112. Surah Al-Ikhlaas
الإخلاصSincerity · 4 ayahsتدبرِ قرآن
تعارف
تعارف
بسم اللہ الرحمن الرحیم سورة کا عمود، ترتیب میں اس کا مقام، زمانہ نزول اور سابق و لاحق سے تعلق سورة ان سورتوں میں سے ہے جن کے نام ہی سے ان کے مضمون (عمود) کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کا نام ’ اخلاص ‘ ہے اور یہ اخلاص ہی اس کا عمود ہے۔ اخلاص کا مطلب اللہ واحد پر اس طرح ایمان لانا ہے کہ اس کی ذات یا صفات یا ان صفات کے لازمی تقاضوں میں کسی پہلو سے کسی دوسرے کی شرکت کا کوئی شائبہ نہ پایا جائے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کو ماننے کا تعلق ہے۔ دنیا نے اس کو ہمیشہ مانا ہے۔ یہ چیز انسانی فطرت کا بدیہی تقاضا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شیطان توحید کا ابدی دشمن ہے اس وجہ سے وہ انسانی فریب دے دے کر اس ماننے میں ایسی ملاوٹیں کرتا رہا ہے کہ ماننا اور نہ ماننا دونوں یکساں ہو کے رہ گیا ہے۔ توحید کی اصل حقیقت کو اجاگر کرتے رہنے ہی کے لئے اللہ تعالیٰ نے برابر اپنے رسول بھیجے لیکن انسان بار بار اس حقیقت کو پاپا کر کھوتا رہا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید ہی کی خاطر اپنی قوم سے ہجرت کی اور اپنی اولاد کو ایک وادیٔ غیر ذی زرع میں بسایا کہ وہ مشرکانہ ماحول سے بالکل محفوظ رہ کر صرف اللہ واحد کی عبادت کرے لیکن پچھلی سورتوں میں آپ نے دیکھا کہ آپ ہی کی ذریت نے آپ ہی کے بنائے ہوئے مرکز توحید (بیت اللہ) کو ایک بت خانے کی شکل میں تبدیل کردیا اور وہ اپنے خود تراشیدہ بتوں کی عصبیت میں اتنی سخت ہوگئی کہ خدا کے آخری رسول سے وہ اس بات پر لڑتی رہی کہ جب تک ان کے بتوں کا مقام تسلیم نہ کرلیا جائے گا وہ خدا کا حق بھی تسلیم نہیں کرے گی یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے جواب میں وہ فیصلہ کن اعلان برأت کرنا پڑا جو سورة کافرون میں آپ نے پڑھا۔ یہ اعلان اگرچہ کافی تھا لیکن اس کا تعلق اصلاً قریش اور مشرکین مکہ سے تھا۔ عرب میں اہل کتاب کے بھی مختلف قبائل تھے۔ یہ لوگ اگرچہ حامل کتاب ہونے کے مدعی تھے لیکن شیطان نے ان کو بھی ورغلا کر شرک کی نہایت گھنائونی قسموں میں مبتلا کر رکھا تھا۔ مدینہ اور اس کے اطراف میں ان کا خاصا اثر تھا یہاں تک کہ دینی معاملات میں اہل عرب بھی ان کی برتری علانیہ تسلیم کرتے تھے۔ جب تک آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مک میں رہے اس وقت تک تو ان کی مخالفت درپردہ رہی لیکن جب آپ نے مدینہ کو ہجرت فرمائی تو ان کی مخالفت بھی علانیہ ہوگئی۔ یہ لوگ چونکہ اہل کتاب تھے اس وجہ سے اسی پندار میں مبتلا رہے کہ قرآن ان کے عقائد و اعمال کو بہرحال مشرکین کے مقابل میں کچھ اونچا درجہ دے گا لیکن قرآن نے ان پر واضح کردیا کہ عقائد ہوں یا اعمال، ہر پہلو سے وہ نہایت گہرے کھڈ میں گر چکے ہیں۔ خاص طور پر نصاریٰ کے شرک پر قرآن نے جو تنقید کی اس کا اثر ان پر یہ پڑا کہ وہ بھی یہود کی طرح علانیہ میدان مخالفت میں اتر آئے اور مخالفین کے تینوں گروہوں…… مشرکین، یہود اور نصاریٰ……… نے مل کر ایک متحدہ محاذ، اسلام کے خلاف قائم کرلیا۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ اخلاص کی حقیقت واضح کرنے کے لئے آخری سورة ایسی جامع ہو کہ وہ شرک کے تمام رخنوں کو یک قلم بند اور مشرکین اور اہل کتاب دونوں پر حجت تمام کر دے۔ چناچہ یہ سورة مدینہ میں نازل ہوئی۔ اگرچہ ایک گروہ نے اس کو مکی قرار دیا ہے لیکن اس سورة کی جامعیت، جیسا کہ آگے وضاحت ہوگی، دلیل ہے کہ یہ مکہ میں ہیں بلکہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے جب اہل کتاب بالخصوص نصاریٰ کی مخالفت بالکل آشکارا ہوگئی ہے۔ قرآن میں اس سورة کو سورة لہب کے بعد جگہ ملی ہے اور ہم پیچھے واضح کرچکے ہیں کہ یہ اشارہ ہے اس حقیقت کی طرف کہ اب حق کا سب سے بڑا دشمن ختم ہوا اور وقت آگیا کہ اس حقیقی توحید کی منادی اس سرزمین سے پھر بلند ہو جس کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں حرم تعمیر فرمایا۔ سورة لہب سے پہلے سورة نصر میں فتح کی بشارت تھی۔ اس کے بعد سورة لہب میں اسلام کے سب سے بڑے عدد کی ہلاکت کی خبر ہے۔ پھر اس سورة ……الاخلاص……… میں اسلام کے بنیادی پتھر……توحید…… کے اس کے اصلی مقام میں نصب کرنے کا اعلان ہے۔ یہ اعلان پیش نظر رکھئے کہ قریش اور اہل کتاب سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کشمکش ملک و مال کے لئے نہیں تھی بلکہ اس لئے تھی کہ غیر اللہ کی خدائی کے ہر نقش کو مٹا کر اس کی جگہ خدائے وحدہٗ لاشریک کی خدائی کے نقش کو اس طرح اجاگر کردیا جائے کہ کسی کے لئے بھی اس میں کسی اشتباہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ چناچہ اس سورة میں توحید و اخلاص کا ہر پہلو نمایاں کردیا گیا اور اس کو قرآن کے سب سے آخر میں جگہ دی گئی۔ اس کے بعد جو دو سورتیں ہیں وہ جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا، اسی خزانہ توحید کے پاسبان کی حیثیت رکھتی ہیں۔ شیطان کی رخنہ اندازیوں سے حفاظت کے لئے وہ اس کے ساتھ لگا دی گئی ہیں۔ قرآن مجید کی ترتیب اس طرح ہے کہ اس میں سب سے پہلے توحید و اخلاص کی سورة ……الفاتحۃ…… کو جگہ دی گئی ہے اور پھر سب سے آخر میں بھی توحید و اخلاص ہی کی سورة ……الاخلاص…… کو جگہ ملی ہے۔ اس سے اس دین میں توحید کی اہمیت و عظمت ظاہر ہوتی ہے کہ وہی اس میں اول بھی ہے اور آخر بھی۔ سورة فاتحہ میں خدا کی شکر گزاری کا حق اس پہلو سے واضح فرمایا گیا ہے کہ وہی ’ رب العلمین ‘ بھی ہے اور وہی ’ مالک یوم الدین ‘ بھی۔ پھر اس سورة میں مثبت اور منفی دونوں پہلوئوں سے، اللہ تعالیٰ کی وہ صفات بیان کی گئی ہیں جو ہر اس رخنہ کو بند کردینے والی ہیں جن سے شرک کوئی راہ پا سکتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان ہوئی ہیں وہ توحید کی تعلیم میں مبادی کی حیثیت رکھتی ہیں اور مقدمہ کتاب میں ہم اس آخری گروپ کی اس خصوصیت پر ایک جامع تبصرہ کرچکے ہیں کہ اس میں ان سورتوں کو جگہ ملی ہے جو دین کی تعلیم میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader
کہہ دو ، وہ اللہ سب سے الگ ہے
اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader
، اللہ سب کے ساتھ ہے۔
لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader
نہ وہ کسی کا باپ اور نہ کسی کا بیٹا
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader
اور نہ کوئی اس کا کفو۔