112. Surah Al-Ikhlaas

الإخلاصSincerity · 4 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

الاخلاص اس سورة کا محض نام ہی نہیں ہے بلکہ اس کے مضمون کا عنوان بھی ہے، کیونکہ اس میں خالص توحید بیان کی گئی ہے۔ قرآن مجید کی دوسری سورتوں میں تو بالعموم کسی ایسے لفظ کو ان کا نام قرار دیا گیا ہے جو ان میں وارد ہوا ہو، لیکن اس سورة میں لفظ اخلاص کہیں وارد نہیں ہوا ہے، اس کو یہ نام اس کے معنی کے لحاظ سے دیا گیا ہے، جو شخص بھی اس کو سمجھ کر اس کی تعلیم پر ایمان لے آئے گا وہ شرک سے خلاصی پا جائے گا۔

زمانہ نزول

اس کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے، اور یہ اختلاف ان روایات کی بنا پر ہے جو اس کے سبب نزول کے بارے میں منقول ہوئی ہیں۔ ذیل میں ہم ان کو سلسلہ وار درج کرتے ہیں۔ (١) حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ (طبرانی) (٢) ابو العالمیہ نے حضرت ابی بن کعب کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی (مسند احمد، ابن ابی حاتم، ابن جریر، ترمذی، بخاری فی التاریخ، ابن المنذر، حاکم، بیہقی) ترمذی نے اسی مضمون کی ایک روایت ابو العالیہ سے نقل کی ہے جس میں حضرت ابی بن کعب کا حوالہ نہیں ہے اور اسے صحیح تر کہا ہے۔ (٣) حضرت جابر بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ایک اعرابی نے (اور بعض روایات میں ہے کہ لوگوں نے) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی (ابو یعلی، ابن جریر، ابن المنذر، طبرانی فی الاوسط، بیہقی، ابو نعیم فی الحلیہ) (٤) عکرمہ نے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہودیوں کا ایک گروہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا جس میں کعب بن اشرف اور حیی بن اخطب وغیرہ شامل تھے اور انہوں نے کہا " اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں بتائیے کہ آپ کا وہ رب کیسا ہے جس نے آپ کو بھیجا ہے "۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔ (ابن ابی حاتم، ابن عدی، بیہقی فی الاسماء والصفات) ان کے علاوہ مزید چند روایات ابن تیمیہ نے اپنی تفسیر سورة اخلاص میں نقل کی ہیں جو یہ ہیں : (٥) حضرت انس کا بیان ہے کہ خیبر کے کچھ یہودی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا " اے ابو القاسم، اللہ نے ملائکہ کو نور حجاب سے، آدم کو مٹی کے سڑے ہوئے گارے سے، ابلیس کو آگ کے شعلے سے، آسمان کو دھوئیں سے، اور زمین کو پانی کے جھاگ سے بنایا، اب ہمیں اپنے رب کے متعلق بتائیے (کہ وہ کس چیز سے بنا ہے) "۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ پھر جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے کہا اے محمد، ان سے کہیے هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ۔ (٦) عامر بن الطفیل نے حضور سے کہا " اے محمد، آپ کس چیز کی طرف ہمیں بلاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی طرف۔ عامر نے کہا " اچھا تو اس کی کیفیت مجھے بتائیے۔ وہ سونے سے بنا ہوا ہے یا چاندی سے یا لوہے سے " ؟ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ (٧) ضحاک اور قتادہ اور مقاتل کا بیان ہے کہ یہودیوں کے کچھ علماء حضور کے پاس آئے اور انہوں نے کہا " اے محمد، اپنے رب کی کیفیت ہمیں بتائیے، شاید کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں۔ اللہ نے اپنی صفت توراۃ میں نازل کی ہے۔ آپ بتائیے کہ وہ کس چیز سے بنا ہے ؟ کس جنس سے ہے ؟ سونے سے بنا ہے یا تانبے سے، یا پیتل سے یا لوہے سے، یا چاندی سے ؟ اور کیا وہ کھاتا اور پیتا ہے ؟ اور کس سے اس نے دنیا وراثت میں پائی ہے اور اس کے بعد کون اس کا وارث ہوگا ؟ " اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔ (٨) ابن عباس کی روایت ہے کہ نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد سات پادریوں کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے حضور سے کہا " ہمیں بتائیے آپ کا رب کیسا ہے، کس چیز سے بنا ہے "؟ آپ نے فرمایا میرا رب کس چیز سے نہیں بنا ہے، وہ تمام اشیاء سے جدا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مواقع پر مختلف لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس معبود کی ماہیت اور کیفیت دریافت کی تھی جس کی بندگی و عبادت کی طرف آپ لوگوں کو دعوت دے رہے تھے، اور ہر موقع پر آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کو جواب میں یہی سورت سنائی تھی۔ سب سے پہلے یہ سوال مکہ میں قریش کے مشرکین نے آپ سے کیا اور اس کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔ اس کے بعد مدینہ طیبہ میں کبھی یہودیوں نے، کبھی عیسائیوں نے، اور کبھی عرب کے دوسرے لوگوں نے حضور سے اسی نوعیت کے سوالات کیے اور ہر مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ہوا کہ جواب میں یہی سورت آپ ان کو سنا دیں۔ ان روایات میں سے ہر ایک میں یہ جو کہا گیا ہے کہ اس موقع پر یہ سورت نازل ہوئی تھی، اس سے کسی کو یہ خیال نہ ہونا چاہیے کہ یہ سب روایتیں باہم متضاد ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی مسئلے کے بارے میں اگر پہلے سے کوئی آیت یا سورة نازل شدہ موجود ہوتی تھی تو بعد میں جب کبھی حضور کے سامنے وہی مسئلہ پیش کیا جاتا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آجاتی تھی کہ اس کا جواب فلاں آیت یا فلاں سورة میں ہے، یا اس کے جواب میں وہ آیت یا سورة لوگوں کو پڑھ کر سنا دی جائے۔ احادیث کے راوی اس چیز کو یوں بیان کرتے ہیں کہ جب فلاں معاملہ پیش آیا، یا فلاں سوال کیا گیا تو یہ آیت یا سورة نازل ہوئی۔ اس کو تکرار نزول سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی ایک آیت یا سورة کا کئی مرتبہ نازل ہونا۔ پس صحیح بات یہ ہے کہ یہ سورة دراصل مکی ہے بلکہ اس کے مضمون پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مکہ کے بھی ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے جب اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بیان میں قرآن کی مفصل آیات ابھی نازل نہیں ہوئی تھیں، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت الی اللہ کو سن کر لوگ یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ آخر آپ کا وہ رب ہے کیسا جس کی بندگی و عبادت کی طرف آپ لوگوں کو بلا رہے ہیں۔ اس کے بالکل ابتدائی دور کی نازل شدہ سورت ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ مکہ میں جب حضرت بلال کا آقا امیہ بن خلف ان کو دھوپ میں تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر ایک بڑا سا پتھر ان کی چھاتی پر رکھ دیتا تھا تو وہ اَحَدٌ اَحَدٌ پکارتے تھے۔ یہ لفظ احد اسی سورة سے ماخوذ تھا۔

