112. Surah Al-Ikhlaas
الإخلاصSincerity · 4 ayahsمعالم العرفان
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader
اے پیغمبر) آپ کہہ دیجیے وہ اللہ تعالیٰ ایک ہے
اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader
اللہ بےنیاز ہے
لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader
نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ کسی سے جنا گیا
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader
اور نہیں ہے کوئی اس کا ہمسر
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة الاخلاص ہے ، اخلصا کا مطلب دل کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے لئے خاص کرنا ہے گویا یہ انسانوں کے قلوب کو اللہ کی توحید کے لئے مختص کرنے والی سورة ہے اس میں خدا کی توحید کا ذکر ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چار آیات ، پندرہ الفاظ اور اڑتالیس حروف ہیں۔ یہ چھوٹی سورة ہے۔
خلاصہ قرآن
سورۃ والتین کے بعد والی چھوٹی چھوٹی سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کا خلاصہ بیان فرما دیا ہے۔ لمبی سورتوں میں جو باتیں بڑی تفصیل اور دلائل اور مثالوں کے ساتھ واضح کی گئی ہیں وہی باتیں ان چھوٹی چھوٹی سورتوں میں بالکل مختصر طریقے سے دو ، دوچار چار جملوں میں بیان کی گئی ہیں۔ تاکہ پورے قرآن حکیم کے مضامین کا خلاصہ ذہن میں آجائے۔ بعض اوقات امتحان میں اگر خلاصہ بھی یاد ہو تو کام دے جاتا ہے۔ اسی طرح قرآن پاک کے آخر میں یہ خلاصہ قرآن ذہن نشین کرایا گیا ہے۔
گزشتہ سورتوں والعصر اور ویل لکل ھمزۃ میں دین کے بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ اس سے پہلے سورة لم یکن الذین کفروا میں دین کا نچوڑ اور خلاصہ ذکر کیا گیا ہے کہ یہ سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی چیز ہے۔ پھ راس بارے میں رکاوٹ بننے والی چیزوں مثلاً مال کی محبت خاندان یا قبیلے کے ساتھ محبت کا ذکر کیا گیا ہے اس کے بعد نظریات کے فساد ، دہریت اور زرپرستی وغیرہ کا رد بھی ہوچکا ہے۔ ملوکیت پرستی اور قومیت پرستی کی مذمت بیان ہوچکی ہے۔ یہ بڑی بڑی بیماریاں ہیں۔ جو انسان کے فکر کو فاسد کرتی ہیں اور پھر وہ پاکیزہ اصول بھی بتلا دیئے ۔ جن کو اختیار کرنے سے ان بیماریوں سے آدمی بچ سکتا ہے۔
اس سے پہلے قرآن کریم کی اہمیت بیان ہوچکی ہے۔ جھوٹی مذہبیت کا رد ہوچکا ہے ریا کاروں اور جھوٹے مذہب پرستوں کی ناکامی کا ذکر ہوا ہے اور پھر ان تمام چیزوں کو بیان کرنے کے بعد آخر میں کفار کو چیلنج کیا گیا ہے۔ کہ اگر اتنی باتیں بیان کرنے کے بعد بھی تم راہ راست پر نہیں آتے تو تمہارے ساتھ قطع تعلقی ہے۔ اب سوائے جنگ کے کوئی طریق کار باقی نہیں رہا۔ اس سورة میں اس بات کی بشارت دی گئی ہے کہ صحیح فکر رکھنے والوں کو فتح حاصل ہوگی۔
یہ دراصل پولیٹیکل کامیابی تھی۔ ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی سمجھا دی کہ صرف سیاسی فتح مکمل کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ جب تک صحت فکر کے ساتھ اجتماعی حاصل نہ ہو۔ صحیح فکر کے حاملین کے بغیر نظام سلطنت درست نہیں ہو سکتا۔ سورة لہب میں یہی نکتہ سمجھایا گیا ہے کہ جب تک خائن ، حریص اور حق کے مخالف لوگ موجود ہیں۔ سوسائٹی پاک نہیں ہو سکتی اور نہ نظام حکومت درست ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اب جب کہ سیاسی غلبہ حاصل ہوچکا ہے۔ فکر کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ تمام باتیں بیان کرنے کے بعد اس سورة اخلاص میں اس مرکزی بات کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس کے گرد سارے دین اسلام کی عمارت گردش کرتی ہے۔
مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں 1 ؎ کہ قرآن پاک کی آخری دو سورتوں کی حیثیت ایسی ہے۔
1 ؎ نظام القرآن تفسیر سورة از فراہمی ص
جیسے تکمیل کے بعد تعویذ دیا جاتا ہے کہ تعویذ کے ذریعے اس چیز کی حفاظت ہوگی۔ یہ آخری دو سورتیں صرف تعویذ ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے۔ جیسے عمارت مکمل کرنے کے بعد گیٹ پر حفاظت کے لئے دو سپاہی بٹھا دیئے جائیں۔ یہ آخری دو سورتیں قرآن پاک کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔
اسلام کا مرکزی نظریہ حیات
اس سورة میں وہ مرکزی مضمون بیان کیا گیا ہے۔ جس پر پروین اسلام کی بنیاد قائم ہے اور جسے موجودہ دور میں نظریہ حیات یا آئیڈیالوجی کہا جاتا ہے اسلام یا دین یا جو کچھ آپ نے قرآن پاک میں پڑھا ہے۔ اس کی بنیاد اسی فکر پر ہے اگر یہ بنیادی فکر قائم رہے گی ، تو دین کی عمارت قائم رہے گی اور اگر یہ بنیادی فکر ہی متزلزل ہوگی تو نہ نظام سلطنت درست ہوگا۔ نہ عبادت درست ہوگی۔ نہ معاملات ٹھیک ہوں گے اور نہ ہی کوئی دوسرا نظام صحیح کام کرے گا۔ یہ وہی بنیادی نظریہ توحید ہے ۔ جس کی تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) دعوت دیتے رہے ہیں۔ تمام مسائل میں سے اہم ترین مسئلہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا مسئلہ ہے۔ دنیا میں ابتداء سے لے کر انتہا تک جتنی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ، وہ اسی مرکزی نظریہ میں فساد کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ گویا اس سورة میں ہر قسم کی باطل فکر رکھنے والوں کا رد آچکا ہے۔
نظریہ دہریت
دہریت کا معنی مادہ پرستی ہے جن لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ ان کا کوئی خالق نہیں کائنات کی تمام چیزیں خود بخود بن گئی ہیں۔ انہیں دہریہ یا مادہ پرست کہا جاتا ہے۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ مادے کے آجزا آپس میں جڑ گئے ہیں۔ تو انہوں نے مختلف شکل (ShApe) اختیار کرلی ہے ، کوئی زمین بن گئی ، کوئی آسمان بن گیا۔ کوئی اور چیز بن گئی۔ یہ خود بخود مختلف شکلیں بن گئی ہیں۔ نہ کوئی ان کا جوڑنے والا ہے اور نہ پیدا کرنے اولا۔ اگرچہ ایسے لوگوں کی تعداد دنیا میں نہایت قلیل ہے۔ تاہم یہ لوگ بھی موجود ہیں۔ اسی قسم کا نظریہ کفر کی بدترین قسم ہے۔ اس کو تسلیم کرنے والے سخت بیوقوف ہیں۔ کیونکہ ایک عام انسانی فکر بھی اس قسم کے نظریے کو قبل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ مولانا رومی کہتے ہیں۔
ہیچ چیزے خود بخود چیزے نشد ہیچ آہن خودبخود تیغے نشد
مطلب یہ ہے کہ جس طرح لوہے سے چھری یا تلوار خود بخود نہیں بن جاتی۔ اسی طرح یہ کائنات اور اس میں موجود لاکھوں کروڑوں اشیاء خود بخود کیسے بن گئیں۔ عقل و شعور یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ان سب کو بنانے والی اور کائنات کے نظام کو چلانے والی ضرور کوئی ذات موجود ہے اور وہ ذات ، ذات خداوندی ہے۔
