111. Surah Al-Masad

المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

ا۔ سورة کا عمود اور سابق و لاحق سے تعلق اس سورة کے عمود اور سابق و لاحق سے اس کے تعلق پر استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی (رح) نے اپنی تفسیر میں ایسی جامع اور حکیمانہ بحث کی ہے کہ ہم اپنی طرف سے کچھ لکھنے کے بجائے اسی کے بعض اہم اقتباسات میں پیش کردینا کافی سمجھتے ہیں۔ مولانا علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : ” سورة نصر کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت فتح مکہ پر تمام کی۔ اسی طرح آپ کے لائے ہوئے صحیفہ کو اس فتح عظیم کے ذکر پر ختم کیا۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ حق اپنے مرکز پر پہنچ گیا۔ خانہ کعبہ کے مرکز توحید و اسلام اور سرچشمہ ملت ابراہیم ( علیہ السلام) ہونے کے سبب سے فتح مکہ ہی آپ کی بعثت کا گویا آخری اور تکمیلی کام تھا۔ اس کے بعد صرف ثابت قدمی اور استقامت کی ضرورت رہتی تھی جس کے لئے تین سورتیں اس کے بعد لگا دی گئیں۔ سورة اخلاص، جو تمام معارف توحید کا خزانہ اور دین کی بنیاد ہے اور سورة خلق و سورة ناس دعائے استقامت کی تعلیم اور شیاطین جن و انس کی تاخت سے سے اس خزانہ کی حفاظت کے لئے۔ “ اس کے بعد مولانا علیہ الرحمۃ سورة نصر، سورة اخلاص اور معوذ تین ( سورة فلق اور سورة ناس کے اس جھرمٹ میں سورة لہب کے رکھے جانے کی حکمت یہ بیان فرماتے ہیں : ” اس تمہید سے واضح ہوا کہ یہ تمام سورتیں… سورة نصر، سورة اخلاص اور معوذ تین باہم دگر مربوط ہیں اس وجہ سے سورة لہب کا ان کے درمیان رکھا جانا بھی لازماً کسی حکمت پر مبنی ہوگا ورنہ پورا سلسلہ نظم درہم برہم ہوجائے گا۔ چناچہ غوروفکر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سورة نصر میں جس فتح و غلبہ کا ذکر ہے سورة لہب میں اسی کی وضاحت و بشارت۔ گویا یوں فرمایا گیا کہ اللہ نے اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غلبہ دیا اور اس کے دشمن کو برباد کیا۔ چناچہ دوسرے مقام میں یہ بات یوں واضح فرمائی گئی : جاء الحق و زھن الباطل ان الباط لکاف زھوقا (بنی اسرائیل۔ ١٧ : ٨١) حق نمودار ہوگیا اور باطل برباد ہوا۔ بلاشبہ باطل مٹنے ہی کی چیز ہے۔ اس نظم کی نہایت خوبصورت مثال آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس خطبہ میں بھی ہے جو آپ نے فتح مکہ کے دن، خانہ کعبہ کے دروازے پر دیا۔ آپ نے فرمایا : لا الہ الا اللہ وحدہ و صدق وعدہ و نصر عبدہ وھزمر الاحزاب وحدہ خدائے واحد کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ پو را کیا، اپنے بندے کی مدد فرمائی اور دشمنوں کی تمام پارٹیوں کو یکہ و تنہا شکست دی۔ بظاہر تو یہ تین الگ الگ فقرے ہیں لیکن ایک صاحب نظر کے لئے ان تینوں کے اندر علی الترتیب تین سورتوں کے مضمون پنہاں ہیں۔ پہلا فقرہ ’ لا الہ الا اللہ وحدہٗ ‘ سورة کا فرون کے ہم معنی ہے۔ دوسرا فقرہ ’ وصدق وعدہ و نصر عبدہ ‘ سورة نصر کا ہم مضمون ہے۔ تیسرا جملہ ’ وھز مرالاحزاب وحدہٗ اور سورة لہب ایک ہی حقیقت کی دو تعبیریں ہیں۔ معلوم ہوا کہ جس طرح یہ تینوں فقرے ایک صاحب نظر کے لئے بالکل مربوط و منظم ہیں اسی طرح جو لوگ ان سورتوں کے مضامین پر غور کریں گے وہ ان سب کو ایک ہی زنجیر کی مربوط کڑیوں کی شکل میں پائیں گے۔ ب۔ اس امر کا بیان کہ یہ سورة مدنی اور فتح مکہ کی بشارت ہے ایک اہم سوال اس سورة سے متعلق یہ بھی ہے کہ یہ مکی ہے یا مدنی ؟ ہمارے مفسرین نے عام طور پر اس کو مکی قرار دیا ہے لیکن یہ رائے کچھ قوی نہیں معلوم ہوتی۔ اس کے حق میں واحد دلیل جو ان کی طرف سے پیش کی گئی ہے یہ ہے کہ یہ جواب ہے ابولہب کی اس گستاخی کا جو اس نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں کی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ جب آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت ہوئی کہ اپنے قریبی اعزہ کو خدا کے عذاب سے ڈرائیں تو ایک دن آپ علی الصباح کوہ صفا پر چڑھ گئے اور وہاں ’ واصباحا ‘ کا نعرہ لگایا۔ عرب میں یہ نعرہ خطرہ کا الارم سمجھا جاتا۔ یہ نعرہ سن کر قریش کے تمام خاندان آپ کے گرد جمع ہوگئے۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ اگر میں تم سے یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر گراں تمہارے اوپر حملہ کے لئے گھات لگائے ہوئے ہے تو کیا تم باور کرو گے، سب نے جواب دیا کہ ہاں ہم ضرور باور کریں گے، ہم نے آپ کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں پایا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو میں ایک سخت عذاب سے آگاہ کر رہا ہوں جو تم پر آنے والا ہے۔ یہ سن کر ابولہب نے سبقت کر کے کہا : تبالک الھذا دعوتنا ! ‘ (تیراناس ہو، کیا اسی لئے تم نے ہم سب کو دعوت دی ! ) مفسرین اسی واقعہ کو اس سورة کا شان نزول قرار دیتے ہیں کہ جب تبالک کے الفاظ سے ابولہب نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توہین کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کا …کے لئے اس کی اور اس کی بیوی کی مذمت میں یہ سورة اتاری۔ یہ واقعہ ظاہر ہے کہ مکہ کے بالکل ابتدائی دور میں پیش آیا اس وجہ سے مفسرین کے نزدیک سورة کا نزول بھی اسی دور میں ہوا ہے۔ جہاں تک اس واقعہ کا تعلق ہے اس سے تو انکار کی گنجائش نہیں ہے لیکن یہ بات مختلف وجوہ سے عمل نظر ہے کہ یہ سورة ابولہب کے جواب اور اس کی اور اس کی بیوی کی مذمت میں نازل ہوئی ہے۔ اول تو یہی بات کھٹکتی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخالفوں میں سے کسی کی گستاخی کا اس طرح ترکی بہ ترکی جواب دیا جائے۔ جہاں تک مخالفت اور توہین و دل آزاری کا تعلق ہے ابولہب کی کچھ خصوصیت نہیں ہے۔ مکہ اور طائف کے اکثر لیڈر اس جرم میں شریک رہے ہیں لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی تمام زیادتیوں کے جواب میں خود بھی صبر و علم کا رویہ اختیار فرمایا، اپنے صحابہ (رض) کو بھی اسی کی تاکید فرمائی اور اسی رویہ کی تاکید آپ کو بار بار اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی فرمائی گئی۔ ان میں سے کسی کے جواب میں بھی، خواہ اس کی گستاخی کی نوعیت کتنی ہی سنگین رہی ہو، آپ کی زبان مبارک سے کوئی ایسا کلمہ نہیں نکلا جس میں مذمت کا کوئی پہلو ہو۔ آپ کو حکمت اور دل پذیر موعظت کے ساتھ دعوت کی ہدایت فرمائی گئی تھی اور آپ نے اس ہدایت پر ہمیشہ عمل فرمایا۔ مذمت اور سب دشتم تو درکنار آپ نے اپنی قوم کے کفار کو کفار کے لفظ سے بھی، جیسا کہ سورة کافرون کی تفسیر میں وضاحت ہوچکی ہے، اس وقت خطاب فرمایا ہے، جب ان پر اتمام حجت ہوچکا ہے اور وقت آگیا ہے کہ آپ قوم سے اعلان برأت کر کے ہجرت کر جائیں۔ یہی طریقہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کا بھی رہا ہے۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعوت کے بالکل آغاز ہی میں اپنے چچا کے ایک فقرہ سے اس درجہ آزردہ ہوجائیں کہ اس کی مذمت کے جواب میں آپ کی تسکین قلب کے لئے ایک ایسی سورة نازل کی جائے جس میں مفسرین کے بقول صرف اسی کی نہیں بلکہ اس کی بیوی کی بھی خبر لی گئی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ’ تبالک ‘ کے الفاظ اور ’ تبت یدا ابی لہب ‘ کے الفاظ میں باعتبار مفہوم بڑا فرق ہے۔ ’ تبالک ‘ کے الفاظ تو بیشک بددعا، مذمت اور تحقیر کے لئے آتے ہیں لیکن یہ بات نہیں ہے کہ ’ تب ‘ سے جو دوسرے محاورات پیدا ہوئے ہیں ان کے اندر بھی لازماً ہجو و مذمت کا مفہوم پایا جائے۔ اگر ’ تبالابی لہب ‘ کے الفاظ ہوتے تب تو اس گمان کے لئے گنجائش تھی کہ اس کو ابولہب کی بات کا ترکی بہ ترکی جواب سمجھا جائے لیکن الفاظ ’ تبت یدا ابی لہب ‘ کے ہیں۔ اس محاورے کے اندر ہجو و مذمت اور بددعا کا مضمون نہیں بلکہ، جیسا کہ آیت کی تفسیر کے تحت ہم واضح کریں گے، ابولہب کیا قتدار کے ڈھے جانے، اس کے انصار و اعوان کے ٹوٹ جانے اور اس کی دولت و حشمت کے برباد ہوجانے کا مضمون پایا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ یہ جملہ انشائیہ نہیں بلکہ خبر یہ ہے اور یہ خبر ماضی کے صیغہ میں ابولہب کی بربادی کی پیشن گوئی ہے جو اس وقت کی گئی ہے جب اس پر حجت تمام کی جا چکی ہے۔ پس یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ یہ بالکل ابتدائی مکی دور میں نازل ہوئی ہے بلکہ اس کا نزول اس وقت ہوا ہے جب ابولہب کی تباہی کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں۔ اس کی موت غزوہ بدر کے کچھ بعد واقع ہوئی ہے اس وجہ سے اس کا نزول بھی اسی کے لگ بھگ ہوا ہے۔ اسلوب کلام سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ سورة اس کی موت سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ اگر موت کے بعد نازل ہوتی تو اس کا اسلوب کلام اس سے مختلف ’ الم تر کیف ‘ یا اس سے ملتا جلتا ہوتا۔ ماضی کا یہ اسلوب بیان مستقبل میں ہونے والے واقعات کی قطعیت کے اظہار کے لئے اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کی بکثرت مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں۔

