112. Surah Al-Ikhlaas
الإخلاصSincerity · 4 ayahsتفسیر القرآن الکریم
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ Open ayah 112:1 in the Quran reader
کہہ دے وہ اللہ ایک ہے۔
(1) قل ھو اللہ احد : اس کی ترکیب کئی طرح سے کی گئی ہے ، زیادہ واضح دو ہیں :(1)”ھو“ مبتدا ہے، لفظ ”اللہ“ پہلی خبر اور ”احد“ دوسری خبر۔ معنی یہ ہوگا :”(ہمارے جس رب کا نسب پوچھ رہے ہو) وہ اللہ ہے (وہ) ایک ہے۔“
(2) ”ھو“ مبدل منہ اور لفظ ”اللہ“ بدل، دونوں مل کر مبتدا اور ”احد“ خبر ہے۔ معنی یہ ہوگا :”وہ اللہ (جس کے متعلق تم پوچھ رہے ہو) ایک ہے۔“
(2) کائنات کے خلاق اور پروردگار کے بیشمار ناموں میں سے لفظ ”اللہ“ بطور علم یعنی اصل نام کے طور پر استعمال ہوتا ہے، باقی نام اس کی کسی نہ کسی صفت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس کی اصل ”الا لہ“ ہے،”الہ“ کا معنی معبود ہے۔ تو لفظ ”اللہ“ کا معنی یہ ٹھہرا کہ وہ خاص ہستی جو عبادت کے لائق ہے، کیونکہ اس میں کمال کی تمام صفات پائی جاتی ہیں۔”ھو اللہ احد“ کا معین یہ ہے کہ وہ رب جس کے متعلق تم پوچھ رہے ہو وہ کوئی نئی یا نامعلوم ہستی نہیں، بلکہ وہ اللہ ہے جسے تم بھی جانتے اور مانتے ہو ، وہی جو معبود برحق ہے اور وہ اللہ ایک ہے۔
(3) اللہ احد : اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کے تین معانی ہوسکتے ہیں اور تینوں یہاں درست ہیں، پہلا یہ کہ وہ ایک ذات ہے، دو یا تین یا زیادہ نہیں اور اس کی ذات میں تعدد نہیں، دوسرا یہ کہ وہ معبود برحق ہونے میں اکیلا ہے، اس کا کوئی ثانی یا شریک نہیں اور تیسرا یہ کہ وہ ایک ہے، اس کی تقسیم نہیں ہوسکتی اور نہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوسکتا ہے۔ اس ایک ہی آیت سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی بھی قسم کا شریک بنانے والوں کی تردید ہوگئی، خواہ وہ مجوس (آتش پرست) ہوں، جو دو خلاق مانتے ہیں، ایک خیر کا خالق (یزداں) اور دوسرا شر کا خلاق (اہرمن) ، خواہ تثلیث (تین خداؤں) کو ماننے والے ہوں، خواہ ہندو ہوں جو کروڑوں خالق (یزداں) اور دوسرا شرکا خالق (اہر من) ، خواہ تثلیث (تین خداؤں) کو ماننے والے ہوں، خواہ ہندو ہوں جو کروڑوں دیوتاؤں کو خدائی میں حصے دار مانتے ہیں اور خواہ وہ وحدت الوجود کیق ائل ہوں جو ہر چیز ہی کو اللہ مانتے ہیں، کیونکہ اگر ہر چیز ہی اللہ ہے یا ہر چیز میں اللہ ہے تو اللہ ایک تو نہ رہا جبکہ اللہ تعالیٰ کا تعارف ہی یہ ہے کہ وہ ایک ہے، اس میں تعدد اور کثرت نہیں۔
اسی طرح ان لوگوں کے عقیدہ کی بھی تردید ہوگئی جو اللہ کے علاوہ کسی کو عالم الغیب یا اختیار ات کا مالک سمجھ کر مدد کے لئے پکارتے ہیں اور انہیں خدائی اختیارات میں اللہ کا شریک بناتے ہیں۔
