111. Surah Al-Masad
المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsکشف الرحمٰن
تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader
ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہوجائے۔
(1) ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک و برباد ہوجائے۔ بعض مفسرین نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہوگیا۔
یعنی پہلے جملے میں دعا اور دوسرے میں واقع کی خبر ہے کہ یقین جانو ایسا ہوگیا۔ دونوں ہاتھوں کے ٹوٹنے کا ذکر اس لئے فرمایا کہ دونوں ہاتھوں سے بڑا پتھر اٹھا کر حضور کو مارنے چلا تھا۔
تبالک سائرالیوم اسی کا جملہ جو بددعا میں کہا گیا ہے یا اس نے ایک دفعہ کہا تھا محمد جو کچھ کہتا ہے وہ مرنے کے بعد کی بات ہے اس وقت تو میرے دونوں ہاتھوں میں کچھ بھی نہیں یہ کہہ کر اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو کہا تھا تبالکما اری فیکما شیئا یا اس کی ذات مراد ہے جیسا کہ۔
ذلک بما قدمت یداک میں ذات ہی مراد ہے۔
بہرحال دونوں ہاتھوں کی ہلاکت سے اس کی ذات ہی کو بددعا دی گئی ہے۔
مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader
نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی۔
(2) نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی کچھ اس کے کام آئی۔ یہ شاید اس کا جواب ہے جو اس نے کہا تھا کہ اگر محمد ﷺ کی بات سچی ہوئی تو میں اپنے مال کا فدیہ دے کر اس مفروضہ عذاب سے بچ جائوں گا ماکسب سے مراد یا تو مال کے متعلقات ہیں یعنی مال کانفع وغیرہ یا مراد اہل قرابت ہیں یا اس کی اولاد مراد ہے۔
جیسا کہ حدیث میں ہے وان اولاد کم من کسبکم مطلب یہ ہے کہ نہ مال اس کو نفع دے گا نہ اس کی اولاد۔
سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader
وہ عنقریب ایک شعلہ مارتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔
(3) وہ ابولہب عنقریب شعلہ مارتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔
وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader
وہ بھی اور اس کی بیوی بھی جو سر پر ایندھن اٹھا کر لاتی ہے۔
(4) وہ بھی اور اس کی بیوی بھی جو سر پر ایندھن اٹھا کر لاتی ہے۔ اس کا چہرہ چونکہ سرخ وسفید تھا اس لئے شاید لوگوں نے اس کو ابولہب کہنا شروع کردیا مگر قرآن نے بتایا کہ یہ مرنے کے بعد بھی ایسی آگ میں ڈالا جائے گا جو شعلہ فگن اور چنگاریاں اڑاتی ہوئی اسی وقت نہ تو اس کا مال ساتھ ہوگا اور نہ اس کا بیٹا عتیبہ اس کے کچھ کام آئے گا اور اس کی بیوی بھی اسی آگ میں داخل ہوگی جو لکڑیوں کی اٹھانیوالی ہے جس کی بخیلی اور خست کا یہ عالم تھا کہ باوجود دولتمند اور لونڈی غلام رکھنے کے خود خاردار لکڑیاں اٹھا کر لاتی تھی اور پیغمبر کی رہگزر میں بچھاتی تھی۔
جب آپ ﷺ نماز کے لئے مسجد حرام میں تشریف لے جاتے تو نہایت نرمی سے ان لکڑیوں کو اور کانٹوں کو ہٹا کر تشریف لیجاتے یا یہ بات کہ وہ بہت غیبت کرتی تھی اور چغل خور بہت تھی اس لئے اس کو حمالۃ الحطب اور ہیزم کش فرمایا۔
فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader
اس کی گردن میں خوب مضبوط بٹی ہوئی رسی ہوگی۔
(5) اس کی گردن میں خوب بٹی ہوئی رسی ہوگی۔ کہتے ہیں یہ کھجور کے پتوں سے بٹی ہوئی رسی تھی بعض نے کہا یمن کے علاقے میں کوئی درخت ہوتا ہے جس کو مسدکہتے ہیں اس کو بٹ کر عرب کے لوگ رسی بنایا کرتے تھے غرض وہی رسی دوزخ میں طوق وسلاسل بن جائے گی کما قال عبداللہ بن عباس بعض حضرات نے فرمایا اس کی گردن میں بڑا بیش قیمت ہار تھا وہ بڑے فخر سے پیغمبر (علیہ السلام) کی عداوت میں کہا کرتی تھی میں اس ہار کو محمد ﷺ کی تباہی اور بربادی پر خرچ کردوں گی۔
شاید اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ہار دوزخ کا طوق ہوگا اور آگ کی زنجیر اس کے گلے میں پڑی ہوئی ہوگی۔ بعض کا قول ہے کہ بخل وخست کی وجہ سے یہ جلانے کی لکڑیاں خود ہی جنگل سے لایا کرتی تھی تاکہ کسی کو لکڑیوں کی قیمت نہ دینی پڑے۔
اور حسن اتفاق سے ملاحظہ ہو کہ یہ ایک دن سرپر لکڑیاں رکھے ہوئے لاتی تھی رسی اس کے گلے میں تھی وہ گٹھا ایک جگہ ٹھی کی لینے کو رکھا اور گٹھا ایک سمت کو جا پڑا اور رسی کا گلے میں پھندا پڑگیا اور اس کی موت واقع ہوگئی۔
ابولہب کو طاعون ہوا یا کوئی زہریلا دانہ نکلا جس کی وجہ سے اس کو علیحدہ ڈال دیا گیا کوئی ہاتھ نہ لگاتا تھا کہ مبادا یہ مرض مجھ کو نہ لگ جائے۔
آخر اسی طرح پڑے پڑے کئی دن میں مرگیا تین دن تک لاش پڑی رہی جب سڑنے لگا تب مزدوروں سے اٹھوا کر زمین میں دبایا مزدوروں نے اس کی لاش کو لکڑیوں سے دھکیل دھکیل کو گڑھنے میں ڈال دیا اور اوپر سے مٹی ڈال کر دبادیا۔
عتیبہ کا یہ حشر ہوا کہ اس کو ایک شیر نے پھاڑ ڈالا حضرت حق جل مجدہ کا وتب فرمانا دنیا اور آخرت میں پورا ہوا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ابولہب حضرت کا چچا تھا کفر کے مارے حضرت کی ضد میں پڑا۔ ایک بار حضرت نے سب قریش کو پکار کر جمع کیا اس نے پتھر پھینکا کہ دیوانہ لوگوں کو ناحق پکارتا ہے اور اس کی عورت سخت دشمنی کرتی خست کے مارے ایندھن جنگل سے آپ لاتی اور کانٹے حضرت کی راہ میں ڈالتی کہ آتے جاتے کو چبھیں۔
تم تفسیر سورة الھب