112. Surah Al-Ikhlaas
الإخلاصSincerity · 4 ayahsتفسیر القرطبی
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader
کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے
شان نزول :۔ ترمذی حاکم وغیرہ کی روایتغ میں ہے کہ مشرکین مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کا نسب پوچھا تھا ان کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔ دوسری بعض روایات میں یہ سوال یہود مدینہ کی طرفم نسوب کیا ہے اسی لئے اس سورت کے مکی یا مدنی ہونے میں اختلاف ہے حضرت عبداللہ بن مسعود، حسنب صری، عطار، عکرمہ، جابر ؓ نے اس کو مکی کہا ہے اور قتادہ، ضحاک وغیرہ نے مدنی، حضرت ابن عباس کے دو قول منقول ہیں (قرطبی)
بعض روایات میں ہے کہ مشرکین کے سوال میں یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کس چیز کا بنا ہوا ہغے سونا چاندی یا اور کچھ، ان کے جاب میں یہ سورت نازل ہوئی۔
فضائل سورت :۔ امام احمد نے حضرت انس سے روایت کیا ہے غ کہ ایک شخص رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے اس سورت (یعنی سورة اخلاص) سے بڑی محبت ہے آپ نے فرمایا کہ اس کی محبت نے تمہیں جنت میں داخل کردیا (ابن کثیر)
ترمذی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ سب جمع ہوجاؤ میں تمہیں ایک تہائی قرآن سنائوں گا جو جمع ہو سکتے تھے جمع ہوگئے تو آپ تشریف لائے اور قل ہو اللہ احد الخ کی قرات فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ سورت ایک تہائی قرآن کی برابر ہے (رواہ مسلم فی صحیحہ) ابوداؤ، ترمذی، نسائی نے ایک طویل حدیث میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص صبح اور شام قل ھو اللہ احد اور معوذتین پڑھ لیا کرے تو یہ اس کے لئے کافی ہے اور ایک روایت میں ہے کہ یہ اس کو ہر بلا سے بچانے کے لئے کافی ہے (ابن کثیر)
امام امد نے حضرت عقبہ ابن عامر سے رایت کیا ہغے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو ایسی تین سورتیں بتاتا ہوں کہ جو تو رات، انجیل، زبور اور قرآن سب میں نازل ہوئی ہیں اور فرمایا کہ رات کو اس وقت تک نہ سوؤ جب تک ان تنیوں (معوذتین اور قل ہو اللہ احد) کو نہ پڑھ لو۔ حضرت عقبہ کہتے ہیں کہ اس وقت سے میں نے کبھی ان کو نہیں چھوڑا (ابن کثیر)
قل ھو اللہ احد لفظ قل میں اشارہ ہے رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کی طرف کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کا حکم ہو رہاے اور لفظ اللہ اس ذات کا نام غ ہے جو واجب الودود ہی اور تمام کمالات کا جامع اور تمام نقائص سے پاک ہے۔ احد اور واحد ترجمہ تو دونوں کا ایک ہی کیا جاتا ہے مگر مفہوم کے اعتبار سے لفظ احد کے معنے میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ترکیب اور تزیہ سے اور تعدد سے اور کسی چیز کی مشابہت اور مشاکلت سے پاک ہے یعنی وہ کسی ایک یا متعدد مادوں سے نہیں بنا، نہ اس میں تعدد کا کوئی امکان ہے نہ کسی کے مشابہ ہے، یہ جواب ہوگیا ان لوگوں کا جو اللہ تعالیٰ کے متعلق پوچھتے تھے کہ وہ سونے چاندی کا ہے یا کسی جوہر کا۔ اس ایک مختصر جملہ میں ذات وصفات کے سب مباحث آگئے اور لفظ قل میں نبوت و رسالت کا مسئلہ آگیا، اس میں غور کرو تو یہ ایک مختصر جملہ ان عظیم الشان مباحث کو حاوی میں جو بڑی بڑی جلدوں میں لکھے جاتے ہیں۔
اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader
معبود برحق جو بےنیاز ہے
اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ (اردو میں اس کا ترجمہ بےنیاز کیا جاتا ہے یعنی جو محتاج نہیں) روح المعانی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ھو المستغنی عن کل احد المتحاج الیہ کل احد نقل کیا ہے لفظ بےنیاز اس کا آدھا ترجمہ ہے اس کے ساتھ یہ بھی کہنا چاہیے کہ جس کے سب محتاج ہیں، لفظ الصمد میں بہت بڑی معنویت ہے۔ صاحب روح المعانی نے ابن الانباری سے نقل کیا ہے کہ اہل لغت کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ الصمد کا معنی یہ ہے : انہ السید الذی لیس فوقہ احد الذی یصمد الیہ الناس فی حوائجھم وامورھم (یعنی صمد وہ سردار ہے جس سے برتر وبالا کوئی نہیں جس کی طرف لوگ اپنی حاجتوں اور تمام کاموں میں متوجہ ہوتے ہیں) ۔
اس کے بعد حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے : ھو السید الذی قد کمل فی سوددہ والشریف الذی قد کمل فی شرفہ والعظیم الذی قد کمل فی عظمتہ والحلیم الذی قد کمل فی حلمہ والعلیم الذی قد کمل فی علمہ والحکیم الذی قد کمل فی حکمتہ وھو الذی قد کمل فی انواع الشرف والسودد (یعنی صمد وہ سید ہے جس کی سرداری مکمل ہے اور وہ شریف ہے جس کا شرف کامل ہے وہ عظیم ہے جس کی عظمت کامل ہے وہ حلیم ہے جس کا حلم پورا ہے اور وہ علیم ہے جس کا علم کامل ہے وہ حکیم ہے جس کی حکمت پوری ہے اور وہ ذات ہے جو شرف اور سرداری کے تمام انواع میں کامل ہے) یہ معنی بہت اشمل و اکمل ہے۔
لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader
نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔
یہاں پھر انسان نے ٹھو کر کھائی کہ خدا کو اپنے اوپر قیاس کر کے اس کے لیے اولاد تجویز کر بیٹھا حالانکہ یہ بات عقلاً بھی غلط ہے اور نقلاً بھی۔ عقلاً اس لیے غلط ہے کہ کسی کو خدا کا بیٹا ماننے کی صورت میں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ خدا کا جزء ہے کیونکہ بیٹا باپ کا جزء ہوتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ خدائی قابل تجزیہ اور قابل تقسیم ہے نیز اس سے لازم آئے گا کہ اس کی کوئی بیوی ہو اور کسی کی بیوی اس کی ہم جنس ہی ہو سکتی ہے لہٰذا ماننا پڑے گا کہ خدا کی بھی جنس ہے۔ ظاہر ہے اس سے زیادہ گھٹیا او لغو تصور خدا کے بارے میں اور کیا ہو سکتا ہے مگر اس صریح خلاف عقل تصور کو اہل مذاہب نے محض جذبات سے مغلوب ہو کر اور غلو کا شکار ہو کر قبول کرلیا اور خدا کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تجویز کیں۔ نقلاً یہ بات اس لیے غلط ہے کہ خد نے بندوں کی ہدایت کے لیے جو کتابیں بھی نازل فرمائیں ان میں توحید ہی کی تعلیم دی گئی تھی۔ ان کتابوں کے جو اجزاء ہمارے سامنے موجود ہیں ان میں سارا زور توحید ہی پر دیا گیا ہے۔ رہا بائیبل کا وہ حصہ جس میں حضرت مسیح کو خد کا بیٹا کہا گیا ہے تو اولاً یہ بات تورات زبور اور انجیل کی واضح اور بنیادی تعلیم کے خلاف ہے تورات بائیبل کے مجموعہ میں سب سے پہلی اور سب سے قدیم کتاب ہے اس لیے اس کی تعلیم کے خلاف اناجیل اربعہ کے بیان کی حیثیت تحریف ہی کی قرار پاتی ہے۔ ثانیاً اناجیل اربعہ میں جہاں حضرت مسیح کے لیے ” بیٹا “ کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں عمومیت کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کے لیے بھی خدا کے بیٹے کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں
مشرکین نے ہر زمانے میں خدائی کا یہ تصور اختیار کیا ہے کہ انسانوں کی طرح خداؤں کی بھی کوئی جنس ہے جس کے بہت سے افراد ہیں، اور ان میں شادی بیاہ اور توالد و تناسل کا سلسلہ چلتا ہے۔ اس جاہلانہ تصور سے انہوں نے اللہ رب العالمین کو بھی پاک اور بالا تر نہیں سمجھا اور اس کے لیے بھی اولاد تجویز کی۔ چناچہ اہل عرب کا یہ عقیدہ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ انبیاء (علیہم السلام) کی امتیں بھی اس جہالت سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ ان کے ہاں بھی کسی بزرگ انسان کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دینے کا عقیدہ پیدا ہوگیا۔ ان مختلف توہمات میں دو قسم کے تصورات ہمیشہ خلط ملط ہوتے رہے ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ جن کو وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رہے ہیں وہ اس ذات پاک کی نسبی اولاد ہے۔ اور بعض نے یہ دعوی کیا کہ جس کو وہ اللہ کا بیٹا کہہ رہے ہیں اسے اللہ نے اپنا متبنی بنایا ہے۔ اگرچہ ان میں سے کسی کی یہ جرات نہیں ہوئی کہ معاذ اللہ کسی کو اللہ کا باپ قرار دیں، لیکن ظاہر ہے کہ جب کسی ہستی کے متعلق یہ تصور کیا جائے کہ وہ توالد و تناسل سے پاک نہیں ہے، اور اس کے بارے میں یہ خیال کیا جائے کہ وہ بھی انسان کی طرح اس قسم کی کوئی ہستی ہے جس کے ہاں اولاد پیدا ہوتی ہے، اور جس کو لا ولد ہونے کی صورت میں کسی کو بیٹا بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے، تو پھر انسانی ذہن اس گمان سے محفوظ نہیں رہ سکتا کہ اسے بھی کسی کی اولاد سمجھے۔ یہی وجہ ہے کہ جو سوالات رسول اللہ ﷺ سے پوچھے گ 4 ے تھے ان میں ایک سوال یہ تھا کہ اللہ کا نسب کیا ہے ؟ اور دوسرا یہ کہ کس سے اس نے دنیا کی میراث پائی ہے اور کون اس کے بعد وارث ہوگا ؟
ان جاہلانہ مفروضات کا اگر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ منطقی طور پر بیان کو فرض کرلینے سے کچھ اور چیزوں کو بھی فرض کرنا لازم آتا ہے۔
اول یہ کہ خدا ایک نہ ہو، بلکہ خداؤں کی کوئی جنس ہو، اور اس کے افراد خدائی اوصاف، افعال اور اختیارات میں شریک ہوں، یہ بات خدا کی صرف نسبی اولاد فرض کرلینے ہی سے لازم نہیں آتی، بلکہ کسی کو متبنی فرض کرنے سے بھی لازم آتی ہے، کیونکہ کسی کا متبنی لا محالہ اس کا ہم جنس ہی ہوسکتا ہے، اور جب معاذ اللہ وہ خدا کا ہم جنس ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ خدائی کے اوصاف بھی رکھتا ہے۔
دوم یہ کہ اولاد کا کوئی تصور اس کے بغیر نہیں کیا جاسکتا کہ نر و مادہ میں اتصال ہو اور کوئی مادہ باپ اور ماں کے جسم سے نکل کر بچے کی شکل اختیار کرے۔ پس اللہ کے لیے اولاد فرض کرنے سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ بذات خود معاذہ اللہ فانی ہو اور باقی رہنے والی چیز خداؤں کی نسل ہو نہ کہ ذات خدا۔ نیز اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ تمام فانی افراد کی طرح نعوذ باللہ خدا کی بھی کوئی ابتدا اور انتہا ہو۔ کیونکہ توالد و تناسل پر جن اجناس کے بقاء کا انحصار ہوتا ہے ان کے افراد نہ ازلی ہوتے ہیں نہ ابدی۔
چہارم یہ کہ کسی کو متبنی بنانے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ایک لا ولد شخص اپنی زندگی میں کسی مددگار کا، اور اپنی وفات کے بعد کسی وارث کا حاجت مند ہوتا ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے لیے یہ فرض کرنا کہ اس نے کسی کو بیٹا بنایا ہے، اس ذات پاک کی طرف لازما وہی سب کمزوریاں منسوب کرنا ہے جو فانی اشخاص میں پائی جاتی ہیں۔