اسی طرح ان لوگوں کی بھی تردید ہوگئی جو اللہ کی ذات سے ٹکڑوں کے جدا ہونے کیق ائل ہیں، کوئی کہتا ہے عیسیٰ ؑ اللہ کے بیٹے ہیں، کوئی کہتا ہے غزیر ؑ اللہ کے بیٹے ہیں، کوئی کہتا ہے محمد ﷺ اللہ کے نور میں سے پیدا ہوئے ہیں، کیونکہ ان تمام صورتوں میں کوئی نہ کوئی ہستی اللہ کی شریک ٹھہرتیہے اور وہ ایک نہیں رہتا۔ میں نے ایک صاحب کی تقریر سنی، وہ کہہ رہے تھے :”نبی ﷺ اللہ کے نور میں سے نور ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کے نور میں سے نور کس طرح جدا ہوسکتا ہے ؟ میں آپ کو مثال سے سمجھاتا ہوں، دیکھیے ! یہ ایک موم بتی جل رہی ہے، اس میں سے ایک اور موم بتی جلا لیں تو کیا پہلی کے نور میں کوئی کمی واقع ہوگی ؟ ہرگز نہیں، اسی طرح نبی ﷺ اللہ کے نور میں نور ہیں اور اللہ کے نور میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔“ اس بےچارے نے یہ نہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے مثالیں بیان کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے :
(فلا تضربوا للہ الامثال، ان اللہ یعلم و انتم لاتعلمون) (النحل : 83)”پس تم اللہ کیلئے مثالیں مت بیان کرو، کیو کہ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔“ اور نہ یہ سمجھا کہ پلہی موم بتی میں کوئی کمی ہو یا نہ ہو، دو موم بتیاں تو بن گئیں، جب کہ اللہ ایک ہے اور نہ یہ سمجھا کہ اللہ کا نور نہ کسی سے نکلا ہے اور نہ اس سے کوئی نکلتا ہے۔ یہ عقیدہ تو بعینہ وہی عقیدہ ہے جو نصرانیوں نے عیسیٰ ؑ کے متعلق اختیار کیا۔
اسی طرح ”اللہ احد“ سے ان لوگوں کی بھی تردید ہوگئی جو کہتے ہیں کہ بندہ جب زیادہ عبادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس میں اتر آتا ہے، پھر وہ اللہ ہی بن جاتا ہے اور دلیل میں صحیح بخاری کی وہ حدیث پیش کرتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا فرمان نقل ہوا ہے کہ میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔ ان لوگوں نے سورة اخلصا پر غور نہ کیا کہ اس صورت میں اللہ ایک تو نہ رہا جبکہ اس کا سب سے پہلا تعارف ہی یہ ہے کہ وہ ایک ہے اور نہ اس حدیث کے آخر پر غور کیا جس میں واضح الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرا وہ بندہ اگر مجھ سے مانگے تو میں اسے دوں گا اور اگر مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے پناہ دوں گا۔ اگر ”من تو شدم تو من شدی“ کے مطابق اللہ اور بندہ ایک ہوگئے تو پھر مانگے گا کون اور دے گا کون ؟ پناہ مانگنے والا کون ہوگا اور پناہ دینے والا کون ؟
اسی طرح ان لوگوں کی بھی تردید ہوگئی جو کہتے ہیں کہ بندہ عبادت کرتے کرتے اللہ کے ساتھ اس طرح واصل ہوجاتا ہے کہ وہ وہی بن جاتا ہے، جس طرح لوہا گرم ہوتے ہوتے آگ بن جاتا ہے۔ اس غلطی کی بنیادی وجہبھی اللہ کے لئے مخلوق کی مثالیں بیان کرنا ہے، جبکہ اللہ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ ان بےچ اورں نے یہ نہ سوچا کہ آیت (اللہ احد) (اللہ ایک ہے) اس کی نفی کر رہی ہے، بندہ تو اللہ سے الگ ایک ذات ہے۔ مخلوق اور خالق دو ہیں ایک نہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، دو ایک کیسے بن گئے ؟ یہ تو وہی نصرانیوں والا عقیدہ ہے کہ باپ خدا، بیٹا خدا، روح القدس خدا ، مگر تین نہیں بلکہ ایک خدا۔ اللہ کے بندو ! دو یا تین ایک کیسے بن گئے ؟ الغرض، یہ ایسی مبارک سورت ہے کہ اللہ کی توحید کے خلاف جتنے بلکہ ایک خدا۔ اللہ کے بندو ! دو یا تین ایک کیسے بن گئے ؟ الغرض، یہ ایسی مبارک سورت ہے کہ اللہ کی توحید کے خلاف جتنے بلکہ ایک خدا۔ ے اللہ کے بندو ! دو یا تین ایک کیسے بن گئے ؟ الغرض ، یہ ایسی مبارک سورت ہے کہ اللہ کی توحید کے خلاف جتنے بلکہ ایک خدا۔ اللہ کے بندو ! دو یا تین ایک کیسے بن گئے ؟ الغرض، یہ ایسی مبارک سورت ہے کہ اللہ کی توحید کے خلاف جتنے بلکہ ایک خدا۔ اللہ کے بندو ! دوی ا تین ایک کیسے بن گئے ؟ الغرض، یہ ایسی مبارک سورت ہے کہ اللہ کی توحید کے لخاف جتنے عقیدے ہیں اور ان کی جتنی بھی توجیہیں کی جاتی ہیں، یہ اکیلی سورت بلکہ اس کی ایک آیت ہی ان کی تردید کے لئے کافی ہے۔ پھر اگر رسول اللہ ﷺ نے اسے قرآن کا ثلث (ایک تہائی) قرار دیا ہے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟
اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ Open ayah 112:2 in the Quran reader
اللہ ہی بےنیاز ہے۔
(1) اللہ الصمد :”الصمد“ کی تفسیر میں سلف کے کئی اقوال ہیں، ان کا خلاصہ تین اقوال میں آجاتا ہے :
(1) ”الصمد“ وہ سردار ہے جس کی طرف لوگ قصد کر کے جائیں، جس سے بڑا کوئی سردار نہ ہو۔ یہ ”صمد“ (ف، ن) (قصد کرنا) سے مشتق ہے۔ گویا ”الصمد“ بمعنی ”مصمود“ ہے۔ اکثر سلف نے یہی معنی کیا ہے۔ (2) جو کھاتا پیتا نہ ہو۔ (3) جس کا پیٹ نہ ہو جو کھوکھلا نہ ہو، جس سے کچھ نکلتا نہ ہو۔ اللہ پر تینوں معانی صادق آتے ہیں۔
(2) عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جب خبر پر الف لام آجائے تو کلام میں حصر پیدا ہوجاتا ہے۔ اگر ”اللہ صمد“ ہوتا تو معنی یہ تھا کہ اللہ صمد ہے۔ اب ”اللہ الصمد“ فرمایا، تو معنی یہ ہے کہ اللہ ہی ”صمد“ ہے، کوئی اور صمد نہیں۔ اس سے پہلی آیت میں ”اللہ احد“ فرمایا، جس کا معنی ہے اللہ ایک ہے۔ وہاں ”اللہ الا حد“ نہیں فرمایا کہ اللہ ہی ایک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں حصر کی ضرورت ہی نہیں تھی، کیونکہ وہ ہستی جو ایک ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ ہے ، کسی اور کو احد کہہ ہی نہیں سکتے۔ ہر ایک کا ثانی کسی نہ کسی طرح موجود ہے، کسی اور چیز میں اس کا ثانی نہ ہو تو مخلوق ہونے میں اس کے بیشمار ثانی موجود ہیں، اس لئے اس کائنات میں ایک ہستی صرف اللہ کی ہے، اسلئے وہاں حصر کی ضرورت ہی نہیں، جبکہ صمد ہونے کے دعوے دار بیشمار ہیں، جن کے پاس لوگ اپنی ضرورتوں کے لئے جاتے ہیں۔ اسلئے فرمایا اصل صمد صرف وہ ہے، کیونکہ دوسرے لوگ کتنے بھی بڑے سردار ہوں، لوگ ان کے پاس اپنی حاجتوں کے لئے جاتے ہوں، مگر وہ خود کسی نہ کسی کے محتاج ہیں۔ یہ صرف اللہ کی ہستی ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں، باقی سب اس کے محتاج ہیں، وہ سب کو کھلاتا ہے، خود کھانے کا محتاج نہیں، جیسا کہ فرمایا :
