112. Surah Al-Ikhlaas
الإخلاصSincerity · 4 ayahsعروۃ الوثقٰی
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader
آپ کہہ دیجئے کہ اللہ اپنی ذات میں اکیلا ہے
اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں اکیلا ہے
1 (قل) کہہ دیجئے اے پیغمبر اسلام ! جب نبی اعظم و آخر ﷺ نے نبوت و رسالت کا اعلان کیا تو اس میں سرفہرست جو بات تھی وہ اللہ تعالیٰ کی توحید خالص کا مسئلہ تھا۔ قریش مکہ اور دوسرے سارے ہی لوگ اللہ کے منکر نہیں تھے بلکہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی ذات کو مانتے تھے لنکا اللہ تعالیٰ کی صفات میں اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق میں سے جن کو وہ نیک اور بہتر تصور کرتے تھے ان کو اللہ تعالیٰ کی صفات کے طور پر مانتے اور پہچانتے تھے اور ان کے مرنے کے بعد ان کی یادگار کے طور پر ان کے بُت بنالیے گئے تھے اور ان بتوں کو وہ ان شخصیتوں کو قائم مقام سمجھ کر اپنے سامنے رکھتے تھے تاکہ ذہن میں ان کا تصور قائم رہے اور ان سارے بزرگوں کے حسب و نسب سے ان کو واقفیت تو تھی اس لیے وہ ان صفات کے پیش نظر ازراہ مذاق نبی اعظم و آخر ﷺ سے دریافت کرتے کہ جس اللہ کا ذکر آپ ﷺ کرتے ہیں اور اس کو خالق ، مالک ، رازق ، نافع اور ضار قرار دیتے ہیں اس کی شناخت اور حسب و نسب کیا ہے ؟ چناچہ روایت میں بھی اس کا ذکر آیا ہے کہ : ان المشرکین لوللنبی ﷺ یا محمد انسب لنا ربک فانزل اللہ تعالیٰ قل ھو الاحد) الخ ( رواہ احمد) ” مشرکین نبی اعظم و آخر ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھتے اے محمد ﷺ جس رب پر ایمان لانے کی آپ ﷺ ہم کو دعوت دیتے ہیں اس کا حسب و نسب تو ہم کو بتائیں تاکہ ہم کو اس کی شناخت ہوجائے۔ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی کہ آپ ﷺ کہہ دیں کہ اللہ ایک ہے۔ الخ۔ “ اس سلسلہ میں بہت سی روایات و احادیث بیان کی جاسکتی ہیں لیکن ہم نے اشارہ کردیا ہے اور اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ اس طرح کی روایات کے لیے ابویعلیٰ ، ابنِ جریر ، ابن المنذر ، طبرانی الاوسط ، بیہقی ، ابونعیم فی الحلیہ ، ابنِ ابنی حاتم ، ابنِ عدی ، بیہقی فی الاسماء والصفات میں اکثر بیان کی گئی ہیں۔ ( احد) احد ایک۔ اکیلا۔ پہلا۔ (احد) کا استعمال کبھی نفی میں ہوتا ہے کبھی اثبات میں۔ نفی کی شکل میں استغراق جنس کے لیے آتا ہے یعنی پوری جنس کی نفی مقصود ہوتی ہے خواہ قلیل ہو یا کثیر۔ مجمع طور پر ہو یا متفرق طور پر جیسے ( ولا تضل علی احد منھم) (9 : 84) ” اور ان منافقوں میں سے کسی ایک پر بھی نماز نہ پڑھو “ اس معنی میں اس کا استعمال صرف نفی کی حالت میں درست ہے۔ اثبات میں درست نہیں کیونکہ دو متضاد چیزوں کی نفی تو صحیح ہوسکتی ہے لیکن اثبات نہیں ہوسکتا۔ اثبات کی حالت میں اس کا استعمال تین طرح پر ہوتا ہے :
(1) دہائیوں پر ایک کے اضافہ کے لیے جیسے 11 ، 21 ، 31 ، 41 وغیرہ۔ احد عشر ، احد و عشرون وغیرہ۔
(2) مضاف یا مضاف الیہ ہو جیسے احد کما۔
(3) معنی وضع کے لیے یعنی اکیلے کے معنی میں اور اس سورت میں اس کا استعمال صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے درست ہے جیسے زیر نظر آیت میں ہے اور ( احد) کی جمع احاد ہے۔
آپ ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو برملا کہہ دیں کہ میرا رب تو وہی ہے جو اللہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میرا اللہ اور میرا رب کوئی دو نہیں بلکہ جو اللہ ہے وہی رب ہے ، وہی خالق ہے ، وہی مالک ہے ، وہی رازق ہے ، وہی نافع ہے اور وہی ضار ہے اور اللہ سے تم بھی واقف ہو کیونکہ اس کو تم بھی جانتے ہو۔ وہ تمہارے لیے کوئی ایسی ہستی نہیں کہ اس کی تم کو شناخت نہ ہو جس طرح تم اپنے دوسرے سارے معبودوں میں سے کسی ایک پر بھی اللہ کے لفظ کا اطلاق نہیں کرتے اسی طرح میں اللہ کے سوا کسی دوسرے پر رب کے لفظ کا اطلاق بھی نہیں کرتا اور نہ ہی آج تک کسی دوسرے پر اِلٰہ کا اطلاق کیا ہے اور نہ کروں گا اور ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی کہ تم پر اللہ کا مفہوم واضح ہوگیا تھا جب ابرہہ نے بیت اللہ کو ڈھانے کی غرض سے چڑھائی کی تھی اس وقت تم نے سارے معبودوں کو چھوڑ کر جو بیت اللہ میں رکھے گئے تھے صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارا تھا۔ اس وقت تم کو کس چیز نے باور کرایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا اور کسی اِلٰہ کے کرنے کا یہ کام نہیں ہے اور یہ بھی اسی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نسبت ہے کہ تم بیت اللہ کو اللہ کا گھر مانتے اور تسلیم کرتے ہو۔ اللہ کے بارے میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ تم کو بھی نہیں اور بعض چیزیں تم بھی اللہ تعالیٰ کے لیے خاص سمجھتے ہو۔ چناچہ قرآن کریم میں اس طرح کا جب بھی ان سے سوال کیا گیا کہ بتائو تمہارا پیدا کرنے والا کون ہے ؟ تو انہوں نے برملا جواب دیا کہ اللہ۔ تفصیل اس کی دیکھنا مطلوب ہو تو عروۃ الوثقی جلد ہفتم سورة العنکبوت کی آیت 61 ، 63 ، سورة لقمان کی آیت 35 ، سورة الزمر کی آیت 38 ، جلد ہشتم سورة الرخرف کی آیت 9 ، 87 کی تفسیر دیکھیں تو حقیقت آپ پر واضح ہوجائے گی۔