صفات الٰہی کے منکرین فلاسفر
بعض لوگ فلاسفر کہلاتے ہیں۔ ایسے لوگ یونان اور روم میں بھی تھے اور آج کل یورپ میں بھی ہیں۔ یہ لوگ خالق کو تو تسلیم کرتے ہیں۔ مگر خالق کی کسی صفت کے قائل نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے تمام نام پاکیزہ ہیں۔ ” وللہ المثل الاعلیٰ “ اور اللہ کی صفات بہت عالی ہیں حضور ﷺ کا اشراد مبارک 1 ؎ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔ جو شخص انہیں یاد کرے گا۔ ان پر ایمان رکھے گا۔ ان کو پڑھتا رہے گا ، جنت میں داخل ہوگا۔ رحمٰن ، رحیم ، غفار ، ستار ، قہار وغیرہ سب اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ جو لوگ ان صفات کے منکر ہیں۔ ان کی فکر بھی فاسد ہے۔
کفار و مشرکین
بعض لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے اس لئے منکر ہیں کہ اکیلا اللہ کائنات کے سارے امور کیسے انجام دے سکتا ہے۔ ان میں مکہ کے مشرک بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے خانہ کعبہ کے پاس تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ وہ کہتے تھے ہماری یہ بیشمار حاجتیں اکیلا خدا کیسے پوری کرسکتا ہے۔ یہ تو ہمارے اتنے سارے معبود پوری کرتے ہیں۔ اللہ کا نبی ہمیں کہتا ہے کہ ان سب کو چھوڑ کر ایک خدا کی طرف متوجہ ہو جائو۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے ” اجعل الرلھۃ الھا واحداً یہ سب کفر و شرک کی مختلف قسمیں ہیں جو لوگوں میں راسخ ہوچکی ہیں۔
ثنویت پرستی
ثنویہ فرقہ کا عقیدہ ہ ہے کہ صانع یعنی کسی چیز کا بنانے والا اکیلا نہیں ہے۔ بلکہ مختلف اشیاء کو پیدا کرنے والی مختلف ہستیاں ہیں۔ مجوسیوں کا بھی قریب قریب یہی عقیدہ ہے وہ کہتے ہیں کہ جو ہستی روشنی کو پیدا کرسکتی ہے۔ وہ تاریکی کو نہیں پیدا کرسکتی گویا روشنی اور اچھائی کہتے ہیں کہ جو ہستی روشنی کو پیدا کرسکتی ہے۔ وہ تاریکی کو نہیں پیدا کرسکتی گویا روشنی اور اچھائی کا خدا اور ہے اور تاریکی اور برائی کا خدا دوسرا ہے۔ روشنی کا خالق یزدال ہے اور تاریکی کا خالق ہر امن ہے۔ لہٰذا ایسے لوگ اثنینیت کے قائل ہیں۔ حالانکہ حقیقت وہ ہے ، جو اللہ نے
1 ؎ بخاری ص 382/ج 1 ، ص 949/ج 2 ، ص 1098 ، مسلم ص 342/ج 2
سورۃ انعام کی ابتداء میں بیان فرما دی ہے۔ ” الحمد للہ الذی خلق السموت والارض و جعل الظلمت والنورہ “ خدا کی ہستی وہ ہے ۔ جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور روشنی اور تاریکی کو پیدا فرمایا۔ مطلب یہ کہ خالق ہر چیز کا ایک ہی ہے۔ مختلف چیزوں کے خلاق مختلف نہیں ہیں۔ ثنویت پرستی قبیح قسم کے مشرکانہ فکر ہے۔ یہ فکر بھی فاسد ہے۔
عقیدہ تشبیہ
بعض لوگوں میں تشبیہ کا عقیدہ پایا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفت کو تو مانتے ہیں مگر ایسی صفت مانتے ہیں۔ جو مخلوق میں پائی جاتی ہے۔ اسے عقیدہ انبیت بھی کہا جاتا ہے جو کہ باطل عقیدہ ہے۔ ان کی فکر اس قسم کی ہے۔ قالوا اتخذ اللہ ولداً یعنی انہوں نے کہا کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے۔ یا ان کا عقیدہ ہے مسیح ابن اللہ یا عزیرہ ابن اللہ یعنی مسیح یا عزیز اللہ کے بیٹے ہیں۔ اولاد بیوی بچوں کا ہونا تو مخلوق کا خاصہ ہے۔ انہوں نے یہی صفت اللہ میں مان لی تو عقیدہ تشبیہ میں مبتلا ہوگئے۔
