113. Surah Al-Falaq

الفلقThe Dawn · 5 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 113:1

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader

آپ یوں کہہ دیجئے کہ میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں

سورة الفلق اور سورة الناس یہ دونوں سورتیں معوذتین کے نام سے معروف و مشہور ہیں بعض یہود نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کردیا تھا اس کی وجہ سے آپ کو بڑی تکلیف پہنچی۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر بنی زریق کے یہودیوں میں سے ایک شخص نے جادو کردیا تھا جسے لبید بن اعصم کہا جاتا تھا اس کے اثر سے آپ کا یہ حال ہوگیا تھا کہ آپ کو یہ خیال ہوتا تھا کہ میں نے فلاں کام کیا ہے حالانکہ وہ کام ہوا نہیں تھا۔ یہاں تک کہ جب ایک رات رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی پھر فرمایا کہ عائشہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتادیا ہے جو کچھ میں نے اپنے مرض کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا تھا میرے پاس (خواب میں) دو آدمی آئے ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا دوسرا میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے دریافت کیا کہ ان کو کیا تکلیف ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے، پھر اس نے پوچھا کہ کس نے جادو کیا ہے ؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے جادو کیا ہے، پھر دریافت کیا کہ کس چیز پر کیا ہے ؟ جواب دیا کہ کنگھی سے نکالے ہوئے بالوں پر اور کھجور کے پٹھوں پر جادو کیا ہے، پھر سائل نے دریافت کیا کہ یہ چیزیں کہاں ہیں ؟ جواب دیا کہ ذی اروان نامی کنویں میں ہیں۔ ام المومنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس خواب کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنے چند صحابہ ؓ کے ساتھ تشریف لے گئے وہاں جا کر دیکھا کہ اس کنوئیں کا پانی ایسا رنگین ہوچکا ہے جیسے اس میں مہندی ڈال دی گئی ہو اور وہاں جو کھجور کے درخت تھے وہ ایسے معلوم ہوتے تھے جیسے شیاطین کے سر ہوں۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ آپ نے ان چیزوں کو نکالا کیوں نہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ جب مجھے اللہ تعالیٰ نے عافیت دے دی تو مجھے یہ اچھا نہ لگا کہ لوگوں میں شر پھیلاؤں (یعنی مجھے اس کا چرچا ہونا پسند نہیں) لہٰذا میں نے اس کو دفن کردیا۔ (صحیح بخاری صفحہ 858: ج 2 و صحیح مسلم صفحہ 221: ج 1) حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کردیا تھا اس کی وجہ سے چند دن آپ کو تکلیف رہی۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ فلاں یہودی نے آپ پر جادو کیا ہے، اس نے بالوں میں گرہیں لگا دی ہیں جو فلاں فلاں کنوئیں میں ہیں، رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ کو بھیجا، انہوں نے اس میں سے ان بالوں کو نکالا جب آپ کی خدمت میں ان کو لایا گیا تو آپ اپنے مرض سے اس طرح شفایاب ہوگئے جیسے کوئی شخص رسی میں بندھا ہوا ہو پھر اس کو کھول دیا جائے اس یہودی سے اس بات کا تذکرہ نہیں فرمایا اور نہ اس کے بعد کبھی اسے اپنے سامنے دیکھا۔ (سنن نسائی تحت عنوان سحرۃ اہل الکتاب) تفسیر روح المعانی میں مذکور کنوئیں سے جب کھجوروں کا گچھا نکالا گیا تو اس میں رسول اللہ ﷺ کی کنگھی بھی تھی اور مبارک بال بھی تھے اور رسول اللہ ﷺ کی صورت شریفہ بھی جو موم سے بنائی گئی تھی اس میں سوئیاں گڑی ہوئی تھیں اور ان بالوں میں گیارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ﴿ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ 001 اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ 001﴾ دونوں سورتیں لے کر حاضر خدمت ہوئے (ان دونوں سورتوں میں مجموعی طور پر گیارہ آیات ہیں) آپ ایک ایک آیت پڑھتے گئے اور ایک ایک گرہ کھولتے گئے اور سوئیاں بھی نکالتے گئے۔ آپ کو پوری طرح شفا حاصل ہوگئی۔ روح المعانی میں یہ بھی لکھا ہے کہ جادو کا عمل کرنے میں لبید بن عاصم کے ساتھ اس کی بیٹیاں بھی شریک تھیں اس اعتبار سے ﴿النفثت﴾ مونث کا صیغہ لایا گیا۔ جو نفاثہ کی جمع ہے اور وہ نفاث کی تانیث ہے اور نفاث نافث کا صیغہ مبالغہ ہے جو دم کرنے والے کے معنی میں آتا ہے اگرچہ صاحب روح المعانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ نفاثات نفوس کی صفت ہے اور یہی مراد لینا بہتر ہے تاکہ مردوں کے نفوس خبیثہ اور ارواح شریرہ کو بھی شامل ہوجائے۔ اور ﴿العقد﴾ عقدۃ کی جمع ہے جو گرہ کے معنی میں آتا ہے۔ كما فی قولہ تعالیٰ ناقلا عن دعاء موسیٰ (علیہ السلام) (واحلل عقدة من لسانی یفقھوا قولی) ۔ مفسر ابن کثیر ؓ نے تفسیر ثعلبی سے نقل کیا ہے کہ یہودیوں میں سے ایک لڑکا رسول اللہ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، یہودیوں نے اسے آمادہ کیا کہ نبی اکرم ﷺ کی کنگھی سے نکلے ہوئے بال اور کنگھی کے کچھ دندانے حاصل کر کے یہودیوں کو دے دے چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اور ان بالوں اور کنگھی کے دندانوں پر یہودیوں نے جادو کردیا۔ (چونکہ جادو کرنے کے لیے کسی ایسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے جس کا اس شخص سے تعلق رہا ہو جس پر جادو کرنا ہے اس لیے ان لوگوں نے اس لڑکے سے بال طلب کیے) ۔ اس ساری تفصیل کے بعد اب سورة الفلق کا ترجمہ اور مطلب سمجھیں ارشاد فرمایا ﴿ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ 001﴾(آپ اپنے رب کی پناہ لیتے ہوئے یوں کہیے کہ میں فلق یعنی صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں) ﴿مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ002﴾ (ہر اس چیز کے شر سے جو میرے رب نے پیدا فرمائی ہے) ۔ لفظ فلق عربی میں پھاڑنے کے معنی میں آتا ہے ومنہ قولہ تعالیٰ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى ﴾ عموماً مفسرین کرام نے یہاں فلق سے صبح مراد لی جب صبح ہوتی ہے تو اندھیرا چھٹ جاتا ہے اور صبح اس طرح ظاہر ہوتی ہے جیسے اندھیرے کو پھاڑ کر روشنی ظاہر ہوگئی۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ﴿ بِرَبِّ الْفَلَقِ ﴾ فرما کر قیامت کے دن کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس طرح دنیا میں صبح ہونے پر لوگ اپنے مختلف اعمال و اشغال کے لیے نکلتے ہیں کوئی خوش ہے کوئی رنجیدہ ہے کوئی آرام میں ہے کوئی تکلیف میں ہے اسی طرح جب قیامت قائم ہوگی اور لوگ قبروں سے نکلیں گے تو مختلف احوال میں ہوں گے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ فلق مخلوق کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں ساری مخلوق کے رب کی پناہ لیتا ہوں، کچھ بھی وجود میں نہ تھا اس نے سب کو عدم سے نکال کر وجود بخش دیا اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ رب الفلق جل مجدہ کے حکم سے جس طرح صبح ہوتی ہے اس کی وجہ سے اندھیرا چھٹ جاتا ہے اور روشنی آجاتی ہے اسی طرح اللہ جل شانہ ان تمام ضرر دینے والی چیزوں سے محفوظ فرماتا ہے۔
Ayah 113:2

