112. Surah Al-Ikhlaas

الإخلاصSincerity · 4 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم سورة کا عمود، ترتیب میں اس کا مقام، زمانہ نزول اور سابق و لاحق سے تعلق سورة ان سورتوں میں سے ہے جن کے نام ہی سے ان کے مضمون (عمود) کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کا نام ’ اخلاص ‘ ہے اور یہ اخلاص ہی اس کا عمود ہے۔ اخلاص کا مطلب اللہ واحد پر اس طرح ایمان لانا ہے کہ اس کی ذات یا صفات یا ان صفات کے لازمی تقاضوں میں کسی پہلو سے کسی دوسرے کی شرکت کا کوئی شائبہ نہ پایا جائے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کو ماننے کا تعلق ہے۔ دنیا نے اس کو ہمیشہ مانا ہے۔ یہ چیز انسانی فطرت کا بدیہی تقاضا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شیطان توحید کا ابدی دشمن ہے اس وجہ سے وہ انسانی فریب دے دے کر اس ماننے میں ایسی ملاوٹیں کرتا رہا ہے کہ ماننا اور نہ ماننا دونوں یکساں ہو کے رہ گیا ہے۔ توحید کی اصل حقیقت کو اجاگر کرتے رہنے ہی کے لئے اللہ تعالیٰ نے برابر اپنے رسول بھیجے لیکن انسان بار بار اس حقیقت کو پاپا کر کھوتا رہا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید ہی کی خاطر اپنی قوم سے ہجرت کی اور اپنی اولاد کو ایک وادیٔ غیر ذی زرع میں بسایا کہ وہ مشرکانہ ماحول سے بالکل محفوظ رہ کر صرف اللہ واحد کی عبادت کرے لیکن پچھلی سورتوں میں آپ نے دیکھا کہ آپ ہی کی ذریت نے آپ ہی کے بنائے ہوئے مرکز توحید (بیت اللہ) کو ایک بت خانے کی شکل میں تبدیل کردیا اور وہ اپنے خود تراشیدہ بتوں کی عصبیت میں اتنی سخت ہوگئی کہ خدا کے آخری رسول سے وہ اس بات پر لڑتی رہی کہ جب تک ان کے بتوں کا مقام تسلیم نہ کرلیا جائے گا وہ خدا کا حق بھی تسلیم نہیں کرے گی یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے جواب میں وہ فیصلہ کن اعلان برأت کرنا پڑا جو سورة کافرون میں آپ نے پڑھا۔ یہ اعلان اگرچہ کافی تھا لیکن اس کا تعلق اصلاً قریش اور مشرکین مکہ سے تھا۔ عرب میں اہل کتاب کے بھی مختلف قبائل تھے۔ یہ لوگ اگرچہ حامل کتاب ہونے کے مدعی تھے لیکن شیطان نے ان کو بھی ورغلا کر شرک کی نہایت گھنائونی قسموں میں مبتلا کر رکھا تھا۔ مدینہ اور اس کے اطراف میں ان کا خاصا اثر تھا یہاں تک کہ دینی معاملات میں اہل عرب بھی ان کی برتری علانیہ تسلیم کرتے تھے۔ جب تک آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مک میں رہے اس وقت تک تو ان کی مخالفت درپردہ رہی لیکن جب آپ نے مدینہ کو ہجرت فرمائی تو ان کی مخالفت بھی علانیہ ہوگئی۔ یہ لوگ چونکہ اہل کتاب تھے اس وجہ سے اسی پندار میں مبتلا رہے کہ قرآن ان کے عقائد و اعمال کو بہرحال مشرکین کے مقابل میں کچھ اونچا درجہ دے گا لیکن قرآن نے ان پر واضح کردیا کہ عقائد ہوں یا اعمال، ہر پہلو سے وہ نہایت گہرے کھڈ میں گر چکے ہیں۔ خاص طور پر نصاریٰ کے شرک پر قرآن نے جو تنقید کی اس کا اثر ان پر یہ پڑا کہ وہ بھی یہود کی طرح علانیہ میدان مخالفت میں اتر آئے اور مخالفین کے تینوں گروہوں…… مشرکین، یہود اور نصاریٰ……… نے مل کر ایک متحدہ محاذ، اسلام کے خلاف قائم کرلیا۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ اخلاص کی حقیقت واضح کرنے کے لئے آخری سورة ایسی جامع ہو کہ وہ شرک کے تمام رخنوں کو یک قلم بند اور مشرکین اور اہل کتاب دونوں پر حجت تمام کر دے۔ چناچہ یہ سورة مدینہ میں نازل ہوئی۔ اگرچہ ایک گروہ نے اس کو مکی قرار دیا ہے لیکن اس سورة کی جامعیت، جیسا کہ آگے وضاحت ہوگی، دلیل ہے کہ یہ مکہ میں ہیں بلکہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے جب اہل کتاب بالخصوص نصاریٰ کی مخالفت بالکل آشکارا ہوگئی ہے۔ قرآن میں اس سورة کو سورة لہب کے بعد جگہ ملی ہے اور ہم پیچھے واضح کرچکے ہیں کہ یہ اشارہ ہے اس حقیقت کی طرف کہ اب حق کا سب سے بڑا دشمن ختم ہوا اور وقت آگیا کہ اس حقیقی توحید کی منادی اس سرزمین سے پھر بلند ہو جس کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں حرم تعمیر فرمایا۔ سورة لہب سے پہلے سورة نصر میں فتح کی بشارت تھی۔ اس کے بعد سورة لہب میں اسلام کے سب سے بڑے عدد کی ہلاکت کی خبر ہے۔ پھر اس سورة ……الاخلاص……… میں اسلام کے بنیادی پتھر……توحید…… کے اس کے اصلی مقام میں نصب کرنے کا اعلان ہے۔ یہ اعلان پیش نظر رکھئے کہ قریش اور اہل کتاب سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کشمکش ملک و مال کے لئے نہیں تھی بلکہ اس لئے تھی کہ غیر اللہ کی خدائی کے ہر نقش کو مٹا کر اس کی جگہ خدائے وحدہٗ لاشریک کی خدائی کے نقش کو اس طرح اجاگر کردیا جائے کہ کسی کے لئے بھی اس میں کسی اشتباہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ چناچہ اس سورة میں توحید و اخلاص کا ہر پہلو نمایاں کردیا گیا اور اس کو قرآن کے سب سے آخر میں جگہ دی گئی۔ اس کے بعد جو دو سورتیں ہیں وہ جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا، اسی خزانہ توحید کے پاسبان کی حیثیت رکھتی ہیں۔ شیطان کی رخنہ اندازیوں سے حفاظت کے لئے وہ اس کے ساتھ لگا دی گئی ہیں۔ قرآن مجید کی ترتیب اس طرح ہے کہ اس میں سب سے پہلے توحید و اخلاص کی سورة ……الفاتحۃ…… کو جگہ دی گئی ہے اور پھر سب سے آخر میں بھی توحید و اخلاص ہی کی سورة ……الاخلاص…… کو جگہ ملی ہے۔ اس سے اس دین میں توحید کی اہمیت و عظمت ظاہر ہوتی ہے کہ وہی اس میں اول بھی ہے اور آخر بھی۔ سورة فاتحہ میں خدا کی شکر گزاری کا حق اس پہلو سے واضح فرمایا گیا ہے کہ وہی ’ رب العلمین ‘ بھی ہے اور وہی ’ مالک یوم الدین ‘ بھی۔ پھر اس سورة میں مثبت اور منفی دونوں پہلوئوں سے، اللہ تعالیٰ کی وہ صفات بیان کی گئی ہیں جو ہر اس رخنہ کو بند کردینے والی ہیں جن سے شرک کوئی راہ پا سکتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان ہوئی ہیں وہ توحید کی تعلیم میں مبادی کی حیثیت رکھتی ہیں اور مقدمہ کتاب میں ہم اس آخری گروپ کی اس خصوصیت پر ایک جامع تبصرہ کرچکے ہیں کہ اس میں ان سورتوں کو جگہ ملی ہے جو دین کی تعلیم میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

