Ayah 113:1’فلق‘ کا وسیع مفہوم:’الْفَلَقِ‘ کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے صبح کیا ہے لیکن اس کے اصل معنی پھاڑنے کے ہیں۔ صبح چونکہ شب کے پردے کو چاک کر کے نمودار ہوتی ہے اس وجہ سے اس پر بھی اس کا اطلاق ہوا۔ لیکن پھاڑ کر نمودار ہونے والی چیز صرف صبح ہی نہیں ہے۔ ہر چیز کسی نہ کسی چیز کے اندر سے اس کو چاک کر کے ہی نمودار ہوتی ہے۔ گٹھلی سے پودا نمودار ہوتا ہے، دانے کو پھاڑ کر انکھوے نکلتے ہیں، زمین کو پھاڑ کر نباتات اگتی ہے، پہاڑوں کا سینہ چاک کر کے چشمے اور دریا ابلتے ہیں، اسی طرح انڈے کو پھاڑ کر بچے نکلتے ہیں اور رحم کے منہ کو کھول کر دوسری تمام زندہ مخلوقات وجود پذیر ہوتی ہیں۔ پھر لفظ ’فَلَقٌ‘ کو اس قدر محدود کر دینے کے لیے کیا جواز ہے؟ ہمارے نزدیک اس کو اس کے وسیع معنی میں رکھنا ہی موقع و محل کے اعتبار سے زیادہ موزوں ہے۔ لغت میں یہ لفظ وسیع معنی میں آیا بھی ہے۔ قرآن میں جس طرح ’فَالِقُ الإِصْبَاحِ‘ (الانعام ۶: ۹۶) کی ترکیب استعمال ہوئی ہے اسی طرح ’فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی‘ (الانعام ۶: ۹۵) کی ترکیب بھی وارد ہوئی ہے۔ اسی طرح زمین اور آسمان سے متعلق ارشاد ہے کہ ’کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا‘ (الانبیاء ۲۱: ۳۰) وہ دونوں بند ہوتے ہیں تو ہم ان کو پھاڑتے ہیں۔ یعنی آسمان کو کھول کر اس سے پانی برساتے اور زمین کو پھاڑ کر اس سے نباتات اگاتے ہیں۔
میں نے لفظ کی اس وسعت کو پیش نظر رکھ کر ’رَبِّ الْفَلَقِ‘ کا ترجمہ نمودار کرنے والے خداوند، کیا ہے۔ میرے نزدیک یہ ترجمہ زیادہ جامع اور معنی خیز ہے۔ آگے کے مضمون سے بھی اس کو، جیسا کہ وضاحت آ رہی ہے، زیادہ مناسبت ہے۔
Ayah 113:2مخلوقات کے شر سے پناہ خالق ہی دے سکتا ہے: یہ اس مقصد کا حوالہ ہے جس کے لیے تمام عالم کے نمودار کرنے والے خداوند کی دہائی کی تلقین کی گئی ہے۔ فرمایا کہ جس خداوند نے تمام عالم کو نمودار کیا ہے اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے شر سے پناہ ان کے پیدا کرنے والے ہی سے مانگو، کسی دوسرے سے نہ مانگو۔ کوئی دوسرا ان کے شر سے پناہ اسی صورت میں دے سکتا ہے کہ جب وہ ان کے پیدا کرنے والے سے زیادہ طاقت ور ہو اور یہ بات بالکل خلاف عقل ہے کہ کوئی چیز خالق کائنات سے زیادہ قدرت و اختیار والی ہو۔ اس وجہ سے خدا کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے شر سے کسی غیر خدا کی پناہ ڈھونڈنا سراسر سفاہت ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ چیزیں جتنی بھی ہیں سب خدا ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ خالق اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔
اللہ نے چیزیں مقصد خیر سے پیدا کی ہیں لیکن وہ اس کے حکم سے شر بھی بن جاتی ہیں: اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں وہ اصلاً مقصد خیر سے پیدا کی ہیں لیکن وہ جب چاہے ان کو شر میں بھی تبدیل کر سکتا ہے۔ بارش اس دنیا کے لیے سراسر رحمت ہے لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو اس کو عذاب بھی بنا دیتا ہے۔ اسی طرح خود انسان اپنی بے خبری اور سوء استعمال سے ایک چیز کو جو اصلاً نافع ہے، مضر بنا لیتا ہے۔ اشیاء کے ان برے پہلوؤں سے اپنے کو محفوظ رکھنے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ آدمی خدا ہی سے استعاذہ کرے۔ نہ ان اشیاء میں سے کسی چیز کو مؤثر بالذات سمجھ کر ان کی دہائی دینی شروع کر دے جس طرح مشرک قومیں کرتی ہیں اور نہ خدا کے سوا کسی ’غوث‘ یا ’قطب‘ کو پکارنا شروع کر دے کہ وہ آ کر خدا کی اس پکڑ سے اس کو بچائیں۔ خدا کی پکڑ سے خدا کے سوا کوئی دوسرا رہائی نہیں دے سکتا۔ آفتوں سے اپنے کو بچانے کی جو جائز تدبیریں انسان اختیار کرتا ہے، مثلاً کسی بیماری میں ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے، تو یہ چیز اس کے منافی نہیں ہے بشرطیکہ وہ یہ عقیدہ رکھے کہ طبیب حقیقی صرف اللہ ہے، شفا صرف اسی کے اختیار میں ہے، اگر وہ شفا نہ دے تو کسی دوسری طاقت کے بس میں نہیں ہے کہ وہ کسی معمولی سے معمولی بیماری سے بھی نجات دے سکے۔
اس تفصیل سے واضح ہوا کہ یہ ایک ہی کلمہ شرک کے بہت سے دروازوں کے بند کر دینے کے لیے کافی ہے۔ اس سے ثنویت اور خیر و شر کی الگ الگ خدائی کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ مشرک قومیں ہر آفت کو بجائے خود ایک مستقل نافع و ضار وجود سمجھ کر اس کی دہائی پکارنی شروع کر دیتی ہیں۔ حالانکہ کوئی آفت اپنا خود کوئی مستقل وجود نہیں رکھتی بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں ہی کے ظلال و آثار میں سے ہیں جو اللہ کے اذن سے وجود میں آتی ہیں، اسی کے حکم سے اثرانداز ہوتی ہیں اور تنہا اسی کی مدد سے ان کے شر سے نجات ملتی ہے اس وجہ سے حقیقی پناہ اور ماویٰ و ملجا وہی ہے۔
Ayah 113:3شر کا وجود مستقل بالذات نہیں ہے: ’غَاسِقٌ‘ رات کو کہتے ہیں جب شفق غائب ہو جانے کے بعد اس کی تاریکی بڑھ جائے۔ ’وَقَب‘ کے معنی تاریکی چھا جانے کے ہیں۔ اہل لغت نے ’غَاسِقٌ‘ کے معنی چاند کے بھی لکھے ہیں لیکن یہاں ’اِذَا وَقَبَ‘ کا قرینہ اشارہ کر رہا ہے کہ اس سے مراد رات ہی ہے۔ اس لیے کہ اس کی تاریکی جب بڑھتی ہے تو اپنے دامن میں آفتیں لیے ہوئے بڑھتی ہے۔
یہ ٹکڑا بہترین مثال ہے اس بات کی کہ اس دنیا میں شر کا وجود مستقل بالذات نہیں ہے کہ خیر و شر کے خالق الگ الگ مانے جائیں اور دونوں کی دہائی دی جائے بلکہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ چیز اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں ہی کے متعلقات و حواشی میں سے ہے اس وجہ سے اس سے بچنے کے لیے کسی غیر اللہ کی نہیں بلکہ اللہ ہی کی پناہ ڈھونڈنی اور اسی کی دہائی دینی چاہیے۔
قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ اس دنیا کے بقا کے لیے جس طرح دن اور اس کی روشنی و حرارت ضروری ہے اسی طرح رات اور اس کی خنکی و سکون بخشی بھی ضروری ہے، پھر ظاہری تضاد کے باوصف دنیا کے بقا میں ان دونوں کے توافق کو توحید کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہاں اسی رات کے شر سے پناہ مانگنے کی دعا تلقین کر کے گویا یہ درس دیا گیا ہے کہ رات کی جو تاریکی تمہاری راحت کے لیے ناگزیر ہے اسی کے ظلال و آثار میں سے یہ چیز بھی ہے کہ اس میں چور، قاتل، دشمن اور حشرات و ہوام نکلتے ہیں جن سے تمہیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شب کے سکون میں ان غیر مطلوب چیزوں کی مداخلت سے یہ نتیجہ نکالنا تو بالکل غلط ہو گا کہ رات کا خالق کوئی اور ہے اور ان کے نمودار ہونے والے ان ناخواندہ مہمانوں کا خالق کوئی اور، پھر دونوں کی دہائی پکاری جائے۔ بلکہ صحیح اور موافق عقل و فطرت بات یہی ہو سکتی ہے کہ ان دونوں کا خالق ایک ہی ہے۔ اسی نے رات کا سکون بخشا ہے اور وہی اس میں خلل انداز ہونے والی آفتوں سے پناہ دے سکتا ہے۔ یعنی جس طرح اس کی برکتیں خدا ہی کے فیض سے ہیں اسی طرح اس کی زحمتیں بھی اسی کے اذن سے ہیں۔ پس ہر حال میں مرجع اسی کو بنانا چاہیے۔
