113. Surah Al-Falaq
الفلقThe Dawn · 5 ayahsمعالم العرفان
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader
(اے پیغمبر) آپ کہہ دیجیے میں پناہ لیتا ہوں صبح کے رب کے ساتھ
مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader
تمام ان چیزوں کی برائی سے جن کو اس نے پیدا کیا ہے
وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader
اور اندھیرے کے شر سے جب وہ چھا جاتا ہے
وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader
اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے
وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader
اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب وہ حسد کرتا ہے
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة الفلق ہے۔ یہ مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی پانچ آیات ہیں۔ یہ سورة تئیس الفاظ اور انہتر حروف پر مشتمل ہے۔ اس کی پہلی آیت میں فلق کا لفظ مذکور ہے۔ جس سے سورة کا نام لیا گیا ہے۔
فضیلت معوذتین
آخری دو سورتیں یعنی سورة فلق اور سورة و الناس معوذتین کہلاتی ہیں۔ احادیث میں ان کی بہت فضیلت آئی ہے۔ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں سورتیں اکٹھی نازل ہوئیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا 1 ؎ کہ مجھ پر ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ ان کی مثل کوئی آیت نہیں ہے۔ محدثین کرام فرماتے ہیں کہ تعود کے باب میں یعنی برائیوں سے پناہ مانگنے کے سلسلے میں جتنا اثر یہ دو سورتیں رکتھی ہیں۔ اس کے برابر کوئی کلام نہیں۔ یہاں پر
1 ؎ مسلم ص 272/ج 1 ، ترمذی ص 412
فضیلت سے مراد مطلقاً فضیلت نہیں۔ کیونکہ مطلطق فضیلت سورة فاتحہ سورة بقرہ کی آخری آیات سورة حشر کی آخری آیات اور آیتہ الکرسی وغیرہ کی زیادہ ہے۔ تاہم پناہ مانگنے کے سلسلے میں ان سورتوں جیسا کلام نہ تو راۃ میں ہے ، نہ زبور میں ، نہ انجیل میں اور نہ قرآن پاک میں ہے۔ گویا کسی بھی آسمانی صحیفے میں پناہ سے متعلقہ کلام ان دو سورتوں کے برابر نہیں ہے۔
احادیث میں آتا ہے 1 ؎ کہ ان سورتوں کے نزول سے پہلے حضور ﷺ استعاذہ کے لئے مختلف کلمات پڑھتے تھے۔ مگر جب یہ سورتیں نازل ہوگئیں تو آپ نے انہیں اختیار کرلیا۔ اور زیادہ تر انہی سے تعوذ کرتے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا 2 ؎ کہ فرض نماز کے بعد ان دو سورتوں کی تلاوت کیا کرو تاکہ ہر قسم کے شرور اور فتنوں سے پناہ حاصل ہو سکے ان دو سورتوں کو نماز کے بعد ورد کی حیثیت حاصل ہے۔
روشنی اور تاریکی شر ہے اور تاریکی عدم ہے۔ اس کے مقابلے میں روشنی وجود ہے خوبی کا تعلق وجود سے ہوتا ہے اور شر کا تعلق عدم سے ہوتا ہے۔ لہٰذا جب روشنی نمودار ہوتی ہے۔ تو اس سے ہر قسم کی خوبی حاصل ہوتی ہے اور تاریکی میں شر و فساد واقع ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت یہ بھی ہے ۔ ” فالق الاصباح وجعل الیل سکناً “ اللہ تعالیٰ تاریکی میں سے صبح کو پھڑا کر نکالتا ہے۔ اور اس نے رات کو سکون کے لئے بنایا تاکہ تمام انسان اور جانور آرام و سکون حاصل کرسکیں۔ نیز وجعلنا النھار معاشاً “ دن کو معاش کا ذریعہ بنایا تاکہ لوگ کاروبار میں اشتعال اختیار کریں۔ یہ چیز روشنی میں ہی انجام دی جاسکتی ہے تاریکی میں نہیں ہو سکتی۔
