112. Surah Al-Ikhlaas

الإخلاصSincerity · 4 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 112:1–2

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader

کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے

اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader

معبود برحق جو بےنیاز ہے

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، نبی ﷺ سے ان کے رب کے کے بارے میں سوال کیا گیا تو قل ھو اللہ احد نازل ہوئی، کہو وہ اللہ یکتا ہے، اللہ، ھو کی خبر ہے اور احد اس سے بدل ہے یا (مبتداء) کی خبر ثانی ہے، اللہ بےنیاز ہے یہ مبتدا خبر ہیں یعنی وہ حاجتوں میں ہمیشہ مقصود ہے، نہ اس کی کوئی اولاد مجانست کے منتقی ہونے کی وجہ سے نہ وہ کسی کی اولاد اس سے حدوث کے منتفی ہونے کی وجہ سے اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے یعنی ہمسر اور مماثل نہیں، لہ کفواً سے متعلق ہے، لہ کو کفواً پر مقدم کردیا گیا ہے، اس لئے کہ وہی (ماثل سے) مقصود بالنفی ہے اور احد کو جو کہ یکن کا اسم ہے اس کی خبر سے مئوخر کردیا گیا ہے فو اصل کی رعایت کی وجہ سے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد سورة اخلاص، اس سورت کے متعدد نام ہیں اور کثرت اسماء شرف مسمی پر دلالت کرتے ہیں، صاوی (رح) تعالیٰ نے اس کے بیس نام شمار کرائے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں، سورة التفرید، سورة التجرید، سورة التوحید، سورة الاخلاص، سورة التحیات، سورة الولایۃ، سورة النسبۃ، سورة المعرفۃ، سورة الجمال، سورة المقشقشۃ ، (تلک عشرۃ کاملۃ) قولہ : قل ھو اللہ احد اس کی ترکیب میں چند صورتیں ہیں، (1) ھو ضمیر شان مفسر مبتداء اور لالہ الصمد مفسر جملہ ہو کر خبر (2) ھو مبتداء اول، اللہ مبتدا ثانی اور احد مبتدا ثانی کی خبر، مبتداء ثانی اپنی خبر سے مل کر جملہ ہو کر مبتداء اول کی خبر، اس صورت میں ھو کا مرجع ہوہ ہے جو سابق میں مذکور ہوا، اس لئے کہ قل ھو اللہ احد، مشرکین کے سوال یا محمد ! انب لنا ربک، اے محمد ﷺ تو ہم سے اپنے رب کا نسب بیان کر، کے جواب میں ہے اور یہ بھی درست ہے کہ اللہ، ھو سے بدل ہو۔ قولہ : اللہ الصمد، اللہ مبتداء الصمد اس کی خبر، الصمد یا میصمد الیہ فی الحاجات کو کہا جاتا ہے یعنی حاجتوں میں جس کی جانب قصد کیا جائے، فعل (یصمد) آتا ہے، مصدر بمعنی مفعول (مصمود) ہے۔ تفسیر و تشریح سورة اخلاص کی فضیلت : یہ سورت اگرچہ بہت مختصر ہے، مگر بڑے فضائل کی حامل ہے آپ ﷺ نے اس کو ثلث قرآن قرار دیا یہع۔ شان نزول : مشرکین نے آپ ﷺ سے کہا کہ اپنے رب کا نسب بیان کرو تب یہ سورت نازل ہوئی۔ (مسند احمد) قل ھو اللہ احد اس حکم کے مخاطب اولین تو خود رسول اللہ ﷺ ہیں، اس لئے کہ آپ ﷺ ہی سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ آپ ﷺ کا رب کون ہے اور کیسا ہے ؟ اور آپ ﷺ کو حکم دیا گیا تھا کہ آپ ﷺ ان کے سوال کے جواب میں اللہ احد کہیں، لیکن حضور ﷺ کے بعد ہر مومن اس کا مخاطب ہے، اسے بھی وہی بات کہنا چاہیے جس کے کہنے کا حکم حضور ﷺ کو دیا گیا تھا۔ لفظ قل، اس میں نبی ﷺ کی نبوت کی طرف اشارہ ہے کہ ٓپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کا حکم ہو رہا ہے اور اللہ اس ذات کا نام ہے جو واجب الوجود اور تمام کمالات کی جامع اور تمام نقائص سے پاک ہے، احد اور واحد کا ترجمہ تو ایک ہی کیا جاتا ہے، مگر مفہوم کے اعتبار سے احد کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ترکیب و تحلیل، تعدد اور تجزیہ اور کسی شئی کی مشابہت و مشابہت مشاکلت سے پاک ہے یعنی وہ ایک یا متعدد مادوں سے نہیں بنا ہے اور نہ اس میں تعدد کا کوئی امکان ہے، اس کے سوا دنیا کی ہر شئی جفت اور طاق ہے، یہ جواب ہوگیا ان لوگوں کا جو اللہ تعالیٰ کے متعلق پوچھتے تھے کہ وہ سونے چاندی کا ہے یا کسی جوہر کا ؟ اس ایک مختصر جملہ میں ذات وصفات کے سب مباحث آگئے۔ اللہ الصمد لفظ صمد کے معنی میں بڑی وسعت ہے، اس کے بہت سے معنی ہوسکتے ہیں اور وہ سب صحیح ہیں، لیکن اصل معنی صمد کے ہیں وہ ذات کہ لوگ اپنی حاجات اور ضروریات میں جس کی طرف رجوع کریں اور جو بڑائی اور سرداری میں ایسا ہو کہ اس سے کوئی بڑا نہیں، خلاصہ یہ کہ سب اس کے محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔
Ayahs 112:3–4

لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader

نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader

اور کوئی اس کا ہمسر نہیں

لم یلد ولم یولد یہ ان لوگوں کا جواب ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے نسب نامہ کا سوال کیا تھا کہ اس کو مخلوق پر قیاس نہیں کیا جاسکتا جو توالد و تناسل کے ذریعہ وجود میں آتی ہے، نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد۔ ولم یکن لہ کفواً احد، کفو کے لفظی معنی مثل اور مماثل کے ہیں، معنی یہ ہے کہ نہ کوئی اس کا مثل ہے اور نہ ہی کوئی اس سے مشاکلت و مشابہت رکھتا ہے۔ (معارف) سورة اخلاص میں مکمل توحید اور ہر طرح کے شرک کی نفی ہے : اللہ کے ساتھ کسی کو شریک سمجکھنے والے، منکرین توحید کی دنیا میں مختلف اقسام ہوئی ہیں، سورة اخلاص نے ہر قسم کے مشرکانہ خیالات کی نفی کر کے مکمل توحید کا سبق دیا ہے، چناچہ منرین توحید میں ایک گروہ تو خود اللہ کے وجود ہی کا منکر ہے، جبکہ بعض وجود کے تو قائل ہیں مگر وجوب وجود کے منر ہیں، بعض دونوں کے قائل ہیں مگر صفات کمالات کے منکر ہیں، بعض یہ سب کچھ مانتے ہیں، مر پھر بھی غیر اللہ کو عبادت میں شریک ٹھہراتے ہیں، ان سب خیالات باطلہ کا رد اللہ الصمد میں ہوگیا بعض لوگ العبادت میں بھی کسی کو شریک نہیں کرتے، مگر حاجت روا کار ساز اللہ کے سوا دوسروں کو بھی سمجھتے ہیں، ان کے خیالات کا ابطال لفظ الصمد میں ہوگیا، بعض لوگ اللہ کے لئے اولاد کے قائل ہیں ان کا رد لم یلد میں ہوگیا۔ (معارف) لہٰذا اس مختصر مگر جامع سورت سے ہر طرح کے شرک کی نفی ہوگئی جس کی طرف راہ نکالنے کی کسی قسم کی اب قطعاً کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ (واللہ اعلم بالصواب)