111. Surah Al-Masad

المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 111:1–5

تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader

ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے او وہ خود بھی ہلاک ہوا

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader

اسے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا

سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader

وہ عنقریب شعلہ مارنے والی آگ میں داخل ہوگا

وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader

اور سا کی بیوی بھی (جہنم میں داخل ہوگی) جو لکڑیاں اٹھانے والی ہے

فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader

اس کی گردن میں رسی ہے (مونج یا کھجور کے پتوں کی) مضبوط بٹی ہوئی۔

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة اللھب ہے۔ اس کی پہلی اور تیسری آیت میں لہب کا لفظ مذکور ہے۔ اور اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے۔ اسے سورة تبت یدا بھی کہتے ہیں۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی اس کی پانچ آیتیں تئیس الفاظ اور اکہتر حروف ہیں۔ اقرباء سے خطاب مفسرین کرام فرماتے ہیں 1 ؎ کہ حضور ﷺ پر پہلی وحی کے نزول کے بعد تین سال تک وحی کا سلسلہ منقطع رہا۔ اس عرصہ میں آپ خاموشی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے اور اندرونی طور پر آہستہ آہستہ ساتھی تیار کرتے رہے۔ پھر جب سورة شعراء کی آیت وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی یعنی آپ اپنے عزیز و اقارب کو خدا کے عذاب سے ڈرائیں۔ تو آپ نے خطاب فرمایا مسلم شریف کی حدیث میں اور بعض دیگر صحیح احادیث میں 1 ؎ تفسیر عزیزی فارسی 369/پارہ 30 ، در منشور 408/ج 6 ، بخاری 743/ج 2 ، مسلم ص 114/ج 1 آتا ہے 1 ؎ کہ آپ نے لوگوں سے عمومی اور خصوصی خطاب فرمایا۔ عمموی خطاب میں قریش کے وسیع خاندان کو مدعو کیا ۔ اس میں خاندان قریش اس کی شاخیں اور گوتیں سب شامل تھیں۔ قریش کے بعد بنی ہاشم کو اور پھر بنی عبدالمطلب کو خطاب فرمایا۔ خصوصی طور پر آپ نے اپنی پھوپھی اور بیٹی فاطمہ کو ان کے نام لے کر خطاب فرمایا۔ شان نزول ایک موقع پر آصف صفا کی پہاڑی پر چڑھ گئے اور عربوں کے دستور کے مطابق ایسا نعرہ لگایا ، جیسا عرب خوف و ہراس کے وقت لگایا کرتے تھے۔ جب کوئی سخت خطرہ درپیش ہوتا یا دشمن حملہ آورہوتا تھا یا صباحاہ کا نعرہ لگایا جاتا تھا۔ جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ دشمن حملہ آور ہوتا تھا۔ یا صباحاہ کا نعرہ لگایا جاتا تھا جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ دشمن آ گیا ہے۔ اپنی حفاظت کا بندوبست کرلو۔ یا اگر مقابلہ کرسکتے ہو تو مقابلے کے لئے تیار ہو جائو۔ بعض اوقات ایسا ہوتا کہ جو شخص اس قسم کا اعلان کرتا ، وہ کسی اونچی جگہ پر چڑھ جاتا اور اپنا تہہ بند اتار کر اسے جھنڈے کے طور پر بلند کردیتا۔ اسے نذیر العریان یعنی برہنہ نذیر کہا جاتا تھا اور بہت زیادہ خطرے کی نشانی سمجھی جاتی تھی حضور ﷺ نے ان سے فرمایا۔ 2 ؎ اے لوگو ! میں نے تمہیں یہاں اکٹھا کیا ہے۔ اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ پہاڑ کی دوسری طرف دشمن آ رہا ہے تو کیا تم میری بات کا یقین کرو گے۔ بعض لوگوں نے اقرار کیا ماجربنا علیک کذباً ہم نے کبھی آپ پر جھوٹ کا تجربہ نہیں کیا۔ آپ ہمیشہ سچ کہتے ہیں۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا ۔ فانی نذیر لکم بین یدی عذاب شدید پھر سن لو ! کہ خدا کے عذاب کے آنے سے پہلے پہلے میں تمہیں خبردار کر رہا ہں۔ اگر ایمان اور توحید اختیار نہیں کرو گے تو خدا تعالیٰ کے سخت عذاب میں مبتلا ہو گے۔ اس مجمع میں آپ کا حقیقی چچا ابولہب بھی موجود تھا۔ حضور ﷺ کی بات سن کر اس نے اپنے ہاتھ جٹھکے اور کہا الھذا جمعتنا تبالک تیرے لئے ہلاکت ہو کیا تو نے اس بات کے لئے ہمیں بلایا تھا۔ پھر وہ گالیاں دیتا ہوا اور برا بھلا کہتا ہوا وہاں 1 ؎ بخاری ص 702/ج 2 مسلم ص 114/ج 1 ، 2 ؎ ص 743/ج 2 ، مسلم ص 114/ج 1 سے چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ابولہب کی اس ناشائستہ حرکت کے جواب میں یہ سورة مبارکہ نازل فرمائی 1 ؎ موضوع اس سورة میں ابولہب اور اس کی ذہنیت کے لوگوں کی مذمت بیان کی گئی ہے ابولہب کی بیوی بھی اسی ذہنیت کی مالکہ تھی۔ لہٰذا اس کی بھی مذمت بیان کی گئی ہے۔ اس سورة میں یہ بات اشارۃ ً بیان کی گئی ہے کہ جو شخص حق کی مخالفت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے ناکام بنائے گا۔ نیز یہ کہ جو اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں ، انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے کامل متبعین کو ایذا پہنچائے گا۔ ان کی تحقیر و تذلیل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے ضرور سزا دے گا۔ حضورت (علیہ السلام) کے چچا ابولہب حضور ﷺ کا حقیقی چچا تھا۔ اس کا اصل نام عبدالعزی تھا۔ عبدالمطلب کا بیٹا تھا۔ آپ کے والد ماجد حضرت عبداللہ بھی عبدالمطلب کے بیٹے تھے۔ مگر ابولہب ، حضرت عبداللہ کا علاقئی بھائی تھا۔ یہ دونوں باپ میں شریک تھے۔ البتہ مائیں الگ الگ تھیں۔ حضور ﷺ کے ایک اور چچا حمزہ تھے۔ انہوں نے کافروں کے ہاتھوں حضور ﷺ کی ایذا رسانیاں دیکھ کر ایمان قبول کیا۔ آپ کے چچا عباس خاموش رہتے تھے مگر اندرونی طور پر حضور لعیہ السلام کی حمایت کرتے تھے۔ باقی رہے حضور لعی کے والد ابو طالب ، انہوں نے ایمان تو قبول نہیں کیا۔ مگر حضور ﷺ کی پرورش کی اور ہر موقع پر آپ کا ساتھ دیا۔ وہ نبوت کے اعلان کے دس سال بعد تک زندہ رہے اور آخر دم تک حضور ﷺ کے حامی رہے ۔ قریش نے حضور لعیہ السلام اور آپ کے خاندان کا جو مقاطعہ کیا تھا۔ ابو طالب اس میں بھی آپ کے ساتھ رہے ۔ اسی دوران ان کی وفات ہوئی۔ ابو طالب کی وفات کے بعد مشرکین کی ایذاء رسانیاں بہت زیادہ بڑھ گئیں۔ اسی دوران آپ نے طائف کا تبلیغی سفر اختیار کیا۔ ابولہب اور اس کے بیٹے عبدالعزیٰ کو ابولہب اس لئے کہتے تھے۔ کہ یہ بڑا خوبصورت اور وجیہ آدمی تھا سرخ وسفید رنگ والا بڑا قدر آور شخص تھا۔ وجاہت کی وجہ سے اس کا چہرہ چمکتا تھا۔ اس لئے اسے ابولہب کہتے تھے۔ ابوجہل کا اصل نام عمرو اور رکنیت ابوالحکم تھی۔ کیونکہ وہ 1 ؎ بخاری ص 743/ج 2 ، مسلم ص 4/ج 1 پہنچ تھا اور تنازعات کے فیصلے کیا کرتا تھا۔ اسلام میں اس کا نام ابوجہل ہے۔ ابولہب حضور ﷺ کے دوسرے چچائوں کی نسبت مختلف تھا ۔ یہ شروع سے لے کر آخر دم تک حضور ﷺ کا مخالف رہا۔ یہ شخص ابوجہل اور امیہ جیسے دشمنان دین میں سے تھا۔ ابتداء میں ابوسفیان ابوجہل کا بیٹا عکرمہ اور عمرو بن العاص بھی مخلافین میں سے تھے۔ مگر بعد میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت بخشی۔ ابولہب اور اس کے بیٹے عقبہ اور عتیبہ سخت دشمن تھے۔ حضور ﷺ کی دو بیٹایں رقیہ اور ام کلثوم ابولہب کے دونوں یٹوں کے نکاح میں تھیں۔ ابولہب نے انہیں ڈرا دھمکا کر حضور ﷺ کی بیٹیوں کو اپنے بیٹوں سے طلائی دلوائی۔ بڑے بیٹے عتبہ نے نہایت ذلیل حرکت کی۔ طلاق بھی دی اور آپ کے منہ پر تھواک بھی حضور ﷺ بہت دل برداشتہ ہوئے اور اس کے حق میں بدعا کی۔ اللھم سلط علیہ کلبا من کلابک اے اللہ اپنے کتوں میں سے کسی کتے کو اس پر مسلط کر دے اور پھر اس کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ یہ شام کے سفر میں بصریٰ یا کہیں آس پاس تھا۔ رات کو قافلہ ٹھہرا تو ایک بھیڑیا اس کو پکڑ کرلے گیا اور ہلاک کردیا۔ 1 ؎ تو گویا یہ کتا اللہ تعالیٰ نے اس پر مسلط کیا۔ جو اللہ تعالیٰ کے مقبولین کی توہین کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے ضرور انتقام لیتا ہے۔ 2 ؎ ابولہب کی بیوی ابولہب اور اس کی بیوی ام جمیلہ دونوں بدترین مخالف تھے۔ ام جمیلہ ابوسفیان کی بہن تھی اور بڑی گستاخ اور زبان دراز تھی۔ تفسیر کبیر میں 3 ؎ ہے کہ جب یہ سورة نازل ہوئی۔ حضور ﷺ کعبہ کے پاس تھے۔ ابوبکر بھی واں موجود تھے۔ ام جمیلہ کو پتہ چلا کہ قرآن نے اس کی مذمت کی ہے۔ تو ہاوتھ میں پتھر لئے گالیاں دیتی ہوئی وہاں پہنچی۔ حضرت صدیق نے عرض کیا۔ حضور ! وہ بکواس کرتے ہوئے پتھر مارنے کے لئے آ رہی ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ کے حکم سے یہ مجھے نہیں دیکھ سکتی۔ چناچہ وہ آئی اور ابوبکر سے پوچھا کہ تمہارے صاحب نے میری مذمت کی ہے۔ وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے صاحب نے تمہاری مذمت 1 ؎ روح المعانی ص 262/ج 30 ، تفسیر کبیر ص 167/ج 32 ، تفسیر عزیزی فارسی ص 370/پارہ 30 ، دلائل النبوۃ لابی نعیم ص 162/ج 2 2 ؎ مستدرک حاکم ص 328/ج 4 ، 3 ؎ تفسیر کبیر 172/ج 32 ، تفسیر ابن کثیر ص 565/ج 4 نہیں کی بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا ہے۔ خدا تعالیٰ کی قدرت وہ حضور ﷺ کو نہ دیکھ سکی ، اور غصے کی حالت میں آپ کی مذمت بیان کرتی ہوئی چلی گئی۔ یہ بدبخت مشرکین حضور ﷺ کو محمد کی بجائے مذمم کہتے تھے۔ یعنی قابل تعریف کی بجائے قابل مذمت کے لقب سے پکارتے تھے۔ چناچہ ام جمیلہ یہ شعر پڑھتی ہوئی لوٹ گئی مذمما قلینا ودینہ ابینا محکمہ عصینا یعنی ہم نے مذمم کے ساتھ نفرت کر رکھی ہے۔ اس کے دین کو قبول نہیں کیا اور اس کی بات کون ہیں مانا۔ اغلرض ! یہ حضور ﷺ کا معجزہ تھا کہ آپ کی وہاں موجودگی کے باوجود وہ آپ کو نہ دیکھ سکی۔ حضرت حاجی امداد اللہ کی کرامت یہ تو پیغمبر (علیہ السلام) کا معجزہ تھا۔ ایسا ہی جب کوئی عجیب واقعہ اولیاء اللہ کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے تو اسے کر اتم کہتے ہیں۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی انگریزوں کے مقابلے میں ناکام ہوئے ، تو انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو گرفتار کرنا چاہا۔ آپ روپوش ہوگئے۔ اور سہارنپور سے نکل کر انبالہ کے قریب ایک بستی میں آگئے۔ وہاں آپ کا ایک مرید رائو رحیم بخش تھا۔ اس کے پاس مقیم ہوئے۔ انگریزوں نے پیچھا کیا اور اس بستی میں پہنچ گئے۔ اس وقت حاجی صاحب باغ میں واقع اصطبل کی ایک کوٹھڑی میں تھے۔ رحیم بخش بڑے پریشان ہوئے کہ یہ خبیث کہیں حضرت کو گرفتار نہ کرلیں۔ فوراً آپ کو اطلاع دی کہ وہ لوگ آ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا تم فکر نہ کرو ، اور یہاں سے چلے جائو۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے۔ وہ بہتر سبیل پیدا کرے گا۔ چناچہ وہ تلاش کرتے کرتے آپ کے کمرے میں پہنچ گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ کمرے میں لوٹا پڑا ہوا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی ابھی کسی نے وضو کیا ہے۔ مگر آدمی کوئی نہیں۔ انہیں شبہ ضرور ہوا مگر رائو رحیم بخش نے اسے کسی طرح ٹال دیا کہ ایسے ہی وضو کیا تھا اس طرح انگریز کے وہ سپاہی ناکام لوٹ گئے۔ 1 ؎ اللہ تعالیٰ نے اس حکمت کے ساتھ اپنے بندے کو حفاظت میں رکھا۔ تاہم یہ کرامت بھی اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوتا ہے۔ بندے کو اس پر کچھ اختیار نہیں ہوتا۔ ابولہب کی ہلاکت ابولہب کا حال اس کی بیوی سے بھی زیادہ درد ناک ہوا۔ شیخ ابوبکر جصاص اور 1 ؎ کرامات امداد یہ ص 67 مطبوعہ شاہ کوٹ (شیخوپورہ) روح المعانی اور بعض دیگر تفاسیر 1 ؎ میں موجود ہے۔ طارق فرماتے ہیں کہ میں نے ذوالمجاز کی منڈی میں دیکھا کہ ایک شخص لوگوں کو تلقین کرتا ہوا جا رہا ہے قولو الا الہ الا اللہ تفلحوا یعنی اے لوگو الا الہ الا اللہ کہہ دو فلاح پا جائو گے۔ اس کے پیچھے ایک اور اونچا لمبا قد آور آدمی سفید چوغہ پہنے ہاتھ میں پتھر لئے جا رہا ہے اور کہہ رہا ہے خ لوگو ! اس کی بات نہ ماننا ، یہ جھوٹا اور کذاب ہے۔ العیاذ باللہ تفسیر روح المعانی میں موجود ہے کہ ابولہب کے پتھر مارنے سے حضور ﷺ کا سارا جسم لہو لہان ہو رہا تھا۔ حتی کہ پائوں تک زخمی ہوچکے تھے۔ پہلی دعوت کے موقع پر اس شخص نے حضور ﷺ سے کہاک تھا۔ تباً لک یعنی تیرے لئے ہلاکت ہو اور جب آپ نے عام تبلیغ شروع کی۔ تو اس نے پتھر مارنے سے بھی گریز نہ کیا۔ اب اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ تبت یدا ابی لھب و تب ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے ۔ کہتے ہیں کہ بد دعا نہیں بلکہ پیش گوئی ہے کہ جن ہاتھوں سے یہ پتھر مارتا ہے اور کمائی کرتا ہے تم عنقریب دیکھ لو گے کہ وہ خود بھی ہلاک ہوگا اور اس کے یہ دونوں ظالم ہاتھ بھی تباہ ہوں گے۔ ما اغنی عنہ مالہ وماکسب اسے کچھ کام نہ آئے گا۔ اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا۔ کمائی میں اولاد بھی شامل ہے ت۔ گویا نہ اس کا مال اسے کچھ فائدہ دے سکے گا اور نہ ہی اس کی اولاد مددگار ہوگی حدیث شریف میں آتا ہے 2 ؎ ان من اطیب ما اکل الرجل من کسبہ وولدہ من کسبہ) (و کما قال) اچھی خوراک وہ ہ جسے انسان اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتا ہے۔ یعنی جو کماء یمحنت و مشقت کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔ وہ پاکیزہ اور طیب ہوتی ہے۔ اولاد بھی چونکہ انسان کی کمائی میں شامل ہے۔ اس لئے حضور ﷺ نے فرمایا 3 ؎ انت ومالک لابیک تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ باپ کو ضرورت ہو تو بیٹے کی مضری کے خلاف بھی اس کا مال لے سکتا ہے۔ بیٹے کو علم نہ ہو ، تب بھی لے سکتا ہے ۔ مگر بغیر 1 ؎ روح المعانی ص 260/ج 30 ، تفسیر کبیر 166/ج 32 ، کنز العمال ص 93/ج 14 2۔ ابودائود ص 141/ج 2 ، 3 ؎ ابودائود ص 142/ج 2 ، تفسیر کبیر ص 169/ج 32 ضرورت کے نہیں ۔ مگر ابولہب کو کچھ بھی کام نہ آیا ۔ چناچہ اس کا حشر یہ ہوگا کہ سیصلی ناراً ذات لھب و عنقریب شعلہ مارنیوالی آگ میں داخل ہوگا۔ یہ شخص جہنم رسید ہونے والا ہے۔ بھڑکنے والی آگ کا ایندھن بنے گا۔ پھر یہ ہے کہ اکیلا جہنم میں نہیں جائے گا بلکہ وامراتہ اپنی بیوی کو بھی ساتھ لے جائے گا۔ وہ بیوی جو حمالۃ الحطب ایندھن کی لکڑیاں اٹھانے والی ہے چونکہ میاں بیوی دونوں حق کے مخالف تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو جہنمی ہونے کا سرٹیفکیٹ دے دیا۔ ابولہب کا انجام یہ ہوا کہ خود تو جنگ بدر میں شریک نہ ہوا۔ بلکہ مکہ کے دستور کے مطابق اپنی جگہ عاص بن ہشام کو بھیج دیا اور خود مکہ میں رہ کر لڑائی کے نتیجے کا انتظار کرتا رہا۔ بدر میں کفار کو شکست ہوئی۔ بڑے بڑے سردار مارے گئے ۔ بہت قیدی ہو کر میدنے پہنچے اس وقت حضرت عباس کے غلام ابو رافع مکہ میں تھے۔ وہ اپنے گھر کے قریب بیٹھے تھے۔ حضرت عباس کی بیوی ام فضل بھی وہاں موجود تھی۔ ابو رافع کا بیان ہے 1 ؎ کہ ابولہب کعبے کے پاس آیا تو کسی نے کہا کہ وہ دیکھو ابوسفیان آ گیا ہے۔ جب وہ قریب آیا ، نو ابولہب نے پوچھا کہ اے بھتیجے جنگ کا کیا ل حا ہے۔ ابوسفیان نے کہا کہ حلا کیا بتائوں ، بس یوں سمجھو کہ ہمارے آدمیوں نے اپنے کندھے خود مسلمانوں کے ہاتھوں میں پکڑا دیئے کہ لو بھئی جس طرح چاہو ہمیں مارو یا قیدی بنا لو۔ لوگ کہتے ہیں بخدا کچھ ایسے لوگ بھی لڑائی میں آئے تھے۔ جو گھوڑوں پر سوار تھے اور سفید لباس پہن رکھے تھے۔ یہ سن کر ابو رافع نے خیمہ کا پردہ اٹھایا اور باہر کی طرف دیکھ کر کہنے لگا واللہ وہ تو فرشتے ہیں۔ ابولہب سے برداشت نہ ہوسکا اس نے کہا کہ تم بکواس کرتے ہو اور ابو رافع کو پیٹنا شروع کردیا۔ اس پر صھبی صبر نہ آیا تو سینے پر چڑھ گیا اور بےتحاشا مارا اتنے میں ام فضل بھی آگئی۔ اس نے ایک ڈنڈا اٹھا کر ابولہب کے سر پر دے مارا اور کہنے لگی تم خواہ مخواہ اس شخص کو مار رہے ہو۔ جب کہ اس کا مالک موجود نہیں۔ تم اس لئے اسے مار رہے ہو کہ یہ غلام ہے۔ جائو ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم بھی مسلمان ہیں۔ ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہو۔ 1 ؎ تفسیر کبیر اسی طرح ابولہب ذلیل و خوار ہو کر رہ گیا۔ ابھی بدر کے لوگ واپس بھی نہیں آئے تھے کہ اس واقعہ کے ساتویں دن ابولہب مر گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی ذلت کی موت دی کہ اسے طاعون کی بیماری لاحق ہوئی۔ جسے مکہ والے عدسہ کہتے تھے۔ جسم پر ایک دانہ سانکلتا تھا چونکہ یہ متعدی بیماری ہے۔ ابولہب کے بیٹوں نے اسے الگ کردیا۔ کوئی اس کے قریب نہیں جاتا تھا ۔ اسی حادثے میں م رگیا۔ تین دن تک کوئی بھی اس کی لاش کے قریب نہ گیا ۔ حبشی غلاموں کو کرائے پر حاصل کیا گیا جو اس کی لاش کو اٹھا کرلے گئے اور لکڑی کے ساتھ گڑھے میں لڑھکا کر اوپر پتھر ڈلا دیئے۔ ام جمیلہ حضور ﷺ سے عداوت ابولہب کی بیوی ام جمیلہ کو حمالۃ الحطب کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔ جس کا معنی لکڑیاں اٹھانے والی ہے۔ تاہم اس کو مختلف معانی پر محمول کیا گیا ہے۔ یہ دونوں میاں بیوی بڑے کنجوس تھے۔ مکہ کے امیر ترین آدمیوں میں سے ہونے کے باوجود ابولہب سخت خسین آدمی تھا۔ غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرنے کی بجائے ان کا حق بھی کہا جاتا تھا۔ خانہ کعبہ کا متولی ہونے کی وجہ سے وہاں پر پیش کی جانے والی نذر و نیاز کی چیزیں اڑا لیتا تھا۔ کہتے ہیں 2 ؎, کہ کسی نے سونے کا ہرن نیاز چڑھایا تھا۔ وہ ابولہب نے ہی چوری کیا تھا۔ ام جمیلہ ایک سردار کی بیٹی ہونے کے باوجود سخت کنجوس تھی جنگل سے خود لکڑیاں کاٹ کر لاتی۔ حمالہ الحطب کا حقیقی معنی یہی ہے۔ بعض آدمی طبیعت کے خسیس ہوتے ہیں۔ پیسہ خرچ نہیں کرتے اور جنگل سے لڑکیاں کاٹ کر لاتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں 3 ؎ کہ ام جمیلہ کو حمالۃ الحطب اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ یہ کانٹے وغیرہ کاٹ کر لاتی تھی اور جلانے کے بجائے انہیں حضور علیہ الاسلام کے راستے میں بچھایا کرتی تھی۔ بعض کہتے 4 ؎ ہیں کہ یہاں حمالۃ الحطب کا حقیقی معنی مراد نہیں ہے۔ بلکہ فارسی میں اسے 1 ؎ روح المعانی ص 362/ج 30 ، نظام القرآن تفسیر سورة لہب ص 12 ، 2 ؎ نظام القرآن تفسری سورة لہب از فراہی ص 6 3 ؎ معالم التنزیل ص 263/ج 4 ، تفسری خازن ص 318/ج 7 ، مظہری ص 368/ج 10 ، روح المعانی ص 263/ج 30 4 ؎ تفسیر عزیزی فارسی ص 371/پارہ 30 ، معالم التنزیل ص 263/ج 4 ، ابن کثیر ص 564/ج 4 وغیرہ ہیزم کش کہا جاتا ہے جس کا مطلب چغل خور ہے یعنی جلتی پر تیل ڈالنے والے کو کہتے ہیں جو بہت زیادہ چغلی کھاتا ہوا ادھر ادھر لگائی بجھائی کرتا رہے اور لڑائی فساد کرا دے اس لحاظ سے بھی ام جمیلہ کو حمالۃ الحطب کہا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتی رہتی تھی اسے ہزیم کش یا لکڑیاں کھینچنے والی چغلی کھانے والی بھی کہا گیا ہے۔ فی جیدھا حبل من مسدہ اس کی گردن میں رسی ہے (مونج یا کھجور کے پتوں کی ) مضبوط پٹی ہوئی۔ خدا کی قدرت جس طرح خاوند ذلت کی موت مراء بیوی کا حشر بھی ویسا ہی ہوا۔ ام جمیل لکڑی کے کانٹوں کا گٹھا سر پر اٹھا کر لا رہی تھی۔ کہ گٹھا گر گیا اور اس کی رسی اس کے گلے میں اٹک گئی جس کی وجہ سے وہ گلا گھٹ کر مر گئی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حق کی مخالفت کرنے والے لوگ ضرور ناکام ہوں گے۔ ابولہب اور اس کی بیوی کی مثال سامنے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل و خوار کیا اور بدترین موت مارا۔ اور آخر میں جہنم واصل ہوئے۔ اسلام کا فکری غلبہ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ 1 ؎ کہ سیاسی فتح اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی۔ جب تک اس کے ساتھ سوشل فتح موجود نہو۔ سیاسی فتح کا تذکرہ سابقہ سورة نصر میں آ چکا ہے اسی طرح سورة توبہ اور سورة فتح میں سیاسی غلبہ کا بیان اس آیت میں آتا ہے۔ ” ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ، ولوکرہ المشرکون ۔ خدا کی وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دیکر بھیجا۔ تاکہ اس کو سب دینوں کے مقابلے میں غالب کر دے۔ دلیل اور برہان کے ساتھ دین کو غلبہ تو ہر وقت ہے تاہم مذکورہ سیاسی غلبہ بھی ہوگیا۔ تاکہ کافر مغلوب ہوجائیں۔ مگر سیاسی فتح (PoliticAl Victory) کامل فتح نہیں ہوتی۔ جب تک اس کے ساتھ فکری غلبہ نہ ہو۔ اگر سیاسی فتح کی ساتھ فکری محاذ پر بھی کامیابی ہوجائے ، لوگ دین کے مشن کو قبول کرلیں ، تو یہ فتح دیرپا ثابت ہوگی۔ ورنہ جونہی سیاسی غلبہ کمزور پڑے گا ، لوگ پھر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ہندوستان میں ایسا ہی ہوا۔ مسلمانوں نے یہاں سیاسی فتح کے ذریعے آٹھ سو سال تک حکومت کی۔ مگر وہ سوشل فتح حاصل نہ کرسکے۔ بادشاہی سیاسی طور پر لوگوں کو دباتے رہے۔ 