113. Surah Al-Falaq

الفلقThe Dawn · 5 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

قرآن مجید کی آخری دو سورتوں سورة الناس اور سورة الفلق کو مشترکہ طور پر مُعَوِّذَتَیُن کہا جاتا ہے۔ اگرچہ قرآن مجید کی یہ آخری دوسورتیں بجائے خود الگ الگ ہیں، اور مصحف میں الگ ناموں ہی سے لکھی ہوئی ہیں، لیکن ان کے درمیان باہم اتنا گہرا تعلق ہے، اور ان کے مضامین ایک دوسرے سے اتنی قریبی مناسبت رکھتے ہیں کہ ان کا ایک مشترک نام " مُعَوِّذَتَیُن " (پناہ مانگنے والی دو سورتیں) رکھا گیا ہے۔ امام بیہقی نے دلائل نبوت میں لکھا ہے کہ یہ نازل بھی ایک ساتھ ہی ہوئی ہیں، اسی وجہ سے دونوں کا مجموعی نام معوذتین ہے۔ ہم یہاں دونوں پر ایک ہی مضمون لکھ رہے ہیں کیونکہ ان سے متعلقہ مسائل و مباحث بالکل یکساں ہیں۔

زمانہ نزول

حضرت حسن بصری، عکرمہ، عطاء اور جابر بن زید کہتے ہیں کہ یہ سورتیں مکی ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے بھی ایک روایت یہی ہے۔ مگر ان سے دوسری روایت یہ ہے کہ یہ مدنی ہیں اور یہی قول حضرت عبد اللہ بن زبیر (رض) اور قتادہ کا بھی ہے۔ اس دوسرے قول کو جو روایات تقویت پہنچاتی ہیں ان میں سے ایک مسلم، ترمذی، نسائی اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عقبہ بن عامر (رض) کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک روز مجھ سے فرمایا : ” الم تر اٰیاتٍ اُنزلَت اللیلۃ، لم یُرَ مثلھن، اَعُوُذُ بَرَبّ الُفَلَق، اَعُوذ بِرَبِ النَّاس ۔ تمہیں کچھ پتہ ہے کہ آج رات مجھ پر کیسی آیات نازل ہوئی ہیں ؟ یہ بےمثل آیات ہیں۔ اعوذ بربّ الفلق اور اعوذ بربّ الناس “ یہ حدیث اس بنا پر ان سورتوں کے مدنی ہونی کی دلیل ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر (رض) ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں ایمان لائے تھے، جیسا کہ ابو داؤد اور نسائی نے خود ان کے اپنے بیان سے نقل کیا ہے۔ دوسری روایات جو اس قول کی تقویت کی موجب بنی ہیں وہ ابن سعد، مُحیّ السُّنّہ بَغَوِی، امام نَسَفِی، امام بَہَیقَی، حافظ ابن حَجَر، حافظ بدر الدین عینی، عَبُدبن حمیّد وغیر ہم کی نقل کردہ یہ روایات ہیں کہ جب مدینے میں یہود نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا تھا اور اس کے اثر سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے تھے اس وقت یہ سورتیں نازل ہوئی تھیں۔ ابن سعد نے واقدی کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ یہ سنہ 7 ھ کا واقعہ ہے۔ اسی بنا پر سفیان بن عُیَینَہ نے بھی ان سورتوں کو مدنی کہا ہے۔ لیکن جیسا کہ سورة الاخلاص کے مضمون میں بیان ہوچکا ہے کہ کسی سورة یا آیت کے متعلق جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ فلاں موقع پر نازل ہوئی تھی تو اس کا مطلب لازما یہی نہیں ہوتا کہ وہ پہلی مرتبہ اسی موقع پر نازل ہوئی تھی، بلکہ بعض اوقات ایسا ہوا ہے کہ ایک سورت یا آیت پہلے نازل ہوچکی تھی، اور پھر کوئی خاص واقعہ یا صورت حال پیش آنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی کی طرف دوبارہ بلکہ کبھی کبھی بار بار حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو توجہ دلائی جاتی تھی۔ ہمارے نزدیک ایسا ہی معاملہ معوذتین کا بھی ہے۔ ان کا مضمون صاف بتارہا ہے کہ یہ ابتداءً مکہ میں اس وقت نازل ہوئی ہوں گی جب وہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت خوب زور پکڑ چکی تھی۔ بعد میں جب مدینہ طیبہ میں منافقین، یہود، اور مشرکین کی مخالفت کے طوفان اٹھے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پھر انہی دونوں سورتوں کے پڑھنے کی تلقین کی گئی جیسا کہ حضرت عقبہ بن عامر (رض) کی مندرجہ بالا روایت میں ذکر آیا ہے۔ اس کے بعد جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا گیا اور آپ کی علالت مزاج نے شدت اختیار کی تو اللہ کے حکم سے جبریل (علیہ السلام) نے آکر پھر یہی سورتیں پڑھنے کی آپ کو ہدایت کی۔ اس لیے ہمارے نزدیک ان مفسرین کا بیان ہی زیادہ معتبر ہے جو ان دونوں سورتوں کو مکی قرار دیتے ہیں۔ جادو کے معاملہ کے ساتھ ان کو مخصوص سمجھنے میں تو یہ امر بھی مانع ہے کہ اس کے ساتھ صرف سورة فلق کی صرف ایک آیت وَمِنُ شَرِّ النّفّٰثٰتِ فِی العُقَدِ ہی تعلق رکھتی ہے، سورة فلق کی باقی آیات اور پوری سورة الناس کا اس معاملہ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔

موضوع اور مضمون

مکۂ معظمہ میں یہ دونوں سورتیں جن حالات میں نازل ہوئی تھیں وہ یہ تھے کہ اسلام کی دعوت شروع ہوتے ہی ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گویا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔ جوں جوں آپ کی دعوت پھیلتی گئی، کفار قریش کی مخالفت بھی شدید ہوتی چلی گئی۔ جب تک انہیں یہ امید رہی کہ شاید وہ کسی طرح کی سودے بازی کر کے، یا بہلا پھسلا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کام سے باز رکھ سکیں گے، اس وقت تک تو پھر بھی عناد کی شدت میں کچھ کمی رہی۔ لیکن جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس طرف سے بالکل مایوس کردیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ دین کے معاملہ میں کوئی مصالحت کرنے پر آمادہ ہوسکیں گے، اور سورة کافرون میں صاف صاف ان سے کہہ دیا گیا کہ جن کی بندگی تم کرتے ہو ان کی بندگی کرنے والا میں نہیں ہوں، اور جس کی بندگی میں کرتا ہوں اس کی بندگی کرنے والے تم نہیں ہو، اس لیے میر راستہ الگ ہے اور تمہارا راستہ الگ، تو کفار کی دشمنی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ خصوصیت کے ساتھ جن خاندانوں کے افراد (مردوں یا عورتوں، لڑکوں یا لڑکیوں) نے اسلام قبول کرلیا تھا ان کے دلوں میں تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف ہر وقت بھٹیاں سلگتی رہتی تھیں۔ گھر گھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کو سا جارہا تھا۔ خفیہ مشورے کیے جارہے تھے کہ کسی وقت رات کو چھپ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کردیا جائے تاکہ بنی ہاشم کو قاتل کا پتہ نہ چل سکے اور بدلہ نہ لے سکیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جادو ٹونے کیے جارہے تھے تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا تو وفات پاجائیں یا سخت بیمار پڑجائیں، یا دیوانے ہوجائیں۔ شیاطین جن و انس ہر طرف پھیل گئے تھے تاکہ عوام کے دلوں میں آپ کے خلاف اور آپ کے لائے ہوئے دین اور قرآن کے خلاف کوئی نہ کوئی وسوسہ ڈال دیں جس سے لوگ بدگمان ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دور بھاگنے لگیں۔ بہت سے لوگوں کے دلوں میں حسد کی آگ بھی جل رہی تھی، کیونکہ وہ اپنے سوا، یا اپنے قبیلے کے کسی آدمی کے سوا، دوسرے کسی شخص کا چراغ جلتے نہ دیکھ سکتے تھے۔ مثال کے طور پر، ابو جہل جس بنا پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت میں حد سے بڑھتا چلا جاتا تھا اس کی وجہ وہ خود یہ بیان کرتا ہے کہ {{ اقتباس| ہمارا اور بنی عبد مناف (یعنی رسول اللہ کے خاندان) کا باہم مقابلہ تھا۔ انہوں نے کھانے کھلائے تو ہم نے بھی کھلائے۔ انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی دیں۔ انہوں نے عطیے دیے تو ہم نے بھی دیے۔ یہاں تک کہ وہ اور ہم جب عزت و شرف میں برابر کی ٹکر ہوگئے تو اب وہ کہتے ہیں کہ ہم میں ایک نبی ہے جس پر آسمان سے وحی اترتی ہے۔ بھلا اس میدان میں ہم کیسے ان کا مقابلہ کرسکتے ہیں ؟ خدا کی قسم ہم ہرگز اس کو نہ مانیں گے اور نہ اس کی تصدیق کریں گے ان حالات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں پناہ مانگتا ہوں طلوع صبح کے رب کی، تمام مخلوقات کے شر سے، رات کے اندھیرے اور جادو گروں اور جادو گرنیوں کے شر سے، اور حاسدوں کے شر سے۔ اور ان سے کہہ دو کہ میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب، انسانوں کے بادشاہ اور انسانوں کے معبود کی ہر اس وسوسہ انداز کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے خواہ وہ شیاطین جن میں سے ہو یا شیاطین انس میں سے۔ یہ اسی طرح کی بات ہے جیسی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت فرمائی تھی جب فرعون نے بھرے دربار میں ان کے قتل کا ارادہ ظاہر کیا تھا اِنِّی عُذُتُ بِرَبّیِ وَرَبِّکُم مِن کُلِّ مُتکبّرٍ لَّا یؤمِنُ بِیَوم الحِسَابِ میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے ہر اس متکبر کے مقابلے میں جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔ القرآن سورة المؤمن :27 وَاِنِّی عُذتُ بَربِّی وَرَبکم اَن تَرُجُمُونِ اور میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے اس بات سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو۔ القرآن سورة الدخان :20 دونوں مواقع پر اللہ کے ان جلیل القدر پیغمبروں کا مقابلہ بڑی بےسر وسامانی کی حالت میں بڑے سرو سامان اور وسائل و ذرائع اور قوت و شوکت رکھنے والوں سے تھا۔ دونوں مواقع پر وہ طاقتور دشمنوں کے آگے اپنی دعوت حق پر ڈٹ گئے درآنحالیکہ ان کے پاس کوئی مادی طاقت ایسی نہ تھی جس کے بل پر وہ ان کا مقابلہ کرسکتے۔ اور دونوں مواقع پر انہوں نے دشمنوں کی دھمکیوں اور خطرناک تدبیروں اور معاندانہ چالوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کردیا کہ تمہارے مقابلے میں ہم نے رب کائنات کی پناہ لے لی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اولوالعزمی اور ثابق قدمی وہی شخص دکھا سکتا ہے جس کو یہ یقین ہو کہ اس رب کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے، اس کے مقابلے میں دنیا کی ساری طاقتیں ہیچ ہیں، اور اس کی پناہ جسے حاصل ہو اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہی یہ کہہ سکتا ہے کہ میں کلمہ حق کے اعلان سے ہرگز نہیں ہٹوں گا، تم جو چاہو کرلو، مجھے اس کی کوئی پروا نہیں، کیونکہ میں تمہارے اور اپنے اور ساری کائنات کے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔

معّوذتین کی قُرآنیت

ان دو سورتوں کے موضوع اور مضمون کو سمجھنے کے لئے اتنی بحث ہی کافی ہے جو اوپر کی جا چکی ہے۔ لیکن چونکہ حدیث و تفسیر کی کتابوں میں ان کے متعلق تین ایسے مباحث آگئے ہیں جو دلوں میں شبہات پیدا کرسکتے ہیں، اس لیے ہم ان کو بھی صاف کردینا ضروری سمجھتے ہیں۔ ان میں سے اولین قابل توجہ مسئلہ یہ ہے کہ آیا ان دونوں سورتوں کا قرآنی سورتیں ہونا قطعی طور پر ثابت ہے، یا اس میں کسی شک کی گنجائش ہے ؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) جیسے عظیم المرتبہ صحابی سے متعدد روایتوں میں یہ بات منقول ہوئی ہے کہ وہ ان دونوں سورتوں کو قرآن کی سورتیں نہیں مانتے تھے اور اپنے مصحف سے انہوں نے ان کو ساقط کردیا تھا۔ امام احمد، بزّار، طَبرَانی، ابن مردویہ، ابو یعلی، عبد اللہ بن احمد بن حنبل، حُمَیدی، ابو نعیم، ابن حبان، وغیرہ محدثین نے مختلف سندوں سے اور اکثرو بیشتر صحیح سندوں سے یہ بات حضرت ابن مسعود (رض) سے نقل کی ہے۔ ان روایات میں نہ صرف یہ کہا گیا ہے کہ وہ ان سورتوں کو مصحف سے ساقط کردیتے تھے، بلکہ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ کہتے تھے " قرآن کے ساتھ وہ چیزیں نہ ملاؤ جو قرآن کا جز نہیں ہیں۔ یہ دونوں قرآن میں شامل نہیں ہیں۔ یہ تو ایک حکم تھا جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا گیا تھا کہ آپ ان الفاظ میں خدا کی پناہ مانگیں۔ " بعض روایات میں اس پر یہ اضافہ بھی ہے کہ وہ ان سورتوں کو نماز میں نہیں پڑھتے تھے۔ ان روایات کی بنا پر مخالفین اسلام کو قرآن کے بارے میں یہ شبہات ابھارنے کا موقع مل گیا کہ معاذ اللہ یہ کتاب تحریف سے محفوظ نہیں ہے بلکہ اس میں جب دو سورتیں ابن مسعود (رض) جیسے صحابی کے بیان کے مطابق الحاقی ہیں تو نہ معلوم اور کیا کیا حذف و اضافے اس کے اندر ہوئے ہوں گے۔ اس طعن سے پیچھا چھڑانے کے لیے قاضی ابوبکر الباقِلانی اور قاضی عیاض وغیرہ نے یہ تاویل کی کہ ابن مسعود (رض) مُعوذتین کی قرآنیت کے منکر نہ تھے بلکہ صرف ان کو مصحف میں درج کرنے سے انکار کرتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک مصحف میں صرف وہی چیز درج کی جانی چاہیے تھی جس کے ثبت کرنے کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دی ہو، اور ابن مسعود (رض) تک یہ اطلاع نہ پہنچی تھی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی اجازت دی ہے۔ لیکن یہ تاویل درست نہیں ہے، کیونکہ صحیح سندوں کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ ابن مسعود نے ان کے قرآنی سورتیں ہونے کا انکار کیا ہے۔ کچھ دوسرے بزرگوں، مثلاً امام نووی، امام ابن حَزُم اور امام فخر الدین رازی نے سرے سے اس بات ہی کو جھوٹ اور باطل قرار دیا ہے کہ ابن مسعود (رض) نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے۔ مگر مستند تاریخی حقائق کو بلا سند رد کردینا کوئی علمی طریقہ نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ابن مسعود کی ان روایات سے قرآن پر جو طعن وارد ہوتا ہے اس کا صحیح رد کیا ہے ؟ اس سوال کے کئی جواب ہیں جن کو ہم سلسلہ وار درج کرتے ہیں : (1) حافظ بزار نے اپنی مسند میں ابن مسعود کی یہ روایات نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اپنی اس رائے میں وہ بالکل منفرد ہیں۔ صحابہ میں سی کسی نے بھی ان کے اس قول کی تائید نہیں کی ہے۔ (2) تمام صحابہ کے اتفاق سے خلیفہ ثالث سیدنا عثمان (رض) نے قرآن مجید کے جو نسخے مرتب کروائے تھے اور خلافت اسلامیہ کی طرف سے جن کو دنیائے اسلام کے مراکز میں سرکاری طور پر بھیجا تھا ان میں یہ دونوں سورتیں درج تھیں۔ (3) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک سے آج تک تمام دنیائے اسلام کا جس مصحف پر اجماع ہے اس میں یہ دونوں سورتیں درج ہیں۔ تنہا عبد اللہ بن مسعود کی رائے، ان کی جلالت قدر کے باوجود، اس عظیم اجماع کے مقابلے میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔ (4) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہایت صحیح و معتبر احادیث کے مطابق یہ ثابت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سورتوں کو نماز میں خود پڑھا ہے، دوسروں کو پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے اور قرآن کی سورتوں کی حیثیت ہی سے لوگوں کو ان کی تعلیم دی ہے۔ مثال کے طور پر ذیل کی احادیث ملاحظہ ہوں : مسلم، احمد، ترمِذی، اور نسائی کے حوالہ سے حضرت عُقُبہ (رض) بن عامر کی یہ روایت ہم اوپر نقل کرچکے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة فَلَق اور سورة ناس کے متعلق ان سے یہ فرمایا کہ آج رات یہ آیات مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔ نسائی کی ایک روایت عقبہ بن عامر سے یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دونوں سورتیں صبح کی نماز میں پڑھیں۔ ابن حِبّان نے انہی حضرت عُقُبہ سے روایت نقل کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا " اگر ممکن ہو تو تمہاری نمازوں سے ان دونوں سورتوں کی قراءت چھوٹنے نہ پائے۔ " سعید بن منصور نے حضرت معاذ بن جبَل سے روایت نقل کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز میں یہ دونوں سورتیں پڑھیں۔ امام احمد نے اپنی مسند میں صحیح سند کے ساتھ ایک اور صحابی کی یہ روایت لائے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا جب تم نماز پڑھو تو اس میں یہ دونوں سورتیں پڑھا کرو۔ مسند احمد، ابو داؤد اور نسائی میں عُقُبہ بن عامر کی یہ روایت آئی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا " کیا میں دو ایسی سورتیں تمہیں نہ سکھاؤں جو ان بہترین سورتوں میں سے ہیں جنہیں لوگ پڑھتے ہیں ؟ " انہوں نے عرض کیا ضرور یا رسول اللہ۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یہی معوّذتین پڑھائیں۔ پھر نماز کھڑی ہوئی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی دو سورتیں اس میں بھی پڑھیں۔ اور نماز کے بعد پلٹ کر جب آپ ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا " اے عُقَب، کیسا پایا تم نے ؟ " اور اس کے بعد ان کو ہدایت فرمائی کہ جب تم سونے لگو اور جب سو کر اٹھو تو ان سورتوں کو پڑھا کرو۔ مسند احمد، ابو داؤد، تِرُمِذِی اور نسائی میں عُقُبہ بن عامر کی ایک روایت یہ ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ہر نماز کے بعد مُعَوّذات (یعنی قل ہو اللہ احد اور معوّذتین) پڑھنے کی تلقین کی۔ نسائی، ابن مَرُدُوُیہ اور حاکم نے عُقُبہ بن عامر کی یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری پر چلے جارہے تھے اور آپ کے قدم مبارک پر ہاتھ رکھے ہوئے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ میں نے عرض کیا مجھے سورة ہود یا سورة یوسف سکھا دیجئے۔ فرمایا " اللہ کے نزدیک بندے کے لیے قل اَعُوذُ بِرَبِّ الفلَقِ سے زیادہ نافع کوئی چیز نہیں ہے۔ " عبد اللہ بن عابس الجُہنِی کی روایت نسائی، بَہیقِی، بَغَوی اور ابن سعد نے نقل کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا " ابن عابِس، کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ پناہ مانگنے والوں نے جتنی چیزوں کے ذریعہ سے اللہ کی پناہ مانگی ہے ان میں سب سے افضل کونسی چیزیں ہیں ؟ " میں نے عرض کیا ضرور یا رسول اللہ۔ فرمایا " قُل اَعُوذ بِرَبِّ الفَلَقِ اور قل اَعُوذ بِرَبِّ النَّاسِ یہ دونوں سورتیں۔ " ابن مردویہ نے حضرت ام سلمہ کی روایت نقل کی ہے کہ اللہ کو جو سورتیں سب سے زیادہ پسند ہیں وہ قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) کو یہ غلط فہمی آخر کیسے لاحق ہوئی کہ یہ دونوں قرآن مجید کی سورتیں نہیں ہیں ؟ اس کا جواب ہمیں دو روایتوں کو جمع کر کے دیکھنے سے ملتا ہے۔ ایک یہ روایت کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے تھے کہ یہ تو ایک حکم تھا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا گیا تھا کہ آپ اس طرح تعوُّذ کیا کریں۔ دوسری وہ روایت جو کئی مختلف سندوں سے امام بخاری نے صحیح البخاری میں، امام احمد نے اپنی مسند میں، ابو نُعَیم نے اپنی المستخرَج میں اور نسائی نے اپنی سُنَن میں زر بن حُبَیش کے حوالے سے تھوڑے تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ حضرت اُبَی بن کعب سے، جو علم قرآن کے لحاظ سے صحابہ کرام میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے، زر بن حُبَیش کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابی کے بھائی سے کہا کہ آپ کے بھائی عبد اللہ بن مسعود ایسا اور ایسا کہتے ہیں۔ آپ ان کے اس قول کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ " میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے اس کے بارے میں سوال کیا تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھ سے کہا گیا قل، تو میں نے بھی کہا قُل۔ اس لیے ہم بھی اسی طرح کہتے تھے جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتے تھے۔ " امام احمد کی روایت میں حضرت ابی کے الفاظ یہ ہیں : " میں شہادت دیتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بتایا کہ جبریل (علیہ السلام) نے آپ سے قل اعوذ برب الفلق کہا تھا اس لیے آپ نے بھی ایسا ہی کہا، اور انہوں نے قل اعوذ برب الناس کہا تھا اس لیے آپ نے بھی ایسا ہی کہا۔ لہٰذا ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ " ان دونوں روایتوں پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کو دونوں سورتوں میں لفظ قل (کہو) دیکھ کر یہ غلط فہمی ہوئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اعوذ برب الفلق اور اعوذ برب الناس کہنے کا حکم دیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ حضرت ابی بن کعب کے ذہن میں بھی اس کے متعلق سوال پیدا ہوا اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کو پوچھ لیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتایا کہ جبریل (علیہ السلام) نے چونکہ قل کہا تھا اس لیے میں بھی قل کہتا ہوں۔ اس بات کو یوں سمجھیے کہ اگر کسی کو حکم دینا مقصود ہو اور اس سے کہا جائے کہ " کہوں ‘ میں پناہ مانگتا ہوں، " تو وہ حکم کی تعمیل میں یہ نہیں کہے گا کہ " کہو ‘ میں پناہ مانگتا ہوں " بلکہ وہ " کہو " کا لفظ ساقط کر کے " میں پناہ مانگتا ہوں " اور یہ پیغام اسے اپنے تک رکھنے کے لیے نہیں بلکہ دوسروں تک پہنچانے کے لیے دیا جائے تو وہ لوگوں تک پیغام کے الفاظ کو جوں کا توں پہنچائے گا، اس میں سے کوئی چیز ساقط کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔ پس ان دونوں سورتوں کی ابتدا لفظ قل سے ہونا اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ یہ کلام وحی ہے جسے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہی الفاظ میں پہنچانے کے پابند تھے جن الفاظ میں یہ آپ کو ملا تھا۔ اس کی حیثیت محض ایک حکم کی نہ تھی جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا گیا ہو۔ قرآن مجید میں ان دو سورتوں کے علاوہ ٣٣٠ آیتیں ایسی ہیں جو لفظ قل (کہو) سے شروع ہوئی ہیں۔ ان سب میں قل کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ یہ کلام وحی ہے جسے انہی الفاظ میں پہنچانا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ فرض تھا جن الفاظ میں یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا گیا تھا۔ ورنہ ہر جگہ قل اگر ایک حکم ہوتا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس لفظ کو ساقط کر کے وہ بات کہتے جس کے کہنے کا آپ کو حکم دیا گیا تھا، اور اسے قرآن میں درج نہ کیا جاتا بلکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف اس حکم کی تعمیل میں وہ بات کہہ دینے پر اکتفا فرماتے جسے کہنے کا آپ کو حکم دیا گیا تھا۔ اس مقام پر اگر آدمی کچھ غور کرے تو اس کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آسکتی ہے کہ صحابہ کرام کو بےخطا سمجھنا اور ان کی کسی بات کے لیے غلط کا لفظ سنتے ہی توہین صحابہ کا شور مچا دینا کس قدر بےجا حرکت ہے۔ یہاں آپ دیکھ رہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود جیسے جلیل القدر صحابی سے قرآن کی دو سورتوں کے بارے میں کتنی بڑی چوک ہوگئی۔ ایس چوک اگر اتنے عظیم مرتبہ کے صحابی سے ہو سکتی ہے تو دوسروں سے بھی کوئی چوک ہوجانی ممکن ہے۔ ہم علمی تحقیق کے لیے اس کی چھان بین بھی کرسکتے ہیں، اور کسی صحابی کو کوئی بات یا چند باتیں غلط ہوں تو انہیں غلط بھی کہہ سکتے ہیں۔ البتہ سخت ظالم ہوگا وہ شخص جو غلط کو غلط کہنے سے آگے بڑھ کر ان پر زبان طعن دراز کرے۔ انہی معوِّذتین کے بارے میں مفسرین و محدثین نے ابن مسعود کی رائے کو غلط کہا ہے، مگر کسی نے یہ کہنے کی جرأت نہیں کی کہ قرآن کی دوسورتوں کا انکار کر کے معاذ اللہ وہ کافر ہوگئے تھے۔

