Explained with ayahs 1–5
بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے باؤ کی دعا٭٭ حضرت جابر وغیرہ فرماتے ہیں فلق کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں نور جگہ ہے فالق الاصباح ابن عباس سے مروی ہے فلق سے مراد مخلوق ہے، حضرت کعب احبار فرماتے ہیں فلق جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جسم میں…
Read the full tafseer →سورة الفلق 1
چونکہ قُلْ (کہو) کا لفظ اس پیغام کا ایک حصہ ہے جو تبلیغ رسالت کے لیے نبی ﷺ پر بذریعہ وحی نازل ہوا ہے، اس لیے اگرچہ اس ارشاد کے اولین مخاطب تو رسول اللہ ﷺ ہی ہیں، مگر آپ کے بعد ہر مومن بھی اس کا مخاطب ہے۔
سورة الفلق 2
پناہ مانگنے کے فعل میں لازم تین اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ ایک بجائے خود پناہ مانگنا۔ دوسرے پناہ مانگنے والا۔ تیسرا وہ جس کی پناہ مانگی جائے۔ پناہ مانگنے سے مراد کسی چیز سے خوف محسوس کر کے اپنے آپ کو اس سے بچانے کے لیے کسی دوسرے کی حفاظت میں جانا، یا اس کی آڑ لینا، یا اس سے لپٹ جانا یا اس کے سایہ میں چلا جانا ہے۔ پناہ مانگنے والا بہرحال وہی شخص ہوتا ہے جو محسوس کرتا ہے کہ…
Read the full tafseer →سورة الفلق
خلاصہ تفسیر
آپ (اپنے استعازہ یعنی اللہ سے پناہ مانگنے کے لئے اور دو رسوں کو بھی یہ استعاذہ سکھلانے کے لئے جس کا حاصل اللہ پر توکل اور مکمل بھروسہ کی تعلیم ہے۔ یوں) کہئے کہ میں صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں۔ تمام مخلوقات کے شر سے اور (بالخصوص) اندھیری رات کے شر سے جب وہ رات آجاوے (رات میں شرور و آفات کا احتمال ظاہر ہے) اور (بالخصوص گنڈے کی) گروہوں پر پڑھ پڑھ کر پھنکنے والیوں کے شر سے اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے (اول تمام مخلوقات کے شر سے پناہ لینے کا ذکر کرنے کے بعد خاص خاص چیزوں کا ذکر شاید بمناسبت مقام یہ ہوا کہ اکثر سحر کی ترتیب اور ترکیب رات کو ہوتی ہے (کذا فی…
Read the full tafseer →’فلق‘ کا وسیع مفہوم:’الْفَلَقِ‘ کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے صبح کیا ہے لیکن اس کے اصل معنی پھاڑنے کے ہیں۔ صبح چونکہ شب کے پردے کو چاک کر کے نمودار ہوتی ہے اس وجہ سے اس پر بھی اس کا اطلاق ہوا۔ لیکن پھاڑ کر نمودار ہونے والی چیز صرف صبح ہی نہیں ہے۔ ہر چیز کسی نہ کسی چیز کے اندر سے اس کو چاک کر کے ہی نمودار ہوتی ہے۔ گٹھلی سے پودا نمودار ہوتا ہے، دانے کو پھاڑ کر انکھوے نکلتے ہیں، زمین کو پھاڑ کر نباتات اگتی ہے، پہاڑوں کا سینہ چاک کر کے چشمے اور دریا ابلتے ہیں، اسی طرح انڈے کو پھاڑ کر بچے نکلتے ہیں اور رحم کے منہ کو کھول کر دوسری تمام زندہ مخلوقات وجود پذیر ہوتی ہیں۔ پھر لفظ ’فَلَقٌ‘ کو اس قدر…
Read the full tafseer →1۔ 1 فلَق کے معنی صبح کے ہیں۔ صبح کی تخصیص اس لئے کی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ رات کا اندھیرا ختم کر کے دن کی روشنی لاسکتا ہے، وہ اللہ اسی طرح خوف اور دہشت کو دور کر کے پناہ مانگنے والے کو امن بھی دے سکتا ہے۔ یا انسان جس طرح رات کو اس بات کا منتظر ہوتا ہے کہ صبح روشنی ہوجائے گی، اسی طرح خوف زدہ آدمی پناہ کے ذریعے سے صبح کامیابی کے طلوع کا امیدوار ہوتا ہے۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: قرآن کریم کی یہ آخری دوسورتیں معو ّذتین کہلاتی ہیں، یہ دونوں سورتیں اس وقت نازل ہوئی تھیں جب کچھ یہودیوں نے حضور اکرم ﷺ پر جادو کرنے کی کوشش کی تھی، اور اس کے کچھ اثرات آپ پر ظاہر بھی ہوئے تھے، ان سورتوں میں آپ کو جادو ٹونے سے حفاظت کے لئے ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ ما نگنے کی تلقین فرمائی گئی ہے، اور کئی احادیث سے ثابت ہے کہ ان سورتوں کی تلاوت اور ان سے دم کرنا جادو کے اثرات دور کرنے کے لئے بہترین عمل ہے اور حضور نبی کریم ﷺ رات کو سونے سے پہلے ان سورتوں کی تلاوت کرکے اپنے مبارک ہاتھوں پر دم کرتے اور پھر ان ہاتھوں کو پورے جسم پر پھیر لیتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اس سورت میں اللہ اپنی وہ صفات بیان فرماتا ہے ، جس کے ذریعہ اس شر سے پناہ حاصل ہوتی ہے ، جس کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے۔
