112. Surah Al-Ikhlaas
الإخلاصSincerity · 4 ayahsانوار البیان
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader
کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے
(112:1) قل ھو اللہ احد : قل فعل امر واحد مذکر حاضر، ای قل یا محمد ﷺ اے محمد ﷺ تو کہہ دے (ان کافروں سے)
ھو اللہ احد : ھو ضمیر شان مبتداء ہے اور آئندہ جملہ (اللّٰہ احد) اس کی خبر۔ (روح المعانی و تفسیر مظہری)
صاحب تفسیر مظہری فرماتے ہیں : ھو ضمیر شان مبتداء ہے اور آئندہ جملہ اس کی خبر ہے اس صورت میں مرجع کی ضرورت نہیں ہے
یا ھو ضمیر ہے اور اس رب کی طرف راجع ہے جس کے اوصاف سوال کرنے والوں نے پوچھے تھے۔
یعنی اے محمد ﷺ کہہ دو کہ میرے رب کے اوصاف جو تم پوچھتے ہو تو وہ اللہ ایک ہے۔ احد بدل ہے اللہ سے۔ یا ھو کی دوسری خبر ہے۔
احد اصل میں وحد تھا۔ وحد اور واحد دونوں ہم معنی ہیں۔ اگر ھو کو ضمیر شان اور اللہ کو مبتداء اور احد کو خبر کہا جائے تو کلام کی صحت ظاہری معنی پر مبنی نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ جزئی حقیقی کا نام ہے اور جزئی حقیقی میں یہ احتمال ہی نہیں ہوتا کہ چند اشخاص پر اس کا اطلاق ہو سکے۔ (مزید بحث کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر مظہری جلد دواز دہم)
ترجمہ ہوگا :۔ (اے نبی ﷺ ) آپ کہہ دیجئے اللہ یگانہ (یکتا) ہے۔
اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader
معبود برحق جو بےنیاز ہے
(112:2) اللہ الصمد۔ اللّٰہ مبتدائ۔ الصمد خبر۔ صمد کے لغت میں دو معنی ہیں :۔
اول :۔ قصدو ارادہ کرنے کے۔ اس تقدیر پر صمد بمعنی مصمود ہوگا۔ اس لئے کہ فعل بمعنی مفعول زبان عرب میں بکثرت مستعمل ہے۔ اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ ہر ایک کا مقصود ہے۔ ہر کوئی اس کی طرف قصد کرتا ہے۔
دوم :۔ صمد کے معنی ہیں ٹھوس کے کہ اس پر کوئی تغیر نہیں آتا۔ وہ قوی اور مستقل ہے اس تقدیر پر یہ لفظ واجب الوجود کے معنی میں ہے۔
یہ تو لغوی معنی کی تحقیق تھی۔ مگر عرف عرب میں یہ لفظ بہت سے معانی میں مستعمل ہے اس لئے مفسرین میں سے ہر ایک نے ایک ایک معنی اختیار کئے ہیں۔
(1) یہ وہ جمیع اشیاء کا جاننے والا ہے کس لئے کہ بغیر اس کے حاضت روائی کرنا ممکن نہیں ہے۔
(2) ابن مسعود کا قول ہے کہ اس کے معنی ہیں سردار کے۔ جو سب سے اعلیٰ سردار ہیں ۔
(3) اصم کہتے ہیں کہ صمد جمیع اشیاء کے خالق کو کہتے ہیں۔
(4) سدی کہتے ہیں کہ صمد اس کو کہتے ہیں کہ جو ہر کام میں مقصود اصلی ہو اور اس کی طرف فریاد لے جاتے ہوں۔
(5) حسین بن فضل کہتے ہیں کہ صمد وہ ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔
(6) صمد : فرد کامل اور بزرگ کو کہتے ہیں۔
(7) صمد : بےنیاز۔ کہ جس کو کسی کی کسی بات میں حاجت نہ ہو۔
(8) صمد : وہ کہ جس کے اوپر کوئی بالادست نہ ہو۔ (9) صمد : قتادہ کہتے ہیں کہ وہ جو نہ کھائے نہ پئے۔
