113. Surah Al-Falaq
الفلقThe Dawn · 5 ayahsتفسیر الکتاب
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader
(اے پیغمبر، ) کہو، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی،
[1] اصل میں '' رب الفلق '' استعمال ہوا ہے۔ فلق کے معنی پھاڑنے کے ہیں۔ یعنی وہ رب جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر صبح کی روشنی نمودار کرتا ہے۔
مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader
ہر چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے،
[2] یعنی تمام مخلوقات کے شر سے۔
وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader
اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھا جائے۔
[3] رات کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ یہی وقت جنات و شیاطین، موذی جانوروں اور حشرات الارض، چوروں اور ڈاکوؤں کے پھیلنے اور دشمنوں کے حملے کا وقت ہوتا ہے۔
وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader
اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے
[4] مراد ہیں جادوگر عورتیں جو ڈورے وغیرہ میں گرہ لگا کر اس پر جادو کے کلمات پڑھ کر پھونکتی ہیں۔ عورتوں کی تخصیص شاید اس وجہ سے کی گئی کہ جادو ٹونے کا کام عموماً عورتیں کرتی ہیں اور کچھ خلقتہ عورتوں کو اس سے مناسبت بھی زیادہ ہے۔
وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader
اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
[5] یعنی جب وہ حسد کی بناء پر ایذا رسانی کی کوشش کرے۔