قل اعوذ ................ الفلق (1:113) ” کہو ، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی “۔ فلق کے معانی میں سے ایک معنی صبح کا ہے اور ایک معنی ” مخلوق “ کا بھی ہے۔ بایں معنی کہ ہر وہ چیز جس سے وجود اور زندگی پھوٹتی ہے جس طرح سورة انعام (95) میں کہا گیا ہے۔
ان اللہ فالق ........................................ من الحی (95:6) ” اللہ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ وہ زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالنے والا ہے “۔ اور اگلی آیت (96) میں ہے۔
فالق الاصباح…
Read the full tafseer →1 یعنی جو رات کی ظلمت پھاڑ کر صبح کی روشنی نمودار کرتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 1{ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔ } ”کہو کہ میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے رب کی۔“
فَلَقَ یَفْلِقُکے معنی کسی چیز کو پھاڑنے کے ہیں۔ سورة الانعام کی آیت 96 میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے حوالے سے { فَالِقُ الْاِصْبَاحِ } کے الفاظ آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رات کی تاریکی کا پردہ چاک کر کے سپیدئہ سحر نمودار کرتا ہے۔ البتہ اسی سورت کی آیت 95 میں یہ لفظ دانوں اور گٹھلیوں وغیرہ کے پھاڑنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے : { اِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی }۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے زمین کے اندر دانوں یا گٹھلیوں کو پھاڑتا ہے تو پودوں یا درختوں کی پتیاں اور جڑیں نکلتی ہیں۔ چناچہ فلق سے مراد…
Read the full tafseer →1 فلق کا لغوی مفہوم :۔ فَلَقٌ کے معنی پھٹنا اور الگ ہونا بھی ہے۔ اور پھاڑنا بھی۔ (فَالِقُ الْاِصْبَاحِ 96) 6 ۔ الانعام :96) بمعنی صبح کو پھاڑنے اور ظلمت سے الگ کرنے والا۔ اور اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو رات کی تاریکی سے صبح کی روشنی کو ظاہر کرتا ہے۔ اور حقیقت میں دیکھا جائے تو جو چیز بھی ظہور میں آتی ہے۔ وہ تاریکی اور پردہ غیب سے ہی ظہور میں آتی ہے۔ جیسے اس سے پہلی آیت میں فرمایا : (فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى 95) 6 ۔ الانعام :95) یعنی وہ ذات جو زمین کو پھاڑ کر اس سے دانہ اور گٹھلی کی کونپل نکالنے والا۔ اسی طرح انڈے کا چھلکا توڑ کر چوزے کو باہر نکالنے والا۔ یا رحم مادر سے بچہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ (آیت) ” ماخلق کے عموم نے ادھر توجہ دلادی کہ مخلوقات ساری کی ساری، خواہ وہ کسی مرتبہ اور نوعیت کی ہو، محکوم اور عاجز اور بےبس ہے۔ اور ہر ایک کی شروایذاء سے پناہ اللہ ہی سے مانگی جاسکتی ہے۔ سورت تمام اقسام مضرت سے، جو کسی بھی دنیوی سبب سے پیش آسکتی ہوں، پناہ جوئی و پناہ طلبی کی جامع ہے، اور ختم قرآن پر ایسی ہی جامع دعاء کی ضرورت بھی تھی، فلق سے مراد سپیدۂ فجر ہے، اور دنیا میں بعض