یہاں دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس کے لئے اولاد ہوگی ، وہ حادث ہوگا (العیاذ) کیا خدا کی ذات بھی حادث ہے ؟ حادث کا معنی نئی پیدا ہونے والی چیز ہے۔ جو چیز پیدا ہوگی وہ فنا بھی ہوگی۔ جس کو حیات مستعار ملتی ہے اس پر موت بھی طاری ہوتی ہے۔ مقصد یہ کہ اگر مخلوق والی صفت اللہ تعالیٰ میں مان لی جائے تو خدا تعالیٰ کی ذات بھی حادث بن جائے گی۔ وہ قدیم اور ازلی نہیں رہے گی۔ حالانکہ وہ ازلی اور ابدی ہے۔ لہٰذا عقیدہ تشبیہ بھی باطل ٹھہرا۔
شرک کی مختلف اقسام
اس سورة مبارکہ میں مذکور تمام قسم کے فاسد اور مشرکانہ افکار کا رد کیا گیا ہے۔ سورة انعام پڑھ لیں ہر قسم کے شرک کی تردید موجود ہے۔ شرک کی اقسام میں سے قولی ، فعلی اور عملی شرک ہے۔ نذر و نیاز چڑھانا فعلی شرک ہے۔ اسی طرح اعتقادی شرک یہ ہے کہ مافوق الاسباب غائبانہ طور پر اللہ کے سوا کوئی اور بھی نفع نقصان پہنچا سکتا ہے۔ عالم کے اندر رہتے ہوئے ایک دوسرے ……کی مدد کرنا فطرت کے عین مطابق ہے۔ جیسے ” وتعاولواعلی البروالتقوی ولا تعاونوعلی الاثم والعدوان “ نیکی اور بھلائی میں ایک دوسرے کا تعاون حاصل کرو۔ گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ یہ تو عالم اسباب ہے مگر جہاں ظاہری اسباب موجود ہی نہ ہوں۔ وہاں غیر اللہ کی طرف سے نفع نقصان کی امید رکھنا یہی اعتقادی شرک ہے۔
ڈاکٹر مریض کا معائنہ کرتے ہیں۔ اس کے لئے دوائی تجویز کرتے ہیں۔ علاج کے تمام ذرائع بروئے کار لاتے ہیں ، پھر بھی افاقہ نہیں ہوتا۔ تو جواب دے دیتے ہیں کہ اس مریض کا علاج ہمارے بس میں نہیں ہے۔ اب مریض کے لواحقین کہتے ہیں کہ ظاہری اسباب ختم ہوچکے ہیں اب دم درود کرائو۔ اس سٹیج پر اگر کوئی یہ اعتقاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس مریض کو کوئی اور بھی شفا دے سکتا ہے ۔ تو یہ شرک ہوگا اور ایسا عقیدہ رکھنے والا شخص کافر ہوجائے گا۔ کیونکہ اب ظاہری اسباب ختم ہوچکے ہیں۔ مافوق الاسباب شفا دینا صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔
اسی طرح بگڑی کو بنانا خدا تعالیٰ کی صفت ہے۔ تمام ذرے ذرے کا علم ہونا بھی خاصہ خدا وندی ہے۔ کیونکہ ” واللہ بکل شیء علیم “ مخلوق میں کوئی ہستی ایسی نہیں جسے ذرے ذرے کا علم ہو۔ نہ جبرائیل (علیہ السلام) کو نہ میکائیل (علیہ السلام) کو اور نہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ، موسیٰ (علیہ السلام) ، خضر (علیہ السلام) کوئی عالم الغیب نہیں اولیاء اللہ تو انبیاء (علیہم السلام) سے کم تردرجے میں ہیں۔ وہ تو نبیوں کے خدام ہیں انہیں علم غیب کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔ مقرب فرشتے تک اس سے محروم ہیں ۔ اسی طرح قدرت تامہ سوائے خدا کے کسی کو حاصل نہیں۔ واللہ علی کل شیء قدیر “ ہر چیز پر قدرت رکھنے والی ذات صرف ذات خداوندی ہے۔ اگر کسی دوسرے کو علیم کل یا قادر مطلق تسلیم کرے گا۔ تو مشرک ہوجائے گا۔
خالق اور مخلوق