Ayah 112:1

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader

کہہ دو ، وہ اللہ سب سے الگ ہے

’قُلْ‘ منادی کرنے کے مفہوم میں: یہ ’قُلْ‘ اسی مفہوم میں ہے جس میں ’قُلْ یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ‘ (الکٰفرون ۱۰۹: ۱) میں ہے یعنی اعلان کر دو، برملا کہہ دو اور اس طرح منادی کر دو کہ ہر شخص سن اور جان لے، نہ کسی کو کوئی اشتباہ باقی رہے، نہ کسی مزید سوال و جواب کی گنجائش رہ جائے۔ اعلان کا موقع و محل: اس طرح کے اعلان کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب بحث و مناظرہ کا پورا دور گزر چکتا ہے اور یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سمجھانے کا حق ادا ہو چکا ہے، اب جو لوگ مزید بحثیں اٹھا ر ہے ہیں وہ سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ بات کو الجھانے اور طول دینے کے لیے اٹھا رہے ہیں۔ اس طرح کے موقع پر یہ مناسب ہوتا ہے کہ بات دوٹوک اور فیصلہ کن انداز میں اس طرح کہہ دی جائے کہ مخاطب اندازہ کر لے کہ متکلم نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا، اب وہ نہ اپنا مزید وقت ضائع کرنے کے لیے تیار ہے اور نہ اس کے موقف میں کسی تبدیلی یا لچک کی گنجائش ہے۔ ’ھُوَ‘ کا مفہوم: ’ھُوَ‘ میرے نزدیک ضمیر شان ہے۔ یہ اس معہود ذہنی یا صورت حال کے لیے آتی ہے جو مخاطب اور متکلم میں اس طرح مشترک ہو کہ اس کے بولتے ہی بے تکلف ذہن اس کی طرف منتقل ہو جائے۔ اسلام کی دعوت شروع ہونے کے بعد اہل عرب کی ہر مجلس میں سب سے زیادہ گرم موضوع یہی اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا موضوع تھا۔ دعوت کے دوسرے عنوانات۔۔۔ معاد اور رسالت۔۔۔ بھی زیر بحث آتے لیکن ان کی حیثیت ضمنی مباحث کی تھی۔ توحید کا مسئلہ سب سے زیادہ اہم تھا۔ قریش اس کو اپنی اور اپنے آباء و اجداد کی شان کا مسئلہ بنا بیٹھے تھے اور کسی قیمت پر بھی اپنے معبودوں اور اپنے ان اجداد کی توہین گوارا کرنے کے لیے تیار نہ تھے جو ان کو پوجتے رہے تھے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ بات بیان ہوئی ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر آتا ہے تو وہ دعوت دینے والوں پر ان کا منہ نوچنے کے لیے جھپٹ پڑتے ہیں۔ ایک طرف قریش کی یہ انانیت دوسری طرف قرآن اور رسول کا وہ بے لچک موقف جو سورۂ کافرون میں بیان ہوا کہ پوری قوم کو کاٹ پھینکنا منظور لیکن شرک کے ساتھ کوئی سمجھوتہ منظور نہیں۔ جب تک بحث صرف مشرکین قریش سے تھی اس وقت تک تو اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے مسئلہ میں کچھ زیادہ الجھنیں نہیں پیدا ہوئی تھیں۔ انھوں نے تقلید آباء میں بت پرستی اختیار تو کر لی تھی لیکن اس کی تائید میں انھوں نے نہ متکلمانہ قسم کی موشگافیاں پیدا کی تھیں اور نہ اپنی امیت کے سبب سے یہ چیز وہ پیدا کر ہی سکتے تھے لیکن مدینہ میں کھلم کھلا اہل کتاب سے بھی سابقہ پیش آیا جو اہل کتاب ہونے کے باوجود نہ صرف شرک کی نہایت گھنونی قسموں میں مبتلا تھے بلکہ انھوں نے اپنے شرک کی حمایت میں ایک پورا علم کلام تیار کر رکھا تھا۔ خصوصاً نصاریٰ کی میتھالوجی (MYTHOLOGY) تو اپنی الجھنوں کے اعتبار سے دنیا میں شاید ایک ہی ہے۔ قرآن نے ان سب کو چیلنج کیا، ان سے مباحثے کیے اور ان کی گمراہیاں ان پر واضح کیں۔ ان میں سے جن کو ایمان کی توفیق ہوئی وہ ایمان لائے۔ جو ایمان نہیں لائے ان کو قرآن نے اپنے دلائل سے اس طرح پسپا کر دیا کہ ان کے اہل کتاب ہونے کا رعب کم از کم عربوں کے دلوں پر سے تو بالکل ہی اٹھ گیا۔ توحید کی شان میں ایک مختصر اور جامع سورہ: یہ نئی صورت مقتضی ہوئی کہ توحید کے باب میں ایک مختصر سورہ بھی نازل ہو جو مشرکین اور اہل کتاب دونوں کے پیدا کردہ شرک کے ہر رخنہ کو اس طرح بند کر دے کہ شیطان کے لیے دراندازی کی کوئی راہ کھلی نہ رہ جائے اور جو جامع ہونے کے ساتھ ساتھ اتنی مختصر بھی ہو کہ اس کو ہر شخص یاد کر کے تعویذ کی طرح حرز جاں بنا سکے۔ چانچہ یہ سورہ نازل ہوئی جو نہایت چھوٹی چھوٹی کل چار آیتوں پر مشتمل ہے لیکن ’معانی‘ کے اعتبار سے اس کو بعض عارفین قرآن نے ثلث قرآن کے برابر قرار دیا ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ بات بالکل مبنی برحقیقت ہے۔ قرآن کے مباحث اگر اپنے مطالب کے اعتبار سے جمع کیے جائیں تو وہ تین جامع عنوانات کے تحت جمع ہو سکتے ہیں: توحید، معاد اور رسالت۔ جس کے معنی یہ ہوئے کہ توحید کا حصہ قرآن میں بقدر ایک ثلث کے ہے۔ یہ مباحث قرآن کی مختلف سورتوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان پھیلے ہوئے مباحث کو اگر اچھی طرح چھانیے تو ان کے اندر سے خدا کی ذات و صفات سے متعلق وہ جواہر ریزے نکلیں گے جو اس مختصر سورہ میں جمع کر دیے گئے ہیں۔ گویا قرآن میں رد شرک کی ساری بحث انہی چند نکتوں پرمبنی ہے جن کا اس سورہ میں اجمال کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اصلی صفات جن کا علم ضروری ہے: ’قُلْ ھُوَ اللّٰہُ‘ کے الفاظ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ کسی نے نبی ﷺ سے مطالبہ کیا ہو کہ آپ اللہ کی صفات بیان کریں تب ہی آپ نے یہ سورہ سنائی ہو۔ بلکہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، فضا میں اس سوال پر گرما گرمی کا پایا جانا اس بات کے لیے کافی تھا کہ یہ سورہ نازل ہو اور لوگوں کو سنا دی جائے۔ ’ھُوَ اللّٰہُ‘ کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اللہ جس کے بارے میں تم سوال و جواب اور بحث و جدال کر رہے ہو اس کی صفات جاننی چاہتے ہو تو مجھ سے سنو، وہ یہ یہ ہیں۔ اس کے بعد وہ صفات بیان ہوئی ہیں جو شرک کے تمام رخنوں کو بند کر دینے والی ہیں۔ مخاطبوں کی گمراہی دور کرنے کے لیے اصلاً انہی صفات کا جاننا ضروری تھا۔ ان کو جان لینے کے بعد دوسری صفات کے جاننے کے لیے راہ خود باز ہو جاتی ہے۔ ’اللہ‘: ’اَللّٰہُ‘ اسم ذات ہے۔ اس کے مفہوم پر اس کے محل میں ہم گفتگو کر چکے ہیں۔؂۱ مشرکین عرب اس نام کو اسم ذات ہی کی حیثیت سے استعمال کرتے تھے۔ قرآن نے تمام صفات حسنیٰ کا موصوف اسی اسم کو قرار دیا ہے۔ فرمایا کہ وہ اللہ ’اَحَدٌ‘ ہے۔ اہل لغت نے ’وَاحِدٌ‘ اور ’اَحَدٌ‘ میں یہ فرق کیا ہے کہ ’اَحَدٌ‘ وہ ہے جس کی ذات میں کوئی شریک نہ ہو اور ’وَاحِدٌ‘ وہ ہے جس کی صفات میں کوئی اس کا شریک نہ ہو۔ غالباً اسی وجہ سے لفظ ’اَحَدٌ‘ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے لیے صفت کے طور پر نہیں آیا۔ اس سے یکتائی و بے ہمگی من کل الوجوہ سمجھی جاتی ہے۔ ہر رشتہ و قرابت سے پاکی و برتری اس کا لازمہ ہے۔ اس سے یہ بات بھی نکلی کہ وہ قدیم ہے اور باقی سب حادث و مخلوق۔ ظاہر ہے کہ جو سب سے پہلے خود بخود تھا وہ ہمیشہ سے تھا کیونکہ جو کبھی نیست رہا ہو وہ خود ہست نہیں ہو سکتا۔ اس وجہ سے دو باتیں ماننی ضروری ہوئیں۔ ایک یہ کہ وہ ہمیشہ سے ہے۔ دوسری یہ کہ اس کے سوا جو بھی ہیں وہ سب اس کی مخلوق ہیں۔ بے ہمگی کے یہ لازمی نتیجے ہیں جن کا انکار عقل کے خلاف ہے۔ پس یہ کہنا کہ وہ ’اَحَدٌ‘ ہے دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ وہ قدیم لم یزل اور خالق کل ہے۔ _____ ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد اول، صفحات: ۵-۶۔
Ayah 112:2

اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader

، اللہ سب کے ساتھ ہے۔

’صمد‘ کا مفہوم: لفظ ’صَمَدُ‘ اصل میں اس بڑی چٹان کے لیے آتا ہے جس کی دشمن کے حملہ کے وقت پناہ پکڑتے ہیں، یہیں سے قوم کے سردار کو جو قوم کا پشت پناہ اور سب کا مرجع ہو ’صَمَدُ‘ کہنے لگے۔ زبور اور دوسرے آسمانی صحیفوں میں اللہ تعالیٰ کو بکثرت چٹان اور مدد کی چٹان کہا گیا ہے۔ جس طرح ’غَنِیُّ‘ کے بعد قرآن میں ’حَمِیْدٌ‘ کی صفت اللہ تعالیٰ کے لیے بطور بدرقہ آئی ہے اسی طرح یہاں ’اَحَدٌ‘ کے بعد ’صَمَدٌ‘ کی صفت بطور بدرقہ ہے۔ ’غَنِیُّ‘ اور ’حَمِیْدٌ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے ہم بیان کر چکے ہیں کہ لفظ ’غَنِیُّ‘ سے خدا کی بے نیازی کا جو تصور ذہن میں آتا ہے اس سے بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں سے بالکل بے تعلق ہے۔ اس کا اثر ان پر یہ پڑتا ہے کہ وہ اس کو اپنی رسائی سے بالاتر سمجھ کر دوسروں کے سہارے پکڑتے ہیں۔ لوگوں کو اس غلط فہمی سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت ’غَنِیُّ‘ کے ساتھ ’حَمِیْدٌ‘ کا بھی ذکر فرمایا جس سے مقصود یہ رہنمائی دینا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بے نیاز ہونے کے ساتھ ساتھ تمام سزاوار حمد کاموں کا منبع بھی ہے۔ اس وجہ سے اس کے بندوں کو چاہیے کہ ہمیشہ اسی سے لو لگائیں، کبھی اس سے مایوس ہو کر دوسروں کا سہارا نہ پکڑیں۔ ٹھیک اسی طرح ’اَحَدٌ‘ کے بعد یہاں صفت ’صَمَدٌ‘ کی یاددہانی فرمائی تاکہ لفظ ’اَحَدٌ‘ سے خدا کی یکتائی و بے ہمگی کا جو تصور سامنے آتا ہے اس سے مغلوب ہو کر کوئی اللہ تعالیٰ کو ایک بالکل الگ تھلگ اور خاموش علۃ العلل نہ سمجھ بیٹھے ورنہ یہ غلط فہمی بھی دوسرے سہاروں کی تلاش کا سبب بن سکتی ہے۔ اس غلط فہمی سے بچانے کے لیے ’اَللّٰہُ الصَّمَدُ‘ کہہ کر وضاحت فرما دی کہ بے شک اللہ ہے تو سب سے الگ، بے نیاز و بے ہمہ، مگر وہ سب کی خبرگیری اور دست گیری بھی کرتا ہے، سب کے لیے پناہ کی چٹان بھی ہے، سب کا ماویٰ و مرجع بھی ہے۔ اس کے بندے جب اس سے فریاد کرتے ہیں وہ ان کی فریاد سنتا اور ان کی فریاد رسی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی متقابل صفات میں صحیح توازن قائم نہ رکھنے سے قوموں کو جو گمراہیاں پیش آئی ہیں اور ان سے شرک کے جو دروازے کھلے ہیں ان کی تفصیل کا یہ محل نہیں ہے۔ بس اتنی بات یاد رکھیے کہ مذاہب کے مطالعہ سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان کی اکثر گمراہیوں کی تہ میں ان کا یہی عدم توازن مضمر ہے۔ اس قبیل کی جو گمراہیاں مشرکین عرب اور یہود و نصاریٰ کے ہاں پائی جاتی تھیں ان کا ذکر اس کتاب میں ان کے محل میں ہوا ہے۔ ان کو نگاہ میں رکھیے تو اس کی ہلاکت انگیزیوں کی پوری تصویر ذہن کے سامنے آ جائے گی۔
Ayah 112:3

لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader

نہ وہ کسی کا باپ اور نہ کسی کا بیٹا

نصاریٰ کی گمراہی اور ان کا اعتراف: نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی کا جنا ہوا۔ یہ بات اگرچہ لفظ ’اَحَدٌ‘ کے اندر بھی، جیسا کہ ہم نے اس کی وضاحت کی ہے۔ موجود تھی اور وہ عاقلوں کے لیے کافی ہے لیکن جو چیزیں قوموں کے لیے مزلہ قدم ہوتی ہیں ان کو قرآن نے مختلف اسلوبوں سے اس طرح واضح کر دیا ہے کہ کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ یہ مسئلہ بھی انہی مسائل میں سے ہے۔ دیویوں اور دیوتاؤں کی شادیوں اور ان کے اولاد و احفاد کی جو تفصیلات ہمیں یونانیوں اور ہندوؤں کی دیو مالا (MYTHOLOGY) میں ملتی ہیں اسی سے ملتی جلتی مزعومات ہمیں ان قوموں کے اندر بھی ملتی ہیں جو قرآن کی اول مخاطب تھیں۔ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مانتے تھے۔ یہود نے بھی تورات کے حامل ہونے کے مدعی ہوتے ہوئے عزیر کو خدا کا بیٹا بنا لیا۔ نصاریٰ نے باپ، بیٹے اور روح القدس کی ایک تثلیث قائم کی اور اس کے تعصب میں اس طرح گرفتار ہوئے کہ ان کے پادری ایک زمانہ میں جب کسی کو اپنے دین میں داخل کرتے تو اس سے پہلے اس شخص سے وہ نعوذ باللہ اس خدا پر لعنت کرواتے جس کی صفات ’قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ‘ میں بیان ہوئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سورہ پر ان کا غصہ اسی وجہ سے تھا کہ اس میں توحید کا جو تصور دیا گیا ہے اس کے ہوتے نہ خدا کو باپ فرض کرنے کی گنجائش باقی رہتی تھی نہ بیٹا اور نہ کسی کو اس کی ماں بنایا جا سکتا تھا۔ قرآن نے ’لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ‘ کے الفاظ سے خدا کی یکتائی اور بے ہمگی کی حقیقت اس طرح بے نقاب کر دی ہے کہ اس کے بعد اس باب میں کسی اشتباہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے اور دنیا کو یہ روشنی سب سے پہلے قرآن ہی کے ذریعے سے ملی ہے جس کا اعتراف اب وہ لوگ بھی کرنے لگے ہیں جو اپنے قومی و مذہبی تعصبات کے خول سے باہر نکل کر حقائق کا مواجہہ کرنے کے لیے کسی قیمت پر تیار نہیں ہوتے تھے۔ جو عیسائی اس خدا کو کبھی نعوذ باللہ گالیاں دیتے تھے جس کا ذکر سورۂ اخلاص میں ہوا ہے اب انہی عیسائیوں کے اندر سے ایسے لوگ بھی پیدا ہو رہے ہیں جو علانیہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ توحید کی حقیقت سے دنیا سب سے پہلے قرآن کے ذریعہ سے آشنا ہوئی ہے۔
Ayah 112:4

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader

اور نہ کوئی اس کا کفو۔

خدا کا صحیح تصور: ’کُفُوٌ‘ کے معنی ہم سر، ذات، برادری کے ہیں۔ یعنی کوئی اس کے جوڑ کا نہیں۔ سب مخلوق وہ خالق، سب محتاج وہ غنی، سب فانی اور وہ تنہا باقی۔ اس سورہ میں جو مثبت و منفی صفات اللہ تعالیٰ کی مذکور ہوئی ہیں ان سب کو سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ کا تصور ذہن میں آراستہ کیجیے تو بالاجمال وہ تصور یہ ہوگا کہ وہ ازلی و ابدی ہے۔ جب کچھ نہیں تو وہ تھا اور جب کچھ نہیں ہو گا تب بھی وہ ہو گا۔ وہ اپنی ذات میں کامل اور بالکل بے نیاز ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے، سب اس کے محتاج ہیں۔ وہ سب کے لیے سہارا اور سب کے لیے پناہ ہے۔ ہر چیز اس کے حکم سے وجود میں آتی ہے اور اسی کے حکم سے فنا ہوتی ہے۔ نہ وہ کسی کا باپ ہے نہ کسی کا بیٹا بلکہ سب کا خالق اور سب کا پروردگار ہے۔ کوئی چیز اس کی ذات یا اس کے جوہر سے نہیں ہے بلکہ ہر چیز اس کی مخلوق و مربوب ہے اور کوئی اس کا ہم سر یا اس کی برابری کا نہیں ہے بلکہ سب اس کے بندے، غلام اور محکوم ہیں۔