111. Surah Al-Masad

المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

پہلی آیت کے لفظ لھب کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانہ نزول

اس کے مکی ہونے میں تو مفسرین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن ٹھیک ٹھیک یہ متعین کرنا مشکل ہے کہ مکی دور کے کس زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ البتہ ابو لہب کا جو کردار رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی دعوت حق کے خلاف تھا اس کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس سورت کا نزول اس زمانے میں ہوا ہوگا جب وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عداوت میں حد سے گزر گیا تھا اور اس کا رویہ اسلام کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہا تھا۔ بعید نہیں کہ اس کا نزول اس زمانے میں ہوا ہو جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے خاندان والوں کا مقاطعہ کر کے قریش کے لوگوں نے ان کو شعب ابی طالب میں محصور کردیا تھا اور تنہا ابو لہب ہی ایسا شخص تھا جس نے اپنے خاندان والوں کو چھوڑ کر دشمنوں کا ساتھ دیا تھا۔ اس قیاس کی بنا یہ ہے کہ ابو لہب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چچا تھا، اور بھتیجے کی زبان سے چچا کی کھلم کھلا مذمت کرانا اس وقت تک مناسب نہ ہوسکتا تھا جب تک چچا کی حد سے گزری ہوئی زیادتیاں علانیہ سب کے سامنے نہ آگئی ہوں۔ اس سے پہلے اگر ابتدا ہی میں یہ سورت نازل کردی گئی ہوتی تو لوگ اس کو اخلاقی حیثیت سے معیوب سمجھتے کہ بھتیجا اپنے چچا کی اس طرح مذمت کرے۔