Ayah 111:1

تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader

ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ خود بھی ڈھے گا۔

’تبت یداہ‘ کا مفہوم: ’تَبٌّ‘ کے معنی ہلاک ہونے اور خسارہ میں پڑنے کے ہیں۔ اسی سے ’تبت یدا فلان‘ کا محاورہ نکلا ہے جس کے معنی یہی ہو سکتے ہیں کہ فلاں کے دونوں ہاتھ حصول مقصد میں ناکام وعاجز رہے۔ دونوں ہاتھوں کی ناکامی اور بے بسی کامل بے بسی کی تعبیر ہے۔ اگر کہیں کہ ’تبت یداہ‘ تو اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ وہ مقابلہ کرنے سے بالکل عاجز ہو گیا۔ اسی طرح ’کسر ید‘ یعنی ہاتھ توڑ دینا، کسی کا زور توڑ دینے کی تعبیر ہے۔ فند الزمانی کا شعر ہے: وترکنا دیار تغلب تفرا وکسرنا من الفواۃ الجناھا (یعنی ہم نے تغلب کے علاقہ کو چٹیل بنا کے چھوڑ دیا اور ان کے سرکشوں کے بازو توڑ دیے۔) عبرانی زبان میں بھی، جو عربی کی بہن ہے، یہ محاورہ استعمال ہوا ہے۔ صحیفہ ذی الکفل کے باب۳ آیات ۲-۲۲ کے فقرے ملاحظہ ہوں: ’’گیارھویں برس کے پہلے مہینہ کی ساتویں تاریخ کو یوں ہوا کہ خداوند کا کلام مجھے پہنچا اور اس نے کہا کہ اے آدم زاد میں نے مصر کے بادشاہ، فرعون کا بازو توڑا اور دیکھ وہ باندھا نہیں جائے گا اور دوا کی تدبیر کر کے اس پر پٹیاں نہیں کی جائیں گی کہ تلوار پکڑنے کے لیے مضبوط ہو۔ اس لیے خداوند یہوہ یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں مصر کے بادشاہ، فرعون کا مخالف ہوں اور اس کے بازووں کو، اسے جو پرزور ہے اور اسے جو ٹوٹا تھا، توڑوں گا اور اس کے ہاتھ سے تلوار گراؤں گا۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اس لفظ کے اندر ہجو و مذمت کا کوئی پہلو نہیں ہے بلکہ یہ صرف ابو لہب کے اقتدار کے زوال اور اس کی تباہی کی پیشین گوئی ہے۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ یہاں اس کا ذکر کنیت کے ساتھ ہوا ہے اور اہل عرب جب کسی کا ذکر کنیت کے ساتھ کرتے ہیں تو اس میں فی الجملہ احترام مدنظر ہوتا ہے۔ ایک سوال اور اس کا جواب: یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پورے قرآن میں آنحضرت ﷺ کے دشمنوں میں سے کسی کا ذکر بھی اس کے نام کی تصریح کے ساتھ نہیں ہوا پھر ابولہب ہی کی کیا خصوصیت تھی کہ اس کا ذکر اس کے نام سے ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خاص اہتمام کے ساتھ اس کا ذکر کرنے کی یوں تو کئی وجہیں ہو سکتی ہیں لیکن دو باتیں خاص اہمیت رکھتی ہیں جن کا ذکر ہم یہاں کریں گے۔ ایک یہ کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ ابولہب کی عداوت کی نوعیت دوسرے مخالفوں کی عداوتوں سے بہت مختلف تھی۔ قریش کے دوسرے لیڈروں کو آپ سے جو اختلاف تھا اس کی بڑی وجہ صرف یہ تھی کہ آپ کی دعوت کو دین آبائی کے خلاف سمجھتے تھے، یہ وجہ نہیں تھی کہ وہ اس میں اپنے ذاتی اغراض ومفادات کے لئے کوئی خطرہ محسوس کرتے ہوں۔ آپ جن مکارم اخلاق کی دعوت دیتے تھے ان کی عزت ان کے دلوں میں بھی تھی۔ آپ یتیموں اور مسکینوں اور غلاموں کے ساتھ جس حسن اخلاق پر لوگوں کو ابھارتے تھے قریش کے بہت سے شریفوں کے اندر اس کے لیے بھی بڑا احترام تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ یہ سارے کام ہوں۔ اور اس معاملہ میں ان کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ حسن ظن بھی تھا اس لیے کہ وہ آپ کو تمام اعلی اوصاف سے عملاً متصف پاتے تھے۔ ان کو غصہ تھا تو اس بات پر تھا کہ اپنی دعوت میں آپ ان کے بتوں کی تحقیر کرتے ہیں۔ سورۂ کافرون کی تفسیر میں ہم ذکر کر چکے ہیں کہ وہ اس بات پر آمادہ تھے کہ آنحضرت ﷺ ان کے بتوں کے معاملے میں اپنا لب ولہجہ کچھ نرم کر دیں تو وہ بھی آپ کی دعوت کے معاملہ میں اپنی روش تبدیل کر دیں گے۔ ابولہب کا ذکر نام کے ساتھ کیے جانے کے وجوہ: اس کے برعکس ابولہب کی مخالفت تمام تر اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے تھی۔ وہ بیت اللہ کے بیت المال کا نگران تھا اور اپنے زمانے میں اس نے اس طرح اس پر قبضہ کر رکھا تھا کہ اس کا بڑا حصہ یتیموں، مسکینوں اور حاجیوں کے بجائے اس کے اپنے جیب میں جاتا جس کی بدولت وہ اپنے زمانے میں قارون بن گیا۔ اس نے جب آنحضرت ﷺ کی مکارم اخلاق کی دعوت اور بیت اللہ کے مقصد تعمیر کی آیتیں سنیں؂۱ تو اسے محسوس ہوا کہ اس کے احتساب کا وقت قریب آ رہا ہے۔ اگر جلد سے جلد آپ کی دعوت کو دبانے کی اس نے تدبیر نہ کی تو ان تمام مفادات سے اسے دست بردار ہونا پڑے گا جن سے وہ اس وقت بے روک ٹوک بہرہ مند ہو رہا ہے۔ چنانچہ وہ کمر باندھ کے آپ کی دعوت کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے کردار کی تصویر سورۂ ھمزہ اور بعض دوسری سورتوں میں کھینچی گئی ہے۔ جن لوگوں کی مخالفت یا موافقت ذاتی اغراض سے بالا تر کسی مقصد کے لیے ہوتی ہے، اگرچہ وہ مقصد غلط ہی ہو، ان کے اندر فی الجملہ شرافت ہوتی ہے برعکس اس کے جس کی مخالفت و موافقت محض اس کی ذات کے مفاد کے اردگرد گھومتی ہے وہ شرافت سے بالکل تہی ہوتی ہے۔ یہی رمز ہے کہ ابوجہل اور ابوسفیان کی مخالفت اور ابو لہب کے انداز مخالفت میں نمایاں فرق نظر آتا ہے اور یہی فرق ہے جو سبب ہوا اس بات کا کہ اس عدو کا ذکر خاص طور پر نام لے کر کیا جائے تاکہ لوگوں پر یہ حقیقت واضح ہو کہ کس کردار کے لوگ حق کے اصلی دشمن ہوتے ہیں اور اللہ تعالی ان کے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے حضرات انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا مزاج ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں وصل اور فصل کی بنیاد صرف اللہ کا دین ہے۔ وہ لوگ نبی کے ساتھی اور محبوب و محب بن جاتے ہیں جو اللہ کے دین کو اختیار کر لیتے ہیں اگرچہ وہ کتنے ہی دور کے ہوں اور وہ لوگ کاٹ پھینکے جاتے ہیں جو اللہ کے دین کے مخالف ہوتے ہیں، اگرچہ باعتبار نسب و رشتہ وہ نبی کے کتنے ہی قریبی ہوں۔ اسی حقیقت کے اظہار کے لیے قرآن مجید میں حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے باپ اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کے واقعات نہایت خاص اہتمام کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ اسی مقصد سے یہاں ابولہب کا ذکر خاص اہتمام کے ساتھ ہوا ہے تاکہ یہ حقیقت واضح کر دی جائے کہ اللہ تعالی کے نزدیک خاندان اور نسب کوئی چیز نہیں ہے۔ ایک گڈریا رسول کا محب اور محبوب بن سکتا ہے اگر وہ اس کی دعوت قبول کر لیتا ہے اور اگر اس کا چچا بھی اس کی دعوت کو رد کر دے تو اس کا تعلق بھی اللہ اور رسول سے یک قلم ختم ہو جاتا ہے۔ سورۂ کافرون میں اہل کفر سے براء ت کا جو اعلان ہے یہ گویا اس کی عملی شہادت ہے۔ ایک اور سوال اور اس کا جواب: یہاں ایک سوال یہ بھی سامنے آتا ہے کہ ابو لہب کے اقتدار کے زوال کی پیشین گوئی کے لیے تو ’تَبَّتْ یَدَآ أَبِیْ لَہَبٍ‘ کے الفاظ بظاہر بالکل کافی ہیں، پھر اس کے بعد ’وتب‘ کا لفظ لانے کا کیا خاص فائدہ ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے ٹکڑے میں اس کی سیاسی قوت کے ٹوٹ جانے کی پیشین گوئی ہے اور اس دوسرے میں اس کی اپنی ذات کے خاتمہ کی طرف اشارہ ہے۔ چنانچہ یہ پیشین گوئی ٹھیک ٹھیک اسی طرح پوری بھی ہوئی۔ غزوۂ بدر میں قریش کے جو سردار مارے گئے ان میں سے اس کے بہت سے خاص حامی تھے جن کی موت سے اس کی سیاسی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا۔ پھر غزوۂ بدر کے کچھ ہی بعد وہ خود چیچک میں مبتلا ہوا۔ اس بیماری کے دوران چھوت سے اندیشہ سے، نہ اس کے ساتھیوں نے اس کی خبر گیری کی نہ اس کے بیٹوں اور خاندان کے عزیزوں نے۔ اس بے کسی کے حال میں اس نے جان دی اور لاش کئی دن تک گھر ہی میں پڑی سڑتی رہی۔ بالآخر لوگوں کے طعنوں سے تنگ آ کر اس کے بیٹوں نے کرایہ کے کچھ حبشیوں کی مدد سے لاش مکہ کے بالائی حصہ میں پھنکوائی اور دور دور ہی سے اس پر پتھر وغیرہ ڈال کر ڈھانک دی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ کسی پر پتھر پھینکنا اس پر لعنت کرنے کے ہم معنی ہے۔ علاوہ ازیں یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ غزوۂ بدر میں، قریش کے سردار پورے جوش وخروش سے شریک ہوئے، لیکن ابولہب نے بزدلی کے سبب سے شرکت نہیں کی بلکہ ایک دوسرے شخص کو، جس پر اس کا کچھ قرض آتا تھا، جس کی وصولی کی توقع باقی نہیں رہی تھی، اس نے مجبور کیا کہ وہ اس قرض کے عوض میں اس کی طرف سے جنگ میں شریک ہو۔ چنانچہ وہ شریک ہوا اور غالباً مارا بھی گیا اور یہ بزدل گھر میں بیٹھا رہا لیکن یہ تدبیر بھی بھی اس کو موت سے بچانے میں کارگر نہ ہو سکی۔ اس جنگ کے تھوڑے ہی عرصہ بعد، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ چیچک میں مبتلا ہو کر نہایت ذلت کی موت مرا۔ ہمارے نزدیک ’وتب‘ کا لفظ اس کے اسی انجام کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ _____ ؂۱ اس گروپ کی سورتوں میں سے بھی متعدد سورتوں میں یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ مثلاً سورۂ بلد، سورۂ فیل اور سورۂ قریش وغیرہ میں۔
Ayah 111:2