دینی اور دنیوی فتنے
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ذکر کے چار چیزوں کے شر سے پناہ ماگنی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے۔ اگلی سورة و الناس میں
1 ؎ نسائی ص 317/ج 2 ، در منشور ص 416/ج 6 ، 2 ؎ ترمذی ص 412 ، درمنشور ص 416/ج 6 ، 3 ؎ تفسیر عزیزی فارسی ص 375/پ 30
اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا بیان ہے اور ایک چیز سے پناہ مانگی گئی ہے۔ تو مفسرین محققین فرماتے ہیں 1 ؎ کہ ان دونوں سورتوں کا موضوع الگ الگ ہے۔ سورة فلق میں چار دنیوی آفات و بلیات کے شر سے پناہ طلب کی گئی ہے اور سورة و الناس میں دینی شرور اور فتنوں سے پناہ مانگی گئی ہے۔ وسوسہ شیطانی دینی فتنہ ہے اور دینی فتنہ کی دنیوی فتنوں کی نسبت زیادہ اہمیت ہے۔ اس لئے وہاں پر اللہ تعالیٰ کی تین صفات بیان کر کے صرف ایک دینی فتنہ یعنی وسوسہ شیطانی سے پناہ طلب کی گی ہے۔ جب کہ اس سورة فلق میں اللہ کی ایک صفت بیان کر کے دنیا کے چار شرور سے پناہ مانگی گئی ہے۔ چونکہ دینی فتنے کا اثر آخرت پر ہوگا۔ اس لئے حضور ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے 2 ؎ (اللھم) ولا تجعل مصیبتنا فی دیننا اے اللہ ! دین کے معاملے میں ہمیں مصیبت میں گرفتار نہ کرنا ، کیونکہ یہ مصیبت آخرت تک ساتھ جائے گی۔ مثلاً اگر کوئی کفر و شرک کا ارتکاب کرتا ہے تو یہ مصیبت اسے جہنم تک لے جائے گی۔ اس کے برخلاف دنیوی فتنہ تو زیادہ سے زیادہ کسی کو اس کی زندگی تک ہی مصیبت میں مبتلا رکھ سکتا ہے۔ اس کے بعد یہ تکلیف خود بخود رفع ہوجائے گی۔ گویا دنیوی شرور کے اثرات عارضی ہیں۔ جب کہ دینی فتنوں کے اثرات دائمی ہیں۔ اسی لئے یہ زیادہ اہم ہیں۔
مخلوق کے شر سے پناہ
ارشاد ہتا ہے۔ قل آپ کہہ دیجیے اعوذ برب الفلق میں پناہ لیتا ہوں صبح کے رب کے ساتھ ۔ یعنی جو صبح کی روشنی کو رات کی تاریکی سے پھاڑ کر نکالتا ہے۔ میں اس کی پناہ لیت اہوں۔ کن چیزوں سے پناہ لیتا ہوں من شر ما خلق تمام ان چیزوں کی برائی سے جن کو اس نے پیدا کیا یعنی اللہ تعالیٰ مجھے اپنی مخلوق کے شر سے پناہ میں رکھے۔
گزشتہ سورة اخلاص میں توحید کا مضمون بیان ہوا ہے اور اس سورة میں پناہ پکڑنے کا بیان ہے۔ ان دونوں سورتوں کا باہمی ربط اس طرح ہے کہ پناہ وہی ذات دے سکتی ہے جو قادر مطلق علیم کل مختار کل اور صفات کمال کی مالک ہو۔ یہاں پر اعوذ برب الفلق میں اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا ذکر کیا گیا ہے اور اسی صفت کے نتیجے میں ہر چیز
1 ؎ تفسیر عزیزی فارسی 375/پارہ 30 ، 2 ؎ ترمذی ص 504
کو اس کے کمال تک پہنچنے کا موقع ملتا ہے۔ ربوبیت کا معنی ہی یہ ہے۔ انشاء شی حالا فحالاً الی حد الکمال یعنی کسی چیز کو آہستہ آہستہ اس کے حد کمال تک پہنچانے کے ذرائع مہیا کرنا۔ چناچہ انسان کو حد کمال تک پہنچنے کے لئے جس جس چیز کی ضرورت ہے ۔ وہ اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمائی ، خوراک ، لباس ، مکان ، سایہ ، گرمی ہوا ، وغیرہ اللہ تعالیٰ اپنی صفت ربوبیت کے مطابق مہیا کرتا ہے۔ تاکہ ہر چیز اپنی حد کمال تک پہنچ جائے۔
