114. Surah An-Naas

الناسMankind · 6 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayahs 114:1–3

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ Open ayah 114:1 in the Quran reader

تو کہہ میں پناہ پکڑتا ہوں لوگوں کے رب کی۔

مَلِكِ النَّاسِۙ Open ayah 114:2 in the Quran reader

لوگوں کے بادشاہ کی۔

اِلٰهِ النَّاسِۙ Open ayah 114:3 in the Quran reader

لوگوں کے معبود کی۔

(1) قل اعوذ برب الناس…: پناہ کا مطلب پچھلی سورت میں گزر چکا ہے۔ آدمی جب کسی سے خطرہ محسوس کرتا ہے تو سب سے پہلے اپنے کسی مربی (پرورش کرنے والے) ، مثلاً ماں یا باپ کی پناہ لیتا ہے، ان سے چمٹ جاتا ہے، تاکہ وہ اسے بچا لیں۔ اگر وہ کمزور ہوں اور نہ بچا سکتے ہں تو بادشاہ سے بچانے کی درخواست کرتا ہے اور اس کی پناہ لیتا ہے، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ بادشاہ اپنی قوت اور فوج کے ذریعے سے اسے بچا سکتا ہے۔ اگر نظر آرہا ہو کہ اس خطرے سے بچانا بادشاہ کے بس کی بات بھی نہیں تو پھر اس ہستی کی پناہ لیتا ہے جسے وہ غیبی قوتوں کا مالک سمجھتا اور جس کی عبادت کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دنیوی اسباب ختم ہونے کے بعد اسے اس کے علاوہ کہیں سے پناہ نہیں مل سکتی۔ اس سورت میں وسوسہ ڈلانے والے کے شر سے پناہ لینے کے لئے اللہ تعالیٰ کی تین صفات کے ساتھ پناہ پکڑنے کی تعلیم دی گئی ہے کہ اگر اپنے کسی پر وشر کرنے والے کی پناہ پکڑنا چاہو تو بجائے اس کے کہ کسی ایسے شخص کی پناہ پکڑو جو کسی ایک آدھ یا چند آدمیوں کی پر وشر کر رہا ہو اور حقیقت میں وہ خود محتاج ہو، تم اس کی پناہ پکڑو جو سب لوگوں کا رب اور سب کی پرورش کرنے والا ہے، جو کسی کا محاتج نہیں اور سب اس کے محتاج ہیں۔ اگر کسی صاحب قوت بادشاہ کی پناہ پکڑنا چاہو تو بجائے اس کے کہ ان بادشاہوں کی پناہ پکڑو جو فوجوں کے محتاج ہیں، جن کا اقتدار محدود اور عارضی ہے اور جن کی اپنی زندگی اور اپنا نفع و نقصان ان کے ہاتھ میں نہیں، تم اس کی پناہ پکڑو جو تمام لوگوں کا بادشاہ ہے اور اس کی قوت اور بادشاہی کسی فوج یا سالار کی محتاج نہیں اور اگر کسی ایسی ہستی کی پناہ لینا چاہو جسے غیبی قوتوں کا مالک ہونے کی وجہ سے تم عبادت کا حق دار سمجھتے ہو تو وہ صرف اور صرف ایک ہی ہے، جو تمام لوگوں کا معبود برحق ہے اور صرف وہی تمہیں ان خطرات