112. Surah Al-Ikhlaas

الإخلاصSincerity · 4 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 112:1–4

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader

(اے نبی) کہہ دو یہ اللہ یگانہ ہے

اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader

اللہ بےنیاز ہے

لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader

نہ کوئی اس سے پیدا ہوا نہ وہ کسی سے

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader

اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔

ترکیب ¦ ھو الضمیر للشان اللہ مبتدء احد خبرہ والجملۃ للضمیر وھومرجعہ۔ ویمن ان یرجع الضمیر الی المذکور وھو الرب وعلی ھذا التقدیر ھو مبتدء اللہ احد الجملۃ خبرہ ویمکن ان یکون اللہ خبراول احد خبرثان و یجوز ان یکون اللہ بدلا من ھوا ویجوزان یکون احد خبرمبتدء محذوف۔ والفرق بین احدو واحد مشہور۔ اللہ مبتدء الصمد خبرہ لم یلد ھذہ الجملۃ وکذاما بعدھا تفسیر للصمد۔ ولم یکن اسمہ احد وفی الخبر وجہاں احد ہما کفوا ولہ امامتعلق بکان اوحال من کفوا والثانی الخبر لہ وکفوا حال من احد ای ولم یکن لہ احد کفوا فلما قدم النکرۃ نصبھا علی الحال۔ تفسیر ¦ یہ سورة جمہور کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی ہے اور عطا و عکرمہ و جابر و ابن مسعود ؓ کا بھی یہی قول ہے اور قتادہ و ضحاک و سدی کہتے ہیں کہ یہ مدینہ میں نازل ہوئی۔ اور ابن عباس ؓ سے بھی ایک روایت کرتے ہیں مگر قوت جمہور کے قول کو ہے۔ اس سورة کی چار آیتیں ہیں اور ربط اس سورة کا سورة لہب سے یہ ہے کہ ابولہب اور دیگر عمائدِ قریش جس بلا میں پڑے تھے وہ خدائے واحد لاشریک کو جیسا جاننا چاہیے اس کے مطابق نہ جاننے سے پڑے تھے۔ اب اس سورة میں بتلایا جاتا ہے کہ وہ حق سبحانہ ٗ کیسا ہے اور اس کو کیسا سمجھنا چاہیے اور نیز سورة کافرون میں جس کی عبادت کا اقرار تھا اس کے کامل اوصاف بیان کردینا مقتضائے رحمت اور حجت کا اتمام ہے اگر اس کو سن کر بھی یقین نہ آئے اور اس کی ذات مبارک میں باطل خیالات پیدا کرے جو محض توہمات پر مبنی ہیں تو اپنا سر کھائے اور ابتر بنے، کوثر سے محروم رہے اور ابولہب والی بلا میں گرفتار ہو وے اس لیے اس کے بعد سورة کو رکھا گیا۔ اور شان نزول اس کا مجملاً یہ ہے کہ کفار قریش نے یا کسی اعرابی نے یا یہود کے علماء کعب بن اشرف و حیی بن اخطب وغیرہ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا تھا کہ تو اپنے رب کے ہم سے اوصاف بیان کر تاکہ معلوم ہو کہ وہ کیسا ہے اس پر یہ سورة مبارکہ نازل ہوئی۔ پھر اس بات کو محدثین نے مختلف الفاظ سے اور قدرے اختلاف مضامین سے اپنی اپنی کتابوں میں روایت کیا ہے۔ چناچہ امام احمد نے اور بخاری نے اپنی تاریخ میں اور حاکم نے مستدرک میں اور ابن خزیمہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت ﷺ سے پوچھا تھا کہ اپنے رب کو بیان فرمائیے تو یہ سورة نازل ہوئی الخ اور اسی طرح ترمذی نے ابوالعالیہ سے روایت کی ہے اور طبرانی و بیہقی و ابونعیم نے جابر سے روایت کی ہے کہ کسی اعرابی نے عرض کیا تھا کہ رب کے اوصاف بیان فرمائیے تب یہ سورة نازل ہوئی اور بیہقی وغیرہ نے علمائِ یہود کے سوال پر نازل ہونا بیان کیا ہے۔ اور یہ ممکن ہے کہ اول مکہ کے قریش نے سوال کیا ہو اور سورة نازل ہوئی اور پھر مدینہ میں آ کر یہود نے یا اعرابی نے بھی یہی سوال کیا ہو اور آپ نے اس سورة مبارکہ کو پڑھ سنایا ہو اور مفسرین کے نزدیک ایک سوال کے جواب میں کسی آیت یا سورة کا پڑھ دینا بھی نازل ہونے سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسا کہ ہم مقدمہ تفسیر میں بیان کر آئے ہیں۔ اس تقدیر پر روایت مذکورہ بالا میں کچھ بھی اختلاف نہیں۔ فضائل : فضائل اس سورة مبارکہ کے بہت کچھ ہیں یہ توحید و عقائدِ اسلامیہ جو ذات پاک حق سبحانہ ٗ کی بابت ہیں اور جن کو ایمان سمجھا جاتا ہے۔ بنیاد ہے وہ سب اس سورة میں مذکور ہیں اور گویا اس بارے میں قرآن مجید کا خاتمہ اسی پر ہے اور باقی پچھلی دو سورتیں قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس تتمہ کے طور پر ہیں جن میں ہر ایک قسم کے شر سے جو آسمانی ہو یا اس کے اسباب ظاہری بندے ہوں جو توحید و اعتقاد میں فرق ڈالنے والے شر ہیں حق سبحانہ ٗ سے پناہ مانگنے کا حکم ہے جس میں اشارہ ہے کہ ان شرور سے بچتے رہو اور ان خطرات و وسواس کو دل میں جگہ نہ دو اور اپنے اسی اعتقاد پر دم اخیر تک قائم رہو۔ امام بخاری و احمد وغیرہ نے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس کی قسم کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ سورة تہائی قرآن کے برابر ہے۔ امام احمد و نسائی وغیرہ نے روایت کی ہے کہ جس نے یہ سورة پڑھی گویا اس نے تہائی قرآن مجید پڑھا۔ تہائی کے برابر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مضامین قرآن مجید تین قسم کے ہیں۔ توحید وصفات باری تعالیٰ ، کیفیت افعال عباد، قیامت اور وہاں کے حالات سو اس سورة مبارکہ میں توحید وصفات پورے ہیں۔ بخاری و مسلم نے روایت کی ہے کہ آپ نے چند شخصوں کو جہاد میں بھیجا ان کا امام نماز میں جب قرأت تمام کرتا تو قل ہو اللہ پر کرتا لوگوں نے واپس آ کر آنحضرت ﷺ سے ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے پوچھو وہ ایسا کیوں کرتا تھا اس نے جواب دیا کہ اس میں حق سبحانہ ٗ کی صفات ہیں اس لیے میں اس کو دوست رکھتا ہوں آپ نے فرمایا کہ اس کو خبر کر دو کہ خدا تجھ کو دوست رکھتا ہے اور بھی احادیث اس کے فضائل میں وارد ہیں۔ فقال قل کہ اے نبی کہہ دو ۔ اس میں اشارہ ہے کہ آپ ازخود نہیں فرماتے یہ اسرار کہ جن تک حکما کے عقول کو بھی برسوں کی ریاضت اور غوروفکر کے بعد بھی پوری رسائی نہیں ملہم غیب کی طرف سے ہیں۔ اس لفظ کے سننے کے بعد مخاطب کو شوق اور انتظار بھی پیدا ہوتا ہے کہ دیکھئے عالم غیب سے اس کے بعد کیا اشارہ ہوتا ہے۔ قل ھو اللہ احد کہ وہ رب کہ جس کی صفت تم بیان کرتے ہو اللہ ہے جو یکتا ہے اس کی ذات اور صفات میں یکتائی ہے۔ ذات میں اس طرح سے کہ نہ اور کوئی شریک الوہیت ہے نہ اس کی ذات کے لیے اجزاء میں نہ تحقیقی نہ تقدیری نہ ترکیبی نہ تحلیلی اور صفات میں یکتائی یہ ہے کہ وہی ازلی ہے اور کوئی نہیں۔ وہی ابدی ہے اور کوئی نہیں۔ وہی قادر مطلق ہے اور کوئی نہیں وہی علیم مطلق ہے کہ جس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں اور غیب کے علوم اور اسرار اس کے سامنے حاضر ہیں اور کوئی ایسا نہیں۔ وہی رحمن و رحیم حقیقی ہے اور کوئی نہیں وہی اصلی ہے اور کوئی نہیں اور جو موجودات ہیں تو ان کا وجود ذاتی نہیں بلکہ مستعار ہے۔ اسی کے وجود کا پر توا ہے وہی مستغنی ہے اور کوئی نہیں۔ الغرض وصف احدیت اسی کا حصہ ہے اسی لیے لفظ احد آیا جس کے معنی ہیں یکتانہ واحد جس کے معنی ہیں ایک۔ احد اور واحد کا فرق : احد اور واحد میں فرق ہے جمہور کے نزدیک۔ ازہری فرماتے ہیں کہ احدیت کے ساتھ بجز حق سبحانہ ٗ کے اور کوئی متصف نہیں ہوسکتا۔ رجل احد درھم احد نہیں کہتے بلکہ رجل واحد درھم واحد کہتے ہیں اور واحد احد میں داخل ہے نہ احد واحد میں۔ کس لیے کہ ایک اور یکتا میں فرق ہے اور اگر کوئی یوں کہے کہ ایک شخص اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا تو سمجھ جائے گا کہ دو کرسکتے ہیں۔ برخلاف احد کے اور اسی طرح عربی میں کہیں گے لایقاومہ احد تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ کوئی بھی مقابلہ نہیں کرسکتا اور اسی لیے واحد اثبات کے موقع میں اور احدنفی کے موقع میں مستعمل ہوتا ہے اور یہ بھی ہے کہ واحد کے اوپر اثنین ہے احد پر نہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ احد وہ ذات ہے من حیث ہی ہے نہ جس میں کثرت کا لحاظ ہے نہ قلت کا نہ کسی شرط کے وجود کا نہ عدم کا یعنی حقیقت محضہ جو منبع ہے جمیع صفات اور جمیع شیؤن کا اور واحد ذات مع صفت ہے بالخصوص یکتائی کی صفت معتبر ہے اور اسی لیے اول ھو فرمایا جو ذات بخت ہے اور پھر اس کے نام کو ذکر کیا جو اللہ ہے اور اسی لیے اس کو اسم ذات کہتے ہیں اور چونکہ جمیع صفات کمالیہ بھی اس میں معتبر ہیں تو اس کے بعد لفظ احد لایا گیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس کی صفات اس میں کثرت نہیں پیدا کرتیں اور جو کثرت بھی ہے تو محض اعتباری جو درحقیقت کثرت نہیں۔ اسی لیے اس کی احدیت میں کوئی بھی فرق نہیں آیا اور اسی لیے صوفیہ کرام کے نزدیک مقام احدیت اور مقام و احدیت میں فرق ہے۔ خلیل کہتے ہیں کہ دونوں لفظوں کے ایک ہی معنی زبان عرب میں ہیں صرف تخفیف کے لیے واحد کے و کو ہمزہ سے بدل لیا کرتے ہیں۔ واضح ہو کہ اس سورة میں بندوں کے مراتب کا بھی ایما ہے اور دنیا پر جس قدر مذاہب باطلہ تھے یا ہیں ان کا بھی رد ہے اور اپنے صفات کا بھی اظہار ہے۔ یہ تین باتیں ہوئیں۔ اول بات کی طرف اس ایک آیت میں اشارہ ہے اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ بندوں کی تین قسم ہیں اول مقربین کہ جن کی بہیمیت پر ملکیت بالکل غلبہ کرگئی اور اسی لیے بہیمیت کے ظلمانی پردے ان کی آنکھوں سے اٹھ گئے اب ان کو عالم میں کسی کی ہستی نہیں دکھائی دیتی۔ اس آفتاب حقیقی کے سامنے تمام وجودات کے ستارے مخفی ہوگئے یا یوں کہو کہ اشیاء کے تعینات پر نظر نہیں رہی پھر تو تمام اس کی ہستی اور اسی کے وجود کا دریا رواں دیکھتے ہیں ؎ چو سلطان عزت علم برکشد جہاں سر بجیب عدم درکشد اور اسی معنی میں عارف جامی (رح) نے فرمایا ؎ بخدا غیر خدا درد و جہاں چیزے نیست بےنشاں است کزونام و نشان چیزے نیست اور بندہ کی ایسی حالت ہوجانی عقلاً ممکن ہے اور اس کی تمثیل یہ ہے کہ جب کوئی سبز یا سرخ آئینہ آنکھوں پر رکھ کر دیکھتا ہے تو باوجودیکہ اشیاء باہم متمیز ہیں مگر سب اس کو سرخ یا سبز ہی نظر آتی ہیں۔ یہ مقربین حضرات انبیاء (علیہم السلام) و اولیائِ کرام ہیں جن میں صدیقین و شہداء بھی داخل ہیں ان کو بجز اس کے اور کی حقیقی ہستی ہی معلوم نہیں ہوتی اس لیے ان کے لیے لفظ ھو فرمایا گو یہ اشارہ مطلق ہے کوئی قید نہیں مگر جب مشار الیہ معین ہے تو بجز اس کے اور کون مراد ہوسکتا ہے۔ دوم اصحاب الیمین جو صلحاء و ابرار ہیں ان کی بہیمیت کا و ملکیت کا وزن برابر ہے اس لیے ان کی آنکھوں میں مخلوق کا بھی وجود ہے ان پر وہ حالت طاری نہیں جو مقربین پر تھی اس لیے لفظ ھو ان کے لیے کافی نہ تھا بلکہ ایک ایسا لفظ درکار تھا جو خالق و مخلوق میں امتیاز کر دے۔ اسی لیے اس کے بعد لفظ اللہ آیا اس کے سننے سے ان پر انکشاف ہوگیا کہ مستجمع جمیع صفات کمال اور الوہیت کا مستحق وہی ہے اور کوئی نہیں۔ سوم : اصحاب الشمال یعنی اشرار جن کی ملکیت پر بہیمیت غالب آگئی اور آنکھوں پر بھاری پردے پڑگئے، عقل خداداد کا نور زائل ہوگیا۔ قلب کے آئینہ پر زنگ لگ گیا، روح کا جوہر بگڑ گیا۔ یہ کفارومشرکین ہیں ان عقل کے اندھوں کے نزدیک جہاں کوئی بڑی چیز سامنے آگئی اور اس کا کرشمہ ان کے دل پر نقش ہوگیا اسی کو الوہیت میں شریک کرلیا۔ پھر کسی نے اس کو مستقل دوسرا خدا مان لیا کسی نے خدائی کا حصہ دار ٹھہرا لیا۔ آفتاب، ستارے، عناصر، احجار و اشجار و ملائکہ و بنی آدم کے ابرار و مقربین اور جن و خبیث سب کو خدائی میں شریک کرلیا۔ ان کی مثال گدھے کے نادان بچے کی سی ہے، گائے دیکھی اس کو ماں سمجھ کر پیچھے ہو لیا۔ بیل دیکھا اس کو ماں سمجھ کر اس کے پیچھے دوڑ پڑا۔ پھر کسی نے ذات حق سبحانہ ٗ کا شریک ٹھہرایا تو کسی نے صفات کا۔ ان کے لیے لفظ احد ارشاد فرمایا تاکہ اس لفظ کو سن کر ہی سمجھیں۔ دوسری بات یوں تو بہت سے باطل مذہب ہیں اور اس وقت بھی تھے مگر ان کی تقسیم یوں کر کے ضبط کرسکتے ہیں کہ یا تو وہ لوگ ہیں جو سرے سے اس کائنات کے بانی کا مستقل وجود ہی نہیں مانتے عناصر و کر ات کو کہتے ہیں قدیم ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ زمین، پانی، ہوا، آتش، افلاک و سیارات اور پھر ان کی ترکیب سے حیوانات و جمادات و نباتات موالید ثلثہ پیدا ہوجاتے ہیں اور جب تک وہ قوت جو مرکب ہونے سے ان میں آئی ہے باقی ہے اور محافظ قوت ان کی صورت ہے۔ یہ باقی ہے تو قویٰ بھی رہتے ہیں نہیں تو ترکیب کی گرہ کھل جاتی ہے اور جز اپنی اپنی جگہ ہو کر چلا جاتا ہے اور اسی کا نام فنا ہے نہ کوئی خدا ہے نہ ملائکہ نہ غیرمحسوس چیزوں کا وجود ہے نہ مرنے کے بعد حساب ہے نہ ثواب و عذاب۔ انبیاء و دیگر اچھے لوگ بندوں کی تعلیم کرنے کے لیے اور ترغیب و ترہیب کے لیے جنت و دوزخ سے ڈراتے ہیں۔ یہ ایک مذہب ہے پھر اس کی بہت سی شاخیں ہیں دہریہ اور طبعیہ اور یورپ میں آج کل اپنی ملکی زبانوں کے ناموں سے مختلف القاب سے موسوم ہیں۔ حکمائِ یونان میں بھی ایسے بہت لوگ تھے اور دیگر ممالک میں بھی اور ہنود میں ایسے بہت گروہ ہیں یہ بلا پہلے بھی بہت پھیلی تھی اور آج کل نئی تعلیم کا زور اسی پر ہے اور ان کو شرع میں ملحد بھی کہتے ہیں۔ ملحدوں کی بڑی بڑی تصانیف ہیں۔ یا وہ اس کائنات کے بانی کا وجود مستقل مانتے ہیں اور اس کی ہستی کائنات کی ہستی سے جدا تسلیم کرتے ہیں پھر ان کے ہر زبان میں جدا جدا نام ہیں۔ خدا، اللہ، گائوڈ، پر میشر، تنکری وغیرہ اور یہ فرقہ بہت ہے۔ اور اکثر دنیا کی آبادی میں یہی لوگ پائے جاتے ہیں۔ پھر ان کی دو قسم ہیں یا تو وہ کسی آسمانی کتاب اور نبی کے قائل ہیں یا نہیں اور جو قائل ہیں ان کو متدین کہتے ہیں اور جو قائل نہیں وہ غیرمتدین ہیں۔ غیرمتدین لوگوں کے پھر بہت سے فریق ہیں جیسا کہ افریقہ اور ہند کے جنگلی لوگ۔ پھر جو ان میں شائستہ ہیں انہوں نے ازخود یا ان کے پیشوائوں اور علماء نے ان کے لیے قوانین بھی بنائے ہیں اور کتابیں بھی لکھی ہیں۔ میرے نزدیک اکثر ہنود کے مذاہب اور اسی طرح اہل چین و تاتار کے مذاہب اور اسی طرح مجوسیوں کا مذہب اسی قسم میں دخل ہے۔ اس فریق کے آگے بہت سے فریق ہیں مگر سب نے بانی کائنات حق سبحانہ ٗ کی ذات پاک اور اس کے صفات مقدسہ میں کائنات میں سے بڑی بڑی چیزوں کو حصہ دار ٹھہرایا ہے۔ عناصر و کواکب و احجار و اشجار اور ارواح غیرمرئیہ کو۔ ان اشیاء کو سمجھتے ہیں کہ یہ مستقل خدا تو نہیں مگر خدا تعالیٰ ان کے بغیر کوئی کام بھی نہیں کرسکتا اس لیے ان کی خوشامد کرنا بھی انہیں ضرور ہوا اور پھر ان چیزوں کی پرستش اور نذرونیاز کے عجائب عجائب دستورات قانون بنائے۔ کسی نے ان کے نفوس کی پرستش کی، کسی نے ان کے اجسام کی مورتیں بنائیں، پھر کسی نے صرف علویات کی پرستش پر قناعت کی۔ ستاروں اور کواکب کو پوجنا اختیار کیا، فرقہ صابئیہ جو کئی جگہ مذکور ہوا اس کا یہی طریق تھا قدیم یونانی اور اہل مصر اور اہل شام و عراق کا بھی یہی مذہب تھا۔ آنحضرت ﷺ کے عہد میں عرب کے بھی اسی طرح صدہا معبود تھے کہ جس طرح اب تک ہنود کے ہیں اور مجوس بھی اسی طرح عناصر پرستی کرتے تھے جیسا کہ اب تک کرتے ہیں۔ اب رہا فرقہ متدین جو دنیا پر تعداد میں سب سے زیادہ ہے پھر ان کے بھی اقسام ہیں۔ یہود جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے اوپر تک کے اکثر نبیوں کو مانتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی توریت اور دیگر صحف انبیاء (علیہم السلام) کی جو ان کے پاس محرف موجود ہیں تعظیم کرتے ہیں۔ سامریہ جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی توریت کو مانتے ہیں وہ بھی یہود میں سے ایک شاخ نکلی ہوئی ہے۔ نصاریٰ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان سے پہلے سب انبیاء (علیہم السلام) کو مانتے ہیں اور توریت کو بھی انجیل کی طرح مقدس سمجھتے ہیں۔ یہ متدین فریق حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع ہوا پھر ہر نبی اس طریقہ کو تقویت کرنے کو آیا مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ صلوٰۃ اللہ علیہ وسلامہ نے اس طریقہ کو نہایت رونق دی اور اس کی بنیاد کے مستحکم پتھر رکھے۔ اس لیے اس بزرگ باخدا کی طرف سے ہر فریق متدین منسوب ہوتا ہے اور اس کو حنیفیہ کہتے ہیں۔ طریقہ حنیفیہ میں خدا تعالیٰ کی توحید اور قیامت کا اعتقاد اور مرنے کے بعد جزاء وسزا قرار شرط ہے۔ خالص عبادت کی تاکید اگلے نبیوں اور ان کی کتابوں اور فرشتوں پر ایمان لانے کی تاکید ہے۔ ناجائز افعال کے ارتکاب سے ممانعت ہے۔ عرب میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل میں اس طریقہ کی پابندی کا دعویٰ تھا۔ مگر حنیفیت میں غیرمذاہب کے اختلاط سے آنحضرت ﷺ کے عہد تک بہت نقصان آگیا تھا۔ یہ محل بوسیدہ ہو کر گرنے کے قریب ہوگیا تھا یہود میں بہت سے فرقے پیدا ہوگئے تھے۔ بہت سے قیامت کے ہی منکر ہوگئے تھے اور بہت میں بت پرستی رواج پا گئی تھی اور اسی طرح رومیوں اور یونانیوں اور دیگر بت پرست قوموں کے اختلاط سے عیسائیوں میں صدہا فریق ہوگئے تھے اور اب تک ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدائے پاک کا بیٹا اور خدائی کا تیسرا جز سمجھنے لگے اور بعض تو حضرت مریم [ کو بھی پوجنے لگے تھے اور عرب میں بھی حنیفیت کے نشان مٹ چکے تھے عموماً بت پرستی رواج پا گئی تھی۔ اخیر زمانہ میں خدا تعالیٰ نے عرب میں ایک ایسا نبی برپا کیا جس نے اپنی روحانی طاقت سے اس ملت حنیفیہ میں پھر جان پھونک دی اور جو کچھ اس فرقہ میں نقص پیدا ہوگئے تھے ان کو دور کردیا۔ اور اس نبی پر یہ سورة نازل فرمائی جس میں جمیع مذاہب باطلہ خصوصاً یہودونصاریٰ کے قبائح پر تنبیہ کی گئی ہے۔ اب دنیا میں اصل فرقہ حنیفیہ جو ہے وہ اسی نبی کے متبعین ہیں اور دراصل یہی لوگ حضرت ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ (علیہم السلام) وغیرہ بزرگوں کے ماننے والے ہیں۔ اب میں فرقوں کے ابطال کی اس سورة کے الفاظ سے تشریح کرتا ہوں۔ ھو سے ان ملحدوں اور خدا کے منکروں کو تنبیہ ہے جو کسی قدر عقل و ادراک سے بھی بہرہ ور ہیں کس لیے کہ موجودات میں سے جب وہ ایک چیز کو بھی غور کریں گے تو آخر یہی بول اٹھیں گے کہ وہی ہے وہی۔ اب آفتاب ہی کو دیکھو اور اپنے علم کے گھوڑے دوڑاؤ اور اس کو ساکن بھی مان لو اور زمین کو اس کے اردگرد حرکت کرتے ہوئے سمجھ لو تو اب یہ بتاؤ کہ اگر یہ خودبخود بن گیا ہے تو گول کس نے کردیا اور پھر اور ستاروں سے یہ کیوں بڑا بن گیا ان میں نور کیوں نہیں۔ کس لیے کہ جس طرح ازخود یہ بنا ہے وہ بھی بنے ہیں پھر اس کے نور میں گرمی کی کیا وجہ ہے اوروں کے نور میں سردی کا کون سبب ہے۔ پھر ان کے باہم یہ ابعاد اس مقدار پر کیوں ہیں ؟ اور جب یہ کسی کے مسخر نہیں تو پھر اس فاصلہ میں تفاوت کیوں پیدا نہیں ہوتا اگر کہو مادہ علت ہے تو مادہ تمہارے قول کے بموجب غیرمحسوس چیز ہے اس کے قائل ہونے کا کون سبب۔ پھر مادہ کو اس طرح کس نے تقسیم کیا اور مادہ تو سب کا ایک ہے پھر تفاوت کیوں ہے ؟ پھر اگر کہو صورت کے سبب سے تفاوت ہے تو اس صورت کو کس نے پیدا کیا اور کیوں مختلف صورتیں پیدا ہوئیں ؟ پھر اگر وہی مادہ سبب اور علت ہے تو ترجیح بلامرجح ہے اور اگر اور کوئی مرجح ہے تو وہی ہے آخرکار ہر پھر کر اس طرف آنا پڑتا ہے۔ مادی اور طبعی لوگوں کو بجز سکوت اور حیرت کے کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اس بحث کو ہم اسی قدر پر تمام کرتے ہیں اور مادی اور طبعی آج کل حکمائِ یورپ میں اور جو بطی الفہم ہیں ان کے لیے لفظ اللہ خواب غفلت سے بیدار کرتا ہے۔ اب رہے وہ فرقے کہ جو خدا تعالیٰ کے وجود مستقل کے قائل ہیں اور اس کو قادر بھی مانتے ہیں مگر ساتھ ہی اور موجودات کو بھی خدائی میں شریک کرتے ہیں۔ چناچہ مجوس کہتے ہیں کہ ایک نوری خالق ہے جس کو یزدان کہتے ہیں اور ایک ظلمانی جس کو اہرمن کہتے ہیں۔ یزدان نیک اشیاء اور نیک کام پیدا کرتا ہے اور اہرمن مضر چیزیں اور برے کام کراتا ہے اور دونوں کا باہم مقابلہ بھی ہوا کرتا ہے۔ کبھی وہ غالب یہ مغلوب اور کبھی یہ غالب وہ مغلوب اور دیگر مشرکین اور اشیاء کو اس کی صفات میں شریک کرتے ہیں۔ عرب فرشتوں کو اور جنوں کو خدا کے رشتہ دار اور بیٹیاں سمجھ کر کارخانہ قضاء و قدر کا مختارِ کل جانتے تھے۔ اسی طرح عناصر اور کواکب کو مظہر تجلی سمجھ کر ان کو قاضی الحاجات ‘ دافع البلیات خیال کرتے تھے بلکہ ہنود اور مجوس اب تک ایسا ہی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بغیر ان کی عبادت کے ہو نہیں سکتی نہ اس تک ان کے وسیلہ بغیر فریاد پہنچ سکتی ہے۔ نہ نذرونیاز اور ہنود نے حیوانات نباتات کو بھی اس مرتبہ میں سمجھ رکھا ہے اور عرب کے مشرکوں اور دیگر اقوام کا بھی اسی کے قریب قریب حال تھا۔ پھر کہیں کسی دیوتا کو پانی کا ‘ کسی کو صحت و تندرستی کا ‘ کسی کو ارزانی کا اور کسی کو گرانی کا اور کسی کو اولاد و مال کا اور کسی کو فتح و شکست کا اور کسی کو موت وحیات کا مختار سمجھ رکھا ہے اور عرب نے بھی سمجھ رکھا تھا۔ پھر ان دیوتائوں کی مورتیں پیتل، تانبے، سونے ‘ چاندی ‘ پتھر کی بنا رکھی تھیں اور مکانات میں رکھ چھوڑی تھیں جیسا کہ ہنود کے مندریا بت خانے۔ پھر ان کے آگے سجدہ کرتے تھے، قربانیاں کرتے تھے، نذرونیاز پیش کرتے تھے، ناچ دکھاتے، گانے سناتے تھے، بخور جلاتے تھے، باجے بجاتے تھے اور ان مندروں کے پجاری مقرر تھے اور اسی طرح زہرہ، مشتری، آفتاب، ماہتاب وغیرہ ستاروں کے مندر بنے ہوئے تھے اور اب جس کو ان اگلے لوگوں کے حالات دریافت کرنے ہوں تو ہندوستان میں آ کر ہنود کے معابد دیکھ لے۔ کہیں ہنومان جی کھڑے ہیں تو کہیں مہادیو کی مورت ہے اور کہیں بشن کی اور کہیں بھیروں کی اور کہیں کالی دیوی کی تو کہیں لاٹوں والی کی تو کہیں اور کسی کی، خصوصاً شہر بنارس میں یہ تماشا خوب موجود ہے۔ ہرچند مسلمانوں کے آنے سے بہت کم ہوگیا ہے مگر پھر بھی بہت ہے۔ پھر کہیں مرد کے اعضائے تناسل کی مورت جس کو مہادیو کا لنگ کہتے ہیں ایک کھرل میں کھڑا ہے جس کو پاربتی زوجہ مہادیو کا اندام نہانی سمجھا جاتا ہے۔ سانپوں کا مالک و مختار گوگا پیر سمجھا جاتا ہے جو ایک مارواڑی راجپوت تھا اسی طرح اور صدہا مکروہات ہیں۔ ہنود کا فرقہ محدثہ جس کا آریہ نام ہے۔ ہرچند تاویلات رکیکہ کے ذریعے سے اس داغ بدنامی کو اپنی کتب سے مٹانا چاہتا ہے اور جن کتابوں سے مٹ ہی نہیں سکتا جیسا کہ اٹھارہ پوران ان کا منکر ہوگیا ہے مگر سناتن دھرم کے پنڈت ان کی اس تدبیر کو کب چلنے دیتے ہیں وہ کہتے ہیں ان چیزوں کی پرستش جیسا کہ ہزارہا سال سے مروج ہے ہمارے چاروں ویدوں اور چھوئوں شاستروں اور اٹھارہ پرانوں کی صریح عبارات سے ثابت ہے۔ کوئی ایک آدھ جملہ نہیں جو اس کی تاویل کی جائے بلکہ بڑے بڑے چوڑے مضامین ہیں اور ہمارے تمام پنڈت جو سنسکرت زبان کے ماہر تھے یہی مطلب سمجھتے آئے ہیں اور قدیم شراح نے یہی مطالب بیان کئے ہیں۔ پھر یہ دیانند جو دراصل سنسکرت کا ماہر بھی نہ تھا نہ اس کے پورے قواعد جانتا تھا ہزاروں برسوں کے بعد کہاں کا پنڈت پیدا ہوگیا جو ہیرپھیر کے خلاف محاورے زبان کے معنی بیان کرنے لگا۔ یہ کتابیں نہ آسمانی ہیں نہ ایک شخص کی تصنیف ہیں۔ چاروں ویدوں میں سے رگوید اول کتاب ہی کو دیکھو کہ متعدد اشخاص کے کلام متعدد مذاق کے موافق ہیں جن کے نام بھی شراح نے ہر شکتی کے سرے پر لکھ دیے ہیں۔ نہ ہم اس بات کے مدعی ہیں کہ ان کتابوں میں کبھی تغیر نہیں ہوا کس لیے کہ کئی بار یہ کتابیں دنیا سے معدوم ہوچکی ہیں جن کو اوتاروں نے موجود کیا ہے۔ اگر آریہ فرقہ کو جو دیانند جیسے بےعلم کا معتقد ہے۔ نئی تعلیم اور مسلمانوں کی توحید سے یہ بت پرستی ناپسند ہے اور مذہب قدیم ان کے نزدیک سراسر جاہلانہ خیالات کا مجموعہ ہے کہ جس کو کوئی روشن دماغ قبول ہی نہیں کرسکتا اور اسی لیے وہ ہمیشہ ہندوستان ظلمت نشان کے باہر بھی نہیں نکلا تو وہ ان کتابوں اور اس مذہب کی کہاں تک مرمت کرے گا حق پسندی یہی ہے کہ صاف صاف اقرار کرے کہ باطل ہے اور مذہب اسلام کو قبول کرلے اگر اس بارے میں قوم سے ڈرتے ہیں اور اپنی پرانی گدڑی کو گانٹھ کر تعصب سے دوشالہ کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں اور حب الوطن کا حق ادا کرتے ہیں تو ایمانداری نہیں پوری خیانت ہے۔ (میں پنڈتوں کی اس گفتگو سے اتفاق کرتا ہوں) ۔ الغرض سینکڑوں معبود ہیں ایک دو نہیں۔ اسی طرح بعض قوموں نے اور اور آلے بنائے تھے ان سب کے رد کے لیے لفظ احد آیا کس لیے کہ حق سبحانہ ٗ اپنی ذات وصفات میں یکتا ہے کوئی اس کا کسی وصف میں شریک نہیں۔ اب اس کی توحید کے دلائل اگر میں مفصلاً بیان کروں تو ایک اور مبسوط کتاب بن جائے۔ خصوصاً ان قوموں کے لیے (جو خدا تعالیٰ کو بھی قادر جانتے ہیں مگر مخلوق کو مظاہر یا اس کے کارخانوں کا مالک و مختار جان کر پوجتی ہیں) تو لفظ احد اس غلط خیال کے مٹانے کو سیف قاطع ہے کس لیے کہ مقام احدیت میں اس کے سوائے اور کسی کا وجود بھی نہیں پھر صفات میں شرکت کیسی وہ خود جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ مگر بلید الفہم لوگوں کو اس کے بعد بھی تسلی نہیں ہوتی اس لیے اس کے بعد یہ جملہ ارشاد ہوا۔ اللہ الصمد کہ اللہ بےنیاز ہے اس کو اپنے کسی کام میں کسی کی حاجت نہیں اور وہ حاجت روا اور قاضی الحاجات بھی ہے۔ پھر کون ہے جو بندوں کی حاجت براری کرے اور کسی کی مجال ہے جو اس کے آگے دم مارے۔ اس کی شان صمدیت نہیں چاہتی کہ اور کی عبادت کی جائے۔ ابوہیت مسیح کا رد ¦ اب فریق متدین کی خام خیالیوں کا بطلان کرتا ہے فقال لم یلد اس نے کبھی کسی کو نہیں جنا۔ توالد و تناسل اس کی احدیت و صمدیت کے برخلاف ہے کس لیے کہ بیٹا باپ کے ہم جنس ہوا کرتا ہے۔ پھر جب دوسرا اس جیسا ہوا تو نہ احدیت رہی نہ بلحاظ صفات کے صمدیت باقی رہی۔ کس لیے کہ صمد وہی ہے کہ جس کو کسی کی حاجت نہ ہو اور سب کو اس کی طرف حاجت ہو۔ پھر بیٹا باپ کا ہم جنس جب ہی ہوگا کہ وہ بھی اس کے مانند اوصاف رکھ کر حاجت براری کرے۔ پس نہ فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں نہ جن ‘ نہ حضرت مسیح (علیہ السلام) بیٹے ہیں نہ حضرت عزیر (علیہ السلام) ‘ جیسا کہ عیسائیوں اور یہود کا خیال ہے۔ نہ خود یہود یا کوئی قوم اس کی اولاد ہے جیسا کہ وہ کہتے تھے۔ نحن ابناء اللہ واحباءہ ولم یولد اور نہ اس کو کسی نے جنا ہے اس کا کوئی باپ نہیں کس لیے کہ اگر باپ ہو تو حادث ہوجائے اور حادث خدا نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ کسی مشہور فریق کا یہ اعتقاد نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ کا باپ ہے مگر یہ جملہ اس لیے ارشاد ہوا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جو کسی سے جنا گیا وہ خدا نہیں ہوسکتا۔ اس قاعدہ پر وہ جو حضرت مسیح (علیہ السلام) و عیسائی خدا کا بیٹا اور خدا بھی کہتے ہیں اور اب تک الوہیت مسیح (علیہ السلام) کے قائل ہیں اور اسی فاسد اعتقاد کو ایمان اور موجب نجات جانتے ہیں اس کا بھی کامل رد ہوگیا۔ تثلیث کا رد : عیسائیوں کا ایک اور فاسد عقیدہ ہے وہ کیا ؟ تثلیث کہ باپ خدا یعنی حق سبحانہ ٗ اور بیٹا خدا یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور روح القدوس جبرئیل (علیہ السلام) یا دوسرا فرشتہ یا روح اعظم خدا۔ پھر سب ایک خدا نہ تین۔ ہرچند مذکورہ بالا دلائل سے یہ عقیدہ بھی باطل ہوگیا مگر اس کی زیادہ تر تصریح کرنے کے لیے فرما دیا ولم یکن لہ کفوا احد کہ اس کا کوئی کفو یعنی مثل بھی نہیں جب اس کا کوئی ہمسر نہیں اور احدیت و صمدیت اور کسی کو نہ جننا نہ کسی سے جنا جانا اسی کا مقتضٰی بھی ہے تو پھر عیسیٰ (علیہ السلام) اور روح القدس پر خدا کا اطلاق کرنا ہمسر اور کفوثابت کرنا ہے جو بدیہی البطلان بات ہے اور عیسائی تینوں کو برابر خدا کہتے ہیں پھر اس سے بڑھ کر اور کیا ہمسری اور کفویت ہوگی ؟ جمیع مذاہب باطلہ کے عقائدِ فاسدہ کا کن مختصر الفاظ میں اور کس شائستہ اسلوب میں رد کیا گیا ہے ؟ صفات کا ثبوت ¦ تیسری بات اس کے صفات کا ثبوت اور توضیح و تشریح اس کی کہ جس کے سننے کے مشرکین یا یہود مشتاق تھے اس طرح سے ہے کہ خدا تعالیٰ کے صفات یا ثبوتیہ ہیں یا سلبیہ۔ پھر ثبوتیہ یا اضافیہ ہیں یا غیراضافیہ جیسا کہ اس کا حی یعنی زندہ ہونا ‘ ازلی ہونا ‘ ابدی ہونا اور صفات اضافیہ کہ جن کا تعلق یا تعقل دوسری چیز سے ہے جیسا کہ اس کا قادر ہونا، عالم ہونا، سمیع وبصیر ہونا، صاحب ارادہ ہونا، خالق و رازق ہونا اور صفات سلبیہ جیسا کہ نہ جو ہر ہونا نہ جسم ہونا ‘ نہ کسی مکان و زمان میں ہونا، حدوث اور امکان کے خصائص سے مبرا ہونا ‘ نہ کسی کا باپ ہونا نہ کسی کا بیٹا ہونا۔ پس ھو اللہ میں صفات ثبوتیہ آگئے۔ کس لیے کہ اللہ اس ذات کا نام ہے جس میں تمام کامل صفات پائے جائیں اور وہ مستحق عبادت ہو۔ ھو اس کے وجود اصلی پر دلالت کرتا ہے اور الفظ اللہ اس کے حی وقیوم ‘ سمیع وبصیر ‘ علیم وخبیر ‘ قادر ومالک ہونے پر اور دیگر اوصاف کمال پر دال ہے۔ احد صفات سلبیہ پر دلالت کرتا ہے کس لیے کہ احدیت سے مراد اس کی ذات کا منفرد اور تمام قسم کی ترکیبات سے منزہ ہونا ہے اور جب احدیت ہے تو وہ مکان اور جسم سے بھی پاک ہے کس لیے کہ مکان یعنی جگہ مجسم شے کے لیے ہوتا ہے اور جو چیز مجسم ہے ضرور مرکب ہے اس کے اجزا لا یتجزی ہوں یا ہیولی و صورت ہوں اور ترکیب منافی احدیت ہے اور جب وہ نہ جسمانی ہے نہ مکانی تو جمیع عوارض مکان و جسم بلکہ زمانہ سے بھی پاک ہے نہ اس کو موٹا کہہ سکتے ہیں نہ دبلا ‘ نہ لمبا نہ پستہ قد ‘ نہ گورا نہ کالا ‘ نہ بوڑھا نہ جوان ‘ نہ وہ کسی میں حلول کئے ہوئے نہ کوئی اس میں۔ کس لیے کہ حلول بھی مستلزم ترکیب ہے پھر یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ فلاں شخص میں گھس آیا فلاں شخص خدا کی ذات میں داخل ہوگیا محض لغو ہے اور جب وہ مجسم نہیں تو شکل و صورت سے بھی پاک ہے اور محسوس بھی نہیں اور لفظ احد اس کی یکتائی و استقلال صفات پر بھی دلالت کر رہا ہے۔ اس کے بعد پھر صفات کی تشریح فرماتا ہے اللہ الصمد۔ صمد کے لغت میں دو معنی ہیں۔ اول قصد و ارادہ کرنے کے۔ اس تقدیر پر صمد بمعنی مصمود ہوگا کس لیے کہ فعل بمعنی مفعول زبان عرب میں بکثرت مستعمل ہے۔ اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ وہ ہر ایک کا مقصود ہے، ہر کوئی اس کی طرف قصد کرتا ہے۔ دوم صمد کے معنی ہیں ٹھوس کے کہ اس پر کوئی تغیر نہیں آتا وہ قوی اور مستقل ہے۔ اس تقدیر پر یہ لفظ واجب الوجود کے معنی میں ہے۔ یہ لغوی معنی کی تحقیق تھی مگر عرب عرف میں یہ لفظ بہت سے معانی میں مستعمل ہے۔ اس لیے مفسرین میں سے ہر ایک نے ایک ایک معنی اختیار کئے ہیں۔ (1) یہ کہ وہ جمیع اشیاء کا جاننے والا ہے کس لیے کہ حاجت روائی کرنا بغیر اس کے ممکن نہیں۔ (2) ابن مسعود ؓ کا قول یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں سردار کے جو سب سے اعلیٰ سردار ہو۔ (3) اصم کہتے ہیں کہ صمد جمیع اشیاء کے خالق کو کہتے ہیں۔ (4) اسدی کہتے ہیں کہ صمد اس کو کہتے ہیں کہ جو ہر کام میں مقصود اصلی ہو اور اس کی طرف فریاد لے جاتے ہوں۔ (5) حسین بن فضل کہتے ہیں کہ صمد وہ ہے کہ جو چاہے کرے۔ (6) صمد فرد کامل اور بزرگ کو کہتے ہیں۔ یہ سب قول اول لغوی معنی کی تائید کرتے ہیں اور وہ سب صفات سلبیہ پر دلالت کرتے ہیں۔ (1) صمد بےنیاز کہ جس کو کسی کی کسی بات میں حاجت نہ ہو۔ (2) صمد وہ کہ جس کے اوپر اور کوئی بالادست نہ ہو۔ (3) قتادہ کہتے ہیں صمد وہ جو نہ کھائے نہ پئے۔ (4) صمد وہ جو خلق کے فنا ہونے کے بعد بھی باقی رہے فنا نہ ہو۔ (5) حسن بصری کہتے ہیں صمد وہ کہ جس کو زوال نہ ہو جیسا کہ تھا ہمیشہ ویسا ہی رہے۔ (6) ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں صمد وہ جو نہ کبھی مرے نہ کوئی اس کا وارث بنے۔ (7) یمان اور ابومالک کہتے ہیں صمد وہ جو نہ کبھی سوئے نہ بھولے۔ (8) ابن کیسان کہتے ہیں صمد وہ جو اور کوئی اس کے صفات سے موصوف نہ ہو۔ (9) مقاتل بن حیان کہتے ہیں کہ صمد بےعیب کو کہتے ہیں۔ (10) ربیع بن انس کہتے ہیں صمد وہ کہ جس پر کوئی آفت نہ آئے۔ (11) سعید بن جبیر کہتے ہیں صمد وہ جو اپنے جمیع صفات اور افعال میں کامل ہو۔ (12) جعفر صادق فرماتے ہیں صمد وہ جو غالب رہے مغلوب نہ ہو۔ (13) ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں صمد کے معنی ہیں بےنیاز اور سب سے بےپروا۔ (14) ابوبکر وراق کہتے ہیں صمد وہ جس کی کیفیت دریافت کرنے سے مخلوق ناامید ہوگئی ہو۔ (15) صمد وہ جو کسی کو نظر نہ آسکے۔ (16) ابوالعالیہ کہتے ہیں صمد وہ جو نہ کسی کو جنے نہ کسی نے اس کو جنا ہو۔ (17) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ صمد بڑا کہ جس کے اوپر کوئی بڑا نہ ہو۔ (18) صمد وہ جو زیادتی اور نقصان سے پاک ہو۔ الغرض لفظ صمد دونوں قسم کے صفات کا مجمع ہے۔ اس کے بعد بالخصوص چند اور صفت سلبیہ بیان فرماتا ہے۔ لم یلد کہ اس نے کسی کو نہیں جنا یعنی وہ کسی کا باپ نہیں کیونکہ بیٹا باپ کے مثل ہوتا ہے وہ اپنا مثل بنانے سے پاک ہے اور نہ وہ جورو رکھتا ہے جس سے کسی کو جنائے اور وہ خواہش نفسانی سے پاک ہے۔ ولم یولد اور وہ کسی سے پیدا بھی نہیں ہوا۔ کوئی اس کا باپ نہیں یعنی حادث نہیں قدیم ہے۔ وہ اس سے پاک ہے کہ اس پر کوئی وقت نیست کا گزرا ہو۔ ولم یکن لہ کفوا احد وہ اس سے بھی پاک ہے کہ اس کا کوئی مثل اور ہمسر اور کنبہ و قبیلہ ہو۔ اس کی کسی بات میں کوئی مساوی نہیں نہ ذات میں نہ وجود میں۔ کس لیے کہ اس کا وجود ذاتی ہے برخلاف مخلوق کے کہ ان کا وجود اس کی طرف سے آیا ہے نہ اس کے علم میں کسی کو ہمسری ہے۔ کس لیے کہ اس کا علم بھی ذاتی ہے اس کی ذات منشائِ علم ہے نہ اس کی قدرت میں کسی کو مساوات ہے کس لیے کہ اس کی قدرت ذاتی ہے اور کسی کو جو قدرت آتی ہے اول تو وہ محدود ہے۔ دوم اس کی طرف سے ہے۔ فائدہ : یہ سورة حق تعالیٰ کے محامد میں ہے جیسا کہ سورة کوثر نبی کریم ﷺ کے مناقب میں تھی مگر آنحضرت ﷺ پر کفار نے بیٹا نہ ہونے سے عیب لگایا اور ابتر کہا تھا برخلاف اس کے حق سبحانہ ٗ پر بیٹا ثابت کرنے سے نصاریٰ نے عیب لگایا تھا۔ پھر جس طرح وہاں آپ حق سبحانہ ٗ نے نبی کریم ﷺ کی طرف سے جواب دیا اور فرمایا کہ تیرا دشمن ہی ابتر ہے اسی لیے اس سورة میں لفظ قل نہیں فرمایا اس سورة میں اپنی طرف سے اپنے نبی کو مخالفوں کو جواب دینے پر مامور کیا اور اسی لیے ابتداء میں لفظ قل استعمال ہوا۔ اس میں اشارہ ہے کہ مشرکین عرب اپنی جہالت سے آپ کے دشمن ہیں مگر یہ اہل کتاب باوجود علم و کتاب کے میرے دشمن ہیں جو مجھ پر ایسا عیب لگاتے ہیں۔ (سبحان اللہ عما یصفون)