پَسْ منظر

قرآن مجید میں یہ ایک ہی مقام ہے جہاں دشمنان اسلام میں سے کسی شخص کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی ہے، حالانکہ مکہ میں بھی اور ہجرت کے بعد مدینے میں بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو اسلام اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عداوت میں ابو لہب سے کسی طرح کم نہ تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس شخص کی وہ کیا خصوصیت تھی جس کی بنا پر اس کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی ؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس وقت کے عربی معاشرے کو سمجھا جائے، اور اس میں ابو لہب کے کردار کو دیکھا جائے۔ قدیم زمانے میں چونکہ پورے ملک عرب میں ہر طرف بد امنی، غارت گری اور طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی، اور صدیوں سے حالت یہ تھی کہ کسی شخص کے لیے اس کے اپنے خاندان اور خونی رشتہ داروں کی حمایت کے سوا جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہ تھی، اس لیے عربی معاشرے کی اخلاقی قدروں میں صلۂ رحمی (یعنی رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک) کو بڑی اہمیت حاصل تھی، اور قطع رحمی کو بہت بڑا پاپ سمجھا جاتا تھا۔ عرب کی انہی روایات کا یہ اثر تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اسلام کی دعوت لے کر اٹھے تو قریش کے دوسرے خاندانوں اور ان کے سرداروں نے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شدید مخالفت کی، مگر بنی ہاشم اور بنی المطلب (ہاشم کے بھائی مطلب کی اولاد) نے نہ صرف یہ کہ آپ کی مخالفت نہیں کی، بلکہ وہ کھلم کھلا آپ کی حمایت کرتے رہے، حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ آپ کی نبوت پر ایمان نہیں لائے تھے۔ قریش کے دوسرے خاندان خود بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان خونی رشتہ داروں کی حمایت کو عرب کی اخلاقی روایات کے عین مطابق سمجھتے تھے، اسی وجہ سے انہوں نے کبھی بنی ہاشم اور بنی المطلب کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ تم ایک دوسرا دین پیش کرنے والے شخص کی حمایت کر کے اپنے دین آبائی سے منحرف ہوگئے ہو۔ وہ اس بات کو جانتے اور مانتے تھے کہ اپنے خاندان کے ایک فرد کو وہ کسی حالت میں اس کے دشمنوں کے حوالے نہیں کرسکتے اور ان کا اپنے عزیز کی پشتیبانی کرنا قریش اور اہل عرب، سب کے نزدیک بالکل ایک فطری امر تھا۔ اس اخلاقی اصول کو، جسے زمانۂ جاہلیت میں بھی عرب کے لوگ واجب الاحترام سمجھتے تھے، صرف ایک شخص نے اسلام دشمنی میں توڑ ڈالا، اور وہ تھا ابو لہب بن عبد المطلب۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چچا تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے والد ماجد اور یہ ایک ہی باپ کے بیٹے تھے۔ عرب میں چچا کو باپ کی جگہ سمجھا جاتا تھا، خصوصاً جبکہ بھتیجے کا باپ وفات پا چکا ہو تو عربی معاشرے میں چچا سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ بھتیجے کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھے گا۔ لیکن اس شخص نے اسلام کی دشمنی اور کفر کی محبت میں ان تمام عربی روایات کو پامال کردیا۔ ابن عباس (رض) سے متعدد سندوں کے ساتھ یہ روایت محدثین نے نقل کی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت عام پیش کرنے کا حکم دیا گیا اور قرآن مجید میں یہ ہدایت نازل ہوئی کہ آپ اپنے قریب ترین عزیزوں کو سب سے پہلے خدا کے عذاب سے ڈرائیں تو آپ نے صبح سویرے کوہ صفا پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارا " یا صباحاہ " (ہائے صبح کی آفت) ۔ عرب میں یہ صدا وہ شخص لگاتا تھا جو صبح کے جھٹ پٹے میں کسی دشمن کو اپنے قبیلے پر حملہ کرنے کے لیے آتے دیکھ کرلیتا تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ آواز سن کر لوگوں نے دریافت کیا کہ یہ کون پکار رہا ہے۔ بتایا گیا کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز ہے۔ اس پر قریش کے تمام خاندان کے لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے۔ جو خود آسکتا تھا وہ خود آیا، اور جو نہ آسکتا تھا اس نے اپنی طرف سے کسی کو بھیج دیا۔ جب سب جمع ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کے ایک ایک خاندان کا نام لے لے کر پکارا، اے بنی ہاشم، اے بنی عبد المطلب، اے بنی فہر، اے بنی فلاں، اے بنی فلاں، اگر میں تمہیں یہ بتاؤں کہ پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے تو تم میری بات سچ مانوں گے ؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں، ہمیں کبھی تم سے جھوٹ سننے کا تجربہ نہیں ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا تو میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ آگے سخت عذاب آ رہا ہے۔ اس پر قبل اس کے کہ کوئی اور بولتا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اپنے چچا ابو لہب نے کہا " تبا لک الھٰذا جمعتنا ؟ " (ستیاناس جائے تیرا، کیا اس لیے تو نے ہمیں جمع کیا تھا ؟ " ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس نے پتھر اٹھایا تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کھینچ مارے۔ حوالہ : مسند احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، ابن جریر ابن زید کی روایت ہے کہ ابو لہب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک روز پوچھا اگر میں تمہارے دین کو مان لوں تو مجھے کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جو اور سب ایمان لانے والوں کو ملے گا۔ اس نے کہا میرے لیے کوئی فضیلت نہیں ہے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور آپ کیا چاہتے ہیں ؟ اس پر وہ بولا " تبا لھٰذا الدین تبا ان اکون وھٰؤلاء سوآءً " (ناس جائے اس دین کا جس میں میں اور یہ دوسرے لوگ برابر ہوں) حوالہ ابن جریر مکہ میں ابو لہب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قریب ترین ہمسایہ تھا۔ دونوں کے گھر ایک دیوار بیچ واقع تھے۔ اس کے علاوہ حکم بن عاص (مروان کا باپ) ، عقبہ بن ابی معیط عدی بن حمراء اور ابن الصداء الہذلی بھی آپ کے ہمسائے تھے۔ یہ لوگ گھر میں بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چین نہیں لینے دیتے تھے۔ آپ کبھی نماز پڑھ رہے ہوتے تو یہ اوپر سے بکری کا اوجھ آپ پر پھینک دیتے۔ کبھی صحن میں کھانا پک رہا ہوتا تو یہ ہنڈیا پر غلاظت پھینک دیتے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکل کر ان لوگوں سے فرماتے " اے بنی عبد مناف، یہ کیسی ہمسایگی ہے ؟ ابو لہب کی بیوی ام جمیل (ابو سفیان کی بہن) نے تو یہ مستقل وتیرہ ہی اختیار کر رکھا تھا کہ راتوں کو آپ کے گھر کے دروازے پر خار دار جھاڑیاں لا کر ڈال دیتی، تاکہ صبح سویرے جب آپ یا آپ کے بچے باہر نکلیں تو کوئی کانٹا پاؤں میں چبھ جائے حوالہ : بیہقی، ابن ابی حاتم، ابن جریر، ابن عساکر، ابن ہشام نبوت سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دو صاحبزادیاں ابو لہب کے بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے بیاہی ہوئی تھیں۔ نبوت کے بعد جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی تو اس شخص نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا کہ میرے لیے تم سے ملنا حرام ہے اگر تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹیوں کو طلاق نہ دے دو ۔ چناچہ دونوں نے طلاق دے دی اور عتیبہ تو جہالت میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ ایک روز حضور کے سامنے آ کر اس نے کہا میں " النجم اذا ھوٰی " اور " الذی دنا فتدلی " کا انکار کرتا ہوں، اور یہ کہہ کر اس نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف تھوکا جو آپ پر نہیں پڑا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خدایا، اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتے کو مسلط کر دے۔ اس کے بعد عتیبہ اپنے باپ کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہوگیا۔ دوران سفر میں ایک ایسی جگہ قافلے نے پڑاؤ کیا جہاں مقامی لوگوں نے بتایا کہ راتوں کو درندے آتے ہیں۔ ابو لہب نے اپنے ساتھی اہل قریش سے کہا کہ میرے بیٹے کی حفاظت کا کچھ انتظام کرو، کیونکہ مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بد دعا کا خوف ہے۔ اس قافلے والوں نے عتیبہ کے گرد ہر طرف اپنے اونٹ بٹھا دیے اور پڑ کر سو رہے۔ رات کو ایک شیر آیا اور اونٹوں کے حلقے میں سے گزر کے اس نے عتیبہ کو پھاڑ کھایا۔ حوالہ الاستیعاب لا بن عبد البر، الاصابہ لابن حجر، دلائل النبوۃ لا بی نعیم الاصفہانی، روض الانف للسہیلی۔ روایات میں یہ اختلاف ہے کہ بعض راوی طلاق کے معاملے کو اعلان نبوت کے بعد کا واقعہ بیان کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ تبت یدا ابی لھب کے نزول کے بعد پیش آیا تھا۔ اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ یہ ابو لہب کا لڑکا عتبہ تھا یا عتیبہ لیکن یہ بات ثابت ہے کہ فتح مکہ کے بعد عتبہ نے اسلام قبول کر کے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک پر بیعت کی۔ اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ یہ لڑکا عتبیبہ تھا۔ اس کے خبث نفس کا یہ حال تھا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے حضرت قاسم کے بعد دوسرے صاحبزادے حضرت عبد اللہ کا بھی انتقال ہوگیا تو یہ اپنے بھتیجے کے غم میں شریک ہونے کے بجائے خوشی خوشی دوڑا ہوا قریش کے سرداروں کے پاس پہنچا اور ان کو خبر دی کہ لو آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بےنام و نشان ہوگئے۔ (ملاحظہ کیجیے : سورة کوثر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہاں جہاں بھی اسلام کی دعوت دینے کے لیے تشریف لے جاتے، یہ آپ کے پیچھے پیچھے جاتا اور لوگوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات سننے سے روکتا۔ ربیعہ بن عباد الدیلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نو عمر تھا جب اپنے باپ کے ساتھ ذوالمجاز کے بازار میں گیا۔ وہاں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ کہہ رہے تھے " لوگو، کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، فلاح پاؤ گے " اور آپ کے پیچھے پیچھے ایک شخص کہتا جا رہا تھا کہ " یہ جھوٹا ہے، دین آبائی سے پھر گیا ہے "۔ میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے حوالہ مسند احمد، بیہقی۔ دوسری روایت انہی حضرت ربیعہ سے ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا آپ ایک ایک قبیلے کے پڑاؤ پر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں " اے بنی فلاں، میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ تم میری تصدیق کرو اور میرا ساتھ دو تاکہ میں وہ کام پورا کروں جس کے لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔ " آپ کے پیچھے پیچھے ایک اور شخص آتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ " اے بنی فلاں، یہ تم کو لات و عزیٰ سے پھیر کر اس بدعت اور گمراہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے جسے یہ لے کر آیا ہے۔ اس کی بات ہرگز نہ مانو اور اس کی پیروی نہ کرو " میں نے اپنے باپ سے پوچھا یہ کون ہے۔ انہوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے حوالہ مسند احمد، طبرانی۔ طارق بن عبد اللہ المحاربی (رض) کی روایت بھی اس سے ملتی جلتی ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے ذو المجاز کے بازار میں دیکھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں سے کہتے جاتے ہیں کہ " لوگو، لا الٰہ الا اللہ کہو، فلاح پاؤ گے " اور پیچھے ایک شخص ہے جو آپ کو پتھر مار رہا ہے۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایڑیاں خون سے تر ہوگئی ہیں اور وہ کہتا جاتا ہے کہ " یہ جھوٹا ہے، اس کی بات نہ مانو " میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے حوالہ ترمذی۔ نبوت کے ساتویں سال جب قریش کے تمام خاندانوں نے بنی ہاشم اور بنی المطلب کا معاشرتی اور معاشی مقاطعہ کیا اور یہ دونوں خاندان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حمایت پر ثابت قدم رہتے ہوئے شعب ابی طالب میں محصور ہوگئے تو تنہا یہی ابو لہب تھا جس نے اپنے خاندان کا ساتھ دینے کے بجائے کفار قریش کا ساتھ دیا۔ یہ مقاطعہ تین سال تک جاری رہا اور اس دوران میں بنی ہاشم اور بنی المطلب پر فاقوں کی نوبت آگئی۔ مگر ابو لہب کا حال یہ تھا کہ جب مکہ میں کوئی تجارتی قافلہ آتا اور شعب ابی طالب کے محصورین میں سے کوئی خوراک کا سامان خریدنے کے لیے اس کے پاس جاتا تو یہ تاجروں سے پکار کر کہتا کہ ان سے اتنی قیمت مانگوں کہ یہ خرید نہ سکیں، تمہیں جو خسارہ بھی ہوگا اسے میں پورا کروں گا۔ چناچہ وہ بےتحاشا قیمت طلب کرتے اور خریدار بیچارہ اپنے بھوک سے تڑپتے ہوئے بال بچوں کے پاس خالی ہاتھ پلٹ جاتا۔ پھر ابو لہب انہی تاجروں سے وہی چیزیں بازار کے بھاؤ خرید لیتا حوالہ ابن سعد، ابن ہشام۔ یہ اس شخص کی حرکات تھیں جن کی بنا پر اس سورت میں نام لے کر اس کی مذمت کی گئی ہے۔ خاص طور پر اس کی ضرورت اس لیے تھی کہ مکہ سے باہر کے اہل عرب جو حج کے لیے آتے، یا مختلف مقامات پر لگنے والے بازاروں میں جمع ہوتے، ان کے سامنے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنا چچا آپ کے پیچھے لگ کر آپ کی مخالفت کرتا، تو وہ عرب کی معروف روایات کے لحاظ سے یہ بات خلاف توقع سمجھتے تھے کہ کوئی چچا بلا وجہ دوسروں کے سامنے خود اپنے بھتیجے کو برا بھلا کہے اور اسے پتھر مارے اور اس پر الزام تراشیاں کرے۔ اسی وجہ سے وہ ابو لہب کی بات سے متاثر ہو کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں شک میں پڑجاتے مگر جب یہ سورت نازل ہوئی اور ابو لہب نے غصے میں بپھر کر اول فول بکنا شروع کردیا تو لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت میں اس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ اپنے بھتیجے کی دشمنی میں دیوانہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ نام لے کر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا کی مذمت کی گئی تو لوگوں کو یہ توقع ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دین کے معاملہ میں کسی کا لحاظ کر کے کوئی مداہنت برت سکتے ہیں۔ جب علی الاعلان رسول کے اپنے چچا کی خبر لے ڈالی گئی تو لوگ سمجھ گئے کہ یہاں کسی لاگ لپیٹ کی گنجائش نہیں ہے۔ غیر اپنا ہوسکتا ہے اگر ایمان لے آئے، اور اپنا غیر ہوجاتا ہے اگر کفر کرے۔ اس معاملے میں فلاں ابن فلاں کوئی چیز نہیں ہے۔