یہاں وہ بات یاد رکھیے جس کی طرف ہم نے پیچھے اشارہ کیا کہ شر کے وجود کی اس نوعیت کو نہ سمجھ سکنے کے سبب ہی سے نادانوں نے شر کو بھی مستقل حیثیت دے دی اور پھر خیر و شر دونوں کے الگ الگ خالق مان کر ثنویت کی بنیاد رکھ دی۔ قرآن نے یہاں بہترین مثال دے کر واضح کر دیا کہ شر کی اصل حیثیت کیا ہے اور اس سے پناہ دینے والا کون ہے۔
Ayah 113:4مادی اور محسوس آفات سے پناہ مانگنے کے بعد یہ روحانی و اخلاقی آفتوں سے پناہ مانگنے کی تلقین کی ہے۔
روحانی آفات سے پناہ مانگنے کا طریقہ: ’نَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ‘ کے معنی گرہوں میں پھونک مارنے والوں کے ہیں۔ اگرچہ یہ مؤنث ہے لیکن اس سے عورتوں کو مراد لینا لازم نہیں ہے۔ عربیت کے قاعدہ سے آپ اس سے ارواح خبیثہ اور نفوس خبیثہ مراد لے سکتے ہیں؛ عام اس سے کہ وہ مرد ہوں یا عورتیں اور قطع نظر اس سے کہ ان کا اشارہ یہود و مجوس کی طرف ہو یا عرب کے ساحروں اور کاہنوں کی طرف۔
گرہوں میں پھونک مارنے کا یہ طریقہ ٹونے ٹوٹکے اور گنڈے کا عمل کرنے والے اختیار کرتے ہیں۔ وہ دھاگے یا تانت پر اپنے تصور کے مطابق کچھ پڑھ کر پھونکتے اور گرہیں لگاتے جاتے ہیں۔ اور ان کے زعم کے مطابق ان کا معمول اس طرح ان کے دام میں اسیر ہو جاتا ہے اور پھر وہ اس کو جو اذیت پہنچانا چاہتے ہیں پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صفت سے ان کا ذکر کرنے سے مقصود ان کے بھگل کی تصویر کھینچنا ہے۔ یہ اسی طرح کی تصویر ہے جس طرح سورۂ شعراء میں کاہنوں کے مراقبہ کی تصویر
’یُلْقُوْنَ السَّمْعَ وَأَکْثَرُہُمْ کَاذِبُوْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۲۲۳)
(اور وہ کان لگا کر بیٹھتے ہیں اور ان میں کے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں)
کے الفاظ سے کھینچی گئی ہے۔ میرے نزدیک اس سے مقصود اس چیز کی لغویت کی طرف اشارہ کرنا ہے۔
رہا یہ سوال کہ یہ اعمال سِفلیہ کچھ مؤثر ہوتے ہیں یا نہیں تو اس سوال پر ہم سورۂ بقرہ کی آیت ۱۰۲ کے تحت، بضمن قصۂ ہاروت و ماروت، اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔۱ ہمارے نزدیک اس کا اکثر حصہ، جیسا کہ سورۂ شعراء کی محولہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے محض ڈھونگ اور بھگل ہے لیکن اس کے اندر اگر کچھ حقیقت ہے بھی تو قرآن میں یہ تصریح ہے کہ یہ مؤثر بالذات نہیں ہیں بلکہ ان سے کسی کو ضرر پہنچایا جا سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اذن ہی سے پہنچایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ سحر اور اعمال سفلیہ ہی سے متعلق فرمایا ہے:
’وَمَا ہُم بِضَآرِّیْنَ بِہٖ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّٰہِ‘ (البقرہ ۲: ۱۰۲)
(اور اس کے ذریعہ سے وہ کسی کو ضرر پہنچانے والے نہیں بن سکتے مگر اللہ کے اذن سے)
تو جب ان سے کوئی ضرر اللہ کے اذن ہی سے پہنچ سکتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس شر سے بچنے کے لیے بھی اللہ کے سوا کسی اور کی پناہ ڈھونڈھنے کی حاجت باقی نہیں رہی۔
