112. Surah Al-Ikhlaas

الإخلاصSincerity · 4 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 112:1

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader

کہو (ان سے اے پیغمبر ! ) کہ وہ اللہ ہے یکتا

1 ۔ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو وہ معبود برحق اللہ ہے، یعنی جس کے بارے میں تم لوگ مجھ سے پوچھتے ہو کہ وہ کیسا ہے، اور جس کی عبادت و بندگی میں تم کو دیتا ہوں، جس کے حضور میں خود سجدہ ریز ہوتا ہو اور جو معبود برحق ہے، روایات میں ہے کہ مشرکین مکہ کے کچھ لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا صف لنا ربک الذی تدعونا الیہ ( یعنی آپ ہمارے لیے اپنے اس بار کی صفت بیان کریں جس کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں) اور بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ آپ کا رب سونے یا چاندی کا ہے، یا تانبے اور پیتل کا ؟ وغیرہ۔ اور ظاہر ہے کہ پیکر محسوس کے خوگر اس ناقص انسان کی عقلی اور فکری پرواز اس کے سوا اور ہو ہی کیا سکتی ہے ؟ بہرکیف اس طرح کے سوالات کے جواب میں سو سورة کریمہ میں عقیدہ توحید کو اس طرح واضح طور پر اور نکھار کر پیش فرما دیا گیا کہ آج دوسرے مذاہب کے انصاف پسند لوگوں کو بھی یہ ماننا اور تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ صحیح عقیدہ توحید سے سب سے پہلے اور سب سے کامل طور پر، قرآن نے ہی دنیا کو روشنا کرایا ہے، اور بعض روایات کے مطابق بعض لوگوں نے عربوں کی عام عادت اور رواج کے مطابق آپ سے کہا : انسب لنا ربک " کہ آپ ہمارے سامنے اپنے رب کا نسب بیان کریں، کہ وہ کس کا بیٹا اور کس کا پوتا ہے، اس کے باپ کا نام کیا ہے اور دادے کا کیا ؟ وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ عربوں کے یہاں یہ رواج تھا اور آج بھی ہے کہ وہ اپنا نام ثلاثی بتاتے اور پوچھتے ہیں، یعنی اپنا نام، اپنے باپ کا نام اور اپنے دادے کا نام، ان کا یہ رواج آج بھی اسی طرح موجود ہے، مثلا وہ جب اپنا نام بتاتے ہیں تو کہتے ہیں محمد، احمد، خلیفہ اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرا نام محمد ہے، باپ کا نام احمد، اور دادے کا خلیفہ ہے، تو اسی اعتبار اور اسی دستور کے مطابق ان مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے آپ کے رب کے بارے میں نسب کا سوال کیا، اور انسان اور اس کی محدودیت اور اس کی مادہپ پرست ذہنیت کی پرواز یہی کچھ ہوسکتی ہے، کہ وہ اپنے گردو پیش بکھرے پھیلے موجودات و محسوسات کے نقطہ نگاہ کے اعتبار سے ہی سوچ سمجھ اور پوچھ سکتا ہے، اور ان لوگوں کے سامنے یا تو اپنے خود ساختہ بت تھے، یا اپنے گردو پیش کا سماج اور ماحول، اس لیے انہوں نے ایسے ہی سوال کیے جس پر اس سورة کریمہ کو نازل فرما کر توحید خداوندی کی ہمیشہ کے لیے اس طرح نہایت ہی جامع اور عمدہ تشریح و توضیح فرما دی گئی کہ اس بارہ کوئی خفا غموض باقی نہیں رہتا، اور عقیدہ توحید کی ایسی جامع مانع اور بےمثال تعریف فرما دی کہ دوسرے کسی بھی دین و مذہب میں اور کہیں بھی اس کا عشر عشیر بھی نہیں مل سکتا، اسی لیے اس سورة کریمہ کا مرتبہ و مقام بھی بہت بڑا ہے، اس کو لسان نبوت کے ذریعے ثلث قرآن برابر بتایا گیا ہے، اور ایک صحابی نے جب عرض کیا " انا احبھا " یعنی مجھے یہ سورت بہت محبوب اور پیاری ہے، تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا " حبک ایاھا ادخلک الجنۃ " یعنی اس سورة کریمہ سے تمہاری اس محبت نے تم کو جنت میں داخل کردیا، سبحان اللہ۔ کیا ہی شان کرم و عطا ہے اس وحدہ لاشریک اکرم الاکرمین کی جل وعلا کی۔ اور کس قدر عظیم الشان ہے توحید خداوندی کا عقیدہ، سبحانہ و تعالی، جو کہ انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے اس طرح سرفراز کرتا اور اس کی خوش خبری سے اس قدر واضح طور پر اور ٹھوس انداز میں نوازتا اور آگہی بخشتا ہے، اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وانت العزیز الوھاب۔ 2 ۔ اللہ یکتا و بےمثال ہے، سبحانہ وتعالی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ یکتا اور ہر اعتبار سے بےمثال و یکتا اور وحدہ لا شریک ہے، نہ اس کی ذات وصفات میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے اور نہ اس کے حقوق و اختیارات میں، واضح رہے کہ یہ کلمہ احد کا غیر معمولی اور ایک منفرد نوعیت کا استعمال ہے، کیونکہ عربی زبان کے عام قاعدے کے مطابق یہ کلمہ یا تو مضاف ہو کر آتا ہے، جیسے " فابعثوا احدکم " یا مضاف الیہ بنکر جیسے " یوم الاحد " میں ہے یا عموم نفی کے لیے آتا ہے، جیسے " ما جاءنی احد " ( میرے پاس کوئی بھی نہیں آیا " یا جملہ استفہامیہ میں جیسے آتا ہے " ھل عندک احد " ( کیا تمہارے پاس کوئی موجود ہے) یا جملہ شرطیہ میں آتا ہے جیسے " ان جائک احد " (اگر تمہارے پاس کوئی آیا) یا عدد و گنتی میں جیسے " احد یا احد عشر " وغیرہ لیکن ان عام استعمالات کے علاوہ اس لفظ کا اس طرح صفت کے طور پر اور اثبات میں استعمال اور کہیں نہیں پایا جاتا، سوائے اس کے کہ حضرت حق جل مجدہ کے لیے استعمال ہوا ہے، جیسا کہ یہاں سورة اخلاص میں پایا جاتا ہے، اور جیسا کہ حضرات محققین نے اس کی تصریح کی ہے ( روح، ابن کثیر، قرطبی، کبیر، راغب اور محاسن وغیرہ) سو اس سے یہ مفہوم و مدعا واضح ہوتا ہے کہ اللہ پاک سبحانہ وتعالی اپنی ذات وصفات اور اپنے حقوق و اختیارات وگیرہ ہر اعتبار سے ہر قسم کے شرک اور اس کے ہر شائبے سے پاک و منزہ اور اعلی وبالا ہے اور اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ہم نے اس کا ترجمہ " یکتا " کے لفظ سے کیا ہے، پھر ترکیب کے لحاظ سے یہاں ایک صورت تو یہ ہوسکتی ہے کہ ھو مبتدا اور اللہ اس کی پہلی خبر ہو، اور احد اس کی دوسری خبر، ہمارا یہ ترجمہ اس پر مبنی ہے اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس کو مبتدا محذوف کی خبر قرار دیا جائے یعنی " ھو احد " ( وہ یکتا ہے) اور تیسرا یہ کہ ھو ضمیر شان ہو اور اللہ الصمد جملہ اس کی خبر ( جامع البیان، محاسن التاویل، مدارک التنزیل وغیرہ) بہرحال فرمایا گیا کہ اللہ یکتاب ہے اس کا کسی بھی طرح کا کوئی شریک نہیں، سو جو اس کے ساتھ دوسروں کو شریک مانتے ہیں اور وہ حق اور حقیقت کے خلاف اور قطعی طور پر ناحق اور ناروا بات کہتے اور ظلم عظیم کا ارتکاب کرتے ہیں جس کا نتیجہ و انجام نہایت بڑا اور انتہائی مہیب ہوگا، والعیاذ باللہ العطیم من کل شائبۃ من شوائب الشرک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء السبیل فعلیہ نتوکل و بہ نستعین وفی کل ان و حین۔
Ayah 112:2

اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader

اللہ سب سے بےنیاز ہے اور باقی سب (ہر طرح سے اور ہمہ وقت) اس کے محتاج

3 ۔ صمد کا معنی و مطلب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ " صمد " ہے، یعنی اللہ سب سے بےنیاز اور باقی سب اس کے محتاج ہیں سو یہ پوری عبارت لفظ " الصمد " کا ترجمہ اور اس کا مفہوم ہے، کیونکہ " صمد " جیسا کہ کتب تفسیر و لغت میں تصریح ہے اصل میں اس بڑے سردار کو کہا جاتا ہے جس کے اوپر کوئی اور سردار نہ ہو، اور سب لوگ اپنی حوائج و ضروریات میں اسی کی طرف رجوع کرتے ہوں ( روح، جامع البیان، قرطبی، ابن کثیر وغیرہ) سو اس اعتبار سے اس لفظ (یعنی الصمد) کا اصل حقیقی اور کامل مصداق ایک اور صرف ایک ہے، یعنی " حق جل جلالہ وعم نوالہ " کہ وہی ذات وحدہ لاشریک ایسی ہے جو ہر کسی سے ہر اعتبار سے اور ہر وقت غنی و بےنیاز ہے، اور باقی ہر کوئی اور سب کچھ ہر لحاظ سے اسی وحدہ لاشریک کا محتاج ہے اور ہر لحاظ سے اس کا محتاج ہے، یعنی اپنے وجود اور اپنی بقاء وغیرہ کے لیے وہ ہر حال میں ہر وقت اور ہر اعتبار سے اسی غنی مطلق سبحانہ و تعالیٰ کا محتاج بلکہ سراپا احتیاج ہے، سو بڑے ہی خسارے اور قطعی گمراہی میں پڑے ہیں وہ لوگ جو اس رب ذوالجلال سے منہ موڑ کر اوروں کے آگے جھکتے اور طرح طرح سے ذلیل و خوار ہوتے ہیں، والعیاذ باللہ۔ یہاں پر یہ حقیقت بھی واضح رہنی چاہیے کہ احد کے بعد صمد کا ذکر ایسے ہی ہے جیسے غنی کے بعد حمید کی صٖت کا ذکر وبیان۔ کیونکہ غنی کی صفت سے اللہ تعالیٰ کی بےنیازی کا جو تصور ذہن میں آتا ہے اس سے بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے بالکل لا تعلق ہے، والعیاذ باللہ جل وعلا۔ اور اس غلط فہمی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کو اپنی رسائی سے بالاتر سمجھ کر دوسروں کے سہارے ڈھونڈنے لگتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں وہ ہولناک انجام سے دوچار ہوتے ہیں، اور اس کے حضور رسائی کے لیے وہ طرح طرح کے من گھڑت اور خود ساختہ وسیلے اور واسطے گھڑنے میں لگ جاتے ہیں، اور اس طرح وہ طرح طرح کی شرکیات میں مبتلا ہوجاتے ہیں، تو ایسے لوگوں کی اس غلط فہمی کے ازالے کے لیے دوسرے مختلف مقامات پر اللہ تعالیٰ کی صفت غنی کے بعد حمید کی صفت کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعینہ اسی طرح یہاں پر " احد " کے بعد " صمد " کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ پس وہ وحدہ لا شریک ہر طرح سے یکتا ہونے کے باوجود " صمد " بھی ہے، اس لیے وہ اپنی مخلوق کی سب حاجتیں پوری کرتا ہے، اور اس کی مخلوق کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان کو عطا فرماتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ (ابراہیم 34 پ 13) یعنی اس نے تم لوگوں کو ہر وہ چیز دی جس کا تم نے اس سے سوال کیا اور اگر تم لوگ اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو تو کبھی گن کر پورا نہیں کرسکو گے، بلاشبہ انسان بڑا ہی ظالم، نہایت ہی ناشکرا ہے، والعیاذ باللہ العظیم فایاہ نسال التوفیق لما یحب ویرضی من القول والعمل، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب فبیہ ثقتنا وعلیہ الاعتماد۔
Ayah 112:3

لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader

نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے

4 ۔ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں، سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی کوئی اولاد نہیں کیونکہ اولاد کے لیے تجانس ضروری ہوتا ہے اور اس وحدہ لا شریک کا کوئی ہم جنس ہے ہی نہیں کہ وہ خالق واجب الوجود اور زلی اور ابدی ہے، جبکہ اس کے سوا باقی تمام مخلوق ممکن الوجود مسوق باعدم اور فانی ہے، نیز اولاد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بیوی ہو، اور اس کی کوئی بیوی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے، وہ ایسے تمام رشتوں اور اس طرح کے تمام تصورات و علامات سے پاک اور برتر وبالا ہے، سبحانہ و تعالی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں فرمایا گیا بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ (الانعام 101 پ 7) یعنی وہ بغیر نمونے اور مثال کے بنانے والا ہے، آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کا، اس کی کوئی اولاد کس طرح ہوسکتی ہے، جبکہ اس کی کوئی بیوی ہی نہیں ؟ نیز اولاد کی ضرورت حاجت مندوں اور ضرورت مندوں کو ہوتی ہے، تاکہ ان کو مرض اور بڑھاپے وگیرہ میں کام آئے، نیز اس کی نسل اور اس کے نام و نشان کو باقی رکھے، جبکہ وہ وحدلہ لاشریک اس طرح کے تمام تصورات و تخیلات سے پاک و منزہ اور ارفع و اعلی اور بلند وبالا ہے، سو ا سے ان سب باطل پرستوں کی تردید ہوگئی، جنہوں نے کسی بھی طرح اور کسی بھی شکل میں اس کے لیے اولاد تجویز کی، خواہ وہ یہود ہوں جنہوں نے حضرت عزیر کو اللہ کا بیٹا مانا، یا نصاری ہوں جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیا، یا مشرکین مکہ ہوں جنہوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں تجویز کیا، یا امت محمدیہ کا یہ کلمہ گو مشرک جنہوں نے ایمان و اسلام کے بلند بانگ دعو وں کے باوجود اسی طرح کے مختلف شرکیہ عقائد کو اپنا رکھا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ پس اس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ ہی ایسا ہونا ممکن ہے، کہ وہ ایسے ہر تصور سے پاک اور اعلی وبالا ہے۔ سبحانہ وتعالی فلہ الحمد۔ 5 ۔ اللہ تعالیٰ خود کسی کی اولاد نہیں، سبحانہ وتعالی : سو ارشاد فرمایا گیا اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے، کیونکہ کسی کی اولاد ہونا مستلزم ہے امکیان وجود و حدوث اور سبق عدم کو، جبکہ سبحانہ وتعالی ازلی و ابدی ہے، پس نہ اس سے پہلے کسی کا ہونا ممکن ہے اور نہ اس کے بعد، بہرکیف ان کلمات کریمہ سے خداوند قدوس کی وحدانیت ویکتائی کو اس طرح آشکار اور بےنقاب کردیا گیا کہ اس کے بعد اس بارے میں کسی اشتباہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی، اور دنیا کو توحید کی یہ روشنی سب سے پہلے قرآن حکیم کے ذریعے ہی نصیب ہوئی جس کا اعتراف دوسرے مذاہب کے وہ لوگ بھی کرتے ہیں جن کے دل و دماغ تعصبات کی میل سے خالی ہیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ خود کسی کا جنا ہوا ہے، سو اس سے ان تمام دیو مالائی تصورات کی جڑ کٹ جاتی ہے جو ہندوؤں اور بدھوؤں وغیرہ مشرک قوموں کے یہاں ان کی خود ساختہ دیویوں اور دیوتاؤں کے بارے میں پائے جاتے ہیں، اور جن کے مطابق ان کے یہاں ان کی دیویوں اور دیوتاؤں کی اولاد و احفاد کے لیے چوڑے سلسلے پائے جاتے ہیں، سو حضرت حق جل مجدہ ایسے تمام تصورات سے پاک ہے، سبحانہ وتعالی۔ سو توحید کی یہ پاکیزہ تعلیم دین حنیف کے سوا اور کہیں ملنا ممکن نہیں، فالحمد للہ رب العالمین علی ھذا الفتح والعنایۃ فانہ لاتتم الصالحات الا بتوفی منہ جل وعلا ھو ھو الھادی الی الحق والرشاد۔
Ayah 112:4

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader

اور نہ کوئی اس کا (مساوی و) ہمسر ہے

6 ۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی ہمسر نہیں، سبحانہ وتعالی : سو ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے، کیونکہ وہ خالق ومالک اور سب سے برتر وبالا اور وراء الوراء ہے، جبکہ اس کے سوا باقی سب اس کی مخلوق اور مملوک ہے، تو پھر اس کا کوئی ہمسر کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ سو وہ مخلوق کی مشابہت کے ہر شائبہ سے پاک ہے، سبحانہ وتعالی کہ اس کی صفت و شان ہے، فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّمِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا ۚ يَذْرَؤُكُمْ فِيْهِ ۭ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ (الشوری 11 پ 25) پس وہ ہر شائبہ شرک اور مشابہت مخلوق سے پاک اور بالا ہے، سبحانہ وتعالی۔ سب کا خالق و پروردگار ہے اور باقی سب اس کی مخلوق اور اس کے محتاج ہیں، وہ ازلی و ابدی ہے، اور باقی سب فانی اور عارضی جب کچھ نہیں تھا تو وہ تھا اور جب کچھ نہیں ہوگا وہ ہوگا، وہ سب سے غنی و بےنیاز اور باقی سب اس کے محتاج اور ہر حال میں اور ہر اعتبار سے محتاج، اپنے وجود میں اس کے محتاج اور اپنی بقاء میں اس کے محتاج اپنے رزق روزی اور سامان عیش وبقاء میں اس کے محتاج اس کا کوئی ہمسر نہ ہے نہ ہوسکتا ہے، وہ ایسے ہر تصور سے پاک اور اعلی وبالا ہے۔ سبحانہ وتعالی فلا شرک لہ ولا ولد۔