حضورؐ پر جادو کا اثر

دوسرا مسئلہ جو ان سورتوں کے معاملہ میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ روایات کی رو سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا گیا تھا، اور اس کے اثر سے آپ بیمار ہوگئے تھے، اور اس اثر کو دور کرنے کے لیے جبریل (علیہ السلام) نے آکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ سورتیں پڑھنے کی ہدایت کی تھی۔ اس پر قدیم اور جدید زمانے کے بہت سے عقلیت پسندوں نے اعتراض کیا ہے کہ یہ روایات اگر مان لی جائیں تو شریعت ساری کی ساری مشتبہ ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اگر نبی پر جادو کا اثر ہوسکتا تھا، اور ان روایات کی رو سے ہوگیا تھا، تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ مخالفین نے جادو کے زور پر نبی سے کیا کیا کہلوا اور کروا لیا ہو، اور اس کی دی ہوئی تعلیم میں کتنی چیزیں خدا کی طرف سے ہوں اور کتنی جادو کے زیر اثر۔ یہی نہیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ اس بات کو سچ مان لینے کے بعد تو یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ جادو ہی کے ذریعہ سے نبی کو نبوت کے دعوے پر اکسایا گیا ہو اور نبی نے غلط فہمی میں مبتلا ہو کر یہ سمجھ لیا ہو کہ اس کے پاس فرشتہ آیا ہے۔ ان کا استدلال یہ بھی ہے کہ یہ احادیث قرآن مجید سے متصادم ہیں۔ قرآن میں تو کفار کا یہ الزام بیان کیا گیا ہے کہ نبی ایک مسحور، یعنی سحر زدہ آدمی ہے ( یَقُول الظّٰلِمُونَ ان تَتَّبِعُون الا رَجُلاً مُّسحُوراً ۔ بنی اسرائیل ٤٧) مگر یہ احادیث کفار کے الزام کی تصدیق کرتی ہیں کہ واقعی نبی پر سحر کا اثر ہوا تھا۔ اس مسئلے کی تحقیق کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ کیا درحقیقت مستند تاریخی روایات کی رو سے یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کا اثر ہوا تھا ؟ اور اگر ہوا تھا تو وہ کیا تھا اور کس حد تک تھا ؟ اس کے بعد یہ دیکھا جائے کہ جو کچھ تاریخ سے ثابت ہے اس پر وہ اعتراضات وارد بھی ہوتے ہیں یا نہیں جو کئے گئے ہیں ؟ قرون اولیٰ کے مسلمان علماء کی یہ انتہائی راستبازی تھی کہ انہوں نے اپنے خیالات اور مزعومات کے مطابق تاریخ کو مسخ کرنے یا حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کی، بلکہ جو کچھ تاریخی طور پر ثابت تھا اسے جوں کا توں بعد کی نسلوں تک پہنچا دیا اور اس بات کی کوئی پروا نہیں کی کہ ان حقائق سے اگر کوئی الٹے نتائج نکالنے پر اتر آئے تو ان کا فراہم کردہ یہ مواد کس طرح اس کے کام آسکتا ہے۔ اب اگر ایک بات نہایت مستند اور کثیر تاریخی ذرائع سے ثابت ہو تو کسی دیانت دار صاحب علم کے لیے نہ تو یہ درست ہے کہ وہ اس تاریخ کا انکار کردے کہ اس کو مان لینے سے اس کے نزدیک فلاں فلاں قباحتیں رونما ہوتی ہیں، اور نہ یہی درست ہے کہ جتنی بات تاریخ سے ثابت ہے اس کو قیاسات کے گھوڑے دوڑا کر اس کی اصلی حد سے پھیلانے اور بڑھانے کی کوشش کرے۔ اس کے بجائے اس کا کام یہ ہے کہ تاریخ کو تاریخ کی حیثیت سے مان لے اور پھر دیکھے کہ اس سے فی الواقع کیا ثابت ہوتا ہے اور کیا نہیں ہوتا۔ جہاں تک تاریخی حیثیت کا تعلق ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کا اثر ہونے کا واقعہ قطعی طور پر ثابت ہے اور علمی تنقید سے اس کو اگر غلط ثابت کیا جاسکتا ہو تو پھر دنیا کا کوئی تاریخی واقعہ بھی صحیح ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اسے حضرت عائشہ (رض) ، حضرت زید بن ارقم اور حضرت عبداللہ بن عباس سے بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ، امام احمد، عبد الرزاق، حُمَیدی، بہیقی، طبرانی، ابن سعد، ابن مردویہ، ابن ابی شیبہ، حاکم، عبد بن حمید وغیرہ محدثین نے اتنی مختلف اور کثیر التعداد سندوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا نفس مضمون تواتر کی حد کو پہنچا ہوا ہے ‘ اگرچہ ایک ایک روایت بجائے خود خبر واحد ہے، اس کی تفصیلات جو روایات میں آئی ہیں انہیں ہم مجموعی طور پر تمام روایات سے مرتب کرکے ایک مربوط واقعہ کی صورت میں یہاں درج کرتے ہیں۔ صلح حدیبیہ کے بعد جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ واپس تشریف لائے تو محرم 7 ھ میں خیبر سے یہودیوں کا ایک وفد مدینہ آیا اور ایک مشہور جادوگر لبید بن اعصم سے ملا جو انصار کے قبیلہ بنی زُرَیق سے تعلق رکھتا تھا۔ (1) ان لوگوں نے اس سے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ تمہیں معلوم ہے۔ ہم نے ان پر بہت جادو کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ اب ہم تمہارے پاس آئے ہیں، کیونکہ تم ہم سے بڑے جادوگر ہو۔ لو، یہ تین اشرفیاں حاضر ہیں، انہیں قبول کرو اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک زور کا جادو کردو۔ اس زمانے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں ایک یہودی لڑکا خدمت گار تھا۔ اس سے ساز باز کر کے ان لوگوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کنگھی کا ایک ٹکڑا حاصل کرلیا جس میں آپ کے موئے مبارک تھے۔ انہی بالوں اور کنگھی کے دندانوں پر جادو کیا گیا۔ بعض روایات میں یہ ہے کہ لَبِید بِن اَعصم نے خود جادو کیا تھا، اور بعض میں یہ ہے کہ اس کی بہنیں اس سے زیادو جادوگرنیاں تھیں، ان سے اس نے جادو کروایا تھا۔ بہرحال ان دونوں صورتوں میں جو صورت بھی ہو، اس جادو کو ایک نر کھجور کے خوشے کے غلاف (2) میں رکھ کر لَبِید نے بنی زُرَیق کے کنویں ذروان یا ذی اَرُوان نامی کی تہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا۔ اس جادو کا اثر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوتے ہوتے پورا ایک سال لگا، دوسری ششماہی میں کچھ تغیر مزاج محسوس ہونا شروع ہوا، آخری چالیس دن سخت اور آخری تین دن زیادہ سخت گزرے۔ مگر اس کا زیادہ سے زیادہ جو اثر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوا وہ بس یہ تھا کہ آپ گھلتے چلے جارہے تھے، کسی کام کے متعلق خیال فرماتے کہ وہ کرلیا ہے مگر نہیں کیا ہوتا تھا، اپنی ازواج کے متعلق خیال فرماتے کہ آپ ان کے پاس گئے ہیں مگر نہیں گئے ہوتے تھے، اور بعض اوقات آپ کو اپنی نظر پر بھی شبہ ہوتا تھا کہ کسی چیز کو دیکھا ہے مگر نہیں دیکھا ہوتا تھا۔ یہ تمام اثرات آپ کی ذات تک محدود رہے، حتی کہ دوسرے لوگوں کو یہ معلوم تک نہ ہوسکا کہ آپ پر کیا گزر رہی ہے۔ رہی آپ کے نبی ہونے کی حیثیت تو اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرائض کے اندر کوئی خلل واقع نہ ہونے پایا کسی روایت میں یہ نہیں ہے کہ اس زمانے میں آپ قرآن کی کوئی آیت بھول گئے ہوں، یا کوئی آیت آپ نے غلط پڑھ ڈالی ہو، یا اپنی صحبتوں میں اور اپنے وعظوں اور خطبوں میں آپ کی تعلیمات کے اندر کوئی فرق واقع ہوگیا ہو، یا کوئی ایسا کلام آپ نے وحی کی حیثیت سے پیش کردیا ہو جو فی الواقع آپ پر نازل نہ ہوا ہو، یا نماز آپ سے چھوٹ گئی ہو اور اس کے متعلق بھی کبھی آپ نے سمجھ لیا ہو کہ پڑھ لی ہے مگر نہ پڑھی ہو۔ ایسی کوئی بات معاذ اللہ پیش آجاتی تو دھوم مچ جاتی، اور پورا ملک عرب اس سے واقف ہوجاتا کہ جس نبی کو کوئی طاقت چت نہ کرسکی تھی اسے ایک جادوگر کے جادو نے چت کردیا۔ لیکن آپ کی حیثیت نبوت اس سے بالکل غیر متاثر رہی اور صرف اپنی ذاتی زندگی میں آپ اپنی جگہ اسے محسوس کرکے پریشان ہوتے رہے۔ آخر کار ایک روز آپ حضرت عائشہ کے ہاں تھے کہ آپ نے بار بار اللہ تعالیٖ سے دعا مانگی۔ اسی حالت میں نیند آگئی یا غنودگی طاری ہوئی اور پھر بیدار ہو کر آپ نے حضرت عائشہ سے کہا کہ میں نے جو بات اپنے رب سے پوچھی تھی وہ اس نے مجھے بتادی ہے۔ حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا کہ وہ کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایا دو آدمی ( یعنی فرشتے دو آدمیوں کی صورت میں) میرے پاس آئے۔ ایک سرہانے کی طرف تھا اور دوسرا پائینتی کی طرف۔ ایک نے پوچھا انہیں کیا ہوا ؟ دوسرے نے جواب دیا ان پر جادو ہوا ہے۔ اس نے پوچھا کس نے کیا ہے ؟ جواب دیا لَبِید بن اَعُصَم نے۔ پوچھا کس چیز میں کیا ہے ؟ جواب دیا کنگھی اور بالوں میں ایک نر کھجور کے خوشے کے غلاف کے اندر۔ پوچھا وہ کہاں ہے ؟ جواب دیا بنی زریق کے کنویں ذی اَرُوان ( یا ذَرُوان) کی تہ کے پتھر کے نیچے ہے۔ پوچھا اب اس کے لیے کیا کیا جائے ؟ جواب دیا کہ کنویں کا پانی سونت دیا جائے اور پھر پتھر کے نیچے سے اس کو نکالا جائے۔ اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی، حضرت عمّار بن یاسر اور حضرت زبیر (رضی اللہ عنہم) کو بھیجا۔ ان کے ساتھ جُبَیر بن ایاس الزرقی اور قیس بن محصن الزرقی (یعنی بنی زریق کے یہ دو اصحاب) بھی شامل ہوگئے۔ بعد میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی چند اصحاب کے ساتھ وہاں پہنچ گئے۔ پانی نکالا گیا اور وہ غلاف برآمد کرلیا گیا۔ اس میں کنگھی اور بالوں کے ساتھ ایک تانت کے اندر گیارہ گرہیں پڑھی ہوئی تھیں اور موم کا ایک پتلا تھا جس میں سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں۔ جبریل (علیہ السلام) نے آکر بتایا کہ آپ معوِّذتین پڑھیں۔ چناچہ آپ ایک ایک آیت پڑھتے جاتے اور اس کے ساتھ ایک ایک گرہ کھولی جاتی اور پتلے میں سے ایک ایک سوئی نکالی جاتی رہے۔ خاتمہ تک پہنچتے ہی ساری گرہیں گھل گئیں، ساری سوئیاں نکل گئیں، اور آپ جادو کے اثر سے نکل کر بالکل ایسے ہوگئے جیسے کوئی شخص بندھا ہوا تھا، پھر کھل گیا۔ اس کے بعد آپ نے لَبِید کو بلا کر باز پرس کی۔ اس نے اپنے قصور کا اعتراف کرلیا اور آپ نے اس کو چھوڑدیا، کیونکہ اپنی ذات کے لیے آپ نے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ یہی نہیں بلکہ آپ نے اس معاملہ کا چرچا کرنے سے بھی یہ کہہ کر انکار کردیا کہ مجھے اللہ نے شفا دی ہے۔ اب میں نہیں چاہتا کہ کسی کے خلاف لوگوں کو بھڑکاؤں۔ یہ ہے سارا قصہ اس جادو کا۔ اس میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو آپ کے منصب نبوت میں قادح ہو۔ ذاتی حیثیت سے اگر آپ کو زخمی کیا جاسکتا تھا جیسا کہ جنگ احد میں ہوا، اگر آپ گھوڑے سے گر کر چوٹ کھا سکتے تھے، جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے، اگر آپ کو بچھو کاٹ سکتا تھا، جیسا کہ کچھ اور احادیث میں وارد ہوا ہے، اور ان میں سے کوئی چیز بھی اس تحفظ کے منافی نہیں ہے جس کا نبی ہونے کی حیثیت سے اللہ نے آپ سے وعدہ کیا تھا، تو آپ اپنی ذاتی حیثیت میں جادو کے اثر سے بیمار بھی ہوسکتے تھے۔ نبی پر جادو کا اثر ہوسکتا ہے، یہ بات تو قرآن مجید سے بھی ثابت ہے۔ سورة اعراف میں فرعون کے جادوگروں کے متعلق بیان ہوا ہے کہ حضرت موسیٰ کے مقابلے میں جب وہ آئے تو انہوں نے ہزارہا آدمیوں کے اس پورے مجمع کی نگاہوں پر جادو کردیا جو وہاں دونوں کا مقابلے دیکھنے کے لیے جمع ہوا تھا (سَحَرُوا اعیُن الناسِ ۔ آیت ١١٦) اور سورة طٰہٰ میں ہے کہ جو لاٹھیاں اور رسیاں انہوں نے پھینکی تھیں ان کے متعلق عام لوگوں ہی نے نہیں حضرت موسیٰ نے بھی یہی سمجھا کہ وہ ان کی طرف سانپوں کی طرح دوڑی چلی آرہی ہیں اور اس سے حضرت موسیٰ خوف زدہ ہوگئے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل کی کہ خوف نہ کرو تم ہی غالب رہو گے، ذرا اپنا عصا پھینکو (فَاِذَا حِبَالُہُم وَعِصِیُّہُم یُخَیَّلُ اِلَیہِ مِن سحرِہِم اَنَّہَا تَسعیٰ ۔ فاوجس فی نفسہ خیفۃ مُّوسی۔ قُلنا لا تخف اِنَکَ انت الاعلیٰ ۔ وَاَلق ما فی یَمِینِک۔ آیات ٦٦ تا ٦٩) ۔ رہا یہ اعتراض کہ یہ تو کفار مکہ کے اس الزام کی تصدیق ہوگئی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ سحرزدہ آدمی کہتے تھے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ کفار آپ کو سحرزدہ آدمی اس معنی میں نہیں کہتے تھے کہ آپ کسی جادوگر کے اثر سے بیمار ہوگئے ہیں، بلکہ اس معنی میں کہتے تھے کہ کسی جادوگر نے معاذ اللہ آپ کو پاگل کردیا ہے اور اسی پاگل پن میں آپ نبوت کا دعویٰ کر بیٹھے ہیں اور جنت و دوزخ کے افسانے سنا رہے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ یہ اعتراض ایسے معاملہ پر سرے سے چسپاں ہی نہیں ہوتا جس کے متعلق تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ جادو کا اثر صرف ذات محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوا تھا، نبوت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بالکل غیر متاثر رہی۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جو لوگ جادو کو محض اوہام کے قبیل کی چیز قرار دیتے ہیں ان کی یہ رائے صرف اس وجہ سے ہے کہ جادو کے اثرات کی کوئی سائنٹفک توجیہ نہیں کی جاسکتی۔ لیکن دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو تجربے اور مشاہدے میں آتی ہیں، مگر سائنٹفک طریقہ سے یہ بیان نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کیسے رونما ہوتی ہیں۔ اس طرح کی توجیہ پر اگر ہم قادر نہیں ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس چیز ہی کا انکار کردیا جائے جس کی ہم توجیہ نہیں کرسکتے۔ جادو دراصل ایک نفسیاتی اثر ہے جس نفس سے گزر کر جسم کو بھی اسی طرح متاثر کرتا ہے جس طرح جسمانی اثرات جسم سے گزر کر نفس کو متاثر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر خوف ایک نفسیاتی چیز ہے، مگر اس کا اثر جسم پر یہ ہوتا ہے کہ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور بدن میں تھر تھری چھوٹ جاتی ہے۔ دراصل جادو سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی، مگر انسان کا نفس اور اس کے حواس اسے متاثر ہو کر یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ حقیقت تبدیل ہوگئی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف جادوگروں نے جو لاٹھیاں اور رسیاں پھینکی تھیں وہ واقعی سانپ نہیں بن گئی تھیں، لیکن ہزاروں کے مجمع کی آنکھوں پر ایسا جادو ہوا کہ سب نے انہیں سانپ ہی محسوس کیا، اور حضرت موسیٰ تک کے حواس جادو کی اس تاثیر سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اسی طرح قرآن (البقرہ، آیت ١٠٢) میں بیان کیا گیا ہے کہ بابل میں ہاروت اور ماروت سے لوگ ایسا جادو سیکھتے تھے جو شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دے۔ یہ بھی ایک نفسیاتی اثر تھا، اور ظاہر ہے کہ اگر تجربے سے لوگوں کو اس عمل کی کامیابی معلوم نہ ہوتی تو وہ اس کے خریدار نہ بن سکتے تھے۔ بلا شبہ یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ بندوق کی گولی اور ہوائی جہاز سے گرنے والے بم کی طرح جادو کا مؤثر ہونا بھی اللہ کے اذن کے بغیر ممکن نہیں ہے، مگر جو چیز ہزارا ہا سال سے انسان کے تجربے اور مشاہدے میں آرہی ہو اس کے وجود کو جھٹلا دینا محض ایک ہٹ دھرمی ہے۔