(وھو یطعم ولا یطعم) (الانعام : 13)”حالانکہ وہ کھلاتا ہے اور اسے نہیں کھلایا جاتا۔“ پھر نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔”الصمد“ کے اس مفہوم کو ”بےنیاز“ کا لفظ کافی حد تک ادا کرتا ہے۔
لَمْ یَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ Open ayah 112:3 in the Quran reader
نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔
(1) لم یلد، ولم یولد :”نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ کسی نے اس کو جنا“ اس آیت میں نصرانیوں کا رد ہے جو عیسیٰ ؑ کا بیٹا مانتے ہیں، یہودیوں کا رد ہے جو عزیز ؑ کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں، مشرکین عرب کا رد ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں مانتے ہیں، فلاسفہ کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ عقول عشرہ اللہ سے نکلی ہیں اور اب کائنات کا نظام وہ چلا رہی ہیں، ہندوؤں کا رد ہے جو کروڑوں کی تعداد میں مخلوق کو خدا مانتے ہیں اور ان مسلمان کہلانے والوں کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اور ائمہ اہل بیت اللہ تعالیٰ کے ذاتی نور سے پیدا ہوئے ہیں۔
(2) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے لئے اولاد کی نفی کے بہت سے دلائل بیان فرمائے ہیں، ان میں سب سے واضح چار ہیں، پہلی دلیل یہ ہے کہ اولاد لازماً باپ کی جنس سے ہوتی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی جنس ہی نہیں۔ اس آیت میں اسی دلیل کی طرف اشارہ ہے :(ماالمسیح ابن مریم الا رسول قدخلت من قبلہ الرسل، وامہ صدیقۃ کانا یاکلن الطعام) (المائدۃ : 85) ”نہیں ہے مسیح ابن مریم مگر ایک رسول، اس سے پہلے کئی رسول گزر گئے اور اس کی ماں صدیقہ ہے۔ وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔“ یعنی مسیح ابن مریم ؑ سے پہلے کئی رسول گزرے، وہ پہلے نہیں تھے، پھر پیدا ہوئے، وہ حادث تھے جب کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے۔ باپ اور اولاد کی جنس ایک ہوتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور عیسیٰ ؑ حادث ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کھاتا نہیں اور وہ دونوں کھاتے تھے۔ جنس ایک نہ رہی تو اولاد کیسے بن گئی ؟ دوسری دلیل یہ کہ والد اور اولاد اس لئے حاصل کرتا ہے کہ وہ اس کا محتاج ہوتا ہے اور اللہ کو کسی کی کوئی حاجت نہیں۔ اس آیت میں یہی فرمایا ہے :
(قالوا اتخذ اللہ ولداً سبحنہ ھوالغنی) (یونس : 68) ”انہوں نے کہا کہ اللہ نے اولاد پکڑی ہے، وہ پاک ہے، وہی تو غنی ہے۔“ یعنی وہی تو ہے جو غنی ہے، جسے کسی کی حاجت نہیں، وہ اولاد کیوں بنائے گا ؟ تیسری دلیل یہ کہ تمام مخلوق اللہ کے بندے اور غلام ہیں اور بندہ ہونا بیٹا ہونے کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتا، فرمایا :(وما ینبغی للرحمٰن ان یتخذ ولداً ، ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبداً) (مریم : 92، 93) ”اور رحمان کے لائق ہی نہیں کہ وہ اولاد پکڑے، آسمانوں میں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے رحمان کے پاس بندہ (غلام) بن کر آنے والا ہے۔“ یعنی رحمان کی اولاد کس طرح ہوسکتی ہے، جب کہ زمین و آسمان میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس غلام اور بندہ بن کر پیش ہونے والا ہے ؟ بیٹا ہو اور غلام بھی ممکن ہی نہیں۔ چوتھی دلیل یہ کہ اولاد اسی کی ہوتی ہے جس کی بیوی ہو اور اللہ تعالیٰ کی بیوی ہی نہیں تو اولاد کیسے ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(انی یکون لہ ولدو لم تکن لہ صاحبۃ) (الانعام : 101)”اس کی اولاد کیسے ہوگ ی جب کہ اس کی بیوی ہی نہیں۔“
(3) ابوہریرہ ؓ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(کذبنی ابن آدم ولم یکن لہ ذلک، وشمنی ولم یکن لہ ذلک، فاما تکذیبہ“ ایای فقولہ لن یعیدنی کما بدانی، ولیس اول الخلق باھون علی من اعادتہ واما شتمہ ایای فقولہ اتخذ اللہ ولداً ، وانا الاحد الصمد لم الد ولم اولد ولم یکن لی کفواً احد) (بخاری، التفسیر، سورة (قل ھو اللہ احد): 13983”ابن آدم نے مجھے جھٹلا دیا حالانکہ یہ اس کا حق نہ تھا اور اس نے مجھے گالی دی حالانکہ یہ اس کا حقن ہ تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا تو اس کا یہ کہنا ہے کہ جس طرح اس نے مجھے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے دوبارہ نہیں بنائے گا۔ حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا مجھے دوبارہ بنانے سے آسان نہیں ہے اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے اللہ نے اولاد بنئای ہے، حالانکہ میں احد ہوں، صمد ہوں۔ میں نے نہ کسی کو جنا، نہ کسی نے مجھے جنا اور نہ ہی کوئی میرے برابر کا ہے۔“
(4) ولد یولد :”اور وہ جنا نہیں یا“ یعنی کسی نے اس کو نہیں جنا، اس کا کوئی باپ نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کے سوال کا جواب ہے جنہوں نے کہا تھا کہ میں اپنے رب کا نسب بیان کیجیے، کیونکہ جو پیدا ہوگا وہ حادث ہوگا، ہمیشہ سے نہیں ہوگا اور اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(کان اللہ ولم یکن شیء قبلہ) (بخاری، التوحید، باب : (وکان عرشہ علی المائ)…: 8318)”اللہ تعالیٰ تھا اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی۔“ معلوم ہوا کہ جو ولادت کے مرحلے سے گزرا ہو یا خلق کے مرحلے سے گزرا ہو وہ اللہ نہیں ہوسکتا۔ غلط کہتے ہیں جو کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے اور ازلی (یعنی ہمیشہ سے) ہے، یا نبی ﷺ اللہ کے نور سے جدا ہوئے ہیں، مگر درحقیقت وہی ہیں اور ہمیشہ سے ہیں۔ غور کرنا چاہیے کہ جو پیدا ہوا وہ ہمیشہ سے کیسے ہوگیا ؟
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ Open ayah 112:4 in the Quran reader
اور نہ کبھی کوئی ایک اس کے برابر کا ہے۔