1 ؎ المقام المحمود تفسیر حضرت مولانا سندھی ص 197/پارہ 30 مگر ان میں فکری انقلاب پیدا نہ کرسکے ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب سیاسی غلبہ کمزور ہوا تو ہندوئوں نے پھر سر اٹھایا اور ان کی اکثریت غالب آئی ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آٹھ سو سالہ غلبہ کے دوران مسلمان ہندوئوں کو جذب کرلیتے مگر اس کی بجائے مسلمانوں نے ہندوئوں کی رسمیں اختیار کرلیں۔ وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں کا فکری محاذ کمزور رہا۔ اس کے برخلاف مصر ، شام اور عراق وغیرہ کی فکری بدل گئی۔ انہوں نے تمام غیر اقوام کو اپنے اندر جذب کرلیا اور اس طرح سیاسی غلبہ کے ساتھ ساتھ سوشل فتح بھی حاصل کرلی۔ اس سورة مبارکہ میں اسی بات کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ کہ خسیس ، بخیل ، کنجوس ، بےایمان اور دھوکے باز لوگوں کی موجودگی میں فکر پاک نہیں ہو سکتی۔ جب تک فکر پاک نہیں ہوگی مکمل فتح نہیں ہو سکے گی۔ اجتماعی فتح حاصل کرنے کے لئے ابولہب جیسے لوگوں کی بیخ کنی ضروری ہے۔ یہ اس وقت ہوگا جب باطل کی بجائے حق آجائے۔ ظلم کی بجائے انصاف کا بول بالا ہو ، غرباء کے استحاصل کی بجائے ان کی پرورش کا انتظام ہو۔ دھوکہ کی بجائے خدمت کا جذبہ بیدار ہو اور خساست کی بجائے انفاق فی سبیل اللہ کا مادہ پیدا ہو۔ اجتماعی فتح کے لئے ان تمام چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ سومنات کا مندر اس میں کوئی شک نہیں کہ سلطان محمود غزنوی نے سومنات کا مندر توڑ دیا اور بت شکن بھی کہلایا۔ آدھا مندر مسجد میں تبدیل کیا اور باقی آدھا اسی طرح قائم رہا۔ مندر کا دروازہ کابل لے گیا۔ مگر نتیجہ کیا نکلا۔ سیاسی فتح حاصل کرلی مگر ان کی فکر یہ غلبہ حاصل نہ کرسکا۔ ہزار سال کے بعد ہندوئوں نے وہی دروازہ سوا لاکھ روپے میں خرید کر پھر وہیں لگا دیا اور مسجد کو پھر مندر میں تبدیل کرلیا۔ کسی کے عبادتخانے کو توڑنا اصولی طور پر غلط تھا۔ کرنے کا کام یہ ہے کہ ان کی فکر کو اس طور سے بدلا جائے کہ وہ خود بخود اپنے عبادت خانے ختم کردیں۔ طائف والوں نے بت خانے خود توڑے تھے کیونکہ ا ن کی فکر بدل گئی تھی۔ وہ مسجدوں میں تبدیل ہوئے۔ مگر ہمیشہ کے لئے کیونکہ ان کی بنیاد مضبوط بن چکی تھی۔ یہ فکری اور دائمی فتح تھی۔ سومنات کے دروازے کو سالم حالت میں رکھنا ہی غلط تھا اسے توڑ کیوں نہ دیا نہ وہ موجود ہوتا اور نہ اسی کی واپسی کا امکان ہوتا۔ عمر فاروق نے کسریٰ کے کروڑوں روپے مالیت کے قالین کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے غازیوں میں تقسیم کردیا تاکہ انہیں مصلے کے طور پر استعمال کریں۔ قالین کو اپنی حالت پر قائم رہنے نہیں دیا۔ الغرض جب تک سوسائٹی میں ابولہب جیسی ذہنیت کے لوگ موجود ہیں کامل فتح حاصل نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا سیاسی فتح کے ساتھ فکری فتح کی بھی ضرورت ہے۔