113. Surah Al-Falaq

الفلقThe Dawn · 5 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 113:1

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader

تو کہہ میں مخلوق کے رب کی پناہ پکڑتا ہوں۔

(1) قل اعوذ…:”اعوذ“ ”عاد یعوذ عوذاً و معاذا“ (ن) پناہ پکڑنا۔ پناہ لینے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کسی چیز سے خوف محسوس کرے اور سمجھے کہ میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا تو اس سے بچنے کے لئے وہ کسی دوسرے کی حفاظت میں چلا جائے یا کسی چیز کی آڑ لے لے۔ ظاہر ہے پناہ اسی کی لی جاتی ہے جس کے متعلق سمجھا جائے کہ وہ اس خوف ناک چیز سے بچا سکتا ہے۔ پناہ بعض اوقات ایسی چیزوں کی لی جاتی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بعض خوف ناک چیزوں سے بچنے کا سبب بنادیا ہے، مثلاً دشمن سے بچنے کے لئے کسی قلعہ یا خندق یا مورچے وغیرہ کی پناہ لینا اور کسی ظالم سے بچنے کے لئے کسی طاقتور آدمی یا قوم کی پناہ لینا، یہ پناہ کسی بھی چیز کی لی جاسکتی ہے اور بعض اوقات یہ سمجھ کر پناہ لی جاتی ہے کہ وہ خطرات جن میں دنیا کے بچاؤ کے تمام ذرائع و اسباب بےکار ہوجائیں ان میںلاں ہستی بچا سکتی ہے۔ سورة فلق اور سورة ناس میں جس پناہ کا ذکر ہے، بلکہ قرآن و حدیث میں جہاں بھی اللہ سے پناہ مانگی گئی ہے اس سے مراد پناہ کی دوسری قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے سے یہ پناہ مانگنا شرک ہے۔ مشرک لوگ اپنے تحفظ کے لئے اللہ کو چھوڑ کر دیوی دیوتاؤں، جنوں، فرشتوں یا پیروں، پیغمبروں کی پناہ لیتے اور ان کو مدد کے لئے پکارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سورتوں میں تعلیم دی کہ ایسے تمام خطرات سے بچنے کے لئے میری ان صفات کی پناہ لو جن سے ثابت ہو رہا ہے کہ ایسے تمام خطرات سے میں ہی تمہیں بچا سکتا ہوں۔ (2) برب الفلق :”فلق یفلق فلقا“ (ض) پھاڑنا۔ یہاں مصدر ”الفقلق“ مفعول ”مفلوق“ کے معنی میں ہے۔ اس کی تفسیر میں معتبر اقوال دو ہیں، پہلا قول جابر بن عبدا للہ ؓ عنہماکا ہے جو ابن ابی حاتم نے حسن سند کے ساتھ بیان کیا ہے، ان کے علاوہ کئی تابعین کا بھی یہی قول ہے کہ ”الفلق“ کا معنی صبح ہے، کیونکہ صبح رات کی تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(فالق الاصباح) (الانعام : 96) ”یعنی وہ رات کی تاریکی کو پھڑا کر صبح لانے والا ہے۔“ صبح کے رب کی پناہل ینے کا مطلب یہ ہے کہ جو رب رات کی تاریکی کو دور کر کے روشن صبح لانے والا ہے میں ساری مخلوق کے شر سے اس کی پناہ مانگتا ہوں، کیونکہ جب وہ رات کی تاریکی کو دور کردیتا ہے جس میں بیشمار شرور پائے جاتے ہیں تو اس کے لئے دوسرے شرور کو دور کرنا اور ان سے بچانا تو معمولی بات ہے۔ دوسرا قول ابن عباس ؓ عنہماکا ہے جو طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ بیان کیا ہے اور ضحاک کا قول بھی یہی ہے کہ ”الفلق“ سے وہ تمام چیزیں مراد ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو پھاڑ کر نکالا ہے، مثلاً زمین سے نباتات ، پہاڑوں سے چشمے، بادلوں سے بارش اور رحم مادر اور انڈوں سے حیوانات۔ ان کے عالوہ جہاں بھی پیدائش کا معاملہ ہے اکثر میں انشقاق (پھٹنے) کا سلسلہ موجود ہے۔ گویا ”الفلق“ کا معنی مخلوق ہے، مطلب یہ ہوگا کہ میں ساری مخلوق کے مالک کی پناہ پکڑتا ہوں کہ وہ مجھے اپنی مخلوق کے شر سے بچا لے۔ یہ معنی زیادہ جامع ہے، اس لئے ترجمہ میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔
Ayah 113:2

