112. Surah Al-Ikhlaas

الإخلاصSincerity · 4 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 112:1

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے وہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔

(1) اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے وہ اللہ ایک ہے اس میں دہریوں کا مجوسیوں کا ابطال ہوگیا جو کہتے ہیں خدا کا وجود ہی نہیں اور مجوس کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں دو خدا ہیں ایک خیر کا اور دوسرا شرکا اور عام بت پرستوں کا بھی رد ہے جو معبودان باطلہ کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک کرتے ہیں۔
Ayah 112:2

اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں اور سب اس کے محتاج ہیں۔

(2) اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں اور سب اس کے محتاج ہیں - اس میں ان سب لوگوں کا رد ہے جو غیر اللہ کو کسی درجہ میں مستقل مانتے ہیں جیسے ہنود کے بعض فرقے جو روح اور مادے کی قدامت کے قائل ہیں ان کا رد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عالم کے بنانے میں روح اور مادے کا محتاج ہے اور روح اور مادہ اپنے استقلال میں اللہ تعالیٰ کے محتاج نہیں ہیں جیسا کہ اس فرقے کا دعویٰ ہے اس آیت میں ان کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں عالم کے لئے ایک خالق کافی نہیں ہے بلکہ کئی صانع ہونے چاہیں اور عالم کے بنانے کے لئے کئی خالق ہونے کی ضرورت ہے۔
Ayah 112:3

لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader

اور نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا یعنی نہ اولاد نہ ماں باپ۔

(3) نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اس آیت میں ان لوگوں کا رد ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں جیسے یہود اور نصاریٰ اور مشرکوں کی وہ جماعت جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے ہیں اولاد میں احتیاج بھی ہے اور واجب الوجود ہونے کے بھی منافی ہے جب اپنے وجود میں محتاج ہو باپ کا تو واجب الوجود کہاں رہا۔
Ayah 112:4

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader

اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔

(4) اور نہ کوئی اس کا ہمسر اور نہ کوئی اس کے جوڑ کا۔ یعنی جب اس کے کوئی جوڑ کا نہیں تو نہ جورو اور نہ بیٹا اس میں رد ہوگیا ان لوگوں کا جو خدا کی صفات میں کسی دوسرے کو شریک یا اس کا ہمسر سمجھتے ہیں غرض توحید کے بارے میں یہ سورت ایسی جامع ہے کہ جس کی تفسیر اور جس کے نکات ولطائف بیان کرنے کے لئے دفتر کے دفتر چاہئیں اگر کسی کو شوق ہو تو کتب تفسیر کا مطالعہ کریں۔ حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے سورة اخلاص سچے اعتقاد سے پڑھی گویا اس نے ثلث قرآن پڑھا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر کہا یارسول اللہ ﷺ میں اس سورت کو محبوب رکھتا ہوں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا حبک ایاھا ادخلک الجنۃ یعنی اس کی محبت تجھ کو جنت میں داخل کردے گی ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ سورة اخلاص ثلث قرآن کے برابر ہے۔