میں پناہ دے سکتا ہے جن کے سامنے تمام مربی اور تمام بادشاہ بےبس ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نہ کوئی غیبی قوتوں کا مالک ہے، نہ کائنات کی کسی چیز میں کسی دوسرے کا دخل ہے اور نہ کسی کا حق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ (2) سورة فلق میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ”برب الفلق“ کے ساتھ ساری مخلوق کے شر سے عمومًا اور مخلوق میں سے تین چیزوں کے شر سے خصوصاً پناہ مانگی گئی ہے۔ یعنی اندھیری رات، گرہوں میں پھونکنے والیوں اور حاسد کے شر سے اور اس سورت میں صرف ایک چیز یعنی ہٹ ہٹ کر وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے اللہ تعالیٰ کی تین صفات کے ساتھ پناہ مانگی گئی، کیونکہ پہلی تینوں چیزیں انسان کے جسم و جان کو نقصان پہنچانے والی ہیں، جب کہ وسوسہ اس کے ایمان کو نقصان پہنچانے والا ہے اور ایمان کی حفاظت کی فکر جسم و جان سے بھی اہم ہے۔ (3) پہلی تین آیات میں ”الناس“ کا لفظ بار بار لایا گیا ہے، حالانکہ ”برب الناس“ کے بعد والی آیات میں ”الناس“ کی ضمیر بھی لائی جاسکتی تھی۔ اس میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے (واللہ اعلم) کہ لوگوں کے وسوسے کا شراتنا خوف ناک ہے کہ بندہ بار بار اس کا حوالہ دیتا ہے کہ یا ال لہ ! لوگوں کا رب بھی تو ہے ، لوگوں کا بادشاہ بھی تو ہے اور لوگوں کا الہ بھی تو ہے، اس لئے لوگوں کے شر سے پناہ بھی تو ہی دے سکتا ہے۔ اس سورت میں ان تینوں صفات کی پناہ پکڑتے وقت ضمناً بھی بار بار لوگوں کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے، پھر ”من شر الوسواس…“ کے ساتھ صاف لفظوں میں بھی لوگوں کے وسوسے کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔ تفسیر قاسمی میں شیخ الاسلام ابن تیمیمہ اور شیخ ناصر سے ایک اور حکمت نقل کی گئی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پناہ مانگنے والے بھی چونکہ لوگ ہیں، اس لئے پناہ مانگتے وقت بار بار ان نسبتوں کا حوالہ دیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے درمیان اور لوگوں کے درمیان موجود ہیں کہ یا اللہ ! تو لوگوں کا رب بھی ہے، لوگوں کا بادشاہ بھی اور لوگوں کا معبود برقح بھی، تو جب لوگوں کا سبھی کچھ تو ہی ہے تو تیرے علاوہ انہیں پناہ دینے والا اور کون ہوسکتا ہے ؟ (قاسمی)
Ayah 114:4

