113. Surah Al-Falaq

الفلقThe Dawn · 5 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 113:1

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader

کہو کہ میں صبح کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں

1 ۔” قل اعوذبرب الفلق “ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ قول نقل کیا ہے کہ ایک یہودی لڑکا رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرتا تھا۔ یہودیوں نے خفیہ سازش کی اور اس کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اس کے ذریعہ سے رسول اللہ ﷺ کی کنگھی کے بال اور کنگھی کے چند دندانے حاصل کرلیے، پھر ان پر جادو کیا، اس کا ذمہ دارالبیدین اعصم یہودی تھا، اس پر یہ دونوں سورتیں نازل ہوئیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیمارہوگئے (کچھ تو ہم سا ہوگیا) ان کئے کام کو آپ ﷺ خیال کرتے تھے کہ میں کرچکا ہوں۔ آپ ﷺ نے پروردگار سے دعا کی، پھر فرمانے لگے کہ الل سے میں نے جو کچھ دریافت کیا تھا، اللہ نے بتادیا۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ( ﷺ ) وہ کیا بات ہے ؟ فرمایا (خواب میں) دو آدمی آئے۔ ایک میرے سرہانے کھڑا ہوا اور دوسرا پائیں۔ ایک نے دوسرے سے کہا : اس شخص کا دکھ کیا ہے ؟ دوسرے نے کہا یہ سحر زدہ ہے۔ اول نے پوچھا : کس نے سحر کیا ہے ؟ دوسرے نے کہا : لبیدبن اعصم نے۔ اول نے کہا : کس چیز پر کیا ہے ؟ دوسرے نے کہا : کنگھی پر ۔ کنگھی کے بالوں پر اور نر کھجور کے گابھہ پر۔ اول نے کہا : یہ چیزیں کہاں ہیں ؟ دوسرنے نے کہا : بنی زریق کے چاہ ذروان میں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا بیان ہے کہ اس (خواب) کے بعدرسول اللہ ﷺ کنوئیں پر تشریف لے گئے اور واپس آکر فرمایا : واللہ ! اس کا پانی تو مہندی کے پانی کی طرح تھا اور وہاں کے کھجور کے درخت ایسے تھے جیسے بھوتوں کے سر۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ( ﷺ ) پھر آپ ﷺ نے اس کو نکال کیوں نہ لیا ؟ فرمایا مجھے تو اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی، میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ لوگوں میں فتنہ اٹھائوں۔ بغوی کا بیان ہے، روایت میں آیا ہے کہ وہ کنویں کے اندر ایک پتھر کے نیچے تھا۔ لوگوں نے پتھر اٹھا کر اس کے نیچے سے کھجور کا کھوکھلا گابھہ برآمد کرلیا۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے سر کے کچھ بال اور کنگھی کے دندانے موجود تھے۔ حضرت زید بن ارقم کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر ایک یہودی نے جادو کیا تھا جس سے آپ ﷺ دکھی ہوگئے تھے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے آ کر بتایا کہ ایک یہودی نے آپ ﷺ پر جادو کیا ہے اور جادو کی کچھ گرہیں لگائیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو بھیج کر اس کو برآمد کرالیا اور جونہی ایک گرہ کھولتے تھے، مرض میں خفت ہوتی تھی۔ آخر آپ ﷺ (بالکل تندرست ہوکر) اٹھ کھڑے ہوئے، گویا زانو بند کھل گیا لیکن اس کا تذکرہ اس یہودی سے نہیں کیا اور نہ اس کے منہ پر کچھ فرمایا۔ مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں یہ تانت میں تھا اس پر گیارہ گرہیں باندھی ہوئی تھیں اور کہا گیا ہے کہ اس گرہ میں سوئی چبھوئی ہوئی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ دوسورتیں نازل کیں اور یہ گیارہ آیتیں ہیں۔ سورة الفلق پانچ آیات اور سورة الناس چھ آیات۔ جب آپ ﷺ ایک آیت پڑھتے تو ایک گرہ کھولتے حتیٰ کہ تمام گرہیں کھل گئیں تو نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے ۔ گویا کہ آپ (علیہ السلام) گرہوں سے آزاد کیے گئے ہیں اور روایت کیا گیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) اس میں چھ ماہ رہے اور تین راتیں بہت سخت گزریں کہ معوذتان نازل ہوگئیں۔ ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے محمد ! ( ﷺ ) آپ کو بخار ہے ؟ آپ (علیہ السلام) نے کہاہاں۔ تو جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا ” بسم اللہ ارقیک من کل نفس اوعین حاسد اللہ یشفیک۔ بسم اللہ ارقیک “ اللہ تعالیٰ کا قول ” قل اعوذ برب الفلق “ خلق سے صبح مراد ہے اور یہ جابر بن عبداللہ ، حسن، سعید بن جبیر ، مجاہد ، قتادہ اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور یہی عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” فالق الاصباح “ کی دلیل کی وجہ سے اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ جہنم میں ایک قید خانہ ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں جہنم میں ایک وادی ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں یعنی مخلوق اور یہی والبی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور مشہور پہلا قول ہے۔
Ayah 113:2

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader

ہر چیز کی بدی سے جو اس نے بنائی

2 ۔” من شر ماخلق۔
Ayah 113:3

وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader

اور شب تاریک کی برائی سے جب اسکا اندھیرا چھا جائے

3 ۔ ومن شر غاسق اذاوقب “ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں نبی کریم ﷺ نے میرے ہاتھوں کو پکڑا، پھر چاندنی دیکھ کر کہا اے عائشہ ! ؓ تو اللہ کی پناہ مانگ، غاسق کے شر سے جب وہ سیاہ ہوجائے ۔ اس غاسق سے مراد چاند ہے جب اس کا گرہن ہوجائے اور وہ سیاہ ہوجائے۔ وقب یعنی گرہن میں داخل ہوجائے یا غائب ہونا شروع ہوجائے اور تاریک ہوجائے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں الغاسق رات جب وہ اپنی تاریکی کے ساتھ مشرق سے آئے اور ہر چیز میں داخل ہوکر تاریک کردے اور غسق ظلمت وتاری کی۔ کہا جاتا ہے غسق اللیل واغسق جب رات تاریک ہوجائے اور یہ مجاہد اور حسن رحمہم اللہ کا قول ہے۔ یعنی رات جب آئے اور داخل ہو اور وقوب داخل ہونا اور وہ رات کا داخل ہونا سورج کے غروب ہونے کے ساتھ۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی رات کی تاریکی جب اس کی سیاہی دن کی روشنی میں داخل ہوجائے اور کہا گیا ہے رات کا نام غاسق رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ دن سے زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے اور غسق ٹھنڈک۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں یعنی ثریا جب گرجائے اور کہا جاتا ہے کہ بیشک اقسام اس کے واقع ہونے کے بعدزیادہ ہوجات ہیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت بلند ہوجاتی ہیں۔
Ayah 113:4

وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader

اور گنڈوں پر (پڑھ پڑھ کر) پھونکنے والیوں کی برائی سے

4 ۔” ومن شرالنفاثات فی العقد “ یعنی وہ جادوگرنیاں جو دھاگے کی گرہ میں پھونک مارتی تھیں۔ جب ان پر جھاڑتی تھیں۔ ابوعبیدہ (رح) فرماتے ہیں وہ لبیدبن اعظم کی بیٹیاں ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ پر جادو کیا تھا۔
Ayah 113:5

وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader

اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب حسد کرنے لگے

5 ۔” ومن شر حاسد اذاحسد “ یعنی یہود کیونکہ وہ نبی کریم ﷺ سے حسد کرتے تھے۔