اسی طرح ہر چیز کا خلاق بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ اللہ خالق کل شیء ارض و سما کی پیدائش سے کروڑوں سال پہلے اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو پیدا کیا۔ اس کے بعد اس کائنات کی پیدائش کا وقت آیا۔ اب جو چیز پیدا ہوچکی ہے۔ وہ فنا بھی ہوگی۔ یہ جہاں بھی بدل جائے گا۔ خدا جانے اس سے پہلے کتنے جہان بدل چکے ہیں۔ ہمارے علم میں نہیں ہے۔ ہم تو صرف اسی موجودہ دور کو جانتے ہیں۔ اس کی بھی کوئی انتہا ہے۔ اس کے بعد دوسرا جہان آنے والا ہے۔ الغرض قادر مطلق ذات الٰہی ہے۔ علیم کل اور مختار مطلق بھی وہی ہے ، جو چاہے کرے ، اس کے ارادے کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ حضرت سفیان ثوری نے حضرت علی کا قول نقل کیا ہے۔ عرفت ربی بفسخ العزآئم میں نے اپنے رب کو ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا ہے۔ جب ہم کوئی ارادہ کرتے ہیں تو وہ ٹوٹ جاتا ہے ، بات پوری نہیں ہوتی۔ بار بار ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنے ارادے میں کوئی اختیار نہیں۔ ہر چیز خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے معلوم ہوا کہ کوئی ایسی ذات ہے ، جو قادر مطلق ہے اور مرید ہے وہ جب چاہتا ہے ، انسانی ارادے کو توڑ دیتا ہے اور جس کے ارادے کو کوئی توڑ نہیں سکتا ، وہ صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ ” واذا اراد اللہ بقوم سوآء فلامردلہ “ جب وہ کسی قوم یا فرد کے بارے میں اچھائی یا برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کوئی توڑ نہیں سکتا۔ وہ جس طرح چاہتا ہے کہ گزرتا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔
الغرض قرآن پاک نے یہ مسئلہ سمجھا دیا کہ کائنات کی ہر چیز جو آپ کے فہم و ادراک ، یا نگاہ و مشاہدہ میں آتی ہے ، وہ مخلوق ہے۔ خالق ان کے علاوہ ہے اور غیب الغیب میں ہے۔ یہ غیب اور شہادت سب مخلوق ہے۔ ہر چیز کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ خلاق کل شیء اس کے علاوہ اور کوئی خالق نہیں ہے۔
مسئلہ الوہیت
حکومت کے متعلق فرمایا ” الا لہ الحکم “ حکم اور فیصلہ بھی اس کا ہے اور پھر آخر میں مسئلہ الوہیت بھی واضح کردیا کہ الہ بھی اس کے سوا کوئی نہیں ” مالکم من الہ غیرہ سارے انبیاء (علیہم السلام) نے یہی بات سمجھائی کہ دیکھو ! خالق اس کے سوا کوئی نہیں ، مالک کوئی نہیں ، قادر مطلق کوئی نہیں اور علیم کل بھی وہی ہے جس طرح تم مخلوق ہو ، اسی طرح کائنات کی تمام چیزیں مخلوق ہیں۔ نبی (علیہ السلام) بھی مخلوق ہیں۔ ملائکہ بھی مخلوق ہیں۔ خالق صرف خدا تعالیٰ ہے۔
ہر نبی نے یہی اعلان کیا ” یقوم اعبدو اللہ مالکم من الہ غیرہ “ ط اے لوگو عبادت صرف خدا تعالیٰ کی کرو۔ کیونکہ اس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے الہ کا معنی ہے مستحق عبادت اور عبادت کہتے ہیں۔ انتہائی درجے کی تعظیم کو تو گویا ذہن میں عقیدہ رکھتے ہوئے کہ خالق ، مالک ، مختار مطلق ، نافع ، ضار اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ انتہائی درجے کی تعظمی کرنا عبادت کہلاتا ہے۔ تعظیم قول سے بھی ہو سکتی ہے اور جسم سے بھی نماز میں ہم زبان سے مناجات کرتے ہیں یہ قولی عبادت ہے جسمانی طور پر قیام ، رکوع ، سجود کرتے ہیں یہ جسمانی عبادت ہے۔ اسی طرح اس کی راہ میں نذر و نیاز پیش کرتے ہیں یہ مالی عبادت ہے۔ التحیات للہ و الصلوت والطیبات میں توحید کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے کہ تمام مدنی قولی اور ملای عبادتیں خاص اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں کوئی اور ان عبادتوں کا مستحق نہیں۔ کیونکہ جو صفات خدا تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں۔ وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آتیں اس لئے معبود صرف وہی ہے۔ معبود وہ ہوگا جو ازلی اور ابدی ہے ، جو خلاق کل ہے۔ جو قادر مطلق اور علیم کل ہے ، جو کسی کا محتاج نہیں۔ بلکہ اس کے سب محتاج ہیں۔ اپنے وجود میں بھی محتاج ہیں اور بقا میں بھی اسی کے محتاج ہیں کام میں بھی محتاج ہیں۔ اس کی توفیقف کے بغیر قدم تک نہیں اٹھا سکتے۔
