112. Surah Al-Ikhlaas
الإخلاصSincerity · 4 ayahsتفسیرِ بغوی
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader
کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے
1 ۔” قل ھواللہ احد “ ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ مشرکین نے کہا رسول اللہ ﷺ کو ہمیں اپنے رب کا نسب بیان کریں تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ عامر بن طفیل اور اربد بن معاویہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو عامر نے کہا اے محمد ! ( ﷺ ) آپ ہمیں کس چیز کی طرف بلاتے ہیں۔ آپ ﷺ کے پاس آئے تو عامر نے کہا اے محمد ! ( ﷺ ) آپ ہمیں کس چیز کی طرف بلاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی طرف تو اس نے کہا ہمارے سامنے اس کی صفت بیان کریں، کیا وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ؟ یا لوہے کا یا لکڑی کا ؟ تو یہ سورت نازل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اربد کو بجلی کی کڑک سے ہلاک کیا اور عامر بن طفیل کو طاعون کے ذریعے، ہم اس کو سورة الرعد میں ذکر کرچکے ہیں اور ضحاک، قتادہ اور مقاتل رحمہم اللہ فرماتے ہیں یہود کے علماء میں سے چند لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا اے محمد ! ( ﷺ ) ہمارے لئے اپنے رب کی صفت کو بیان کریں شاید ہم آپ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں اپنی صفت بیان کی ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی۔ ” قل ھواللہ احد “ یعنی ایک ہے اور واحد اور احد میں کوئی فرق نہیں ہے، اس پر ابن مسعود ؓ کی قرات دلالت کرتی ہے۔ ” قل ھواللہ الواحد “
اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader
معبود برحق جو بےنیاز ہے
صمد کی تفسیر
2 ۔” اللہ الصمد “ ابن عباس ؓ ، مجاہد، حسن اور سعید بن جبیر رحمہم اللہ فرماتے ہیں الصمدجس کا پیٹ نہ ہو۔ شعبی (رح) فرماتے ہیں جو نہ کھائے نہ پئے اور کہا گیا ہے اس کی تفسیر اس کے بعد والا جملہ ہے۔ ابوالعالیہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا الصمد وہ ذات جس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ وہ خود کسی کی اولاد ہے۔ اس لئے کہ جو پیدا ہو وہ عنقریب مرجائے گا اور جو وارث بنے گا، عنقریب اس سے وارث بنایا جائے گا۔ ابو وائل، شقیق بن سلمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ سردار جس کی سرداری انتہائی کو پہنچ چکی ہو۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا وہ سردار جو سرداری کی تمام اقسام میں کامل ہو اور سعید بن جبیر (رح) سے بھی یہی مروی ہے کہ وہ اپنی تمام صفات و افعال میں کامل ہے۔
اور کہا گیا ہے وہ سردار جو تمام ضروریات میں مقصود ہو اور سدی (رح) فرماتے ہیں پسندیدہ چیزوں میں اسی کی طرف قصد کیا جاتا ہے اور مصائب میں اسی سے فریاد طلب کی جاتی ہے۔ عرب کہتے ہیں ” صمدت فلاتا اصمدہ صمداً “ میم کے سکون کے ساتھ جب تو اس کا ارادہ کرے اور مقصود صمد میم کے زبر کے ساتھ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں الصمد جو اپنی مخلوق کے فناء ہونے کے بعد باقی رہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں الصمد وہ ذات جس کے اوپر کوئی نہیں ہے اور یہی حضرت علی ؓ کا قول ہے اور ربیع (رح) فرماتے ہیں جس پر آفات نہ آتی ہوں۔ مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں جس میں کوئی عیب نہ ہو۔
لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader
نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔
3 ۔” لم یلد۔ ولم یولد
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں
4 ولم یکن لہ کفوا احد “ حمزہ اور اسماعیل رحمہما اللہ نے ” کفوا “ فاء کے سکون کے ساتھ مہموز پڑھا ہے اور حفص نے عاصم سے فاء کے پیش کے ساتھ بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے فاء کے پیش کے ساتھ مہموز پڑھا ہے اور یہ تمام صحیح لغات ہیں اور اس کا معنی مثل یعنی وہ ایک ہے اور کہا گیا ہے یہ تقدیم و تاخیر پر ہے اس کا مجاز کوئی اس کا مثل نہیں ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں مشرکین عرب نے کہا فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور یہود نے کہا عزیر (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے کہا مسیح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کی تکذیب کی اور اپنی ذات سے ولادت اور مثل کی نفی کی۔
ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ابن آدم نے میری تکذیب کی۔ حالانکہ اس کے لئے یہ جائز نہ تھا اور مجھے برا بھلا کہا حالانکہ اس کے لئے یہ جائز ناہ تھا۔ پس بہرحال اس کا میری تکذیب کرنا تو اس کا قول ہے وہ مجھے دوبارہ نہ لوٹائے گا۔ جیسا کہ مجھے ابتداء پیدا کیا حالانکہ ابتدائی تخلیق مجھ پر اس کے اعادہ سے زیادہ آسان نہیں ہے اور بہرحال اس کا مجھے برا بھلا کہنا تو اس کا یہ کہنا ہے اللہ تعالیٰ نے اولاد بنائی حالانکہ میں ایک بےنیاز ہوں، ایسا کہ نہ میری اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں اور میرا کوئی مثل نہیں ہے۔ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سنا کہ ایک شخص پڑھ رہا ہے ” قل ھو اللہ احد “ اور اس کو بار بار پڑھ رہا ہے۔ پس جب اس نے صبح کی تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ (علیہ السلام) کو یہ بات ذکر کی اور آدمی اس کو کم سمجھ رہا تھا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ بیشک یہ قرآن کی تائی کے برابر ہے۔ ابوالدرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایک اس سے عاجز ہے کہ قرآن کا تہائی حصہ ایک رات میں پڑھے ؟
میں نے کہا یارسول اللہ ﷺ کون اس کی طاقت رکھ سکتا ہے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تم ” قل ھو اللہ احد “ پڑھو۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ متوجہ ہوا تو ایک شخص کوسنا کہ وہ ” قل ھواللہ احد، اللہ الصمد، لم یلد ولم یولد، ولم یکن لہ کفوا احد ‘ پڑھ رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی تو میں نے آپ (علیہ السلام) سے پوچھا کیا چیز اے اللہ کے رسول ؟ ( ﷺ ) تو فرمایا جنت۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں تو میں نے ارادہ کیا کہ میں اس آدمی کے پاس جائوں اور اس کو خوشخبری دوں پھر میں ڈرا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلنا چھوٹ جائے گا تو میں نے آپ (علیہ السلام) کے ساتھ چلنے کو ترجیح دی۔ پھر میں اس آدمی کے ساپ گیا تو وہ جاچکا تھا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو کہا، بیشک میں اس سورة ” قل ھواللہ احد “ کو بہت پسند کرتا ہوں۔ فرمایا تیرا اس سے محبت کرنا تجھے جنت میں داخل کردے گا۔