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی حفاظت کرتا ہے جو اس کو یاد رکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ لوگ اپنے ذہن جس طرح کے بناتے ہیں ان کے ساتھ وہ اسی طرح کا معاملہ کرتا ہے۔ ایک شخص اگر اپنا تعلق اپنے رب سے استوار رکھتا ہے لاطائل اوہام سے اپنے کو بچاتا ہے، خدا کی یاد سے اپنے دل کو آباد رکھتا ہے، اگر کوئی افتاد پیش آتی ہے تو اس میں رہنمائی اور استعانت کے لیے اپنے رب ہی کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر شیطان کو غلبہ پانے نہیں دیتا۔ اگر اتفاق سے اس کو کوئی چھوت لگتی بھی ہے تو اللہ کی طرف توجہ اس کے شر سے اس کو بچا لیتی ہے۔
اس کے برعکس اگر کوئی شخص بالکل منفعل مزاج اور وہمی ہوتا ہے۔ عقل و بصیرت سے کام لینے کے بجائے وساوس میں مبتلا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ پر مضبوط بھروسہ رکھنے کے بجائے اپنے دل کے دروازے شبہات و شکوک کے لیے کھول دیتا ہے تو اس طرح کا آدمی بالعموم کسی شیطان جن و انس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے پھر وہ اس کو ہر وادی میں گردش کراتے ہیں۔ اس گردش سے اپنے کو محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ اس سورہ نے یہی بتایا ہے کہ آدمی اپنے کو ہمیشہ اپنے رب کی پناہ میں رکھے، جب کبھی دل میں کوئی دغدغہ محسوس کرے فوراً اس کی امان طلب کرے جس کا بہترین ذریعہ یہ دونوں سورتیں۔۔۔ معوذّتَین۔۔۔ ہیں۔
_____
۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد اول صفحات ۲۳۸-۲۴۴۔
Ayah 113:5حاسدوں کے حسد سے بچنے کی دعا: یہ آخر میں حاسدوں کے حسد کے شر سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔ اگرچہ لفظ ’حَاسِد‘ یہاں عام ہے اور اس کو عام ہی رکھنا چاہیے بھی، اس لیے کہ جس حاسد کا حسد بھی بحرانی شکل اختیار کر لے وہ قابیل کے حسد کی طرح ہابیل کا خون بہا کر ہی اترتا ہے، اس وجہ سے اس سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ لیکن سورہ کی تمہید میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ بنی آدم کا سب سے بڑا حاسد شیطان ہے اور اس کو خاص کد عقیدۂ توحید سے ہے۔ اس عقیدہ سے برگشتہ کرنے کے لیے اس نے اپنے جس عزم بالجزم کا اظہار کیا ہے اس کے شواہد ہم اوپر نقل کر آئے ہیں۔ یہاں سورۂ بنی اسرائیل کی آیات بھی نقل کیے دیتے ہیں تاکہ ’اِذَا حَسَدَ‘ کے الفاظ کا زور اچھی طرح واضح ہو جائے:
قَالَ أَرَءَیۡتَکَ ہٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لأَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗٓ إَلاَّ قَلِیْلاً ۵ قَالَ اذْہَبْ فَمَن تَبِعَکَ مِنْہُمْ فَإِنَّ جَہَنَّمَ جَزَآؤُکُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا ۵ وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْہُمْ بِصَوْتِکَ وَأَجْلِبْ عَلَیْہِمۡ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ وَشَارِکْہُمْ فِی الأَمْوَالِ وَالأَوْلادِ وَعِدْہُمْ وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیْْطَانُ إِلاَّ غُرُوْرًا ۵ إِنَّ عِبَادِیْ لَیْْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطَانٌ وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلاً (بنی اسرائیل ۱۷: ۶۲-۶۵)