خواہ انبیاء (علیہم السلام) بھی یہی کہتے رہے ” وما توفیقی الا باللہ “ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر میں کچھ نہیں کرسکتا۔ نیز فرمایا ” واصبروما صبرک الا باللہ “ آپ صبر کریں مگر صبر بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہو سکتا ہے۔ اس لئے خدا سے توفیق طلب کرتے رہنا چاہئے۔ کوئی نیکی کا کام کر کے اس پر اترائو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ اس نے ایسا کر نیکی توفیق دی۔
الغرض ! مستحق عبادت وہ ہوگا۔ جو خالق ہے۔ علیم کل ہے اور قادر مطلق ہے۔ جسے ذرے ذرے کا علم ہے ، جو نافع اور ضار ہے ، جو چاہے کرے جس کے ارادے کو کوئی توڑ نہ سکے۔ مخلوق آخر کسی نہ کسی مادے سے پیدا ہوئی ہے۔ جبرائیل (علیہ السلام) بھی مادے سے پیدا ہوئے تاہم ان کا مادہ لطیف ہے۔ انسان اور حیوان کا مادہ ذرا کثیف ہے۔ عبادت کا مستح قوہ خدا ہو سکتا ہے۔ جو مادیت سے منزہ ہو باقی تمام مخلوق کا کوئی نہ کوئی مادہ ہے۔ شیاطین اور جنات غلیظ قسم کے مادہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ تو یہ قرآن کریم کی توحید کا تصور اور مرکزی فکر کہ توحید کا مسئلہ بالکل صاف ہونا چاہئے۔ اس میں سکی قسم کی شرک کی ملاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔ تب جا کر اسلام کا تقاضا پورا ہوگا۔
شرک کے اجزاء
اب شرک کے مختلف اجزاء ہیں۔ اگر ذات میں کسی کو شریک ٹھہرایا لیا تو مشرک ٹھہرا۔ اگر ذات کو تسلیم ہی نہ کیا تو دہریت کا شکار ہوگیا۔ اگر خدا کی صفت کا انکار کیا ، تب بھی کفر کیا۔ اگر صفت کو غلط طریقے سے مانا تب بھی مشرک ہوگیا۔ انبیت والوں کی طرح اگر اللہ تعالیٰ میں مخلوق کی کوئی صفت مان لی تب بھی شرک کا ارتکاب کیا ، کیونکہ تشبیہ کے عقیدے میں مبتلا ہوگیا۔ شرک کبھی ذات میں ہوتا ہے اور کبھی صفات میں۔ اسی طرح تاثیر میں بھی شرک ہوتا ہے۔ ایک شخص خود ایک کام نہیں کرسکتا۔ وہ دوسرے کا تعاون حاصل کرتا ہے۔ جیسے کوئی شخص وزنی چیز اٹھانے سے قاصر ہے۔ مگر دوسرے کی امداد حاصل کر کے وہ چیز اٹھا لیتا ہے اس قسم کا عقیدہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق رکھنا کہ اسے بھی کسی کی امداد یا تعاون کی ضرورت ہے۔ یہ تاثیری شرک ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کو کسی تاثیر کی ضرورت نہیں۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کے لئے غیر کی تاثیر ماننا بھی شرک ہوگا۔
شرک عام طور پر عبادت یا صفت میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ علیم کل ہے۔ اگر یہی صفت دوسروں میں مانی جائے کہ ابنیاء (علیہم السلام) یا الویاء اللہ بھی غیب جانتے ہیں یا بگڑی بنا سکتے ہیں اور ان سے حاجتیں طلب کی جائیں۔ ان کو غائبنہ طور پر مافوق الاسباب پکارا جائے تو یہ شرک ہوگا۔ وظیفہ یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئاً للہ اسی قبیل سے ہے۔