Ayah 111:1

تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader

ٹوٹ گئے ابو لہب کے ہاتھ اور نامراد ہوگیا وہ۔ 1

سورة اللھب 1 اس شخص کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا، اور اسے ابو لہب اس لیے کہا جاتا تھا کہ اس کا رنگ بہت چمکتا ہوا سرخ وسفید تھا۔ لہب آگ کے شعلے کو کہتے ہیں اور ابو لہب کے معنی ہیں شعلہ۔ یہاں اس کا ذکر اس کے نام کے بجائے اس کی کنیت سے کرنے کے کئی وجوہ ہیں۔ ایک یہ کہ وہ زیادہ تر اپنے نام سے نہیں بلکہ اپنی کنیت ہی سے معروف تھا۔ دوسرے یہ کہ اس کا نام عبدالعزیٰ (بندہ عزی) ایک مشرکانہ نام تھا اور قرآن میں یہ پسند نہیں کیا گیا کہ اسے اس نام سے یاد کیا جائے۔ تیسرے یہ کہ اس کا جو انجام اس سورة میں بیان کیا گیا ہے اس کے ساتھ اس کی یہ کنیت ہی زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ تَبَّتْ يَدَآ اَبِيْ لَهَبٍ کے معنی بعض مفسرین نے " ٹوٹ جائیں ابولہب کے ہاتھ " بیان کیے ہیں اور وّتَبَّ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ " وہ ہلاک ہوجائے " یا " وہ ہلاک ہوگیا "۔ لیکن درحقیقت یہ کوئی کوسنا نہیں ہے جو اس کو دیا گیا ہو، بلکہ ایک پیشینگوئی ہے جس میں آئندہ پیش آنے والی بات کو ماضی کے صیغوں میں بیان کیا گیا ہے، گویا اس کا ہونا ایسا یقینی ہے جیسے وہ ہوچکی۔ اور فی الواقع آخر کار وہی کچھ ہوا جو اس سورة میں چند سال پہلے بیان کیا جاچکا تھا۔ ہاتھ ٹوٹنے سے مراد ظاہر ہے کہ جسمانی ہاتھ ٹوٹنا نہیں ہے، بلکہ کسی شخص کا اپنے اس مقصد میں قطعی ناکام ہوجانا ہے جس کے لیے اس نے اپنا پورا زور لگا دیا ہو۔ اور ابو لہب نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو زک دینے کے لیے واقعی اپنا پورا زور لگا دیا تھا۔ لیکن اس سورة کے نزول پر سات آٹھ سال ہی گزرے تھے کہ جنگ بدر میں قریش کے اکثر و بیشتر وہ بڑے بڑے سردار مارے گئے جو اسلام کی دشمنی میں ابو لہب کے ساتھی تھے۔ مکہ میں جب اس شکست کی خبر پہنچی تو اس کو اتنا رنج ہوا کہ وہ سات دن سے زیادہ زندہ نہ رہ سکا۔ پھر اس کی موت بھی نہایت عبرتناک تھی۔ اسے عدسہ (Malignant Pustule) کی بیماری ہوگئی جس کی وجہ سے اس کے گھر والوں نے اسے چھوڑ دیا، کیونکہ انہیں چھوت لگنے کا ڈر تھا۔ مرنے کے بعد بھی تین روز تک کوئی اس کے پاس نہ آیا یہاں تک کہ اس کی لاش سڑ گئی اور اس کی بو پھیلنے لگی۔ آخر کار جب لوگوں نے اس کے بیٹوں کو طعنے دینے شروع کیے تو ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے کچھ حبشیوں کو اجرت دے کر اس کی لاش اٹھوائی اور انہی مزدوروں نے اس کو دفن کیا۔ اور دوسری روایت یہ ہے کہ انہوں نے ایک گڑھا کھدوایا اور لکڑیوں سے اس کی لاش کو دھکیل کر اس میں پھینکا اور اوپر سے مٹی پتھر ڈال کر اسے ڈھانک دیا۔ اس کی مزید اور مکمل شکست اس طرح ہوئی کہ جس دین کی راہ روکنے کے لیے اس نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا، اسی دین کو اس کی اولاد نے قبول کیا۔ سب سے پہلے اس کی بیٹی درہ ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ پہنچیں اور اسلام لائیں، پھر فتح مکہ پر اس کے دونوں بیٹے عتبہ اور معتب حضرت عباس کی وساطت سے حضور کے سامنے پیش ہوئے اور ایمان لاکر انہوں نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی۔
Ayahs 111:2–3

