوگی اور تمام عیوب سے پاک ہوگا اور ہر آفت سے منزہ ہوگا ‘ کھانے پینے کا محتاج نہ ہوگا ‘ قدیم ہوگا اس لیے اس کا کوئی والد نہ ہوگا ‘ اس کا کوئی ہم جنس نہ ہوگا ‘ اس لیے اس کی اولاد نہ ہوگی اس سے کوئی بالا نہیں ہوگا بلکہ اس کے مثل بھی کوئی نہ ہوگا۔ غرض اس کے مرتبہ تک فہم و عقل کی رسائی نہ ہوگی۔ وہ سب سے اونچا ہوگا۔ ا اللہ احدٌ کہنے کے بعد اللہ الصمد اور بعد والے جملے کہنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اللہ احدٌ کے اندر یہ تمام معانی موجود ہیں۔ ہاں ! ان جملوں کو مزید تاکید کی طرح قرار دیا جاسکتا ہے لیکن جس طرح عام کے بعد خاص کو خاص کی اہمیت بتانے کے لیے ذکر کیا جاتا ہے (باوجودیکہ خاص ‘ عام کا ایک حصہ یا ایک فرد ہوتا ہے اور بغیر استثناء کے کسی حکم کا عموم خاص کو بھی شامل ہوتا ہے) اسی طرح اللہ احد کے بعد باقی جملوں کو ذکر کیا تاکہ قوت کے ساتھ تنزیہ خدواندی کا اظہار ہوجائے اور جو لوگ توحید کے منکر تھے اور اللہ کی اولاد قرار دیتے تھے اور خدا کو ہی تنہا مقصود نہیں جانتے تھے بلکہ مقصودیت میں دوسروں کو خدا کا شریک بناتے تھے ‘ ان کی تردید واضح اور صریحی طور پر ہوجائے۔ اسی لیے اللہ الصمد اور اس کے بعد والے جملہ میں حرف عاطف ذکر نہیں کیا اور اللہ الصمد میں لفظ اللہ دوبارہ ذکر کیا اس بات پر متنبہ کرنے کے لیے کہ جو صمدیت سے متصف نہ ہو وہ معبودیت کا مستحق نہیں ‘ انسان کا مقصود صرف باری تعالیٰ ہونا چاہیے ‘ اللہ کے علاوہ کوئی چیز مقصود نہیں ہونا چاہیے ‘ اسی لیے صوفیہ کرام نے لا الٰہ الا اللہ کا معنی لا مقصود الا اللہ کہا ہے اور صراحت کی ہے کہ انسان کا جو (اصلی) مقصود ہے ‘ وہی اس کا معبود ہے کیونکہ عبادت کا معنی ہے معبود کے سامنے انتہائی عاجزی اور فروتنی ظاہر کرنا اور انسان اپنے مقصود کے لیے انتہائی فروتنی اور انکسار کرتا ہے۔ پس جس کے لیے انتہائی فروتنی کی جائے یعنی جو مقصود ہو وہی معبود ہوگا۔ صوفیہ لا الٰہ الاّ اللہ کا ذکر کرتے وقت غیر اللہ کی مقصودیت کی نفی کرتے ہیں اور ہر طرح کوشش کرتے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی کے مقصود ہونے کا خیال بھی ان کے دلوں سے دور ہوجائے اللہ ہر مشکل آسان کرنے والا ہے۔
Ayah 112:3

لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader

نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا

لم یلد . مشرکوں نے کہا تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ‘ یہودی قائل تھے کہ عزیر کا باپ خدا ہے ‘ عیسائی کہتے تھے کہ مسیح اللہ کا بیٹا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ اللہ کسی کا والد نہیں کیونکہ اس کا کوئی ہم جنس نہیں ‘ نہ اس کو کسی مددگار کی ضرورت ہے ‘ نہ کوئی اس کا قائم مقام ہے ‘ اس کو کسی کی حاجت ہی نہیں ‘ نہ اس پر فنا آسکتی ہے۔ اللہ کا والد ہونا اگرچہ دوامی ہے (وہ ہر زمانہ میں والدیت سے پاک تھا اور ہے اور رہے گا) لیکن آیت میں ماضی کا صیغہ کافروں کے قول کی تردید میں فرمایا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کے بعد والا فقرہ ماضی ہے (اس کا ماضی ہونا ضروری ہے ورنہ بےمعنی ہوجائے گا) اس کی رعایت سے اس جگہ ماضی کا صیغہ ذکر کیا۔ ولم یولد . اور نہ وہ کسی کا جنا ہوا ہے کیونکہ (ہر مولود حادث ہوتا ہے اور) اللہ حادث ہونے سے پاک ہے۔ حدوث ‘ الوہیت کے منافی ہے۔
Ayah 112:4