اکثر شرک صفات میں ہوتا ہے ۔ حالانکہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات میں کوئی شریک نہیں۔ اسی طرح صفات میں بھی کوئی شریک نہیں۔ مگر یہاں دوسروں کو بھی شریک سمجھا جاتا ہے کہ ان کو بھی قدرت حاصل ہے۔ ان کے پاس بھی علم غیب ہے ۔ یہ بھی کچھ کرسکتے ہیں من دون اللہ کی تاویل کرتے ہیں کہ اس سے مراد خدا کے مدمقابل نہیں بلکہ اس کے مقرر کئے ہوئے ہیں۔ یہ بھی مشرکانہ عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کو مقرر نہیں کیا کہ لوگوں کی حاجت روائی کیا کرو۔ مشکل کشائی کیا کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کی براہ راست مشکل کشائی کرتا ہے۔ اس نے کسی کو مخلوق کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا کہ کسی کا واسطہ پکڑا جائے۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں 1 ؎ کہ اس قسم کا شرک کرنے والے قبر پرست ، پیر پرست ، امداد طلب کرنے والے اللہ تعالیٰ کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرتے ہیں کہ جس طرح دنیوی حاکموں تک عام آدمیوں کی رسائی نہیں ہوتی۔ اسی طرح دربار الٰہی تک
1 ؎ حجتہ اللہ البالغہ ص 59/ج/
بھی ہر کسی کی رسائی نہیں۔ لہٰذا وسیلہ پکڑنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرنا جہالت ، بیوقوفی ، نادانی اور مشرکانہ بات ہے۔
اللہ تعالیٰ کی چارصفات
شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں۔ 1 ؎ اللہ تعالیٰ کی چار صفات ہیں۔ اول ابداع ، دوم پیدا کرنا۔ سوم تدبیر کرنا اور چہارم تدلی کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ براہ راست ہے ہر آدمی کے اندر خواہ وہ کیسا بھی ہو ، خدا تعالیٰ کی تھوڑی بہت تجلی پڑتی ہے۔ جو لوگ پاکیزگی اختیار کرتے ہیں۔ ان کو آخرت میں بڑا فائدہ ہوگا اور جو اس تجلی کو خراب کرلیتے ہیں۔ ان پر بڑا وبال آئے گا۔ تاہم براہ راست تدبیر کا تعلق کسی غیر اللہ کے ساتھ نہیں ہے ، مارنا ، زندہ کرنا۔ ترقی ، تنزل ، صحت قائم رکھنا ، بڑھا پا طاری کرنا ، یہ سب خدا کی تدبیر ہے۔ اور تدلی یعنی مخلوق کے ہر فرد کے ساتھ براہ راست تعلق بھی خدا تعالیٰ کا موجود ہے۔ درمیان میں وسائل بنانا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے۔ بعض مشرک یہ کہتے ہیں کہ ہماری عبادتیں ناقص ہیں۔ لہٰذا ہم انبیاء (علیہم السلام) یا الویاء کی اس لئے عبادت کرتے ہیں تاکہ ہماری ناقص عبادتیں ان کی افضل عبادتوں کے ساتھ مل کر مقبول ہوجائیں ۔ یہ بھی باطل اور نہایت غلیظ فکر ہے شرائط اور پاکیزگی کے ساتھ جو کوئی بھی عبادت کرے گا ، وہ مقبول ہوگی۔
توحید مرکزی عقیدہ ہے
بہرحال توحید اسلام کا مرکزی اور بنیادی عقیدہ ہے۔ ج و اس سورة میں بیان کیا گیا ہے۔ سارے دین کی بنیاد اسی عقیدہ پر ہے۔ اور آخرت میں نجات کا دار و مدار اسی پر ہے ارشاد ہوتا ہے۔ قل ھو اللہ احد آپ کہہ دیجیے وہ اللہ ایک ہے۔ اس کے ساتھ ، اس جیسا یا اس کے ساتھ کسی قسم کی شراکت رکھنے والا کوئی نہیں ہے۔ اللہ الصمد اللہ بےنیاز ہے وہ کسی کا محتاج نہیں صمد اسے کہتے ہیں جو کسی کا محتاج نہ ہو۔ بلکہ سب اسی کے محتاج ہوں گویا صمد کا معنی المصمود الیہ فی الحوائج ہوا۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں 2 ؎ کہ صمد وہ ہے جو حاجت برآری کرنے والا ہے مگر اس کی اپنی کوئی حاجت نہیں کہ جسے وہ کسی دوسرے کے پاس لے جائے۔ صمد اسے بھی کہتے ہیں۔ جس کا جوف نہ ہو ، یعنی اس کے اندر کسی قسم کا عیب