جاہلی قوموں نے کود اس کی بھی پرستش کی ہے۔ قرآن مجید نے یہاں اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ سپیدۂ فجر بھی ہر مخلوق کی طرح مخلوق ہی ہے اور اس کا خالق ومالک بھی وہی ہے، جو سب کا ہے۔ فلق کے معنی مکان جہنم وغیرہ کے بھی سمجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں ال لہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، کہو کہ میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی (یعنی) حیوان مکلف اور غیر مکلف کے شر سے اور جماد کے شر سے مثلاً زہرہ وغیرہ، اور رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھا جائے، یعنی رات کے شر سے جب وہ تاریک ہوجائے، یا چاند کے شر سے جب وہ غروب ہوجائے، اور پھونکنے والی جادو گرنیوں کے شر سے جو گرہوں میں تھوک کے بغیر پھونکیں وہ گرہیں کہ جن کو وہ دھاگے میں لگاتی ہیں اور زمخرشی نے کہا ہے، تھوک کے ساتھ جیسا کہ لبید مذکور کی بیٹیاں اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے یعنی اپنے حسد کو ظاہر کرے اور اس کے مقتضی پر عمل…
Read the full tafseer →قل اعوذ برب الفلق . الفلق تاریکی پھٹ کر صبح نکل آنا۔
جابر بن الحسن۔ سعید بن جبیر ‘ مجاہد اور قتادہ کے نزدیک یہی معنی مراد ہے جو معنی آیت : فاتق الاصباح میں مراد ہیں۔ وہی اس جگہ مراد ہیں۔ بعض نے کہا : (فلقٌ کا معنی ہے پھاڑنا) اس جگہ بھی وہی معنی مراد ہے جو فالق الحب والنوّٰی میں مراد ہے۔ اللہ اناج کا دانہ اور گٹھلی پھاڑ کر سوئی نکالنا ‘ ابر کو پھاڑ کر پانی نکالتا ‘ زمین کو پھاڑ کر چشمے برآمد کرتا اور رحم کھول کر بچہ نکالتا ہے۔ ضحاک نے کہا : کُل خلق مراد ہے۔ دالبی کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا بھی یہ قول آیا ہے کہ الفلق جہنم کے اندر ایک قید خانہ ہے۔ کلبی نے کہا : جہنم میں ایک وادی ہے۔ ابن جریر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(1۔ 5)۔ محمد ﷺ آپ فرمائیے میں صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں تمام مخلوقات کے شر سے اور رات کے شر سے جب وہ آکر چھا جائے اور گرہوں پر پڑھ پڑھ پھونک مارنے والی جادو گرنیوں کے شر سے اور حاسد کے شر سے لبید بن اعصم یہودی نے حضور پر حسد میں جادو کردیا تھا اس کو رفع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سورتیں نازل کیں۔
Read the full tafseer →(1) قل اعوذ…:”اعوذ“ ”عاد یعوذ عوذاً و معاذا“ (ن) پناہ پکڑنا۔ پناہ لینے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کسی چیز سے خوف محسوس کرے اور سمجھے کہ میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا تو اس سے بچنے کے لئے وہ کسی دوسرے کی حفاظت میں چلا جائے یا کسی چیز کی آڑ لے لے۔ ظاہر ہے پناہ اسی کی لی جاتی ہے جس کے متعلق سمجھا جائے کہ وہ اس خوف ناک چیز سے بچا سکتا ہے۔ پناہ بعض اوقات ایسی چیزوں کی لی جاتی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بعض خوف ناک چیزوں سے بچنے کا سبب بنادیا ہے، مثلاً دشمن سے بچنے کے لئے کسی قلعہ یا خندق یا مورچے وغیرہ کی پناہ لینا اور کسی ظالم سے بچنے کے لئے کسی طاقتور آدمی یا قوم کی پناہ لینا، یہ پناہ کسی بھی چیز کی لی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اپنے رب کی پناہ مانگنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو ( ان سے اے پیغمبر) میں پناہ مانگتا ہوں نمودار کرنے والے رب کی کہ وحی کے اولیں مخاطب تو بہرحال آپ ہی ہیں، ﷺ ۔ اور پھر آپ کے توسط سے یہ حکم و ارشاد ہے آپ کی امت کے ہر مومن کے لیے ہے، یہ دونوں سورتیں اگرچہ الگ الگ ہیں لیکن ان کا مضمون چونکہ مشترک ہے، یعنی تعوذ (پناہ مانگنا) اس لیے ان دونوں کو ایک ہی نام یعنی معوذتین سے یاد کیا جاتا ہے، ان دونوں میں انسان کو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ پہلی سورة کریمہ میں مہالک حسیہ ظاہریہ سے یہ پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے، اور دوسری میں مہالک باطنیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ احمد والبزار والطبرانی وابن مردویہ نے صحیح طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابن مسعد ؓ معوذتین کو مصحف میں سے مٹادیتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ قرآن کو خلط ملط نہ کرو اس چیز سے جو اس میں نہ ہو۔ یہ دونوں سورتیں کتاب للہ میں سے نہیں ہیں۔ بیشک نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے ذریع پناہ مانگنے کا حکم فرمایا ہے اور ابن مسعود ؓ ان دونوں کی قراءت نہی کرتے تھے بزار (رح) سے نے فرمایا : صحابہ ؓ میں سے کسی ایک نے بھی ان کی تابعداری نہیں اور نبی اکرم ﷺ سے صحیح قول یہ ہے کہ آپ نے ان دونوں کو نماز میں پڑھا اور ان دونوں کو مصحف میں ثابت رکھا گیا۔
2۔ الطبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ سے ان دونوں سورتوں…
Read the full tafseer →[قُلْ اَعُوْذُ : آپ ﷺ کہیے میں پناہ میں آتا ہوں ][ بِرَبِ الْفَلَقِ : صبح کے مالک کی ]
Read the full tafseer →سورة الفلق اور سورة الناس یہ دونوں سورتیں معوذتین کے نام سے معروف و مشہور ہیں بعض یہود نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کردیا تھا اس کی وجہ سے آپ کو بڑی تکلیف پہنچی۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر بنی زریق کے یہودیوں میں سے ایک شخص نے جادو کردیا تھا جسے لبید بن اعصم کہا جاتا تھا اس کے اثر سے آپ کا یہ حال ہوگیا تھا کہ آپ کو یہ خیال ہوتا تھا کہ میں نے فلاں کام کیا ہے حالانکہ وہ کام ہوا نہیں تھا۔ یہاں تک کہ جب ایک رات رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی پھر فرمایا کہ عائشہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتادیا ہے جو کچھ میں نے اپنے مرض کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا تھا میرے پاس (خواب میں) دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
تعلیم تعوذ و حصول پناہ از مہالک حسیہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل اعوذبرب الفلق ..... الی ...... ومن شر حاسد اذا حسد “۔
(ربط) اس سے قبل سورة اخلاص (قل ھو اللہ احد) میں عقیدہ توحید کا بیان تھا اور یہ کہ نجات کا دارومدار اسی پر ہے کہ خداوند عالم کو اسکی ذات وصفات کے لحاظ سے یکتا ماناجائے گا اور اس طرح کہ نہ اس کا کوئی نمونہ ہے اور نہ اس کی کوئی ہمسری کرنے والا ہے تو اسی عقیدہ کا نام ایمان ہے اور اسی پر بندہ کی نجات و کامیابی موقوف ہے اب اس سورت مبارکہ میں مومن کے عقیدہ اور انسان کی سعادت میں جو چیزیں خلل انداز ہیں اور اسکو ہلاکت وتباہی میں ڈالنے والی ہیں انکو بیان کیا جارہا ہے بہت سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” قل اعوذ “ الفلق، چیر کر اندر سے کوئی چیز نکالنا۔ رات کے اندھیرے سے صبح کا اجالا ظاہر کرنا۔ ” فالق الاصباح “ (انعام رکوع 12) ۔ یا دانے کو پھاڑ کر اس سے پودا اگانا۔ ” فالق الحب والنوی “ (ایضا) ۔ جو ذات پاک صفت فلق کی مالک ہے میں اس کی پناہ ڈھونڈتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة الفلق ہے۔ یہ مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی پانچ آیات ہیں۔ یہ سورة تئیس الفاظ اور انہتر حروف پر مشتمل ہے۔ اس کی پہلی آیت میں فلق کا لفظ مذکور ہے۔ جس سے سورة کا نام لیا گیا ہے۔
فضیلت معوذتین