اس مقام پر دوسری بات یہ معلوم ہوئی ہے کہ شر سے بچنا انسان کا فطری حق ہے اگر وہ شر سے بچ جائے گا تو اس کے لئے کامیابی کے ہزاروں دروازے کھل جائیں گے اور اگر انسان شر سے نہ بچ سکا ، تو پھر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے تمام مخلوق کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے اور ان میں سے تین چیزوں کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا شر اور فتنہ زیادہ نمایاں ہے۔
ظاہری اور باطنی شر
شر دو قسم کے ہیں۔ یعنی حسی اور معنوی یا ظاہری اور باطنی اور پھر یہ ہے کہ شر ہر ایک چیز کے ساتھ منسلک ہے۔ مثلاً عبادت کا شر یہ ہے کہ اس میں ریا کاری آجائے ۔ اگر ایسا ہوا تو عبادت نہ صرف بےمعنی ہوجائے گی۔ بلکہ وبال جان بن جائے گی۔ گویا عبادت جیسی اچھی میں بھی اگر ریا کاری پیدا ہوگئی تو وہ شر میں داخل ہوجائے گی۔
انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ شر یہ ہے کہ انسان ان پر ایمان نہ لائے۔ ان کی تکذیب کرے اور ان کی اطاعت سے روگردانی کرے۔ ایسا شخص انبیاء علیہم اسللام کے اعتبار سے شر میں مبتلا ہوجائے گا۔ اسی طرح ایمان کے ساتھ بھی شر ہے۔ حالانکہ ایمان ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔ اگر انسان کا ایمان کمزو رہو جائے۔ اس میں نفاق پیدا ہوجائے ۔ شر ک کی ملاوٹ آجائے ۔ یا کوئی انسان مرتد ہوجائے تو یہ ایمان کے اعتبار سے فتنہ ہوگا۔
شر سے بچنا ضروری ہے
ان تمام قسم کے شرور سے بچنا ضرور ی ہے۔ کیونکہ اگر کوئی شخص شر سے بچ نہیں سکے گا تو کوئی کمال حاصل نہیں کرسکے گا۔ شر سے بچنا انسان کا فطری حق ہے۔ اور یہی مقصد حاصل کرنے کے لئے پناہ مانگنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔
یہ ایک اصولی بات ہے کہ کسی چیز سے کما حقہ فائدہ حاصل کرنے کے لئے اس چیز کو شر سے بچانا ضروری ہے ۔ مثال کے طور پر ایک کسان کھیتی بوتا ہے۔ ہل چلاتا ہے۔ بیج ڈالتا ہے ، پانی دیتا ہے اور فصل کی امید رکھتا ہے۔ مگر فصل حاصل کرنے کے لئے اسے شر سے بچانا اولین ضرورت ہے۔ بیج کو کیڑے بچانا ہوگا۔ فصل طوفان اور ژالہ باری سے محفوظ رہے گی۔ تب کسان اس سے مکمل فائدہ حاصل کرسکے گا۔ اسی طرح فصل کو اپنی ، روشنی اور گرمی کی ضرورت ہے۔ اگر یہ چیزیں میسر نہیں ہوگی تو فصل مر جھاجائے گی۔ مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ لہٰذا فصل کو ہر قسم کے شرور سے بچانا ضروری ہے۔ دین کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ اگر کمال حاصل کرنا ہے ۔ تو دین کو نفاق ، شرک اور بدعقیدگی کے شرور سے بچانا ہو گ اور نہ صحیح نتائج پیدا نہیں ہو سکتے۔
اندھیرے کا شر
فرمایا ومن شرغاسق اذا وقب میں پناہ مانگتا ہوں اندھیرے کے شر سے جب وہ چھا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے 1 ؎ کہ حضور ﷺ نے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا تعوذی باللہ من شر ھذا الغاسق اذا وقب اس غاسق کے شر سے پناہ مانگو جب یہ چھپ جاتا ہے ۔ جب چاند چھپ جاتا ہے تو اندھیرا چھا جاتا ہے اور اندھیرا شر کی بنیاد ہے اس میں طرح طرح کے شرور پیدا ہوتے ہیں۔