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader

اور کوئی اس کا ہمسر نہیں

ولم یکن لہ کفوا احد . اور اس کا کوئی مثل نہیں ہے۔ کفوًا ‘ لم یکن کی خبر ہے اور احدٌ اس کا اسم ہے لہٗ کا تعلق کفوًا سے ہے۔ اللہ کی تنزیہ اور اللہ کے مثل کی نفی مقصود تھی اس لیے کفوًا پر لہٗ (متعلق) کو مقدم کردیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مقطع آیات کا لحاظ کرتے ہوئے لہٗ کو مقدم ذکر کیا گیا ہو۔ تینوں جملوں کو ترتیب وار عطف کے ساتھ بیان کیا کیونکہ ہر قسم کے مثل کی نفی کرنی مقصود تھی (بیٹا یا باپ یا کوئی غیر ‘ ہی مثل ہوتا ہے جب تینوں کی نفی کردی تو ہر قسم کے مثل کی نفی ہوگئی) گویا تینوں جملے ایک جملہ کی طرح ہوگئے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی مرفوع حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آدم کا بیٹا مجھے جھوٹا قرار دیتا ہے حالانکہ اس کے لیے یہ جائز نہیں اور مجھے گالی دیتا ہے حالانکہ اس کے لیے یہ درست نہیں۔ میری تکذیب تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ خدا نے جیسا پہلے پیدا کردیا ایسا دوبارہ پیدا نہیں کرے گا حالانکہ پہلی مرتبہ پیدا کرنا ‘ دوبارہ پیدا کرنے سے میرے لیے سہل نہیں اور گالی یہ دیتا ہے کہ وہ کہتا ہے خدا نے اپنے لیے اولاد اختیار کی ہے حالانکہ میں واحد ہوں ‘ محتاج نہیں ہوں ‘ نہ والد ہوں نہ کوئی امیر مثل ہے۔ فصل حضرت ابودرداء ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم (ہر) رات میں ایک تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو ؟ صحابہ ؓ نے جواب دیا (ہر شب) ایک تہائی قرآن کیسے پڑھا جاسکتا ہے ؟ فرمایا : قل ھو اللہ احد (ثواب میں) ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ (رواہ مسلم) بخاری نے ایسی ہی روایت حضرت ابوسعید ؓ خدری کی نقل کی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت انس ؓ کی روایات میں بھی ہی ہے ‘ اس کا ذکر ہم سورة زلزال کی تفسیر میں کرچکے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فوجی دستہ کے ساتھ ایک شخص کو (کہیں) بھیجا۔ یہ شخص ساتھیوں کو (ہمیشہ) قل ھو اللہ سے نماز پڑھاتا رہا۔ جب وہ لوگ واپس آئے تو انہوں نے حضور ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا ‘ ارشاد فرمایا : اس سے پوچھو ‘ ایسا کیوں کرتا تھا ؟ اس شخص نے عرض کیا : یہ (سراسر) رحمن کے اوصاف ہیں ‘ اس لیے میں اس کو پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ فرمایا : اس کو اطلاع دیدو کہ اللہ بھی اس سے محبت رکھتا ہے۔ (متفق علیہ) حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے اس سورت قل ھو اللہ احد سے محبت ہے ‘ فرمایا : اس کی محبت تجھے جنت میں لے گئی۔ (رواہ الترمذی) بخاری نے بھی اس کی ہم معنی حدیث نقل کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو قل ھو اللہ احد پڑھتے سنا ‘ فرمایا : واجب ہوگئی۔ میں نے عرض کیا : کیا واجب ہوگئی ؟ فرمایا : جنت۔ (رواہ مالک والترمذی والنسائی) حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص سوتے وقت دائیں کروٹ سے لیٹ کر سو بار قل ھو اللہ احد پڑھتا ہے ‘ قیامت کا دن ہوگا تو پروردگار اس سے فرمائے گا ‘ میرے بندے اپنے دائیں رخ سے جنت میں داخل ہوجا۔ (رواہ الترمذی ‘ و قال حسن) غریب روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص روز سو بار قل ھو اللہ احد پڑھتا ہے ‘ اس کے گناہ پچاس (سال کے) مٹا دیئے جاتے ہیں۔ ہاں اگر اس پر (کس کا) قرض ہو (تو وہ معاف نہیں ہوتا) ۔ (رواہ الترمذی والدارمی) ایک روایت میں پچاس بار کا لفظ ہے اور قرض کے استثناء کے الفاظ نہیں آئے۔ حضرت سعید بن المسیّب کی مرسل روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے قل ھو اللہ احد گیارہ بار پڑھی ‘ اس کے لیے جنت میں ایک محل بنا دیا جاتا ہے اور جس نے بیس بار پڑھی ‘ اس کے لیے جنت میں دو محل بنا دیئے جاتے ہیں اور جس نے تیس بار پڑھی ‘ اس کے لیے جنت میں تین محل تیار کردیئے جاتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! پھر تو ہمارے محل بہت ہوں گے۔ فرمایا : اللہ (کا عطیہ) اس سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ واللہ اعلم الحمد اللہ سورة الاخلاص ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