اسلام میں جھاڑ پھونک کی حیثیت

تیسرا مسئلہ ان سورتوں کے معاملہ میں یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا جھاڑ پھونک کی اسلام میں کوئی گنجائش ہے ؟ اور یہ کہ جھاڑ پھونک بجائے خود مؤثر بھی ہے یا نہیں ؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ بکثرت صحیح احادیث میں یہ ذکر آیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر رات کو سوتے وقت، اور خاص طور پر بیماری کی حالت میں معوِّذتین، یا بعض روایات کے مطابق معوِّذات (یعنی قل ہو اللہ اور معوِّذتین) تین مرتبہ پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونکتے اور سر سے لے کر پاؤں تک پورے جسم پر، جہاں جہاں تک بھی آپ کے ہاتھ پہنچ سکتے، انہیں پھیرتے تھے۔ آخری بیماری میں جب آپ کے لیے خود ایسا کرنا ممکن نہ رہا تو حضرت عائشہ نے یہ سورتیں (بطور خود یا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے) پڑھیں اور آپ کے دست مبارک کی برکت کے خیال سے آپ ہی کے ہاتھ لے کر آپ کے جسم پر پھیرے۔ اس مضمون کی روایات صحیح سندوں کے ساتھ بخاری، مسلم، نَسائی، ابن ماجہ، ابو داؤد اور مؤطا امام مالک میں خود حضرت عائشہ سے مروی ہیں جن سے بڑھ کر کوئی بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خانگی زندگی سے واقف نہ ہوسکتا تھا۔ اس معاملہ میں پہلے مسئلہ شرعی اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ احادیث میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی طویل روایت آئی ہے جس کے آخر میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ میری امت کے وہ لوگ بلاحساب جنت میں داخل ہوں گے جو نہ داغنے کا علاج کراتے ہیں، نہ جھاڑ پھونک کراتے ہیں، نہ فال لیتے ہیں، بلکہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں (مسلم) حضرت مُغِیرہ بن شعبہ کی روایت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے داغنے سے علاج کرایا اور جھاڑ پھونک کرائی وہ اللہ پر توکل سے بےتعلق ہوگیا (ترمذی) ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دس چیزوں کو ناپسند فرماتے تھے جن میں سے ایک جھاڑ پھونک بھی ہے سوائے معوّذتین یا معوِّذات کے (ابو داؤد، احمد، نسائی، ابن حِبّان، حاکم) ۔ بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھاڑ پھونک سے بالکل منع فرمادیا تھا، لیکن بعد میں اس شرط کے ساتھ اس کی اجازت دے دی کہ اس میں شرک نہ ہو، اللہ کے پاک ناموں یا اس کے کلام سے جھاڑا جائے، کلام ایسا ہو جو سمجھ میں آئے اور یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس میں کوئی گناہ کی چیز نہیں ہے، اور بھروسہ جھاڑ پھونک پر نہ کیا جائے کہ وہ بجائے خود شفا دینے والی ہے، بلکہ اللہ پر اعتماد کیا جائے کہ وہ چاہے گا تو اسے نافع بنا دے گا۔ یہ مسئلہ شرعی واضح ہوجانے کے بعد اب دیکھیے کہ احادیث اس بارے میں کیا کہتی ہیں : طَبَرانی نے صغیر میں حضرت علی کی روایت نقل کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک دفعہ نماز کی حالت میں بچھو نے کاٹ لیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا۔ بچھو پر خدا کی لعنت، یہ نہ کسی نمازی کو چھوڑتا ہے نہ کسی اور کو۔ پھر پانی اور نمک منگوایا اور جہاں بچھو نے کاٹا تھا وہاں آپ نمکین پانی ملتے جاتے تھے اور قل یا ایہا الکافرون، قل ہو اللہ احد، قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھتے جاتے تھے۔ ابن عباس کی یہ روایت بھی احادیث میں آئی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسن اور حضرت حسین پر یہ دعا پڑھتے تھے اُعِیذُ کمَا بکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان و ھامۃ ومن کل عین لامۃ " میں تم کو اللہ کے بےعیب کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور موذی سے اور ہر نظر بد سے " (بخاری، مسند احمد، ترمذی اور ابن ماجہ ) ۔ عثمان بن ابی العاص الثقفی کے متعلق مسلم، موطا، طبرانی اور حاکم میں تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ یہ روایت آئی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی کہ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں مجھے ایک درد محسوس ہوتا ہے جو مجھ کو مارے ڈالتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنا سیدھا ہاتھ اس جگہ پر رکھو جہاں درد ہوتا ہے، پھر تین مرتبہ بسم اللہ کہو اور سات مرتبہ یہ کہتے ہوئے ہاتھ پھیرو کہ اعوذ باللہ و قدرتہ من شر ما اجد واحاذر " میں اللہ اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے شر سے جس کو میں محسوس کرتا ہوں اور جس کے لاحق ہونے کا مجھے خوف ہے "۔ موطا میں اس پر یہ اضافہ ہے کہ عثمان بن ابی العاص نے کہا کہ اس کے بعد میرا وہ درد جاتا رہا، اور اسی چیز کی تعلیم میں اپنے گھر والوں کو دیتا ہو۔ مسند احمد اور طحاوی میں طلق بن علی کی روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں بچھو نے کاٹ لیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ پر پڑھ کر پھونکا اور اس جگہ پر ہاتھ پھیرا۔ مسلم میں ابوسعید خدری کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوئے تو جبریل نے آکر پوچھا " اے محمد کیا آپ بیمار ہوگئے ؟ " آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں۔ انہوں نے کہا باسم اللہ ارقیک من کل شیء یؤذیک من شر کل نفس او عین حاسد ‘ اللہ یشفیک باسم اللہ ارقیک " میں اللہ کے نام پر آپ کو جھاڑتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت دے اور ہر نفس اور حاسد کی نظر کے شر سے، اللہ آپ کو شفا دے، میں اس کے نام پر آپ کو جھاڑتا ہوں۔ " اسی سے ملتی جلتی روایت مسند احمد میں حضرت عبادہ بن صامت سے منقول ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار تھے۔ میں عیادت کے لیے گیا تو آپ کو سخت تکلیف میں پایا۔ شام کو گیا تو آپ بالکل تندرست تھے۔ میں نے اس قدر جلدی تندرست ہوجانے کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ جبریل آئے تھے اور انہوں نے مجھے چند کلمات سے جھاڑا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریب قریب اسی طرح کے الفاظ ان کو سنائے جو اوپر والی حدیث میں نقل کیے گئے ہیں۔ حضرت عائشہ سے بھی مسلم اور مسند احمد میں ایسی ہی روایت نقل کی گئی ہے۔ امام احمد نے اپنی مسند میں حضرت حفصہ ام المؤمنین کی روایت نقل کی ہے کہ ایک روز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ہاں آئے اور میرے پاس ایک خاتون شفا (١) [ ان خاتون کا اصل نام لیلی تھا، مگر شفا بنت عبداللہ کے نام سے مشہور تھیں۔ ہجرت سے پہلے ایمان لائیں۔ قریش کے خاندان بنی عَدِی سے ان کا تعلق تھا۔ یہ وہی خاندان ہے جس کے ایک فرد حضرت عمر تھے۔ اس طرح یہ حضرت حفصہ کی رشتہ دار ہوتی تھیں۔] نامی بیٹھی تھیں جو نملہ (ذُباب) کو جھاڑا کرتی تھیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حفصہ کو بھی وہ عمل سکھا دو ۔ مسلم میں عوف بن مالک اشجعی کی روایت ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں ہم لوگ جھاڑ پھونک کیا کرتے تھے۔ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ اس معاملہ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے کیا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جن چیزوں سے تم جھاڑتے تھے وہ میرے سامنے پیش کرو، جھاڑنے میں مضائقہ نہیں ہے جب تک اس میں شرک نہ ہو۔ مسلم، مسند احمد اور ابن ماجہ میں حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت ہے کہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھاڑ پھونک سے روک دیا تھا۔ پھر حضرت عمر بن حزم کے خاندان کے لوگ آئے اور کہا کہ ہمارے پاس ایک عمل تھا جس سے ہم بچھو (یا سانپ) کاٹے کو جھاڑتے تھے۔ مگر آپ نے اس کام سے منع فرمایا دیا ہے۔ پھر انہوں نے وہ چیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنائی جو وہ پڑھتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ’ اس میں تو کوئی مضائقہ نہیں پاتا، تم میں سے جو شخص اپنے کسی بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا وہ ضرور پہنچائے۔ " جابر بن عبد اللہ کی دوسری حدیث مسلم میں یہ ہے کہ آل حزم کے پاس سانپ کاٹے کا عمل تھا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس کی اجازت دیدی۔ اس کی تائید مسلم، مسند احمد، اور ابن ماجہ میں حضرت عائشہ کی یہ روایت بھی کرتی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کے ایک خاندان کو ہر زہریلے جانور کے کاٹے کو جھاڑنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ مسند احمد اور ترمذی اور مسلم اور ابن ماجہ میں حضرت انس سے بھی اس سے ملتی جلتی روایات نقل کی گئی ہیں جن میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زہریلے جانوروں کے کاٹے، اور ذباب کے مرض اور نظر بد کے جھاڑنے کی اجازت دی۔ مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت عمیر مولی ابی النحم سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں میرے پاس ایک عمل تھا جس سے میں جھاڑا کرتا تھا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اسے پیش کیا۔ آپ نے فرمایا فلاں فلاں چیزیں اس میں سے نکال دو ، باقی سے تم جھاڑ سکتے ہو۔ موطا میں ہے کہ حضرت ابوبکر اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ کے گھر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہ بیمار ہیں اور ایک یہودیہ ان کو جھاڑ رہی ہے۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ کتاب اللہ پڑھ کر جھاڑ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب اگر توراۃ یا انجیل کی آیات پڑھ کر جھاڑیں تب بھی یہ جائز ہے۔ رہا یہ سوال کہ آیا جھاڑ پھونک مفید بھی ہے یا نہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوا اور علاج سے نہ صرف یہ کہ کبھی منع نہیں فرمایا، بلکہ خود فرمایا کہ ہر مرض کی دوا اللہ نے پیدا کی ہے اور تم لوگ دوا کیا کرو۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود لوگوں کو بعض امراض کے علاج بتائے ہیں، جیسا کہ احادیث میں کتاب الطب کو دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے۔ لیکن دوا بھی اللہ ہی کے حکم اور اذن سے نافع ہوتی ہے، ورنہ اگر دوا اور طبی معالجہ ہر حال میں نافع ہوتا تو ہسپتالوں میں کوئی نہ مرتا۔ اب اگر دوا اور علاج کرنے کے ساتھ اللہ کے کلام اور اس کے اسمائے حسنی سے بھی استفادہ کیا جائے، یا ایسی جگہ جہاں کوئی طبی امداد میسر نہ ہو اللہ ہی کی طرف رجوع کر کے اس کے کلام اور اسماء وصفات سے استعانت کی جائے تو یہ مادہ پرستوں کے سوا کسی کی عقل کے بھی خلاف نہیں ہے (١) [ مادہ پرست دنیا کے بھی بہت سے ڈاکٹروں نے اعتراف کیا ہے کہ دعا اور رجوع الی اللہ مریضوں کی شفا یابی میں بہت کارگر چیز ہے۔ اور اس کا خود مجھے ذاتی طور پر اپنی زندگی میں دو مرتبہ تجربہ ہوا ہے۔ ١٩٤٨ٗ میں جب مجھے نظر بند کیا گیا تو چند روز بعد ایک پتھری میرے مثانے میں آکر اڑ گئی اور ١٦ گھنٹے تک پیشاب بند رہا۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میں ظالموں سے علاج کی درخواست نہیں کرنا چاہتا، تو ہی میرا علاج فرمادے۔ چناچہ وہ پتھری پیشاب کے راستے سے ہٹ گئی اور ٢٠ برس تک ہٹی رہی یہاں تک کہ ١٩٦٨ٗ میں اس نے پھر تکلیف دی اور اس کو آپریشن کر کے نکالا گیا۔ دوسری مرتبہ جب ١٩٥٣ ٗ میں مجھے گرفتار کیا گیا تو میری دونوں پنڈلیاں کئی مہینے سے داد کی سخت تکلیف میں متلا تھیں کسی علاج سے آرام نہیں آرہا تھا۔ گرفتاری کے بعد میں اللہ تعالیٰ سے پھر وہی دعا کی جو ١٩٤٨ میں کی تھی اور کسی علاج اور دوا کے بغیر پنڈلیاں داد سے بالکل صاف ہوگئیں۔ آج تک پھر کبھی وہ بیماری مجھے نہیں ہوئی۔ ] ۔ البتہ یہ صحیح نہیں ہے کہ دوا اور علاج کو، جہاں وہ میسر ہو، جان بوجھ کر چھوڑ دیا جائے، اور صرف جھاڑ پھونک سے کام لینے ہی پر اکتفا کیا جائے، اور کچھ لوگ عملیات اور تعویذوں کے مطب کھول کر بیٹھ جائیں اور اسی کو کمائی کا ذریعہ بنالیں۔ اس معاملہ میں بہت سے لوگ حضرت ابو سعید خدری کی اس روایت سے استدلال کرتے ہیں جو بخاری، مسلم، ترمذی، مسند احمد، ابو داؤد اور ابن ماجہ میں منقول ہوئی ہے اور اس کی تائید بخاری میں ابن عباس کی بھی ایک روایت کرتی ہے۔ اس میں یہ بیان ہوا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مہم پر اپنے چند اصحاب کو بھیجا جن میں حضرت ابو سعید خدری بھی تھے۔ یہ حضرات راستہ میں عرب کے ایک قبیلے کی بستی پر جاکر ٹھرے اور انہوں نے قبیلے والوں سے کہا کہ ہماری میزبانی کرو۔ انہوں نے انکار کردیا۔ اتنے میں قبیلے کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا اور وہ لوگ ان مسافروں کے پاس آئے اور کہا کہ تمہارے پاس کوئی دوا یا عمل ہے جس سے تم ہمارے سردار کا علاج کردو ؟ حضرت ابو سعید نے کہا ہے تو سہی، مگر چونکہ تم نے ہماری میزبانی سے انکار کیا ہے اس لیے جب تک تم کچھ دینا نہ کرو، ہم اس کا علاج نہیں کریں گے۔ انہوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ (بعض روایات میں ہے کہ ٣٠ بکریاں) دینے کا وعدہ کیا اور حضرت ابو سعید نے جاکر اس پر سورة ٗ فاتحہ پڑھنی شروع کی اور لعاب دھن اس پر ملتے گئے (١) [ اکثر روایات میں یہ صراحت نہیں ہے کہ یہ عمل کرنے والے حضرت ابو سعید تھے۔ بلکہ ان میں یہ صراحت بھی نہیں ہے کہ حضرت ابو سعید خود اس مہم میں شریک تھے۔ لیکن ترمذی کی روایت میں دونوں باتوں کی صراحت ہے۔] آخر کار بچھو کا اثر زائل ہوگیا اور قبیلے والوں نے جتنی بکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا وہ لا کر دے دیں۔ مگر ان حضرات نے آپس میں کہا ان بکریوں سے کوئی فائدہ نہ اٹھاؤ جب تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھ نا لیا جائے۔ نہ معلوم اس کام پر اجر لینا جائز ہے یا نہیں۔ چناچہ یہ لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ماجرا عرض کیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہنس کر فرمایا " تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ سورة جھاڑنے کے کام بھی آسکتی ہے ؟ بکریاں لے لو اور ان میں میرا حصہ بھی لگاؤ۔ " لیکن اس حدیث سے تعویذ، گنڈے اور جھاڑ پھونک کے مطب چلانے کا جواز نکالنے سے پہلے عرب کے ان حالات کو نگاہ میں رکھنا چاہیے جن میں حضرت ابو سعید خدری نے یہ کام کیا تھا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے نہ صرف جائز رکھا تھا، بلکہ یہ بھی فرمایا تھا کہ میرا حصہ بھی لگاؤ، تاکہ اس کے جواز و عدم جواز کے معاملہ میں ان اصحاب کے دلوں میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ عرب کے حالات اس زمانے میں بھی یہ تھے اور آج تک یہ کہ پچاس پچاس، سو سو، ڈیڑ ڈیڑھ سو میل تک آدمی کو ایک بستی سے چل کر دوسری بستی نہیں ملتی۔ بستیاں بھی اس وقت ایسی نہ تھیں جن میں ہوٹل، سرائے یا کھانے کی دکانیں موجود ہوں اور مسافر کئی کئی روز کی مسافت طے کر کے جب وہاں پہنچے تو سامان خوردونوش خرید سکے۔ ان حالات میں یہ بات عرب کے معروف اصول اخلاق میں شامل تھی کہ مسافر جب کسی بستی پر پہنچیں تو بستی کے لوگ ان کی میزبانی کریں۔ اس سے انکار کے معنی بسا اوقات مسافروں کے لیے موت کے ہوتے تھے، اور عرب میں اس طرز عمل کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کے اس فعل کو جائز رکھا کہ جب قبیلے والوں نے میزبانی سے انکار کردیا تھا تو ان کے سردار کا علاج کرنے سے انہوں نے بھی انکار کردیا، اور اس شرط پر اس کا علاج کرنے پر راضی ہوئے کہ وہ ان کو کچھ دینا کریں۔ پھر جب ان میں سے ایک صاحب نے اللہ کے بھروسے پر سورة ٗ فاتحہ اس سردار پر پڑھی اور وہ اس سے اچھا ہوگیا تو طے شدہ اجرت قبیلے والوں نے لاکر دے دی اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس اجرت کے لینے کو حلال و طیب قرار دیا۔ بخاری میں اس واقعہ کے متعلق حضرت عبد اللہ بن عباس کی جو روایت ہے اس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے الفاظ یہ ہیں کہ اِنَّ احقَّ ما اخذت علیہ اجراً کتاب اللہ یعنی بجائے اس کے کہ تم کوئی اور عمل کرتے، تمہارے لیے یہ زیادہ برحق بات تھی کہ تم نے اللہ کی کتاب پڑھ کر اس پر اجرت لی۔ یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لئے فرمایا کہ دوسرے تمام عملیات سے اللہ کا کلام بڑھ کر ہے، علاوہ بریں اس طرح عرب کے اس قبیلے پر حق تبلیغ بھی ادا ہوگیا کہ انہیں اس کلام کی برکت معلوم ہوگئی جو اللہ کی طرف سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لائے ہیں۔ اس واقعہ کو ان لوگوں کے لیے نظیر قرار نہیں دیا جاسکتا جو شہروں اور قصبوں میں بیٹھ کر جھاڑ پھونک کے مطب چلاتے ہیں اور اسی کو انہوں نے وسیلہ معاش بنا رکھا ہے۔ اس کی کوئی نظیر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا صحابہ وتابعین اور ائمہٗ سلف کے ہاں نہیں ملتی۔