پھر اس سے ملتا جلتا مضمون یہ ہے کہ ” ان سے پوچھو کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ اور یہ جو سماعت اور بینائی کی قوتیں تم کو دی گئی ہیں یہ کس کے اختیار میں ہیں ؟ اور کون زندہ کو مردہ سے اور مرد کو زندہ سے نکالتا ہے ؟ اور کون اس نظام عالم کی تدبری کر رہا ہے ؟ تو یہ ایک ہی جواب دیں گے کہ اللہ۔ “ (یونس۔ 3)
” جب تم لوگ کشتیوں میں سوار ہو کر باد موافق پر شاداں وفرحاں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر اچانک باد مخالف کا زور شروع ہوجاتا ہے اور ہر طرف سے تم کو موجوں کے تھپیڑے لگنے شروع ہوجاتے ہیں اور مسافر سمجھتے ہیں کہ ہم طوفان میں گھر گئے پھر اس وقت سب کے سب اپنے دین کو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خالص کرکے اس سے دعائیں مانگتے ہیں کہ اگر تُو نے ہمیں اس بلا سے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بن جائیں گے مگر جب اللہ تعالیٰ تم کو بچا لیتا ہے تو پھر تم لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگے ہو۔ “ ( یونس : 22 ، 23)
فرمایا ” جب سمندر میں تم پر مصیبت آتی ہے تو ایک اللہ کے سوا دوسرے جن جن کو تم پکارا کرتے ہو وہ سب کے سب گم ہوجاتے ہیں مگر جب وہ تم کو بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ موڑ جاتے ہو۔ “ (الاسراء : 67)
فرمایا ” ان سے کہو کہ بتائو اگر تم جانتے ہو کہ یہ زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟ یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ کی… ان سے پوچھو ساتوں آسمان اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟ یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ ! … ان سے کہو بتائو اگر تم جانتے ہو کہ ہرچیز پر اقتدار کس کا ہے اور کون ہے وہ جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا ؟ تو یہ ضرور جواب دیں گے کہ یہ بات تو اللہ ہی کے لیے ہے ۔ “ ( المومنون : 84 تا 89)
اوپر بیان کردہ آیات کریمات اور ان آیات جیسی دوسری بیشمار آیات کریمات میں سارے لوگوں کو اقرار ہے کہ یہ سب کام تو اللہ تعالیٰ کرتا ہے یہی بات زیرنظر آیت میں پیش نظر رکھ کر فرمایا گیا ہے کہ جس کے متعلق تم سوال کر رہے اس کے متعلق میں تم پر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ( ھو اللہ) وہ اللہ ہی ہے۔ یہ جواب تو ان کے لیے ہوگیا ذرا غور کرنا ہمارا کام بھی ہے کہ ہم فکر کریں اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ کفار مکہ سے جو اوپر سوال کیے گئے اور انہوں نے ان کے جواب دئیے اور پھر جواب میں انہوں نے اللہ ہی کا نام لیا تو اس کے باوجود وہ مشرک ہی ٹھہرے رہے اور آج ہمارے مسلمانوں کی تو یہ حالت ہے کہ وہ ان چیزوں میں سے بہت سی چیزوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کرتے بلکہ اپنے بزرگوں ، پیشوائوں ، مرشدوں اور بہت سے دوسرے مرنے والوں ہی کی طرف کردیتے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ کافر اور مشرک ٹھہرے اور ہمارے لوگ مسلمان کے مسلمان ہی رہے۔ کیا یہ بےانصاف نہیں تو اور کیا ہے ؟ دعوائے ایمان کے بعد کفر و شرک میں مبتلا ہونا تو کفرو شرک سے بھی برا ہے کیونکہ اسی کا نام نفاق ہے۔ کیا ایک مسلمان کو منافقت زیب دیتی ہے ؟ ہمارے مفسرین نے ( ھو اللہ احد) کے الفاظ پر بہت بحث کی ہے اور تفنن طبع کے لیے اس کے کئی مفہوم اور معنی بتائے ہیں۔ (ھو) کیا ہے ؟ ( اللہ) کا مفہوم نحوی ترکیب سے کیا بنتا ہے اور صرف کیا کہتی ہے ، مبتداء کون ہے اور خبر کون ؟ اور ( احد) کیا ہے۔ ترکیب نحوی کے لحاظ سے اس کا مفہوم کیا نکلتا ہے اور دوسرا اور عام مفہوم و مطلب کیا ہے جیسے بیسیوں سوال جو بیسیوں طرح سے اٹھائے گئے اور پھر ان کے جوابات دئیے گئے لیکن جو مقصود اصل تھا ، جس چیز کو دیکھنا مقصود تھا اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا گیا۔ بات صرف اس وقت کے کفارمشرکوں کی کی گئی تھی موجودہ مشرکوں اور کافروں کا ذکر نہ کیا گیا اور اسلام لانے کے بعد کفر اور شرک کے مرتکبین کی کوئی سزا نہ بتائی گئی۔ ان کے کفرو شرک اور آج کے مسلمانوں کے کفر وشرک کا تقابل پیش نہ کیا گیا۔ قارئین سے ہماری اپیل ہے کہ اس سورت کی روشنی میں وہ اپنا اور اپنے ماحول کا خود تجزیہ کریں۔ صرف و نحو کے قواعد کی بحث نہ کریں۔ بحث کرنا ہے تو یہ کریں کہ وہ سب کچھ مان کر کافر کے کافر رہے اور ہم ان کے برابر بھی تسلیم نہ کرکے مسلمان کے مسلمان ہی رہے اگر یہ فی الواقع حقیقت ہے کہ ہم یہ سب کچھ کرنے کے باوجود پکے مسلمان ہیں تو اس کی لم تلاش کریں کہ وہ کیا ہے ؟ اور اگر یہ تسلیم ہوجائے کہ ایسی بات نہیں ہے بلکہ ہماری اس میں کوتاہی ہے اور ہم ان سے بھی زیادہ مجرم ٹھہر رہے ہیں تو اپنی اصلاح کریں تاکہ وقت ہاتھ سے نکل جانے کے بعد جو پچھتاوا ہوگا اس پچھتاوے سے بچ جائیں۔