آخری دو سورتیں یعنی سورة فلق اور سورة و الناس معوذتین کہلاتی ہیں۔ احادیث میں ان کی بہت فضیلت آئی ہے۔ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں سورتیں اکٹھی نازل ہوئیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا 1 ؎ کہ مجھ پر ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ ان کی مثل کوئی آیت نہیں ہے۔ محدثین کرام فرماتے ہیں کہ تعود کے باب میں یعنی برائیوں سے پناہ مانگنے کے سلسلے میں جتنا اثر یہ دو سورتیں رکتھی ہیں۔ اس…
Read the full tafseer →قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ 1 ۙ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
عوذ
العَوْذُ : الالتجاء إلى الغیر والتّعلّق به . يقال : عَاذَ فلان بفلان، ومنه قوله تعالی: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67]
( ع و ذ) العوذ
) ن ) کے معنی ہیں کسی کی پناہ لینا اور اس سے چمٹے رہنا ۔ محاورہ ہے : ۔ عاذ فلان بفلان فلاں نے اس کی پناہ لی اس سے ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ برب الفلق الجار متعلق باعوذ الفلق بالتحریک الصبح واصلہ الشق یقال فلقت الشیء فلقاً شفققۃ والتغلیق مثلہ یقال فلقۃ فانفلق وھو عام تینا ول فلق الصبح من ظلام الیل والحبوب والنباتات من الارض والماء من الجبال قال اللہ تعالیٰ فالق الاصباح وقال فالق الحب والنویٰ وقال فانفلق فکان کل فرق کالطودالعظیم۔ من شرما خلق متعلق باعوذ۔ ما بمعنی الذی والعائد محذوف ویجوزان تکون مصدریۃ ویکون الخلق بمعنی المخلوق و قریٔ الجمھور باضافۃ شرالی ماوقری ابوحنیفہ (رح) بتنوین شروماعلی ھذا مع الفعل بتاویل المصدر فی موضع الجربدل من شر ای شرٍ خلقہ۔ وقال بعضھم ما نافیۃ والمعنی من شرلم یخلقہ وھذافاسد لان النافیۃ لایتقدم…
Read the full tafseer →قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ۔ (الفلق : 1)
(کہہ دیجیے ! میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے پروردگار کی۔ )
تعوذ کا مفہوم
قُلْکہہ دیجیے یا اعلان کردیجیے۔ یہ درحقیقت قُلْ کے بعد جو جملہ آتا ہے اس کی اہمیت اور افادیت کی طرف اشارہ ہے۔ اور اس بات کی طرف بھی کہ یہ آنحضرت ﷺ کے فرائض میں شامل ہے اور آپ کے واسطے سے امت اس کے لیے مسٔول ہے۔ چناچہ جس بات کے کہنے کا حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ میں صبح کے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں۔ اصل حکم پناہ لینے اور پناہ مانگنے سے متعلق ہے۔ علامہ راغب عوذ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں العوذ : الالتجاء الی الغیر والتعلق بہ کسی کی پناہ لینا اور اس کے ساتھ چمٹ جانا اور پناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
فہم القرآن
ربط سورت : الاخلاص میں یہ بتایا گیا ہے کہ ” اللہ “ وہ ہے جو ہر اعتبار سے وحدہٗ لاشریک ہے، کوئی کسی اعتبار اور کسی درجے میں اس کی برابری نہیں کرسکتا، گویا کہ وہ حاکم مطلق ہے باقی محکوم ہیں، وہ بادشاہ ہے باقی اس کے در کے فقیر ہیں، وہ طاقتور ہے ہر کوئی اس کے سامنے عاجز اور بےبس ہے کیونکہ وہ طاقتور اور بادشاہ ہے اس لیے اسی کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔
عقیدۂ توحید کے تقاضوں میں اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ صرف ایک ” اللہ “ جو پوری مخلوق کا رب ہے اسی کو نفع و نقصان کا مالک سمجھا جائے اس لیے نبی اکرم ﷺ کو حکم ہوا ہے کہ آپ ان الفاظ میں اپنے رب کی پناہ طلب کیا کریں کہ میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں…
Read the full tafseer →1 : قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (آپ کہیے میں صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں) الفلقؔ صبح یا مخلوق یا جہنم کی وادی کا نام ہے۔ یا جہنم کے ایک کنوئیں کا نام ہے۔
