112. Surah Al-Ikhlaas

الإخلاصSincerity · 4 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 112:1

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader

کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے

(قُلْ ) یعنی اس حقیقت پر اعتقاد رکھتے ہوئے اور اس کے معنی کو جانتے ہوئے حتمی طور پر کہہ دیجئے ( هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ) وہ اللہ ایک ہی ہے یعن وحدانیت اس کی ذات میں منحصر ہے وہ ہر قسم کے کمال میں احد اور منفرد ہے جو اسمائے حسنی صفات کاملہ وعالیہ افعال مقدسہ کا مالک ہے جس کی کوئی نظیر ہے نہ مثیل۔
Ayahs 112:2–3

اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader

معبود برحق جو بےنیاز ہے

لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader

نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔

(اَللّٰهُ الصَّمَدُ ) اللہ بےنیاز ہے۔ یعنی تمام حوائج میں مقصود وہی ہے عالم بالا اور عالم سفلی کے رہنے والے سب اس کے انتہائی محتاج ہیں اسی سے اپنی حاجتوں کا سوال کرتے ہیں اپنے اہم امور میں اسی کی طرف راغب ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اوصاف میں کامل ہے وہ علیم ہے جو اپنے علم میں کامل ہے حلیم ہے جو اپنے حلم میں کامل اور رحیم ہے جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ اس طرح وہ اپنے تمام اوصاف میں کامل ہے یہ اس کا کمال ہے کہ (لَمْ يَلِدْ ڏ وَلَمْ يُوْلَدْ ) اس نے کسی کو جنم دیا ہے نہ اسے کسی نے جنم دیا ہے کیونکہ وہ کامل طور پر غنی ہے۔
Ayah 112:4

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader

اور کوئی اس کا ہمسر نہیں

(وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ) اس کے اسما میں نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں کوئی اس کا ہم سر ہے اس کی ذات بابرکت اور بہت بلند ہے یہ سورة کریمہ توحید اسما وصفات پر مشتمل ہے۔