اللہ وہ ذات ہے جس کے سب محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں
2 (الصمد) صمد بےنیاز۔ بےاحتیاج۔ جو کھاتا پیتا نہ ہو۔ صمد کے لفظوں میں بھی اختلاف ہے اور ابن عباس ؓ ، مجاہد ، حسن ، سعید بن جبیر (رح) نے کہا ہے کہ صمد وہ ہے جس کے سیادت کامل ہو اور انتہا کو پہنچی ہوئی ہو۔ “
(عبداللہ بن مسعود ، عبداللہ بن عباس ، ابو وائل شقیق بن سلمہ ؓ
(3) صمد وہ ہے ” جس کی طرف لوگ کسی بلا یا مصیبت کے نازل ہونے پر مدد کے لیے رجوع کریں۔ “ (ابن عباس ؓ
(4) صمد وہ ہے ” جو سردار جو اپنی سیادت میں ، اپنے شرف میں ، اپنی عظمت میں ، اپنے علم اور بردباری میں ، اپنے علم میں اور اپنی حکمت میں کامل ہو۔ “ (ابنِ عباس ؓ
(5) صمد وہ ہے ” جو سب سے بےنیاز ہو اور سب اس کے محتاج ہوں۔ “ (ابوہریرہ ؓ
(6) صمد وہ ہے ” جس سے نہ تو کوئی چیز نکلی ہو اور نہ ہی وہ کسی سے نکلا ہو۔ “ (عکرمہ ؓ کا قول ارم)
(7) صمد وہ ہے ” جو اپنی تمام صفات میں اور تمام اعمال میں کامل ہو۔ “ ( سعید بن جبیر ؓ
(8) صمد وہ ہے ” جس پر کوئی آفت نہ آتی ہو۔ “ (ربیع بن انس ؓ
(9) صمد وہ ہے ” جس کی صفت سے کوئی دورسرا متصف نہ ہو۔ “ ( ابن کیسان)
(10) صمد وہ ہے ” جس کی طرف لوگ اپنی حاجتوں کے لیے رجوع کریں۔ “ (ابراہیم نخفی)
اختصار ان سب اقوال کا صرف یہ ہے کہ صمد وہ ہوتا ہے جو خود تو ہر ایک طرح کی احتیاج سے پاک ہو لیکن دوسرے اپنی حاجات کے لیے اس کی طرف رجوع کریں۔ گویا سب کا مالک ، خالق اور رب۔ سب کے سب اپنی پیدائش ، زندگی اور ہر قسم کی حاجات کے لیے جس کے محتاج ہیں اور وہ سب سے بےنیاز ہے۔ خیال رہے کہ جن قوانین کا اس کو پابند کہا جاتا ہے وہ قوانین ہم نے نہیں بنائے بلکہ خود اس نے بنائے ہیں لہٰذاوہ قانون کا محتاج نہ تھا ، نہ ہے اور نہ ہوگا بلکہ وہ قوانین اس کے محتاج ہیں کہ اس کے بنائے ہوئے ہیں۔ اگر وہ ان کونہ بناتا اور چاہتا تو اس کی بجائے کچھ اور بنا دیتا اس لیے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو بھی قانون کا پابند کہا جائے تو اس سے کفر لازم آتا ہے کیونکہ پابندی احتیاج ہے ، ان کی یہ بات بالکل غلط ہے۔ دراصل وہ خود جھوٹے ہونے کے لیے کچھ اس طرح کا خیال کرتے ہیں ورنہ حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کو سمجھنے کے لیے ایک طرح کی مثال سے سمجھ لو کہ مثلاً میرے پاس دس روپے ہیں لیکن میں نے اپنی مرضی سے کسی ایک مسکین کو دینے کا اعلان کردیا ہے اب اس میں ضروری ہے کہ وہ روپے میں اسی مسکین کو دے دوں لیکن اگر نہیں دیتا تو یہ کیا ہے ؟ اس وعدہ قانون کی خلاف ورزی ہے جو مجھے مجرم بناتی ہے لیکن اس کو احتیاج نہیں کہتے اور نہ ہی یہ بات مجھے محتاج بناتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں سو باتوں میں محتاج ہوں گا۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے قانون خود بنائے جس طرح وہ ہرچیز کا خالق ہے اسی طرح وہ ہر ایک قانون کا بھی خالق ہے۔ انسان اور ہر ایک مخلوق پیدا کیا لیکن مکلف صرف اور صرف انسان ہی کی دونوں اصناف کو بنایا لیکن کل قیامت کو جب روز جزا آئے تو بدلے سے انکار فرما دے ایسا ناممکن ہے نہ ہی وہ کبھی کرے گا کیونکہ اگر ایسا ہو تو صریحاً ظلم ہوگا اور ظلم اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے لیے محال ہے لیکن اگر وہ بدلہ لے گا تو اس لیے نہیں کہ وہ بدلہ لینے کے لیے محتاج ہے کوئی سرپھرا اور بیوقوف ہی ہوگا جو اس طرح کی بات کو وہم و گمان میں بھی لائے گا۔ لیکن ایسے سرپھروں کی اب بھی کوئی کمی نہیں کہ وہ بضد ہوجاتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو وعدہ کا پابند کہا جائے تو یہ کفر ہوجاتا ہے جبکہ وہ خود بار باراعلان کرتا ہے کہ : (لا تبدیل للکلمات اللہ) کہ اللہ تعالیٰ کی باتیں بدلا نہیں کرتیں یا اللہ اپنی باتوں کو کبھی نہیں بدلتا یا اللہ نے جو وعدے کیے ہیں ان کی خلاف ورزی کبھی نہیں کرتا اور نہ ہی ہونے دیتا ہے۔
اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader
اللہ وہ (ہستی) ہے جس کے سب محتاج ہیں (وہ کسی کا محتاج نہیں)
لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader
نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے
نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے
3 جب سے انسان نے اس دنیا میں قدم رکھ اس وقت سے لیکر آج تک یہ چیز مشترک چلی آرہی ہے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی جلالت ، قہارت اور کسی چیز کا محتاج نہ ہونا اور ہر طرح سے بےنیاز ہونا مانا گیا اور تسلیم کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ایسی ایسی خرافات باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کی گئی ہیں اور اس وقت بھی منسوب کی جاتی ہیں کہ سن کر انسان دنگ رہ جاتا ہے شاید ہی دنیا میں کوئی ایسی قوم گزری ہو جس نے اللہ رب ذو الجلال والاکرام کی طرف اس طرح کی باتیں تسلیم نہ کی ہوں کسی نے اللہ کی طرف اولاد منسوب کی ہے اور کسی نے کسی کا بیٹا قرار دیا ہے اور کسی نے کسی کو بیٹیاں تسلیم کیا ہے چناچہ اہل عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے مختصر یہ کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کی امتیں بھی اس جہالت سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا اور عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا مانا۔ ان مختلف توہمات میں دو قسم کے تصورات ہمیشہ خلط ملط ہوتے رہے ہیں یعنی لوگوں نے یہ سمجھا کہ جن کو وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رہے ہیں وہ اس ذات پاک کی نسلی اولاد ہے اور بعض نے یہ دعویٰ کیا کہ جس کو وہ اللہ کا بیٹا کہہ رہے ہیں اسے اللہ تعالیٰ نے اپنا متنبی بنایا ہے اگرچہ ان میں سے کسی کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ معاذ اللہ کسی کو اللہ کا باپ قرار دیں لیکن ظاہر ہے کہ جب کسی ہستی کے متعلق یہ تصور کیا جائے کہ وہ توالد و تناسل سے پاک نہیں اور اس کے بارے میں یہ خیال کیا جائے کہ وہ بھی انسان کی طرح اس قسم کی کوئی ہستی ہے جس کے ہاں اولاد پیدا ہوتی ہے اور جس کو لاولدہونے کی صورت میں کسی کو بیٹا بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو پھر انسانی ذہن اس گمان سے بھی محفوظ نہیں رہ سکتا کہ اسے بھی کسی کی اولادس مجھے۔ یہی وجہ ہے کہ جو سوالات رسول اللہ ﷺ سے پوچھے گئے تھے ان میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ اللہ کا نسب کیا ہے ؟ اور دوسرا یہ کہ اس نے دنیا کی میراث پائی ہے اور کون اس کے بعد وارث ہوگا ؟ ان جاہلانہ مفروضات کا اگر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ منطقی طور پر ان کو فرض کرلینے سے کچھ اور چیزوں کو بھی فرض کرنا لازم آتا ہے۔ مثلاً یہ کہ :
(1) خدا ایک نہ ہو بلکہ خدائوں کی کوئی جنس ہو اور اس کے افراد خدائی کے اوصاف ، افعال اور اختیارات میں شریک ہوں۔ یہ بات خدا کی طرف نسبی اولاد فرض کرلینے ہی سے لازم نہیں آتی بلکہ کسی کو متنبی فرض کرنے سے بھی لازم آتی ہے کیونکہ کسی کا متنبی لامحالہ اس کا ہم جنس ہی ہوسکتا ہے اور پھر جب معاذ اللہ وہ خدا کا ہم جنس ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ خدائی کے اوصاف بھی رکھتا ہے۔
(2) اولاد کا کوئی تصور اس کے بغیر نہیں کیا جاسکتا کہ نر و مادہ میں اتصال ہو اور کوئی مادہ باپ اور ماں کے جسم سے نکل کر بچے کی شکل اختیار کرے۔ پس اللہ کے لیے اولاد فرض کرنے سے لازم آتا ہے کہ معاذ اللہ وہ ایک مادی اور جسمانی وجود ہو۔ اس کی ہم جنس کوئی اس کی بیوی بھی ہو اور اس کے جسم سے کوئی مادہ بھی خارج ہو۔
ہم نے اوپر عرض کیا ہے کہ جب کوئی قوم کوئی عقیدہ اختیار کرلیتی ہے تو وہ اندھی اور بہری ہو کر اس عقیدہ پر قائم رہتی ہے اور اس قوم کے مذہبی راہنما اس قوم کو اس عقیدہ پر قائم رکھنے کے لیے اس طرح کی مثالیں اور دلیلیں گھڑ کردیتے رہتے ہیں جس سے وہ عقیدہ پکا اور پختہ بنا رہے اور قوم اس پر جمی اور ڈٹی رہے۔ اوپر درج کی گئی عبارت سید مودودی (رح) کی ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھیں ، یہود و نصاریٰ نے جو عقیدہ اللہ رب کریم کے متعلق گھڑا تھا اگرچہ کوئی اس کی اصل نہ تھی لیکن انہوں نے جب اس عقیدہ کو گھڑ لیا اور قومی عقیدہ بنا لیا اور مان لیا تو پھر ان کے علماء نے ان کو ثبوت فراہم کرنے کے لئے بہت دلائل بھی گھڑ گھڑ کردئیے لیکن سید مودودی (رح) کس طرح ان کے دلائل کے بخئے ادھیڑ رہے ہیں اور ولد کی تشریح کرتے ہوئے وہ کیا دلیل دیتے ہیں کہ ان کو پڑھ کر آدمی سر دھننے لگتا ہے کہ سید صاحب مرحوم نے خوب کہی کہ اللہ کی اولاد گھڑنے والوں کے بخئیے ادھیڑ کر رکھ دئیے لیکن جونہی سید صاحب مرحوم کی اپنی باری آئی اور اپنے قومی عقیدہ کے ماننے کا وقت آیا تو سید صاحب کو یہ بات یاد ہی نہ رہی کہ جو بات ہم اللہ کے لیے ماننے کے لیے تیار نہیں وہ ایک انسان کے لیے مان کر ہم کس عقل و فکر کا ثبوت دے رہے ہیں اور کیا کوئی دوسری قوم اگر ہمارے اس نظریہ کو پڑھے گی تو وہ ہنس کر نہیں رہ جائے گی کہ جس طرح سارے لوگ اپنی قوم کے مانے ہوئے عقیدوں کے لیے اندھے ، بہرے اور گونگے ہوتے ہیں سید صاحب مرحوم بھی بالکل اپنی قوم کے مانے اور تسلیم کیے ہوئے عقیدوں کے لیے تو اسی طرح بہرے ، گونگے اور اندھے ہیں۔ پھر دوسرے اندھوں ، بہروں اور گونگوں میں اور سید صاحب میں فرق کیا رہ گیا ؟
