112. Surah Al-Ikhlaas

الإخلاصSincerity · 4 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 112:1–4

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader

کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے

اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader

معبود برحق جو بےنیاز ہے

لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader

نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader

اور کوئی اس کا ہمسر نہیں

(1۔ 4) قریش نے رسول اکرم ﷺ سے کہا کہ اپنے اللہ کے بارے میں کچھ بیان کرو کہ وہ سونے کا ہے یا چاندی کا اس پر یہ سورت نازل ہوئی کہ قریش سے فرما دیجیے اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے۔ اور وہ ایسا سردار ہے کہ سب اس کے محتاج ہیں یا یہ کہ وہ کھانے پینے سے بےنیاز ہے یا یہ کہ اس کا پیٹ نہیں، یا یہ مطلب ہے کہ اس کی ذات ہر قسم کے عیبوں سے پاک ہے یا یہ کہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور سب کو کافی ہے اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے کہ وراثت میں ملک ملا ہو اور نہ کوئی بادشاہت میں، یا یہ کہ صفات میں اس کے برابر ہے۔ شان نزول : سورة اخلاص ترمذی، حاکم اور ابن خزیمہ نے ابوالعالیہ کے طریق سے محمد بن کعب سے روایت کیا ہے کہ مشرکین نے حضور سے کہا اپنے پروردگار کا نسب بیان کریں اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور طبرانی اور ابن جریر نے جابر کی روایت سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس روایت سے سورت کے مکی ہونے پر استدلال کیا گیا ہے۔ اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہود حضور کے پاس آئے جن میں کعب بن اشرف اور یحییٰ بن اخطب تھا اور کہنے لگے اپنے پروردگار کی صفت بیان کریں اور ابن المنذر نے قتادہ سے اور ابن جریر نے سعید بن جبیر سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور اس سے اس سورت کے مدنی ہونے پر استدلال کیا گیا ہے۔ اور ابن جریر نے ابو العالیہ سے روایت کیا ہے کہ قتادہ نے بیان کیا کہ مختلف لوگوں نے کہا کہ اپنے پروردگار کا نسب بیان کرو چناچہ آپ کے پاس جبریل یہ سورت لے کر آئے اور ابی بن کعب کی روایت میں جو مشرکین کا لفظ آیا ہے اس سے یہی مراد ہیں یہ سورت مدنی ہے جیسا کہ ابن عباس ؓ کی روایت اس پر دلالت کرتی ہے اور دونوں روایتوں میں جو اختلاف ہو رہا تھا وہ ختم ہوگیا مگر ابوالشیخ نے کتاب الفقہ میں ابان کے واسطہ سے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ خیبر کے یہودی حضور کی خدمت میں آئے اور انہوں نے کہا کہ ابوالقاسم اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حجاب کے نور سے اور آدم کو کھکھناتی مٹی سے اور ابلیس کو دہکتی ہوئی آگ سے اور آسمان کو دھوئیں سے اور زمین کو پانی کے جھاگ سے پیدا کیا ہے تو آپ اپنے پروردگار کے بارے میں بتائیے حضور ﷺ نے ان کا کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ جبریل امین یہ سورت لے کر آئے۔