(1) ولم یکن لہ کفوا احد :”کفوا“ ہم مثل، جوڑ، جو برابر کا ہو۔”قل ھو اللہ احد“ کہنے سے اولاد اور کفو کی خود بخود نفی ہوجاتی ہے مگر ان کو پھر لاگ بھی ذکر فرمایا، جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت (98) :(من کان عدواً للہ وملئکتہ ورسلہ و جبرئیل ومیکال فان اللہ عدو للکفرین) (وہ شخص اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو بلاشبہ اللہ سب کافروں کا دشمن ہے) میں ملائکہ میں شامل ہونے کے باوجود جبریل اور میکائیل کو الگ ذکر فرمایا ہے۔ اس کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ دوبارہ ذکر کر کے اس کی طرف خاص توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہ اس سے مزید وضاحت اور تفصیل ہوجاتی ہے۔ ممکن ہے ایک شخص کو صرف ”قل ھو اللہ احد“ کہنے سے ان دونوں باتوں کی طرف توجہ ہی نہ ہوتی یا توجہ ہوتی بھی تو وہ اتنی وضاحت سے نہ سمجھ سکتا جتنی وضاحت سے وہ انہیں الگ ذکر کرنے سے سمجھا ہے۔ علم بلاغت میں اسے تجرید کہتے ہیں۔ (التہسیل)
(2) رسول اللہ ﷺ نے اس سورت کو قرآن کا ثلث قرار دیا ہے، یہ قرآن کا ثلث کس طرح ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے خود اس کی وضاحت نہیں فرمائی، اہل علم نے اپنے اپنے خیال کے مطابق ب اس کی توجیہ فرمائی ہے۔ بعض نے اس سے مراد ثواب لیا ہے، بعض نے فرمایا، قرآن مجید کے تین ثلث ہیں، ایک ثلث احکام، دوسرا وعد وعید اور تیسرا اسماء وصفات ہے اور اس سورت میں اسماء وصفات بیان ہوئے ہیں۔ بعض نے اللہ کی معرفت، آخرت کی معرفت اور صراط مستقیم کو قرآن کے تین ثلث قرار دے کر اللہ کی معرفت کو اس سورت کا موضوع قرار دیا ہے۔ بعض نے توحید، رسالت اور آخرت کو تین حصے قرار دیا اور اس سورت کو توحید کی جامع ہونے کی وجہ سے ثلث قرآن قرار دیا۔ یہ اختلاف خود اس بات کی دلیل ہے کہ ہر ایک نے اپنے ذہن سے ایک بات سوچی ہے، رسول اللہ ﷺ سے اس کی وضاحت نہیں آئی، ورنہ سب اس پر متفق ہوجاتے، اس لئے بہتر یہی ہے کہ اس بات پر ایمان رکھا جائے کہ یہ سورت قرآن کے ثلث کے برابر ہے اور یہ بات اللہ کے سپرد کردی جائے کہ ثلث کے برابر کس طرح ہے ؟
(3) رسول اللہ ﷺ صبح کی سنتوں میں ”قل یا یھا الکفرون“ اور ”قل ھو اللہ احد“ پڑھا کرتے تھے۔ (دیکھیے مسلم، صلاۃ المسافرین، باب استحباب رکعتی سنۃ الفجر…: 826) سورت (قل یایھا الکفرون) توحید عملی کی جامع ہے کہ میں اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتا ہوں، نہ کروں گا اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ میں کسی اور کی عبادت کروں اور سورت (قل ھو اللہ احد) توحید علمی کی جامع ہے کہ اللہ کے متعلق عقیدہ وعلم کیا ہونا چاہیے۔ (زاد المعاد)
کسی بھی قسم کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کے لئے سورة فلق اور سورة ناس جیسی کوئی چیز نہیں۔ ان سورتوں میں تمام جسمانی و روحانی آفات سے بچانے اور انہیں دور کرنے کی زبردست تاثیر موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سورتوں کی بہت فضیلت بیان فرمئای ہے، خصوصاً پناہ کے باب میں ان کو بےمثل قرار دیا ہے۔ یہاں چند احادیث درج کی جاتی ہیں :