موضوع اور مضمون

شان نزول کے بارے میں جو روایات اوپر درج کی گئی ہیں ان پر ایک نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) توحید کی دعوت لے کر اٹھے تھے اس وقت دنیا کے مذہبی تصورات کیا تھے۔ بت پرست مشرکین ان خداؤں کو پوج رہے تھے جو لکڑی، پتھر، سونے، چاندی وغیرہ مختلف چیزوں کے بنے ہوئے تھے۔ شکل، صورت اور جسم رکھتے تھے۔ دیویوں اور دیوتاؤں کی باقاعدہ نسل چلتی تھی۔ کوئی دیوی بےشوہر نہ تھی اور کوئی دیوتا بےزوجہ نہ تھا۔ ان کو کھانے پینے کی ضرورت بھی لاحق ہوتی تھی اور ان کے پرستار ان کے لیے اس کا انتظام کرتے تھے۔ مشرکین کی ایک بڑی تعداد اس بات کی قائل تھی کہ خدا انسانی شکل میں ظہور کرتا ہے اور کچھ لوگ اس کے اوتار ہوتے ہیں۔ عیسائی اگرچہ ایک خدا کو ماننے کے مدعی تھے، مگر ان کا خدا بھی کم از کم ایک بیٹا تو رکھتا ہی تھا، اور باپ بیٹے کے ساتھ خدائی میں روح القدس کو بھی حصہ دار ہونے کا شرف حاصل تھا۔ حتی کہ خدا کی ماں بھی ہوتی تھی اور اس کی ساس بھی۔ یہودی بھی ایک خدا کو ماننے کا دعوی کرتے تھے، مگر ان کا خدا بھی مادیت اور جسمانیت اور دوسری انسانی صفات سے خالی نہ تھا، وہ ٹہلتا تھا، انسانی شکل میں نمودار ہوتا تھا، اپنے کسی بندے کشتی بھی لڑ لیتا تھا۔ اور ایک عدد بیٹے (عزیر) کا باپ بھی تھا۔ ان مذہبی گروہوں کے علاوہ مجوسی آتش پرست تھے اور صابئی ستارہ پرست۔ اس حالت میں جب اللہ وحدہ لا شریک کو ماننے کی دعوت لوگوں کو دی گئی تو ان کے ذہن میں یہ سوالات پیدا ہونا ایک لازمی امر تھا کہ وہ سب ہے کس قسم کا جسے تمام ارباب اور معبودوں کو چھوڑ کر تنہا ایک ہی رب اور معبود تسلیم کرنے کی دعوت دی جارہی ہے۔ قرآن مجید کا یہ اعجاز ہے کہ اس نے ان سوالات کا جواب چند الفاظ میں دے کر اللہ کی ہستی کا ایسا واضح تصور پیش کردیا جو تمام مشرکانہ تصورت کا قلع قمع کردیتا ہے اور اس کی ذات کے ساتھ مخلوقات کی صفات میں سے کسی صفت کی آلودگی کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہنے دیتا۔