Read the full tafseer →1 ۔” قل اعوذبرب الفلق “ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ قول نقل کیا ہے کہ ایک یہودی لڑکا رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرتا تھا۔ یہودیوں نے خفیہ سازش کی اور اس کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اس کے ذریعہ سے رسول اللہ ﷺ کی کنگھی کے بال اور کنگھی کے چند دندانے حاصل کرلیے، پھر ان پر جادو کیا، اس کا ذمہ دارالبیدین اعصم یہودی تھا، اس پر یہ دونوں سورتیں نازل ہوئیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیمارہوگئے (کچھ تو ہم سا ہوگیا) ان کئے کام کو آپ ﷺ خیال کرتے تھے کہ میں کرچکا ہوں۔ آپ ﷺ نے پروردگار سے دعا کی، پھر فرمانے لگے کہ الل سے میں نے جو کچھ دریافت کیا تھا، اللہ نے بتادیا۔ میں نے عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ عقبہ بن عامر سے صحیح 9 ؎ مسلم ترمذی نسائی وغیرہ میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آج کی رات خدا تعالیٰ نے چند آیتیں نازل فرمائی ہیں جو مجھ کو بہت ہی اچھی معلوم ہوتی ہیں پھر آپ ﷺ نے قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ان دونوں سورتوں کا نام بتایا۔ اس حدیث سے ان دونوں سورتوں کی فضیلت بھی معلوم ہوئی اور یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ قرآن کی اور آیتوں کی طرح یہ دونوں سورتیں بھی قرآن کا جز ہیں اسی واسطے اور حدیثوں سے یہ بھی معلوم 1 ؎ ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان دونوں سورتوں کو صبح کی نماز میں پڑھا ہے ان حدیثوں سے حضرت عبد اللہ بن مسعود کے اس قول کا ضعیف ہونا ثابت ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →(قُلْ ) یعنی آپ اللہ کی پناہ مانگنے کے لیے کہیے۔ (اَعُوْذُ ) میں پناہ ڈھونڈ تا ہوں اور اپنا بچاؤ تلاش کرتا ہوں۔ ( بِرَبِّ الْفَلَقِ ) رب فلق کے ذریعے سے۔ یعنی جو دانے اور گھٹلی کو پھاڑتا ہے اور صبح کو نمودار کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
معوذتین کی فضیلت
ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں عبداللہ بن محمد التفیلی نے، انہیں محمد بن سلمہ نے محمد بن اسحاق سے، انہوں نے سعید بن ابی سعید المقبری سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے کہ میں حضور ﷺ کے ساتھ حجفہ اور ابواء کے درمیان سفر کررہا تھا کہ اچانک تیز آندھی چلی اور اندھیرا چھا گیا۔ حضور ﷺ نے اعوذ برب الفلق اور اعوب برب الناس کی سورتیں پڑھنی شروع کردیں اور فرمایا عقبہ ! ان دونوں سورتوں کے ذریعے تعوذ کیا کرو ، کیونکہ ان دونوں سورتوں کے ذریعے پناہ مانگنے والے کی طرح کوئی پناہ مانگنے والا نہیں ہوتا۔ “
حضرت عقبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے…
Read the full tafseer →1 ۔ اپنے رب کی پناہ مانگنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو ( ان سے اے پیغمبر) میں پناہ مانگتا ہوں نمودار کرنے والے رب کی کہ وحی کے اولیں مخاطب تو بہرحال آپ ہی ہیں، ﷺ ۔ اور پھر آپ کے توسط سے یہ حکم و ارشاد ہے آپ کی امت کے ہر مومن کے لیے ہے، یہ دونوں سورتیں اگرچہ الگ الگ ہیں لیکن ان کا مضمون چونکہ مشترک ہے، یعنی تعوذ (پناہ مانگنا) اس لیے ان دونوں کو ایک ہی نام یعنی معوذتین سے یاد کیا جاتا ہے، ان دونوں میں انسان کو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ پہلی سورة کریمہ میں مہالک حسیہ ظاہریہ سے یہ پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے، اور دوسری میں مہالک باطنیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ہر قسم کے خطرے سے اللہ کی پناہ