مثلاً سید صاحب نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے مانا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ولد بھی مانا اور ولد کے لیے نرومادہ میں اتصال بھی مانا اور بڑے دھڑلے سے کہا کہ کوئی مادہ باپ اور ماں کے جسم سے نکل کر بچے کی شکل اختیار کرے تب وہ اولاد بنتا ہے۔ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) ولد ہیں اور ان کی ایک طرف ماں ہے تو دوسری طرف جب تک تسلیم نہ کی جائے اور پھر ان دونوں سے کوئی مادہ نکل کر بچہ تیار نہ ہو تو آخر عیسیٰ (علیہ السلام) ولد کیسے ہوسکتے ہیں ؟ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ جو اصول سید صاحب نے بتایا ہے اس اصول کے مطابق وہ عیسیٰ علہ السلام کو ولد ماننے کے باوجود بغیر باپ کے کیسے مان سکتے ہیں ؟ اور اگر سید صاحب مرحوم ہوگئے ہیں حالانکہ ہم نے ان کی زندگی میں بھی ان سے پوچھا لیکن انہوں نے ہم کو محروم ہی رکھا ، اب ان کے ماننے والے اور اندھی تقلید کرنے والے اس کا کوئی حل بتائیں گے جس سے یہ مشکل آسان ہوجائے گی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے بھی رہیں اور ولد بھی ان کو تسلیم کیا جائے اگر نہیں اور یقینا نہیں تو کم از کم اتنی بات تسلیم کرلی جائے کہ جو قوم من حیث القوم کوئی عقیدہ مان لیتی اور تسلیم کرلیتی ہے ابس کے سامنے ہزار دلائل بھی رکھے جائیں وہ ان میں سے ایک ایک کا مذاق اڑائیں گے اور اپنے سراسر مذاق شدہ عقیدہ پر اس طرح جمے رہیں گے جس طرح سید صاحب ساری زندگی اس عقیدہ پر جمے رہے جس کا رد انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اس تفسیر میں کردیا جس کا نام ” تفہیم القرآن “ ہے اگر کوئی فرق پڑا تو صرف اتنا کہ سید صاحب نے اپنا عقیدہ جلد اوّل میں بیان فرمایا اور عیسائیوں کا عقیدہ کا رد انہوں نے چھٹی جلد میں کیا اور ان کو اس بات کی سمجھ ہی نہ آئی کہ میں نے عیسائیوں کا رد کرتے کرتے خود اپنا بھی رد کردیا ہے اور کس خوبصورتی کے ساتھ کردیا ہے۔ تعجب ہے جس پائوں پر انہوں نے کلہاڑی چلائی تو وہ ان کا اپنا پائوں تھا تاہم انہوں نے سی نہ کی اگرچہ ساری زندگی لنگڑاتے رہے لیکن حواری ہیں کہ وہ وہاں بھی عش عش کر رہے ہیں اور یہاں بھی ساری داد سید صاحب کے لیے خاص کردی ہے اور اس طرح اپنے ماننے کا حق ادا کردیا ہے کہ آدمی جس کو مانتا ہے اندھا دھند ہی مانتا ہے اور مان لینے کے بعدیہ خیال کرنا کہ ہم نے کیا مانا ہے شاید یہ انسانوں کا کام نہیں ہوگا ؟ انسانوں کا کام شاید صرف یہ ہے کہ جس کو دوسرے مانتے ہیں اس کا تجزیہ کیا جائے کہ انہوں نے کیا مانا ہے۔ اگر یہی اصول ہے تو ہمیں اس سے سخت انکار ہے اور اس کے انکار سے اگر ہم پر کوئی فتویٰ لگتا ہے تو وہ سو بار لگے ہم اس فتویٰ کی کوئی پرواہ نہیں رکھتے جو خود ہی الاشرم ہو کیونکہ نکٹا ہونا خوبی کی بات نہیں خواہ وہ کسی طرح ہی کیوں نہ ہو اور بحمد اللہ اسلام میں کوئی ایسا عقیدہ نہیں اگرچہ مسلمانوں نے سو گھڑ لیے ہیں۔
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader
اور (اس کی ذات وصفات میں) کوئی بھی اس کا شریک نہیں
اور اس کی صفات میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں
4 (کفر) کا اصل مادہ کا ہے اور اس مادہ کا صرف یہ ایک ہی لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے اور کوئی لفظ اس مادہ کا قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا اور (کفرا) ہمسر کو کہتے ہیں جو برابر کا ہو ، کسی ایک صفت میں یا ساری صفات میں اور جس کو ہماری زبان میں ہم پلہ (Equal) کے لفظ سے زیادہ تر یاد کیا جاتا ہے اور ہم پایہ بھی بولا جاتا ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ اس جہان میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو کسی پہلو ، کسی جہت ، کسی طرف سے اور کسی انداز سے اللہ تعالیٰ کی ہمسری کا دعویٰ کرسکے خواہ کوئی ہو ، کون ہو اور کیسا ہو۔ کیونکہ سب اس کے بندے اور مخلوق ہیں اور مخلوق اور خالق کی آپس میں برابری اور ہمسری کیسے ، لیکن افسوس کہ ہر قوم نے ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو ہمسر اور برابر کا بنانے کی ناکام کوشش کی ہے اور کوئی قوم بھی اس فعل سے باز نہ رہی اور کسی نہ کسی صورت میں انہوں نے مخلوق کو خالق کا ہمسر بنایا۔ غور کرو کہ بیٹا ، بیٹی یعنی اولاد ماں باپ کے ہمسر ہی تو ہوتے ہیں اور اس سے زیادہ اور کون کفو ہوسکتا ہے لیکن جیسا کہ پہلے گزر چکا قریش مکہ نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے کر ، یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہہ کر کیا کیا ؟ ہمسرہی تو بنایا۔ قرآن کریم نے اس کی کتنی وضاحت سے تردید کی لیکن ہم مسلمانوں میں بھی کتنے ہیں جو اس طرح کی برابری کرنے سے باز نہیں آتے بلکہ اس کو بطور فخر بیان کرتے ہیں اور ہفوات کی نسبت اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ کرنے سے باز نہیں آتے۔ چناچہ تحریر ہے کہ :