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader

اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔

(1) من شر ما خلق :”اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی“ اس میں ہر مخلوق کے ہر شر سے پناہ مانگ لی گئی ہے۔ کوئی نقصان، تکلیف یا پریشانی باقی نہیں رہی جو اس میں نہ آگئی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ پناہ مانگنے کے لئے یہ بہت ہی جامع سورت ہے، کیونکہ جب بندہ ساری مخلوق کے ہر شر سے بچنے کے لئے اس کے رب کی پناہ میں چلا گیا تو پھر مخلوق میں سے کون ہے جو اسے نقصان پہنچا سکے اور اگر وہ مالک ہی اپنی مخلوق کو نقصان پہنچانے سے نہ روکے تو مخلوق کے شر سے کون بیچ سکتا ہے ؟ (2) اس آیت میں مخلوق کے اس شر سے بھی پناہ مانگ لی گئی جو پہنچ چکا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے اور اس سے بھی جس کا خوف ہے۔
Ayah 113:3

وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader

اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے۔

(1) ومن شر غاسق اذا وقب : اگرچہ ساری مخلوق کے شر سے پناہ مانگنے کے بعد کوئی چیز باقی نہیں رہی جس کے شر سے پناہ مانگی جائے، مگر مخلوق میں سے چند چیزوں کے شر سے خاص طور پر پناہ مانگنے کا سبق دیا گیا، کیونکہ یہ بہت ہی خوفناک ہیں اور ان کے شر سے پناہ مانگنے کی تو بہت ہی ضرورت ہے۔ (2) ”غاشق“ کا معنی ہے تاریک، سخت اندھیرے والی۔ قاموس میں ہے :”غسق اللیل ای اشتدت ظلمتہ“ ”یعنی ”غسق اللیل“ کا معنی یہ ہے کہ رات کی تاریکی بہت سخت ہوگئی۔“ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا :(الی غسق الیل) (بنی اسرائیل : 88)”رات کے سخت تاریک ہونے تک۔“”وقب“ (ض) داخل ہونا، غائب ہونا۔ فراء نے ”غاسق اذا وقب“ کا معنی کیا ہے :”اللیل اذا دخل کل شیء واظلم“”رات جب ہر چیز پر چھا جائے اور تاریک ہوجائے۔“ تاریک رات کے شر سے خاص طور پر پناہ مانگنے کی تلقین اس لئے کی گئی ہے کہ اندھیری رات میں بیشمار شرور و خطرات ہوتے ہیں، اکثر مجرم ، چور، ڈاکو، زانی، قاتل اور شب خون مارنے والے رات ہی کو نکلتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو رات ہی میں قتل کرنے کے منصوبے بنائیگئے، تاکہ نہ آپ بچاؤ کرسکیں اور نہ قاتل کا پتا چل سکے۔ جنگلی جانوروں مثلاً شیر، چیتے، بھیڑے وغیرہ اور ح شرارت الارض مثلاً سانپ، بچھو وغیرہ کا خطرہ رات کو زیادہ ہوجاتا ہے اور مچھر، کھٹمل وغیرہ رتا کو جو تکلیف دیتے ہیں سب جانتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق اکثر بیماریوں کے جراثیم اندھیرے میں پیدا ہوتے ہیں اور سورج کی روشنی میں ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اندھیرے میں وہمی چیزوں کا خوف مزید بڑھ جاتا ہے۔ ان سب پر مزید یہ کہ ان سب شرور کے اندھیرے میں واقع ہونے کی وجہ سے انسان ان سے اپنا بچاؤ بھی نہیں کرسکتا، اس لئے اندھیری رات کی برائیوں سے پناہم انگنے کی تعلیم دی گئی۔ (3) عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاند دیکھا تو فرمایا :(یا عائشۃ ! استعیذی باللہ من شر مذا، فان ھذا ھو الغاسق اذا وقب) (ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة المعوذتین : 33466، وصححہ الترمذی والالبانی) ”اے عائشہ ! اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو، کیونکہ یہی ”غاسق اذا وقب“ ہے۔“ اس صورت میں ”غاسق“ کا معنی ”اندھیرے والا“ اور ”اذا وقب“ کا معنی ”اذا غاب“ ہے، یعنی ”جب غائب ہوجائے۔“ شاہ رفیع الدین نے ترجمہ یوں کیا ہے :”اور برائی اندھیرا کرنے والے کی سے، جب وہ چھپ جائے۔“ یعنی چاند غروب ہو کر اندھیرا پھیلا دیتا ہے۔ بعض مفسرین نے ”غاسق اذا وقب“ سے سورج مراد لیا ہے، کیونکہ سورج غائب ہو کر سخت تاریکی پھیلنے کا باعث بنتا ہے۔ بہرحال ان تفسیروں اور پہلی تفسیر میں کوئی تضاد نہیں ، کیونکہ مراد تاریکی کے شر سے پناہ مانگنا ہی ہے۔
Ayah 113:4

وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader

اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے۔

(ومن شر النفثت فی العقد :”النفثت“ ”نفاثۃ“ کی جمع ہے جو ”نفست ینفست نفنا“ (ن، ض) (پھونک مارنا، جس کے ساتھ تھوڑی سی تھوک ہو) سے مشتق ہے، بہت پھونکیں مارنے والی عورتیں یا جماعتیں۔ اگر ”نفائۃ“ میں تاء ”علامۃ“ کی طرح مبالغے کے لئے ہو یا ”النفثت“ سے مراد نفوس ہوں تو عورتوں کے علاوہ بہت پھونکیں مارنے والے مرد بھی مراد ہوسکتے ہیں۔”العقد“ ”عقدۃ“ کی جمع ہے، گر ہیں۔ ابن جریر اور مفسرین سلف کے مطابق گرہوں میں پھونکیں مارنے والویں سے مراد جادو کرنے والی عورتیں یا لوگ ہیں، کیونکہ انہوں نے جس پر جادو کرنا ہوتا ہے اس کے بال یا کوئی چیز حاصل کر کے اس پر جادو کرتے ہوئے کسی تانت یا دھاگے میں گر ہیں ڈالتے جاتے اور منتر پڑھ پڑھ کر ان میں پھونکیں مارتے جاتے ہیں۔ ان کے شر سے خصا طور پر پناہ مانگنے کی تلقین اس لئے کی گئی کہ وہ چھپ کروار کرتے ہیں۔ آدمی کو خبر ہی نہیں ہوتی ہ اسے تکلیف کیوں ہے، وہ بیماری سمجھ کر علاج معالجہ میں لگا رہتا ہے اور تکلف بڑھتی جاتی ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ ”العقد“ (گرہوں) سے مراد مردوں کے پختہ عزم اور ارادے ہیں اور ”النفثت“ سے مراد یہ ہے کہ جس طرح تھوک کے ساتھ رسی کی گرہیں نرم کی جاتی ہیں اس طرح عورتیں اپنی چکنی چپڑی باتوں سے مردوں کے پختہ ارادوں کو بدل دیتی ہیں، اس آیت میں ان عورتوں کے شر سے پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی گئی۔ یہ معنی پر لطف ہونے کے باوجود سلف کی تفسیر کے خلاف ہے اور اکثر یہ معنی کرنے والے وہ لوگ ہیں جو جادو سے نقصان پہنچنے کے قائل نہیں اور انہیں اپنے اس موقف پر اس قدر اصرار ہے کہ وہ بخاری و مسلم اور حدیث کی بہت سی دوسری کتابوں میں مروی حدیث کو ماننے ہی سے انکار کردیتے ہیں جس میں مذکور ہے کہ لبیدبن اعصم نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کیا تھا اور آپ اس جادو کی وجہ سے کچھ عرصہ بیمار اور پریشان رہے تھے۔ (دیکھیے بخاری، کتاب الطب، باب ھل یستخرج السحر ؟: 5865، 5863)
Ayah 113:5

وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader

اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔

(1) ومن شر حاسد اذا حسد :”حسد“ کا معنی ہے کسی شخص پر اللہ کی نعمت سے جلنا کہ یہ نعمت اسے کیوں ملی اور اس کے زوال کی تمنا کرنا۔ پھر خواہ یہ خواہش یا کوشش ہو کہ وہ حسد کرنے والے کو ملے یا نہ ہو۔ قباحت کے لحاظ سے حسد کے کئی درجے ہیں، سب سے بدتر یہ ہے کہ کسی شخص کو اللہ نے جو نعمت دی ہے اس سے چھن جانے کی تمنا کے ساتھ ساتھ قول و عمل کے ذریعے سے یہ کوشش بھی کرے کہ وہ نعمت اس سے چھن جائے۔ پھر بعض کی کوشش ہوئی ہے کہ اس سے چھن کر مجھے مل جائے اور بعض کو اس سے غرض نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس پر خوش ہوتے ہیں کہ اس کے پاس یہ نعمت نہیں رہی۔ دوسرا یہ کہ عملی طور پر تو اسے نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے، لیکن دل میں یہ خواہش رکھے کہ اس کے پاس سے یہ نعمت نہ رہے۔ یہ دونوں صورتیں حرام ہیں۔ (2) سوال پیدا ہوتا ہے کہ حاسد کے شر سے پناہ مانگتے وقت ”اذا حسد“ (جب وہ حسد رے) کی قید کیوں لگائی ؟ جواب یہ ہے کہ حاسد کے حسد کا نقصان دوسرے شخص کو اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے حسد کے تقاضے کے مطابق قول یا فعل سے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے، یا حسد کے تقاضے کے مطابق یہ خواہش رکھے کہ اس سے وہ نعمت چھن جائے۔ حسد کی ایک صورت یہ ہے کہ دل میں خیال آتا ہے کہ فلاں شخص کو یہ نعمت کیوں ملی، مگر آدمی اس خیال کو ہٹا دیتا ہے، نہ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور نہ ایسا ارادہ یا خواہش رکھتا ہے کہ اس سے وہ نعمت چھن جائے ، اس پر مواخذہ نہیں۔ ایسے خیالات آہی جاتے ہیں، کیونکہ انسان کی طبیعت میں یہ بات رکھ دی گئی ہے کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس کا کوئی ہم جنس کسی خوبی میں اس سے بڑھ کر ہو، تو جو شخص حسد کے تقاضے پر عمل نہ کرے بلکہ ایسے خیال آنے پر انہیں دور کرنے کی کوشش کرے اور محسود (جس کے ساتھ حسد ہو) کے ساتھ احسان کرے، اس کے لئے دعا کرے اور اس کی خوبیاں عام بیان کرنا شروع کر دے، تاکہ دل میں اس بھائی کے ساتھ حسد کے بجائے محبت پیدا ہوا ہوجائے تو اس کے شر سے پناہ مانگنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اس کا حسد کے تقاضے پر عمل کرنے کے بجائے اس سے مقابلہ کرنا اور اسے دور کرنے کی کوشش کرنا تو ایمان کے اعلیٰ درجے کی علامت ہے اور حسد سے نجات پانے کا طریقہ بھی یہی ہے۔ (3) حسد کے حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حاسد دراصل اللہ تعالیٰ پر ناراض ہوتا ہے کہ اس نے اسے وہ نعمت کیوں دی۔ پھر بندے پر اس کے کسی جرم کے بغیر ناراض ہوتا ہے، کیونکہ اس نعمت کے حصول میں اس کا کچھ اختیار نہیں۔ تو حاسد دراصل اللہ کا بھی دشمن ہے اور اللہ کے بےگناہ بندوں کا بھی ہے۔ (4) حسد کا علاج یہ ہے کہ بندہ سوچے کہ حسد کا نقصان دین و دنیا میں حسد کرنے والے ہی کو ہے، محسود کو کوئی نقصان نہیں، نہ دنیا میں نہ دین میں، بلکہ اسے دین و دنیا میں حاسد کے حسد سے فائدہ ہی حاصل ہوتا ہے۔ دین میں فائدہ یہ ہے کہ وہ مظلوم ہے، خصوصاً جب حاسد قول یا عمل سے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے، تو قیامت کو اسے ظلم کا بدلا ملے گا اور ظالم حاسد نیکیوں سے مفلس رہ جائے گا اور دنیاوی فائدہ یہ ہے کہ لوگوں کی دلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کے دشمن غم و فکر اور عذاب میں مبتلا رہیں اور حاسد جس عذاب اور مصیبت میں گرفتا رہے اس سیب ڑی مصیبت اور کیا ہوسکتی ہے ؟ وہ ہر وقت حسد کی آگ میں جل رہا ہوتا ہے اور اطمینان اور دلی سکون سے محروم ہوتا ہے۔ (5) حسد آدمی کو اللہ کی نافرمانی کی طرف لے جاتا ہے، اہل علم فرماتے ہیں کہ آسمان میں اللہ تعالیٰ کی سب سے پہلی نافرمانی حسد کی وجہ سے واقع ہوئی کہ ابلیس نے آدم ؑ پر حسد کی وجہ سے اسے سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور زمین پر پہلی نافرمانی یعنی آدم ؑ کے دو یٹوں میں سے ایک کے دوسرے کو قتلک رنے کا باعث بھی یہی حسد تھا۔ برادران یوسف نے یوسف ؑ اور ان کے والدین پر جو ظلم کیا اس کا باعث بھی حسد تھا۔ یہودی لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ محمد ﷺ رسول برحق ہیں، ایمان نہ لائے تو اس کا باعث بھی یہی حسد تھا اور یہی حسد تھا جس کی بنا پر انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کردیا۔ گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر کے پیچھے بھی عموماً حسد ہی کا جذب چھپا ہوتا ہے، اس لئے ان کے شر کے بعد حاسد کے شر سے پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی۔ (6) بعض اوقات حسد کا لفظ ”غیطۃ“ (رشک اور ریس) کے معنی میں بھی آجاتا ہے، یعنی کسی شخص پر اللہ تعالیٰ کی نعمت دیکھ کر یہ خواہش کرنا کہ مجھے بھی یہ نعمت مل جائے، لیکن یہ خواہش نہ ہو کہ اس سے وہ نعمت چھن جائے۔ یہ خواہش حرام نہیں، مگر صرف دو چیزوں میں رشک کرنا پسندیدہ ہے، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لا حسد الا فی اثنتین ، رجل اتاہ اللہ القرآن فھو یقوم بہ آناء اللیل وآناء النھار و رجل آتاہ اللہ مالا فھو ینفقہ آناء اللیل وآناء النھار) (مسلم ، صلاۃ المسافرین و قصرھا ، باب فضل من یقوم بالقرآن…: 815۔ بخاری : 5025)”حسد (رشک کرنا) نہیں مگر دو چیزوں میں، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن دیا تو وہ رات کی گھڑیوں اور دن کی گھڑیوں میں اس کے ساتھ قائم رہتا ہے اور ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال دیا ہے تو وہ رات اور دن کی گھڑیوں میں اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتا رہتا ہے۔“