’’شیطان نے کہا، اچھا یہی ہے وہ جسے تو نے مجھ پر فضیلت بخشی ہے! اگر تو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت بخشی تو میں اس کی ذریت کو چٹ کر جاؤں گا، صرف تھوڑے ہی بچیں گے۔ خدا نے فرمایا، جا، جو ان میں سے تیرے پیرو بنیں گے تو تمہارا بدلہ پورا کرنے کے لیے جہنم کافی ہے تو ان میں سے جن پر تیرا بس چلے ان کو اپنے پراپیگنڈے سے گھبرا لے، ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لے اور ان کے مال و اولاد میں حصہ بٹا لے اور ان سے پرفریب وعدے کر لے اور شیطان کے سارے وعدے محض فریب ہیں میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں اور تیرا رب اعتماد کے لیے کافی ہے۔‘‘
اس آیت سے اس زور، اس ولولہ اور ان اسباب و وسائل کا اظہار ہوتا ہے جو شیطان انسان کو توحید سے ہٹانے کے لیے بروئے کار لانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ اسی چیز کی طرف ’اِذَا حَسَدَ‘ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں یعنی جب کہ یہ حاسد اپنے حسد کے جوش میں اپنے ترکش کے سارے تیر آزمانے پر آمادہ ہو جائے۔
ایک ضعیف روایت: یہ سورہ کسی شان نزول کی محتاج تو نہیں ہے لیکن اس کے تحت لوگوں نے ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نبی ﷺ پر العیاذ باللہ کچھ یہودیوں نے ایک زمانہ میں جادو کر دیا تھا جس سے آپ بیمار ہو گئے تو آپ کو یہ سورہ سکھائی گئی اور آپ اس جادو کے اثرات بد سے محفوظ ہوئے۔
اگرچہ دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ اس جادو کا کوئی اثر آپ کے فرائض نبوت پر نہیں پڑا لیکن ساتھ ہی نہایت سادہ لوحی سے یہ اعتراف بھی لیا گیا ہے کہ اس کا اثر حضور ﷺ پر یہ پڑا کہ آپ گھلتے جا رہے تھے، کسی کام کے متعلق خیال فرماتے کہ کر لیا ہے لیکن نہیں کیا ہوتا، ازواج مطہرات کے متعلق خیال فرماتے کہ ان کے پاس گئے ہیں لیکن نہیں گئے ہوتے، بعض اوقات اپنی نظر پر بھی شبہ ہوتا کہ ایک چیز کو دیکھا ہے مگر نہیں دیکھا ہوتا۔ ان حضرات کے بیان کے مطابق حضور ﷺ کی حالت گھنٹے دو گھنٹے یا دن دو دن نہیں بلکہ پورے چھ ماہ رہی۔ اب سوال یہ ہے کہ جب پورے چھ ماہ آپ پر، العیاذ باللہ، تعطل دماغ کی یہ کیفیت طاری رہی تو کیا یہ امکان مستبعد قرار دیا جا سکتا ہے کہ، العیاذ باللہ، آپ نے خیال فرمایا ہو کہ نماز پڑھ لی ہے درآنحالیکہ نہ پڑھی ہو یا یہ کہ نازل شدہ وحی کاتبین وحی کو لکھوا دی ہے حالانکہ نہ لکھوائی ہو یا یہ کہ جبریل امین کو دیکھا ہے حالانکہ نہ دیکھا ہو؟ ان امکانات کو کس دلیل سے آپ رد کر سکتے ہیں؟ اگر کوئی کہے کہ اس طرح کی کوئی بات روایات میں نہیں ملتی تو ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ روایات میں تمام جزئیات کہاں بیان ہو سکتی ہیں، لیکن ایک ایسے شخص سے جس کی ذہنی حالت آپ کے بیان کے مطابق وہ ہے جو مذکور ہوئی تو اس سے ان باتوں کا صادر ہونا تعجب انگیز نہیں بلکہ نہ صادر ہونا تعجب انگیز ہے۔
میرے نزدیک اس شان نزول کو رد کرنے کے لیے یہ دلیل کافی ہے کہ یہ اس مسلمہ عقیدے کے بالکل منافی ہے جو قرآن نے انبیاء علیہم السلام سے متعلق ہمیں تعلیم کیا ہے۔ عصمت، حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی ان خصوصیات میں سے ہے جو کسی وقت بھی ان سے منفک نہیں ہو سکتیں۔ اس عصمت کو اس امر سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا کہ نبی کے دندان مبارک شہید ہو گئے یا وہ زخمی ہو گیا یا وہ قتل کر دیا گیا۔ ان میں سے کوئی چیز بھی اس کی نبوت میں قادح نہیں ہے کہ اس کو آپ اس امر کی دلیل بنائیں کہ جب نبی ان چیزوں میں مبتلا ہو سکتا ہے تو مسحور بھی ہو سکتا ہے یہاں تک کہ اس کو کردہ اور ناکردہ، دیدہ اور نادیدہ میں کوئی امتیاز ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے شیطانی تصرفات سے اپنے نبیوں کو محفوظ رکھا ہے اور ان کی یہ محفوظیت دین کے تحفظ کے لیے ناگزیز ہے۔ یہ محفوظیت ہی نبی کے ہر قول و فعل کو سند بناتی ہے۔ پورا قرآن انبیاء کی عصمت پر گواہ ہے اور ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ ان کی عصمت پر ایمان رکھے۔
شان نزول کے اس واقعے کو اگر روایت کے اصولوں پر جانچا جائے تو اس میں نمایاں ضعف موجود ہے۔ صِحاح کی ایک روایت میں رنگ آمیزی کرنے کے لیے تیسرے درجے کی ضعیف و موضوع روایتوں کا سہارا لیا گیا ہے اور اس کو ایک امر واقعہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ روایت صِحاح میں سے صرف بخاری، مسلم اور ابن ماجہ نے لی ہے اور سند کے تیسرے واسطہ تک یہ خبر واحد ہی رہی ہے۔ حتیٰ کہ بخاری کی ایک روایت میں سفیان بن عینیہ یہ اقرار کرتے ہیں کہ میں نے اسے ابن جریج سے بالکل پہلی مرتبہ سنا۔ گویا اس واقعہ نے نبی ﷺ کے وصال کے سو سال بعد شہرت پائی، اس سے پہلے اس کا علم صرف بعض افراد تک محدود رہا۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ، العیاذ باللہ، اگر حضور ﷺ چھ ماہ تک مسحور رہے ہوتے تو یہ واقعہ اتنا غیر معمولی تھا کہ صدر اول ہی میں اس کا چرچا ہو جاتا اور یہ روایت ایک متواتر روایت کی حیثیت سے ہم تک پہنچتی۔
صِحاح کی کسی روایت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر یہ جادو ہوا تو حضور ﷺ پر اس کا اثر کتنا عرصہ رہا۔ اس کے برعکس ان تینوں کتابوں کی متفق علیہ روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ
’حتّٰی اذا کان ذات یوم او ذات لیلۃ دعا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ثم دعا ثم دعا‘
(یہاں تک کہ جب ایک دن یا ایک رات گزر گئی تو رسول اللہ ﷺ نے پے در پے دعا کی)
اس سے معلوم ہوا کہ اگر اس کا کوئی اثر آپ کی قوت متخیلہ پر پڑا بھی تو وہ چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں رہا۔ پھر آپ نے اللہ تعالیٰ سے بار بار دعا کی اور یہ اثر جاتا رہا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ بالکل اسی قسم کی بات ہوئی جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو سانپ سمجھ لیا اور وقتی طور پر گھبرا گئے۔ اس طرح کی کیفیات تھوڑی دیر کے لیے طاری ہو جانا ناممکن نہیں ہوتا۔ یہ کیفیات بطور امتحان بھی نبی کو پیش آ سکتی ہیں لیکن ہوتی یہ وقتی اور عارضی ہیں تاکہ نبی کی عصمت مجروح نہ ہو۔
یہ حقیقت بھی ملحوظ رہے کہ صحاح میں نہ اس واقعہ کو سورہ کے شان نزول کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور نہ یہ بتایا گیا ہے کہ معوذتین کی آیات پڑھ پڑھ کر حضور ﷺ نے کسی تانت کی گرہیں کھولیں۔ یہ چیز واضح کرتی ہے کہ محدثین نے اس واقعہ کو سورۂ فلق سے متعلق نہیں مانا۔ یہ بعد والوں کی ذہانت ہے کہ وہ اس روایت کو معوذتین کے ذیل میں لے آئے۔ حالانکہ، جیسا کہ سورۂ فلق کی تفسیر سے واضح ہوا اور آگے سورۂ ناس کی تفسیر سے واضح ہو گا، ان کا مفہوم اس سے اِبا کرتا ہے کہ ان کے نزول کو کسی مجہول جادوگر کے کسی شیطانی عمل کا نتیجہ قرار دیا جائے۔