112. Surah Al-Ikhlaas

الإخلاصSincerity · 4 ayahsبیان القرآن

Ayahs 112:1–3

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader

آپ ان لوگوں سے کہہ دیجیئے کہ وہ یعنی اللہ (اپنے کمال ذات اور صفات میں) ایک ہے۔ (ف 3)

اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader

اللہ ایسا بےنیاز ہے (کہ وہ کسی کا محتاج نہیں اور اس کے سب محتاج ہیں) ۔ (2)

لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader

اس کے اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ (3)

ف 3۔ کمال ذات یہ کہ واجب الوجود ہے اور کمال صفات یہ کہ علم وقدرت وغیرہ اس کے قدیم اور محیط ہیں۔
Ayah 112:4

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader

اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے۔ (ف 4)

ف 4۔ منکرین توحید کئی قسم ہیں، منکر وجود، منکر وجوب، منکر کمال صفات، مشرک فی العبادات، ان سب کا ابطال۔ اللہ احد میں ہوگیا۔ مشرک فی الاستعانت، اس کا ابطال اللہ الصمد میں ہوگیا۔ پس جملہ اولی مضمون ایاک نعبد اور جملہ ثانیہ میں ایاک نستعین کا داخل ہوگیا۔ مدعی ابناء و بنات اس کا ابطال لم یلد ہوگیا، معتقد الوہیت بعضے بشر و جنات اس کا ابطال لم یولد میں ہوگیا، یعنی یہ لوگ مولود ہیں حق تعالیٰ مولود نہیں، کیونکہ مستلزم حدوث ہے معتقد مماثلت جیسے مجوس کہ یزداں اور اہرمن کے قائل ہیں، اس کا ابطال لم یکن لہ کفوا احد میں ہوگا۔