(1) عقبہ بن عامر ؓ عنہماکہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(الم تر آیات انزلت اللیلۃ لم یرمثلھن قط :(قل اعوذ برب الفلق) و (قل اعوذ برب الناس) (مسلم صلاۃ المسافرین، باب فضل قراء ۃ المعودتین : 813) ”کیا تم نے وہ آیات نہیں دیکھیں جو آج رات نازل کی گئی ہیں، جن کی مثل کبھی دیکھی ہی نہیں کی گئی ؟ وہ سورة فلق اور سورة ناس ہیں۔“ (2) ابن عابس جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا :(الا اخیرک بافضل ما یتعود بہ المتعوذون ؟ قال بلی یا رسول اللہ ! قال :(قل اعوذ برب الفلق) و (قل اعوذ برب الناس) ماتین السورتین) (نسائی، الاستعاذۃ ، باب ماجاء فی سورتی المعوذتین : 5333)”کیا میں تمہیں سب سے بہتر وہ چیز نہ بتاؤں جس کے ساتھ پناہ پکڑنے والے پناہ پکڑیت ہیں ؟“ انہوں نے کہا :”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول !“ آپ ﷺ نے فرمایا :”قل اعوذ برب الفلق“ اور ”قل اعوذ برب الناس“ یہ دو سورتیں۔“
(3) عبداللہ بن حنیب ؓ عنہمابیان کرتے ہیں :(خرجنا فی لیلۃ مطیرۃ وظلمۃ شدیدہ نطلب رسول اللہ ﷺ یصلی لنا، قال فادر کتہ، فقال قل، فلم اقل سیئاً ثم قال قل، قلم اقل شیئاً ، قال قل، فقلت ما اقول ؟ قال قل (قل ھو اللہ احد) (والمعوذتین حین تمسی وتصبح ثلاث مرات تکفیل من کل شیء)
(ترذی، الدعوات، باب الدعائ، عند النوم : 3585، وقال الالبانی حسن)”ہم ایک بارش اور سخت اندھیرے والی رات میں نکلے، ہم رسول اللہ ﷺ کو تلاش کر رہے تھے، تاکہ آپ ہمیں نماز پڑھائیں۔ چناچہ میں آپ سے جا ملا، تو آپ نے فرمایا : ”کہو۔“ میں نے کچھ نہ کہا، آپ نے پھر فرمایا :”قل ھو اللہ احد“ اور معوذتین صبح و شام تین تین متربہ کہہ، یہ تجھے ہر چیز سے کافی ہوجائیں گی۔“ (4) ابو سعید خدری ؓ عنہمابیان کرتے ہیں :”معوذتین نازل ہونے سے پہلے رسول اللہ ﷺ جنوں سے اور انسان کی نظر سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب معوذتین اتریں تو آپ نے ان دونوں کو معمول بنا لیا اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیا۔“ (ترمذی، الاستعاذۃ، باب ما جاء فی الرقیۃ بالمعوذتین، 2058) ترمذی نے اسے حسن صحیح اور البانی نے صحیح کہا ہے۔
(5) عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے سول اللہ ﷺ سے معوذتین کے متعلق پوچھا۔ عقبہ فرماتے ہیں کہ (ہم نے یہ سوال کیا تو) رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ان دونوں سورتوں کے ساتھ صبح کی جماعت کروائی۔ (نسائی، الاستعاذۃ باب ما جاء فی سورتی السعوذتین : 5336، وصیححۃ الالبانی) اس سے معلوم ہوا کہ ان کا نام معوذتین معروف تھا اور یہبھی معلوم ہوا کہ آپ نے لمبی سورتوں کی جگہ انہیں کافی قرار دیا۔ (دیکھیے ترمذی، الاستعاذۃ ، باب ماجاء فی الرقیۃ بالمعوذتین، 2058)