” اللہ نے مجھے تمام قلبوں کا سردار بنایا ہے۔ میرا حکم ہر حال میں جاری وساری ہے۔ اے میرے مرید ! دشمن سے مت گھبرا میں مخالف کو ہلاک کردینے والا ہوں۔ آسمان و زمین میں میرا ڈنکا بجتا ہے۔ میں بہت بلند مرتبے پر فائز ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی ساری مملکت میرے زیر تصرف ہے ۔ میرے تمام اوقات ہر قسم کے عیب سے پاک و صاف ہیں۔ پورا عالم ہر دم میری نگاہ میں ہے۔ میں جیلانی ہوں۔ محی الدین میرا نام ہے۔ میرے نشان پہاڑوں کی چوٹیوں پر ہیں۔ “ ( الزمزمۃ القمر فی الذباب عن المخرض 25)
” لوگوں کے دل میرے ہاتھ میں ہیں۔ میں چاہوں تو اپنی طرف متوجہ کرلوں اور چاہوں تو پھیر لوں۔ “ ( خالص الاعتقاد ص 29)
” شیخ شہاب الدین سہروردی جو سلسلہ سہروردیہ کے امام ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ حضور الثقلین کے والد ماجد کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ حضور دعا فرمائیں میرے لڑکا پیدا ہو۔ آپ نے لوح محفوظ میں دیکھا اس میں لڑکی مرقوم تھی۔ آپ نے فرما دیا کہ تیری تقدیر میں لڑکی ہے۔ وہ بی بی یہ سن کر واپس ہوئیں۔ راستہ میں غوث اعظم سے آپ کے استفسار پر انہوں نے سارا ماجرا بیان کردیا۔ حضور نے فرمایا جا تیرے لڑکا ہوگا۔ مگر وضع حمل کے وقت لڑکی پیدا ہوئی تو وہ بی بی بارگاہ غوثیت میں اس مراد کو لے کر آئیں اور کہنے لگیں کہ حضور لڑکا مانگوں لڑکی ملے ؟ فرما یا یہاں تو لائو اور کپڑا ہٹا کر ارشاد فرمایا دیکھو تو یہ لڑکا ہے یا لڑکی ؟ دیکھا تو لڑکا تھا اور وہی شیخ شہاب الدین سہروردی تھے۔ ( باغِ فردوس ایوب علی رضوی ص 27)
” ہمارے شیخ سیدنا عبدالقادر اپنی مجلس میں برملا زمین سے بلند کرہ ہوا پر مستی فرماتے اور ارشاد فرماتے۔ آفتاب طلوع نہیں ہوتا یہاں تک کہ مجھ پر سلام کرے۔ نیا سال جب آتا ہے مجھ پر سلام کرتا ہے اور مجھے خبر دیتا ہے۔ جو کچھ اس میں ہونے والا ہے۔ نیا ہفتہ جب آتا ہے مجھ پر سلام کرتا ہے اور مجھے خبردیتا ہے جو کچھ اس میں ہونے والا ہے۔ نیا دن جو آتا ہے مجھ پر سلام کرتا ہے اور مجھے خبر دیتا ہے جو کچھ اس میں ہونے والا ہے۔ “ ( باغِ فردوس ایوب علی رضوی ص 27)
” بیشک سب پیشوا ، اولیاء ، علماء اپنے اپنے پیروئوں کی شفاعت کرتے ہیں اور جب ان کے پیروکار کی روح نکلتی ہے ، جب منکر نکیر اس سے سوال کرتے ہیں ، جب اس کا حشر ہوتا ہے ، جب اس کا نامہ ٔ اعمال کھلتا ہے ، جب اس سے حساب لیا جاتا ہے ، جب اس کے عمل تلتے ہیں ، جب صراب پر چلتا ہے ہر وقت ہر حال میں اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ کسی جگہ اس سے غافل نہیں ہوتے اور تمام ائمہ مجتہدین اپنے اپنے پیروئوں کی شفاعت کرتے ہیں اور دنیا ، قبرو حشر ہر جگہ سختیوں کے وقت نگہداشت فرماتے ہیں جب تک وہ صراط سے پارنہ ہوجائیں۔ “ ( الاستمداد حاشیہ 35 ، 36)
قرآن کریم کی تعلیم کا و ہے ؟ اس کی صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے اور جب صفات میں نہیں ہے تو ذات میں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن جن عقائد کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ان میں اور دور جاہلیت کے مشرکوں کے عقائد میں کوئی فرق ہے ؟ اگر ہے تو وہ کیا ہے ؟ وہ تو اپنے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے ہاں فقط سفارشی سمجھتے تھے مگر آج کل کے مشرکوں نے تو تمام خدائی اختیارات اپنے بزرگوں کو عطاء کردئیے ہیں اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بجائے براہ راست اپنے بزرگوں سے مدد و معاونت مانگتے ہوئے ذرا بھی خوف محسوس نہیں کرتے۔ شیطان نے ان کے دماغوں میں اپنے افکار اتاردئیے ہیں اور وہ شیطان ہی کی پیروی کرتے چلے جاتے ہیں اور انہیں اس کی خبر بھی نہیں۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نیکی کے راستے پر گامزن ہیں حالانکہ وہ شیطان کی آنکھ کو ٹھنڈا کر رہے ہیں اور اس کی خوشی کا سامان مہیا کر رہے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