سب سے پہلا شر یہ ہے کہ جب اندھیرا شروع ہوتا ہے۔ تو شیاطین اور جنتا پھیل جاتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے ۔ 2 ؎ جب اندھیرے کی ابتداء ہو تو بچوں اور جانوروں کو باہر نہ نکالو ، تاکہ وہ شیاطین اور جنات کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ شام کے وقت شیاطین اور جنات پر افراتفری کا عالم ہوتا ہے وہ ادھر ادھر بھاگتے ہیں۔ اس لئے اس وقت بچوں کو باہر نہیں نکالنا چاہئے۔ کہیں وہ ان کے اثرات کا شکار نہ ہوجائیں۔ البتہ جب اندھیرا خوب جم جائے اور کچھ وقت گذر جائے تو پھر باہر نکلنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس وقت تک شیاطین کی افراتفری ختم ہوجاتی ہے۔
رات کے وقت موذی قسم کے جانور بھی نکلتے ہیں۔ اسی لئے حضور ﷺ
1 ؎ ترمذی ص 485 مسند احمد ص 61/ج 6 مستدرک حاکم 541/ج 2 ، 2 ؎ بخاری ص 476/ج 1 ، مسلم ص 171/ج 2
کا فرمان 1 ؎ ہے کہ سفر کے دوران اگر رات ہوجائے تو آرام کرنے کے لئے سڑک سے ہٹ کر سونا چاہئے تاکہ کیڑے مکوڑے سانپ بچھو وغیرہ کے شر میں مبتلا نہ ہو جائو۔ وہ بھی اپنا شکار تلاش کرنے کے لئے رات کو نکلتے ہیں۔ اسی طرح چوری بھی عام طور پر رات کو ہی ہوتی ہے۔ بسا اوقات جانیں بھی تلف ہوجاتی ہیں۔ مال چلا جاتا ہے۔ آبرو کو خطرہ ہوتا ہے۔ یہ سب تاریکی کے فتنے ہیں۔
جادو سحر اور باطل عملیات کرنے والے لوگ بھی زیادہ تر رات کو مصروف عمل ہوتے ہیں۔ دن کی روشنی میں ان کی کامیابی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ اسی واسطے فرمایا۔ ومن شر غاسق اذا وقب میں پناہ مانگتا ہوں اندھیرے کے شر سے جب وہ چھا جائے ۔ اس رب کی پناہ مانگتا ہوں جو تاریکی کو دور کرنے والا اور روشنی کو لانے والا ہے۔
جادو کا شر
ومن شر ا لنفثت فی العقد اور میں پناہ مانگتا ہوں گرہوں میں پھونکنے والی عورتوں کے شر سے۔ نفثت مئونث کا صیغہ ہے۔ جس کا معنی جادوگر عورتیں ہیں۔ جس طرح مرد کرتے ہیں اسی طرح بعض عورتیں بھی اس کا کام کی ماہر ہوتی ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے 2 ؎, کہ لبید بن الاعصم اور اس کی بیٹیوں نےحضور ﷺ پر سحر کیا تھا تو نفثت سے مراد جادوگر عورتیں ہوا اور اگر نفثت سے مراد نفس لیا جائے تو معنی یہ ہوگا کہ ان نفوس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو گرہوں میں کالا علم پھونک کر شر پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہرحال جادو کرنے والی عورتیں ہوں یا عام نفوس ان کے شر سے پناہ حاصل کرنے کا سبق دیا گیا ہے۔
باطل پراپیگنڈے کا شر
محققین مفسرین فرماتے ہیں 3 ؎, کہ نفثت سے مراد پارٹیاں اور گروہ ہیں اور نفث سے مراد باطل پراپیگنڈا ہے۔ اس بنا پر معنی یہ ہوگا کہ میں غلط پراپیگنڈا کرنے والی جماعتوں کے شر سے رب الفلق کی پناہ مانگتا ہوں۔ جس طرح جادو کرنے کے لئے گرہوں میں پھونکا جاتا ہے اسی طرح اذھان کو متاثر کرنے کے لئے غلط پراپیگنڈا کرنے والے پراپیگنڈا پھونکتے رہتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے صحیح اعتقادات آہستہ آہستہ متاثر ہونے لگتے ہیں۔ یہ جتنی بدعات پھیلی ہیں۔ شرک کے جراثیم پائے جاتے ہیں۔ یہ سب باطل پراپیگنڈے کا اثر ہے