اہمیت اور فضیلت

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نگاہ میں اس سورت کی بڑی عظمت تھی اور آپ مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو اس کی اہمیت محسوس کراتے تھے، تاکہ وہ کثرت سے اس کو پڑھیں اور عوام الناس میں اسے پھیلائیں، کیونکہ یہ اسلام کے اولین بنیادی عقیدے (توحید) کو چار ایسے مختصر فقروں میں بیان کردیتی ہے جو فورا انسان کے ذہن نشین ہوجاتے ہیں اور آسانی سے زبانوں پر چڑھ جاتے ہیں۔ احادیث میں کثرت سے یہ روایات بیان ہوئی ہیں کہ حضور نے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے لوگوں کو بتایا کہ یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ، مسند احمد، طبرانی وغیرہ میں اس مضمون کی متعدد احادیث ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابو ایوب انصاری، ابو الدرداء، معاذ بن جبل، جابر بن عبداللہ، ابی بن کعب، ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط، ابن عمر، ابن مسعود، قتادہ بن النعمان، انس بن مالک اور ابو مسعود (رض) سے منقول ہوئی ہیں۔ مفسرین نے حضور کے اس ارشاد کی بہت سی توجیہات بیان کی ہیں۔ مگر ہمارے نزدیک سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ قرآن مجید جس دین کو پیش کرتا ہے اس کی بنیاد تین عقیدے ہیں۔ ایک توحید، دوسرے رسالت، تیسرے آخرت۔ یہ سورة چونکہ خالص توحید کو بیان کرتی ہے اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ایک تہائی قرآن کے برابر قرار دیا۔ حضرت عائشہ کی یہ روایت بخاری و مسلم اور بعض دوسری کتب حدیث میں نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک صاحب کو ایک مہم پر سردار بنا پر بھیجا اور اس پورے سفر کے دوران میں ان کا مستقل طریقہ یہ رہا کہ ہر نماز میں وہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ۔ پر قرأت ختم کرتے تھے۔ واپسی پر ان کے ساتھیوں نے حضور سے اس کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا ان سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس میں رحمان کی صفت بیان کی گئی ہے اس لیے اس کا پڑھنا مجھے بہت محبوب ہے۔ حضور نے یہ بات سنی تو لوگوں سے فرمایا اخبروہ ان اللہ تعالیٰ یحبہ " ان کو خبر دے دو کہ اللہ تعالیٰ انہیں محبوب رکھتا ہے "۔ اسی سے ملتا جلتا واقعہ بخاری میں حضرت انس سے مروی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ انصار میں سے ایک صاحب قبا میں نماز پڑھاتے تھے اور ان کا طریقہ یہ تھا کہ ہر رکعت میں پہلے قُلْ هُوَ اللّٰهُ پڑھتے، پھر کوئی اور سورت تلاوت کرتے۔ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور ان سے کہا کہ یہ تم کیا کرتے ہو کہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ پڑھنے کے بعد اسے کافی نہ سمجھ کر کوئی اور سورت بھی اس کے ساتھ ملا لیتے ہو ؟ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ یا تو صرف اسی کو پڑھو اور یا اسے چھوڑ کر کوئی اور سورت پڑھو۔ انہوں نے کہا میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔ تم چاہو تو میں تمہیں نماز پڑھاؤں ورنہ امامت چھوڑ دوں۔ لیکن لوگ ان کی جگہ کسی اور کو امام بنانا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ آخر کار معاملہ حضور کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ نے ان سے پوھا کہ تمہارے ساتھی جو کچھ چاہتے ہیں اسے قبول کرنے میں تم کو کیا امر مانع ہے ؟ تمہیں ہر رکعت میں یہ سورت پڑھنے پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ انہوں نے عرض کیا مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ آپ نے فرمایا حبک ایاھا ادخلک الجنۃ " اس سورت سے تمہاری محبت نے تمہیں جنت میں داخل کردیا "۔

