113. Surah Al-Falaq

الفلقThe Dawn · 5 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 113:1

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ Open ayah 113:1 in the Quran reader

کہو، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی

[قُلْ اَعُوْذُ : آپ ﷺ کہیے میں پناہ میں آتا ہوں ][ بِرَبِ الْفَلَقِ : صبح کے مالک کی ]
Ayah 113:2

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ Open ayah 113:2 in the Quran reader

ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے

[مِنْ شَرِّ مَا : اس کے شر سے جو ][ خَلَقَ : اس نے پیدا کیا ] نوٹ 4: سورة فلق کی آیت۔ 2 ۔ میں یہ بات قابل غور ہے کہ شر کو پیدا کرنے کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی گئی، بلکہ مخلوقات کی پیدائش کی نسبت اللہ کی طرف اور شر کی نسبت مخلوقات کی طرف کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کو شر کے لیے نہیں پیدا کیا ہے۔ اس کا ہر کام خیر اور کسی مصلحت ہی کے لیے ہوتا ہے۔ البتہ مخلوقات کے اندر جو اوصاف اس نے اس لیے پیدا کیے ہیں کہ ان کی تخلیق کی مصلحت پوری ہو، ان سے بعض اوقات اور بعض اقسام کی مخلوقات سے اکثر شررونما ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن) نوٹ 5: قرآن مجید کے آغاز اور اس کے اختتام میں جو مناسبت ہے وہ بھی ذہن میں واضح ہونی چاہیے۔ قرآن کریم کو حق تعالیٰ نے سورة فاتحہ سے شروع فرمایا ہے جس کا خلاصہ حق تعالیٰ کی حمدوثنا کے بعد اس کی مدد حاصل کرنا اور اس سے صراط مستقیم کی توفیق مانگنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور صراط مستقیم یہی دو چیزیں ہیں جن میں انسان کی دنیا ودین کے سب مقاصد کی کامیابی مضمر ہے۔ لیکن ان دونوں چیزوں کے حصول میں اور حصول کے بعد ان کے استعمال میں ہر قدم پر شیاطین جن واِنس کے مکروفریب اور وسوسوں کا جال بچھا رہتا ہے۔ اس لیے اس جال کو پاش پاش کرنے کی موثر تدابیر استعاذہ پر قرآن کو ختم کیا گیا۔ (معارف القرآن)
Ayah 113:3

وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ Open ayah 113:3 in the Quran reader

اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے

[وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ : اور اندھیرا کرنے والے (یعنی رات) کے شر سے ][ اِذَا وَقَبَ : جب وہ چھا جائے ] و ق ب [وَقْباً : (ض) آنا۔ جیسے چاند کا گہن میں آنا۔ تاریکی پھیلنا۔ آیت 113:3 ۔ ]
Ayah 113:4

وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ Open ayah 113:4 in the Quran reader

اور گرہوں میں پھونکنے والوں (یا والیوں) کے شر سے

[وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ : اور پھونک مارنے والیوں کے شر سے ][ فِي الْعُقَدِ :ِٖگِرہوں میں ] نث [ نَفْثًا : (ن۔ ض) منہ سے تھوڑا سا تھوک نکالنا یا تھوتھوکرنا۔ جادو کے گنڈوں پر پھونک مارنا۔] [ نَفَّاثٌ مؤنث نَفَّاثَۃٌ۔ فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بار بار یا کثرت سے پھونک مارنے والا۔ آیت۔ 113:4 ۔ ]
Ayah 113:5

وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ Open ayah 113:5 in the Quran reader

اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے

[وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ : اور حسد کرنے والے کے شر سے ][ اِذَا حَسَدَ : جب وہ حسد کرے ]