1 ؎ مسلم ص 144/ج 2 ، 2 ؎ بخاری ص 857/ج 2 ، مسلم ص 221/ج 2 روح المعانی 283/ج 30 ، 3 ؎ المقام المحمود یعنی تفسیر حضرت مولانا سندھی ص 217/پارہ 30
ادیان باطلہ والے اس قدر پراپیگنڈا کرتے ہیں ہیں کہ لوگوں کے ایمان مضمحل ہوجاتے ہیں۔ ہٹلر کہا کرتا تھا کہ اس قدر جھوٹ بولو کہ سو فیصدی جھوٹ بھی سچ نظر آنے لگے۔
یہ پراپیگنڈے کے اثرات ہوتے ہیں کہ لوگوں کے اعتقاد ضعیف ہوتے ہیں۔ پھر بالکل باطل ہوجاتے ہیں اور یقین ختم ہوجاتا ہے۔ عیسائی مشنریاں اسی پراپیگنڈے کے زور پر کامیاب ہو رہی ہیں۔ بڑے بڑے عیسائی پادریوں کا قول ہے کہ کوشش کے باوجود اگر کوئی مسلمان عیسائی نہ بنے تو مسلمان بھی نہ رہے۔ اس کا اعتقاد اس قدر تو فاسد ہوجانا چاہئے۔ ہنٹر نے اپنی کتاب (HunindiAm Muslims) (ہمارے ہندوستانی مسلمان) میں لکھا ہے کہ ہماری سلطنت کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی تحقیر کی جائے۔ یہ چیز انگریز کے مشن میں داخل ہے۔ ہنٹر ابتدائی دور کا انگریز تھا جس کی تحریر سے تعصب کا پتہ چلتا ہے عیسائی مشنریاں اربوں روپے پراپیگنڈے کے مختلف ذرائع پر خرچ کرتی ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو بھی پراپیگنڈے کی زد میں آ گیا ۔ اگر وہ عیسائی نہ ہوا تو کم از کم اس کا اعتقاد متزلزل ضرور ہوجائے گا۔
نیکو کاروں کی مجلس سے محرومی
نیکو کاروں کی مجلس سے محروم رہنا بھی افسوسناک ہے۔ اولیاء اللہ کے ساتھ شر کی نسبت یہ ہے کہ انسان ان کی مجلس سے محروم رہے۔ یہ انسان کے لئے باعث وبال ہے اگر کوئی ساری عمر کسی ولی اللہ یا راسخ العقیدہ نیک آدمی کی مجلس میں نہیں پہنچ سکا۔ ع زادی بہ حجاب اندر میری بہ حجاب اندر …… کے مصداق تاریکی میں ہی پیدا ہوئے اور تاریکی میں ہی زندگی گنوا دی ساری عمر کسی نیکو کار کی صحبت ہی نصیب نہ ہوئی ، تو یہ بھی بدنصیبی کی بات ہے۔ اچھی مجھلس یا جماعت کو سنت مئوکدہ قریب الوجوب کہا گیا ہے کہ یہ بہترین سوسائٹی ملنے کا ذریعہ ہے۔ ہماری اجتماعیت اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتی۔ جب تک جماعت کے ساتھ نماز ادا نہ کریں۔ جماعت کی بڑی برکات ہیں۔ انسان کی اصلاح ہوتی ہے۔ عقیدے میں رسوخ پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا اجتماعیت ضرو ری ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا 1 ؎ کہ جو شخص بلا عذر تین جمعہ تک جمعہ کی نماز میں شامل نہ ہو تو اس کا نام منافقوں کے رجسٹر میں لکھ دیا جائے گا (اور دوسری روایت میں ہے کہ) اور اس
1 ؎ کنز العمال ص 516/ج 7 ، ص 518 ، زجاجتہ المصابیح ص 383/ج 1
دل پر ٹھپا مار دیا جائے گا۔ 1 ؎ کہ یہ منفاق ہے الغرض قرآن و حدیث کے درس کی مجلس ہو یا عام وعظ و نصیحت کی مجلس ہو ، یا کسی بزرگ کی مجلس ہو۔ اس میں شریک ہونا چاہئے۔ اگر کسی کو ایسی مجلس نصیب نہیں ہوئی تو یہ اس کے حق میں شر ہے۔
ادیان باطلہ کا پروپیگنڈا