1 ؎ حجتہ اللہ البالغہ ص ، تفہیمات الہیہ ص ج ، ہوا مع ص 2
نہ ہو۔ تو خدا بےنیاز ہے لم یلدہ ولم یولد نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ کسی سے جنا گیا۔ انبیت یا ولدیت کا باطل عقیدہ اہل کتاب کا ہے۔ ان لوگوں کا بھی رد ہوگیا۔ اور آخر میں فرمایا ولم یکن لہ کفوراً احد کوئی اس کا ہمسر ، برابر یا معین نہیں۔ اس کے ساتھ کوئی اور تاثیر کرنے والا نہیں ہے اور اس کا کوئی ناصر نہیں اور نہ ہی اس کو کسی کی ضرورت ہے وہ ہر لحاظ سے اپنی ذات اور اپنے افعال میں یگانہ ہے۔ لہٰذا عبادت بھی صرف اسی کی کرنی چاہئے اس کی وحدانیت کو اپانا ہی صحیح فکر ہے ، اور یہی اسلام کی بنیاد ہے۔
فضائل سورة
اس سورة مبارکہ کو ثلث قرآن یعنی پورے قرآن پاک کا تیسرا حصہ کہا گیا ہے ۔ 1 ؎ اس کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن پاک تین قسم کے مضامین کا مجموعہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا عقیدہ ، شریعت کا بیان اور معاد یعنی آخرت کا ذکر چونکہ اس سورة میں سے ایک موضوع متعلقہ ذات وصفات خداوندی کا ذکر ہے۔ اس لئے اسے ثلث قرآن کہا جاتا ہے۔
ترمذی شرفی کی روایت 2 ؎ ہے کہ جوش خص رات کو دائیں کروٹ لیٹ کر یہ سورة مبارکہ تلاوت کرے گا ، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جائو سیدھے بغیر باز پرس جنت میں داخل ہو جائو۔ تاہم شرط یہ ہے کہ پڑھنے والا مومن ہو منافق نہ ہو اور شرک کرنے والا نہ ہو۔
ایک صحابی قوم کی امامت کراتے تھے اور ہر نماز میں اس سورة کی قرأت کرتے تھے۔ صحابہ نے حضور علیہ اسللام سے شکایت کی کہ یہ ہر رکعت میں دیگر سورة کے علاوہ سورة قل ھو اللہ بھی پڑھتے ہیں۔ جب انہیں اس شکایت کا علم ہوا تو اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ اگر تم چاہو تو میں نماز پڑھاتا ہوں ، ورنہ نہیں۔ مگر میں اس سورة کو نہیں چھوڑ سکتا۔ وہ صحابی جب حضور ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ دوسری سورة کے ساتھ اس سورة کو کیوں پڑھتے ہو تو انہوں نے عرض کیا۔ حضور ! اس میں اللہ تعالیٰ کی ایسی صفت ہے جو مجھے بہت پسند ہے۔ اس لئے اس کو نہیں چھوڑ سکتا ۔ آپ نے فرمایا 3 ؎ ان حبک ایاھا
1 ؎ ترمذی ص 411 ، بخاری ص 750/ج 2 ، مسلم ص 271/ج 1
2 ؎ ترمذی ص 411 ، 3 ؎ ترمذی ص 412
یدخل الجنۃ تیری اس سورة کے ساتھ محبت نے تجھے جنت میں داخل کردیا ہے۔
یاد رہے کہ عام لوگوں کے لئے ضروری نہیں ہے کہ یہ سورة ہر رکعت میں پڑھی جائے بلکہ ایسا سمجھنے میں کچھ قباحت آتی ہے۔ اس کے علاوہ دوسری سورتیں بھی پڑھنی چاہئیں۔ اس شخص کو اس سورة سے بےپایاں محبت تھی۔ لہٰذا اسے جنت کی بشارت دی گئی۔ یہ سورة اخلاص کہلاتی ہے۔ اس میں مئومنون کو حکم دیا گیا ہے کہ عقیدہ توحید کو اپنے دلوں میں خالص بنا کر رکھیں کیونکہ نجات کا مدارسی پر ہے اور یہی اسلام کا نظریہ حیات یا آئیڈیالوجی ہے یہی مرکزی فکر ہے جس پر سارا دین قائم ہے۔ اگر یہ نظریہ دسرت ہے تو سارا دین درست ہے اور اگر یہ ہی بگڑا ہوا ہے تو سارا دین بگڑا ہوا ہوگا کوئی چیز بھی ٹھیک واقع نہیں ہوگی۔
(صفحہ الٹا ہونے کی وجہ سے پڑھا نہیں جاتا)