Ayah 112:1

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader

کہو، 1 وہ اللہ ہے، 2 یَکتا۔ 3

سورة الاخلاص 1 اس حکم کے اولین مخاطب تو رسول اللہ ﷺ ہیں، کیونکہ آپ ہی سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ آپ کا رب کون اور کیسا ہے، اور آپ ہی کو حکم دیا گیا کہ اس سوال کے جواب میں آپ یہ کہیں۔ لیکن حضور کے بعد ہر مومن اس کا مخاطب ہے۔ اسے بھی وہی بات کہنی چاہیے جس کے کہنے کا حکم حضور کو دیا گیا تھا۔ سورة الاخلاص 2 یعنی میرے جس رب سے تم تعارف حاصل کرنا چاہتے ہو وہ کوئی اور نہیں بلکہ اللہ ہے۔ یہ ان سوال کرنے والوں کی بات کا پہلا جواب ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ میں کوئی نیا رب لے کر نہیں آگیا ہوں جس کی عبادت دوسرے سب معبودوں کو چھوڑ کر میں تم سے کروانا چاہتا ہوں، بلکہ وہ وہی ہستی ہے جس کو تم اللہ کے نام سے جانتے ہو۔ " اللہ " عربوں کے لیے کوئی اجنبی لفظ نہ تھا۔ قدیم ترین زمانے سے وہ خالق کائنات کے لیے یہی استعمال کر رہے تھے اور اپنے دوسرے معبودوں میں سے کسی پر بھی اس کا اطلاق نہیں کرتے تھے۔ دوسرے معبودوں کے لیے ان کے ہاں الہ کا لفظ رائج تھا۔ پھر اللہ کے بارے میں ان کے جو عقائد تھے ان کا اظہار اس موقع پر خوب کھل کر ہوگیا تھا جب ابرھہ نے مکہ پر چڑھائی کی تھی۔ اس وقت خانہ کعبہ میں 360 الہوں کے بت موجود تھے، مگر مشرکین نے ان سب کو چھوڑ کر صرف اللہ سے دعائیں مانگی تھیں کہ وہ اس بلا سے ان کو بچائے۔ گویا وہ اپنے دلوں میں اچھی طرح جانتے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی اس نازک وقت میں ان کی مدد نہیں کرسکتا۔ کعبے کو بھی وہ ان الہوں کی نسبت سے بیت الآلہہ نہیں، بلکہ اللہ کی نسبت سے بیت اللہ کہتے تھے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں مشرکین عرب کا عقیدہ کیا تھا، مثال کے طور پر سورة زخرف میں ہے " اگر تم ان سے پوچھو کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے " (آیت 87) سورة عنکبوت میں ہے " اگر تم سے ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے اور چاند اور سورج کو کس نے مسخر کر رکھا ہے، تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ اور اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعہ سے مردہ پڑی ہوئی زمین کو جلا اٹھایا، تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے (آیات 61 تا 63) سورة مومنون میں ہے " ان سے کہو بتاؤ اگر تم جانتے ہو کہ یہ زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟ یہ ضرور کہیں گے اللہ کی۔ ان سے پوچھو ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟ یہ ضرور کہیں گے اللہ۔ ان سے کہو، بتاؤ اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر اقتدار کس کا ہے ؟ اور کون ہے وہ جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ یہ ضرور جواب دیں گے کہ یہ بات تو اللہ ہی کے لیے ہے "۔ (آیات 84 تا 89) سورة یونس میں ایک اور جگہ ہے ان سے پوچھو، کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں جو تمہیں حاصل ہیں کس کے اختیار میں ہیں ؟ اور کون زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ؟ اور کون اس نظم عالم کی تدبیر کر رہا ہے ؟ یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ " (آیت 31) اسی سورة یونس میں ایک اور جگہ ہے " جب تم لوگ کشتیوں پر سوار ہو کر باد موافق پر فرحان و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک باد مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ طوفان میں گھر گئے، اس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اس سے دعائیں مانگتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں اس بلا سے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بنیں گے۔ مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں " (آیات 22۔ 23) یہی بات سورة بنی اسرائیل میں یوں دہرائی گئی ہے " جب سمندر میں تم پر مصیبت آتی ہے تو اس ایک کے سوا دوسرے جن جن کو تم پکارا کرتے ہو وہ سب گم ہوجاتے ہیں، مگر جب وہ تم کو بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ موڑ جاتے ہو " (آیت 67) ان آیات کو نگاہ میں رکھ کر دیکھیے کہ جب لوگوں نے پوچھا کہ وہ تمہارا کون ہے اور کیسا ہے جس کی بندگی و عبادت کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، تو انہیں جواب دیا گیا هُوَ اللّٰهُ ، وہ اللہ ہے۔ اس جواب سے خود بخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ جسے تم خود اپنا اور ساری کائنات کا خالق، مالک، رازق اور مدبر و منتظم مانتے ہو، اور سخت وقت آنے پر جسے دوسرے سب معبودوں کو چھوڑ کر مدد کے لیے پکارتے ہو، وہی میرا رب ہے اور اسی کی بندگی کی طرف میں تمہیں بلاتا ہوں، اس جواب میں اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کمالیہ آپ سے آپ آجاتی ہیں۔ اس لیے کہ یہ بات سرے سے قابل تصور ہی نہیں ہے کہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کا انتظام اور اس کے معاملات کی تدبیر کرنے والا، اس میں پائی جانے والی تمام مخلوقات کو رزق دینے والا، اور مصیبت کے وقت اپنے بندوں کی مدد کرنے والا، زندہ نہ ہو، سنتا اور دیکھتا نہ ہو، قادر مطلق نہ ہو، علیم اور حکیم نہ ہو، رحیم اور کریم نہ ہو، اور سب پر غالب ہو۔ سورة الاخلاص 3 نحوی قواعد کی رو سے علماء نے هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ کی متعدد ترکیبیں بیان کی ہیں، مگر ہمارے نزدیک ان میں سے جو ترکیب اس مقام کے ساتھ پوری مناسبت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ ھُوَ مبتداء ہے، اللہ اس کی خبر ہے اور اَحَدٌ اس کی دوسری خبر، اس ترکیب کے لحاظ سے اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ " وہ (جس کے بارے میں تم لوگ سوال کر رہے ہو) اللہ ہے، یکتا ہے " دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے، اور زبان کے لحاظ سے غلط نہیں ہے کہ " وہ اللہ ایک ہے "۔ یہاں سب سے پہلے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اس جملہ میں اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ احد جس طرح استعمال کیا گیا ہے وہ عربی زبان میں اس لفظ کا غیر معمولی استعمال ہے۔ معمولا یہ لفظ یا تو مضاف یا مضاف الیہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جیسے یوم الاحد، ہفتے کا پہلا دن، اور فابْعَثُوْٓا اَحَدَكُمْ " اپنے کسی آدمی کو بھیجو " یا نفی عام کے لیے استعمال ہوتا ہے جیسے ما جاءنی احد " میرے پاس کوئی نہیں آیا "۔ یا عمومیت کا پہلو لیے ہوئے سوالیہ فقرے میں بولا جاتا ہے، جیسے ھل عندک احد ؟ " کیا تمہارے پاس کوئی ہے "؟ یا اسی عمومیت کے پہلو سے شرطیہ جملہ میں بولا جاتا ہے، جیسے ان جاءک احد، " اگر تمہارے پاس کوئی آئے "۔ یا گنتی میں بولا جاتا ہے، جیسے احد، اثنان، احد عشر، ایک، دو گیا رہ، ان استعمالات کے سوا نزول قرآن سے پہلے کی عربی زبان میں اس امر کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ محض احد وصف کے طور پر کسی شخص یا چیز کے لیے بولا گیا ہو، اور نزول قرآن کے بعد یہ لفظ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے استعمال کیا گیا ہے، دوسرے کسی کے لیے کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔ اس غیر معمولی طرز بیان سے خودبخود یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یکتا و یگانہ ہونا اللہ کی خاص صفت ہے، موجودات میں سے کوئی دوسرا اس صفت سے متصف نہیں ہے، وہ ایک ہے، کوئی اس کا ثانی نہیں۔ پھر جو سوالات مشرکین اور اہل کتاب نے رسول اللہ ﷺ سے آپ کے رب کے بارے میں کیے تھے ان کو نگاہ میں رکھتے ہوئے دیکھیے کہ هُوَ اللّٰهُ کہنے کے بعد اَحَدٌ کہہ کر ان کا جواب کس طرح دیا گیا ہے اولا، اس کے معنی یہ ہیں کہ وہی اکیلا رب ہے، کسی دوسرے کا ربوبیت میں کوئی حصہ نہیں ہے، اور چونکہ الہ (معبود) وہی ہوسکتا ہے جو رب (مالک و پروردگار) ہو، اس لیے الوہیت میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں۔ ثانیا۔ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ وہی تنہا کائنات کا خالق ہے، تخلیق کے اس کام میں کوئی اور اس کا شریک نہیں ہے۔ وہی اکیلا مالک الملک ہے، نظام عالم کا مدبر و منتظم ہے، اپنی مخلوق کا رزق رساں ہے، اور آڑے وقت میں مدد کرنے والا فریاد رس ہے، خدائی کے ان کاموں میں، جن کو تم خود مانتے ہو کہ یہ اللہ کے کام ہیں، کسی دوسرے کا قطعا کوئی حصہ نہیں ہے۔ ثالثا۔ چونکہ انہوں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ وہ کس چیز سے بنا ہے ؟ اس کا نسب کیا ہے ؟ وہ کس جنس سے ہے ؟ کس سے اس نے دنیا کی میراث پائی ہے ؟ اور اس کے بعد کون اس کا وارث ہوگا ؟ اس لیے ان کو ان سارے سوالات کا جواب بھی اللہ تعالیٰ کے لیے صرف ایک لفظ اَحَد بول کر دے دیا گیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ (1) وہی ایک خدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، نہ اس سے پہلے کوئی خدا تھا، نہ اس کے بعد کوئی خدا ہوگا (2) خداؤں کی کوئی جنس نہیں ہے جس کا وہ فرد ہو، بلکہ وہ اکیلا خدا ہے اور کوئی اس کا ہم جنس نہیں (3) اس کی ذات محض واحد نہیں بلکہ اَحَد ہے جس میں کسی حیثیت سے بھی کثرت کا کوئی شائبہ نہیں ہے، وہ اجزاء سے مرکب وجود نہیں ہے جو قابل تجزیہ و تقسیم ہو، جو کوئی شکل و صورت رکھتا ہو، جو کسی جگہ میں رہتا ہو یا کوئی چیز اس کے اندر جگہ پاتی ہو، جس کا کوئی رنگ ہو، جس کے کچھ اعضا ہوں، جس کی کوئی سمت اور جہت ہو، اور جس کے اندر کسی قسم کا تغیر و تبدل ہوتا ہو۔ تمام اقسام کی کثرتوں سے بالکل پاک اور منزہ وہ ایک ہی ذات ہے جو ہر لحاظ سے اَحَد ہے۔ اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ عربی زبان میں " واحد " کا لفظ بالکل اسی طرح استعمال ہوتا ہے جس طرح ہم اردو میں " ایک " کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ بڑی سے بڑی کثرتوں پر مشتمل کسی مجموعہ کو بھی اس کی مجموعی حیثیت کے لحاظ سے واحد یا ایک کہا جاتا ہے، جیسے ایک آدمی، ایک قوم، ایک ملک، ایک دنیا، حتی کہ ایک کائنات، اور کسی مجموعہ کے ہر جز کو الگ الگ بھی ایک ہی کہا جاتا ہے۔ لیکن اَحَد کا لفظ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ اسی لیے قرآن مجید میں جہاں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے واحد کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں الہ واحد، ایک ہی معبود، یا اللہ الواحد القھار، اکیلا اللہ جو سب کو مغلوب کر کے رکھنے والا ہے، کہا گیا ہے۔ محض واحد نہیں کہا گیا، کیونکہ یہ لفظ ان چیزوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو اپنی ذات میں طرح طرح کی کثرتیں رکھتی ہیں، بخلاف اس کے اللہ کے لیے اور صرف اللہ ہی کے لیے احد کا لفظ مطلقا استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ وجود میں صرف وہی ایک ہستی ایسی ہے جس میں کسی حیثیت سے بھی کوئی کثرت نہیں ہے، جس کی وحدانیت ہر لحاظ سے کامل ہے)۔
Ayah 112:2

اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader

اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔ 4

سورة الاخلاص 4 اصل میں لفظ صَمَد استعمال کیا گیا ہے جس کا مادہ ص، م، د ہے۔ عربی زبان میں اس مادے سے جو الفاظ نکلے ہیں ان پر ایک نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے معانی کی وسعت کس قدر ہے۔ اَلصَّمدُ۔ قصد کرنا، بلند مقام جو بڑی ضخامت رکھتا ہو، سطح مرتفع، وہ آدمی جسے جنگ میں بھوک پیاس نہ لگتی ہو، وہ سردار جس کی طرف حاجات میں رجوع کیا جاتا ہو۔ اَلصَّمَدُ۔ ہر چیز کا بلند حصہ، وہ شخص جس سے بالا تر کوئی دوسرا شخص نہ ہو، وہ سردار جس کی اطاعت کی جاتی ہو اور اس کے بغیر کسی معاملہ کا فیصلہ نہ کیا جاتا ہو، وہ سردار جس کی طرف حاجتمند لوگ رجوع کرتے ہوں، دائم، بلند مرتبہ، ٹھوس جس میں کوئی خول یا جھول نہ ہو، اور جس سے نہ کوئی چیز نکلتی ہو نہ اس میں داخل ہوسکتی ہو، وہ آدمی جسے جنگ میں بھوک پیاس نہ لگتی ہو۔ اَلمُصمَدُ۔ ٹھوس چیز جس کا کوئی جوف نہ ہو۔ اَلمُصَمَّدُ۔ مقصود جس کی طرف جانے کا قصد کیا جائے، سخت چیز جس میں کوئی کمزوری نہ ہو۔ بَیتٌ مُصَمَّدٌ۔ وہ گھر جس کی طرف حاجات میں رجوع کیا جاتا ہو۔ بِنَاءٌ مُّصمَدٌ۔ بلند عمارت۔ صَمَدَہٗ وَ صَمَدَ اِلَیہِ صَمدًا۔ اس شخص کی طرف جانے کا قصد کیا۔ اَصمَدَ اِلَیہ الاَمرَ۔ اس کے سپرد معاملہ کردیا، اس کے آگے معاملہ پیش کردیا، اس کے آگے معاملہ پیش کردیا، اس کے اوپر معاملہ میں اعتماد کیا۔ (صحاح، قاموس، لسان العرب) ان لغوی معنوں کی بنا پر آیت اللّٰهُ الصَّمَدُ میں لفظ الصَّمَدُ کی جو تفسیریں صحابہ وتابعین اور بعد کے اہل علم سے منقول ہیں انہیں ہم ذیل میں درج کرتے ہیں حضرت علی، عکرمہ اور کعب احبا صَمَد وہ ہے جس سے بالا تر کوئی نہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس اور ابو وائل شقیق بن سلمہ " وہ سردار جس کی سیادت کامل ہو اور انتہا کو پہنچی ہوئی ہو "۔ ابن عباس کا دوسرا قول " صمد وہ ہے جس کی طرف لوگ کسی بلا یا مصیبت کے نازل ہونے پر مدد کے لیے رجوع کریں "۔ ان کا ایک اور قول " وہ سردار جو اپنی سیادت میں، اپنے شرف میں، اپنی عظمت میں، اپنے حلم اور بردباری میں، اپنے علم میں اور اپنی حکمت میں کامل ہو " حضرت ابوہریرہ " وہ جس میں سے نہ کوئی چیز کبھی نکلی ہو نہ نکلتی ہو "۔ جو نہ کھاتا ہو نہ پیتا ہو "۔ اسی کے ہم معنی اقوال شعبی اور محمد بن کعب القرظی سے بھی منقول ہیں۔ سدی۔ " مطلوب چیزیں حاصل کرنے کے لیے لوگ جس کا قصد کریں اور مصائب میں مدد کے لیے جس کی طرف رجوع نہ کریں "۔ سعید بن جبیر " وہ جو اپنی تمام صفات اور اعمال میں کامل ہو "۔ ربیع بن انس " وہ جس پر کوئی آفت نہ آتی ہو "۔ مقاتل بن حیان " وہ جو بےعیب ہو "۔ ابن کیسان " وہ جس کی صفت سے کوئی دوسرا متصف نہ ہو "۔ حسن بصری اور قتادہ " جو باقی رہنے والا اور لازوال ہو " اسی سے ملتے جلتے اقوال مجاہد اور معمر اور مرۃ الہمدانی سے بھی منقول ہیں۔ مرۃ الہمدانی کا ایک اور قول یہ ہے کہ " وہ جو اپنی مرضی کے مطابق جو چاہے فیصلہ کرے اور جو کام چاہے کرے، اس کے حکم اور فیصلے پر نظر ثانی کرنے والا کوئی نہ ہو "۔ ابراہیم نخعی " وہ جس کی طرف لوگ اپنی حاجتوں کے لیے رجوع کریں "۔ ابوبکر الانباری " اہل لغت کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ صَمَد اس سردار کو کہتے ہیں جس سے بالا تر کوئی اور سردار نہ ہو، اور جس کی طرف لوگ اپنی حاجات اور اپنے معاملات میں رجوع کریں "۔ اسی کے قریب الزجاج کا قول ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ " صَمَد وہ ہے جس پر سرداری ختم ہوگئی ہو اور ہر ایک اپنی حاجات کے لیے جس کی طرف رجوع کرے "۔ اب غور کیجیے کہ پہلے فقرے میں اللّٰهُ اَحَدٌ کیوں کہا گیا، اور اس فقرے میں اللّٰهُ الصَّمَدُ کہنے کی کیا وجہ ہے۔ لفظ اَحَدٌ کے متعلق ہم بیان کرچکے ہیں کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، کسی اور کے لیے سرے سے مستعمل ہی نہیں ہے، اس لیے اسے اَحَدٌ، یعنی نکرہ کی صورت میں استعمال کیا گیا ہے، لیکن صَمَد کا لفظ چونکہ مخلوقات کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اس لیے اللہ صمد کہنے کے بجائے اَللّٰهُ الصَّمَدُ کہا گیا، جس کے معنی یہ ہیں کہ اصلی اور حقیقی صَمَد اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ مخلوق اگر کسی حیثیت سے صمد ہو بھی تو کسی دوسری حیثیت سے وہ صمد نہیں ہے، کیونکہ وہ فانی ہے، لازوال نہیں ہے، قابل تجزیہ و تقسیم ہے، مرکب ہے، کسی وقت اس کے اجزاء بکھر سکتے ہیں، بعض مخلوقات اس کی محتاج ہیں تو بعض کا وہ خود محتاج ہے، اس کی سیادت اضافی ہے نہ کہ مطلق، کسی کے مقابلے میں وہ برتر ہے تو اس کے مقابلے میں کوئی اور برتر ہے، بعض مخلوقات کی بعض حاجات کو وہ پورا کرسکتا ہے، مگر سب کی تمام حاجات کو پورا کرنا کسی مخلوق کے بس میں نہیں ہے۔ بخلاف اس کے اللہ تعالیٰ کی صمدیت ہر حیثیت سے کامل ہے۔ ساری دنیا اس کی محتاج ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ دنیا کی ہر اچیز اپنے وجود بقا اور اپنی حاجات و ضروریات کے لیے شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر اسی کی طرف رجوع کرتی ہے اور سب کی تمام حاجات پوری کرنے والا وہی ہے۔ وہ غیر فانی اور لازوال ہے۔ رزق دیتا ہے، لیتا نہیں ہے، مفرد ہے، مرکب نہیں ہے کہ قابل تجزیہ و تقسیم ہو۔ ساری کائنات پر اس کی سیادت قائم ہے اور وہ سب سے برتر ہے۔ اس لیے وہ محض صَمَد نہیں، بلکہ الصمد ہے، یعنی ایک ہی ایسی ہستی جو حقیقت میں صمدیت سے بتمام و کمال متصف ہے۔ پھر چونکہ وہ الصمد ہے اس لیے لازم آتا ہے کہ وہ یکتا اور یگانہ ہو، کیونکہ ایسی ہستی ایک ہی ہوسکتی ہے جو کسی کی حاجتمند نہ ہو اور سب جس کے محتاج ہوں۔ دو یا زائد ہستیاں سب سے بےنیاز اور سب کی حاجت روا نہیں ہوسکتیں۔ نیز اس کے الصمد ہونے سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہی ایک معبود ہو، کیونکہ انسان عبادت اسی کی کرتا ہے جس کا وہ محتاج ہو۔ اور اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہ ہو، کیونکہ جو حاجت روائی کی طاقت اور اختیارات ہی نہ رکھتا ہو اس کی بندگی و عبادت کوئی ہوشمند آدمی نہیں کرسکتا۔
Ayah 112:3

لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader

نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد۔ 5

سورة الاخلاص 5 مشرکین نے ہر زمانے میں خدائی کا یہ تصور اختیار کیا ہے کہ انسانوں کی طرح خداؤں کی بھی کوئی جنس ہے جس کے بہت سے افراد ہیں، اور ان میں شادی بیاہ اور توالد و تناسل کا سلسلہ چلتا ہے۔ اس جاہلانہ تصور سے انہوں نے اللہ رب العالمین کو بھی پاک اور بالا تر نہیں سمجھا اور اس کے لیے بھی اولاد تجویز کی۔ چناچہ اہل عرب کا یہ عقیدہ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ انبیاء (علیہم السلام) کی امتیں بھی اس جہالت سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ ان کے ہاں بھی کسی بزرگ انسان کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دینے کا عقیدہ پیدا ہوگیا۔ ان مختلف توہمات میں دو قسم کے تصورات ہمیشہ خلط ملط ہوتے رہے ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ جن کو وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رہے ہیں وہ اس ذات پاک کی نسبی اولاد ہے۔ اور بعض نے یہ دعوی کیا کہ جس کو وہ اللہ کا بیٹا کہہ رہے ہیں اسے اللہ نے اپنا متبنی بنایا ہے۔ اگرچہ ان میں سے کسی کی یہ جرات نہیں ہوئی کہ معاذ اللہ کسی کو اللہ کا باپ قرار دیں، لیکن ظاہر ہے کہ جب کسی ہستی کے متعلق یہ تصور کیا جائے کہ وہ توالد و تناسل سے پاک نہیں ہے، اور اس کے بارے میں یہ خیال کیا جائے کہ وہ بھی انسان کی طرح اس قسم کی کوئی ہستی ہے جس کے ہاں اولاد پیدا ہوتی ہے، اور جس کو لا ولد ہونے کی صورت میں کسی کو بیٹا بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے، تو پھر انسانی ذہن اس گمان سے محفوظ نہیں رہ سکتا کہ اسے بھی کسی کی اولاد سمجھے۔ یہی وجہ ہے کہ جو سوالات رسول اللہ ﷺ سے پوچھے گ 4 ے تھے ان میں ایک سوال یہ تھا کہ اللہ کا نسب کیا ہے ؟ اور دوسرا یہ کہ کس سے اس نے دنیا کی میراث پائی ہے اور کون اس کے بعد وارث ہوگا ؟ ان جاہلانہ مفروضات کا اگر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ منطقی طور پر بیان کو فرض کرلینے سے کچھ اور چیزوں کو بھی فرض کرنا لازم آتا ہے۔ اول یہ کہ خدا ایک نہ ہو، بلکہ خداؤں کی کوئی جنس ہو، اور اس کے افراد خدائی اوصاف، افعال اور اختیارات میں شریک ہوں، یہ بات خدا کی صرف نسبی اولاد فرض کرلینے ہی سے لازم نہیں آتی، بلکہ کسی کو متبنی فرض کرنے سے بھی لازم آتی ہے، کیونکہ کسی کا متبنی لا محالہ اس کا ہم جنس ہی ہوسکتا ہے، اور جب معاذ اللہ وہ خدا کا ہم جنس ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ خدائی کے اوصاف بھی رکھتا ہے۔ دوم یہ کہ اولاد کا کوئی تصور اس کے بغیر نہیں کیا جاسکتا کہ نر و مادہ میں اتصال ہو اور کوئی مادہ باپ اور ماں کے جسم سے نکل کر بچے کی شکل اختیار کرے۔ پس اللہ کے لیے اولاد فرض کرنے سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ بذات خود معاذہ اللہ فانی ہو اور باقی رہنے والی چیز خداؤں کی نسل ہو نہ کہ ذات خدا۔ نیز اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ تمام فانی افراد کی طرح نعوذ باللہ خدا کی بھی کوئی ابتدا اور انتہا ہو۔ کیونکہ توالد و تناسل پر جن اجناس کے بقاء کا انحصار ہوتا ہے ان کے افراد نہ ازلی ہوتے ہیں نہ ابدی۔ چہارم یہ کہ کسی کو متبنی بنانے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ایک لا ولد شخص اپنی زندگی میں کسی مددگار کا، اور اپنی وفات کے بعد کسی وارث کا حاجت مند ہوتا ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے لیے یہ فرض کرنا کہ اس نے کسی کو بیٹا بنایا ہے، اس ذات پاک کی طرف لازما وہی سب کمزوریاں منسوب کرنا ہے جو فانی اشخاص میں پائی جاتی ہیں۔ ان تمام مفروضات کی جڑ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو احد اور الصمد کہنے سے کٹ جاتی ہے، لیکن اس کے بعد یہ ارشاد فرمانے سے کہ " نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد "، اس معاملہ میں کسی اشتباہ کی گنجائش بھی باقی نہیں رہتی۔ پھر چونکہ ذات باری کے حق میں یہ تصورات شرک کے اہم ترین اسباب میں سے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے صرف سورة اخلاص ہی میں ان کی صاف صاف اور قطعی و حتمی تردید کرنے پر اکتفا نہیں فرمایا، بلکہ جگہ جگہ اس مضمون کو مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے تاکہ لوگ حقیقت کو پوری طرح سمجھ لیں۔ مثال کے طور پر آیات ذیل ملاحظہ ہوں ۭاِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭسُبْحٰنَهٗٓ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ ۘ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ (النساء، 171) " اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے، وہ پاک ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اس کی ملک ہے۔ اَلَآ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَيَقُوْلُوْنَ۔ وَلَدَ اللّٰهُ ۙ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ (الصافات، 151۔ 152) " خوب سن رکھو، یہ لوگ دراصل اپنی من گھڑت سے یہ بات کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے۔ فی الواقع یہ قطعی جھوٹے ہیں "۔ وَجَعَلُوْا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَـبًا ۭ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ (الصافات، 158) " انہوں نے اللہ اور فرشتوں کے درمیان نسب کا رشتہ بنا رکھا ہے، حالانکہ فرشتے خوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ (مجرموں) کی حیثیت سے) پیش کیے جانے والے ہیں "۔ وَجَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا ۭاِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِيْنٌ (الزخرف، 15) " لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جز بنا ڈالا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے "۔ وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُوْا لَهٗ بَنِيْنَ وَبَنٰتٍۢ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭسُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَصِفُوْنَ۔ بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ ۭ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ (الانعام، 100۔ 101) " اور لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا دیا، حالانکہ وہ ان کا خالق ہے۔ اور انہوں نے بےجانے بوجھے اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لیں، حالانکہ وہ پاک اور بالاتر ہے ان باتوں سے جو وہ کہتے ہیں۔ وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجود ہے۔ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ کوئی اس کی شریک زندگی ہی نہیں ہے، اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے "۔ وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَـدًا سُبْحٰنَهٗ ۭ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ (الانبیاء، 26) " اور ان لوگوں نے کہا کہ خدائے رحمان نے کسی کو بیٹا بنایا ہے، پاک ہے وہ، بلکہ (جن کو یہ اس کی اولاد کہتے ہیں) وہ تو بندے ہیں جنہیں عزت دی گئی ہے "۔ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ ۭ ھُوَ الْغَنِيُّ ۭ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۢ بِهٰذَا ۭ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (یونس، 68) " لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے، سبحان اللہ، وہ تو بےنیاز ہے، آسمانوں میں جو کچھ ہے اور زمین میں جو کچھ ہے سب اس کی ملک ہے۔ تمہارے پاس اس قول کی آخر دلیل کیا ہے ؟ کیا تم اللہ کے بارے میں وہ باتیں کہتے ہو جنہیں تم نہیں جانتے ؟ "۔ وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ (بنی اسرائیل، 111) " اور (اے نبی) کہو، تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا، نہ کوئی بادشاہی میں اس کا شریک ہے، اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا پشتیبان ہو "۔ مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ (المومنون، 91) اللہ نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے، اور کوئی دوسرا خدا اس کے ساتھ نہیں ہے "۔ ان آیات میں ہر پہلو سے ان لوگوں کے عقیدے کی تردید کردی گئی ہے جو اللہ کے لیے نسبی اولاد یا متبنی بنائی ہوئی اولاد تجویز کرتے ہیں، اور اس کے غلط ہونے کے دلائل بھی بیان کردیے گئے ہیں، یہ اور اسی مضمون کی دوسری بہت سی آیات جو قرآن مجید میں، سورة اخلاص کی بہترین تفسیر کرتی ہیں۔
Ayah 112:4

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader

اور کوئی اُس کا ہمسر نہیں ہے۔ 6

سورة الاخلاص 6 اصل میں لفظ کُفُو استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں نظیر، مشابہ، مماثل، ہم رتبہ، مساوی، نکاح کے معاملہ میں کفو کا لفظ ہماری زبان میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ لڑکا اور لڑکی معاشرتی حیثیت سے برابر کی جوڑ ہوں۔ پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ساری کائنات میں کوئی نہیں ہے، نہ کبھی تھا، نہ کبھی ہوسکتا ہے، جو اللہ کے مانند، یا اس کا ہم مرتبہ ہو، یا جو اپنی صفات، افعال اور اختیارات میں اس سے کسی درجہ میں بھی مشابہت رکھتا ہو۔