تشریح :۔ یہ سورت ہر قسم کی پریشانی ' نقصان ' تکلیف ' ضرر ' کفر ' شرک ' گناہ ' نفرت ' حسد ' بغض، جادو اور گناہوں سے بچنے کے لیے اس رب العزت ' خالق ومالک الہ العٰلمین کی پناہ کی فضیلتیں بیان کرتی ہے جو انسانی زندگی میں ہر وقت آتی جاتی رہتی ہیں اور جن کا مداوا ہر صورت میں اللہ ہی کے حکم اور مدد سے ہوتا ہے۔
اس سورت میں خاص طور سے ان تین چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو انسانی تکالیف کی بنیاد ہیں۔
1 ۔ رات کی تاریکی : یہ بھی اکثر جرائم کے لیے کافی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ '' جب سورج غروب ہوجائے تو شیاطین ہر طرف پھیل جاتے ہیں ' لہٰذا اپنے بچوں کو گھروں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة الفلق۔
آیات 1 تا 5۔
اسرار ومعارف۔
فرمادیجئے پناہ مانگتا ہوں اس رب کی جو تاریکی دور کرکے صبح پیدا کرتا ہے ہراس شے جو اس نے پیدا کی ہے برائی اور شر سے اور اندھیرے کے شر سے جب وہ یکجا ہونے لگے اور عورتوں کی گروہوں میں پھونک مارنے کی شر یعنی جادوٹونے کے شر سے کہ شیطانی عملیات سے کوئی نقصان نہ پہنچے اور حسد کرنے والوں کے حسد کے شر سے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 1 بیعض روایات میں ہے کہ فلق دوزخ کے ایک کنوئیں کا نام ہے۔ (فتح القدیرض)
Read the full tafseer →(113:1) قل اعوذ برب الفلق : قل فعل امر واحد مذکر حاضر۔ قول (باب نصر) مصدر سے تو کہہ۔ (اے نبی ﷺ ۔ تو یوں دعا مانگ) ۔ چونکہ قل کا لفظ اس پیغام کا ایک حصہ ہے جو تبلیغ رسالت کے لئے نبی کریم ﷺ پر بذریعہ وحی نازل ہوا ہے۔ اس لئے اگرچہ اس ارشاد کے اولین مخاطب تو حضور ﷺ ہی ہیں مگر آپ کے بعد ہر مومن بھی اس کا مخاطب ہے۔
اعوذ : مضارع کا صیغہ واحد متکلم عوذ (باب نصر) مصدر سے جس کے معنی دوسرے سے التجاء کرنے، اس سے متعلق ہونے اور پناہ مانگنے کے ہیں۔ میں پناہ چاہتا ہوں۔
برب الفلق ب جار متعلق باعوذ ۔ رب الفلق مضاف مضاف الیہ۔ صبح کا رب۔ (پروردگار) میں پناہ چاہتا ہوں صبح کے رب کی۔ رب الفلق کی تشریح میں صاحب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔ الفلق۔ صبح۔ شر۔ برائی۔ غاسق ۔ سیاہ رات۔ وقب۔ چھا گیا۔ النفثت۔ پھونکنے والیاں۔ العقد۔ گرہیں۔ حاسد۔ حسد کرنے والا۔ جلنے والا۔
اصل میں ہمارے دین نے ہمیں جو تعلیم دی ہے اس میں اس بنیادی بات کو سکھایا گیا ہے کہ اللہ نے نفع اور نقصان کا اختیار کسی کو نہیں دیا۔ نفع اور نقصان صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا ہر آن اسی سے پناہ کی درخواست کرتے رہنا چاہیے ۔ اگر کوئی اس کی پناہ اور حفاظت میں آجائے تو وہ دنیا اور آخرت کے ہر طرح کے نقصانات سے بچ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورة الفلق اور سورة الناس میں اسی بات کو ارشاد فرمایا ہے یعنی یہودیوں اور لبید ابن عصیم نے سرکار دو عالم ﷺ کو شدید نقصان پہنچانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(ف 1) شان نزول۔ یہ سورت اور سورت الناس جو اس کے بعد ہے ان دونوں سورتوں کی شان نزول کی روایتیں جو حضرت عائشہ سے اور حضرت عبداللہ بن عباس اور انس ؓ سے صحیحین میں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ لبید بن اعصم یہودی اور اس کی بیٹیوں نے نبی ﷺ پر جادو کیا، اور حضور کے جسم مبارک اور اعضاء ظاہرہ پر اس کا اثر ہوا، قلب وعقل و اعتقاد پر کچھ اثر نہ ہوا، چند روز کے بعد حضرت جبرائیل آئے اور انہوں نے عرض کیا ایک یہودی نے آپ پر جادو کیا ہے اور جادوکا کچھ سامان ہے وہ ذرواں کا کنواں ہے وہاں ایک پتھر کے نیچے داب دیا ہے۔ حضور نے علی مرتضی ؓ کو بھیجا، انہوں نے کنویں کا پانی نکالنے کے بعد پتھراٹھایا، اس کے نیچے سے کھجور کے…