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader

اُس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اُس کے کسی کام نہ آیا۔ 2

سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader

ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا

سورة اللھب 2 ابو لہب سخت بخیل اور زرپرست آدمی تھا۔ ابن اثیر کا بیان ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ اس پر یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ اس نے کعبہ کے خزانے میں سے سونے کے دو ہرن چرا لیے ہیں۔ اگرچہ بعد میں وہ ہرن ایک اور شخص کے پاس سے برآمد ہوئے، لیکن بجائے خود یہ بات کہ اس پر یہ الزام لگایا گیا، یہ ظاہر کرتی ہے کہ مکہ کے لوگ اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے۔ اس کی مالداری کے متعلق قاضی رشید بن زبیر اپنی کتاب الذخائر والحف میں لکھتے ہیں کہ وہ قریش کے ان چار آدمیوں میں سے ایک تھا جو ایک قنطار سونے کے مالک تھے (قنطار دو سو اوقیہ کا اور ایک اوقیہ سوا تین تولہ کا ہوتا ہے) اس کی زرپرستی کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر جبکہ اس کے مذہب کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا تھا، قریش کے تمام سردار لڑنے کے لیے گئے، مگر اس نے عاص بن ہشام کو اپنی طرف سے لڑنے کے لیے بھیج دیا اور کہا کہ یہ اس چار ہزار درہم قرض کا بدل ہے جو میرا تم پر آتا ہے۔ اس طرح اس نے اپنا قرض وصول کرنے کی بھی ایک ترکیب نکال لی، کیونکہ عاص دیوالیہ ہوچکا تھا اور اس سے رقم ملنے کی کوئی امید نہ تھی۔ مَا كَسَبَ کو بعض مفسرین نے کمائی کے معنی میں لیا ہے، یعنی اپنے مال سے جو منافع اس نے حاصل کیے وہ اس کا کسب تھے۔ اور بعض دوسرے مفسرین نے اس سے مراد اولاد لی ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ آدمی کا بیٹا بھی اس کا کسب ہے (ابو داؤد۔ ابن ابی حاتم) یہ دونوں معنی ابو لہب کے انجام سے مناسبت رکھتے ہیں۔ کیونکہ جب وہ عدسہ کے مرض میں مبتلا ہوا تو اس کا مال بھی اس کے کسی کام نہ آیا اور اس کی اولاد نے بھی اسے بےکسی کی موت مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ اس کا جنازہ تک عزت کے ساتھ اٹھانے کی اس اولاد کو توفیق نہ ہوئی۔ اس طرح چند ہی سال کے اندر لوگوں نے اس پیشینگوئی کو پورا ہوتے دیکھ لیا جو ابولہب کے متعلق اس سورة میں کی گئی تھی۔
Ayah 111:4

وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader

اور (اُس کے ساتھ) اُس کی جورُو بھی، 3 لگائی بُجھائی کرنے والی، 4

سورة اللھب 3 اس عورت کا نام ارویٰ تھا اور ام جمیل اس کی کنیت تھی۔ یہ ابو سفیان کی بہن تھی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عداوت میں اپنے شوہر ابولہب سے کسی طرح کم نہ تھی۔ حضرت ابوبکر کی صاحبزادی حضرت اسماء کا بیان ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی اور ام جمیل نے اس کو سنا تو وہ بپھری ہوئی رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلی۔ اس کے ہاتھ میں مٹھی بھر پتھر تھے اور وہ حضور کی ہجو میں اپنے ہی کچھ اشعار پڑھتی جاتی تھی۔ حرم میں پہنچی تو وہاں حضرت ابوبکر کے ساتھ حضور تشریف فرما تھے۔ حضرت ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ، یہ آرہی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو دیکھ کر یہ کوئی بیہودگی کرے گی۔ حضور نے فرمایا یہ مجھ کو نہیں دیکھ سکے گی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ کے موجود ہونے کے باوجود وہ آپ کو نہیں دیکھ سکی اور اس نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ میں نے سنا ہے تمہارے صاحب نے میری ہجو کی ہے۔ حضرت ابوبکر نے کہا، اس گھر کے رب کی قسم انہوں نے تو تمہاری کوئی ہجو نہیں کی۔ اس پر وہ واپس چلی گئی (ابن ابی حاتم۔ سیرۃ ابن ہشام۔ بزار نے حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی اسی سے ملتا جلتا واقعہ نقل کیا ہے) حضرت ابوبکر کے اس جواب کا مطلب یہ تھا کہ ہجو تو اللہ تعالیٰ نے کی ہے، رسول اللہ ﷺ نے نہیں کی۔ سورة اللھب 4 اصل الفاظ ہیں حَمَّالَةَ الْحَطَبِ جن کا لفظی ترجمہ ہے " لکڑیاں ڈھونے والی " مفسرین نے اس کے متعدد معنی بیان کیے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس، ابن زید، ضحاک اور بعی بن انس ؓ کہتے ہیں کہ وہ راتوں کو خاردار درختوں کی ٹہنیاں لاکر رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر ڈال دیتی تھی، اس لیے اس کو لکڑیاں ڈھونے والی کہا گیا ہے۔ قتادہ، عکرمہ، حسن بصری، مجاہد اور سفیان ثوری ؓ کہتے ہیں کہ وہ لوگوں میں فساد ڈلوانے کے لیے چغلیاں کھاتی پھرتی تھی، اس لیے اسے عربی محاورے کے مطابق لکڑیاں ڈھونے والی کہا گیا، کیونکہ عرب ایسے شخص کو جو ادھر کی بات ادھر لگا کر فساد کی آگ بھڑکانے کی کوشش کرتا ہو، لکڑیاں ڈھونے والا کہتے ہیں۔ اس محاورے کے لحاظ سے حَمَّالَةَ الْحَطَبِ معنی ٹھیک ٹھیک وہی ہیں جو اردو میں " بی جمالو " کے معنی ہیں۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جو شخص گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لاد رہا ہو اس کے متعلق عربی زبان میں بطور محاورہ کہا جاتا ہے فلان یحتطب علی ظھرہ۔ " فلاں شخص اپنی پیٹھ پر لکڑیاں لاد رہا ہے "۔ پس حَمَّالَةَ الْحَطَبِ کے معنی ہیں گناہوں کا بوجھ ڈھونے والی۔ ایک اور مطلب مفسرین نے اس کا یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ آخرت میں اس کا حال ہوگا، یعنی وہ لکڑیاں لا لا کر اس آگ میں ڈالے گی جس میں ابو لہب جل رہا ہوگا۔
Ayah 111:5

فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader

اُس کی گردن میں مونجھ کی رسّی ہو گی۔ 5

سورة اللھب 5 اس کی گردن کے لیے جید کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو عربی زبان میں ایسی گردن کے لیے بولا جاتا ہے جس میں زیور پہنا گیا ہو۔ سعید بن المسیب، حسن بصری اور قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ وہ ایک بہت قیمتی ہار گردن میں پہنتی تھی، اور کہا کرتی تھی کہ لات اور عزی کی قسم میں اپنا یہ ہار بیچ کر اس کی قمت محمد ﷺ کی عداوت میں خرچ کردوں گی۔ اسی بنا پر جید کا لفظ یہاں بطور طنز استعمال کیا گیا ہے کہ اس مزین گلے میں جس کے ہار پر وہ فخر کرتی ہے، دوزخ میں رسی پڑی ہوگی۔ یہ اسی طرح کا طنزیہ انداز کلام ہے جیسے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر فرمایا گیا ہے فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ " ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری دے دو۔ جو رسی اس کی گردن میں ڈالی جائے گی اس کے لیے حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ کے الفاظ استعمال کیے ہیں، یعنی وہ رسی مسد کی قسم سے ہوگی۔ اس کے مختلف معنی اہل لغت اور مفسرین نے بیان کیے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ خوب مضبوط بٹی ہوئی رسی کو مسد کہتے ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ کھجور کی چھال سے بنی ہوئی رسی کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں مونجھ کی رسی یا اونٹ کی کھال یا اس کے صوف سے بنی ہوئی رسی۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد لوہے کے تاروں سے بٹی ہوئی رسی ہے۔