111. Surah Al-Masad
المسدThe Palm Fibre · 5 ayahsتفسیر الکتاب
تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ Open ayah 111:1 in the Quran reader
ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ برباد ہوگیا۔
مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ Open ayah 111:2 in the Quran reader
نہ تو اس کا مال (ہی) اس کے کچھ کام آیا اور (نہ) جو کچھ اس نے کمایا تھا ( اس نے اس کو فائدہ پہنچایا) ۔
سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ Open ayah 111:3 in the Quran reader
وہ ضرور (دوزخ کی) شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا۔
[1] ابو لہب جس کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا رسول اکرم ﷺ کا حقیقی چچا تھا۔ سرخ رنگ کی وجہ سے اس کی کنیت ابو لہب مشہور تھی۔ قرآن نے اس کا اصل نام اس لئے نہیں لیا کہ وہ مشرکانہ تھا۔ علاوہ ازیں کنیت ابو لہب میں لہب جہنم سے ایک مناسبت بھی تھی۔ یہ شخص رسول اللہ ﷺ کا شدید دشمن اور اسلام کا نہایت سخت مخالف تھا۔ تبت یدآ ابی لہب وتب ایک پیشنگوئی ہے جس میں آئندہ پیش آنے والی بات کو ماضی کے صیغوں میں بیان کیا گیا ہے گویا اس کا ہونا ایسا یقینی ہے جیسے وہ ہوچکی ہو۔ اب فی الواقع وہی کچھ ہوا جو اس سورة میں چند سال پہلے بیان کیا جا چکا تھا۔ ہاتھ ٹوٹنے سے مراد جسمانی ہاتھ ٹوٹنا نہیں ہے بلکہ کسی شخص کا اپنے مقصد میں قطعی ناکام ہوجانا ہے جس کے لئے اس نے اپنا پورا زور لگا دیا ہو۔ جنگ بدر میں قریش کے اکثر و بیشتر وہ بڑے بڑے سردار مارے گئے تھے جو اسلام دشمنی میں ابو لہب کے ساتھی تھے۔ مکہ میں جب شکست کی خبر پہنچی تو اس کو اتنا رنج ہوا کہ وہ سات دن سے زیادہ زندہ نہ رہ سکا پھر اس کی موت بھی نہایت عبرتناک تھی۔ اسے شکم تحوکشہ (Malignant Pustule) عدسہ کی بیماری ہوگئی جس کی وجہ سے اس کے گھروالوں نے اسے چھوڑ دیا تھا کیونکہ انہیں چھوت لگنے کا ڈر تھا۔ مرنے کے بعد بھی تین روز تک کوئی اس کے پاس نہ آیا یہاں تک کہ اس کی لاش سڑ گئی اور بدبو پھیلنے لگی تو ایک روایت کے مطابق اس کے بیٹوں نے کچھ حبشیوں کو اجرت دے کر اس کی لاش اٹھوا دی اور انہی مزدوروں نے اس کو دفن کیا۔ دوسری روایت یہ ہے کہ اس کے بیٹوں نے ایک گڑھا کھدوایا اور لکڑیوں سے اس کی لاش کو دھکیل کر اس میں پھینکا اور اوپر سے مٹی ڈال کر اسے ڈھانک دیا۔
وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ Open ayah 111:4 in the Quran reader
اور (اس کے ساتھ) اس کی جورو (بھی) ، لگائی بجھائی کرنے والی۔
فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ Open ayah 111:5 in the Quran reader
اس کی گردن میں رسی ہوگی خوب بٹی ہوئی۔
[2] اصل الفاظ ہیں حمالتہ الحطب جن کے لفظی معنی ہیں لکڑیاں ڈھونے والی۔ عرب کے محاورے میں چغل خوری کرنے والے کو حمالتہ الحطب کہا جاتا ہے۔ جیسے کوئی لکڑیاں جمع کر کے آگ لگانے کا سامان کرتا ہے، چغل خور کا عمل بھی ایسا ہی ہے کہ وہ اپنی چغل خوری کے ذریعے لوگوں کو بھڑکاتا ہے۔