نفثت سے مراد اگر غلط پراپیگنڈا ہے تو یہ بھی اپنے عروج کو پہنچا ہوا ہے۔ ہندومت جیسے تاریک مذہب کے پیروکاروں نے اپنے پراپیگنڈے کا دائرہ کار امریکہ تک وسیع کر رکھا ہے۔ انہوں نے بہت سے لوگوں کو ہندو بنا لیا ہے۔ مرزائیوں نے زبردست پراپیگنڈا کی بدلوت اپنی شاخیں ساری دنیا میں پھیلا رکھی ہیں۔ اس پراپیگنڈے کی وجہ سے لوگوں کے ایمان مضمحل ہوتے ہیں۔ شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ سیاسی طور پر بھی پراپیگنڈے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ باطل پارٹیاں محض پراپیگنڈے کے زور پر غلبہ حاصل کرلیتی ہیں اور صحیح لوگ پراپیگنڈا نہ ہونے کی بنا پر ناکام ہوتے ہیں۔ غلط کار لوگوں کا پراپیگنڈا زیادہ ہوتا ہے اس لئے وہ کامیاب ہوجاتے ہیں۔
حسد اولین کبیرہ گناہ ہے
فرمایا ومن شر حاسد اذا حسد میں پناہ مانگتا ہوں حسد کرنے والے کی برائی سے جب وہ حسد کرتا ہے۔ حسد بہت بری بیماری ہے۔ کائنات میں سب سے پہلا کبیرہ گنا ہ حسد کی وجہ سے سر زد ہوا ، جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو حسد کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ یہودی اور نصرانی محض حسد کی بنا پر بنی آخر الزمان پر ایمان نہیں لائے۔ ” حسداً من عند انفسھم “ وہ چاہتے تھے کہ آخری نبی ہماری قوم بنی اسحاق سے آتا ۔ یہ دوسری قوم سے کیوں آیا۔ اس لئے ہم اسے تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے بنی اسمعیل سے حسد کیا۔ یہودی اور نصاریٰ حسد میں مبتلا ہو کر ایمان سے محروم ہوگئے۔ حسد حرام ہے۔ حسد کا معنی یہ ہے کہ کسی شخص میں کوئی کمال دیکھ کر دوسرا کہے کہ اس کے پاس نہ یہ خوبی کیوں ہے۔ یہ میرے پاس ہونی چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ حاسد اللہ تعالیٰ کی حکمت اور نظام قدرت پر معترض ہوتا ہے۔ اگر کسی میں خوبی دیکھو تو اس کی برائی طلب کرنے کی بجائے اس جیسی خوبی خود بھی طلب کرو۔
1 ؎ مسلم ص 284/ج 1 ، ترمذی ص 98
امید بن الصلت ساری عمر سچے مذہب کی تلاش میں پھرتا رہا۔ کبھی عیسائی بنا ، کبھی یہویدت اختیار کی مگر جب حضور ﷺ کی بعثت ہوئی تو بدبخت حسد میں مبتلا ہوگیا۔ کہنے لگا کہ وحی مجھ پر کیوں نہیں آئی اسی حسد کی حالت میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ حالانکہ وہ بڑا قابل آدمی تھا۔ بڑے پایہ کا شاعر تھا۔ اس کا دیوان پڑھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ وہ کس قدر حق کا طالب تھا۔ مگر حسد کی وجہ سے کفر کی موت مرا …… حضور ﷺ کا ارشاد ہے 1 ؎ کہ حسد ایسی بیماری ہے جو یا کل الحسنات کماتا کل النار الحطب نیکیوں کو اس طرح کھا جاتی ہے۔ جس طرح آگ خشک لکڑیوں کو جلا دیتی ہے۔
خلاصہ کلام
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ شر سے بچنا انسان کا فطری حق ہے۔ اگر انسان اس سے بچ جائے گا تو اس کے لئے کامیابی کے ہزاروں دروازے کھیلیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ تمام کائنات کا ربط خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ اب صرف وہی ہے۔ لہٰذا شرور اور فتنوں سے بچانے والا بھی وہی ہے۔ اس لئے انسان کو دعا کرنی چاہئے کہ رب العزت اسے فتنوں سے محفوظ رکھے کیونکہ فلاح کا مداراسی پر ہے۔
1 ؎ کنز العمال ص 263/ج 3 ، بحوالہ ابن مردویہ و بیہقی در منشور ص 419/ج 6 و ص 420