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ Open ayah 114:4 in the Quran reader

وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے، جو ہٹ ہٹ کر آنے والا ہے۔

(1) من شر الوسواس، الخناس :”الوسواس“ واؤ کے کسرہ کے ساتھ ہو تو یہ ”وسوس یوسوس“ کا مصدر ہے، وسوسہ ڈالنا، جیسے ”زلزال“ (زاء کے کسرہ کے ساتھ) ہے ، سخت ہلانا۔ (زمخشری) یہاں ”الوسواس“ واؤ کے فتحہ کیساتھ ہے، یہ مصدر نہیں بلکہ صفت ہے، جو اسم فاعل کے معنی میں ہے، بہت وسولہ ڈالنے والا، جس طرح ”ترثار“ (بہت باتیں کرنے والا) اور ”’ حداح“ (بہت چھوٹے قد والا) وغیرہ ہیں۔ (تفسیر ابن قیم) (2)”الوسواس“ مضاعف رباعی ہے، اس کے مفوہم میں تکرار (بار بار وسوسہ ڈلنا) شامل ہے، جس طرح ”زلزل“ کے مفہوم میں بار بار ہلانا اور ”ثرثر“ میں بولتے چلے جانا شامل ہے۔”الوسواس“ کا معنی بہت وسوسہ ڈالنے والا جو بار بار وسوسہ ڈالتا ہے۔ (3)”وسوسۃ“ کا اصل معنی وہ ہلکی یا دبی ہوئی حرکت یا آواز ہے جو عام طور پر محسوس نہ ہوتی ہو۔ اس سے مراد وہ بات بھی ہوتی ہے جو بالکل آہستہ آواز سے کسی کے کان میں کیہ جائے اور صرف اسی کو سنائی دے اور وہ بھی جو آواز کے بغیر کسی کے دل میں ڈال دی جائے، جیسے شیطان انسان کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ (4) ”الخناس“ ”خنس یخنس“ (ض ، ن) پیچھے ہٹنا، ہٹانا۔ سورة تکویر میں ستاروں کو ”الخنس“ فرمایا ہے، کیونکہ وہ روزانہ مغرب میں غروب ہوتے ہیں، پھر پیچھے ہٹتے ہوئے دوبارہ مشرق سے نمودار ہوجاتے ہیں۔”الخناس“ مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی بہت پیچھے ہٹنے والا۔ اس سے یہ بات خود بخود سمجھ میں آرہی ہے کہ وہ ایک دفعہ ہی وسوسہ ڈال کر پیچھے نہیں ہٹ جاتا، بلکہ بار بار وسوسہ ڈالتا ، بار بار پیھچے ہٹتا اور پھر ہٹ ہٹ کر وسوسہ ڈالتا ہے۔ شیطان کو ”الوسواس ، الخناس“ اس لئے کہا یا ہے کہ وہ آدمی کے دل میں برے خیالات ڈالتا ہے، جب وہ اللہ کا ذکر کرے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے، جب ذکر سے غافل ہو تو دوبارہ لوٹ کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیات ہے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اذا نودی للصلاۃ ادبر الشیطان ولہ ضراط حتی لایسمع التاذین فاذا قضی النداء اقبل حتیٰ اذا توب بالصلاۃ ادبر، حتی اذا قضی التتویب اقبل حتی یخطر بین المرء و نفسہ، یقول اذکر کذا، ادکر، کذاء لمالم یکن یذکر، حتی یظل الرجل لایدری کم صلی) (بخاری، الاذان ، باب فضل التاذین : 608)”جب نماز کے لئے اذان ہوتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیٹھ دے کر بھگا جاتا ہے، تاکہ اذان نہ سنے۔ جب اذا نپوری ہوتی ہے تو آجاتا ہے، پھر جب نماز کی اقامت ہوتی ہے چلا جاتا ہے، جب اقامت مکمل ہوتی ہے تو واپس آکر آدمی اور اس کے دل کے درمیان خیالات ڈالنا شروع کر دیات ہے۔ کہتا ہے فلاں چیز یاد کر، فلاں چیز یاد کر، وہ چیزیں جو اسے یاد نہیں تھیں، یہاں تک کہ آدمی کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے کتنی نمازپڑھی۔“ معلوم ہوا کہ آدمی نماز میں دل سے حاضر نہ ہو تو شیطان اپنا کام جاری رکھتا ہے۔ وہ صرف اس ذکر سے پیچھے ہٹتا ہے جس میں زبان کے ساتھ دل بھی شریک ہو۔
Ayah 114:5

الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ Open ayah 114:5 in the Quran reader

