114. Surah An-Naas

الناسMankind · 6 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 114:1–6

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ Open ayah 114:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر) آپ کہہ دیجیے میں پناہ لیتا ہوں لوگوں کے رب کے ساتھ

مَلِكِ النَّاسِۙ Open ayah 114:2 in the Quran reader

لوگوں کے بادشاہ کے ساتھ

اِلٰهِ النَّاسِۙ Open ayah 114:3 in the Quran reader

لوگوں کے معبود کے ساتھ

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ Open ayah 114:4 in the Quran reader

وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو پیچھے ہٹ جاتا ہے

الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ Open ayah 114:5 in the Quran reader

وہ جو وسوسہ ڈالتا ہے لوگوں کے سینوں میں

مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ Open ayah 114:6 in the Quran reader

جنات میں سے نبی ہوتا ہے اور انسانوں میں سے بھی

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النسا ہے۔ یہ قرآن کریم کی آخری سورة ہے۔ مدنی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھ آیات ہیں اس سے پہلی سورة فلق کی پانچ آیتیں ہیں۔ گیارہ آیات کی یہ دو سورتیں ایک ہی وقت میں اکٹھی نازل ہوئیں۔ اس سورة الناس کے بیس الفاظ اور اناسی حروف ہیں۔ موضوع سورۃ فلق اور سورة الناس معوذتین کہلاتی ہیں۔ ان کے ذریعے شرور سے پناہ مانگنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بیان کر کے چار دنیوی زندگی سے متعلق چیزوں سے پناہ ماگنی ہے اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا ذکر کر کے ایک دینی زندگی سے متعلق چیز یعنی وسوسہ شیطان سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ اس سورة میں چونکہ دینی آفتوں سے پناہ کا ذکر ہے۔ اس لئے مفسرین کرام فرماتے ہیں 1 ؎ کہ اس سورة کا موضوع 1 ؎ تفسیر عزیزی فارسی ص 375/ج 30 الا ستعاذۃ من الافات الدینیۃ ہے ۔ دوسرے الفاظ میں اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ پہلی سورة میں تمام کائنات کا ربط اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہے اور اس سورة میں انسانیت کا ربط اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہے۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ کی جو تین صفات بیان کی گئی ہیں۔ ان میں رب الناس ملک الناس اور الہ الناس کی صفات ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت ، مالکیت اور الوہیت کے ساتھ شیطان کے وسوسہ کے شر سے پناہ حاصل کرنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔ اس میں یہ بھی وضاحت کردی گئی ہے کہ وسوسہ ڈالنے والے شیاطین جنات میں سے بھی ہیں اور انسانوں میں سے بھی ہیں۔ خناس دراصل چھپ جانیوالے کو کہتے ہیں۔ گویا وسوسہ اندازی کرنے والے جن و انس حملہ کرتے ہیں۔ مگر نظر نہیں آتے یہ جملہ آور افراد بھی ہوتے ہیں اور گروہ بھی ہوتے ہیں۔ جب یہ اپنا کام کرتے ہیں تو انسان برائی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ فضیلت احادیث میں ان آخری دو سورتوں کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ جب یہ سورتیں نازل ہوئیں تو حضور ﷺ نے ایک صحابی سے فرمایا 1 ؎ الا اعلمک کیا میں تمہیں وہ دو سورتیں نہ سکھائوں لم ینزل علی مثلھن جن کی مثل نہ انجیل میں ہے۔ نہ زبور میں اور نہ قرآن میں یعنی آفات سے پناہ حاصل کرنے کے سلسلے میں ان کے برابر کوئی اور کلام نہیں ہے۔ چناچہ آپ نے صحابی کو یہی دو سورتیں سکھائیں۔ حضور ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ رات کو سوتے وقت سورة قل ھو اللہ اور یہ دو سورتیں اپنے ہاتھ مبارک پر پھونک کر جسم مبارک پر ملتے تھے۔ آپ تین دفعہ ایسا 2 ؎, کرتے ۔ محدثین کرام فرماتے ہیں کہ وسوسوں کو رفع کرنے کے لئے یہ مجرب نسخہ ہے جو کوئی ایسا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے وساوس سے محفوظ رکھے گا۔ سورۃ فاتحہ اور سورة الناس میں ربط اس سورة میں اللہ تعالیٰ کی جو تین صفات بیان کی گئی ہیں۔ ان کا ربط بالترتیب سورة فاتحہ 1 ؎ مسلم ص 272/ج 1 تفسیر ابن کثیر ص 571/ج 4 ، در منشور ص 416/ج 6 2 ؎ ترمذی ص 490 بخاری ص 935/ج 2 میں مذکورہ صفات کے ساتھ ہے۔ اس سورة میں پہلی صفت ہے رب الناس اس کے مقابل سورة فاتحہ میں آیا ہے۔ ” الحمد للہ رب العلمین “ یہاں پر صفت ربوبیت میں مناسبت ہے اسی طرح اس سورة میں دوسری صفت ہے۔ ملک الناس اور وہاں سورة فاتحہ میں ہے ملک یوم الدین یہاں صفت ، مالکیت میں مناسبت ہے۔ پھر یہاں تیسری صفت الہ النسا ہے اور ادھر ہے ” ایاک نعبدو ایاک نستعین “ گویا دونوں مقامات پر صفت الوہیت مشترکہ ہے ۔ اسی طرح سورة والناس کو سورة فاتحہ کے ساتھ واضح مناسبت ہے۔ صفت ربوبیت کا اطلاق یہاں پر سب سے پہلی صفت ربوبیت کی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جو ہر چیز کی پرورش کر کے اسے حد کمال تک پہنچاتی ہے۔ دنیا میں انسان کی پرورش اور تربیت اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا ایک ادنیٰ سا نمونہ ہے۔ جو انسان کے مشاہدے میں آتا ہے۔ جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو اس کا تعلق ماں باپ کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو اس کی حتی المقدور پرورش کرتے ہیں۔ گویا اس وقت بچے کی ساری کائنات اس کے والدین ہی ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہاں پر صفت ربوبیت کا اطلاق ہوتا ہے۔ قل اعوذ برب الناس صفت مالکیت کا اطلاق بچہ جب بڑا ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس کے ماں باپ اس کی بہت سی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ مگر بعض ضروریات ایسی ہیں جنہیں والدین بھی پورا کرنے سے عاجز ہیں۔ اور ایسی ضرورتوں کے لئے حاکم وقت امیر یا بادشاہ کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ تو اب اس کی سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ ماں باپ کے بعد کسی دوسری ہستی کے تعاون کی بھی ضرورت ہے اور وہ ہستی بادشاہ ہے۔ گویا اس موقع پر اسے اللہ تعالیٰ کی صفت مالکیت کی ضرورت پڑتی ہے۔ تو دوسرے نمبر پر آ گیا ملک الناس صفت الوہیت کا اطلاق جب انسان اس مرحلہ پر پہنچتا ہے۔ تو وہ دیکھتا ہے کہ اس کے لوازمات زندگی کچھ ایسے بھی ہیں۔ جنہیں نہ والدین پورا کرسکتے ہیں اور نہ ہی بادشاہ امیر اس قدر استطاعت رکھتے ہیں کہ لوگوں کی تمام ضروریات پوری کریں ۔ مثلاً جب لوگوں کو دھوپ ، گرمی یا سردی کی ضرورت ہوتی ہے۔ فصل بونے کے وقت جس قسم کے موسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ پکنے کے وقت کتنی گرمی کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر فصل کاٹتے وقت کس قسم کی آب و ہوا …… درکار ہوتی ہے۔ انسان دیکھتا ہے کہ یہ تمام چیزیں نہ ماں باپ کے بس میں ہیں اور نہ بادشاہ کے بس میں۔ لامحالہ اس کی نگاہ بلند ہوتی ہے کہ وہ کون سی ہستی ہے جو تمام کی تمام ضروریات پوری کرنے پر قادر ہے۔ ہر چیز کی تربیت کرتی ہے اور تمام چیزوں کی مالک ہے تو اسے تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ کہ وہ صرف اور صرف الہ ہے ۔ تو یہاں پر الوہیت کی صفت کار فرما ہوئی الہ الناس اللہ تعالیٰ محبوب ترین ہستی ہے جب یہ بات واضح ہوگئی کہ الہ یعنی معبود کے سوا کوئی تمام ضروتریں پوری نہیں کرسکتا نہ کوئی تربیت کرسکتا ہے اور نہ کوئی حقیقی مالک ہے تو پھر حقیقت یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر محبوب بھی کوئی نہیں ہو سکتا۔ وہ تمام محبوبوں کا محبوب ہے اور اس کو اللہ کہتے ہیں بات تربیت سے شروع ہو کر آہستہ آہستہ معبودیت کے درجے تک پہنچ گئی گویا انسان خدا تعالیٰ کی معبودیت اور الوہیت کے مقام کی پہچان تک پہنچ گیا۔ خدا تعالیٰ کی ہستی بےچون و بےچگون ہے۔ اس میں انسان حیران ہوجاتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ محبت بھی ہے۔ جب کوئی شخص اپنے محبوب کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ تو اسے سکون میسر آتا ہے اور جب اس سے جدا ہوتا ہے تو بےچینی ہوتی ہے چونکہ سب محبوبوں سے بڑھ کر خدا کی ذات ہے۔ اس لئے اس کے پاس حاضری میں بندے کو سکون ملتا ہے اور جونہی اس سے جدا ہوتا ہے بےچین ہوجاتا ہے۔ اب بندے کو اپنے الہ سے جدا کرنے والی طاقتیں ہیں ۔ اولاً حاسد ہے۔ جس کے متعلق پہلی سورة فلق میں استعاذ کیا گیا ہے۔ ” ومن شرحاً سد اذا حسد “ بندے اور اس کے محبوب کے درمیان دوسری رکاوٹ شیطان کی مکاری ہے۔ اس میں شک نہیں کہ شیطان انسان کا حقیقی دشمن ہے۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ انسان کو مخاطب کر کے فرمائے گا۔ ” الم اعھد الیکم یبنی ادم ان لاتعبدوا لشیطن یعنی اے بنی آدم کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ” انہ لکم عدومبین “ اس سے بچنے کی کوشش کرنا۔ چناچہ اس دشمن سے بچائو کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی محبوب ترین ہستی کی پناہ تلاش کرے اگر وہ اس میں کامیاب ہوگیا تو دشمن کی کید اور اس کے مکر سے بچ جائے گا اور یہی وہ چیز ہے جس کی تعلیم اس سورة مبارک ہمیں دی گئی ہے کہ شیطان کے وسوسے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کی جائے۔ مخلات دین اور ان کا علاج سورۃ نصر کی تفسیر میں عرض کیا گیا تھا کہ مخلات دین یعنی دین میں خلل ڈالنے والی چار چیزیں ہیں یعنی کافر ، منافق ، شیطان اور نفس ان میں دو چیزیں یعنی کافر اور منافق ظاہری مخلات ہیں اور دوسرے دو یعنی شیطان اور نفس باطنی مخلات ہیں۔ ان چاروں مخلات کا علاج قرآن پاک نے بتا دیا ہے۔ کافر کے شر سے بچنے کے لئے فرمایا ” جاھدوا ان کے ساتھ تلوار سے جہاد کرو۔ مادی وسائل بروئے کار لائو۔ منافق کی چالوں کو ناکام بنانے کے لئے فرمایا واغلظ علیھم “ دلیل وبرہان سے ان کو ذلیل کرو۔ گویا ان کے ساتھ زبان سے جہاد کرو اسی طرح نفس کے متعلق فرمایا اعدی عدوک نفسک التی بین جبیک تمہارا دشمن نفس ہے جو تمہارے پہلو میں بیٹھا ہوا ہے۔ یہی نفس خواہشات اور برائی کی طرف لے جاتا ہے۔ “ ان النفس لا مارۃ با لسوآء فرمایا نفس کو مغلوب کرنے کے لئے بھاری عبادت اور ریاضت کرو جو نفس پر گراں گزرے۔ نفس کی بہمیت اس ریاضت سے ٹوٹتی ہے۔ اس کا علاج یہی ہے۔ دین میں چوتھا محل شیطان ہے جو اول سے آخر تک انسان کے ساتھ مکاری کرتا ہے۔ اس کے شر سے بچنے کے لئے اس سورة مبارکہ میں یہ علاج بتایا گیا ہے کہ محبوب ترین ہستی کی پنا ہ حاصل کی جائے۔ معرفت الٰہی حضرت مالک بن دنیار فرماتے ہیں 1 ؎ افسوس ! انسان سب سے اچھی چیز کا مزہ چکھے بغیر ہی دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ لوگوں نے پوچھا حضرت ! وہ کون سی ایسی چیز ہے۔ جس سے لوگ محروم بستے ہیں۔ فرمایا معرفت الٰہی یعنی اللہ تعالیٰ کی پہچان ہے۔ جسے حاصل کئے بغیر ہی لوگ دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ گویا سب سے اچھی اور پسندیدہ چیز اللہ تعالیٰ کی الوہیت پر یقین اور خدا کی محبت اور پہچان ہے ۔ شیطان اسی چیز میں رخنہ ڈالتا ہے۔ تاکہ انسان یہ بہترین چیز حاصل نہ کرسکے کیونکہ شیطان نے اللہ تعالیٰ کے روبرو کہا تھا کہ میں انسان 1 ؎ حلیتہ الاولیاء ص 358/ج 2 کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے آ کر اسے بہکانے کی کوشش کروں گا۔ لہٰذا اس کے شر سے بچنے کا علاج یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی پناہ میں آجائے اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرے تاکہ شیطان کی کید سے محفوظ رہ سکے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ شیطان انسان کے دل کے خانے پر جونک کی طرح لگا رہتا ہے۔ جونہی وہ انسان کو غافل پاتا ہے۔ فوراً وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ مگر جب انسان اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے۔ تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے یا چھپ جاتا ہے تو اس کا علاج خدا تعالیٰ کا ذکر ہے اور اس کی پناہ میں آتا ہے۔ تو فرمایا آپ کہہ دیجیے کہ میں پناہ مانگتا ہوں برب النسا لوگوں کے پروردگار کی ملک النسا لوگوں کے بادشاہ کی الہ الناس لوگوں کے معبود کی وہ محبود ہے اور محبوب ہے اس کے سوا کسی کی عبادت روا نہیں۔ اسکے بغیر تمام ضروریات پوری کرنے کا کسی کو اختیار نہیں۔ لہٰذا عبادت بھی اسی کی کرنی چاہئے۔ اگر اس کے سوا کسی کی عبادت کریگا تو کفر ، شرک اور بغاوت میں مبتلا ہوجائے گا۔ وسوسہ شیطانی سے پناہ الغرض ! اللہ تعالیٰ کی تین صفات ربوبیت ، مالکیت اور الوہیت کا ذکر کر کے فرمایا من شر الواس ، الخناس میں پناہ لیتا ہوں وسوسہ انداز کے شر سے اور وسوسہ ڈالنے والا کون ہے الذی یوسوس جو وسوسہ ڈالتا ہے فی صدور الناس لوگوں کے سینوں میں اور وہ ہے کس نوع سے من الجنۃ شیطان کی طرح جنات میں سے ہے۔ اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور مردود ہوا اور یا پھر والناس وسوسہ ڈالنے والا انسانوں میں سے بھی ہوتا ہے جس طرح نفثت میں بیان کیا گیا کہ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں اور گروہ بھی ہوتے ہیں جو وسوسہ اندازی کرتے ہیں اور عقیدے جیسے قیمتی جوہر کو خراب کردیتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ انسان کے دل پر خیالات یا خطرات اس طرح وارد ہوتے ہیں جس طرح بارش کے قطرے برستے ہیں۔ مگر انسان یہ جاننے سے قاصر ہے کہ خیالات کے 1 ؎ تفسیر ابن کثیر 575/ج 4 ، درمنشور ص 420/ج 6 ، تفسیر طبری ص 355/ج 30 ، 2 ؎ حجتہ اللہ البالغہ ص 27/ج 1 وارد ہونے کے اسباب کیا ہیں۔ یہ خیالات جم جائیں یعنی پختہ ہوجائیں تو انسان کا عقیدہ جاتا ہے جب عقیدے میں پختگی آتی ہے تو ارادہ بنتا ہے اس کے بعد انسان عزم کرتا ہے اور پھر فعل کرتا ہے۔ اس چیز سے ہٹانے کے لئے شیطان وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ جس کا علاج یہ بتایا گیا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی کوشش کرے اور اس کا ذکر کرے تو وہ اس وسوسہ سے بچ سکتا ہے۔ انسان کا عقیدہ اس کا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ اس کو خراب کرنے کے لئے شیطان ہر وقت اس کے پیچھے لگا رہتا ہے۔ تاکہ کسی نہ کسی طرح اسے ایمان کی دولت سے محروم کر دے مگر اس کے شر سے وہ بچ سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی پناہ میں آجائے گا اور وہ علاج کرے گا جو شریعت مطہرہ نے تجویز کیا ہے۔ قرآن پاک منتہائے مقصود ہے اللھم انس وحشتی فی قبری الھھم ارحمنی بالقرآن العظیم واجعلہ لحدآ اماماً ونوراً وھدیً و رحمۃ اللھم ذ کرنی منہ مانسیت وعلمنی منہ ماجھلت وارزقنی تلاوتہ انآء الیل وانآء النھار واجعلہ لی حجۃ یا رب العلمین قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ہم سب کا ایمان ہے کہ بسم اللہ کی ” ب “ سے لے کر ” ولناس “ کی ” س “ تک جو کچھ اس میں ہے یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔ بعض شاعروں نے کہا 1 ؎ ہے کہ ” ب “ اور ” س “ کے درمیان جو کچھ آیا ہے اس سے یہ اشارہ مقصود ہے کہ دنیا و آخرت میں انسان کی فلاح کے لئے یہی بس ہے۔ ” ب “ اور ” س “ کو جوڑیں تو لفظ بس بنیاد ہے اور فارسی میں اس کا معنی کافی ہے۔ گویا دنیا اور دین کی سعادت کے لئے قرآن پاک کافی ہے۔ قرآن پاک کی درس و تدریس شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے والد شیخ عبدالرحیم بہت بڑے الویاء اللہ میں سے تھے اپنے زمانے کے صوفی اور بزرگ تھے اور نگ زیب عالمگیر نے فتاویٰ عالمگیری “ کی تدوین کے لئے جو پانچ سو علماء کی کمیٹی بنائی تھی ، شیخ عبدالرحیم اس کے ممبر تھے۔ بعد میں خود اس کمیٹی سے علیحدہ ہوگئے۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ خاص اہل علم کو اکٹھا کر کے درس قرآن پاک دیا کرتے تھے۔ یہ درس عام لوگوں کے لئے نہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگوں کے لئے ہوتا تھا۔ 1 ؎ تفسیر عزیزی فاسری 383/پارہ 30 بحوالہ حکیم ثنائی شاہ ولی اللہ آپ کی مجلس میں ایک یا دو رکوع پڑھتے اور شیخ عبدالرحیم اس کی تشریح بیان فرماتے۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسمعیل شہید نے بھی اپنے زمانے میں عوام کے لئے قرآن کریم کا درس جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن پاک کا فیض عوام تک پہنچنا چاہئے۔ وہ بھی قرآن پاک کھول کر بیٹھیں اور فیض یاب ہوں۔ مشکوۃ شریف میں حضور ﷺ کی حدیث موجود ہے ۔ 1 ؎ کہ قرآن پاک کی زبانی تلاوت کرنے والے کو ہر ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں اور اگر کھول کر پڑھے تو دو ہزار نیکیاں ملتی ہیں۔ قرآن پاک کو دیکھ کر پڑھنے سے اس کا فیض اس قدر بڑھ جاتا ہے۔ اسی لئے شاہ اسمعیل شہید نے برصغیر میں قرآن پاک کا درس جاری کیا اور یہ آج تک جاری ہے اللہ تعالیٰ کا کلام عمل کے لئے آسان ہے ، مگر علم کے اعتبار سے اس کا سمجھنا مشکل ہے۔ کیونکہ اس کی تفسیر کی کچھ شرائط ہیں ، ان کو پورا کئے بغیر کلام پر مکمل عبور حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم عوام بھی اس طریقے سے کوشش کریں تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں امید ہے کہ وہ بھی قرآن پاک کے فیض سے محروم نہیں رہیں گے۔ علوم قرآن کی امانت قرآن کریم کی تفسیر اور اس کے مطالب و معانی کا بیان بڑے علم والوں کا کام ہے۔ میری حیثیت بالکل معملوی ہے اور میرا علم نہایت ناقص اور کمزور ہے جو امانت بزرگوں نے ہمارے سپرد کی ہے۔ اس کو نبھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں ہماری بساط ہی کیا ہے۔ یہ تو مولانا احمد علی لاہوری جیسی بزرگ ہستیوں کا کام ہے جو اسلامی مدارس سے فارغ ہونے والوں کو تین ماہ میں قرآن پاک کی تفسیر پڑھاتے تھے۔ پانچ ہزار علماء کرام نے آپ سے فیض حاصل کیا۔ ہم تو علماء کے خاک پاک برابر بھی نہیں ہیں معمولی درجے کے لوگ ہیں۔ تھوڑی بہت شدید ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں۔ آیئے دعا کریں۔ کہ قرآن پاک کے بین میں جو کوئی غ لطی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے 1 ؎ مشکواۃ شریف ص 186 ، ص 189 طبع سنگا پور ، ترمذی ص 413 ، 2 ؎ مشکوۃ شریف ص 186 معاف کرے۔ ہمارے بیان ناقص ہیں۔ ہماری زبانیں نقاص ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم سے کئی غلطیاں سر زد ہوئی ہوں تاہم جو کچھ اللہ تعالیٰ کی مراد ہے اور اس کے رسول اکرم ﷺ نے جس چیز کو بیان کیا ہے۔ اس پر ہمارا ایمان ہے ۔ دعا ہے کہ جو لوگ درس قرآن میں شریک ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں قرآن پاک کی سعادت سے محروم نہ رکھے اور اس کے فیض سے سب کو مستفید فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ قرآن کریم کی نشر و اشاعت اس کے سننے سنانے اور مسائل کی تشریح میں طاقت کے مطابق حصہ لیتے رہیں اور قرآن پاک کی درس و تدریس کا یہ سلسلہ جاری رہے۔ قرآن پاک کا بیان یہاں پانچویں دفعہ ختم ہوا ہے ۔ میں سب حضرات کے لئے دعا کرتا ہوں۔ آپ بھی اس میں شریک ہوں۔ دعائے ختم قرآن الحمد للہ رب العلمین الرحمٰن الرحیم ملک یوم الدین الھم صل علی سیدنا ومولانا محمد و علیٓ الہ وصحبہ وبارک وسلم اے اللہ تعالیٰ ! ہم نے اپنے ناقص فہم کے مطابق جو کچھ قرآن پاک کا ترجمہ کیا ہے۔ جن حضرات نے سنا ہے اور سمجھا ہے ، جو مسائل علم میں آئے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو قبول فرمائے اور مزید فہم اور توفیق عطا فرمائے۔ اے اللہ مرتے دم تک ہمارا تعلق قرآن کریم کے ساتھ قائم رکھنا۔ اے اللہ ! قرآن کریم کو ہمارے دلوں میں محبوب بنا دے۔ قرآن پاک ، اسلام ، پیغمبر اور اپنی ذات کے ساتھ ہماری محبت کو قائم رکھ۔ جو لوگ قرآن پاک سنتے ہیں۔ اس کی نشر و اشاعت میں کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہر قسم کے فیض سے فیضیاب کرے جن لوگوں نے قرآن پاک کی تصحیح تفسیریں لکھی ہیں ، بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کی خدمات کو قبول فرمائے اور ہم کو اس سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آج تک تمام امتوں کے مسلمانوں کی بخشش اور مغفرت فرمائے۔ خصوصاً حضور نبی کریم ﷺ کی امت کے تمام مرد اور عورتوں کی بخشش فرمائے ہماری ، ہمارے والدین اور اساتذہ سب کی مغفرت فرمائے۔ جو لوگ مقروض ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے قرضے ادا کرنے کی سبیل پیدا فرمائے۔ جو بیروزگار ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے روزگار کی سبیل پیدا کرے۔ جو لوگ جاہل ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جہالت سے توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جو لوگ کفر و شرک اور بدعت میں مبتلا ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس مصیبت سے نکالے اور ایمان توحید اور سنت کا اتباع نصیب فرمائے۔ جو لوگ کسی دنیوی یا اخروی پریشانی میں مبتلا ہیں اللہ تعالیٰ ان کی پریشانی کو دور فرمائے اور ان کے لئے بہتر سبیل پیدا کرے۔ جو لوگ بھی طرح طرح کے مصائب میں مبتلا ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی مصیبتوں کو آسان فرمائے۔ فلسطین افغانستان ، قبرص ، ہندوستان ، کشمیر اور چین کے جو مسلمان تکلیفیں اٹھا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تکالیف کو رفع کرے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی کافروں ، مشرکوں ، دہریوں اور عیسائیوں سے حفاظت فرمائے۔ ان کے ایمان ، دین اور اہل و مال کو بےدینوں کے شر سے محفوظ فرمائے۔ جو لوگ اسلام کو مٹانا چاہتے ہیں۔ اور قرآن پاک کے پروگرام کی مخالفت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ذلیل و ناکام بنائے۔ تمام بنی نوع انسان میں جو لوگ حق پرست ہیں اور سلیم فطرت پر ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ایمان کی دولت نصیب فرمائے اور ان کی ہدایت کا ذریعہ پیدا فرمائے۔ معاندین اور مخالفین کو مغلوب کر دے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ہر مقام پر غلبہ اور برتری عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کے ذمہ دار لوگوں کو قرآن و سنت کا قانون جاری کرنے کی توفیق دے جو تمام بنی نوع انسان کے لئے فلاح کا ذریعہ بنے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے نوجوانوں کو برائی سے بچا کر نیکی کی طرف راغب کرے۔ اور مستورات کو ہر قسم کی برائیوں سے بچائے۔ اللہ تعالیٰ انگریز کی منحوس تہذیب کو ختم کر دے ، اور سالام کی صحیح اور سچی تہذیب کو ہمارے ملک میں جاری کر دے ، ہر قسم کی … برائیوں سے ہماری حفاظت فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان مساجد کو آباد رکھے اور اسلام کی صحیح خدمت کرنے والے دینی مدارس کی ترقی کے اسباب پیدا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کا اتباع نصیب فرمائے۔ اور تمام اولیائے امت ، مفسرین ، محمد ثین کرام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی خطائوں کو معاف فرمائے۔ حاجت مندوں اور پریشان حال لوگوں کی پریشانیاں دور کر دے۔ بیماروں کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔ دنیا اور آخرت میں ہر قسم کی بہتری عطا فرمائے تجارت میں ترقی عطا کرے ۔ طالبعلموں کو حصول تعلیم میں کامیابی عطا کرے قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کرنے والے جو طلباء سفر کی تکلیفیں اٹھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو کامیاب بنائے اللہ تعالیٰ ہم سب کو اخلاص کی دولت عطا فرمائے اور دین حق کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔ ہر قسم کی پریشانیوں اور تکلیفوں سے ہماری حفاظت فرمائے۔ ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ (و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد والہ و اصحابہ وازواجہ واتباعہ اجمعین)