” بایزید بسطامی (رح) کہا کرتے تھے کہ مخلوق کا مخلوق سے استغاثہ کرنا بالکل ایسے ہے جیسے کوئی غرق ہونے والا شخص دوسرے غرق ہونے والے سے مدد طلب کرے۔ “ ( شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رح)
” مخلوق کا مخلوق سے استغاثہ کرنا اس طرح ہے جیسے کوئی قیدی دوسرے قیدی سے رہائی طلب کرے۔ “ ( شیخ ابو عبداللہ القریشی)
اس سورة مبارکہ کے خلافہ میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ” بعضے از علماء گفتہ اندکہ شرکت گا ہے در عدمی باشد آں رابلفظ نفی فرمودگا ہے درمرتبہ ومنصب می باشدوآں را بلفظ ( صمد) نفی فرمود گا ہے درنسب می باشد و آں را بلفظ (لم یلد ولم یولد) نفی فرمودوگا ہے درکارو تایثر می باشدوآں را ( ولم یکن لہ کفوا احد) نفی فرمودو بہ میں جہت ایں سورت را سورت اخلاص می گویند۔ “ تفسیر عزیری)…” بعض علماء کہتے ہیں کہ شرک کبھی عدد میں ہوتا ہے ( احد) کہہ کر اس کی نفی فرمادی۔ کبھی مرتبہ اور منصب میں ہوتا ہے ( صمد) کہہ کر اس کا بطلان کردیا۔ کبھی نسب میں ہوتا ہے ( لم یلد ولم یولد) سے اس کا ابطال کردیا اور کبھی کوئی کام کرنے اور اثر اندازی میں ہوتا ہے اس کی تردید ( لم یکن لہ کفوا احد) سے کردی۔ توحید کے اس جامع مضمون کے باعث اس سورت کو سورت اخلاص کہا جاتا ہے۔
اس سورة کا نام الاخلاص ہے اسی نسبت سے اخلاص کی حقیقت کو سمجھ لیں دین اسلام کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ وہ انسان کے دل کو مخاطب کرتا ہے۔ اس کا سارا کاروبار صرف اس ایک مفغہ گوشت سے وابستہ ہے جو عقائد ہیں یا عبادات ، اخلاق ہوں یا معاملات ، انسانی اعمال کے ہر گوشہ میں اس کی نظر اس ایک آئینہ پر رہتی ہے۔ اسی حقیقت کو نبی اعظم و آخر ﷺ نے ایک مشہور حدیث میں اس طرح ارشاد فرمایا ہے : ( الاوان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ و اذا فسدت فسدا الجسد کلہ الا وھی القلب) ( بخاری کتاب ال ایمان ، صحیح مسلم باب اخذ الحلال و شرک الشبہات) ” خبردار ! بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ایسا ہے جب وہ درست ہو تو سارا بدن درست ہوتا ہے اور اگر وہ خراب ہو تو سارا بدن خراب ہوجاتا ہے۔ خبردار رہو کہ وہ دل ہے “
دل ہی کی تحریک انسان کے اچھے اور برے فعل کی بنیاد اور اساس ہے اس لیے مذہب کی ہر عماتر اس بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جو نیک کام بھی کیا جائے اس کا محرک کوئی دنیاوی غرض وغایت نہ ہو اور نہ ہی اس سے مقصود ریاو نمائش ، جلب منفعت ، طلب شہرت یا طلب معاوضہ وغیرہ ہو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری اور خوشنودی ہو ، اسی کا نام اخلاص ہے۔ نبی کریم ﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ : ( فاعبداللہ مخلصا لہ الدین۔ الا للہ الدین الخالص) ( الزمر : 2 ، 3) ” تو اللہ کی عبادت کر ، خالص کرتے ہوئے اطاعت گزاری کر اسی کے لیے ، خبردار ! اللہ ہی کے لیے ہے خالص اطاعت گزاری۔ “
مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور چیز کو اس کا شریک نہ بنایاجائے۔ وہ چیز خواہ پتھر یا مٹی یا سونے کی تصویر ہو یا آسمان و زمین کی کوئی مخلوق یا دل کا تراشا ہوا کوئی باطل معبود۔ اس لیے قرآن کریم نے انسانی اعمال کی نفسانی غرض وغایت کو بھی بُت پرستی قرار دیا ہے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ : ( اریت من اتخذ الھہ ھواء) ( الفرقان : 43) ” کیا تُو نے اس کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا ہے۔ “ اسلام کی یہ اہم ترین تعلیم ہے کہ انسان کا کام ہر قسم کی ظاہری و باطنی بت پرستی ، خواہش پرستی ، قبرپرستی اور ہر طرح کی پرستش سے پاک ہو۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اس اعلان کا حکم دیاجاتا ہے کہ :
( قل انی امرت ان اعبداللہ مخلصا لہ الدین و امرت لان اکون اول المسلمین قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم قل اللہ اعبد مخلصا لہ دینی فاعبدو ما شئتم من دونہ) ( الزمر : 11 تا 15) ” اے پیغمبر اسلام ! کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اطاعت کروں اللہ کے لیے خاص کرکے اس کی عبادت کروں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں پہلا فرمانبردار بنوں۔ کہہ دے کہ میں ڈرتا ہوں اگر اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں ، بڑے دن کے عذاب سے کہہ دے کہ اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں اپنی اطاعت گزاری کے لیے خالص کرکے اور تم بھی اے کافرو ! اللہ کو چھوڑ کر جس کی چاہو عبادت کرتے رہو۔ “ ( مخلصین لہ الدین) کے الفاظ قرآن کریم میں سات بار آئے ہیں ۔ ان کی وضاحت کے لیے عروۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 29 ، جلد چہارم سورة یونس کی آیت 22 ، جلد ہفتم سورة العنکبوت کی آیت 65 ، سورة لقمان کی آیت 32 ، سورة غافر کی آیت 14 ، 65 ، سورة السینہ کی آیت 5 کی تفسیر کو دیکھیں۔