وہ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔

(1) الذی یوسوس فی صدور الناس : وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس بات سے اللہ کی پناہ مانگے کہ وہ اس کے دل میں کوئی وسوسہ ڈال دے اور اسے راہ حق سے ہٹا دے اور اس بات سے بھی کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر انہیں اس کے خلاف بھڑکا دے، جس کے نتیجے میں دین پر عمل کرنے اور اس کی دعوت دینے کے راستے میں وہ اس کے لئے رکاوٹ بن جائیں۔ دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ ہی اس کے شر سے بچا سکتا ہے ، اس لئے اسی کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ (2) آدمی کوئی نیکی کرے یا برائی اس کا آغاز دل میں اس کا خیال پیدا ہونے سے ہوتا ہے، خیال جما رہے تو وہ خواہش کو ابھارتا ہے، خواہش سے ارادہ بنتا ہے، ارادہ پختہ ہوجائے تو عزم بنتا ہے، عزم نیت کا باعث ہوتا ہے، نیت اعضا کو عمل کے لئے حرکت میں لے آتی ہے اور آخری مرحلہ اس نیکی یا بدی پر عمل کا ہوتا ہے۔ دل میں پیدا ہونے والا یہ خیال اگر نیکی کا ہو تو رحمان کے مقرر کئے وہئے فرشتے کی طرف سے ہوتا ہے اور الہام کہلاتا ہے، اگر بدی کا ہو تو وسوسہ کہلاتا ہے اور یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ ان دونوں کا فرق اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ یخال کتاب و سنت کی رو سے نیکی کا کام ہے تو الہام ہے، ورنہ وسوسہ۔ وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے پناہم انگنے کی تعلیم اس لئے دی گئی کہ جہاں سے برائی شروع ہوتی ہے وہیں تم اللہ کی پناہ میں چلے جاؤ، تاکہ اللہ تعالیٰ شروع ہی میں تمہیں اپنی پناہ میں لے لے۔ جس سے نہ وہ وسوسہ دل میں جگہ پکڑے گا اور نہ بعد کے مراحل کی نوبت آئے گی۔ (2) وسوسہ ڈالنے والوں کا شر صرف ایک ہی قسم کا نہیں ہوتا ، بلکہ وہ کئی طرح سے آدمی کو راہ حق سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حافظ ابن قیم ؒ اور دوسرے اہل علم نے اس کی کئی صورتیں بیان کی ہیں۔ سب سے پہلے تو وہ آدمی کو صریح کفر و شرک اور اللہ اور اس کے رسول کی بغاوت اور دشمنی پر آمادہ کرتے ہیں، اگر اس میں ناکام ہوں اور آدمی ایمان پر قائم رہے تو وہ اسے دوسرے شریعتی بدعت میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بدعت میں مبتلا کرنا انہیں آدمی کو بڑے سے بڑے گناہ میں مبتلا کرنے سے بھی زیادہ پسند ہے، کیونکہ یہ ایسا گناہ ہے جسے آدمی نیکی سمجھ کر کرتا ہے۔ اگر وہ سنت پر قائم رہے تو اسے کسی نہ کسی کبیرہ گناہ سے آلودہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خصوصاً اگر وہ دینی عالم ہو، تاکہ بدنام ہو کر دین کا کام نہ کرسکے۔ اگر اس میں کامیاب بھی نہ کرسکیں تو نیکی کے کاموں سے ہٹا کر ان کاموں میں لگانے کی کوشش کرتے ہیں جن میں نہ ثواب ہے نہ عذاب اور اس طرح اس طرح اس کی عمر برباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اگر وہ اپنے وقت کو بےکار کاموں میں لگانے پر کسی صورت آمادہ نہ ہو تو نیکی کے بڑے کام سے ہٹا کر چھوٹے کام میں لگانے کی کوشش کرتے ہیں، مثلاً دعوت و جہاد سے ہٹا کر نفلی نماز روزے میں لگا دیتے ہیں۔ یہ بھی نہ ہو سکے تو دل میں ریا یا اپنے عمل پر غرور پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر وہ کسی صورت ان کے قابو میں نہ آئے تو شیطان اور اس کے وہ چیلے بیشمار طریقوں سے اسے بدنام کرنے اور تکلیف پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ نہ ہو سکے تو اسے غصہ دلا کر فہم و شعور سے بیگانہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس وقت بھی اگر وہ اللہ کی پناہ میں چلا اجئے تو ان کی تمام کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(واما ینزغنک من الشیطن نزع فاستعذ باللہ) (الاعراف : 200)”اور اگر تجھے شیطان کی طرف سے کوئی چوکا لگے (یعنی شیطان تجھے غصہ دلائے) تو اللہ کی پناہ مانگ۔“ غرض موت تک یہ دشمن اپنی دشمنی سے باز نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آخر وقت تک اپنی پناہ میں رکھے۔ آیمن)
Ayah 114:6

مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ Open ayah 114:6 in the Quran reader

جنوں اور انسانوں میں سے۔

(من الجنۃ والناس :) لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالنے والے شیطان جن بھی ہوتے ہیں اور انسان بھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیطین الانس والجن یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غروراً (الانعام : 112) ”اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے انسانوں اور جنوں کے شیاطین کو دشمن بنادیا، ان کا بعض بعض کی طرف ملمع کی ہوئی بات دھوکا دینے کے لئے دل میں ڈالتا رہتا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کے ساتھ ایک جن شیطان اور ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے، شیطان کا کام برائی کا وسوسہ ڈالنا اور فرشتے کا کام بھلائی کا الہام کرنا ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ما منکم من احد الا وقد و کل اللہ بہ قرینہ من الجن ، قالوا وایاک یا رسول اللہ ! ؟ قال وایای الا ان اللہ اعاننی علیہ فاسلم فلا یامرنی الا بخیر) (مسلم، صفۃ القیامۃ باب تحریش الشیطان…: 2813)”تم میں سے ہر ایک کیساتھ اللہ تعالیٰ نے جنوں میں سے اس کا ایک قرین (ساتھی) مقرر کر رکھا ہے۔“ صحابہ نے پوچھا :”یا رسول اللہ ! اور آپ کے ساتھ بھی وہ مقرر ہے ؟“ آپ نے فرمایا :”ہاں ، میرے ساتھ بھی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابیل میں میری مدد کی ہے تو وہ تابع ہوگیا ہے اور وہ مجھے خیر کے علاوہ کوئی حکم نہیں دیتا۔“ صحیح مسلم کی اسی حدیث میں سفیان سے مروی یہ الفاظ ہیں :(وقد و کل بہ فریتہ من الجن و قرینہ من الملائکۃ) (مسلم صفۃ القیامۃ ، باب تحریش الشیطان …: 2813)”(ہر آدمی کے ساتھ) جنوں سے اس کا قرین (ساتھی) اور فرشتوں سے اس کا قرین (ساتھی) مقرر کیا گیا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے دو انصار صحابہ سے فرمایا :(ان الشیطان یجزی من الانسان مجری الدام، وانی خثیث ان یفدف فی قلوبکما سوء ا او قال شیئاً) (بخاری، بدء الخلق ، باب صفۃ ابلیس و جنودہ : 3281)”شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اور میں ڈرا کر وہ تمہارے دلوں میں کوئی وسوسہ، یا فرمایا کوئی چیز ڈال دے گا۔“ شیطان اور اس کا جنی قبیلہ انسانوں کی نگاہوں سے مخفی رہ کر فتنہ انگیزی کرسکتا ہے اور کرتا ہے۔ (دیکھیے انعام : 27) رہے انسانی شیطان تو وہ ہمیشہ چھپ کر تو حملہ آور نہیں ہوس کتے، مگر اپنی باتوں اور طرز عمل سے وسوسہ ڈالتے اور دل میں برائی کا بیج بو دیتے ہیں۔ دوسرے وسوسہ ڈالنے والوں کے علاوہ انسان کا اپنا نفس بھی وسوسہ ڈلاتا ہے۔ اس کی غلط خواہشات اور بد اعمالیوں اسے برائیکے لئے اکساتی اور ابھارتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ولقد خلقنا الانسان و نعلم ماتوسوس بہ نفسہ) (ق : 16)”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم ان چیزوں کو جانتے ہیں جن کا وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے :(ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیات اعمالنا) (ابن ماجہ، النکاح ، باب خطبۃ النکاح : 1892، ترمذی : 1105، وصححہ الالبانی)”اور ہم اپنے نفس کی برائیوں سے اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔“ ان تمام وسوسہ ڈالنے والوں سے، خواہ وہ شیاطین الجن ہوں یا شیاطین الانس یا خود آدمی کا نفس ہو، اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے، کیونکہ وہی ان کے شر سے بچا سکتا ہے۔