(10) صمد : وہ جو مخلوق کے فناء ہوجانے کے بد بھی باقی رہے فنا نہ ہوجائے۔
(11) صمد : وہ ہے کہ جس کو زوال نہ ہو، جیسا تھا ہمیشہ ویسا ہی رہے۔ (حسن بصری)
(12) صمد : وہ ہے جو کبھی نہ مرے اور نہ کوئی اس کا وارث بنے۔ (ابی بن کعب)
(13) صمد : وہ ہے جو نہ کبھی سوئے نہ بھولے۔ (یمان، ابو مالک)
(14) صمد : وہ ہے کہ کوئی دوسرا اس کی صفات سے متصف نہ ہو۔
(15) صمد : وہ ہے جو بےعیب ہو۔ (مقاتل بن حیان)
(16) صمد : وہ ہے کہ جس پر کوئی آفت نہ آئے۔ (ربیع بن انس)
(17) صمد : وہ ہے جو اپنی جمیع صفات اور افعال میں کامل ہو۔ (سعید بن جبیر)
(18) صمد : وہ ہے جو غالب رہے کبھی مغلوب نہ ہو۔ (جعفر صادق)
(19) صمد : وہ ہے جو سب سے بےنیاز اور سب سے بےپرواہ ہو۔ (حضرت ابوہریرہ ؓ
(20) صمد : وہ ہے جس کی کیفیت اور ریاضت کرنے سے مخلوق عاجز ہو۔ (ابوبکر وراق)
(21) صمد : وہ ہے کہ جو کسی کو نظر نہ آسکے۔ (22) صمد : وہ ہے جو نہ کسی کو جنے اور نہ کسی نے اس کو جنا ہو۔
(23) صمد : وہ ہے وہ بڑا کہ جس کے اوپر کوئی بڑا نہ ہو۔
(24) صمد : وہ ہے جو زیادتی اور نقصان سے پاک ہو۔
(25) چند اور صفات قرآن مجید میں اسی سورت میں آئی ہیں :۔
(1) لم یلد : کہ اس نے کسی کو نہیں جنا۔ یعنی وہ کسی کا باپ نہیں ہے۔
(2) ولم یولد : اور وہ کسی سے پیدا بھی نہ ہوا۔ یعنی کوئی اس کا باپ نہیں۔
(3) ولم یکن لہ کفوا احد : وہ اس سے بھی پاک ہے کہ کوئی اس کا مثل اور ہمسر اور کینہ و قبیلہ ہو۔ (تفسیر حقانی سے)
اللّٰہ احد کہنے کے بعد اللّٰہ الصمد اور بعد والے جملے کہنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ اللّٰہ احد کے اندر یہ تمام معانی موجود ہیں ہاں ان جملوں کو مزید تاکید کی طرح قرار دیا جاسکتا ہے۔
لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader
نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔
(112:3) لم یلد ولم یولد مضارع معروف نفی جحد بلم اور مضارع مجہول نفی جحد کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ولادۃ (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی جننا یہ دونوں جملے الصمد کی تفسیر ہیں۔ یعنی الصمد وہ ہے جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ اس کو کسی نے جنا۔
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں
(112:4) ولم یکن لہ کفوا احد اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔
واؤ عاطفہ۔ لم یکن مضارع معروف نفی جحد بلم۔ فعل ناقص۔ احد اسم کان اور اس کی خبر کی دو صورتیں ہیں :۔
(1) یہ کفوا کان کی خبر ہے اور لہ متعلق کان ہے۔
(2) لہ کان کی خبر ہے اور کفوا حال ہے۔ احد سے ای ولم یکن لہ احد کفوا۔ مرتبہ میں برابر۔ مساوی القدر۔
فضائل اس سورة کے بیشمار ہیں خدا تعالیٰ ہم سب کو نصیب میں فرمائے۔ امین۔