اس سے آپ پر واضح ہوجائے گا کہ ہر عبادت اور عمل کا پہلا رکن یہ ہے کہ وہ خالص اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے لیے ہو۔ یعنی اس میں کسی ظاہری و باطنی بُت پرستی اور خواہش نفسانی کو دخل نہ ہو اور : ( الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلی) ( الیل : 20) ” اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی خوشنودی کے سوا کوئی اور غرض نہ ہو۔ “ ( اللہ تعالیٰ نے اپنے سارے نبیوں اور رسولوں سے دعوت اسلام کو خالص اللہ تعالیٰ کیلئے بنانے ہی کی غرض سے یہ اعلان کرادیا ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں اس سے ہم کو کوئی دنیاوی غرض اور ذاتی معاوضہ مطلوب نہیں اس کی وضاحت دیکھنا ہو تو آیت : (وما اسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین) کی تفسیر دیکھیں عروۃ الوثقی جلد جہارم سورة ہود کی آیت 29 ، جلد ششم سورة الشعراء کی آیت 109 ، 127 ، 145 ، 164 ، 180 ، جلد ہفتم سورة سبا کی آیت 47 ، جلد ہشتم سورة الشوریٰ کی آیت 23۔
اس سے یہ بات واضح کردی کہ ہمارے ہر رسول اور نبی نے اپنی بےغرض کوششوں سے امت کو جو دینی و دنیاوی فائدے پہنچائے اس کے لیے وہ تم سے کسی ذاتی منفعت کا خواہاں نہیں ہے اگر وہ اس کے معاوضہ میں چاہتا ہے تو یہ کہ تم اپنے اپنے قرابتداروں کا حق ادا کرو اور آپس میں محبت رکھو اور اس طرح کی بات ایک اور آیت میں بھی ظاہر فرمائی کہ : ( قل ما اسئلکم علیہ من اجرا لا من شاء ان یتخذ الی ربہ سبیلا ) (25 : 57) ” اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں تمہاری راہنمائی پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر یہی کہ جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف راستہ پکڑے “ مطلب یہ ہے کہ میری اس محنت کی مزدوری یہی ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ حق کو قبول کرلیں… دنیا میں بھی اخلاص ہی کامیابی کی اصل بنیاد ہے کوئی بظاہر نیکی کا کتنا ہی بڑا کام کرے لیکن اگر اس کی نسبت یہ معلوم ہوجائے کہ اس کا مقصد اس کام سے کوئی ذاتی غرض یا محض دکھاوا اور نمائش تھا تو اس کام کی قدر و قیمت فوراً نگاہوں سے گر جائے گی۔ اس طرح روحانی عالم میں بھی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس چیز کی کوئی قدر نہیں جو اس کی بارگاہ بےنیاز کے علاوہ کسی اور کے لیے پیش کی گئی ہو۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ نیکی کا ہر کام دنیاوی لحاظ سے بےغرض و بےمنت اور بلاخیال ضررو اجرت اور تحسین و شہرت کی طلب سے بالاتر ہو۔
ہم جو کام بھی کرتے ہیں اس کی دو شکلیں ہوتی ہیں ایک مادی جو ہمارے ظاہری جسمانی اعضاء کی حرکت و جنبش سے پیدا ہوتی ہے دوسری روحانی جس کا ہیولیٰ ہمارے دل کے ارادہ و نیت اور کام کی اندرونی غرض وغایت سے تیار ہوتا ہے۔ کام کی بقاء اور برکت دین اور دنیا دونوں میں اس روحانی پیکر کے حسن و قبح اور ضعف و قوت کی بنا پر ہوتی ہے۔ انسانی اعمال کی پوری تاریخ اس دعویٰ کے ثبوت میں ہے اس لیے اس اخلاص کے بغیر اسلام میں نہ تو عبادت قبول ہوتی ہے اور نہ اخلاق و معاملات عبادت کا درجہ پاتے ہیں۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ہر کام شروع کرتے وقت ہم اپنی نیت کو ہر غیر مخلصانہ غرض وغایت سے بالا اور ہر دنیاوی ضررو اجرت سے پاک رکھیں۔ لیکن افسوس کہ آج دین کے نام پر جتنے کام کیے جاتے ہیں ان میں سے بیشتر تو ایسے ہیں جن کا دین کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں اور اگر کوئی کام دین اسلام کے متعلق بھی ہے تو اس کے کرنے میں اخلاص نام کی کوئی چیز ہم میں نہیں پائی جاتی۔ بس مذہبی راہنما اور پیشوایان قوم کو فقط مذہب کے نام سے کھائے جا رہے ہیں۔ بہت سی مذہب کے نام پر رسومات اختراع کرلی گئی ہیں اور ان کو باقاعدگی کے ساتھ مہنگے سے مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں کیونکہ مذہب پر ان کی اپنی اجارہ داری قائم ہے اگر وہ ہیں تو مذہب ہے اگر وہ نہیں تو مذہب بھرسٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو دین کی سمجھ عطا فرمائے اور دنیاوی رسومات کو اگر ادا کرنا ضروری ہے تو ان کا نام دین اسلام نہ رکھا جائے اور دین اسلام کے کاموں کی اجرت کو جب اللہ ، اللہ کے رسول اور قرآن کریم نے حرام قرار دیا ہے اور اس سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے تو کم از کم اس کا کچھ تو لحاظ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو اور ہم کو اس کی توفیق بخش دے کہ دین کو اخلاص سے پیش کریں اور اسی مضمون پر ہم اس سورت کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں۔