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader

نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی۔

روپیہ کی بڑی سے بڑی مقدار بھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچا سکتی: روپیہ کے حریص روپیہ ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے ذہن کے اندر یہ خناس سما جاتا ہے کہ اگر روپیہ ہے تو وہ خدا کی گرفت سے بھی محفوظ ہیں۔ سورۂ ھمزہ میں زرپرست بخیلوں کی ذہنیت سے یوں پردہ اٹھایا گیا ہے: الَّذِي جَمَعَ مَالا وَعَدَّدَهٗ۔ يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهٗٓ أَخْلَدَهٗ۔ الھمزہ: ۲-۳ (جس نے مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا گمان کرتے ہوئے کہ اس کا مال اس کو ہمیشہ رکھے گا۔) ہم نے اس آیت کی تفسیر کے تحت لکھا ہے کہ یہ درحقیقت ابولہب اور اس کے ہم مشربوں کی تصویر ہے۔ اسی طرح کے لوگ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ انہیں خدا سے بھی سابقہ پیش آنے والا ہے اور وہ ان کو کسی ایسی آزمائش میں ڈال سکتا ہے جس سے روپیہ کی بےحقیقتی بالکل واضح ہو جائے گی۔ ابولہب اسی خبط میں عمر بھر پڑا رہا بالآخر اس پر وہ گردش آئی کہ اس نے اپنی آنکھوں دیکھ لیا کہ روپیہ کی بڑی سے بڑی مقدار بھی خدا کی پکڑ سے انسان کو نہیں بچا سکتی۔ ’وَمَا کَسَبَ‘ کی تاویل: ’وَمَا کَسَبَ‘ کی تاویل میں مفسرین سے کئی قول منقول ہیں۔ بعض لوگوں نے اس سے اس کے بیٹوں کو مراد لیا ہے۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ آخر میں، جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا ہے، اس کے بیٹے بھی اس کے کچھ کام نہ آئے لیکن اس تاویل میں تکلف ہے۔ بعض لوگوں نے اس سے اس کی وہ کمائی مراد لی ہے جو اس نے حرام راستوں سے حاصل کی، لیکن اس مفہوم کے لیے اول تو یہ لفظ کچھ موزوں نہیں ہے۔ ثانیاً ’مَآ أَغْنٰی عَنْہُ مَالُہٗ‘ کے بعد اس کی کچھ ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ہمارے نزدیک اس سے اس کے وہ اعمال مراد ہیں جو اس نے اپنی دانست میں نیکی کے سمجھ کے کیے لیکن اس کے خبث باطن اور شرک کے سبب سے وہ بھی رائگاں ہو گئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ وہ بیت اللہ کے شعبۂ مالیات کا انچارج تھا اس وجہ سے اسے غریبوں، مسکینوں اور حاجیوں کی خدمت کے کچھ کام کرنے ہی پڑتے تھے۔ لیکن یہ محض نمائش کے لیے مجبوراً نہ صرف اس غرض سے کیے جاتے کہ اس کی خیانتوں پر پردہ پڑا رہے۔ اس طرح کے کام خدا کے ہاں درخور اعتناء نہیں ٹھہرتے۔
Ayah 111:3

سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader

وہ بھڑکتی آگ میں پڑے گا۔

آخرت میں جس انجام سے وہ دوچار ہو گا: پچھلی دونوں آیتوں میں اس کا وہ حشر بیان ہوا ہے جو اس دنیا میں اس کے سامنے آیا۔ اب یہ اس کا وہ انجام بیان ہو رہا ہے جس سے وہ آخرت میں دوچار ہو گا۔ فرمایا کہ وہ بھڑکتی آگ میں پڑے گا۔ یہاں آگ کی صفت ’ذَاتَ لَہَبٍ‘ ہو گی۔ ’لَہَبٌ‘ کے معنی شعلہ کے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سرخ و سپید شعلہ رو تھا اس وجہ سے اس نے یا تو خود یہ کنیت اختیار کی یا اس کے خوشامدیوں نے اس سے اس کو پکارا اور یہ اتنی مشہور ہوئی کہ اس کا اصل نام۔۔۔ عبد العزّٰی۔۔۔ غائب ہو گیا۔ قرآن نے یہاں اس کا یہ انجام بیان کر کے یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اس دنیا میں اس کو اپنی جس شعلہ روئی پر ناز رہا آخرت میں یہ اس کے لیے وبال بنے گی۔ وہ شعلوں والی آگ میں جھونکا جائے گا جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ظاہر کا حسن کوئی فخر کی چیز نہیں ہے۔ بلکہ یہ آدمی کے لیے وبال بن سکتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ باطن کا حسن نہ ہو۔
Ayah 111:4

وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader

اس کی بیوی بھی ایندھن ڈھوتی ہوئی۔

فرمایا کہ اس کی بیوی بھی ایندھن ڈھوتی ہوئی اس کے ساتھ جہنم میں پڑے گی۔ عذاب میں اس کی بیوی کی یہ شرکت اسی صورت میں مطابق عدل ہے جب وہ بھی اس کے ان جرائم میں شریک رہی ہو جو اس کو جہنم میں لے جانے والے بنے۔ آدمی کے بیوی بچے بسا اوقات اس کے لیے ایسے جرائم کا سبب بن جاتے ہیں جو اس کی تباہی کا بھی سبب بنتے ہیں اور بیوی بچوں کی بھی۔ اسی بنا پر قرآن میں اہل ایمان کو خبردار کیا گیا ہے کہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَّکُمْ فَاحْذَرُوْھُمْ.(التغابن ۶۴: ۱۴) (اے ایمان والو، تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں بعض تمہارے دشمن بھی ہیں تو ان سے بچ کے رہو۔) بیوی بچوں کے دشمن ہونے کی شکل یہی ہو سکتی ہے کہ ان کی بے جا خواہشوں اور فرمائشوں کی تعمیل اور ان کی غلط نازبرداریوں کے فتنہ میں مبتلا ہو کر آدمی خدا کے احکام و حدود کی پاس داری سے غافل اور بخل و خیانت کا مرتکب ہو جائے۔ بیوی بچوں کو اسی پہلو سے فتنہ قرار دیا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے متنبہ فرمایا ہے کہ آدمی کی اولاد اس کو بخل اور بزدلی میں مبتلا کرنے والی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ابولہب کی بیوی بگڑی ہوئی بیگمات کی طرح فیشن کی دلدادہ، زیورات کی شوقین، دولت کی حریص اور نمائش کی رسیا تھی۔ اس نے ابولہب کے بگڑے ہوئے مزاج کو اور بگاڑا۔ یہاں تک کہ وہ بھی اسی عذاب کی مستحق ٹھہری جس میں اس کا شوہر داخل ہوا۔ ’حَمَّالَۃَ الۡحَطَبِ‘ کی تاویل: ’حَمَّا لَۃَ الْحَطَبِ‘ کی تاویل میں بڑا اختلاف منقول ہے۔ اکثر مفسرین کی رائے تو یہ ہے کہ یہ بطور ہجو و تحقیر، اس کی وہ حالت بیان ہوئی ہے جو اس کی اس دنیا میں تھی۔ وہ لونڈیوں کی طرح گلے میں رسی ڈال کر جنگل جاتی اور سر پر ایندھن کا گٹھڑ لاد کر لاتی۔ یہ قول سب سے زیادہ مشہور ہے لیکن یہ جتنا ہی مشہور ہے اتنا ہی خلاف عقل و قیاس ہے۔ یہ امر یاد رکھیے کہ عرب کی عنان حکومت قریش کے ہاتھ میں تھی۔ خاص طور پر بنی ہاشم تو پورے عرب کے سرتاج تھے۔ ابولہب یوں تو خاندانی صاحب ثروت و دولت تھا پھر اس زمانے میں، جس کا ذکر ہے، اس کو قریش کی مذہبی حکومت میں اتنا اونچا مقام حاصل ہو گیا تھا کہ یہ کہنا مبالغہ نہیں ہے کہ پوری حکومت عملاً اس کے انگوٹھے کے نیچے آ گئی تھی۔ کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے دولت مند لیڈر کی بیگم لونڈیوں کی طرح ایندھن ڈھونے کا کام کرے گی! ان لوگوں کا حال تو یہ تھا کہ ایک ایک خوش حال کے پاس درجنوں لونڈیاں اور غلام ہوتے اور ان کی بیگمات کی نازک مزاجی اس حد کو پہنچی ہوئی تھی کہ وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانا بھی کسرشان سمجھتی تھیں۔ ان کے عام آدمی بھی اپنے بچوں کو دوسرے قبیلوں کی دائیوں سے دودھ پلواتے۔ پھر ابولہب کی بیوی بھی کوئی معمولی عورت نہیں تھی۔ یہ ام جمیل بنت حرب، خاندان بنی عبدالشمس کی ایک نہایت باعزت خاتون تھی جو ہاشمی خاندان میں بیاہی گئی۔ اس کے شوہر کا جو مرتبہ حکومت میں تھا اس کا اعتبار کیجیے تو یہ کہنا مبالغہ نہیں ہو گا کہ اس کو اس وقت قریش میں وہی درجہ حاصل تھا جو اس زمانے میں کسی قوم کے اندر ان بیگم صاحبہ کو حاصل ہوتا ہے جو خاتون اول کہلاتی ہیں۔ غالباً انہی اعتراضات سے بچنے کے لیے بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ وہ خاردار جھاڑیاں لا لا کر نبی ﷺ کے دروازے پر ڈالتی تھی اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس کے اندر لگانے بجھانے کی عادت تھی جس کی تعبیر ’حَمَّا لَۃَ الْحَطَبِ‘ سے کی گئی ہے۔ یہ اقوال اس قدر کمزور اور عربیت سے اس درجہ بعید ہیں کہ ان پر تنقید کرنا محض اپنا اور قارئین کا وقت ضائع کرنا ہے، اس وجہ سے ہم ان سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اگر کسی کو تفصیل مطلوب ہو تو وہ مولانا فراہی علیہ الرحمۃ کی تفسیر میں ان پر تنقید پڑھ لے۔ ہمارے نزدیک ’حَمَّا لَۃَ الْحَطَبِ‘ ترکیب میں حال پڑا ہوا ہے اور اس کی یہ حالت اس وقت کی بیان ہوئی ہے جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ دوزخ میں پڑے گی۔ اس وقت اس کا حال اس مجرم کا سا ہو گا جواپنی سولی کا تختہ اور اپنے جلانے کا ایندھن خود اٹھائے ہوئے ہو۔ حال کے سوا کوئی اور ترکیب اس کی ازروئے عربیت صحیح نہیں ہو سکتی اور اس صورت میں وہ تمام اقوال ازخود بے معنی ہو جاتے ہیں جو اوپر مذکور ہوئے اس لیے کہ حالیت کی صورت میں ان کو قبول کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ قیامت کے دن مجرموں کا جو حال ہو گا اس کی تصویر قرآن میں جگہ جگہ کھینچی گئی ہے اس پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ’حَمَّا لَۃَ الْحَطَبِ‘ کے الفاظ سے جو تصویر ابولہب کی بیوی کی سامنے آتی ہے وہ ٹھیک ٹھیک اسی کے مطابق ہے۔ مثلاً فرمایا ہے: وَھُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَھُمْ عَلٰی ظُھُوْرِھِمْ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ.(الانعام ۶: ۳۱) (اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے اور سن لو کہ نہایت ہی بری چیز ہو گی جو وہ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔) اس سے زیادہ وضاحت سورۂ نحل میں ہے: لِیَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَھُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَھُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ.(النحل ۱۶: ۲۵) (تاکہ وہ اٹھائیں اپنے بوجھ قیامت کے دن پورے پورے اور ساتھ ہی ان لوگوں کے بوجھ کا بھی کچھ حصہ جن کو وہ بغیر کسی علم کے گمراہ کر رہے ہیں۔) اس سے معلوم ہوا کہ وہ اپنے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہو گی اور ابولہب کے جن گناہوں کی وہ محرک بنی ہو گی کچھ بوجھ ان کا بھی اس کو اٹھانا پڑے گا اور یہ بوجھ اس کے جلانے کے ایندھن کی صورت میں ہو گا۔ اس تفصیل سے یہ حقیقت بھی اچھی طرح واضح ہو گئی کہ ابولہب کی بیوی کے ذکر سے مقصود یہاں اس کی مذمت اور ہجو کر کے دل کو تسلی دینا نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے گمان کیا ہے، بلکہ اصل مقصود لوگوں، بالخصوص طبقۂ نسواں کو، اس کے انجام سے عبرت دلانا ہے کہ ایک بگڑی ہوئی عورت کس طرح اپنی تباہی کا بھی سامان کرتی ہے اور اپنے شوہر اور اپنی اولاد کی تباہی کا بھی۔ قرآن نے مردوں کے پہلو بہ پہلو عورتوں کا ذکر اسی لیے کیا ہے کہ ہر طبقہ اپنے طبقہ کے لوگوں کے حال اور انجام سے زیادہ بہتر طریقہ پر سبق حاصل کر سکتا ہے۔ یہ عورت دنیوی اعتبار سے چونکہ اونچے طبقہ سے تعلق رکھنے والی تھی اس وجہ سے اس کے انجام سے لونڈیاں اور بیگمات دونوں عبرت حاصل کر سکتی ہیں۔
Ayah 111:5

فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader

اس کی گردن میں بٹی ہوئی رسی ہوگی۔

ابولہب کی بیوی کے گلے کا ہار قیامت کے دن: یہ اسی تصویر کی تکمیل جو اس سے پہلے والی آیت میں کھینچی گئی ہے۔ یعنی اس کی گردن میں اس طرح کی موٹی رسی پڑی ہو گی جس طرح کی رسی ایندھن ڈھونے والی لونڈیوں کی گردن میں ہوتی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ اس آیت میں جو حالت اس کی بیان ہوئی ہے اس کو مفسرین آخرت کے متعلق مانتے ہیں، پھر تعجب ہے کہ اس سے پہلے والے ٹکڑے کو انھوں نے آخرت سے متعلق کیوں نہیں مانا جب کہ عربیت کے قاعدے سے ان دونوں کے درمیان ایسا اتصال ہے کہ ان کو کسی طرح الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔ لفظ ’مَسَدٌ‘ کھجور کے اس ریشے یا پتے یا چھلکے کے لیے بولا جاتا ہے جس سے مضبوط رسیاں بٹی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے یہ لفظ عام طور پر مضبوط اور موٹی رسی کے لیے بھی آتا ہے، خواہ وہ کھجور کے ریشے کی ہو یا چمڑے کی یا اس قسم کی کسی اور چیز کی۔ چرخی کی رسی کے لیے اس کا استعمال عام ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مضبوط اور موٹی رسی کے معنی میں معروف ہے۔ آیت کی ظاہر تاویل یہ ہے کہ جب وہ قیامت کے دن اٹھے گی تو اس کی گردن میں ایک مضبوط رسی پڑی ہو گی جو ایندھن ڈھونے والی لونڈیوں کی گردن میں پڑی ہوئی رسی کی طرح موٹی ہو گی۔ اب غور کیجیے کہ اس صفت کے اضافے سے کیا نئے حقائق روشنی میں آتے ہیں: ۱۔ اس میں ابولہب کی بیوی کی اس حالت کی وضاحت ہے جو لفظ ’حَمَّا لَۃَ الْحَطَبِ‘ میں بیان ہوئی ہے۔ ۲۔ اس میں اس ذلت کی تصویر ہے جس میں وہ قیامت کے دن گرفتار ہو گی۔ ۳۔ اس میں عمل اور نتیجۂ عمل کی موافقت کی طرف اشارہ ہے کہ جس ہار کو پہن کر وہ دنیا میں اتراتی تھی قیامت کے دن وہ بالکل موٹی رسی کی شکل میں بدل جائے گا، جس کے سبب سے اس کی مثال اس لونڈی کی ہو جائے گی جو گلے میں رسی ڈال کر لکڑیاں چننے جا رہی ہو۔ ۴۔ مغرور عورتیں آرائش کے ساتھ ساتھ نمائش کی بھی دلدادہ ہوتی ہیں اس وجہ سے سامان آرائش کے حجم اور وزن کا خاص خیال رکھتی ہیں، اس وجہ سے ضروری ہوا کہ رسی موٹی ہو۔