(6) عائشہ ؓ فرماتی ہیں :”رسول اللہ ﷺ ہر رات جب اپنے بستر پر آتے تو دونوں ہتھیلیوں کو جمع کرتے پھر ان میں پھونکتے۔ دونوں میں ”قل ھو اللہ احد“ ، ”قل اعوذ برب اللفلق“ اور ”قل اعوذ برب الناس“ پڑھتے پھر دونوں ہتھیلیوں کو اپنے جسم پر جہاں تک ہوسکتا پھیرتے۔ پھیرنے کی ابتدا سر، چہرے اور جسم کے سامنے والے حصے سے کرتے۔ آپ اس طرح تین متربہ کرتے۔“ (بخاری، فضائل القرآن، باب فضل المعوذات ، 5018(7) عائشہ ؓ ہی سے روایت ہے :”رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوتے تو اپنے آپ پر معوذات پڑھ کرپ ھونکتے تھے۔ جب آپ کا درد بہت بڑھ گیا تو میں آپ پر پڑھتی اور آپ ہی کا ہاتھ اس ہاتھ کی برکت کی امید سے (آپ کے جسم پر) پھیرتی تھی۔“ (بخاری، الاستعاذۃ ، باب ماجاء فی المعوذات : 5016) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ان تینوں سورتوں کو مذکورہ اوقات میں روزانہ پڑھنا چاہیے یہ ہر قسم کی روحانی اور جسمانی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتی ہیں اور جن و انس میں سے شیاطین کے شر ورو آفات سے بھی اللہ کی پناہ میں رکھتی ہیں۔
تنبیہ : جب ہم ”اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم“ یا معوذات پڑھتے ہیں تو ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا مطلب یہ نہیں ہ صرف زبان سے یہ الفاظ ادا کردیئے جائیں، بلکہ ضروری ہے کہ وہ تمام خیالات، واہشات اور اعمال ترک کرنے کی کوشش کی جائے جو شیطان کو پ سند ہیں۔ جس طرح کسی شخص پر کوئی درندہ حملہ آور ہو تو اس کا صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ میں فلاں قلعہ میں پناہ لیتا ہوں، بلکہ اسے اس قلعہ میں پہنچنے کی جدوجہد بھی کرنا ہوگی۔ اسی طرح دشمن کے حملے سے اللہ کی پناہ طلب کرنے والے اور اس پر فتح و نصرت کی دعا کرنے والے کے لئے پناہ اور دعا کے الفاظ ہی منہ سے ادا کردینا کافی نہیں، بلکہ دشمن کے خلاف تیاری، میدان میں نکلنا اور قتل و قتال کے لئے تیار رہنا بھی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ دعا بھی کی جائے تو واقعی اللہ تعالیٰ کی پناہ بھی حاصل ہوتی ہے اور اس کی حفاظت بھی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص عملاً تو ہر بات میں شیاطین الانس والجن کی پیروی کرے، مگر منہ سے اللہ کی پناہ طلب کرتا رہے تو یہ پناہ طلب کرنا اسے شیاطین سے اور ان کے وسوسوں سے نہیں بچا سکتا۔ اس کی ایک جامع مثال یہ ہے کہ ”لا الہ الا اللہ“ کہنے والا شخص یقیناً جنت میں جائے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہے، مگر کیا صرف یہ الفاظ ادا کرنے والا جہنم سے اللہ کی پناہ میں چلا جاتا ہے ؟ نہیں، بلکہ وہ جو ”صادقاً من قلبہ“ ہو، یعنی سچے دل سے صرف اللہ کو معبود برحق مانے اور اسی کی عبادت کرے، اس کیلئے یہ فضیلت ہے۔ اگر وہ کسی غیر کو یا اپنی خواہش نفس ہی کو اپنا معبود بنا لے تو پھر کروڑ دفعہ بھی ”لا الہ الا اللہ“ پڑھتا رہے تو جہنم سے نہیں بچ سکتا۔ (ملخص از قاسمی)