112. Surah Al-Ikhlaas

الإخلاصSincerity · 4 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 112:1

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہہ دو کہ وہ (یعنی) اللہ ایک ہے۔

[1] ایک مرتبہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اپنے رب کی صفات اور نسب بیان کیجئے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ [2] یعنی اپنی ذات وصفات میں یکتا ہے۔ کمال ذات یہ ہے کہ وہ واجب الوجود ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یہاں '' واحد '' کی بجائے '' احد '' استعمال کیا گیا ہے اگرچہ ترجمہ تو دونوں کا '' ایک '' ہی کیا جاتا ہے مگر مفہوم کے اعتبار سے '' احد '' کے معنی میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ کسی ایک یا متعدد مادوں سے نہیں بنا اور نہ اس میں کثرت کا کوئی امکان ہے اور نہ وہ کسی کے مشابہ ہے۔ اس لئے عربی زبان میں '' احد '' صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے۔
Ayahs 112:2–3

اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader

اللہ (سب سے) بےنیاز ہے۔

لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader

نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا

[3] یعنی سب اس کے محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔
Ayah 112:4

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader

اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔

[4] اصل میں لفظ '' کفو '' استعمال ہوا ہے جس کے لفظی معنی مثل اور مماثل کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ نہ کوئی اس کا مثل ہے نہ کوئی اس سے مشاکلت اور مشابہت رکھتا ہے۔