112. Surah Al-Ikhlaas

الإخلاصSincerity · 4 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 112:1–4

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader

تو کہہ وہ اللہ ایک ہے

اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader

اللہ بےنیاز ہے

لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader

نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ کسی سے جنا گیا ہے

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader

اور کوئی اسکا ہمسر نہیں

اللہ وحدہ لا شریک لہ تشریح :۔ اصل میں یہ چھوٹی سی سورت اس رب ذوالجلال ' مالک کون و مکان حي القیوم، رب العلیٰ کی تعریف بیان کر رہی ہے۔ جو ہم انسانوں کی عقل سے باہر ہے۔ انسانی عقل اس کا احاطہ کرنے سے بالکل قاصر ہے۔ مگر رسول اللہ ﷺ سے اہل مکہ یہی سوال کرتے تھے کہ '' اچھا بتاؤ تو تمہارا اللہ ہے کیسا ' جس کی تم عبادت کرتے ہو ''؟ تو اللہ نے اس کے جواب میں سورة الاخلاص نازل فرمائی۔ اور قصہ ہی تمام کردیا کہ بیٹھے سوچتے رہو۔ بتا دیا کہ بس وہ اپنی ذات ' اوصاف ' شکل ' کمالات اور مرتبہ میں ایسا بلند وبالا اور بےمثال ہے کہ کسی چیز کی مشابہت سے تم اس کو پہچان نہیں سکتے کیونکہ وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔ اس کو کسی کی مدد کی ہرگز کسی صورت بھی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے آپ میں اپنے تمام فیصلوں میں اپنے کاموں میں اکیلا اور بااختیار ہے۔ وہ کسی صورت بھی کسی لحاظ سے بھی کسی کا محتاج نہیں۔ وہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یہی توحید کا مطلب ہے ہم اس کی وضاحت تین قسموں میں بیان کرسکتے ہیں۔ 1 ۔ توحید ربوبیت 2 ۔ توحید الوہیت 3 ۔ توحید اسماء و صفات 1 ۔ توحید ربوبیت :۔ کائنات کا خالق اور اس کو چلانے اور روکنے والا اور تمام مخلوق کو پالنے والا روزی دینے والا۔ 2 ۔ توحیدالوہیت :۔ عبادت کے لائق صرف اور صرف وہی ہے۔ 3 ۔ توحید اسماء وصفات :۔ اپنی صفات ' کمالات اور قدرت کاملہ میں وہ صرف اکیلا ہے۔ اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ جب یہ سب کچھ ہے تو پھر اس کو ہی سب کچھ مان لینے میں کیا قباحت ہے۔ اس مسئلہ کا حل کسی بڑے سے بڑے دانشور ' فلسفی سائنسدان یا کسی عالم کامل کے پاس نہیں ہے۔ مزید فرمان الٰہی یہ ہے۔۔ ( القرآن) (اے پیغمبر) کہہ دو کہ بیشک میری نماز ' میری عبادت ' میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں ' اور مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے ' اور میں اللہ کے فرمانبرداروں میں پہلا فرمانبردار ہوں ''۔ (سورۃ الانعام : 164-163) اللہ کی وحدانیت پوری طرح ثابت ہوچکی ہے اور ظاہر بھی ہوچکی ہے اسی لیے تمام انبیاء و رسل نے اپنی قوموں کو یہی پیغام دیا۔ (القرآن) '' اے قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ کیونکہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ''۔۔ (الاعراف :85) ثابت ہوگیا کہ دین اسلام کو ہی یہ فضیلت حاصل ہے کہ یہ تاقیامت زندہ و سلامت رہے گا۔ اور اس نے ہی مخلوق خدا میں مساوات اور بھائی چارہ کی بنیاد رکھ کر سکون اور امن کی فضا پیدا کردی ہے یہی وجہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے قیصر روم اور ہرقل کو خطوط بھیجے تو ان کا مضمون بھی یہی تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم حمد و صلاۃ کے بعد ' اے اہل کتاب ! اس بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں طور پر (مسلّم) ہے ' وہ یہ کہ اللہ کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں ' اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں ' اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا اپنا کارساز نہ بنائے ''۔۔ (آل عمران :64 ۔ بخاری) تاریخ ' روایات اور قرآن سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) سے آخری رسول اللہ ﷺ تک جس قدر نبی آئے سب نے اسی کلمہ اور اللہ کی وحدانیت کا ہی حکم دیا۔ لہٰذا یہ ثابت ہوگیا کہ عبادت خواہ مالی ہو ' بدنی ہو روحانی ہو صرف اللہ کے لیے ہی کرنے کا حکم ہے اور فائدہ بھی اسی میں ہے۔ خدایا ! کوئی تجھ سے بڑھ کر نہیں ہے تیرا کوئی بھی کفو وہمسر نہیں ہے تو داتا ہے سب کا ' فقط ایک داتا کہیں اور داتا کہیں پر نہیں ہے منظور الحق ڈار بفضل اللہ سورة الاخلاص مکمل ہوگئی۔ الحمد للہ