Read the full tafseer →[1] اصل میں '' رب الفلق '' استعمال ہوا ہے۔ فلق کے معنی پھاڑنے کے ہیں۔ یعنی وہ رب جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر صبح کی روشنی نمودار کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہ سورة استعاذہ ہے ۔ اس میں مرد مسلم کو بتایا گیا ہے کہ اس کی ہر شتر اور فتنہ کی بات سے احتراز کرنا چاہیے اور اللہ سے نیک توفیق مانگنا چاہیے کہ وہ اس کو جسم اور روح کی ہر آزمائش سے بچائے اور اپنی آغوش پناہ میں لے لے ۔
الثقتت فی العقد ۔ جادوگرنیاں ۔ ابو مسلم کی رائے میں اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جو عزائم رجال میں التواء وانفساخ پیدا کردیتی ہیں ۔
Read the full tafseer →(1) اے پیغمبر آپ یوں کہئے کہ میں صبح کے پروردگار اور مالک یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتا ہوں۔ فلق پھٹنے والی چیز کو کہتے ہیں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں ہم نے راجح قول اختیار کرلیا ہے کہ یہاں صبح کی پو پھٹنا مراد ہے چونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پھاڑنے والا ہے۔ ان اللہ فالق الحب والنوی۔ گٹھلی کا پھٹنا، دانے کا پھٹنا، زمین کا پھٹنا ، پہاڑوں کا پھٹنا سب اسی کے حکم سے ہوتا ہے اس لئے ارشاد ہوا کہ آپ رب الفلق سے پناہ مانگیے اور دوسروں کو بھی تعلی دیجئے تاکہ ہر مسلمان توکل کا عادی ہو۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں صبح کے رب کی پناہ طلب کرتا ہوں
1 (الفلق) اس فعل۔ تڑکا۔ اوّل صبح۔ ( صحاح ، قاموس ، زجاج ، راغب) اس کا مادہل ق ہے۔ اس مادہ کے صرف تین الفاظ قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں۔ (الفلق) اس جگہ زیر نظر آیت میں (الفلق) (26 : 63) ( فالق) (6 : 95) (6 : 96) میں۔ اس طرح الفالق اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے لیکن اس کا شمار معروف نناویں ناموں میں نہیں آیا تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو الفالق نہیں کہا جاسکتا۔ بالکل کہا جاسکتا ہے اور بلاشبہ یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے بلکہ یہ صفت کسی انسان میں پائی ہی نہیں جاتی جیسے وہ…
Read the full tafseer →Preliminary Remarks
This and the next Surah were revealed on the same occasion, and in the same event, as will be explained in the 'cause of revelation'. Hafiz Ibn-ul-Qayyim has, therefore, written their commentary together. He writes that their blessings and benefits are abundant. All of the people require them and no one can dispense with them. They are very efficacious remedy for sorcery or magical spell, evil eye, and for all of the physical and spiritual calamities. In fact, if its reality is grasped fully, people will understand that they require it more than their breath, food, water,…
Read the full tafseer →1 As qul (say) is a part of the message which was conveyed to the Holy Prophet (upon whom be peace) by Revelation for preaching his prophetic message, its first addressee is the Holy Prophet himself but after him every believer too is its addressee.
2 The act of seeking refuge necessarily consists of three parts: (1) The act of seeking refuge itself; (2) the seeker of refuge; and (3) he whose refuge is sought. Seeking refuge implies feeling fear of something and seeking protection of another, or taking cover of it, or clinging to it, or going under its shelter for safety. The seeker after…
Read the full tafseer →