سورہ فاتحہ اور اِن سورتوں کی مناسبت

آخری چیز جو معوِّذتین کے بارے میں قابل توجہ ہے وہ قرآن کے آغاز اور اختتام کی مناسبت ہے۔ اگرچہ قرآن مجید ترتیب نزول پر مرتب نہیں کیا گیا ہے، مگر ٢٣ سال کے دوران میں مختلف حالات اور مواقع اور ضروریات کے لحاظ سے نازل ہونے والی آیات اور سورتوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بطور خود نہیں بلکہ ان کے نازل کرنے والے خدا کے حکم سے اس شکل میں مرتب فرمایا جس میں ہم اب اس کو پاتے ہیں۔ اس ترتیب کے لحاظ سے قرآن کا آغاز سورة ٗ فاتحہ سے ہوتا ہے اور اختتام معوِّذتین پر۔ اب ذرا دونوں پر ایک نگاہ ڈالیے۔ آغاز میں اللہ رب العالمین، رحمان و رحیم، اور مالک یوم الدین کی حمد وثنا کر کے بندہ عرض کرتا ہے کہ آپ ہی کی میں بندگی کرتا ہوں اور آپ ہی سے مدد چاہتا ہوں، اور سب سے بڑی مدد جو مجھے درکار ہے وہ یہ ہے کہ مجھے سیدھا راستہ بتائیے۔ جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدھا راستہ دکھانے کے لئے اسے پورا قرآن دیا جاتا ہے، اور اس کو ختم اس بات پر کیا جاتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے جو ربُّ الفلق، ربُّ الناس، ملِکُ الناس اور الہ الناس ہے، عرض کرتا ہے کہ میں ہر مخلوق کے ہر فتنے اور شر سے محفوظ رہنے کے لیے آپ ہی کی پناہ مانگتا ہوں، کیونکہ راہ راست کی پیروی میں وہی سب سے زیادہ مانع ہوتے ہیں۔ اس آغاز کے ساتھ یہ اختتام جو مناسبت رکھتا ہے وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔

Ayah 113:1

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader

کہو، 1 میں پناہ مانگتا ہوں 2 صبح کے ربّ 3 کی

سورة الفلق 1 چونکہ قُلْ (کہو) کا لفظ اس پیغام کا ایک حصہ ہے جو تبلیغ رسالت کے لیے نبی ﷺ پر بذریعہ وحی نازل ہوا ہے، اس لیے اگرچہ اس ارشاد کے اولین مخاطب تو رسول اللہ ﷺ ہی ہیں، مگر آپ کے بعد ہر مومن بھی اس کا مخاطب ہے۔ سورة الفلق 2 پناہ مانگنے کے فعل میں لازم تین اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ ایک بجائے خود پناہ مانگنا۔ دوسرے پناہ مانگنے والا۔ تیسرا وہ جس کی پناہ مانگی جائے۔ پناہ مانگنے سے مراد کسی چیز سے خوف محسوس کر کے اپنے آپ کو اس سے بچانے کے لیے کسی دوسرے کی حفاظت میں جانا، یا اس کی آڑ لینا، یا اس سے لپٹ جانا یا اس کے سایہ میں چلا جانا ہے۔ پناہ مانگنے والا بہرحال وہی شخص ہوتا ہے جو محسوس کرتا ہے کہ جس چیز سے وہ ڈر رہا ہے اس کا مقابلہ وہ خود نہیں کرسکے گا بلکہ وہ اس کا حاجت مند ہے کہ اس سے بچنے کے لیے دوسرے کی پناہ لے۔ پھر جس کی پناہ مانگی جاتی ہے وہ لازما کوئی ایسا ہی شخص یا وجود ہوتا ہے جس کے متعلق پناہ لینے والا یہ سمجھتا ہے کہ اس خوفناک چیز سے وہی اس کو بچا سکتا ہے۔ اب پناہ کی ایک قسم تو وہ ہے جو قوانین طبعی کے مطابق عالم اسباب کے اندر کسی محسوس مادی چیز یا شخص یا طاقت سے حاصل کی جاتی ہے۔ مثلا دشمن کے حملہ سے بچنے کے لیے کسی قلعہ میں پناہ لینا، یا گولیوں کی بوجھاڑ سے بچنے کے لیے خندق یا کسی دمدمے یا کسی دیوار کی آڑ لینا، یا کسی طاقتور ظالم سے بچنے کے لیے کسی انسان یا قوم یا حکومت کے پاس پناہ لینا، یا دھوپ سے بچنے کے لیے کسی درخت یا عمارت کے سایہ میں پناہ لینا۔ بخلاف اس کے دوسری قسم وہ ہے جس میں ہر طرح کے خطرات کی مادی، اخلاقی یا روحانی مضرتوں اور نقصان رساں چیزوں سے کسی فوق الفطری ہستی کی پناہ اس عقیدے کی بنا پر مانگی جاتی ہے کہ وہ ہستی عالم اسباب پر حکمراں ہے اور بالا تر از حس و ادراک طریقے سے وہ اس شخص کی ضرور حفاظت کرسکتی ہے جو اس کی پناہ ڈھونڈ رہا ہے۔ پناہ کی یہ دوسری قسم ہی نہ صرف سورة فلق اور سورة ناس میں مراد ہے بلکہ قرآن اور حدیث میں جہاں بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد یہی خاص قسم کی پناہ ہے۔ اور عقیدہ توحید کا لازمہ یہ ہے کہ اس نوعیت کا تعوذ یا استعاذہ (پناہ مانگنا) اللہ کے سوا کسی اور سے نہ کیا جائے۔ مشرکین اس نوعیت کا تحفظ اللہ کے سوا دوسری ہستیوں مثلا جنوں یا دیویوں اور دیوتاؤں سے مانگتے تھے اور آج بھی مانگتے ہیں۔ مادہ پرست لوگ اس کے لیے بھی مادی ذرائع و وسائل ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں، کیونکہ وہ کسی فوق الفطری طاقت کے قائل نہیں ہیں۔ مگر مومن ایسی تمام آفات و بلیات کے مقابلے میں جن کو دفع کرنے پر وہ خود اپنے آپ کو قادر نہیں سمجھا، صرف اللہ کی طرف رجوع کرتا اور اسی کی پناہ مانگتا ہے، مثال کے طور پر مشرکین کے متعلق قرآن میں بیان کیا گیا ہے وَّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ۔ " اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے "۔ (الجن 6) اور اس کی تشریح کرتے ہوئے ہم سورة جن حاشیہ 7 میں حضرت عبداللہ بن عباس کی یہ روایت نقل کرچکے ہیں کہ مشرکین عرب کو جب رات کسی سنسان وادی میں گزارنی پڑتی تو وہ پکار کر کہتے " ہم اس وادی کے رب کی (یعنی اس جن کی جو اس وادی پر حکمران ہے یا اس وادی کا مالک ہے) پناہ مانگتے ہیں "۔ بخلاف اس کے فرعون کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ کی پیش کردہ عظیم نشانیوں کو دیکھ کر فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ " وہ اپنے بل بوتے پر اکڑ گیا "۔ (الذاریات، 39) لیکن خدا پرستوں کا رویہ قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس چیز کا بھی وہ خوف محسوس کرتے ہیں، خواہ وہ مادی ہو یا اخلاقی یا روحانی، اس کے شر سے بچنے کے لیے وہ خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔ چناچہ حضرت مریم کے متعلق بیان ہوا ہے کہ جب اچانک تنہائی میں خدا کا فرشتہ ایک مرد کی شکل میں ان کے سامنے آیا (جبکہ وہ نہ جانتی تھیں کہ یہ فرشتہ ہے) تو انہوں نے کہا قالَتْ اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِيًّا۔ " اگر تو خدا سے ڈرنے والا آدمی ہے تو میں تجھ سے خدائے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں " (مریم 18) حضرت نوح نے جب اللہ تعالیٰ سے ایک بےجا دعا کی اور جواب میں اللہ کی طرف سے ان پر ڈانٹ پڑی تو انہوں نے فورا عرض کیا رَبِّ اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْـــَٔـلَكَ مَا لَيْسَ لِيْ بِهٖ عِلْمٌ۔ " میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں تجھ سے ایسی چیز کی درخواست کروں جس کا مجھے علم نہیں " (ہود 47) حضرت موسیٰ نے جب بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا اور انہوں نے کہا کہ آپ ہم سے مذاق کرتے ہیں، تو انہوں نے جواب میں فرمایا اَعُوْذُ باللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ " میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں " (البقرہ 67) یہی شان ان تمام تعوذات کی ہے جو رسول اللہ ﷺ سے کتب حدیث میں منقول ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر حضور کی حسب ذیل دعاؤں کو ملاحظہ کیجے عن عائشۃ ان النبی ﷺ کان یقول فی دعائہ اللھم انی اعوذبک من شر ما عملت ومن شر ما لم اعمل (مسلم) " حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی دعاؤں میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ " خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں ان کاموں کے شر سے جو میں نے کیے اور ان کاموں کے شر سے جو میں نے نہیں کیے " (یعنی اگر میں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اس کے برے نتیجے سے پناہ مانگتا ہوں، اور اگر کوئی کام جو کرنا چاہیے تھا میں نے نہیں کیا تو اس کے نقصان سے بھی پناہ مانگتا ہوں، یا اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ جو کام نہ کرنا چاہیے وہ میں کبھی کر گزروں) " عن ابن عمر کان من دعاء رسول اللہ ﷺ اللھم انی اعوذبک من زوال نعمتک، وتحول عافیتک، وفجأۃ نقمتک و جمیع سخطک۔ (مسلم) ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ " خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ تیری جو نعمت مجھے حاصل ہے وہ چھن جائے، اور تجھ سے جو عافیت مجھے نصیب ہے وہ نصیب نہ رہے، اور تیرا غضب یکایک ٹوٹ پڑے، اور پناہ مانگتا ہوں تیری ہر طرح کی ناراضی سے "۔ عن زید بن ارقم کان رسول اللہ ﷺ یقول اللھم انی اعوذبک من علم لا ینفع ومن قلب لا یخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعوۃ لا یستجاب (مسلم) " زید بن ارقم کی روایت ہے کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے " خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نافع نہ ہو، اس دل سے جو تیرا خوف نہ کرے، اس نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو، اور اس دعا سے جو قبول نہ کی جائے "۔ عن ابی ہریرہ کان رسول اللہ ﷺ یقول اللھم انی اعوذبک من الجوع فانہ بئس الضجیع و اعوذبک من الخیانۃ فانہ بئست الطانۃ۔ (ابو داؤد) " حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے " خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں بھوک سے کیونکہ وہ بدترین چیز ہے جس کے ساتھ کوئی رات گزارے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں خیانت سے کیونکہ وہ بڑی بد باطنی ہے "۔ عن انس ان النبی ﷺ کان یقول اللھم انی اعوذبک من البرص والجنون والجذام وسیء الاسقام (ابوداؤد) " حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے " خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں کوڑھ اور جنون اور جذام اور تمام بری بیماریوں سے "۔ عن عائشۃ ان النبی ﷺ کان یدعو بھؤلاء الکلمات اللھم انی اعوذبک من فتنۃ النار ومن شر الغنی والفقر (ترمذی و ابو داؤد) " حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ حضور ان کلمات کے ساتھ دعا مانگا کرتے تھے " خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں آگ کے فتنے سے اور مالداری اور مفلسی کے شر سے "۔ عن قطبۃ بن مالک کان النبی ﷺ یقول اللھم انی اعوذبک من منکرات الاخلاق والاعمال والاھواء (ترمذی) " قطبہ بن مالک کہتے ہیں کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے " خدایا میں برے اخلاق اور برے اعمال اور بری خواہشات سے تیری پناہ مانگتا ہوں " شکل بن حمید نے حضور سے عرض کیا مجھے کوئی دعا بتائیے۔ فرمایا کہو اللھم انی اعوذبک من شر سمعی و من شر بصری و من شر لسانی ومن شر قلبی و من منیی۔ (ترمذی و ابوداؤد) " خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنی سماعت کے شر سے، اور اپنی بصارت کے شر سے، اور اپنی زبان کے شر سے، اور اپنے دل کے شر سے، اور اپنی شہوت کے شر سے "۔ عن انس بن مالک کان رسول اللہ ﷺ یقول اللھم انی اعوذبک من العجز والکسل والجبن والھرم والبخل و اعوذبک من عذاب القبر من فتنۃ المحیا والممات (وفی روایۃ لمسلم) و ضلع الدین و غلبۃ الرجال (بخاری و مسلم) " انس بن مالک کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے " خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی اور سستی اور بزدلی اور بڑھاپے اور بخ سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب اور زندگی و موت کے فتنے سے (اور مسلم کی ایک روایت میں یہ بھی ہے) اور قرض کے بوجھ سے اور اس بات سے کہ لوگ مجھ پر غالب ہوں "۔ عن خولۃ بنت حکیم السلمیۃ سمعت رسول اللہ ﷺ یقول من نزل منزلا ثم قال اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق لم یضرہ شیء حتی یرتحل من ذلک المنزل (مسلم) " خولہ بنت حکیم سلمیہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو شخص کسی نئی منزل پر اترے اور یہ الفاظ کہے کہ " میں اللہ کے بےعیب کلمات کی پناہ مانگتا ہوں مخلوقات کے شر سے، تو اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی یہاں تک کہ وہ اس منزل سے کوچ کر جائے "۔ یہ حضور کے چند تعوذات بطور نمونہ ہم نے احادیث سے نقل کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کا کام ہر خطرے اور شر سے خدا کی پناہ مانگنا ہے نہ کہ کسی اور کی پناہ، اور نہ اس کا یہ کام ہے کہ خدا سے بےنیاز ہو کر وہ اپنے آپ پر بھروسہ کرے۔ سورة الفلق 3 اصل میں لفظ رَبِّ الْفَلَقِ استعمال ہوا ہے۔ فلق کے اصل معنی پھاڑنے کے ہیں۔ مفسرین کی عظیم اکثریت نے اس سے مراد رات کی تاریکی کو پھاڑ کر سپیدی صبح نکالنا لیا ہے کیونکہ عربی زبان میں فلق الصبح کا لفظ طلوع صبح کے معنی میں بکثرت استعمال ہوتا ہے، اور قرآن میں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے فالق الاصباح کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، یعنی " وہ جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر صبح نکالتا ہے " (الانعام 96) فلق کے دوسرے معنی خلق بھی لیئے گئے ہیں، کیونک دنیا میں جتنی چیزیں بھی پیدا ہوتی ہیں وہ کسی نہ کسی چیز کو پھاڑ کر نکلتی ہیں۔ تمام نباتات بیج اور زمین کو پھاڑ کر اپنی کونپل نکالتے ہیں۔ تمام حیوانات یا تو رحم مادر سے برآمد ہوتے ہیں، یا انڈا توڑ کر نکلتے ہیں، یا کسی اور مانع ظہور چیز کو چیر کر باہر آتے ہیں۔ تمام چشمے پہاڑ یا زمین کو شق کر کے نکلتے ہیں۔ دن رات کا پردہ چاک کر کے نمودار ہوتا ہے، بارش کے قطرے بادلوں کو چیر کر زمین کا رخ کرتے ہیں، غرض موجودات میں سے ہر چیز کسی نہ کسی طرح کے انشقاق کے نتیجے میں عدم سے وجود میں آتی ہے، حتی کہ زمین اور سارے آسمان بھی پہلے ایک ڈھیر تھے جس کو پھاڑ کر انہیں جدا جدا کیا گیا، كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا (الانبیاء 30) پس اس معنی کے لحاظ سے فلق کا لفظ تمام مخلوقات کے لیے عام ہے۔ اب اگر پہلے معنی لیے جائیں تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ میں طلوع صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں۔ اور دوسرے معنی لیے جائیں تو مطلب ہوگا میں تمام خلق کے رب کی پناہ لیتا ہوں۔ اس جگہ اللہ تعالیٰ کا اسم ذات چھوڑ کر اس کا اسم صفت " رب " اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ پناہ مانگنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے " رب " یعنی مالک و پروردگار اور آقا و مربی ہونے کی صفت زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ پھر رَبِّ الْفَلَقِ سے مراد اگر طلوع صبح کا رب ہو تو اس کی پناہ لینے کے معنی یہ ہوں گے کہ جو رب تاریکی کو چھانٹ کر صبح روشن نکالتا ہے میں اس کی پناہ لیتا ہوں تاکہ وہ آفات کے ہجوم کو چھانٹ کر میرے لیے عافیت پیدا کردے، اور اگر اس سے مراد بِرَبِّ خَلق ہو تو معنی یہ ہوں گے کہ میں ساری خلق کے مالک کی پناہ لیتا ہوں تاکہ وہ اپنی مخلوق کے شر سے مجھے بچائے۔
Ayah 113:2

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader

ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے 4

سورة الفلق 4 بالفاظ دیگر تمام مخلوقات کے شر سے میں اس کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس فقرے میں چند باتیں قابل غور ہیں اول یہ کہ شر کو پیدا کرنے کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی گئی، بلکہ مخلوقات کی پیدائش کی نسبت اللہ کی طرف اور شر کی نسبت مخلوقات کی طرف کی گئی ہے۔ یعنی یہ نہیں فرمایا کہ ان شرور سے پناہ مانگتا ہوں جو اللہ نے پیدا کیے ہیں، بلکہ یہ فرمایا کہ ان چیزوں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو اس نے پیدا کی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کو شر کے لیے پیدا نہیں کیا ہے۔ بلکہ اس کا ہر کام خیر اور کسی مصلت ہی کے لیے ہوتا ہے، البتہ مخلوقات کے اندر جو اوصاف اس نے اس لیے پیدا کیے ہیں کہ ان کی تخلیق کی مصلحت پوری ہو، ان سے بعض اوقات اور بعض اقسام کی مخلوقات سے اکثر شر رونما ہوتا ہے۔ دوم یہ کہ اگر صرف اسی ایک فقرے پر اکتفا کیا جاتا اور بعد کے فقروں میں خاص قسم کی مخلوقات کے شرور سے الگ الگ خدا کی پناہ مانگنے کا نہ بھی ذکر کیا جاتا تو یہ فقرہ مدعا پورا کرنے کے لیے کافی تھا، کیونکہ اس میں ساری ہی مخلوقات کے شر سے خدا کی پناہ مانگ لی گئی ہے۔ اس عام اسعاذے کے بعد چند مخصوص شرور سے پناہ مانگنے کا ذکر خود بخود یہ معنی دیتا ہے کہ ویسے تو میں خدا کی پیدا کی ہوئی ہر مخلوق کے شر سے پناہ مانگتا ہوں، لیکن خاص طور پر وہ چند شرور جن کا ذکر سورة فلق کی باقی آیات اور سورة ناس میں کیا گیا ہے، ایسے ہیں جن سے خدا کی امان پانے کا میں بہت محتاج ہوں۔ سوم یہ کہ مخلوقات کے شر سے پناہ حاصل کرنے کے لیے موزوں ترین اور موثر ترین استعاذہ اگر کوئی ہوسکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ ان کے خالق کی پناہ مانگی جائے، کیونکہ وہ بہرحال اپنی مخلوق پر غالب ہے، اور ان کے ایسے شرور کو بھی جانتا ہے جنہیں ہم جانتے ہیں اور ایسے شرور سے بھی واقف ہے جنہیں ہم نہیں جانتے۔ لہذا اس کی پناہ گویا اس حاکم اعلی کی پناہ ہے جس کے مقابلے کی طاقت کسی مخلوق میں نہیں ہے، اور اس کی پناہ مانگ کر ہم ہر مخلوق کے ہر شر سے اپنا بچاؤ کرسکتے ہیں خواہ وہ ہمیں معلوم ہو یا نہ ہو۔ نیز اس میں دنیا ہی کے نہیں آخرت کے بھی ہر شر سے استعاذہ شامل ہے۔ چہارم یہ کہ شرط کا لفظ نقصان، ضرر، تکلیف اور الم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور ان اسباب کے لیے بھی جو نقصان و ضرر اور تکلیف و الم کے موجب ہوتے ہیں۔ مثلا بیماری، بھوک، کسی حادثے یا جنگ میں زخمی ہونا، آگ سے جل جانا، سانپ بچھو وغیرہ سے ڈسا جانا، اولاد کی موت کے غم میں مبتلا ہونا، اور ایسے ہی دوسرے شرور پہلے معنی میں شر ہیں۔ کیونکہ یہ بجائے خود تکلیف اور اذیت ہیں۔ بخلاف اس کے مثال کے طور پر کفر، شرک، اور ہر قسم کے گناہ اور ظلم دوسرے معنی میں شر ہیں کیونکہ ان کا انجام نقصان اور ضرر ہے اگرچہ بظاہر ان سے فی الوقت کوئی تکلیف نہ پہنچتی ہو، بلکہ بعض گناہوں سے لذت ملتی یا نفع حاصل ہوتا ہو۔ پس شر سے پناہ مانگنا ان دونوں مفہومات کا جامع ہے۔ پنجم یہ کہ شر سے پناہ مانگنے میں دو مفہوم اور بھی شامل ہیں۔ ایک یہ کہ جو شر واقع ہوچکا ہے، بندہ اپنے خدا سے دعا مانگ رہا ہے کہ وہ اسے دفع کردے۔ دوسرے یہ کہ جو شر واقع نہیں ہوا ہے، بندہ یہ دعا مانگ رہا ہے کہ خدا مجھے اس شر سے محفوظ رکھے۔
Ayah 113:3

وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader

اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے، 5

سورة الفلق 5 مخلوقات کے شر سے عموما خدا کی پناہ مانگنے کے بعد اب بعض خاص مخلوقات کے شر سے خصوصیت کے ساتھ پناہ مانگنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ آیت میں غاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ غاسق کے لغوی معنی تاریک کے ہیں۔ چناچہ قرآن میں ایک جگہ ارشاد ہوا ہے اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ " نماز قائم کرو زوال آفتاب کے وقت سے رات کے اندھیرے تک " (بنی اسرائیل 78) اور وقب کے معنی داخل ہونے یا چھا جانے کے ہیں۔ رات کی تاریکی کے شر سے خاص طور پر اس لیے پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے کہ اکثر جرائم اور مظالم رات ہی کے وقت ہوتے ہیں۔ موذی جانور بھی رات ہی کو نکلتے ہیں۔ اور عرب میں طوائف الملوکی کا جو حال ان آیات کے نزول کے وقت تھا اس میں تو رات بڑی خوفناک چیز تھی، اس کے اندھیرے میں چھاپہ مار نکلتے تھے اور بستیوں پر غارت گری کے لیے ٹوٹ پڑتے تھے۔ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی جان کے درپے تھے وہ بھی رات ہی کے وقت آپ کو قتل کردینے کی تجویزیں سوچا کرتے تھے تاکہ قاتل کا پتہ نہ چل سکے۔ اس لیے ان تمام شرور و آفات سے خدا کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا جو رات کے وقت نازل ہوتی ہیں۔ یہاں اندھیری رات کے شر سے طلوع فجر کے رب کی پناہ مانگنے میں جو لطیف مناسبت ہے وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک اشکال یہ پیش آتا ہے کہ متعدد صحیح احادیث میں حضرت عائشہ کی یہ روایت آئی ہے کہ رات کو چاند نکلا ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر اس کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اللہ کی پناہ مگو، ھذا الفاسق اذا وقت، یعنی یہ الفاسق اذا وقتب ہے (احمد، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، حاکم، ابن مردویہ) اس کی تاویل میں بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اِذَا وَقَبَ کا مطلب یہاں اِذَا خَسَفَ ہے، یعنی جبکہ وہ گہنا جائے یا چاند گرہن اس کو ڈھانک لے۔ لیکن کسی روایت میں بھی یہ نہیں آیا ہے کہ جس وقت حضور نے چاند کی طرف اشارہ کر کے یہ بات فرمائی تھی اس وقت وہ گرہن میں تھا۔ اور لغت عرب میں بھی اِذَا وَقَبَ کے معنی اِذَا خَسَفَ کسی طرح نہیں ہوسکتے۔ ہمارے نزدیک اس حدیث کی صحیح تاویل یہ ہے کہ چاند نکلنے کا وقت چونکہ رات ہی کو ہوتا ہے، دن کو اگر چاند آسمان پر ہوتا بھی ہے تو روشن نہیں ہوتا، اس لیے حضور کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اس کے (یعنی چاند کے) آنے کے وقت یعنی رات سے خدا کی پناہ مانگو، کیونکہ چاند کی روشنی مدافعت کرنے والے کے لیے اتنی مددگار نہیں ہوتی جتنی حملہ کرنے والے کے لیے ہوتی ہے، اور جرم کا شکار ہونے والے کے لیے اتنی مددگار نہیں ہوتی جتنی مجرم کے لیے ہوا کرتی ہے۔ اسی بنا پر حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ان الشمس اذا غربت انتشرت الشیاطین، فاکفتوا صبیانکم واحبسوا مواشیکم حتی تذھب فحمۃ العشاء " جب سورج غروب ہوجائے تو شیاطین ہر طرف پھیل جاتے ہیں، لہذا اپنے بچوں کو گھروں میں سمیٹ لو اور اپنے جانوروں کو باندھ رکھو جب تک رات کی تاریکی ختم نہ ہوجائے "۔
Ayah 113:4

وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader

اور گِرہوں میں پُھونکنے والوں (یا والیوں)کے شر سے، 6

سورة الفلق 6 اصل الفاظ ہیں نَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِ۔ عقد جمع ہے عقدہ کی جس کے معنی گرہ کے ہیں، جیسی مثلا تاگے یا رسی میں ڈالی جاتی ہے۔ نفث کے معنی پھونکنے کے ہیں۔ نفاثات جمع ہے نفاثہ کی جس کو اگر علامہ کی طرح سمجھا جائے تو مراد بہت پھونکنے والے مرد ہوں گے، اور اگر اسے مونث کا صیغۃ سمجھا جائے تو مراد بہت پھونکنے والی عورتیں بھی ہوسکتی ہیں، اور نفوس یا جماعتیں بھی، کیونکہ عربی میں نفس اور جماعت دونوں مونث ہیں۔ گرہ میں پھونکنے کا لفظ اکثر، بلکہ تمام تر مفسرین کے نزدیک جادو کے لیے استعارہ ہے، کیونکہ جادوگر عموما کسی ڈور یا تاگے میں گرہ دیتے اور اس پر پھونکتے جاتے ہیں۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں طلوع فجر کے رب کی پناہ مانگتا ہوں جادوگروں یا جادوگرنیوں کے شر سے۔ اس مفہوم کی تائید وہ روایات بھی کرتی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جب جادو ہوا تھا تو جبریل ؑ نے آکر حضور کو معوذتین پڑھنے کی ہدایت کی تھی، اور معوذتین میں یہی ایک فقرہ ہے جو براہ راست جادو سے تعلق رکھتا ہے۔ ابو مسلم اصفہانی اور زمخشری نے نفاثات فی العقد کا ایک اور مفہوم بھی بیان کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اس سے مراد عورتوں کی مکاری، اور مردوں کے عزائم اور آراء اور خیالات پر ان کی اثر اندازی ہے اور اس کو جادوگری سے تشبیہ دی گئی ہے، کیونکہ عورتوں کی محبت میں مبتلا ہو کر آدمی کا وہ حال ہوجاتا ہے گویا اس پر جادو کردیا گیا ہے۔ یہ تفسیر اگرچہ پر لطف ہے، لیکن اس تفسیر کے خلاف ہے جو سلف سے مسلم چلی آتی ہے، اور ان حالات سے بھی یہ مطابقت نہیں رکھتی جن میں معوذتین نازل ہوئی ہیں، جیسا کہ ہم دیباچے میں بیان کرچکے ہیں۔ جادو کے متعلق یہ جان لینا چاہیے کہ اس میں چونکہ دوسرے شخص پر برا اثر ڈالنے کے لیے شیاطین یا ارواح خبیثہ یا ستاروں کی مدد مانگی جاتی ہے اس لیے قرآن میں اسے کفر کہا گیا ہے ۚ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيْنَ كَفَرُوْا يُعَلِّمُوْنَ النَّاس السِّحْرَ " سلیمان نے کفر نہیں کیا تھا بلکہ شیاطین نے کفر کیا تھا، وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے "۔ (البقرہ 102) لیکن اگر اس میں کوئی کلمہ کفر یا کوئی فعل شرک نہ بھی ہو تو وہ بالاتفاق حرام ہے اور نبی ﷺ نے اسے سات ایسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے جو انسان کی آخرت کو برباد کردینے والے ہیں، بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا سات غارت گر چیزوں سے پرہیز کرو۔ لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہیں یا رسول اللہ ؟ فرمایا خدا کے ساتھ کسی کو شریک کرنا، جادو، کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد میں دشمن کے مقابلہ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلنا، اور بھولی بھالی عفیف مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔
Ayah 113:5

وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader

اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے۔ 7

سورة الفلق 7 حسد کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو اللہ نے جو نعمت یا فضیلت یا خوبی عطا کی ہو اس پر کوئی دوسرا شخص جلے اور یہ چاہے کہ وہ اس سے سلب ہو کر حاسد کو مل جائے یا کم از کم یہ کہ اس سے ضرور چھن جائے۔ البتہ حسد کی تعریف میں یہ بات نہیں آتی کہ کوئی شخص یہ چاہے کہ جو فضل دوسرے کو ملا ہے وہ مجھے بھی مل جائے۔ یہاں حاسد کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ اس حالت میں مانگی گئی ہے جب کہ وہ حسد کرے، یعنی اپنے دل کی آگ بجھانے کے لیے قول یا عمل سے کوئی اقدام کرے۔ کیونکہ جب تک وہ کوئی اقدام نہیں کرتا اس وقت تک اس کا جلنا بجائے خود چاہے برا سہی، مگر محسود کے لیے ایسا شر نہیں بنتا کہ اس سے پناہ مانگی جائے۔ پھر جب ایسا شر کسی حاسد سے ظاہر ہو تو اس سے بچنے کے لیے اولین تدبیر یہ ہے کہ اللہ کی پناہ مانگی جائے۔ اس کے ساتھ حاسد کے شر سے امان پانے کے لیے چند چیزیں اور بھی مددگار ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ انسان اللہ پر بھروسہ کرے اور یقین رکھے کہ جب تک اللہ نہ چاہے کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ دوسرے یہ کہ حاسد کی باتوں پر صبر کرے، بےصبر ہو کر ایسی باتیں یا کارروائیاں نہ کرنے لگے جن سے وہ خود بھی اخلاقی طور پر حاسد ہی کی سطح پر آجائے۔ تیسرے یہ کہ حاسد خواہ خدا سے بےخوف اور خلق سے بےشرم ہو کر کیسی ہی بےہودہ حرکتیں کرتا رہے، محسود بہرحال تقوی پر قائم رہے۔ چوتھے یہ کہ اپنے دل کو اس کی فکر سے بالکل فارغ کرلے اور اس کو اس طرح نظر انداز کردے کہ گویا وہ ہے ہی نہیں۔ کیونکہ اس کی فکر میں پڑنا حاسد سے مغلوب ہونے کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ پانچویں یہ کہ حاسد کے ساتھ بدی سے پیش آنا تو درکنار، جب کبھی ایسا موقع آئے کہ محسوس اس کے ساتھ بھلائی اور احسان کا برتاؤ کرسکتا ہو تو ضرور ایسا ہی کرے، قطع نظر اس سے کہ حاسد کے دل کی جلن محسوس کے اس نیک رویہ سے مٹتی ہے یا نہیں۔ چھٹے یہ کہ محسود توحید کے عقیدے کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر اس پر ثابت قدم رہے، کیونکہ جس دل میں توحید بسی ہوئی ہو اس میں خدا کے خوف کے ساتھ کسی اور کا خوف جگہ ہی نہیں پاسکتا۔