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader

ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا فرمائی

﴿مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ002﴾ رب الفلق کی پناہ لیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا فرمائی اس کے عموم میں ساری مخلوق داخل ہوگئی۔ انسان، جنات، حیوانات، جمادات، پھاڑنے والے جانور، ڈسنے والے سانپ بچھو، جلانے والی آگ، ڈبونے والا پانی، اڑانے والی ہوا اور ہر وہ چیز اس کے عموم میں داخل ہے جس سے کسی کو کوئی بھی تکلیف جسمانی یا روحانی پہنچ سکتی ہے حتیٰ کہ اپنے نفس سے شر پہنچ سکتا ہو اس کو بھی شامل ہے۔
Ayah 113:3

وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader

اور اندھیرے کے شر سے جب وہ آجائے

﴿ وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ003﴾ (اور صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں غاسق سے جب وہ داخل ہوتا ہے) ۔ لفظ ﴿غَاسِقٍ﴾ غسق سے لیا گیا ہے جو تاریکی پر دلالت کرتا ہے اور ﴿وَقَبَ﴾ ماضی کا صیغہ ہے وقوب سے، یہ لفظ داخل ہونے کے معنی پر دلالت کرتا ہے (ای اذا دخل ظلامہ فی کل شی ) ۔ مفسر ابن کثیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ غاسق سے رات مراد ہے جب وہ اندھیرے کے ساتھ آجائے اس کے علاوہ دوسرے اقوال بھی نقل کیے ہیں۔ چونکہ رات کے وقت میں جنات اور شیاطین اور حشرات الارض اور موذی جانور پھیل پڑتے ہیں اور چور و ڈاکو بھی عموماً رات کی تاریکی میں اپنا کام کرتے ہیں اور جادو کی تاثیر بھی رات میں زیادہ ہوتی ہے اس لیے رات کی اندھیری سے پناہ مانگی۔ غسق کا معنی تاریکی اور غاسق کا معنی اندھیرے والی چیز ہے اسی لیے ابن عباس ؓ نے غاسق کو رات کے معنی میں لیا ہے۔ یہاں ایک حدیث بھی وارد ہوئی ہے جسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے چاند کی طرف دیکھا تو حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا : یا عائشة استعیذی باللہ من شر ھذا فانہ ھذا ھو الغاسق اذا وقب (کہ اے عائشہ ! اس سے اللہ کی پناہ مانگ کیونکہ یہ غاسق ہے جبکہ وہ داخل ہوجائے) ۔ اس میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ چاند تو روشن ہوتا ہے اسے تاریک کیوں فرمایا گیا ؟ صاحب قاموس نے تو یوں لکھ دیا ہے کہ الغاسق القمر او اللیل اذا غاب الشفق ومن شر غاسق اذا وقب ای اللیل اذا دخل پس اگر لفظ غاسق مشترک ہو چاند اور رات دونوں اس کا مدلول ہوں تو کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ چاند جب چھپ جاتا ہے یا گرہن ہوتا ہے اس وقت جو تاریکی آجاتی ہے اس تاریکی کی وجہ سے اس کو غاسق فرمایا اس میں شرور کے وہ سب احتمالات سامنے آجاتے ہیں جو رات کے اندھیرے میں پیش آتے ہیں اور آسکتے ہیں۔ قال القاضی الغاسق اللیل اذا غاب الشفق واعتکر ظلامہ من غسق یغسق اذا اظلم واطلق ھھنا علی القمر لانہ یظلم ووقوبہ دخولہ فی الکسوف والسواد وانما استعاذ من کسوفہٖ لانہ من ایات اللہ الدالة علٰی حدوث بیتہ ونزول نازلة (ذكرہ فی التعلیق صفحہ 157 ض ج 3)
Ayah 113:4

وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader

اور گرہوں پر پھونکنے والیوں کے شر سے

﴿وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِۙ004﴾ (اور رب الفلق کی پناہ لیتا ہوں گرہوں پر دم کرنے والیوں کے شر سے) اس کی پوری تفصیل سبب نزول کے بیان میں گزر چکی ہے۔
Ayah 113:5

وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader

اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے۔

﴿وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ (رح) 005﴾ (اور صبح کے رب کی پنا لیتا ہوں حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے) حسد بری بلا ہے انسان کا ناس کھو دیتا ہے جب اللہ تعالیٰ کسی کو علوم سے اعمال سے یا جمال سے یا اموال اور کمال سے نواز دیتا ہے تو دیکھنے والے اس سے جلنے لگتے ہیں اور چاہتے کہ یہ نعمت اس کے پاس نہ رہے بعض لوگ تو صرف اتنی آرزو ہی سے اپنے نفس کی خواہش کا کام چلا لیتے ہیں اور بعض لوگ اس میں اضافہ کرلیتے ہیں اور وہ یہ کہ اس کے پاس نہ رہے بلکہ ہمیں مل جائے اور بعض لوگ صرف آرزو ہی پر بس نہیں کرتے۔ صاحب نعمت کو تکلیف پہنچانے کے درپے ہوجاتے ہیں اسے پریشانی میں مبتلا کرتے ہیں اس کے مقابل کسی کو کھڑا کردیتے ہیں لوگوں کو اس کی دشمنی پر ابھارتے ہیں۔ حکام اور اصحاب اقتدار کو اس کی مخالفت پر آمادہ کرتے ہیں اور حسد اور جلن میں ایسی ایسی حرکتیں کرتے ہیں جن کے جائز ہونے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ حسد کرنے والے جنات بھی ہوتے ہیں اور انسان بھی اپنے بھی اور پرائے بھی مسلم بھی اور کافر بھی، رسول اللہ ﷺ پر لبید بن اعصم یہودی نے جو جادو کیا تھا وہ حسد ہی کی وجہ سے تھا۔ حسد دل و دماغ کا ناس کھو دیتا ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے : الحسد حسک من تعلق بہ ھلک (حسد ایک کانٹا ہے جس نے اسے پکڑا ہلاک ہوا) ۔ حسد کرنا حرام ہے اس کے حرام ہونے کی ایک سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے کچھ دیا ہے حکمت کے بغیر نہیں دیا ہے اب جو حسد کرنے والا یہ چاہتا ہے کہ یہ نعمت فلاں شخص کے پاس نہ رہے تو درحقیقت یہ اللہ پر اعتراض ہے کہ اس نے اس کو کیوں نوازا اور حکمت کے خلاف اس کو اس حال میں کیوں رکھا، ظاہر ہے کہ مخلوق کو خالق کے کام میں دخل دینے کا کچھ حق نہیں ہے اور نہ مخلوق اس لائق ہے کہ اس کو یہ حق دیا جائے ہم اپنے دنیاوی انتظام میں اور خانگی امور میں روزانہ ایسے کام کر گزرتے ہیں جو ہمارے بیوی بچوں کی سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں اگر ہمارے بیوی بچے ہمارے کام میں دخل دیں تو ہمیں کس قدر برا معلوم ہوتا ہے پھر اللہ رب العزت فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ کی تقسیم میں کسی کو دخل دینے کا کیا حق ہے ؟ جب کسی کو حسد ہوجاتا ہے تو جس سے حسد کرتا ہے اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوجاتا ہے اس کی غیبت کرتا ہے اور اس کو جانی و مالی نقصان پہنچانے کے فکر میں رہتا ہے جس کی وجہ سے بڑے بڑے گناہوں میں گھر جاتا ہے پھر اول تو نیکی کرنے کا موقعہ ہی نہیں ملتا اور اگر کوئی نیکی کر گزرتا ہے تو چونکہ وہ آخرت میں اسے ملے گی جس سے حسد کیا ہے تو نیکی کرنا نہ کرنا برابر ہوجاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حسد سے بچو کیونکہ وہ نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے (ابو داؤد) اور حضرت زبیر ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ پہلی امتوں کا مرض یعنی حسد تم تک آپہنچا ہے اور بغض تو مونڈ دینے والا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ بالوں کو مونڈتا ہے بلکہ دین کو مونڈ دیتا ہے۔ (رواہ احمد والترمذی کما فی المشکوٰۃ صفحہ 428) ۔ سید عالم ﷺ نے بغض کو دین کو مونڈنے والا فرمایا۔ تشبیہ کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح استرہ ہر بال کو مونڈتا چلا جاتا ہے اور ہر چھوٹے بڑے بال کو علیحد کردیتا ہے اسی طرح بغض کی وجہ سے سب نیکیاں ختم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ حاسد دنیا و آخرت میں اپنا برا کرتا ہے نیکیوں سے بھی محروم رہتا ہے اور کوئی نیکی ہو بھی جاتی ہے تو حسد کی آگ اسے راکھ بنا کر رکھ دیتی ہے۔ دنیا میں حاسد کے لیے حسد ایک عذاب ہے۔ حسد کی آگ حاسد کے سینہ میں بھڑکتی رہتی ہے اور جس سے حسد کیا ہے اس کا کچھ نہیں بگڑتا۔ ونعم ما قیل دع الحسود وما یلقاہ من کمدہ کفاک منہ لھیب النار فی کبدہ اذا لمت ذا حسد نفثت کربتہ وان سکت فقد عذبتہ بیدہ کیسا اچھا کلمہ حکمت ہے جو کسی نے کہا ہے۔ كفی بالحاسد انہ یغتم وقت سرورک حاسد سے انتقام لینے کے خیال میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ یہی انتقام کافی ہے کہ تمہاری خوشی کی وجہ سے اسے رنج پہنچتا ہے۔ حسد ایسی بری بلا ہے جو انسان کو جانتے بوجھتے ہوئے حق بول کرنے سے روک دیتا ہے۔ یہودی اسی مرض میں مبتلا ہوئے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو پہچان لیا کہ آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں لیکن اس وجہ سے ایمان قبول نہیں کیا کہ ہمارے علاوہ دوسری قوم میں نبی کیوں آیا انہیں ناگوار تھا کہ بنی اسماعیل میں سے اللہ نے رسول بھیجا اور یہ بات اپنے طور پر بنا لی تھی کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ ہمیشہ ان کی ذریت میں سے کوئی نہ کوئی نبی ضرور رہے گا۔ (كما رواہ النسائی) ﴿ وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِيْنَكُمْ ﴾ یہ سورة ٴ آل عمران میں ہے اور سورة ٴ نساء میں فرمایا ﴿ اَمْ يَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ 1ۚ﴾ (بلکہ وہ لوگوں سے یعنی نبی اکرم ﷺ سے اس پر حسد کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے فضل سے عطا فرمایا) ۔ یہودی نہ صرف یہ کہ خود ایمان نہیں لاتے تھے بلکہ یوں چاہتے تھے کہ جنہوں نے اسلام قبول کرلیا وہ بھی مرتد ہوجائیں (العیاذ باللہ) اسی کو سورة ٴ بقرہ میں ارشاد فرمایا ﴿ وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا 1ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ﴾ (بہت سے اہل کتاب نے یہ آرزو کی کہ کاش تم لوگوں کو ایمان قبول کرنے کے بعد واپس لوٹا کر کافر بنا دیں اپنی جانوں کی طرف سے حسد کرتے ہوئے اس کے بعد کہ ان کے لیے حق ظاہر ہوگیا) ۔ جس طرح یہودی حسد میں برباد ہوگئے حق کو قبول نہیں کیا اسی طرح بہت سے مشرکین بھی اسی مصیبت میں مبتلا تھے جب ایک مرتبہ اخنس بن شریق نے ابو جہل سے تنہائی میں کہا کہ اس وقت یہاں ہمارے علاوہ کوئی نہیں ہے تو اپنے دل کی بات سچ بتا کہ محمد ﷺ صادق ہیں یا کاذب ہیں، اس پر ابوجہل نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم وہ سچے ہیں انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا لیکن بات یہ ہے کہ بنو قصی ہی جھنڈے کے ذمہ دار ہیں اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت بھی انہی کے سپرد ہوچکی ہے اور کعبہ کے چابی بردار بھی وہی ہیں اور نبوت بھی ان ہی میں چلی جائے تو باقی قریش کے لیے کیا بچے گا، اس پر آیت کریمہ : ﴿فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ 0033﴾ نازل ہوئی۔ منکرین کو حسد کھائے جا رہا تھا کہ فلاں فلاں خدمات تو بنو قصی کو مل گئیں اب ان کے کسی آدمی کے لیے ہم نبوت کیسے تسلیم کریں۔ ان لوگوں نے کفر پر مرنا گوار کرلیا اور دوزخ میں جانے کے لیے تیار ہوگئے لیکن حسد کی پوٹلی کو اپنے دلوں سے نہیں نکال سکے۔ اعاذنا اللہ من شر الحساد ولا جعلنا اللہ منھم۔ آج بھی دیکھا جاتا ہے کہ بعض خاندانوں پر حسد کی مصیبت سوار ہوجاتی ہے فلاں شخص کیوں علم حاصل کر رہا ہے فلاں شخص کے پاس کیوں اٹھیں بیٹھیں، وہ تو ایسے خاندان کا فرد ہے جسے دنیا والے اپنی نظروں میں گھٹیا سمجھتے ہیں اور وہ مال کے اعتبار سے بھی کمزور ہے اور فلاں شخص کے پاس باغ نہیں مال نہیں جائیداد نہیں اس کو علم کیسے مل گیا، اور عجیب بات یہ ہے کہ علوم اسلامیہ اور اعمال صالحہ کی طرف نہ خود بڑھتے ہیں اور نہ قوم و قبیلہ کو بڑھاتے ہیں اور اس جلن کی وجہ سے کہ فلاں شخص جو نسب اور نسل میں ہم سے کم ہے اس کے پاس کیوں جائیں جاہل رہنے کو پسند کرلیتے ہیں اور جاہل ہی رہ جاتے ہیں۔ اولاً : ﴿مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ002﴾ فرمایا جس سے تمام مخلوق کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی پھر تین چیزوں کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے مزید دعا فرمائی اول تاریکی سے جس کا شر عموماً سامنے آتا رہتا ہے، دوسرے جادو کرنے والوں کے شر سے کیونکہ اس شر سے خاص تکلیف ہوتی ہے اور اس کے دفاع کی طرف ذہن نہیں جاتا جسمانی مرض سمجھ کر علاج کرتے رہتے ہیں جس سے فائدہ نہیں ہوتا اور جادو کی تکلیف برھتی رہتی ہے۔ اور تیسری چیز جس سے پناہ مانگی وہ حسد کرنے والے کا حسد ہے۔ حاسدین اپنے حسد کی وجہ سے خفیہ حرکتیں کرتے ہیں بعض مرتبہ ان کا پتہ نہیں چلتا اور محسود (جس سے حسد کیا) ان کا دفاع کرنے سے عاجز رہ جاتا ہے۔ اعاذنا اللہ تعالیٰ من شر جمیع خلقہ۔ سورة الناس میں بھی اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کی ہے اور اللہ تعالیٰ کی تین صفات ذکر کی ہیں 1 رب الناس 2 ملک الناس 3 الہ الناس۔ چونکہ وسوسہ ڈالنے والے انسانوں ہی کے دل میں وسوسہ ڈالتے ہیں اس لیے رب اور ملک اور الہ کی اضافت الناس ہی کی طرف کی گئی جس میں یہ بتادیا کہ وسوسہ ڈالنے کے شر سے انسانوں کا رب ہی بچا سکتا ہے اور ان وسوسوں کے اثر سے محفوظ رکھ سکتا ہے وہ لوگوں کا رب ہے بادشاہ بھی ہے اور معبود بھی، نفوس انسانیہ میں جو برے وسوسے آتے ہیں عموماً ایسے وساوس ہوتے ہیں جن پر عمل کرنے سے دین و ایمان کی تباہی ہوجاتی ہے اس لیے اہل معرفت نے فرمایا ہے کہ سورة الفلق میں دنیاوی آفات و مصائب سے پناہ مانگنے کی تعلیم ہے اور سورة الناس میں اخروی آفات سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے، شیاطین ایمان میں بھی وسوسے ڈالتے ہیں اور کفر و شرک کے خیالات بنی آدم کے سینوں میں ڈالتے ہیں اور گناہوں پر بھی ابھارتے ہیں اس لیے شیاطین کے وسوسہ سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ سورة المومنون میں فرمایا ہے ﴿وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِۙ0097 وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ 0098﴾ (اور آپ اللہ کی بارگاہ میں یوں عرض کیجئے کہ اے رب میں شیطان کے وسوسوں سے آپ کی پناہ لیتا ہوں اور اس بات سے آپ کی پناہ لیتا ہوں کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں) ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے پاس شیطان آئے گا اور وہ یوں کہے گا کہ فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا اور فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا ؟ سوال اٹھاتے اٹھاتے وہ کہے گا کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا۔ سو جب یہاں پہنچ جائے گا تو اللہ کی پناہ لے اور وہیں رک جا (یہ بخاری و مسلم کی روایت ہے) اور سنن ابو داؤد میں ہے کہ جب لوگوں میں اس طرح کے سوالات اٹھیں تو تم (ان کے جوابات کے خیال میں نہ لگو بلکہ) یوں کہو : ﴿اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ002 لَمْ يَلِدْ 1ۙ۬ وَ لَمْ يُوْلَدْۙ003 وَ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ (رح) 004 ﴾ اس کے بعد تین بار اپنی بائیں طرف تھتکا ر دے اور شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگے۔ حدیث میں یہ جو فرمایا کہ شیطان تمہارے پاس آ کر یوں سوال اتھائے گا کہ اللہ کو کس نے پیدا کیا یہ ایمانیات میں وسوسے ڈالنے کی ایک مثال ہے۔ وساوس شیطانیہ کی ایسی مثال ہے جیسے بھڑوں کا چھتہ ہو اگر اسے چھیڑ دیا جائے تو بھیڑیں لپٹ جاتی ہیں۔ اور پیچھا چھڑانا مشکل ہوجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ وسوسہ آئے تو اس کو وہیں چھوڑ دے اور آگے نہ بڑھائے اگر آگے بڑھاتا رہا تو مصیبت میں پڑجائے گا اور چھٹکارہ مشکل ہوگا یہ مشورہ بہت کامیاب ہے اور مجرب ہے۔ شیطان ایمان کا ڈاکو ہے۔ ایمان کی دولت سے محروم کرنے کے لیے وسوسے ڈالتا ہے۔ کافروں کے بارے میں شیطان کی یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ کفر اور شرک پر جمے رہیں۔ اور اہل ایمان کے بارے میں اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ایمان سے پھرجائیں، ان کا بہت پیچھا کرتا ہے اور مختلف طریقوں سے ستاتا ہے۔ ایمانیات اور اعتقادیات کے بارے میں شک ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور برے برے وسوسے ڈالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات (علم وقدرت وغیرہ) کے بارے میں شیطان طرح طرح کے سوالات اٹھاتا ہے جب کہ ان سوالات اور ان کے جوابات پر ایمان موقوف نہیں پھر جب بندہ ان سوالات کے جوابات نہیں دے پاتا تو شیطان کہتا ہے کہ تو تو کافر ہوگیا۔ لہٰذا سارے سوالات کے جوابات نہیں پاتا تو شیطان سے کہہ دے کہ بھاگ تو تو خود ہی کافر ہے تجھے میرے اسلام کی کیا فکر پڑی ہے۔ اگر شیطان کے ساتھ ساتھ چلتا رہے اور اس کے شکوک و شبہات اور وسوسوں کا ساتھ دیتا رہے تو وہ کافر ہی بنا کر چھوڑتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان وسوسوں کا علاج بتادیا کہ وسوسہ آئے، تو وہیں رک جائے اور بائیں طرف کو تین بار تھوک دے اور ﴿اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم﴾ پڑھ لے۔ یہ تھوکنا شیطان کو ذلیل کرنے کے لیے ہے۔ شیطان جس طرح اہل ایمان کے دل میں کفریہ وسوسے ڈالتا ہے اسی طرح گناہوں پر بھی ابھارتا ہے۔ چوری، خیانت، حرام خوری، زناکاری کے وسوسے ڈالتا ہے۔ حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بھی کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے تو وہاں تیسرا شیطان بھی موجود ہوتا ہے۔ (رواہ الترمذی) اس میں نامحرم عورتوں کے ساتھ تنہائی میں وقت گزارنے کی ممانعت فرمائی کیوں کہ شیطان مرد عورت کے جذبات کو بڑھاتا ہے اور برا کام کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان تاک میں لگ جاتا ہے۔ (رواہ الترمذی) عورت باہر نکلی اور شیطان نے اسے تاکنا نظریں اٹھا کر دیکھنا اور گزرنے والوں کو اس کی طرف متوجہ کرنا شروع کردیا۔ شیطان ایک دوسرے کے خلاف بدگمانی کے وسوسے بھی ڈالتا ہے جو انسانوں میں اثر کر جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف میں تھے آپ کی ازواج میں سے حضرت صفیہ ؓ اعتکاف کی جگہ میں زیارت کرنے کے لیے آئیں کچھ دیر تک باتیں کرنے کے بعد جب واپس ہونے کے لیے کھڑی ہوئیں تو آپ بھی ان کے ساتھ اٹھے تاکہ ان کو (مسجد کے حدود میں رہتے ہوئے) رخصت کردیں۔ اسی وقت وہاں سے دو انصاری صاحب نکلے۔ جب انہوں نے آپ ﷺ کو دیکھا تو تیزی سے چلنے لگے، آپ نے فرمایا تم ٹھیک اپنی رفتار کے موافق چلتے رہو یہ (میری بیوی) صفیہ ہے وہ کہنے لگے کہ سبحان اللہ ! اللہ کے رسول ﷺ (کیا آپ کے بارے میں کوئی بدگمانی کرسکتے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح چلتا ہے مجھے یہ خطرہ ہوا کہ کہیں شیطان تمہارے دلوں میں کوئی برا خیال نہ ڈال دے۔ (صحیح بخاری صفحہ 464: ج 1)