112. Surah Al-Ikhlaas
الإخلاصSincerity · 4 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة الاخلاص بسم اللہ الرحمٰن الرحیم جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت پوری دنیا میں خاص طور پر عرب جنہیں اولاد ابراہیم ہونے پر بڑا ناز تھا عقیدہ کی گندگیوں اور بتوں کی پرستش میں مبتلا تھے۔ لکڑی ، پتھر، مٹی، سونا، چاندی اور مختلف دھاتوں سے بنائے گئے بتوں کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا بنائے بیٹھے تھے۔ نصاری یعنی عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کو اور یہودیوں نے حضرت عزیز کو اللہ کا یٹا قرار دے رکھا تھا۔ حجاز کے اکثر قبیلے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور جنات کو اللہ کا رشتہ دار قرار دے کر ان کو اللہ کا شریک سمجھتے۔ مجوسی یعنی آتش پرستوں کے ہاں دو معبودوں کا تصور تھا ایک خیر کا معبود دوسرا شرکا ، خیر کے معبود کو یزداں اور شر کے معبود کو اھرمن کہتے تھے۔ آریا مذہب کا یہ عقیدہ تھا کہ دنیا کی ہر چیز مادہ اور روح سے بنی ہے۔ ان کا خیال اور عقیدہ یہ تھا کہ ماہ اور روح کسی خلاق اور بنانے والے محتاج نہیں ہے۔ لہٰذا وہ کسی خالق کے قائل ہی نہ تھے۔ اتنے کروڑوں معبودوں کے پرستاروں کے سامنے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اسے معبود کی طرف دعوت دی جس کو کسی نے دیکھا نہیں۔ نہ وہ کسی کے خیال و گمان میں آسکتا ہے۔ توحید کی اس دعوت کے نتیجے میں ان سوالات کا اٹھنا عین فطرت ہے کہ آخر وہ رب کیا ہے ؟ وہ کس طرح اس نظام کائنات کو تنہا چلا رہا ہے ؟ کون اس کا باپ اور کون اولاد اور بیوی ہے ؟ وہ اس تصور سے سخت پریشان تھے کہ اتنے سارے معبود جن سے ان کی اور ان کے باپ دادا کی امیدیں وابستہ ہیں وہ ایک بن دیکھے معبود کو کیسے اپنا خالق ومالک مان لیں ؟ یہ وہ سوالات تھے جو خاص طور پر یہودو نصاری اہل کتاب کی طرف سے اٹھائے جا رہے تھے چناچہ اس سلسلہ میں مختلف روایات بھی نقل کی گئی ہیں۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ کچھ یہودی آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے ابو القاسم ! اللہ نے فرشتوں کو نور سے، آدم کو مٹی کے سڑے ہوئے گارے سے، ابلیس کو آگ کے شعلے سے، آسمان کو دھوئیں سے پیدا کیا۔ اب آپ اپنے رب کے متعلق بتائیے کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا ہے۔ اسی طرح کی ایک اور روایت حضرت عبداللہ ابن عباس سے بھی نقل کی گئی ہے کہ کعب ابن اشرف ، حی ابن اخطب وغیرہ یہودیوں کے سردار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور پوچھنے لگے اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں بتائیے کہ آپ کا رب کیا ہے ؟ کس سے وہ پیدا ہوا ؟ وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالات کے جواب میں سورة اخلاص کو نازل کیا گیا۔ (ابن ابی حاتم۔ ابن عدی۔ بیہقی) ان سب کے پوچھنے کا مقصد یہ تھا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آخر وہ رب کیا ہے ؟ کیسا ہے ؟ جس کی عبادت و بندگی کی طرف آپ ہمیں دعوت دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ وہ ہے جو تنہا اس کائنات کا خالق ومالک ہے۔ وہ بےنیاز ذات ہے وہ اس کے پیدا کرنے اور اس کے انتظام چلانے میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہی ہر خیر و شر کا پیدا کرنے والا ہے۔ نہ اس کے کوئی بیٹا ہے نہ وہ کسی کا بیٹا ہے اور کوئی اس کے برابر نہیں ہے۔ سورة اخلاص کے سلسلہ میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ قرآن کریم کی ایک سو چودہ سورتوں میں سے صرف دوسورتیں ایسی ہیں جن کے نام ان سورتوں میں آئے ہوئے لفظ پر نہیں رکھے گئے بلکہ معنی کی وسعت اور عظمت کے لئے اللہ کے حکم سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نام تجویز فرمائے ہیں وہ ہیں سورة فاتحہ اور سورة اخلاص ۔ ان دونوں سورتوں میں فاتحہ اور اخلاص کا لفظ موجود نہیں ہے جب کہ ایک سو بارہ سورتوں کے نام ان الفاظ پر رکھے گئے ہیں جو ان سورتوں میں استعمال کئے گئے ہیں جیسے بقرہ، ال عمران وغیرہ۔
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کہئے کہ اللہ ایک ہے
اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader
وہ بےنیاز ہے (کسی کا محتاج نہیں ہے )
لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader
نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader
اور نہ کوئی اس کے برابر ہے